Sher stringlengths 22 923 | Types stringclasses 3
values | __index_level_0__ int64 0 89.5k |
|---|---|---|
ہم اپنا عکس تو چھوڑ آئے تھے پر اس کے بعد خبر نہیں کہ ان آنکھوں میں کیا ہمارا بنا | Contemporary | 19,370 |
ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گے ابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ہوگا | Contemporary | 6,510 |
خود بھی لہولہان ہوا دل، مجھے بھی زخم دیے میں بھی کیسے وحشی کو سمجھانے بیٹھا تھا | Contemporary | 29,343 |
میرا معشوق ہے مزوں میں بھرا کبھو میٹھا کبھو سلونا ہے | Classical | 81,207 |
لیے دیئے ہوئے رکھتا ہے خود کو وہ لیکن جہاں بھی غور سے دیکھو رفو نکلتا ہے | Modernist | 88,333 |
کرتے ہیں گلہ تم سے تمہیں اپنا سمجھ کے غیروں سے تو اے دوست شکایت نہیں ہوتی | Contemporary | 82,023 |
کام کی پوچھتے ہو گر صاحب عاشقی کے علاوہ پیشہ کیا | Contemporary | 12,465 |
سروم دکھم جیون سازؔ دل میں دکھ ہے یا دل دکھ | Contemporary | 9,900 |
زندگی اپنے روگ سے ہے تباہ اور درماں کی کچھ سبیل نہیں | Contemporary | 35,991 |
خفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہے کھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا | Classical | 58,225 |
ایسا وہ بے شمار و قطار انتظار تھا پہلی ہی بار دوسری بار انتظار تھا | Contemporary | 88,756 |
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہے حسرتؔ ان سے مل کر بھی نہ اظہار تمنا کرنا | Modernist | 23,518 |
دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہ غش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے | Classical | 48,948 |
جب تو نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے بہار میں جی چاہتا ہے منہ بھی نہ دیکھوں بہار کا | Modernist | 78,465 |
تیری نگاہ ناز کے قربان جائیے لپکا ہے دل میں شعلہ مگر دل کشی کے ساتھ | Contemporary | 36,990 |
بات کرنا بھی بادشاہت ہے بات کرنا نہ بھول جایا کرو | Modernist | 10,215 |
قتل کرتا ہے تو جو حاتمؔ کو کون اٹھاوے گا تیرے نکتوڑے | Classical | 81,776 |
اس طرح حائل نہیں ہوتے کسی کی راہ میں کیوں بھلا اتنی توجہ ایک مہماں کی طرف | Contemporary | 29,779 |
تو نے جسے بنایا اس کو بگاڑ ڈالا اے چرخ میں نے اپنی عرضی کو پھاڑ ڈالا | Modernist | 8,783 |
کوہ و صحرا و گلستاں میں پھرا کرتا ہے متلاشی وہ ترا آب رواں ہے کہ جو تھا | Classical | 25,725 |
دم بدم کہہ بیٹھنا بس جاؤ اپنی ان کے پاس کیوں نہیں جاتی وہ اب تک بد گمانی آپ کی | Classical | 28,622 |
کبھی کہہ دوں تو زمانہ میرا دشمن ہو جائے دل کو وہ بات بھی چپ رہ کے بتا دی تو نے | Contemporary | 79,784 |
گلشن حسن یار میں کرتے ہیں جو تلاش کیف و سکوں لاکھ ہے برہم نظم دو عالم زلف میں نکہت آج بھی ہے | Modernist | 78,393 |
جنگل نہ جانے کیوں چاہتے ہیں بستی کی حد میں داخل نہ ہونا | Contemporary | 30,586 |
شہر تم کو جو پریشان بہت کرتا ہے دشت بن جاؤ اور اس شہر پہ نازل ہو جاؤ | Contemporary | 19,247 |
تیز تر لہجۂ گفتار کیا ہے ہم نے برگ گل کو کبھی تلوار کیا ہے ہم نے | Modernist | 56,571 |
یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والے لیکن کچھ اور ہے تو او آن بان والے | Modernist | 25,385 |
اے قامت دلدار گزشتہ کی معافی پہلے کوئی معیار نہیں تھا مرے آگے | Contemporary | 9,602 |
حسرتؔ سے کچھ وہ آتے ہی ایسے ہوئے خفا پھر ہو سکی نہ ان سے صفائی تمام شب | Modernist | 23,678 |
چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی | Contemporary | 54,718 |
اگر کوئی خاص چیز ہوتی تو خیر دامن بھگو بھی لیتے شراب سے تو بہت پرانے مذاق کی باس آ رہی ہے | Modernist | 10,746 |
یہ نہیں یاد کہ پہچان ہماری کیا ہے اک تماشے کے لیے سوانگ رچایا کیسا | Contemporary | 67,303 |
تماشا دیکھنا غیروں کے گھر کو پھونک کر کیسا جو اپنی آگ میں جل جائے خود کینہ اسی کا ہے | Modernist | 72,171 |
کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے افسانے کون سنتا ہے حال شنیدہ کے | Classical | 56,169 |
نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانے چراغ زندہ کیا ہے میرا گلی میں دم توڑتی ہوا نے | Contemporary | 22,397 |
مرے خیال سے بھی آہ مجھ کو بعد رہا ہزار طرح سے چاہا برابری نہ ہوئی | Modernist | 32,672 |
جرأت انساں پہ گو تادیب کے پہرے رہے فطرت انساں کو کب زنجیر پہنائی گئی | Modernist | 66,943 |
ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے نہ مجھے ابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے | Modernist | 3,947 |
رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح بیٹھے ہیں انہی کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرح | Contemporary | 39,670 |
حریف تھا مرے دشمن کا وہ مگر میں نے جمالؔ کی نہیں بیعت بہانہ ہوتے ہوئے | Modernist | 34,115 |
اے قمرؔ شب ختم ہونے کو ہے چھوڑو انتظار ساحل شب سے ستارے بھی کنارہ کر چلے | Modernist | 63,584 |
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے | Contemporary | 85,959 |
شب فراق کا احوال یاد آ ہی گیا پھر ایک تیر سا دل میں اتر گیا سر شام | Contemporary | 61,568 |
رہا بہار و خزاں میں یہ حال سودے کا بڑھا تو زلف ہوا گھٹ گیا تو خال ہوا | Classical | 26,077 |
دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے میں کیا بلا ہوں رات بڑا ڈر لگا مجھے | Contemporary | 88,862 |
ہم لطف سیر باغ جہاں خاک اڑا چلے شوق وصال دل میں لیے یار کا چلے | Classical | 80,850 |
یوں تھی جواہرات لب و چشم کی جھلک جیسے یہ کوئی لعل و گہر انتظار تھا | Contemporary | 88,520 |
وقت کا قافلہ آتا ہے گزر جاتا ہے آدمی اپنی ہی منزل میں ٹھہر جاتا ہے | Modernist | 56,230 |
سرخی سے ترے لبوں کی ہم نے آتش کو میان آب دیکھا | Classical | 43,514 |
اس زہد پہ نازاں نہ ہو زاہد سے یہ کہہ دو تسبیح پھرانے ہی سے جنت نہیں ملتی | Modernist | 25,138 |
غارت گریٔ شہر میں شامل ہے کون کون یہ بات اہل شہر پہ کھل بھی گئی تو کیا | Contemporary | 27,109 |
اس لیے تنہا ہوں میں گرم سفر قافلے میں رہنما موجود ہے | Modernist | 10,305 |
اے صبر تنک تو رہ کہ تجھ سے دو چار قدم میں پیشتر ہوں | Classical | 62,215 |
نام پر مرنے کے مرتے ہیں مگر مرتے نہیں کون جی سکتا ہے ہم سے سخت جانوں کی طرح | Modernist | 14,010 |
عشق میں اور کچھ نہیں ملتا سیکڑوں غم نصیب ہوتے ہیں | Modernist | 59,651 |
مجبور تھے تو رات اسے ماننا پڑا جب رنگ روشنی سے جدا کر دیا گیا | Contemporary | 6,545 |
غش کھا کے گرا پہلے ہی شعلے کی جھلک سے موسیٰ کو بھلا کہئے تو کیا طور کی سوجھی | Classical | 57,908 |
بت پرستوں کوں ہے ایمان حقیقی وصل بت برگ گل ہے بلبلوں کوں جلد قرآن مجید | Classical | 69,213 |
جائے تکیہ عاشق بے خانماں کو وقت خواب زیر سر کوچہ میں تیرے خشت ہے پاسنگ ہے | Classical | 53,256 |
پست و بلند سارا ہموار کر کے لوٹے اس بار ہم اسے ہی سرشار کر کے لوٹے | Contemporary | 2,776 |
عتاب و لطف جو فرماؤ ہر صورت سے راضی ہیں شکایت سے نہیں واقف ہمیں شکرانہ آتا ہے | Classical | 25,686 |
کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلم گردش نصیب روز ازل سے ہے تو قلم | Classical | 75,827 |
اس خواب کے ماحول میں بے خواب ہیں آنکھیں جب نیند بہت آئے گی بستر نہ ملے گا | Contemporary | 12,083 |
ٹک اے بت اپنے مکھڑے سے اٹھا دے گوشہ برقع کہ ان مسجد نشینوں کو ہے دعویٰ دین داری کا | Classical | 53,573 |
کیا کہوں مارے خوشی کے حال میرا کیا ہوا آمد آمد جو ہوئی کل ناگہانی آپ کی | Classical | 28,623 |
شاعری چھوڑ بھی سکتا نہیں میں ورنہ ظفرؔ جانتا ہوں اس اندھیرے میں یہ جگنو کم ہے | Contemporary | 89,249 |
سر معمورۂ عالم یہ دل خانہ خراب مٹ گیا تیری بدولت مجھے معلوم نہ تھا | Modernist | 18,207 |
مجنوں کی چال لیلیٰ اگر دو قدم چلے تابوت دل پسند ہو محمل سے دل اچاٹ | Classical | 27,688 |
گناہ گار سہی چور میں نہیں زاہد ہے یہ بھی کفر کہ کعبے سے منہ پھرا کے پیوں | Modernist | 809 |
گماں ہوں یا حقیقت سوچنے کا وقت کب تک یہ ہو کر بھی نہ ہونے کی مصیبت اب ہوئی ہے | Contemporary | 73,803 |
بہر نظارہ چلا ہے کوچۂ قاتل میں داغؔ کس بلٰی کا ہے کلیجہ کس غضب کا دیدہ ہے | Modernist | 15,781 |
شمعوں کی لویں ہیں یا زبانیں آنسو ہیں کہ احتجاج پیہم | Contemporary | 3,732 |
مثال صبح شبنم ریز جو سورج کا برقعہ ہے چھڑکتا جب وہ میرے داغ دل پر شور رو دیتا | Classical | 87,278 |
آنکھ اٹھا کے میری سمت اہل نظر نہ دیکھ پائے آنکھ نہ ہو تو کس قدر سہل ہے دیکھنا مجھے | Contemporary | 80,210 |
جوں اشک ایک لغزش پا میں گئے ہیں پار ہستی سے تا بہ نیستی چنداں سفر نہیں | Classical | 62,100 |
ہے صبح سے کچھ آج مرے دل کو بشاشت اس کوچے سے قاصد تو نہ خط لے کے چلا ہو | Classical | 44,987 |
اتنے بگڑے ہیں وہ مجھ سے کہ اگر نام ان کے خط بھی لکھتا ہوں تو سب حرف بگڑ جاتے ہیں | Classical | 81,046 |
کس قدر ہوں بنا ہوا میں بھی جیسے میں نے شراب پی ہی نہیں | Modernist | 65,189 |
نہ ہوا یار کا غصہ ٹھنڈا بارہا دھو کے پلایا تعویذ | Modernist | 25,210 |
لذت کو ترک کر تو ہو دنیا کا رنج دور پرہیز بھی دوا ہے جو بیمار نے کیا | Classical | 25,949 |
آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے جان کشتی قضا سے لڑتی ہے | Classical | 80,675 |
آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ بچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹ | Modernist | 16,955 |
بند ہو جائے اگر روزن امکان خیال خواب کھلتے ہیں مرے دل میں فراوانی سے | Contemporary | 22,225 |
تمہیں چاہوں تو کس بوتے پہ چاہوں تمہیں دیکھوں تو دیکھوں کس نظر سے | Contemporary | 61,171 |
غم زدہ اک غزل پڑھی اپنی درد ابھرے الاپ کی صورت | Contemporary | 70,725 |
دل میں کیا ہے دعوا انکھیاں ہوئی ہیں منکر تیری کمر کا جھگڑا ان دو کے درمیاں ہے | Classical | 333 |
پھوٹ نکلی نہ رکی سینے کی اندر خوشبو مشک تھا داغ محبت کہ چھپایا نہ گیا | Classical | 27,295 |
آج کے دکھ ہی بہت ہیں بیم فردا کس لیے کٹ ہی جائے گی اذیت کی گھڑی جیسی بھی ہے | Contemporary | 79,771 |
موسم گل میں بھی جلیلؔ افسوس دامن اپنا گلوں سے بھر نہ سکا | Modernist | 33,729 |
کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیار تو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا | Classical | 13,420 |
کہے ہے مرغ دل اے کاش میں زاغ کماں ہوتا کہ تا شاخ کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا | Classical | 81,069 |
میں کہ ہوں ایک تھکا ہارا اور ماندہ شخص میری انا کہتی ہے میرے مقابل ہو | Modernist | 88,074 |
کھلتے ہی نہیں لمس پہ اس جسم کے اسرار سیاح عجب شہر طلسمات میں گم ہے | Contemporary | 30,242 |
ناخن عشق کتنے ٹوٹ گئے گرہ نیم باز کیا جانے | Modernist | 32,985 |
کہاں کی ہوا تک رہا ہے تو ناداں کہ پل مارتے یاں ہوا زندگی ہے | Classical | 43,852 |
اندھیری شام کے پردوں میں چھپ کر کسے روتی ہے چشموں کی روانی | Modernist | 54,233 |
کسی بھی خواب کی تکمیل غیر ممکن ہے جو کام ہو نہیں سکتا وہ کرتے رہتے ہیں | Contemporary | 5,868 |
ہوتا جاتا ہوں میں سورج کی تمازت کے قریب ایک مہتاب کو سینے میں چھپائے ہوئے دن | Contemporary | 7,000 |
نبھ چکا زندگی کا ساتھ جب یہ ابھی سے حال ہے بوجھ بٹانے والا ہی بیچ میں لا کے چھوڑ دے | Modernist | 867 |
ساگروں کی پھول پینے سے ہوئی مٹی خراب جام مے باغ سخن میں گل ہے گل میں خاک ہے | Classical | 48,471 |
End of preview. Expand in Data Studio
README.md exists but content is empty.
- Downloads last month
- 3