file_id
stringlengths
8
8
metadata
stringlengths
415
808
title
stringlengths
4
145
num-words
int64
0
36.2k
contains-non-urdu-languages
stringclasses
2 values
document_body
stringlengths
41
200k
0001.xml
<meta> <title>بنگلہ دیش کی عدالت کا تاریخی فیصلہ</title> <author> <name>سید منظور الحسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq February 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7341b7dd1138372db999?articleId=5adb7452b7dd1138372dd6fb&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1694</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta>
بنگلہ دیش کی عدالت کا تاریخی فیصلہ
1,694
No
<body> <section> <p>بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ نے طلاق کے ایک مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے علما کے فتووں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے پارلیمنٹ سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ جلد ایسا قانون وضع کرے کہ جس کے بعد فتویٰ بازی قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم بن جائے۔ بنگلہ دیش کے علما نے اس فیصلے پر بھر پور ردِ عمل ظاہرکرتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں علما کی ایک تنظیم ”اسلامک یونٹی الائنس“ نے متعلقہ ججوں کو مرتد یعنی دین سے منحرف اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔</p> <p>فتوے کا لفظ دو موقعوں پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک اس موقع پر جب کوئی صاحبِ علم شریعت کے کسی مئلے کے بارے میں اپنی رائے پیش کرتا ہے۔ دوسرے اس موقع پر جب کوئی عالمِ دین کسی خاص واقعے کے حوالے سے اپنا قانونی فیصلہ صادر کرتا ہے۔ ایک عرصے سے ہمارے علما کے ہاں اس دوسرے موقعِ استعمال کا غلبہ ہو گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس لفظ کا رائے یا نقطۂ نظر کے مفہوم میں استعمال کم و بیش متروک ہو گیا ہے۔ چنانچہ اب فتوے کا مطلب ہی علما کی طرف سے کسی خاص مألے یا واقعے کے بارے میں حتمی فیصلے کا صدور سمجھا جاتا ہے۔ علما اسی حیثیت سے فتویٰ دیتے ہیں اور عوام الناس اسی اعتبار سے اسے قبول کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے نزدیک، چند مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم مذکورہ فیصلے کے بارے میں اپنا تاثر بیان کریں، یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر ان مسائل کا جائزہ لے لیا جائے۔</p> <p>پہلا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون سازی اور شرعی فیصلوں کا اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو قانون کی رو سے اس کے مجاز ہی نہیں ہوتے۔ کسی میاں بیوی کے مابین طلاق کے مألے میں کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ ان کا نکاح قائم ہے یا باطل ہو گیا ہے؟ رمضان یا عید کا چاند نظر آیا ہے یا نہیں آیا؟کوئی مسلمان اپنے کسی قول یا اقدام کی وجہ سے کہیں دائرۂ اسلام سے خارج اورنتیجۃً مسلم شہریت کے قانونی حقوق سے محروم تو نہیں ہو گیا؟ یہ اور اس نوعیت کے بہت سے دوسرے معاملات سر تا سر قانون اور عدالت سے متعلق ہوتے ہیں۔ علما کی فتویٰ سازی کے نتیجے میںیہ امور گویا حکومت اورعدلیہ کے ہاتھ سے نکل کر غیر متعلق افراد کے ہاتھوں میں آجاتے ہیں۔</p> <p>دوسرا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون کی حاکمیت کا تصور مجروح ہوتا ہے اور لوگوں میں قانون سے روگردانی کے رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون اپنی روح میں نفاذ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر اسے نفاذ سے محروم رکھا جائے تو اس کی حیثیت محض رائے اور نقطۂ نظر کی سی ہوتی ہے۔ غیر مجاز فرد سے صادر ہونے والا فتویٰ یا قانون حکومت کی قوتِ نافذہ سے محروم ہوتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں ہوتا۔ چنانچہ فتویٰ اگر مخاطب کی پسند کے مطابق نہ ہو تو اکثر وہ اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ فتویٰ یا قانون بے توقیر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں رہنے والے شہریوں میں قانون ناپسندی کا رجحان فروغ پاتا ہے اور جیسے ہی انھیں موقع ملتا ہے وہ بے دریغ قانون کی خلاف ورزی کر ڈالتے ہیں۔</p> <p>تیسرامسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرغیر مجاز افراد سے صادر ہونے والے فیصلوں کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو ملک میں بد نظمی اور انارکی کا شدید اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جب غیر مجازافراد سے صادر ہونے والے قانونی فیصلوں کو حکومتی سرپرستی کے بغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اپنے عمل سے یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ مرجعِ قانون و اقتدارتبدیل ہو چکا ہے۔ جب کوئی عالمِ دین مثال کے طور پر، یہ فتویٰ صادر کرتا ہے کہ سینما گھروں اور ٹی وی اسٹیشنوں کو مسمار کرنامسلمانوں کی ذمہ داری ہے، یا کسی خاص قوم کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے، یا فلاں کی دی گئی طلاق واقع ہو گئی ہے اور فلاں کی نہیں ہوئی، یا فلاں شخص یا گروہ اپنا اسلامی تشخص کھو بیٹھا ہے تو وہ درحقیقت قانونی فیصلہ جاری کر رہا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، وہ ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست بنانے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ سوائے انتشار اور انارکی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔ یہی وجہ ہے کہ جن علاقوں میں حکومت کی گرفت کمزور ہوتی ہے وہاں اس طرح کے فیصلوں کا نفاذ بھی ہو جاتا ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہتی ہے۔</p> <p>چوتھا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف مذہبی مسالک کی وجہ سے ایک ہی معاملے میں مختلف اور متضاد فتوے منظرِ عام پر آتے ہیں۔ یہ تو ہمارے روز مرہ کی بات ہے کہ ایک ہی گروہ کو بعض علماے دین کافر قرار دیتے ہیں اور بعض مسلمان سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کے منہ سے اگر ایک موقع پر طلاق کے الفاظ تین بار نکلتے ہیں تو بعض علما اس پر ایک طلاق کا حکم لگا کر رجوع کا حق باقی رکھتے ہیں اور بعض تین قرار دے کررجوع کو باطل قرار دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک عام آدمی کے لیے نہایت دشواریاں پیدا کر دیتی ہے۔</p> <p>پانچواں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اگر دین و شریعت سے کچھ خاص دلچسپی نہ رکھتے ہوں تو وہ اس صورتِ حال میں شریعت کی روشنی میں قانون سازی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ کام چل رہا ہے کے اصول پر وہ اس طریقِ قانون سازی سے سمجھوتاکیے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومتی ادارے ضروری قانون سازی کے بارے میں بے پروائی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور قوانین اپنے فطری ارتقا سے محروم رہتے ہیں۔</p> <p>چھٹا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ رائج الوقت قانون اور عدالتوں کی توہین کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب کسی مسئلے میں عدالتیں اپنا فیصلہ سنائیں اور علما اسے باطل قرار دیتے ہوئے اس کے برعکس اپنا فیصلہ صادر کریں تو اس سے عدالتوں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شہری عدلیہ کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا ہے۔</p> <p>ان مسائل کے تناظر میں بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ کا فیصلہ ہمارے نزدیک، امت کی تاریخ میں ایک عظیم فیصلہ ہے۔ جناب جاوید احمد صاحب غامدی نے اسے بجا طور پر صدی کا بہترین فیصلہ قرار دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی عدالت اگر علما کے فتووں اور قانونی فیصلوں پر پابندی لگانے کے بجائے، ان کے اظہارِ رائے پر پابندی عائدکرتی تو ہم اسے صدی کا بدترین فیصلہ قرار دیتے اور انھی صفحات میں بے خوفِ لومۃ و لائم اس پر نقد کر رہے ہوتے۔</p> <p>موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے علما اپنی اصل ذمہ داری کو ادا کرنے کے بجائے ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر مصر ہیں جن کے نہ وہ مکلف ہیں اور نہ اہل ہیں۔ قرآن و سنت کی رو سے علما کی اصل ذمہ داری دعوت و تبلیغ، انذار و تبشیر اور تعلیم و تحقیق ہے۔ ان کا کام سیاست نہیں، بلکہ سیاست دانوں کو دین کی رہنمائی سے آگاہی ہے؛ ان کا کام حکومت نہیں، بلکہ حکمرانوں کی اصلاح کی کوشش ہے؛ ان کا کام جہاد و قتال نہیں، بلکہ جہادکی تعلیم اور جذبۂ جہاد کی بیداری ہے؛ اسی طرح ان کا کام قانون سازی اور فتویٰ بازی نہیں بلکہ تحقیق و اجتہاد ہے۔ گویا انھیں قرآنِ مجیدکامفہوم سمجھنے، سنتِ ثابتہ کا مدعا متعین کرنے اور قولِ پیغمبر کا منشامعلوم کرنے کے لیے تحقیق کرنی ہے اور جن امور میں قرآن و سنت خاموش ہیں ان میں اپنی عقل و بصیرت سے اجتہادی آراقائم کرنی ہیں۔ ان کی کسی تحقیق یا اجتہاد کو جب عدلیہ یا پارلیمنٹ قبول کرے گی تو وہ قانون قرار پائے گا۔ اس سے پہلے اس کی حیثیت محض ایک رائے کی ہوگی۔ اس لیے اسے اسی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔</p> <p>اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حکم نہیں لگایا جائے گا، کوئی فیصلہ نہیں سنایا جائے گا، کوئی فتویٰ نہیں دیا جائے گا، بلکہ طالبِ علمانہ لب و لہجے میں محض علم و استدلال کی بنا پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں شخص کافر ہے، بلکہ اس کی اگر ضرورت پیش آئے تو یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص کا فلاں عقیدہ کفر ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کا فلاں نقطۂ نظر اسلام کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ نہیں کہا جائے گا فلاں آدمی مشرک ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا فلاں نظریہ یا فلاں طرزِ عمل شرک ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ زید کی طرف سے دی گئی ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو نی چاہییں۔</p> <p>حکم لگانا، فیصلہ سنانا، قانون وضع کرنا اورفتویٰ جاری کرنا درحقیقت، عدلیہ اور حکومت کا کام ہے کسی عالمِ دین یا کسی اور غیر مجاز فرد کی طرف سے اس کام کو انجام دینے کی کوشش سراسر تجاوز ہے۔ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس اصول کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب ”ازالتہ الخفا ء“ میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>”اس زمانے تک وعظ اور فتویٰ خلیفہ کی رائے پر موقوف تھا۔ خلیفہ کے حکم کے بغیر نہ وعظ کہتے تھے اور نہ فتویٰ دیتے تھے۔ بعد میں خلیفہ کے حکم کے بغیر وعظ کہنے اور فتویٰ دینے لگے اور فتویٰ کے معاملے میں جماعت (مجلسِ شوریٰ) کے مشورہ کی جو صورت پہلے تھی وہ باقی نہ رہی——- (اس زمانے میں) جب کوئی اختلافی صورت نمودار ہوتی، خلیفہ کے سامنے معاملہ پیش کرتے، خلیفہ اہلِ علم و تقویٰ سے مشورہ کرنے کے بعد ایک رائے قائم کرتا اور وہی سب لوگوں کی رائے بن جاتی۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ہر عالم بطورِ خود فتویٰ دینے لگا اور اس طرح مسلمانوں میں اختلاف برپا ہوا۔“ (بحوالہ ”اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل“، مولاناامین احسن اصلاحی، ص۳۲)</p> </blockquote> </section> </body>
0002.xml
<meta> <title>جن اور فرشتہ</title> <author> <name>طالب محسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq January 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb739db7dd1138372dc378?articleId=5adb7427b7dd1138372dd0c5&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1588</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta>
جن اور فرشتہ
1,588
Yes
<body> <section> <p>(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: ۶۷۔۷۲)</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن ابن مسعود رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ما من أحد إلا و قد وکل بہ قرینہ من الجن و قرینہ من الملائکۃ۔ قالوا: و إیاک یا رسول اﷲ۔ قال: و إیای، و لکن اﷲ أعاننی علیہ فأسلم، فلا یأمرنی إلا بخیر۔</annotation></p> <p>”ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ اپنے ساتھی ایک جن اور ایک فرشتے کے سپرد کر دیا گیا ہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ، کیا آپ کے ساتھ بھی یہی معا ملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ نے میری مدد کی، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔ لہٰذا وہ مجھے خیر ہی کی باتیں کہتا ہے۔ ”</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">وکل بہ</annotation>: ’<annotation lang="ar">وَکَّل</annotation>‘ کا مطلب اپنا معاملہ کسی کے سپرد کرنا ہے۔ یہاں یہ مجہول ہے اور اس سے مراد ان کا مسلط ہونا ہے۔</p> <p>قرین: ساتھی، جس کا ساتھ ہمہ وقتی ہو۔</p> <heading>متون</heading> <p>اس روایت کے متون میں کچھ فرق تو محض لفظی ہیں۔ مثلا ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">من الجن</annotation>‘ کے بجائے ’<annotation lang="ar">من الشیاطین</annotation>‘ ہے۔ اسی طرح احمد کی ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">قد وکل بہ</annotation>‘ کی جگہ ’<annotation lang="ar">ومعہ</annotation>‘ روایت ہوا ہے۔ لیکن ایک فرق کافی اہم ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ ایک دو روایات میں ’<annotation lang="ar">قرینہ من الملائکۃ</annotation>‘ کا ذکر نہیں ہے۔ کیونکہ زیادہ تر روایات میں یہ جز بیان ہوا ہے۔ چنانچہ اسے راویوں کا سہو ہی قرار دیا جائے گا۔</p> <heading>معنی</heading> <p>اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو کچھ مادی قواعد و ضوابط کا پابند بنا رکھا ہے۔ یہ قواعد ہم اپنے مشاہدے اور تجزیاتی مطالعے کی روشنی میں سمجھ لیتے ہیں۔ جدیددور میں سائنس دانوں نے اس دائرے میں بہت سا کام کیا ہے اور وہ بہت سے قوانین دریافت کر چکے ہیں اوردریافت کرتے رہیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ دنیا صرف ان مادی احوال تک محدود نہیں ہے۔ اس مادی کارخانے کے پیچھے ایک غیر مادی نظام بھی کارفرما ہے۔ اس روایت میں اس غیر مادی دنیا کے ایک معاملے کے بارے میں خبردی گئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ کچھ غیر مادی طاقتیں وابستہ ہیں۔ یہ طاقتیں خیر اور شر کی طاقتیں ہیں۔ اس روایت میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ان طاقتوں کے وابستہ ہونے سے کوئی انسان بھی مستثنٰی نہیں ہے۔</p> <p>قرآنِ مجید میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذی شعور مخلوقات میں فرشتے اورجنات بھی شامل ہیں۔ فرشتے سراپاخیر مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تنفیذ کا ذریعہ بھی ہیں۔ جنات انسانوں کی طرح آزمایش سے گزر رہے ہیں اور انھیں خیروشر کے ترک و اختیار کی پوری آزادی حاصل ہے۔ چنانچہ ان میں صالحین بھی موجود ہیں اور اشرار بھی پائے جاتے ہیں، بلکہ انھی کا ایک فرد ابلیس انسانوں کو گمراہ کرنے کا مشن اختیار کیے ہوئے ہے اور اپنے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے انسانوں اور اپنے ہم جنسوں سے کام بھی لیتا ہے۔ ہمارے نزدیک، ملائکہ کی ذمہ داریوں اور ابلیس اور اس کے لشکر کی چالبازیوں کے نتیجے میں وہ صورتِِ حال پیدا ہو جاتی ہے جس کے لیے اس حدیث میں ایک جن اور ایک فرشتے کے مسلط کیے جانے کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔</p> <p>یہاں یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی رہنمائی اور بھلائی ہی کا بندو بست کیا گیا ہے۔ یہ آزمایش کے لیے جنوں اور انسانوں کو دی گئی آزادی ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ صورتِ معاملہ پیدا ہو جاتی ہے۔</p> <p>قرآنِ مجید میں یہ بات اس طرح بیان نہیں ہوئی، لیکن فرشتوں اور جنات کے انسانی زندگیوں میں کردار اور مداخلت کو مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ انعام میں بتایا گیا ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَ ھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃٌ۔</annotation>(۶: ۶۱)</p> <p>”وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ تم پر اپنے نگران مقرر رکھتا ہے۔“</p> </blockquote> <p>مولانا امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>”مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ خدا اپنی مخلوق کے کسی فرد اور اپنے گلے کی کسی بھیڑ سے غافل ہوتا ہے، سب ہر وقت اسی کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ برابر اپنے نگران فرشتوں کو ان پر مقرر رکھتا ہے، جو ایک پل کے لیے بھی ان کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتے۔“ (تدبرِقرآن، ج۳، ص۷۰)</p> </blockquote> <p>سورۂ رعد میں اس سے بھی واضح الفاظ میں یہ بات بیان ہوئی ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِنّ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہِ یَحْفَظُوْنَہُ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ۔</annotation> (۱۳: ۱۱)</p> <p>”ان پران کے آگے پیچھے سے امرِالٰہی کے مؤکل لگے رہتے ہیں جو باری باری ان کی نگرانی کرتے ہیں۔“</p> </blockquote> <p>اسی طرح جنات کے مسلط ہونے کا مضمون بھی قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے۔ سورۂ زخرف میں ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَھُوَ لَہُ قَرِیْنٌ۔</annotation>(۴۳: ۳۶)</p> <p>”اور جو خدا کے ذکر سے اعراض کر لیتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔“</p> </blockquote> <p>درجِ بالا آیات کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ روایت میں جو بات بیان ہوئی ہے، وہ قرآنِ مجید میں بھی بتائی گئی ہے۔ روایت سے شبہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھی راہ پر لگانے کے ساتھ ساتھ گمراہ کرنے کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ سورۂ زخرف کی آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ شیطان کا تسلط خود انسان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔</p> <p>نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ میرے جن کو مسلمان کر دیا گیا ہے۔ یہ درحقیقت پیغمبر کی عصمت کی حفاظت کے اس نظام کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کارِ دعوت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار، باب ۱۷۔ دارمی، کتاب الرقاق، باب ۲۴۔ مسند احمد، مسند عبداللہ بن عباس، مسند عبد اللہ بن مسعود۔</p> </section> <section> <heading>شیطان اورانسان</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن أنس رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن الشیطان یجری من الانسان مجری الدم۔</annotation></p> <p>”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں اسی طرح گرداں ہے جیسے خون گرداں ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p>یجری مجری۔۔۔: کسی کی جگہ آنا، قائم مقام ہونا۔</p> <heading>متون</heading> <p>بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اپنے ایک عمل کی دلیل کے طور پر تھا۔ روایت کے الفاظ ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن علی بن الحسین رحمہ اﷲکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی المسجد و عندہ أزواجہ فرحن۔ فقال لصفیۃ بنت حیی: لا تعجلی حتی انصرف معک و کان بینہا فی دار اسامۃ۔ فخرج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم معھا۔ فلقیہ رجلان من الانصار۔ فنظرا الی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم، ثم أجازا۔ و قال لہما النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: تعالیا، إنھا صفیۃ بنت حیی۔ قالا: سبحان اﷲ یا رسول اﷲ۔ قال: إن الشیطان یجری من الانسان مجری الدم و إنی خشیت أن یلقی فی أنفسکما شیئا۔</annotation> (بخاری، کتاب الاعتکاف، باب ۱۱)</p> <p>”حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی ازواج بیٹھی خوش ہو رہی تھیں۔ آپ نے صفیہ بنت حیی سے کہا: جلدی نہ کرو میں تمھارے ساتھ لوٹوں گا۔ اور صفیہ کا گھر دارِ اسامہ میں تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے۔ اس موقع پر انصار کے دو آدمی ملے۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، پھر آگے بڑھ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو کہا: ادھر آؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں اسی طرح گرداں ہے جیسے خون گرداں ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ تمھارے دل میں کوئی بات نہ ڈال دے۔“</p> </blockquote> <p>بخاری کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صفیہ کے مسجد میں حضور سے ملنے آنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے۔ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئی تھیں۔</p> <p>معلوم ہوتا ہے کہ صاحب مشکوٰۃ نے یہ روایت مسلم سے لی ہے اور پوری روایت لینے کے بجائے باب کی مناسبت سے مکالمے کا ایک جز لے لیا ہے۔ اس جز کے اعتبار سے متون میں صرف ایک ہی فرق روایت ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’۔۔۔ یجری۔۔۔ مجری‘ کے بجائے ’۔۔۔ یبلغ۔۔۔ مبلغ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ </p> <p>دارمی، ابنِ ماجہ اور احمد میں مروی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ ایک اور موقع پر بھی بولا تھا۔ اس روایت کے الفاظ ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن جابر قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: لا تدخلوا علی المغیبات۔ فان الشیطان یجری من ابن آدم کمجری الدم۔ قالوا: و منک؟ قال: نعم ولکن اﷲأعاننی علیہ فأسلم۔</annotation> (دارمی، کتاب الرقاق، باب ۶۴) </p> <p>”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکیلی بیوی ہو تو گھر میں داخل نہ ہو، کیونکہ شیطان ابنِ آدم میں اس کے خون کی طرح گرداں ہے۔ لوگوں نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا۔“</p> </blockquote> <heading>معنی</heading> <p>شیطان نے جس مشن کو اختیار کیا ہے، اس کے لیے اس کو متعدد کارندے دستیاب ہیں اور وہ انھیں انسانوں کے پیچھے لگائے رکھتا ہے۔ اس روایت میں ان شیاطین کی مستعدی کو واضح کیا گیا ہے۔ یعنی یہ ایک انسان پراپنے افکار کے ساتھ حملہ آور ہونے کی بار بار کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوشش شب وروز میں اتنی بارکی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خون کی گردش سے تشبیہ دی ہے۔ </p> <p>مقصود یہ ہے کہ شیطان کے معاملے میں صالح سے صالح آدمی کو بھی بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔ شیاطین ہر وقت چپکے رہتے ہیں اور دراندازی کے ہر موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ متون کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کے ساتھ کھڑے ہونے پر راہ سے گزرنے والوں پر واضح کرنا ضروری سمجھا کہ آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب انھوں نے کسی سوے ظن کی نفی کرنی چاہی تو آپ نے یہ واضح کیا کہ اسی طرح کے مواقع ہوتے ہیں جب شیاطین فائدہ اٹھاتے اور برائی کا بیج بوتے ہیں۔ اسی طرح آپ نے اکیلی عورت کے گھر میں داخل ہونے سے منع کرتے ہوئے بھی یہی جملہ کہا ہے۔ اس موقع پر بھی آپ کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے لیے برائی کی طرف ابھارنے کے مواقع پیدا نہ کرو۔</p> <p>اس روایت سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ابلیس ہر آدمی کی رگوں میں گرداں رہتا ہے۔ یہ محض غلط فہمی ہے۔ ابلیس کو یہ طاقت نہیں دی گئی کہ وہ ہرجگہ ہروقت موجود رہے۔ یہ اس کے کارندے ہیں جو وہ مختلف لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے اور وہ مسلسل اپنے ہدف کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔</p> <p>کتابیات</p> <p>بخاری، کتاب الاعتکاف، باب ۱۱۔ ۱۲۔ کتاب بدء الخلق باب ۱۰۔ کتاب الاحکام، باب ۲۱۔ مسلم کتاب السلام، باب ۹۔ ترمذی، کتاب الرضاع، باب ۱۶۔ ابوداؤد، کتاب الصوم، باب ۷۹۔ کتاب السنۃ، باب ۱۸۔ کتاب الادب، باب ۸۸۔ ابن ماجۃ، کتاب الصیام، باب ۶۵۔ احمد، مسند انس بن مالک۔ مسند جابر بن عبداللہ۔ حدیث صفیہ ام المؤمنین۔ دارمی، کتاب الرقاق، باب۶۴۔</p> </section> </body>
0003.xml
<meta> <title>شعائر اللہ اور فطرت اللہ</title> <author> <name>ڈاکٹر وسیم مفتی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq February 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7341b7dd1138372db999?articleId=5adb73f3b7dd1138372dcbcf&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>744</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta>
شعائر اللہ اور فطرت اللہ
744
Yes
<body> <section> <p>”شِعار“ اس لباس کو کہتے ہیں جو جسم کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ اس کے مقابل میں ”دِثار“ کا لفظ بولا جاتا ہے یہ وہ لباس ہوتا ہے جو حسبِ ضرورت جسم سے الگ کر کے رکھ لیتے ہیں، جیسے چادر اور اوڑھنی۔ یوں ”شِعار“ کے لفظ میں شِےء لازم کا مفہوم پیدا ہو گیا۔ پھر یہ جنگ اور سفر کے دوران میں پکارے جانے والے کسی خاص نعرے کے لیے استعمال ہونے لگا، جس سے لوگ ایک دوسرے کو بلاتے ہیں یا للکار کر دشمن پر حملہ کر دیتے ہیں، جیسے جنگِ بدر میں مہاجرین یا بنی عبد الرحمن کہہ کر ایک دوسرے کو پکارتے تھے۔ اوس یا بنی عبید اللہ اور خرزج یا بنی عبداللہ پکار کر ایک دوسرے کی ہمت بڑھاتے تھے۔ (البدایہ وا لنھایہ، ابنِ کثیر، ج۳، ص۲۷۴)</p> <p>ایک اور غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’<annotation lang="ar">حٰمٓ۔ لا ینصرون</annotation>‘، شعار مقرر فرمایا۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد) آج کل سلوگن، ماٹو اور ’<annotation lang="en">Coat of arms</annotation>‘ کے الفاظ اس مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عوام کی طاقت ان کے سلوگن میں ہوتی ہے۔ ایسے ہی اسکول اور کالج اپنا ایک ماٹو مقرر کرتے ہیں اور طلبہ کو اسے مدِ نظر رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ ملکی سطح پر قومی ترانہ، قومی جھنڈا، قومی کھیل اور قومی پھول شناخت کا کام انجام دیتے ہیں۔</p> <p>”شِعار“ سے ملتا جلتا لفظ ”شعیرہ“ ہے، جس کی جمع شعائر ہے۔ ”شعیرہ“ کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ قرآنِ مجید میں یہ لفظ حج کے اعمال و مناسک کے لیے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’<annotation lang="ar">ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ</annotation>‘۔ (بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں)۔ (البقرۃ ۲: ۱۵۸) اسلام کے ابتدائی زمانے میں صحابہ سعی بین الصفا و المروہ سے کراہت محسوس کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ شعائر جاہلیت میں سے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مطلع کیا کہ صفا اور مروہ جاہلیت کے نہیں بلکہ اللہ کے شعائر میں شامل ہیں۔ سورۂ حج میں ارشاد ہے: ’<annotation lang="ar">والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر</annotation>۔ (اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے شعائرِ الہٰی میں سے ٹھیرایا ہے۔ تمھارے لیے ان میں بڑے خیر ہیں)۔ (۲۲: ۳۶) پھر یہ بھی فرمایا: ’<annotation lang="ar">لن ینال اللہ لحومھا ولا دمآؤھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم</annotation>‘۔ (نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں اور نہ خون۔ لیکن تمھارے اندر کا تقویٰ اس تک رسائی پاتا ہے)۔ (۲۲: ۳۷) اونٹ عربوں کا محبوب اور سب سے بڑھ کر کام آنے والے جانور تھا۔ یہود اس کی حرمت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اس لیے ہدی کے اونٹوں کے شعائر اللہ میں سے ہونے کا بطور خاص تذکرہ فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ان کے خون اور گوشت کا اللہ کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ جذبہء عبودیت اور خدا ترسی کے ساتھ ان کی قربانی ہی اللہ کو مطلوب ہے۔</p> <p>سنن ابنِ ماجہ، کتاب المناسک میں، زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے اور مسندِ احمد میں ان سے اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے او رکہا: ’<annotation lang="ar">یا محمد مر اصحابک فلیر فعوا اصواتھم بالتلبیۃ فانھا من شعار الحج</annotation>‘۔ (اے محمد، اپنے صحابہ کو حکم فرمائیں کہ تلبیہ پڑھتے ہوئے آواز بلند رکھیں کیونکہ یہ شعارِ حج میں سے ہے)۔</p> <p>ان شواہد سے پتا چلتا ہے کہ قرآن و حدیث میں شعار اور شعائر کے الفاظ خصوصاً مناسکِ حج کے لیے ہی استعمال ہوئے ہیں۔ سورۂ حج میں ان کے لیے حرمت کا لفظ بھی آیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ شعائر محترم اور قابلِ تعظیم ہیں۔ البتہ اردو اور فارسی لٹریچر میں شعائر کا لفظ عام معنوں میں بولا جاتا ہے۔ تمام مذہبی رسوم، عبادات اور مقدس مقامات ان میں شامل ہو جاتے ہیں اور یہ انگریزی لفظ ’<annotation lang="en">Ritual</annotation>‘ کے قائم مقام ہو گیا ہے۔ اسے زبان کا توسع کہا جا سکتا ہے لیکن خود قرآن و حدیث کے جو نظائر ہم نے پیش کیے ہیں ان کا اسلوب بتاتا ہے کہ صرف افعالِ حج ہی شعائر اللہ نہیں ہیں بلکہ یہ شعائر اللہ میں شامل ہیں اور ان میں سے کچھ ہیں۔ جیسے ’<annotation lang="ar">من شعائر اللہ</annotation>‘(شعائر اللہ میں سے۔ شعائر اللہ کی نوعیت والے) ’<annotation lang="ar">من شِعار الحج</annotation>‘ (عملِ حج میں سے) کی تراکیب سے رہنمائی ملتی ہے۔ چونکہ باقی عبادات اور دینی اہمیت رکھنے والے مقامات کا صراحت سے ذکر نہیں ہوا اس لیے ہم ان کو تبعاً شعائر اللہ کہیں گے کیونکہ یہ لغۃً و عرفاً اس معنی میں شامل ہیں۔ افعالِ حج کے شعائر اللہ میں سے ہونے کی صراحت اسی لیے کی گئی کہ زمانہء جاہلیت کی بعض قبیح رسمیں حج میں شامل ہو گئی تھیں اور صحابہء کرام سعی اور قربانی کے بارے میں کچھ شبہات رکھتے تھے۔ مشرکانہ رسوم کی نفی کر کے اصل مناسک کے بارے میں بتا دیا گیا کہ ان کو بغیر جھجک کے بجا لاؤ کیونکہ یہ اللہ کی قربت اور ثواب کا سبب ہیں۔</p> <p>شعائر اللہ کی طرح ایک اور ترکیب فطرت اللہ ہے جو قرآنِ مجید کی سورۂ روم آیت ۳۰ میں آئی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ’<annotation lang="ar">فاقم وجھک للدین حنیفا۔ فطرت اللہ الَتی فطر الناس علیھا</annotation>‘۔ (پس اے نبی، آپ یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف جما دیں اور اس فطرت پر برقرار رہیں جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے) فطرت سے مراد وہ فطری استعداد و صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر بندے میں ودیعت کی ہے۔ اس صلاحیت کو استعمال کر کے آدمی حق و باطل میں امتیاز کرتا ہے اور دینِ توحید تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ مرتے دم تک اور ہوش و حواس کے قائم رہنے تک موجود رہتی ہے اور کوئی اس کو کھرچ نہیں سکتا۔ لاکھ بدلنے کی کوشش کریں، یہ نہیں بدلتی۔ اور جب ہواے نفس اور تزئینِ شیطان کے ڈالے ہوئے حجاب اٹھتے ہیں تو دین کی سیدھی راہ نظر آنے لگتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’<annotation lang="ar">مامن مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یہودانہ او ینصرانہ اویمجسانہ کما تنتج البھیمہ جمآء ھل تحسون فیھا من جدعاء</annotation>‘۔ (ہر نومولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا پارسی بنا ڈالتے ہیں۔ جیسے ایک چوپایہ سالم چوپائے کی شکل میں پیدا ہوتا ہے کیا تم نے دیکھا کہ ان میں کوئی بوچا کانوں سے محروم پیدا ہوا ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز) چوپائے کی مثال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرکانہ رسم واضح کرنے کے لیے دی۔ جب ایک اونٹنی پانچ بچے جن لیتی اور آخری نر ہوتا تو اس کے کان چیر کر اس کو بوچابنا دیتے۔ اس کا دودھ پیتے اور نہ اس پر سواری کرتے۔ جہاں اس کا دل چاہتا چرتی پھرتی۔ اسے ”بحیرہ“ کا نام دیا جاتا۔ (المائدہ ۵: ۱۰۳) اس میں ایک لطیف سا اشارہ کافروں کے اعراض کی طرف بھی ہے کہ وہ کان لپیٹ کر دینِ فطرت سے بہرے ہو چکے ہیں۔</p> <p>یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ نے سورۂ روم کی یہی آیت تلاوت کر دی۔ اس سے پتا چلا کہ فطرت دینِ توحید و اسلام پر قائم ہونا ہے جبکہ شرک و کفر فطرت کی نفی ہے۔</p> <p>فطرت اللہ کا ایک مظہر وہ جسمانی ساخت وہیئت بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس ہیئت کو برقرار رکھیں اور اس کی آرایش اور اصلاح اس طرح کریں کہ یہ ساخت بگڑنے نہ پائے۔ جسمانی فطرت کو قائم رکھنے اور جسم کی صفائی و ستھرائی کے قاعدے، ابو الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی نشانی ہیں اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ہمیں ملے ہیں۔ صحیح بخاری، کتاب اللباس میں حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں: ’<annotation lang="ar">سمعت النبی، یقول الفطرۃ خمس: الختان والاستحداد و قص الشارب و تقلیم الاظفار و نتف الآباط</annotation>‘۔( میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ پانچ چیزیں فطرت ہیں: ختنہ کرانا، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں چھوٹی کرانا، ناخنوں کو کاٹنا اور بغلوں کے بال اکھاڑنا) صحیح، مسلم کتاب الطہارہ میں حضرت عائشہ کی روایت میں دس چیزیں بیان ہوئی ہیں۔ اس میں ’<annotation lang="ar">اعفاء اللحیۃ</annotation>‘۔ (داڑھی کا بڑھانا۔ مسواک کرنا) ’<annotation lang="ar">استنشاق الماء</annotation>‘۔ (ناک میں پانی چڑھا کر صاف کرنا) ’<annotation lang="ar">غسل البراجم</annotation>‘۔ (انگلیوں کے جوڑوں کی میل دھونا) ’<annotation lang="ar">انتقاص الماء</annotation>‘۔ (پانی سے استنجا کرنا) اور ’<annotation lang="ar">المضمضہ</annotation>‘ (کلی کرنے)کے اضافے ہیں۔ ختنے کا ذکر نہیں ہوا۔ بحیثیتِ مجموعی یہ جسم کی صفائی کرنے اور اسے خوب صورت رکھنے کے ضابطے ہیں۔ طبری نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ وہ خصائل ہیں جن کے ذریعے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جانچا گیا۔ یعنی انھیں ان اطوار کی تعلیم دی گئی۔ (جامع البیان الجزء الاول ص۴۱۴۔ ۴۱۵)</p> <p>اب یہ مسلمان اور کافر کے درمیان نشانِ تفریق بن گئے ہیں۔ چنانچہ ایک آدمی نے اسلام قبول کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ کفر کے بال صاف کرو اور ختنہ کراؤ۔ (مسند احمد۔ مسند المکیین حدیث ابی کلیب)</p> <p>فطرت اللہ پر برقرار رہ کر ہی ہم دینِ اسلام پر قائم رہ سکتے ہیں۔ اسی فطرت سے توحید پھوٹتی ہے، شرک کی آلودگی دور ہوتی ہے اور عقائد کا فساد ختم ہوتا ہے۔ وحی کی تعلیم اسی فطرت کو چمکا کر اسے جلا بخشتی ہے۔ اس فطرت کی روشنی ہی میں ہم اپنے وجود اور اپنی وضع قطع کو اصل حالت میں باقی رکھ سکتے ہیں۔ اس فطرت کے منافی تزئین و آرایش جسم میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ کافر فطرت کو مسخ کر کے خیالات و اعمال کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔</p> <p>ایسے ہی شعائر اللہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ہیں۔ ان کی تعظیم خود اللہ کی تعظیم ہے۔ <annotation lang="ar">ذلک ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب</annotation>‘۔ (ان امور کا اہتمام رکھو۔ اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یاد رکھے کہ یہ چیز دل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہے)۔ (الحج ۲۲: ۳۲) ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ اپنی طرف سے کوئی شعیرہ مقرر کر لیں یا اللہ نے تعظیم کا جو طریقہ بتایا ہے اسے چھوڑ کر اپنی مرضی سے طریقہء تعظیم وضع کر لیں۔ حجرِ اسود کو بوسہ دینا یا اشارے سے استلام کرنا شعیرہ ہے۔ صفا اور مروہ کے درمیان پہلے آہستہ پھر تیز چلنا، شعار ہے۔</p> <p>بیعت اللہ کا طواف کرنا ہی عبادت ہے۔ نماز اور روزے کے جن آداب کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے، انھیں اسی طرح بجا لانا ہی ہمارے لیے عبادت ہے۔ ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی کرنا جائزنہیں۔ اپنی طرف سے نئے مقدس مقامات بنا لینا بھی درست نہیں کیونکہ اس سے شرک کی راہ کھلتی ہے۔</p> <p>فطرت اللہ اور شعائر اللہ دین کے دو پہلو ہیں، جو مختلف بھی ہیں اور آپس میں مربوط بھی۔ کچھ باتیں ہمیں اپنی عقل سے سمجھ میں آجاتی ہیں اور کچھ کتاب و سنت کی رہنمائی سے معلوم ہوتی ہیں۔ ہمارا کام ہے کہ اپنی عقل کو عقلِ سلیم بنائیں اور کتاب و سنت سے ہدایت حاصل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔</p> </section> </body>
0004.xml
<meta> <title>نومولود اور شیطان</title> <author> <name>طالب محسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq February 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7341b7dd1138372db999?articleId=5adb7427b7dd1138372dd0ca&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1871</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta>
نومولود اور شیطان
1,871
Yes
<body> <section> <p>(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: ۶۹۔۷۲)</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن إبی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: ما من بنی آدم مولود إلا یمسہ الشیطان حین یولد۔ فیستھل صارخا من الشیطان، غیر مریم و ابنھا (علیھما الصلٰوۃ و السلام)۔</annotation></p> <p>”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم کی اولاد میں کوئی جنم لینے والا ایسا نہیں ہے جسے شیطان اس کی پیدایش کے موقع پر تنگ نہ کرے۔ چنانچہ وہ شیطان کے چھونے سے چیخ چیخ کر رونے لگتا ہے، سوائے مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے کے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">مس</annotation>: یہ لفظ چھونے کے معنی میں آتا ہے۔ شیطان کے ساتھ نسبت میں اس میں شیطان کی ایذا رسانی کے معنی کا اضافہ ہو جاتا ہے۔</p> <p><annotation lang="ar">یستہل</annotation>: بچے کا پیدایش کے موقع پر رونا۔</p> <p><annotation lang="ar">صارخا</annotation>: بلند آواز سے چیخنا۔ یہ حال ہونے کی سبب سے منصوب ہے۔</p> <heading>متون</heading> <p>صاحبِ مشکوٰۃ نے یہ روایت حضرت مسیح اور حضرت مریم علیہما الصلوۃ و السلام کے استثنا پر ختم کر دی ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس استثنا پر قرآنِ مجید کی آیت: ’<annotation lang="ar">وانی اعیذھا بک و ذریتھا من الشیطان الرجیم</annotation>‘، (میں اسے اور اس کی ذریت کو(اے اللہ،) آپ کی پناہ میں دیتی ہوں)(آلِ عمران ۳:۳۶) سے استشہاد بھی روایت ہوا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ہریرہ نے یہ آیت ’<annotation lang="ar">واقرء وا ان شئتم</annotation>‘ (اگر چاہو تو پڑھو )کے الفاظ بول کر پڑھی ہے۔ باقی فرق محض لفظی ہیں۔ مثلاًصحیح مسلم کی ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">مس</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">یمس</annotation>‘ کی جگہ پر اس کے ہم معنی الفاظ <annotation lang="ar">’نخس</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">نخسۃ</annotation>‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔ بعض روایات میں ’<annotation lang="ar">مس</annotation>‘ کی ایک دوسری صورت ’<annotation lang="ar">مسۃ</annotation>‘ استعمال ہوئی ہے۔ یہ روایت بخاری، مسلم اور مسندِ احمد میں روایت ہوئی ہے۔ اور اس کے ہر متن میں مذکورہ آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صاحبِ مشکوٰۃ نے اس حصے کو نقل نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ استشہاد کچھ زیادہ قوی نہیں ہے۔</p> <p>اس روایت کی تشریح کرتے ہوئے صاحبِ ”فتح الباری“ نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں شیطان کا طریقِ کار بیان ہوا ہے۔ یہ روایت بخاری میں ہے۔ روایت کے الفاظ ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: کل بنی آدم یطعن الشیطان فی جنبیہ باصبعہ حین یولد غیر عیسی بن مریم ذھب یطعن فطعن فی الحجاب۔</annotation> (کتاب بدء الخلق، باب ۱۰)</p> <p>”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمام بنی آدم کوجب وہ پیدا ہوتے ہیں، شیطان ان کے پہلو میں اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے۔ سوائے عیسیٰ بن مریم کے۔ وہ انھیں بھی کچوکا دینے گیا، مگر کچوکا ایک پردے میں دیا۔“</p> </blockquote> <heading>معنی</heading> <p>یہ روایت اپنے مفہوم کے اعتبار سے ایک خبر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیدایش کے موقع پر بچے کے رونے کا سبب کیا ہے۔ اس خبر کے درست یا غلط ہونے کا مدار روایت کی صحت پر ہے۔ بخاری ومسلم کے اس روایت کو منتخب کرلینے کی وجہ سے یہ ایک وقیع روایت ہے۔ لہٰذا اس میں جو خبر دی گئی ہے اسے درست ہی قرار دیا جائے گا۔ قرآنِ مجید میں نفیاً، اثباتاً، یا اشارۃً بھی اس ضمن میں کوئی بات بیان نہیں ہوئی ہے۔ چنانچہ اس روایت کے فہم یا مدعا کو متعین کرنے میں ہمیں قرآنِ مجید سے کوئی مدد نہیں ملتی۔</p> <p>بچے کے رونے کاظاہری سبب طبی ہے۔ اطبا کے مطابق بچے کے سانس کے عمل کا آغاز پھیپھڑوں کے کھلنے سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بچہ بلند آواز سے چیخے۔ جب بچہ چیختا ہے تو اس کے پھیپھڑے کھل جاتے ہیں اور تنفس کا عمل ہموار طریقے سے جاری ہو جاتا ہے۔ اطبا کی اس بات اور حدیث کے مفہوم میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ انسان کے لیے جو چیز طبی لحاظ سے ناگزیر ہے، اس کو مہیا کرنے کے مرئی یا غیر مرئی اسباب کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔</p> <p>اصل میں اس حدیث سے جس بات کا ابلاغ مقصود ہے، وہ شیطان کا عمل دخل ہے۔ اس روایت میں بتا دیا گیا ہے کہ انسان کے اس دنیا میں آتے ہی اس کا سابقہ شیاطین سے پڑ جاتا ہے۔ اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شیطان کی انسان سے دشمنی کی شدت کیا ہے۔ ایک بچہ جو ابھی دنیا میں داخل ہوا ہے۔ جس کا ابھی اس خیر و شر کی کشمکش سے کوئی واسطہ نہیں ہے، شیطان اسے بھی نظر انداز نہیں کرتا اور اپنی دشمنی کا اظہار اسے جسمانی تکلیف دے کر کرتا ہے۔</p> <p>قرآنِ مجید میں شیطان کی انسان سے دشمنی اور اسے گمراہ کرنے کا عزم پوری وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ یہ روایت اس دشمنی کے نقطۂ آغاز کا پتا دیتی ہے۔</p> <p>اس روایت میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کا استثنا بھی بیان ہوا ہے۔ یہ استثنا کس وجہ سے ہے ؟یہ نہ اس روایت سے واضح ہوتا ہے اور نہ اس روایت کے کسی اور متن میں اس کی وضاحت بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ بات بھی ایک خبر ہی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس مجمل خبر کو جان لینے کے سوا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ اس کے بارے میں مزید کوئی بات کہنے اور جاننے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔</p> <p>حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جس آیت سے اس استثنا کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے وہ بڑی حد تک قابلِ لحاظ ہے۔ لیکن آیت کا اصل مدعا اس خبر کی تصویب نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں حضرت مریم کی یہ دعا جس محل میں بیان ہوئی ہے، اس سے واضح ہے کہ ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور ان کی بچی اور نواسے کو شیطان کی دراندازیوں سے محفوظ کر دیا گیا، لیکن یہ بات واضح رہے کہ انھوں نے یہ دعا حضرت مریم علیہا السلام کی پیدایش کے بعد کی تھی۔ لہٰذا حضرت مریم کی پیدایش کے موقع کو اس آیت کی وجہ سے مستثنیٰ سمجھنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس روایت کا وہ متن زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے جس میں صرف عیسٰی بن مریم علیہ السلام کا استثنا بیان ہوا ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا پہلے دن ہی سے محفوظ ہونا اس لیے بھی درست ہے کہ انھیں گود ہی میں کلام کرنے کی اہلیت دی گئی تھی اور انھوں نے اپنے پیغمبر ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ قرآنِ مجید میں یہ بات پوری وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ جب کسی شخص پر وحی نازل کرنے کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو زمین آسمان میں اس حق کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کر دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے، حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے یہ اہتمام بچپن ہی سے ہونا چاہیے۔ اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام کو چونکہ ایک ایسے پیغمبر کی ماں بننا تھا، جو بن باپ کے پیدا ہو لہٰذا ان کی خصوصی حفاظت بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ۴۲۔ کتاب تفسیر القرآن، باب ۵۹۔ مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب ۴۰۔ مسند احمد، مسندِ ابی ہریرہ۔</p> </section> <section> <heading>بچے کا رونا اور شیطان</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن أبی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: صیاح المولود حین یقع نزغۃ من الشیطان۔</annotation></p> <p>”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے چیخنے کاباعث، جب بچا چیختا ہے، شیطان کا کچوکا ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">نزغۃ</annotation>: کچوکا، انگلی یا کسی نوکیلی چیز کو چبونا۔</p> <heading>متون</heading> <p>اس روایت کا یہی متن روایت ہوا ہے۔ اصل میں یہ پہلی روایت کے مضمون ہی کا مختصر بیان ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>اس روایت کے متعدد پہلو ہم اوپر کی روایت کی شرح میں واضح کر چکے ہیں۔ یہاں صرف ایک پہلو کی توضیح پیشِ نظر ہے۔ ان روایات کے مطالعے سے یہ تاثر ہو سکتا ہے کہ انسان پیدا ہوتے ہی شیطان کے تسلط میں آجاتا ہے۔ اس روایت کا مدعا یہ نہیں ہے۔ شیطان کی صلاحیت صرف وسوسہ اندازی تک محدود ہے۔ انسان اپنے ارادے سے اس وسوسے کو قبول کرتا اور شیطانی راستوں پر چل نکلتا ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب الفضائل، باب ۶۵۔ تفصیلی مضمون کے لیے دیکھیے، ”کتابیات“، حدیثِ سابق۔</p> </section> <section> <heading>شیطان کے کارندے</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن جابر رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إن إبلیس یضع عرشہ علی الماء۔ ثم یبعث سرایاہ یفتنون الناس فأدناھم منہ منزلۃ أعظمھم فتنۃ۔ یجئ أحدھم فیقول: فعلت کذا و کذا۔ فیقول: ما صنعت شیئا۔ قال: ثم یجئ أحدھم فیقول: ما ترکتہ حتی فرقت بینہ و بین إمرأتہ۔ قال: فیدنیہ منہ۔ فیقول: نعم أنت۔ قال الأعمش: أراہ۔ قال: فیلتزمہ۔</annotation></p> <p>”حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے۔ پھر وہ مہمات بھیجتا ہے جو لوگوں کو فتنوں میں ڈالتی ہیں۔ جو ان میں سب سے بڑا فتنہ پرداز ہوتا ہے وہ مرتبے میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک آتا ہے، پھر وہ بیان کرتا ہے: میں نے یوں اور یوں کیا۔ پھر وہ کہتا ہے: تم تو کچھ بھی نہیں کر سکے، پھر ایک اور آتا ہے، آکر کہتا ہے: میں نے اسے نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی گھر والی کے مابین تفریق کرا دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے تم کیا خوب ہو۔ اعمش کہتے کہ میرے خیال میں آپ نے فرمایا تھا: پھر وہ اسے لپٹا لیتا ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">عرش</annotation>: صاحبِ اقتدار کی نشست۔</p> <p><annotation lang="ar">یفتنون</annotation>: آزمایش میں ڈالتے ہیں۔</p> <p><annotation lang="ar">فرقت</annotation>: تفریق کرا دیتے ہیں۔</p> <p><annotation lang="ar">نعم أنت</annotation>: تم کیا خوب ہو۔</p> <p><annotation lang="ar">یلتزم</annotation>: لپٹنا۔ چمٹ جانا۔</p> <heading>متون</heading> <p>اس روایت کا تفصیلی متن یہی ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ باقی کتابوں میں فتنوں کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ صرف یہ خبر دی گئی ہے کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے اور اس کے ہاں بڑے مراتب اسے حاصل ہوتے ہیں جو انسانوں کے لیے سب سے بڑا فتنہ سامان ہوتا ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>یہ روایت بھی ان اخبار میں سے ہے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا گیا اور آپ نے اپنی امت کو باخبر کیا۔ اس روایت میں پہلی بات یہ واضح کی گئی ہے کہ شیطان اپنی فتنہ سامانیوں میں اکیلا نہیں ہے۔ اس کا کارخانہ خود اس پر اور اس کے بہت سے کارندوں پر مشتمل ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ شیطان کے یہ کارندے ہر ہر طرح کی برائیوں کی ترویج کی کوشش کرتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے بار بار وسوسہ اندازی کرتے ہیں۔ تیسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ مرغوب زوجین میں مناقشہ پیدا کرنا ہے۔ انسانی سماج کی خیر و فلاح کا انحصار گھر کے سکون پر ہے۔ اگر یہ سکون غارت ہو تو اس کے نتیجے میں صرف دو مرد وعورت ہی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ ان کے بچے اور ان کے خاندان بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل کی صحیح خطوط پر تربیت شدید طور پر متاثر ہوتی ہے۔</p> <p>یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ میاں بیوی کی مثال ایک نمایاں مثال کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہے۔ شیطان کا ہدف تمام انسانی تعلقات ہیں۔ وہ ہر ہر رشتے کو توڑنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ بہنوں اور بھائیوں، والدین اور اولاد اور دوست اور دوست کے مابین بھی منافرت کے بیج بوتا رہتا ہے۔</p> <p>اس سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہوتا ہے۔ ان روابط کی درستی انسانی اخلاق کی درستی کی مرہون ہے۔ چنانچہ حقیقت میں اس کا اصل ہدف اخلاق کی بربادی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس لیے بیان کر دی ہے کہ ہر انسان اخلاق کے معاملے میں شیطان کی دراندازیوں پر متنبہ رہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب صفۃ القیامہ و الجنہ والنار، باب ۱۷۔ مسند احمد، مسند جابر بن عبداللہ۔</p> </section> <section> <heading>اہلِ عرب اور شیطان</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن الشیطان قد أیس من أن یعبدہ المصلون فی جزیرۃ العرب و لکن فی التحریش بینھم۔</annotation></p> <p>”حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان جزیرۂ عرب کے ان نمازیوں سے اپنی عبادت سے مایوس ہو چکا ہے۔ لیکن باہمی مناقشات میں وہ پر امید ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">المصلون</annotation>: یہ نمازی۔ یہ الف لام عہد کا ہے۔</p> <p><annotation lang="ar">التحریش</annotation>: باہمی تفریق و دشمنی۔</p> <heading>متون</heading> <p>روایت کے متون زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">فی التحریش</annotation>‘ کے بعد ’<annotation lang="ar">بینھم</annotation>‘ کا اضافہ روایت ہوا ہے۔ مسلم کی ایک روایت کے سوا کسی روایت میں ’<annotation lang="ar">المصلون</annotation>‘ کے ساتھ ’<annotation lang="ar">جزیرۃ العرب</annotation>‘ کی تخصیص بیان نہیں ہوئی۔ امام احمد نے اپنی کتاب میں یہ جملہ حج کے موقع پر آپ کے خطاب کے ایک جزکے طور پر بھی روایت کیا ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>یہ روایت صحابہء کرام رضوان اللہ عنہم کے حوالے سے ایک عظیم الشان بشارت کو بیان کرتی ہے۔ یہاں شیطان کی عبادت سے شرک مراد ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا تصور جس طرح راسخ کر دیا تھا اور صحابہء کرام جس طرح اس پر جازم ہو گئے تھے، یہ خوش خبری اسی کامیابی کا نتیجہ ہے۔</p> <p>اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ قیامت تک کے اہلِ عرب کو کوئی خصوصیت حاصل ہو گئی ہے۔ روایت میں ’<annotation lang="ar">المصلون</annotation>‘ کا لفظ معرف باللام آیا ہے اور یہ لام عہد کا ہے۔ چنانچہ اس روایت میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست تربیت کردہ صحابہ ہی کو ’<annotation lang="ar">المصلون</annotation>‘ قرار دیا گیا ہے۔</p> <p>اس روایت میں ایک اندیشے کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عقائد کے معاملے میں شیطان کا بس تم پر نہیں چلے گا۔ لیکن تمھارے اندر پھوٹ ڈالنے کے معاملے میں اسے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بات کو بیان کرنے سے آپ کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ شرک و توحید کے معاملے میں تمھارے اندر ضروری حساسیت پیدا ہو گئی۔ چنانچہ شیطان کی وسوسہ اندازی اس میں مؤثر نہیں ہو گی۔ لیکن تفریق و انتشار کے معاملے میں تم اس کے فریب میں آ سکتے ہو۔ تمھیں اس معاملے میں بھی پوری طرح چوکنا رہنا چاہیے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار، باب ۱۷۔ ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ۲۵۔ مسند احمد، مسند انس بن مالک۔</p> </section> </body>
0005.xml
<meta> <title>مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں</title> <author> <name>معز امجد</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq March 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7355b7dd1138372dbc47?articleId=5adb7355b7dd1138372dbc50&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>7335</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta>
مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں
7,335
Yes
<body> <section> <p>پچھلے دنوں مولانا زاہد الراشدی صاحب کا ایک مضمون ”غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر‘ ‘تین قسطوں میں روزنامہ ”اوصاف‘ ‘میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں مولانا محترم نے استاذِ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کی بعض آرا پر اظہارِ خیال فرمایا ہے۔ مذکورہ مضمون میں مولانا محترم کے ارشادات سے اگرچہ ہمیں اتفاق نہیں ہے، تاہم ان کی یہ تحریر علمی اختلافات کے بیان اور مخالف نقطہء نظر کی علمی آرا پر تنقید کے حوالے سے ایک بہترین تحریر ہے۔ مولانا محترم نے اپنی بات کو جس سلیقے سے بیان فرمایا اور ہمارے نقطہء نظر پر جس علمی اندازسے تنقید کی ہے، وہ یقیناًموجودہ دور کے علما اور مفتیوں کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ مولانا محترم کے اندازِ بیان اور ان کی تنقید کے اسلوب سے جہاں ہمارے دل میں ان کے احترام میں اضافہ ہوا ہے، وہیں اس سے ہمیں اپنی بات کی وضاحت اور مولانا محترم کے فرمودات کا جائزہ لینے کا حوصلہ بھی ملا ہے۔ اس مضمون میں ہم مولانا محترم کے اٹھائے ہوئے نکات کا بالترتیب جائزہ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ صحیح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔</p> <heading>علماے دین اور سیاست</heading> <p>سب سے پہلی بات، جس پر مولانا محترم نے تنقید کی ہے، وہ علماے دین کے کام کے حوالے سے استاذِ گرامی کی رائے ہے۔ مولانا محترم کے اپنے الفاظ میں، وہ اس طرح سے ہے:</p> <blockquote> <p>علماے کرام خود سیاسی فریق بننے کی بجائے، حکمرانوں اور سیاست دانوں کی اصلاح کریں تو بہتر ہو گا، مولوی کو سیاست دان بنانے کے بجائے، سیاست دان کو مولوی بنانے کی کوشش کی جائے۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم استاذِ گرامی کی اس رائے کے بارے میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ علماے کرام خود سیاسی فریق بننے کی بجائے، حکمرانوں اور سیاست دانوں کی اصلاح کریں، تو اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ یہ موقع ومحل اور حالات کی مناسبت کی بات ہے اور دونوں طرف اہلِ علم اور اہلِ دین کا اسوہ موجود ہے۔ امت میں اکابر اہلِ علم کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جس نے حکمرانوں کے خلاف سیاسی فریق بننے کی بجائے ان کی اصلاح اور رہنمائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ لیکن ایسے اہلِ علم بھی امت میں رہے ہیں، جنھوں نے اصلاح کے دوسرے طریقوں کو کامیاب نہ ہوتا دیکھ کرخود فریق بننے کا راستہ اختیار کیا ہے ... اس لیے اگر کسی دور میں علماے کرام یہ سمجھیں کہ خود فریق بنے بغیر معاملات کی درستی کا امکان کم ہے تو اس کا راستہ بھی موجود ہے اور اس کی مطلقاً نفی کر دینا دین کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔</p> </blockquote> <p>ہمیں مولانا محترم کی محولہ عبارت سے بہت حد تک اتفاق ہے۔ علماے دین کا سیاسی اکھاڑوں میں اترنے کا مسئلہ، جیسا کہ استاذِ گرامی کے رپورٹ کیے گئے بیان سے بھی واضح ہے، حرمت و حلت کا مسئلہ نہیں ہے۔ استاذِ گرامی کا نقطہء نظر یہ نہیں ہے کہ علما کا سیاست کے میدان میں اترنا حرام ہے، اس کے برعکس، ان کی رائے یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں اترنے کے بجائے، یہ ’بہتر ہوگا‘ کہ علماسیاست دانوں کی اصلاح کریں۔ ظاہر ہے کہ مسئلہ بہتر اور کہتر تدبیر کا ہے، نہ کہ حلال و حرام یا مطلقاً نفی کا۔</p> <p>یہاں ہم البتہ، یہ بات ضرور واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں علماے دین کی جو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، وہ اپنی قوم میں آخرت کی منادی کرنا اور اس کے بارے میں اپنی قوم کو انذار کرنا ہے۔ چنانچہ، اپنے کام کے حوالے سے وہ جو رائے بھی قائم کریں اور جس میدان میں اترنے کا بھی وہ فیصلہ کریں، انھیں یہ بات کسی حال میں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ سب سے پہلے اسی ذمہ داری کے حوالے سے مسؤل ٹھیریں گے جو کتابِ عزیز نے ان پر عائد کی ہے۔ اس وجہ سے انھیں اپنی زندگی اور اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ کہیں ان کا یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داری کو ادا کرنے میں رکاوٹ تو نہیں بن جائے گا۔</p> <p>ہم یہاں اتنی بات کا اضافہ ضروری سمجھتے ہیں کہ علماے کرام پر قرآنِ مجید نے اصلاحِ احوال کی نہیں، بلکہ اصلاحِ احوال کی جدوجہد کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ مولانا محترم اگر غور فرمائیں، تو ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ پہلی صورت میں منزلِ مقصود اصلاحِ احوال، جبکہ دوسری صورت میں اصلاح کی جدوجہد ہی راستہ اور اس راستے کا سفر ہی اصل منزل ہے۔ چنانچہ، ہمارے نزدیک، معاملات کی درستی کے امکانات خواہ بظاہر ناپید ہی کیوں نہ ہوں، علماے دین کا کام کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک اس کی ڈالی ہوئی ذمہ داری کو بہتر سے بہتر طریقے پر ادا کرتے چلے جانا ہے۔ اس معاملے میں قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا بطورِ مثال، خاص طور پر ذکر کیا ہے، جو یہود کی ایک بستی میں آخرت کی منادی کرتے تھے۔ یہ یہود کی اخلاقی پستی کا وہ دور تھا کہ اصلاح کی اس جدوجہد کی کامیابی کا سرے سے کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ چنانچہ، جب بستی والوں نے ان مصلحین سے یہ پوچھا کہ ناامیدی کی اس تاریکی میں وہ یہ کام آخر کس لیے کر تے چلے جا رہے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ۔ (الاعراف ۷: ۱۶۴)</annotation></p> <p>”اس لیے کہ تمھارے رب کے حضور یہ ہمارے لیے عذر بن سکے(کہ ہم نے اپنے کام میں کوئی کمی نہیں کی)۔“</p> </blockquote> <p>قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و انذار کے معاملے میں انبیاے کرام کا اسوہ بھی یہی رہا ہے۔ حالات کی نامساعدت اور کامیابی کی امید کے فقدان کو انھوں نے اپنے لیے کبھی رکاوٹ نہیں سمجھا۔ وہ اللہ کی طرف سے فیصلہ آنے تک اسی کام پر لگے رہے جس کا پروردگارِ عالم نے انھیں حکم دیا تھا۔ اس میدانِ عمل کا اسوۂ حسنہ یہی ہے۔ اس کی راہ پر چل نکلنا ہی منزل اور اس راہ میں اٹھایا ہوا ہر قدم ہی اصل کامیابی ہے۔</p> <heading>زکوٰۃ اور ٹیکس</heading> <p>اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِگرامی نے کہا ہے:</p> <blockquote> <p>زکوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ٹیکسیشن کو ممنوع قرار دے کر حکمرانوں سے ظلم کا ہتھیار چھین لیا ہے۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم اس بیان کے بارے میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>... لیکن کیا کسی ضرورت کے موقع پر (زکوٰۃ کے علاوہ) اور کوئی ٹیکس لگانے کی شرعاً ممانعت ہے؟ اس میں ہمیں اشکال ہے۔ اگر غامدی صاحب محترم اللہ تعالیٰ کی طرف سے زکوٰۃ کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی ممانعت پر کوئی دلیل پیش فرما دیں، تو ان کی مہربانی ہو گی اور اس باب میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔</p> </blockquote> <p>استاذِ گرامی اپنی بہت سی تحریروں میں اپنی رائے کی بنیاد واضح کر چکے ہیں۔ اپنے مضمون ’قانونِ معیشت‘ میں وہ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">”فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُاالزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ۔ (التوبۃ ۹: ۵)</annotation></p> <p>”پھر اگر وہ توبہ کر لیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔“</p> <p>سورۂ توبہ میں یہ آیت مشرکینِ عرب کے سامنے ان شرائط کی وضاحت کے لیے آئی ہے جنھیں پورا کر دینے کے بعد وہ مسلمانوں کی حیثیت سے اسلامی ریاست کے شہری بن سکتے ہیں۔ اس میں ’فخلوا سبیلہم‘ (ان کی راہ چھوڑ دو) کے الفاظ اگر غور کیجیے تو پوری صراحت کے ساتھ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آیت میں بیان کی گئی شرائط پوری کرنے کے بعد جو لوگ بھی اسلامی ریاست کی شہریت اختیار کریں، اس ریاست کا نظام جس طرح ان کی جان، آبرو اور عقل و رائے کے خلاف کوئی تعدی نہیں کر سکتا، اسی طرح ان کی املاک، جائدادوں اور اموال کے خلاف بھی کسی تعدی کا حق اس کو حاصل نہیں ہے۔ وہ اگر اسلام کے ماننے والے ہیں، نماز پر قائم ہیں اور زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں تو عالم کے پروردگار کا حکم یہی ہے کہ اس کے بعد ان کی راہ چھوڑ دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ واجب الاذعان کی رو سے ایک مٹھی بھر گندم، ایک بالشت زمین، ایک پیسا، ایک حبہ بھی کوئی ریاست اگر چاہے تو ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لے لینے کے بعد بالجبر ان سے نہیں لے سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت میں فرمایا ہے:</p> <p><annotation lang="ar">امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویقیموا الصلوٰۃ ویؤتوا الزکوٰۃ فاذا فعلوا عصموا منی وماء ہم واموالہم الا بحقہا وحسابہم علی اللہ۔ (مسلم، کتاب الایمان)</annotation></p> <p>”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروںیہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط پوری کر لیں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الا یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔“</p> <p>یہی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نہایت بلیغ اسلوب میں اس طرح بیان فرمائی ہے:</p> <p><annotation lang="ar">ان دماء کم واموالکم حرام علیکم لحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا فی بلدکم ھذا۔ (مسلم، کتاب الحج)</annotation></p> <p>”بے شک، تمھارے خون اور تمھارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، ۱؂جس طرح تمھارا یہ دن (یوم النحر) تمھارے اس مہینے (ذوالحجہ) اور تمھارے اس شہر (ام القری مکہ) میں۔“</p> <p>اس سے واضح ہے کہ اس آیت کی رو سے اسلامی ریاست زکوٰۃ کے علاوہ جس کی شرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے مختلف اموال میں مقرر کر دی ہے، اپنے مسلمان شہریوں پر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کر سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:</p> <p><annotation lang="ar">اذا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت ما علیک۔ (ترمذی، کتاب الزکوٰۃ)</annotation></p> <p>”جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو، تو وہ ذمہ داری پوری کر دیتے ہو جو (ریاست کی طرف سے) تم پر عائد ہوتی ہے۔“</p> <p>اسی طرح آپ نے فرمایا ہے:</p> <p><annotation lang="ar">لیس فی المال حق سوی الزکوٰۃ۔(ابنِ ماجہ، کتاب الزکوٰۃ)</annotation></p> <p>”لوگوں کے مال میں زکوٰۃ کے سوا (حکومت کا) کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔“</p> <p>اربابِ اقتدار اگر اپنی قوت کے بل بوتے پر اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ ایک بد ترین معصیت ہے جس کا ارتکاب کوئی ریاست اپنے شہریوں کے خلاف کر سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:</p> <p><annotation lang="ar">لا یدخل الجنۃ صاحب مکس۔(ابو داؤد، کتاب الخراج والامارۃ والفء)</annotation></p> <p>”کوئی ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔“</p> <p>اسلام کا یہی حکم ہے جس کے ذریعے سے وہ نہ صرف یہ کہ عوام اور حکومت کے مابین مالی معاملات سے متعلق ہر کشمکش کا خاتمہ کرتا، بلکہ حکومتوں کے لیے اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا کر قومی معیشت میں عدمِ توازن پیدا کردینے کا ہر امکان بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے۔</p> <p>تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ مال سے متعلق اللہ پروردگارِ عالم کے مطالبات بھی اس پر ختم ہو جاتے ہیں۔ قرآن میں تصریح ہے کہ اس معاملے میں اصل مطالبہ انفاق کا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح یہ فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ ادا کر دینے کے بعد حکومت کا کوئی حق باقی نہیں رہتا، اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے:</p> <p><annotation lang="ar">ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ۔(ترمذی، کتاب الزکوٰۃ)</annotation></p> <p>”بے شک، مال میں زکوٰۃ کے بعد بھی (اللہ کا)ایک حق قائم رہتا ہے۔“</p> <p>(ماہنامہ ”اشراق“، اکتوبر ۱۹۹۸، ص۲۹۔ ۳۲)</p> </blockquote> <p>امید ہے کہ دیے گئے اقتباس سے مولانا محترم پر استاذِ گرامی کا استدلال پوری طرح سے واضح ہو جائے گا۔ مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس استدلال میں اگر کوئی خامی دیکھیں، تو ہمیں اس سے ضرور آگاہ فرمائیں۔</p> <heading>جہاد اور مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی</heading> <p>اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِ محترم نے کہا ہے:</p> <blockquote> <p>جہاد تبھی جہاد ہوتا ہے، جب مسلمانوں کی حکومت اس کا اعلان کرے۔ مختلف مذہبی گروہوں اور جتھوں کے جہاد کو جہاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم، استاذِگرامی کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>... جہاد کی مختلف عملی صورتیں اور درجات ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی ملک یا قوم کے خلاف جہاد کا اعلان اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ایک اسلامی یا کم از کم مسلمان حکومت اس کا اعلان کرے، لیکن جب کسی مسلم آبادی پر کفار کی یلغار ہو جائے اور کفار کے غلبے کی وجہ سے مسلمان حکومت کا وجود ختم ہو جائے یا وہ بالکل بے بس دکھائی دینے لگے، تو غاصب اور حملہ آور حکومت کے خلاف جہاد کے اعلان کے لیے پہلے حکومت کا قیام ضروری نہیں ہو گا اور نہ ہی عملاً ایسا ممکن ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسے مرحلہ میں مسلمانوں کی اپنی حکومت کا قیام قابلِ عمل ہو تو کافروں کی یلغار اور تسلط ہی بے مقصد ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ صورت پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب مسلمانوں کی حکومت کفار کے غلبہ اور تسلط کی وجہ سے ختم ہو جائے، بے بس ہو جائے یا اسی کافر حکومت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ جائے۔</p> <p>سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں کیا کیا جائے گا؟ اگر جاوید غامدی صاحب محترم کا فلسفہ تسلیم کر لیا جائے تو یہ ضروری ہو گا کہ مسلمان پہلے اپنی حکومت قائم کریں اور اس کے بعد اس حکومت کے اعلان پر جہاد شروع کیا جائے۔ لیکن پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہو گا کہ جب مسلمانوں نے اپنی حکومت بحال کر لی ہے تو اب جہاد کے اعلان کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی ہے؟ کیونکہ جہاد کا مقصد تو کافروں کا تسلط ختم کر کے مسلمانوں کا اقتدار بحال کرنا ہے اور جب وہ کام جہاد کے بغیر ہی ہو گیا ہے تو جہاد کے اعلان کا کون سا جواز باقی رہ جاتا ہے؟</p> </blockquote> <p>مولانا محترم کی یہ بات کہ کسی قوم یا ملک کے خلاف جہاد تو بہرحال مسلمان حکومت ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے، ہمارے لیے باعثِ صد مسرت ہے۔ ہم اسے بھی غنیمت سمجھتے ہیں کہ موحودہ حالات میں مولانا نے اس حد تک تو تسلیم کیا کہ کسی ملک وقوم کے خلاف جہاد مسلمان حکومت ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اسی مسئلے میں ہے کہ اگر کبھی مسلمانوں پر کوئی بیرونی قوت اس طرح سے تسلط حاصل کر لے کہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اس کے آگے بالکل بے بس ہو جائے تو اس صورت میں عام مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ واضح رہے کہ ایسے حالات میں مولانا ہی کی بات سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ بیرونی طاقت کے خلاف اگر مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اپنی سلطنت کے دفاع کا انتظام کرنے کو آمادہ ہو تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی ہی کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد ہی اس بات کی مستحق ہو گی کہ اسے جہاد قرار دیا جائے۔ مزید برآں ایسے حالات میں نظمِ اجتماعی سے ہٹ کر، جتھہ بندی کی صورت میں کی جانے والی ہر جدوجہد، غلط قرار پائے گی۔ اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ مولانا کو ہماری اس بات سے اتفاق ہو گا، تاہم پھر بھی ہم یہ چاہیں گے کہ مولانا ہمارے اس خیال کی تصدیق یا تردید ضرور فرما دیں، تاکہ اس معاملے میں قارئین کے ذہن میں بھی کوئی شک باقی نہ رہے۔ چنانچہ ہمارے فہم کی حد تک، اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اس صورت سے متعلق ہے جب مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی، کسی بھی وجہ سے، بیرونی طاقت کے تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے سے قاصر ہو۔ مولانا کے نزدیک اس صورت میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنی سلطنت کے دفاع کی جدوجہد کرنی چاہیے، خواہ یہ جدوجہد غیر منظم جتھہ بندی ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ اس ضمن میں جو منظم یا غیر منظم جدوجہد بھی مسلمانوں کی طرف سے کی جائے گی، وہ مولانا محترم کے نزدیک ’جہاد ‘ہی قرار پائے گی۔</p> <p>مولانا محترم نے اپنی بات کی وضاحت میں فلسطین، برِ صغیر پاک وہند، افغانستان اور الجزائرکی کامیاب جدوجہدِ آزادی اور دمشق کے عوام میں تاتاریوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ جہاد کی روح پھونکنے کے معاملے میں ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہم اپنا نقطہء نظر بیان کرنے سے پہلے، تین باتوں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں: اول یہ کہ مولانا محترم نے جتنے واقعات کا حوالہ دیا ہے، ان سب کی مولانا محترم کی رائے سے مختلف توجیہ نہ صرف یہ کہ کی جا سکتی بلکہ کی گئی ہے۔ دوم یہ کہ کسی جدوجہد کی اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی، اس جدوجہد کے شریعتِ اسلامی کے مطابق ہونے کی دلیل نہیں ہوتی اور نہ کسی جدوجہد کی اپنے مقصد کے حصول میں ناکامی اس کے خلافِ شریعت ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ اور سوم یہ کہ عام انسانوں کی بات بے شک مختلف ہو گی، مگر مولانا محترم جیسے اہلِ علم سے ہماری توقع یہی ہے کہ وہ اہلِ علم کے عمل سے شریعت اخذ کرنے کے بجائے، شریعت کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیں۔ اگر شریعتِ اسلامی کے بنیادی ماخذوں، یعنی قرآن و سنت، میں اس عمل کی بنیاد موجود ہے تو اسے شریعت کے مطابق اور اگر ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو بغیر کسی تردد کے اسے شریعت سے ہٹا ہوا قرار دیں۔ ’جہاد‘ یا ’قتال‘ شریعتِ اسلامی کی اصطلاحات ہیں۔ ان اصطلاحات کی تعریف یا ان کے بارے میں تفصیلی قانون سازی کا ماخذ اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبروں کا اسوہ اور ان کی جاری کردہ سنت ہی ہو سکتی ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی جدوجہد ہو یا برِ صغیر پاک و ہند، افغانستان، الجزائریا دمشق کے مسلمانوں کی، یہ جدوجہد جہاد و قتال کی تعریف اور قانون سازی کا ماخذ نہیں، بلکہ خود اس بات کی محتاج ہے کہ شریعت کے بنیادی ماخذوں کی روشنی میں اس کی صحت یا عدمِ صحت کا فیصلہ کیا جائے۔ مولانا یقیناًاس بات سے اتفاق کریں گے کہ شریعتِ اسلامی مسلمانوں کے عمل سے نہیں، بلکہ مسلمانوں کا عمل شریعتِ اسلامی سے ماخوذ ہوناچاہیے۔ وہ یقیناًاس بات کو تسلیم کریں گے کہ شریعتِ اسلامی کے فہم کی اہمیت اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے ہر قسم کے جذبات و تعصبات سے بالا ہو کر پوری دیانت داری کے ساتھ پہلے سمجھ لیا جائے اور پھر پورے جذبے کے ساتھ اس پر عمل کیا جائے۔ جذبات و تعصبات سے الگ ہو کر غور کرنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بات کو اصولی سطح پر سمجھ لیا جائے۔ اس کے بعد بھی اگر ضروری محسوس ہو تو فلسطین، برصغیر پاک و ہند، افغانستان، الجزائر اور دمشق کے مسلمانوں کی جدوجہد کو شریعت سے مستنبط اصولی رہنمائی کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔</p> <p>اس وضاحت کے بعد، اب آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کی کتاب قرآنِ مجید اور اس کے پیغمبروں کا اسوہ اور ان کی جاری کردہ سنت زیرِ غور مسئلے میں ہمیں کیا رہنمائی دیتے ہیں:</p> <p>سب سے پہلی صورت جو ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان متفق علیہ ہے، یہ ہے کہ کسی قوم و ملک کے خلاف جارحانہ اقدام اسی صورت میں ’جہاد‘ کہلانے کا مستحق ہو گا، جب یہ مسلمانوں کی کسی حکومت کی طرف سے ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھی منظم حکومت کی طرف سے ہونا، اس اقدام کے جواز کی شرائط میں سے ایک شرط ہی ہے۔ بات یوں نہیں ہے کہ مسلمانوں کی منظم حکومت کی طرف سے کیا گیا ہر اقدام ’جہاد‘ ہی ہوتا ہے، بلکہ یوں ہے کہ ’جہاد‘ صرف مسلمانوں کی منظم حکومت ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔</p> <p>دوسری صورت، جس کا اگرچہ مولانا محترم نے اپنی تحریر میں ذکر تو نہیں کیا، تاہم ان کی باتوں سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ اس میں بھی ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ جب کسی مسلمان ریاست کے خلاف جارحانہ اقدام کیا جائے اور اس کا نظمِ اجتماعی اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہو اور اس مقصد کے لیے جارح قوم کے خلاف میدانِ جنگ میں اترے، تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کی منظم حکومت ہی کی طرف سے کیا گیا اقدام ’جہاد‘ کہلانے کا مستحق ہو گا۔ اس صورت میں تمام مسلمانوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنے نظمِ اجتماعی ہی کے تحت منظم طریقے سے اپنے ملک و قوم کا دفاع کریں اور اس سے الگ ہو کر کسی خلفشار کا باعث نہ بنیں۔ یہ صورت، اگر غور کیجیے، تو پہلی صورت ہی کی ایک فرع ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ معاملہ خواہ قوم کے دفاع کا ہویا کسی جائز مقصد سے کسی دوسری قوم کے خلاف جارحانہ اقدام کا، دونوں ہی صورتوں میں یہ چونکہ مسلمانوں کی اجتماعیت سے متعلق ہے، لہٰذا اس کے انتظام کی ذمہ داری اصلاً ان کی اجتماعیت ہی پر ہے۔ اس طرح کے موقعوں پر عام مسلمانوں کو دین و شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ملک و قوم کی خدمت کے لیے پیش کر دیں، اپنے حکمرانوں (اولوالامر) کی اطاعت کریں اور ہر حال میں اپنے نظمِ اجتماعی (الجماعۃ) کے ساتھ منسلک رہیں۔ ان کا نظمِ اجتماعی انھیں جس محاذ پر فائز کرے، وہ وہیں سینہ سپر ہوں، ان کا نظمِ اجتماعی جب انھیں پیش قدمی کا حکم دے تو اسی موقع پر وہ پیش قدمی کریں اور اگر کبھی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا اجتماعی نظم انھیں دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دینے کا حکم دے، تو وہ اپنے ملک و قوم ہی کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے، اس ذلت کو بھی برداشت کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔</p> <p>منظم اجتماعی دفاع و اقدام کی ان دو واضح صورتوں کے علاوہ اندرونی یا بیرونی قوتوں کے جبر و استبداد کی بہت سی دوسری صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان اختلاف اصلاً انھی دوسری صورتوں سے متعلق ہے۔ مولانا محترم کے نزدیک، اوپر دی ہوئی دونوں صورتوں کو چھوڑ کر، جبر و استبداد کی باقی صورتوں میں مسلمانوں کو گروہوں، جتھوں اور ٹولوں کی صورت میں اپنا دفاع اور آزادی کی جدوجہد کرنی چاہیے اور اس صورتِ حال میں یہی جدوجہد ’جہاد‘ قرار پائے گی۔ ہمارے نزدیک، مولانا محترم کی یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک، ایسی صورتِ حال میں بھی دین و شریعت کی ہدایت وہی ہے، جو پہلی دو صورتوں میں ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان متفق علیہ ہے۔ شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ دین و شریعت کی رو سے جہاد و قتال کی غیر منظم جدوجہد، بالعموم، جن ہمہ گیر اخلاقی و اجتماعی خرابیوں کو جنم دیتی ہے، شریعتِ اسلامی انھیں کسی بڑی سے بڑی منفعت کے عوض بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ قرآنِ مجید اور انبیاے کرام کی معلوم تاریخ سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جبر و استبداد کی قوتوں کے خلاف، خواہ یہ قوتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، اسی صورت میں تلوار اٹھانے کا حکم اور اس کی اجازت دی، جب مسلمان اپنی ایک خودمختار ریاست قائم کر چکے تھے۔ اس سے پہلے کسی صورت میں بھی انبیاے کرام کو کسی جابرانہ تسلط کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p> <p>جابرانہ تسلط میں حالات کی رعایت سے جو صورتیں پیدا ہوتی ہیں، وہ درجِ ذیل ہیں:</p> <p>۱۔ جہاں محکوم قوم کو اپنے مذہب و عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی حاصل ہو۔</p> <p>۲۔ جہاں محکوم قوم کو اپنے مذہب و عقیدے پر عمل کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو۔</p> <p>پہلی صورت میں جابرانہ تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا ہر محکوم قوم کا حق تو بے شک ہے، مگر یہ دین کا تقاضا نہیں ہے۔ چنانچہ اسی اصول پر حضرتِ مسیح علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت کے موقع پر اگرچہ بنی اسرائیل رومی سلطنت کے محکوم ہو چکے تھے، تاہم اللہ کے اس پیغمبر نے انھیں نہ کبھی رومی تسلط کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے کا مشورہ دیا اور نہ خود ہی ایسی کسی جدوجہد کی بنا ڈالی۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسے حالات میں آزادی کی جدوجہد کو دین میں مطلوب و مقصود کی حیثیت حاصل ہوتی، تو حضرتِ مسیح جیسے اولو العزم پیغمبر سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ دین کے اس مطلوب و مقصود سے گریز کی راہ اختیار کرتے۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسی صورتِ حال میں آزادی کی جدوجہد دین و شریعت کا تقاضا نہیں ہے۔ اس بات سے بہرحال اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ایسی صورتِ حال میں بھی آزادی کی جدوجہد ہر قوم کا فطری حق ہے۔ وہ یقیناًیہ حق رکھتی ہے کہ اس جابرانہ تسلط سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد کرے۔ مگر چونکہ یہ جدوجہد دین کا تقاضا نہیں ہے، اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ اسے نہ صرف پرامن بنیادوں ہی پر استوار کیا جائے، بلکہ اس بات کا بھی پوری طرح سے اہتمام کیا جائے کہ مسلمانوں کے کسی اقدام کی وجہ سے کسی مسلم یا غیر مسلم کا خون نہ بہنے پائے۔ اس جدوجہد میں مسلمانوں کے رہنماؤں کو یہ بات بہرحال فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دین و شریعت میں جان و مال کی حرمت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ انھیں ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے کسی اقدام کے نتیجے میں جان و مال کی یہ حرمت اگر ناحق پامال ہوئی، تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنے اس اقدام کے لیے اللہ کے حضور میں مسؤل قرار پا جائیں۔ جان و مال کی یہ حرمت اگر کسی فرد یا قوم کے معاملے میں ختم ہو سکتی ہے تو شریعت ہی کی دی ہوئی رہنمائی میں ختم ہو سکتی ہے۔ چنانچہ، ظاہر ہے کہ جبر و تسلط کی اس پہلی صورت میں اگر آزادی کی جدوجہد دین و شریعت کا تقاضا نہیں ہے تو پھر اس کے لیے کیے گئے کسی جارحانہ اقدام کو نہ ’جہاد‘ قرار دیا جا سکتا اور نہ اس راہ میں لی گئی کسی جان کو جائز ہی ٹھیرایا جا سکتا ہے۔</p> <p>دوسری صورت وہ ہے کہ جب کسی دوسری قوم پر جابرانہ تسلط ایسی صورت اختیار کر لے کہ محکوم قوم کے باشندوں کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو۔ اس صورت میں محکوم قوم کے امکانات کے لحاظ سے دو ضمنی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں:</p> <p>۱۔ جہاں محکوم قوم کے لیے جابرانہ تسلط کے علاقے سے ہجرت کر جانے کی راہ موجود ہو۔</p> <p>۲۔ جہاں محکوم قوم کے لیے ہجرت کی راہ مسدود ہو۔</p> <p>اگر مذہبی جبر اور استبداد کے دور میں لوگوں کے لیے اپنے علاقے سے ہجرت کر جانے اور کسی دوسرے علاقے میں اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی راہ کھلی ہو، تو اس صورت میں دین کا حکم یہ ہے کہ لوگ اللہ کے دین پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کی خاطر، اپنے ملک اور اپنی قوم کو اللہ کے لیے چھوڑ دیں۔ قرآنِ مجید کے مطابق ایسے حالات میں ہجرت نہ کرنا اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو مذہبی جبر اور استبداد کا نشانہ بنے رہنے دینا جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْ فِیْمَ کُنْتُمْ، قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْآ اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَا جِرُوْا فِیْھَا فَاُولٰٓءِکَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا۔ (النساء ۴: ۹۷)</annotation></p> <p>”بے شک، جن لوگوں کو فرشتے اس حال میں موت دیں گے کہ وہ (ظلم و جبر کے باوجود یہیں بیٹھے) اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہوں گے، تو وہ ان سے پوچھیں گے: ’تم کہاں پڑے رہے؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم اپنی زمین میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تھے‘۔ فرشتے ان سے پوچھیں گے: ’کیا اللہ کی زمین اتنی وسیع نہ تھی کی تم اس میں (کہیں اور) ہجرت کر جاتے؟‘ چنانچہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔“</p> </blockquote> <p>ہجرت کی یہی صورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگیوں میں پیش آئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ ہجرت مصر سے صحراے سینا کی طرف تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت نے یثرب کو مدینۃ النبی بننے کا شرف بخشا۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس ہجرت سے پہلے نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثار ساتھیوں کو جبر وا ستبداد کے خلاف کسی جہاد کے لیے منظم کیا اور نہ حضرت موسیٰ ہی نے اس طرح کی کسی جہادی کارروائی کی روح اپنی قوم میں پھونکی۔ اللہ تعالیٰ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا اسوہ یہی ہے کہ ظلم و استبداد کی بدترین تاریکیوں میں بھی انھوں نے فدائین کے جتھے، گروہ اور ٹولے تشکیل دینے کے بجائے، صبر واستقامت سے دار الہجرت کے میسر آنے کا انتظار کیا اور اس وقت تک ظلم و جبر کے خاتمے کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی جب تک اللہ کی زمین پر انھیں ایک خود مختار ریاست کا اقتدار نہیں مل گیا۔</p> <p>اس کے برعکس، اگر ایسے حالات میں دارالہجرت میسر نہ ہو یا کسی اور وجہ سے ہجرت کرنے کی راہیں مسدود ہوں، تو اس صورت میں بھی قرآنِ مجید میں دو امکانات بیان ہوئے ہیں: اولاًیہ کہ ان حالات میں ظلم و استبداد کا نشانہ بنے ہوئے یہ لوگ کسی منظم اسلامی ریاست کو اپنی مدد کے لیے پکاریں۔ ایسے حالات میں قرآنِ مجید نے اس اسلامی ریاست کو، جسے لوگ مدد کے لیے پکاریں، یہ حکم دیا ہے کہ اگر اس کے لیے اس جابرانہ اور استبدادی حکومت کے خلاف ان مسلمانوں کی مدد کرنی ممکن ہو تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ یہ مدد کرے، الا یہ کہ جس قوم کے خلاف اسے مدد کرنے کے لیے پکارا جا رہا ہے، اس کے اور مسلمانوں کی اس ریاست کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِہِمْ مِّنْ شَیْ ءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلاَّ عَلٰی قوَمٍْ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (الانفال ۸: ۷۲)</annotation></p> <p>”وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، مگر جنھوں نے ہجرت نہیں کی، تم پر ان کی اس وقت تک کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے جب تک وہ ہجرت کر کے تمھارے پاس نہ آ جائیں۔ البتہ، وہ اگر تمھیں دین کے نام پر مدد کے لیے پکاریں، تو تم پر ان کی مدد کرنے کی ذمہ داری ہے، الا یہ کہ جس قوم کے خلاف وہ تمھیں مدد کے لیے پکاریں، اس کے اور تمھارے درمیان کوئی معاہدہ موجود ہو۔ اور یاد رکھو، جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“</p> </blockquote> <p>پھر ایک اور مقام پر وقت کی اسلامی ریاست کو ان مجبور مسلمانوں کی مدد پر ابھارتے ہوئے فرمایا:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیّاً وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا۔(النساء ۴: ۷۵)</annotation></p> <p>”اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار، ہمیں اس ظالم باشندوں کی بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہمدرد پیدا کر اور ہمارے لیے اپنے پاس سے مددگار کھڑے کر۔“</p> </blockquote> <p>ثانیاً یہ کہ ظلم و استبداد کے ان حالات میں ان کے لیے مسلمانوں کی کسی منظم ریاست سے مدد طلب کرنے یا کسی ریاست کے ان کی مدد کو آنے کا امکان موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ لوگ صبر و استقامت کے ساتھ ان حالات کو برداشت کریں، یہاں تک کہ آں سوے افلاک سے ان کی آزمایش کے خاتمے کا فیصلہ صادر ہو جائے۔ قرآنِ مجید میں حضرت شعیب علیہ الصلاۃ والسلام کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے ان کے حوالے سے فرمایا ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَاِنْ کَانَ طَآءِفَۃٌ مِّنْکُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَطَآءِفَۃٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَ ھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ۔(الاعراف ۷: ۸۷)</annotation></p> <p>”اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس بات پر ایمان لے آئے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ اسے ماننے سے انکار کرے، تو (ایمان لانے والوں کو چاہیے کہ) وہ صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اور یقیناً اللہ بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔“</p> </blockquote> <p>مولانا حمید الدین فراہی اسی صورتِ حال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>... اپنے ملک کے اندر بغیر ہجرت کے جہاد جائز نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت اور ہجرت سے متعلق دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد اگر صاحبِ جمیعت اور صاحبِ اقتدار امیر کی طرف سے نہ ہو تو وہ محض شورش و بد امنی اور فتنہ و فساد ہے۔ (مجموعہء تفاسیرِ فراہی، ص۵۶)</p> </blockquote> <p>قرآنِ مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاے کرام کے حوالے سے، ظلم و استبداد کی مذکورہ صورتیں اور ان صورتوں کا مقابلہ کرنے میں اللہ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا اسوہ بیان ہوا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا محترم پیغمبروں کے اس اسوہ سے جہاد و قتال کے احکام کا استنباط کرنے کے بجائے، مسلمان قوموں کی تحریک ہاے آزادی ہی سے جہاد کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام اخذ کرنے پر کیوں مصر ہیں۔ ہم البتہ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جب کبھی غیر مقتدر گروہوں کی طرف سے تلوار اٹھائی گئی ہے، تو اس اقدام نے آزادی کی تحریک کو کوئی فائدہ پہنچایا ہو یا نہ پہنچایا ہو، ظلم و جبر کی قوتوں کو بے گناہ شہریوں، عورتوں اور بچوں پر ظلم و جبر کے مزید پہاڑ گرانے کا جواز ضرور فراہم کیا ہے۔ لوگ خواہ اس قسم کی قتل و غارت کو جبر و استبداد کی بڑھتی ہوئی لہریں قرار دے کر اپنے دلوں کو کتنی ہی تسلی دیتے رہیں، ہمیں یہ بات بہرحال فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دین و شریعت سے اعراض کر کے، اپنی بے تدبیری اور بے حکمتی کے ساتھ امن و امان کی فضا خراب کر کے ظلم و جبر کو اخلاقی جواز فراہم کرنا، کسی حال میں بھی ظلم و جبر کا ساتھ دینے سے کم نہیں ہے۔</p> <heading>فتووں پر پابندی</heading> <p>اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِگرامی نے کہا ہے:</p> <blockquote> <p>فتووں کا بعض اوقات انتہائی غلط استعمال کیاجاتا ہے۔ اس لیے فتویٰ بازی کو اسلام کی روشنی میں ریاستی قوانین کے تابع بنانا چاہیے اور مولویوں اور فتووں کے خلاف بنگلہ دیش میں (عدالت کا) فیصلہ صدی کا بہترین فیصلہ ہے۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم استاذِ گرامی کی اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>جہاں تک اس شکایت کا تعلق ہے کہ ہمارے ہاں بعض فتووں کا انتہائی غلط استعمال ہوتا ہے ہمیں اس سے اتفاق ہے۔ ان فتووں کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، وہ بھی ہمارے سامنے ہیں اور ان خرابیوں کی اصلاح کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی قابلِ عمل فارمولا سامنے آتا ہے تو ہمیں اس سے بھی اختلاف نہیں ہو گا۔ مگر کسی چیز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سرے سے اس کے وجود کو ختم کر دینے کی تجویز ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ چونکہ ہماری عدالتوں میں رشوت اور سفارش اس قدر عام ہو گئی ہے کہ اکثر فیصلے غلط ہونے لگے ہیں اور عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اس لیے ان عدالتوں میں بیٹھنے والے ججوں سے فیصلے دینے کا اختیار ہی واپس لے لیا جائے۔ یہ بات نظری طور پر تو کسی بحث و مباحثے کا خوب صورت عنوان بن سکتی ہے، مگر عملی میدان میں اسے بروے کار لانا کس طرح ممکن ہے؟...</p> <p>اور ”فتویٰ“ تو کہتے ہی کسی مسئلے پر غیر سرکاری ”رائے“ کو ہیں کیونکہ کسی مسئلہ پر حکومت کا کوئی انتظامی افسر جو فیصلہ دے گا، وہ ”حکم“ کہلائے گااور عدالت فیصلہ صادر کرے گی تو اسے ”قضا“ کہا جائے گا اور ان دونوں سے ہٹ کر اگر کوئی صاحبِ علم کسی مسئلے کے بارے میں شرعی طور پر حتمی رائے دے گاتو وہ ”فتویٰ“ کہلائے گا۔ امت کا تعامل شروع سے اسی پر چلا آ رہا ہے کہ حکام حکم دیتے ہیں، قاضی حضرات عدالتی فیصلے دیتے ہیں اور علماے کرام فتوی صادر کرتے ہیں۔</p> </blockquote> <p>ہم مولانا محترم کو یقین دلاتے ہیں کہ استاذِگرامی کی مذکورہ رائے بھی اسی قسم کے فتووں سے متعلق ہے، جسے مولانا محترم نے بھی ’فتووں کا انتہائی غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا محترم کسی نامعلوم وجہ سے اس ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے بھی کسی ’غیر سرکاری‘ فارمولے ہی کے قائل ہیں. جبکہ ہمارے استاذ کے نزدیک فتووں کا یہ ’انتہائی غلط استعمال‘ بالعموم، جن مزید ’انتہائی غلط‘ نتائج و عواقب کا باعث بنتا اور بن سکتا ہے، اس کے پیشِ نظراس کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح پرسخت قانون سازی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔</p> <p>ہم یہاں یہ ضروری محسوس کرتے ہیں کہ قارئین پر صحیح اور غلط قسم کے فتووں کا فرق واضح کر دیں۔ اس کے بعد قارئین خود یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ موجودہ دور کے علما میں فتووں کا صحیح اور ’انتہائی غلط‘ استعمال کس تناسب سے ہوتا ہے۔</p> <p>اس میں شبہ نہیں کہ علماے کرام کی سب سے بڑی اور اہم ترین ذمہ داری، عوام و خواص کے سامنے دینِ متین کی شرح و وضاحت کرنا اور مختلف صورتوں اور احوال کے لیے دین و شریعت کا فیصلہ ان کے سامنے بیان کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ علما ہی کا کام ہے کہ وہ نکاح و طلاق کے بارے میں شریعت کے احکام کی وضاحت کریں، یہ انھی کا مقام ہے کہ وہ قتل و سرقہ، قذف و زنا اور ارتداد وغیرہ کے حوالے سے شریعت کے احکام بیان کریں۔ اس میں شبہ نہیں کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اس طرح کے تمام احکام کی شرح و وضاحت کا کام علما ہی کو زیب دیتا ہے اور وہی اس کے کرنے کے اہل ہیں۔ علما کے اس کام پر پابندی لگانا تو درکنار، اس کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنا بھی بالکل ممنوع قرار پانا چاہیے۔ تاہم، ریاستی سطح پر قانون سازی اور اس قانون سازی کے مطابق مقدمات کے فیصلے کرنے کا معاملہ محض مختلف علما کے رائے دے دینے ہی سے پورا نہیں ہو جاتا۔ اس کے آگے بھی کچھ اہم مراحل ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں، سب سے پہلے ملک کی پارلیمان کو مختلف علما کی رائے سامنے رکھتے اور ان کے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے، ملکی سطح پر قانون سازی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، ملکی سطح پر قانون سازی کرتے ہوئے تمام مکاتبِ فکر اور علما کی رائے کو سامنے تو رکھا جا سکتا ہے، مگر ان سب کی رائے کو مانا نہیں جاسکتا۔ رائے بہرحال وہی نافذالعمل ہوگی اور ملکی اور ریاستی قانون کا حصہ بنے گی، جو پارلیمان کے نمائندوں کے نزدیک زیادہ صائب اور قابلِ عمل سمجھی جائے گی۔ قانون سازی کے اس عمل کے بعد بھی علما کا یہ حق تو بے شک برقرار رہتا ہے کہ وہ قانون و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے، اپنی بات کو مزید واضح کرنے، اس کے حق میں مزید دلائل فراہم کرنے اور پارلیمان کے نمائندوں کو اس پر قائل کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں۔ لیکن ریاست کا نظم یہ تقاضا بہرحال کرتا ہے کہ اس میں جس رائے کے مطابق بھی قانون سازی کر دی گئی ہو، اس میں بسنے والے تمام لوگ عوام خواص اور علما اس قانون کا پوری طرح سے احترام کریں اور اس کے خلاف انارکی اور قانون شکنی کی فضا پیدا کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ پارلیمان کے اختیار کردہ قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش ہونے والے مقدمات کے فیصلے کرنے کا ہے۔ یہ مرحلہ، دراصل، قانون کے اطلاق کا مرحلہ ہے۔ اس میں عدالت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ فریقین کی رائے سن کر، ملکی پارلیمان کی قانون سازی کی روشنی میں حق و انصاف پر مبنی فیصلہ صادر کرے۔</p> <p>جن فتووں کو ہم ’انتہائی غلط‘ سمجھتے اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو جن کے شر و فساد سے بچانے کے لیے قانون سازی کو نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں ضروری سمجھتے ہیں، ان کا تعلق دراصل قانون سازی اور اس کے بعد کے مراحل سے ہے۔</p> <p>چنانچہ، مثال کے طور پر، یہ بے شک علماے دین کا کام ہے کہ وہ دین و شریعت کے اپنے اپنے فہم کے مطابق لوگوں کو یہ بتائیں کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے، اور اس میں غلطی کی صورت میں کون کون سے احکام مترتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی علما ہی کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ ان کے فہم کے مطابق کن کن صورتوں میں طلاق واقع ہو جاتی اور کن کن صورتوں میں اس کے وقوع کے خلاف فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ریاستی سطح پر طلاق کے بارے میں قانون سازی، ہما شما کی رائے پر نہیں بلکہ پارلیمان کے نمائندوں کی اکثریت کے کسی ایک رائے کے قائل ہو جانے پر منحصر ہو گی۔ پارلیمان میں طے پا جانے والی یہ رائے بعض علما کی رائے کے خلاف تو ہو سکتی ہے، مگر ریاست میں واجب الاطاعت قانون کی حیثیت سے اسی کو نافذ کیا جائے گا اور، علما سمیت، تمام لوگوں پر اس کی پابندی کرنی لازم ہو گی۔ مزید برآں، یہ فیصلہ کہ زید یا بکر کے کسی خاص اقدام سے اس کی طلاق واقع ہو گئی یا اس کا نکاح فسخ ہو گیا ہے، ایک عدالتی فیصلہ ہے، جس کا دین کی شرح و وضاحت اور علماے کرام کے دائرہء کار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر یہ فیصلے بھی علماے کرام ہی کو کرنے ہیں، تو پھر مولانا محترم ہی ہمیں سمجھا دیں کہ عدالتوں کے قیام اور ان میں مقدمات کو لانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔</p> <p>اسی طرح، یہ علماے دین ہی کا کام ہے کہ وہ اپنے نقطہء نظر کے مطابق ارتداد کی صورتوں اور ان کی مجوزہ سزاؤں کو پارلیمان سے منوانے کی کوشش کریں۔ تاہم یہ ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کے خلاف، پارلیمان کے نمائندوں کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیں۔ مزید برآں، کسی خاص شخص کو مرتد قرار دینا بھی، چونکہ قانون کے اطلاق ہی کا مسئلہ ہے، اس لیے یہ بھی علما کے نہیں بلکہ عدالت کے دائرے کی بات ہے، جو اسے مقدمے کے گواہوں کے بیانات، ان پر جرح اور ملزم کو صفائی کا پورا پورا موقع دے دینے کے بعد انصاف کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی کرنا چاہیے۔ یہی معاملہ کسی فرد یا گروہ کو کافر یا واجب القتل قرار دینے اور اس سے ملتے جلتے معاملات کا ہے۔ چنانچہ، فتووں کے ’انتہائی غلط استعمال‘ ہی کی ایک مثال بنگلہ دیشی عدالت کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد اگلے ہی روز سامنے آئی، جب بنگلہ دیشی علما کے ایک گروہ نے فیصلہ کرنے والے جج کو ’مرتد‘ اور، ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں، واجب القتل قرار دے دیا۔ مولانا محترم ہی ہمیں یہ بتائیں کہ اگر اس قسم کے فتوے کو سن کر کوئی مذہبی انتہا پسند فیصلہ کرنے والے جج کو، صفائی کا موقع دیے یا اس کی بات کو سمجھے بغیراپنے طور پر خدا نخواستہ، قتل کر دے تو کیا ریاست کو ایسے انتہا پسندوں کے ساتھ ساتھ فتووں کا یہ ’انتہائی غلط استعمال‘ کرنے والے علما کو کوئی سزا نہیں دینی چاہیے؟ مولانا محترم کا جواب یقیناًنفی ہی میں ہو گا، کیونکہ اس معاملے میں ان کا ’فتویٰ‘ تو یہی ہے کہ فتووں کے اس ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے بھی اگر کوئی اقدام ہونا چاہیے، تو وہ ’غیر سرکاری سطح‘ ہی پر ہونا چاہیے۔</p> <p>مولانا کی مذکورہ رائے کے برعکس، ہمارے نزدیک، فتووں کے اس طرح کے ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے ’سرکاری سطح پر‘ مناسب قانون سازی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔</p> <p>اس ضمن میں علما صحابہ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ انھیں تقسیمِ میراث کے معاملے میں عول و رد کے قانون سے اتفاق نہیں تھا۔ تاہم ان کا یہ اختلاف ہمیشہ جائز حدود کے اندر ہی رہا۔ وہ اپنے اس اختلاف کا ذکر اپنے شاگردوں میں تو کرتے تھے اور بے شک یہ ان کا فطری حق بھی تھا، مگر انھوں نے نہ اپنے اس اختلاف کی وجہ سے قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی، نہ اس کی بنیاد پر حکومت کے خلاف پراپگینڈہ کیا اور نہ ریاست میں تقسیمِ وراثت کے معاملے میں اپنے فتوے جاری کیے۔</p> <p>علماے کرام کے فتوے بھی جب تک ان اخلاقی اور قانونی حدود کے اندر رہیں، اس وقت تک وہ یقیناًخیر و برکت ہی کا باعث بنیں گے۔ مگر ان حدود سے باہرپارلیمان اور عدالتوں کے کام میں مداخلت کرنے والے فتووں پر پابندی نہ صرف مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت کے لیے ضروری ہے، بلکہ منظم اجتماعی زندگی کی تشکیل کے لیے ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔</p> <p>اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو دنیا اور آخرت میں محفوظ و مامون رکھے۔</p> <p /> </section> </body>
0006.xml
<meta> <title>برے خیالات اور وسوسہ</title> <author> <name>طالب محسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq March 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7355b7dd1138372dbc47?articleId=5adb7427b7dd1138372dd0cf&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1356</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta>
برے خیالات اور وسوسہ
1,356
Yes
<body> <section> <p>(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث:۷۳۔ ۷۴)</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن ابن عباس: أن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم جاء ہ رجل، فقال: إنی أحدث نفسی بالشئ لأن أکون حممۃ أحب إلی من أن أتکلم بہ۔ قال: الحمد ﷲ الذی رد أمرہ إلی الوسوسۃ۔</annotation>”حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں اپنے آپ سے ایسی باتیں کرتا ہوں کہ میں ان کو بیان کرنے سے کوئلہ ہونے کو زیادہ پسند کروں گا۔ آپ نے فرمایا: اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس کے معاملے کو وسوسے کا معاملہ بنا دیا۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">حممۃ</annotation>: کوئلہ، راکھ، ہر وہ چیز جو آگ میں جل چکی ہو۔<annotation lang="ar">رد أمرہ </annotation>: لفظی مطلب ہے: اس نے اس کے معاملے کو لوٹا دیا۔ یہاں اس سے مراد ایک معاملے کو دوسری صورت دے دینا ہے۔</p> <heading>متون</heading> <p>یہ روایت مختلف الفاظ میں ملتی ہے، لیکن ان متون میں کوئی فرق ایسا نہیں ہے جو کسی بڑے معنوی فرق پر دلالت کرتا ہو۔ مثلاً بعض روایات میں ’<annotation lang="ar">إنی أحدث نفسی بالشی‘ کے بجائے ’إنا أحدنا یجد فی نفسہ یعرض بالشی</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">إنی لأجد فی صدری الشء</annotation>‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ لیکن یہ تینوں جملے ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں۔ البتہ ایک روایت میں ’الشء‘ کے ساتھ ’من أمر الرب‘ کی وضاحت بھی بیان ہوئی ہے۔ یہ وضاحت کسی راوی کا اضافہ بھی ہو سکتی ہے۔ بعض روایات میں ’<annotation lang="ar">لأن أکون حممۃ</annotation>‘ کے بجائے ’<annotation lang="ar">لأن أخر من السماء</annotation>‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ دوسرا جملہ بھی شدت ندامت ہی کو ظاہر کرتا ہے۔ سوال کے ساتھ ساتھ حضور کا جواب بھی مختلف الفاظ میں روایت ہوا ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’<annotation lang="ar">الحمد ﷲ</annotation>‘ کا کلمہ بولنے سے پہلے اپنی مسرت کو ’<annotation lang="ar">اﷲ اکبر، اﷲ اکبر</annotation>‘ کہہ کر ظاہر کیا تھا۔ اس تفصیلی جواب کے برعکس ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ آپ نے صرف ’ذاک صریح الایمان‘ کے الفاظ کہہ کر سائل کے صادق جذبے کی تصویب کی تھی۔ اس کے برعکس ایک روایت میں حضور کے جواب کے الفاظ یہ ہیں:’<annotation lang="ar">إن الشیطان قد أیس من أن یعبد بأرضی ھذہ و لکنہ قد رضی بالمحقرات من أعمالکم</annotation>‘، (شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ اس سر زمین میں اس کی پوجا کی جائے گی۔ البتہ، وہ تم سے چھوٹے گناہوں کے ارتکاب کے معاملے میں مطمئن ہے۔) یہ تمام جوابات بھی مختلف اسالیب میں ایک ہی حقیقت کا بیان ہیں۔ کچھ روایتوں میں ’<annotation lang="ar">ردأمرہ</annotation>‘ کی جگہ ’<annotation lang="ar">ردکیدہ</annotation>‘ کی ترکیب مروی ہے۔ ’<annotation lang="ar">کید</annotation>‘ کا لفظ ’<annotation lang="ar">امر</annotation>‘ کے مقابلے میں شیطانی در اندازی کے لیے زیادہ موزوں ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>اس روایت میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کی سوچ اسے بسا اوقات انتہائی پر خطر وادیوں میں لے جاتی ہے۔ وہ ایسی باتیں سوچنے لگ جاتا ہے جنھیں بیان کرنا اسے بہت ہی ناگوار گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس پر آسمان گر جائے یا وہ جل کر راکھ ہو جائے، لیکن اس کی اس سوچ سے کوئی آگاہ نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والا یہ سائل کسی ایسی ہی سوچ میں مبتلا ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس نے نے آپ کے سامنے بھی اپنی سوچ بیان نہیں کی۔ صرف ایک سچے اور مخلص مؤمن کی طرح اپنی پریشانی بیان کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سائل کی الجھن یہ تھی کہ کہیں اس طرح کی سوچ پر اس کی گرفت تو نہیں ہو گی۔ یعنی وہ کسی گناہ کا مرتکب تو نہیں ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس روایت کے ایک متن میں یہ تصریح ہو گئی ہے کہ اس کی سوچ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں تھی، لیکن اس تحدید کی کوئی اصولی اہمیت نہیں ہے۔ غلط، پر خطر اور بری سوچ کا دائرہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس کی صفات، اس کے سنن، قانونِ آزمایش، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، شخصیت، ان کی دی ہوئی تعلیمات، یعنی عقائد، شریعت اور اس سے آگے اخلاقی رویوں ہر ہر چیز پر محیط ہے۔ شیطان دین کی ہر چیز کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا اور آدمی کے ایمان وعمل کو متزلزل کرنے کے درپے رہتا ہے۔ چنانچہ بندۂ مؤمن کا اپنی سوچ کے بارے میں حساس اور بیدا رہنا اس کے ایمان اور عمل کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس روایت میں دوسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ اس طرح کی سوچ پر گرفت کی نوعیت کیا ہے۔ سائل نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسے اپنی یہ سوچ بہت ناگوار گزری ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس سوچ کی اپنی ذات کے ساتھ نسبت کے ظاہر ہونے کو بھی کسی حال میں پسند نہیں کرے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پریشانی اور پشیمانی کی اس صورت کو دیکھ کر یک گونہ مسرت کا اظہار کیا ہے۔ اور اس کے اطمینان کے لیے یہ واضح فرما دیا ہے کہ اگر آدمی ذہن میں آنے والے غلط خیالات پر اس طرح پریشان اور پشیمان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سوچ کے مضر اثرات سے بچا لیتے ہیں۔ یہ سوچ جہاں پیدا ہوتی ہے وہیں مرجھا کر مر جاتی ہے۔ یعنی ایمان و عمل کی خرابی کی صورت میں کوئی برگ و بار لائے بغیر اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب یہ معاملہ ہو تو یہ سوچ محض وسوسہ ہے اور اس پر کوئی گرفت نہیں ہو گی۔ شارحین کے سامنے روایت کے جملے ’رد أمرہ‘ کے بارے میں یہ سوال ہے کہ اس میں وارد ترکیب ’أمرہ‘، کا مرجع کیا ہے۔ یعنی ”اس کے معاملے“ سے شیطان کا معاملہ مرادہے یا اشارہ بندۂ مومن کے معاملے کی طرف ہے۔ اوپر بیان کردہ تصریح سے واضح ہے کہ اس سے اشارہ بندۂ مومن ہی کی طرف ہے۔ اس روایت سے نکتے کی بات یہ سامنے آتی ہے کہ شیاطین نفسِ انسانی میں مختلف قسم کے خیا لات اور خواہشات کے وجود پذیر ہونے کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ بندۂ مؤمن اگر اپنی باگ ان کے ہاتھ میں دے دے تو اس کا نتیجہ اس کے ایمان میں خرابی یا عمل میں برائی کی صورت میں نکلے گا۔ یہ چیز اسے گناہ گار بنا دے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور اگر وہ ان خیالات یا خواہشات کو پوری طاقت سے رد کر دیتا ہے تو یہ چیز وسوسے سے آگے نہیں بڑھے گی اور وسوسے پر کوئی گرفت نہیں ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>ابوداؤد، کتاب الادب، باب ۱۱۸۔ احمد، عنِ ابن عباس۔ تفسیر ابنِ کثیر، ج۴ ص۵۷۶۔ صحیح ابنِ حبان، ج۱۴، ص۶۷۔ موارد الظمان، ج۱، ص۴۱۔ مسندِ ابی عوانہ، ج۱، ص۷۷۔ مسندِ عبد بن حمید، ج۱، ص۲۳۲۔ المعجم الکبیر، ج۱۰، ص۳۳۸۔ ج۲۰، ص۱۷۲، لا بن مندہ، ج۱، ص۴۷۱۔</p> </section> <section> <p>شیاطین اور فرشتے</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">و عن ابن مسعود، قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن للشیطان لمۃ بابن آدم و للملک لمۃ۔ فأما لمۃ الشیطان فایعاد بالشر و تکذیب بالحق۔ وأما لمۃ الملک فإیعاد بالخیر و تصدیق بالحق۔ فمن وجد ذلک فلیعلم أنہ من اﷲ فلیحمد اﷲ۔ و من وجد الأخری، فلیتعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم۔ ثم قرأ: (الشیطان یعدکم الفقر و یأمرکم بالفحشاء)۔</annotation></p> <p>”حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابنِ آدم (کے نفس میں) دخل اندازی کا موقع شیطان کو بھی حاصل ہے اور فرشتے کو بھی۔ شیطان کی در اندازی برے حالات کا ڈراوا (دے کر) حق کے جھٹلانے پر آمادہ کرنا ہے اور فرشتے کی دخل اندازی خیر کی توقع (پیدا کر کے) حق کی تصدیق پر ابھارنا ہے۔ جو اسے پائے، وہ یہ جان لے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ جو دوسری چیز پائے وہ اللہ تعالیٰ کی شیطان مردود سے پناہ مانگے۔ پھر آپ نے یہ آیہء کریمہ تلاوت کی: <annotation lang="ar">الشیطان یعدکم الفقر و یأمرکم بالفحشاء</annotation>۔ (شیطان تمھیں فقر سے ڈراتا اور بے حیائی کا کہتا ہے۔ اور اللہ تم سے اپنی جناب میں مغفرت اور عنایت کا وعدہ کرتا ہے اور وہ سمائی والا اور جاننے والا ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">إیعاد</annotation>: یہ ’<annotation lang="ar">وعد</annotation>‘ سے باب افعال میں مصدر ہے اس کا مطلب ہے دوسرے کو کسی بات کا یقین دلانا۔<annotation lang="ar">لمۃ</annotation>: ’<annotation lang="ar">لم</annotation>‘ کا مطلب ہے: اترنا، اثر انداز ہونا اور قریب ہونا۔ یہاں یہ شیطانی وساوس کے لیے آیا ہے۔</p> <heading>متون</heading> <p>مختلف کتابوں میں اس روایت کا ایک ہی متن روایت ہوا ہے۔ جو تھوڑے بہت فرق ہیں، ان کی نوعیت بھی محض لفظی فرق کی ہے۔ مثلاً ’<annotation lang="ar">بابن آدم</annotation>‘ کی جگہ ’<annotation lang="ar">من ابن آدم</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">فمن وجد ذلک</annotation>‘ کے بجائے ’<annotation lang="ar">فمن أحس من لمۃ الشیطان اور من لمۃ الملک</annotation>‘ کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔</p> <heading>معنی</heading> <p>بنیادی طور پر یہ روایت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جہاں شیاطین انسانوں کے نفوس میں برائیوں کے لیے تحریک پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں وہیں فرشتے نیکیوں کے لیے آمادگی کا جذبہ ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات ہم اس سے پہلے حدیث: ۶۷میں واضح کر چکے ہیں کہ یہ بات صرف حدیث ہی میں نہیں آئی ہے، بلکہ قرآنِ مجید میں بھی بیان ہو ئی ہے۔ چنانچہ یہ نکتہ تو ایک طے شدہ نکتہ ہے۔ اس روایت میں پیشِ نظر نکتہ شیطانی اور ملکوتی تاثیرات میں فرق اور نوعیت کو واضح کرنا ہے، تاکہ اہلِ ایمان شیطان کے اصل ہتھیار سے واقف ہو جائیں اور اس کا مقابلہ کرنا ان کے لیے آسان ہو۔ شیطان کا اصل حربہ یاس اور ناامیدی پیدا کر کے مستقبل کی ناکامیوں اور پیش آنے والی تکلیفوں کے خوف میں مبتلا کر کے برائی کے راستے پر لگانا ہے۔ اسی بات کو واضح کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’ایعاد بالشر‘ کی ترکیب اختیار کی ہے۔ انسانی فطرت صالح ہے۔ لہٰذا اس کا اصل میلان اعمالِ صالحہ ہی کی طرف ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے کہ انسان کو صحیح کاموں سے ہٹا کر برے کاموں کی طرف لگایا جائے۔ اس کے لیے ایک راستہ یہ ہے کہ آدمی کو مختلف اندیشوں میں مبتلا کر دیا جائے تاکہ وہ صحیح اصول پر فیصلہ کرنے کے بجائے مایوسی اور خوف کی حالت میں شیطان کا مطلوب فیصلہ کرے۔ شیطان کا دوسرا حربہ انسان کے جنسی جذبے کو بے راہ رو کرنا ہے۔ جنسی جذبے کو قابو کرنے میں حیا کے جذبے کو مؤثر ترین عامل کی حیثیت حاصل ہے۔ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس جذبے کو غیر مؤثر کر دے تاکہ انسان بے حیائی کی راہ پر چلنے میں عار محسوس نہ کرے اور نتیجۃً معاشرے میں فحاشی پھیل جائے۔ فرشتے اس کے برعکس انسان کو امید دلاتے ہیں۔ اسے خدا کی رحمت اور مغفرت پانے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ امید آدمی کی مثبت سرگرمیوں کا منبع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے ناامیدی کی کیفیت پیدا کرنے کے بجائے آدمی کی توجہ خدا کی رحمتوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ مایوسی کے نتیجے میں آدمی کفر کی راہ اختیار کرتا اور خدا کی رحمت کے بھروسے پر آدمی حق کو اختیار کرتا اور اس کے نتیجے میں آنے والی مشکلات اور مصیبتوں کو دیکھ کر اس کے قدم متزلزل نہیں ہوتے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ۳۔ تفسیر قرطبی ج۳، ص۳۲۹۔ ج۷، ص۱۸۶۔ تفسیر طبری، ج۳، ص۸۸۔ صحیح ابنِ حبان، ج۳، ص۲۷۸۔ موارد الظمآن، ج۱، ص۴۰۔ السنن الکبری، ج۶، ص۳۰۵۔ مسند ابی یعلیٰ، ج۸، ص۴۱۷۔</p> </section> </body>
0007.xml
<meta> <title>نیا پاکستان مبارک!</title> <author> <name>خورشید احمد ندیم</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq June 2013</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb73a7b7dd1138372dc6e2?articleId=5adb7463b7dd1138372dda93&amp;year=2013&amp;decade=2010</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1429</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta>
نیا پاکستان مبارک!
1,429
Yes
<body> <section> <p>وزیراعظم: نواز شریف، قائد حزب اختلاف: عمران خان۔</p> <p>پاکستان کے لیے اس سے بہتر سیاسی مستقبل ممکن نہیں تھا۔ اگر یہ ترتیب الٹ جاتی تو بھی میری راے یہی ہوتی۔ وزیراعظم: عمران خان، قائد حزب اختلاف: نواز شریف۔ پاکستان کے عوام نے بالعموم جس ذہنی بلوغت کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے جمہوریت پر میرے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ نواز شریف نے ۱۱ مئی کی شب جو تقریر کی، وہ بلاشبہ ایک نئے پاکستان کی خبر دے رہی ہے۔ شہباز شریف کے چند جملوں نے فضا میں جو تلخی پیدا کر دی تھی میاں صاحب کی بصیرت نے بڑی حد تک اس کا تدارک کر دیا۔ انھوں نے زبان حال سے بتا دیا کہ شہباز شریف صاحب وزارت عظمیٰ کے لیے جتنے غیر موزوں ہو سکتے ہیں، نواز شریف صاحب اتنے ہی موزوں ہیں۔ قومی راہنما ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ آدمی کے دل میں ایک کائنات سما جائے۔ مخالفین کے لیے بھی وہ سراپا شفقت ہو۔ عمران خان کو بھی اس باب میں ابھی بہت تربیت کی ضرورت ہے۔</p> <p>نواز شریف اور عمران خان اب ایک نئے عرصۂ امتحان میں ہیں۔ دونوں کے لیے نئے چیلنج ہیں۔ نواز شریف نے باہمی تعاون کی بنیاد پر ایک نئے عہد کے خدوخال واضح کرنے کی کوشش کی، تاہم عمران خان اس کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے۔ یہ ان کی راے ہے جن کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ میں ان کی بات پر اعتبار کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہا ہوں۔ اس میں بھی پاکستان کے لیے خیر ہے۔ جمہوریت کی کامیابی کے لیے اچھی اپوزیشن اتنی ہی ضروری ہے جتنی اچھی حکومت۔ اس وقت یہ خطرہ موجود ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر اپوزیشن کا منصب لے سکتے ہیں۔ نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ یہ منصب عمران خان کے پاس رہے۔</p> <p>نئے پاکستان میں نواز شریف صاحب اور عمران خان کو جو چیلنج درپیش ہوں گے، ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پہلے نواز شریف، عوامی تائید کے ساتھ اس وقت ان کے دو مثبت امتیازات ہیں۔ ایک یہ کہ انھیں پاکستان کے کاروباری طبقے کا اعتماد حاصل ہے۔ دوسرا بین الاقوامی برادری کا۔ آج پاکستان کو ایسے ہی راہنما کی ضرورت تھی۔ اس سے پاکستان کی معیشت اور ساکھ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس زاد راہ کے ساتھ وہ جس سفر کا آغاز کریں گے، اس میں انھیں چار اہم سوالات کا سامنا ہو گا۔ ان کا جواب دیے بغیر وہ سیاست کے پل صراط سے کامیابی کے ساتھ نہیں گزر پائیں گے۔</p> <p>۱۔ پاکستان سکیورٹی سٹیٹ بنا رہے گا یا اسے ایک فلاحی جمہوری ریاست بننا ہے؟ آٹھ ماہ پہلے میں نے ایک بالمشافہ ملاقات میں بھی میاں صاحب کے سامنے یہ سوال رکھا تھا۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب ہے خارجہ پالیسی سمیت قومی ترجیحات کا نئے سرے سے تعین۔ انتخابات کی رات ’’دنیا‘‘ ٹی وی پر امتیاز گل صاحب نے ایک اہم بات کہی۔ ان کے بقول میاں صاحب نے اپنے قریبی حلقے سے یہ کہا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک فیصلہ کن بات کریں گے: مشرقی اور مغربی سرحدوں پر وہ پرانی حکمت عملی برقرار رکھیں گے یا نئی حکمت عملی ترتیب دینے کا موقع دیں گے۔ اگر وہ پرانی حکمت عملی پر اصرار کریں گے تو میاں صاحب حکومت بنانے سے معذرت کر لیں گے اور اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب ہے، وہ پاکستان کے بنیادی مسئلے کا ادراک رکھتے ہیں اور اصلاح چاہتے ہیں۔ گویا اس صورت میں پاکستان کو اس مسلسل غلطی سے نجات مل سکتی ہے جسے سٹریٹجک ڈیپتھ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ اگر میاں صاحب یہ کام کر گزرے تو بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اس سے پاکستان کے بہت سے مسائل کا تدارک ہو سکے گا۔</p> <p>۲۔ دہشت گردی کے بارے میں وہ کیا حکمت عملی اپناتے ہیں؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج یہ پاکستان کی جنگ ہے۔ قاتل اور مقتول، حملہ آور اور ہدف دونوں پاکستانی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے وابستگان پاکستانی ہیں اور بشیر بلور اور منیر اورکزئی جیسے لوگ بھی پاکستانی۔ اس میں امریکا فریق نہیں ہے۔ یہ طے ہے کہ دہشت گردی سے نجات کے بغیر پاکستان ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ نہ سیاسی حوالے سے نہ معاشی اعتبار سے۔ نواز شریف صاحب کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ کیا وہ طالبان کو پاکستان میں حملوں سے باز رکھ پائیں گے؟</p> <p>۳۔ کیا وہ امن و امان اور بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل پر ایک سال میں قابو پا سکیں گے؟ اگر عوام کو ان دو مسائل سے نجات نہ مل سکی یا بڑی حد تک ان کا خاتمہ نہ ہوا تو نواز شریف صاحب کی عوامی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے آئے گا۔ اس وقت عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔ پیپلز پارٹی کو دراصل اسی کی سزا ملی ہے۔ شہباز شریف صاحب کے دعووں کی بازگشت اب باربار سنی جاتی رہے گی۔ </p> <p>۴۔ کیا وہ مرکزی حکومت میں دوسرے صوبوں کو نمائندگی دے پائیں گے؟ حکومت کی ساکھ اور وفاق کی یک جہتی کے لیے ضروری ہے کہ تمام صوبوں کے لوگ حکومت کا حصہ ہوں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو شامل کیے بغیر مرکزی حکومت کتنی نمائندہ ہو گی؟ میاں صاحب کو ابتدا میں ہی اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے۔</p> <p>عمران خان کو بھی چار سوالات کا سامنا ہے:</p> <p>۱۔ کیا وہ ملک کو ایک موثر اور مثبت اپوزیشن دے پائیں گے؟ انتخابی مہم کے دوران میں عمران خان کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ سابقہ پارلیمنٹ میں موجود کسی جماعت سے اتحاد نہیں کریں گے۔ یہ انداز نظر غیر جمہوری ہے۔ اگر وہ خیر میں تعاون اور شر میں عدم تعاون کے اصول کو پیش نظر رکھیں تو اس سے ان کی پذیرائی میں اضافہ ہو گا اور اس طرح وہ اس نظام کی تقویت کا باعث بن سکیں گے۔ </p> <p>۲۔ انھیں یہ بات بھی سامنے رکھنا ہو گی کہ اس نظام میں تبدیل ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انھیں عوامی فیصلے کی تائید کرنی چاہیے اور کھلے دل کے ساتھ ن لیگ کی کامیابی کا اعتراف کرنا چاہیے۔ نواز شریف نے ان کے حادثے پر جس ردعمل کا اظہار کیا، اس سے ان کو اخلاقی برتری ملی ہے۔ اگر عمران خان بھی ہسپتال میں شہباز شریف صاحب سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا۔ پارلیمنٹ میں موثر اپوزیشن کا کردار نبھانے کے لیے انھیں خوے دل نوازی پیدا کرنی ہو گی۔</p> <p>۳۔ انتخابی کامیابی کو وہ کس حد تک پارٹی کی مضبوطی کے لیے استعمال کر پائیں گے؟ انتخابات میں تحریک انصاف کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی ہے۔ وہ بہت آگے جا سکتی ہے۔ اس کے لیے عمران خان کو پارٹی پر بہت توجہ دینا ہو گی۔ میرا یہ خیال اب پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ملک ایک بار پھر دو جماعتی نظام کی طرف بڑھے گا اور ان میں ایک جماعت تحریک انصاف ہو گی، تاہم اس کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کس طرح اپنے خدو خال کا تعین کرتی ہے۔</p> <p>۴۔ کیا تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں امید کی کرن بن سکتی ہے؟ امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف صوبے میں حکومت بنائے گی۔ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے۔ اب طالبان کے ساتھ ان کا براہ راست پالا پڑنے والا ہے۔ اس مرحلے پر وہ جو پالیسی اختیار کریں گے، اس سے ان کے مستقبل کا تعین ہو گا۔ اچھی حکومت اور امن میں توازن پیدا کرنا ہی امتحان ہے۔ ڈرون حملوں اور قبائلی علاقوں میں آپریشن جیسے مسائل پر انھیں عملی کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے سامنے ایک مجلس عمل کا وجود ہے۔ جن کے نعروں اور عمل میں تفاوت نے ان کے سیاسی مستقبل کو تاریک کر دیا۔ خیبر پختون خوا کی حکومت اعزاز سے کہیں زیادہ ایک چیلنج ہے۔</p> <p>آج ایک نیا پاکستان ہمارے سامنے ہے۔ کئی نئے حقائق جنم لے چکے۔ ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھٹو اور اینٹی بھٹو کی نفسیات سے باہر آ گیا ہے۔ نئی عصبیتیں جنم لے رہی ہیں۔ جمہوریت اسی کا نام ہے کہ سماج متحرک رہتا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان دونوں کے ساتھ امید وابستہ ہے۔ پاکستان کو آج امید ہی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ یہ جمہوریت کا تحفہ بھی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ہم کس طرح اس کی قدر افزائی کرتے ہیں۔</p> </section> </body>
0008.xml
<meta> <title>روزہ</title> <author> <name>جاوید احمد غامدی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq July 2013</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb735ab7dd1138372dbdef?articleId=5adb7364b7dd1138372dbe0b&amp;year=2013&amp;decade=2010</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>2762</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta>
روزہ
2,762
No
<body> <section> <p>نماز اور زکوٰۃ کے بعدتیسرا فرض روزہ ہے۔ یہ روزہ کیا ہے؟ انسان کے نفس پر جب اس کی خواہشیں غلبہ پالیتی ہیں تو وہ اپنے پروردگار سے غافل اور اس کے حدود سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی غفلت اور بے پروائی کی اصلاح کے لیے ہم پر روزہ فرض کیا ہے۔ یہ عبادت سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینے تک کی جاتی ہے۔ رمضان آتا ہے تو صبح سے شام تک ہمارے لیے کھانے پینے اور بیویوں کے ساتھ خلوت کرنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس نے یہ عبادت ہم سے پہلی امتوں پر بھی اسی طرح فرض کی تھی جس طرح ہم پر فرض کی ہے۔ ان امتوں کے لیے، البتہ اس کی شرطیں ذرا سخت تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے جس طرح دوسری سب چیزوں کو ہلکا کیا، اسی طرح اس عبادت کو بھی بالکل معتدل بنا دیا ہے۔ تاہم دوسری سب عبادتوں کے مقابلے میں یہ اس لیے ذرا بھاری ہے کہ اس کا مقصد ہی نفس کے منہ زور رجحانات کو لگام دے کر ان کا رخ صحیح سمت میں موڑنا اور اسے حدود کا پابند بنا دینا ہے۔ یہ چیز، ظاہر ہے کہ تربیت میں ذرا سختی ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔</p> <p>سحری کے وقت ہم کھا پی رہے ہوتے ہیں کہ یکایک اذان ہوتی ہے اور ہم فوراً ہاتھ روک لیتے ہیں۔ اب خواہشیں کیسا ہی زور لگائیں، دل کیسا ہی مچلے، طبیعت کیسی ہی ضد کرے، ہم ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جن سے روزے کے دوران میں ہمیں روک دیا گیا ہے۔ یہ ساری رکاوٹ اس وقت تک رہتی ہے، جب تک مغرب کی اذان نہیں ہوتی۔ روزہ ختم کر دینے کے لیے ہمارے رب نے یہی وقت مقرر کیا ہے۔ چنانچہ مغرب کے وقت موذن جیسے ہی بولتا ہے، ہم فوراً افطار کے لیے لپکتے ہیں۔ اب رات بھر ہم پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ رمضان کا پورا مہینا ہم اسی طرح گزارتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وقتی طور پر اگرچہ کچھ کمزوری اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی تو محسوس کرتے ہیں، لیکن اس سے صبر اور تقویٰ کی وہ نعمت ہم کو حاصل ہوتی ہے جو اس زمین پر اللہ کا بندہ بن کر رہنے کے لیے ہماری روح کی اسی طرح ضرورت ہے، جس طرح ہوا اور پانی اور غذا ہمارے جسم کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے نہیں جیتا، بلکہ اس بات سے جیتا ہے جو اس کے رب کی طرف سے آتی ہے۔</p> <p>یہ روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے، لیکن وہ اگر مرض یا سفر یا کسی دوسرے عذر کی بنا پر رمضان میں یہ فرض پورا نہ کر سکے تو جتنے روزے چھوٹ جائیں، ان کے بارے میں اجازت ہے کہ وہ رمضان کے بعد کسی وقت رکھ لیے جائیں۔ روزوں کی تعداد ہرحال میں پوری ہونی چاہیے۔</p> <p>اس روزے سے ہم بہت کچھ پاتے ہیں۔ سب سے بڑی چیز اس سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ ہماری روح خواہشوں کے زور سے نکل کر علم و عقل کی ان بلندیوں کی طرف پرواز کے قابل ہو جاتی ہے، جہاں آدمی دنیا کی مادی چیزوں سے برتر اپنے رب کی بادشاہی میں جیتا ہے۔</p> <p>۱س مقصد کے لیے روزہ ان سب چیزوں پر پابندی لگاتا ہے جن سے خواہشیں بڑھتی ہیں اور لذتوں کی طرف میلان میں اضافہ ہوتا ہے۔ بندہ جب یہ پابندی جھیلتا ہے تو اس کے نتیجے میں زہد و فقیری کی جو حالت اس پر طاری ہو جاتی ہے، اس سے وہ دنیا سے ٹوٹتا اور اپنے رب سے جڑتا ہے۔ روزے کا یہی پہلو ہے جس کی بنا پر اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں اپنے ہاتھ سے دوں گا، اور فرمایا کہ روزے دار کے منہ کی بو مجھے مشک کی خوش بو سے زیادہ پسند ہے۔</p> <p>ہر اچھے کام کا اجر سات سو گنا ہو سکتا ہے، لیکن روزہ اس سے بھی آگے ہے۔ اس کی جزا کیا ہو گی؟ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ جب بدلے کا دن آئے گا تو وہ یہ بھید کھولے گا اور خاص اپنے ہاتھ سے ہر روزے دار کو اس کے عمل کا صلہ دے گا۔ پھر کون اندازہ کر سکتا ہے کہ آسمان و زمین کا مالک جب اپنے ہاتھ سے صلہ دے گا تو اس کا بندہ کس طرح نہال ہو جائے گا۔</p> <p>دوسری چیز اس سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان کے وجود میں فتنے کے دروازے بڑی حد تک بند ہو جاتے ہیں۔ یہ زبان او رشرم گاہ، یہی دونوں وہ جگہیں ہیں جہاں سے شیطان بالعموم انسان پر حملہ کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مجھے ان دو چیزوں کے بارے میں ضمانت دے گا جو اس کے دونوں گالوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان ہیں، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ روزہ ان دونوں پر پہرا بٹھا دیتا ہے اور صرف کھانا پینا ہی نہیں، زبان اور شرم گاہ میں حد سے بڑھنے کے جتنے میلانات ہیں، ان سب کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی کے لیے وہ کام بہت آسان ہو جاتے ہیں جن سے اللہ کی رضا اور جنت مل سکتی اور ان کاموں کے راستے اس کے لیے بڑی حد تک بند ہو جاتے ہیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور جن کی وجہ سے وہ دوزخ میں جائے گا۔ یہی حقیقت ہے جسے اللہ کے نبی نے اس طرح بیان کیا ہے کہ روزوں کے مہینے میں شیطان کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔</p> <p>تیسری چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان کا اصلی شرف، یعنی ارادے کی قوت اس کی شخصیت میں نمایاں ہو جاتی ہے اور اس طریقے پر تربیت پالیتی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی طبیعت میں پیدا ہونے والے ہر ہیجان کو اس کے حدود میں رکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ارادے کی یہ قوت اگر کسی شخص میں کمزور ہو تو وہ نہ اپنی خواہشوں کو بے لگام ہونے سے بچا سکتا ہے، نہ اللہ کی شریعت پر قائم رہ سکتا ہے اور نہ طمع، اشتعال، نفرت اور محبت جیسے جذبوں کو اعتدال پر قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں انسان سے صبر چاہتی ہیں اور صبر کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان میں ارادے کی قوت ہو۔ روزہ اس قوت کو بڑھاتا اور اس کی تربیت کرتا ہے۔ پھر یہی قوت انسان کو برائی کے مقابلے میں اچھائی پر قائم رہنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی نے روزے کو ڈھال کہا اور انسان کو بتایا کہ وہ برائی کی ہر ترغیب کے سامنے یہ ڈھال اس طرح استعمال کرے کہ جہاں کوئی شخص اسے برائی پر ابھارے، وہ اس کے جواب میں یہ کہہ دے کہ میں تو روزے سے ہوں۔</p> <p>چوتھی چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان میں ایثار کا جذبہ ابھرتا ہے اور اسے دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان کے لیے کچھ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ روزے میں آدمی کو بھوک اور پیاس کا جو تجربہ ہوتا ہے، وہ اسے غریبوں کے قریب کر دیتا ہے اور ان کی ضرورتوں کا صحیح احساس اس میں پیدا کرتا ہے۔ روزے کا یہ اثر، بے شک کسی پر کم پڑتا ہے اور کسی پر زیادہ، لیکن ہر شخص کی صلاحیت اور اس کی طبیعت کی سلامتی کے لحاظ سے پڑتا ضرور ہے۔ وہ لوگ جو اس اعتبار سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، ان کے اندر تو گویا دریا امنڈ پڑتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ آپ یوں تو ہر حال میں بے حد فیاض تھے، مگر رمضان میں تو بس جودوکرم کے بادل بن جاتے اور اس طرح برستے کہ ہر طرف جل تھل ہو جاتا تھا۔</p> <p>پانچویں چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزے دار کو جو خلوت اور خاموشی اور دوسروں سے کسی حد تک الگ تھلگ ہو جانے کا موقع ملتا ہے، اس میں قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے معنی کو سمجھنے کی طرف بھی طبیعت زیادہ مائل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ کتاب اسی ماہ رمضان میں اتاری اور اسی نعمت کی شکر گزاری کے لیے اس کو روزوں کا مہینا بنا دیا ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جبریل علیہ السلام بھی اسی مہینے میں قرآن سننے اور سنانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ روزے سے قرآن مجید کی یہی مناسبت ہے جس کی بنا پر امت کے اکابر اس مہینے میں اپنے نبی کی پیروی میں رات کے پچھلے پہر اور عام لوگ آپ ہی کی اجازت سے عشا کے بعد نفلوں میں اللہ کا کلام سنتے اور سناتے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں نماز کے لیے کھڑا رہا، اس کا یہ عمل اس کے پچھلے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا۔</p> <p>چھٹی چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ آدمی اگر چاہے تو اس مہینے میں بہت آسانی کے ساتھ اپنے پورے دل او رپوری جان کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔ اللہ کے بندے اگر یہ چیز آخری درجے میں حاصل کرنا چاہیں تو اس کے لیے اسی رمضان میں اعتکاف کا طریقہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اگرچہ ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہے، لیکن دل کو اللہ کی طرف لگانے کے لیے یہ بڑی اہم عبادت ہے۔ اعتکاف کے معنی ہمارے دین میں یہ ہیں کہ آدمی دس دن یا اپنی سہولت کے مطابق اس سے کم کچھ دنوں کے لیے سب سے الگ ہو کر اپنے رب سے لو لگا کر مسجد میں بیٹھ جائے اور اس عرصے میں کسی ناگزیر ضرورت ہی کے لیے وہاں سے نکلے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اکثر اس کا اہتمام فرماتے تھے اور خاص طور پر اس ماہ کے آخری دس دنوں میں رات کو خود بھی زیادہ جاگتے، اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور پوری مستعدی کے ساتھ اللہ کی عبادت میں لگے رہتے تھے۔</p> <p>یہ سب چیزیں روزے سے حاصل ہو سکتی ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ روزے دار ان خرابیوں سے بچیں جو اگر روزے میں در آئیں تو اس کی ساری برکتیں بالکل ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ خرابیاں اگرچہ بہت سی ہیں، لیکن ان میں بعض ایسی ہیں کہ ہر روزے دار کو ان کے بارے میں ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے۔</p> <p>ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ لوگ رمضان کو لذتوں اور چٹخاروں کا مہینا بنا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں جو بھی خرچ کیا جائے، اس کا اللہ کے ہاں کوئی حساب نہیں ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگ اگر کچھ کھاتے پیتے بھی ہوں تو ان کے لیے تو پھر یہ مزے اڑانے اور بہار لوٹنے کا مہینا ہے۔ وہ اس کو نفس کی تربیت کے بجائے اس کی پرورش کا مہینا بنا لیتے ہیں اور ہرروز افطار کی تیاریوں ہی میں صبح کو شام کرتے ہیں۔ وہ جتنا وقت روزے سے ہوتے ہیں، یہی سوچتے ہیں کہ سارے دن کی بھوک پیاس سے جو خلا ان کے پیٹ میں پیدا ہوا ہے، اسے وہ اب کن کن نعمتوں سے بھریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو روزے سے وہ کچھ پاتے ہی نہیں اور اگر کچھ پاتے ہیں تو اسے وہیں کھو دیتے ہیں۔</p> <p>اس خرابی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندرکام کی قوت کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیے تو ضرور، لیکن اس کو جینے کا مقصد نہ بنا لے۔ جو کچھ بغیر کسی اہتمام کے مل جائے، اس کو اللہ کا شکر کرتے ہوئے کھا لے۔ گھر والے جو کچھ دستر خوان پر رکھ دیں، وہ اگر دل کو نہ بھی بھائے تو اس پر خفا نہ ہو۔ اللہ نے اگر مال و دولت سے نوازا ہے تو اپنے نفس کو پالنے کے بجاے، اسے غریبوں اور فقیروں کی مدد اور ان کے کھلانے پلانے پر خرچ کرے۔ یہ چیز یقیناًاس کے روزے کی برکتوں کو بڑھائے گی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اللہ کے نبی نے رمضان میں اس عمل کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔</p> <p>دوسری خرابی یہ ہے کہ بھوک اور پیاس کی حالت میں چونکہ طبیعت میں کچھ تیزی پیدا ہو جاتی ہے، اس وجہ سے بعض لوگ روزے کو اس کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجاے، اسے بھڑکانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے نیچے کام کرنے والوں پر ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے، جو منہ میں آیا، کہہ گزرتے، بلکہ بات بڑھ جائے تو گالیوں کا جھاڑ باندھ دیتے ہیں اور بعض حالتوں میں اپنے زیر دستوں کو مارنے پیٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ روزے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔</p> <p>اس کا علاج اللہ کے نبی نے یہ بتایا ہے کہ آدمی اس طرح کے سب موقعوں پر روزے کو اس اشتعال کا بہانہ بنانے کے بجاے اس کے مقابلے میں ایک ڈھال کی طرح استعمال کرے، اور جہاں اشتعال کا کوئی موقع پیدا ہو، فوراً یاد کرے کہ میں روزے سے ہوں۔ وہ اگر غصے اور اشتعال کے ہر موقع پر یاددہانی کا یہ طریقہ اختیار کرے گا تو آہستہ آہستہ دیکھے گا کہ بڑی سے بڑی ناگوار باتیں بھی اب اسے گوارا ہیں۔ وہ محسوس کرے گا کہ اس نے اپنے نفس کے شیطان پر اتنا قابو پالیا ہے کہ وہ اب اسے گرا لینے میں کم ہی کامیاب ہوتا ہے۔ شیطان کے مقابلے میں فتح کا یہ احساس اس کے دل میں اطمینان اور برتری کا احساس پیدا کرتا ہے اور روزے کی یہی یاددہانی اس کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ وہیں غصہ کرتا ہے، جہاں اس کا موقع ہوتا ہے۔ وقت بے وقت اسے مشتعل کر دینا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔</p> <p>تیسری خرابی یہ ہے کہ بہت سے لوگ جب روزے میں کھانے پینے اور اس طرح کی دوسری دل چسپیوں کو چھوڑتے ہیں تو اپنی اس محرومی کا مداوا ان دل چسپیوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں جن سے ان کے خیال میں روزے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ بہل جاتا ہے۔ وہ روزہ رکھ کر تاش کھیلیں گے، ناول اور افسانے پڑھیں گے، نغمے اور غزلیں سنیں گے، فلمیں دیکھیں گے، دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکیں گے اور اگر یہ سب نہ کریں گے تو کسی کی غیبت اور ہجو ہی میں لپٹ جائیں گے۔ روزے میں پیٹ خالی ہو تو آدمی کو اپنے بھائیوں کا گوشت کھانے میں ویسے بھی بڑی لذت ملتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات صبح اس مشغلے میں پڑتے ہیں اور پھر موذن کی اذان کے ساتھ ہی اس سے ہاتھ کھینچتے ہیں۔</p> <p>اس خرابی کا ایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کا ادب سمجھے اور زیادہ سے زیادہ یہی کوشش کرے کہ اس کی زبان پر کم سے کم اس مہینے میں تو تالا لگا رہے۔ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ آدمی اگر ہر قسم کی جھوٹی سچی باتیں زبان سے نکالتا ہے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔</p> <p>اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ جو وقت ضروری کاموں سے بچے، اس میں آدمی قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے اور دین کو سمجھے۔ وہ روزے کی اس فرصت کوغنیمت سمجھ کر اس میں قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعاؤں کا کچھ حصہ یاد کرلے۔ اس طرح وہ اس وقت ان مشغلوں سے بچے گا اور بعد میں یہی ذخیرہ اللہ کی یاد کو اس کے دل میں قائم رکھنے کے لیے اس کے کام آئے گا۔</p> <p>چوتھی خرابی یہ ہے کہ آدمی بعض اوقات روزہ اللہ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں اور ملنے جلنے والوں کی ملامت سے بچنے کے لیے رکھتا ہے اور کبھی لوگوں میں اپنی دین داری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے یہ مشقت جھیلتا ہے۔ یہ چیز بھی روزے کو روزہ نہیں رہنے دیتی۔</p> <p>اس کا علاج یہ ہے کہ آدمی روزے کی اہمیت ہمیشہ اپنے نفس کے سامنے واضح کرتا رہے اور اسے تلقین کرے کہ جب کھانا پینا اور دوسری لذتیں چھوڑ ہی رہے ہو تو پھر انھیں اللہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑتے۔ اس کے ساتھ رمضان کے علاوہ کبھی کبھی نفلی روزے بھی رکھے اور انھیں زیادہ سے زیادہ چھپانے کی کوشش کرے۔ اس سے امید ہے کہ اس کے یہ فرض روزے بھی کسی وقت اللہ ہی کے لیے خالص ہو جائیں گے۔</p> </section> </body>
0009.xml
<meta> <title>مولانا اختر احسن اصلاحی</title> <author> <name>امام امین احسن اصلاحی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq August 2013</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7349b7dd1138372dbb3f?year=2013&amp;decade=2010&amp;articleId=5adb7349b7dd1138372dbb43</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>901</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta>
مولانا اختر احسن اصلاحی
901
No
<body> <section> <p>میں اور مولانا اختر احسن اصلاحی مرحوم دونوں ایک ہی ساتھ ۱۹۱۴ء میں مدرسۃ الاصلاح سیرائے میر، اعظم گڑھ کے ابتدائی درجوں میں داخل ہوئے اور مدرسہ کا تعلیمی کورس پورا کر کے ایک ہی ساتھ ۱۹۲۲ء میں فارغ ہوئے۔ اس کے بعد مولانا اختر احسن تو مدرسہ ہی میں تدریس کی خدمت پر مامور ہو گئے اور میں دو اڑھائی سال اخبارات میں اخبار نویسی کرتا پھرا۔ ۱۹۲۵ء میں استاذ امام مولانا فراہی نے مجھے یہ ایماء فرمایا کہ میں اخبار نویسی کا لاطائل مشغلہ چھوڑ کر ان سے قرآن حکیم پڑھوں۔ میرے لیے اس سے بڑا شرف اور کیا ہو سکتا تھا۔ میں فوراً تیار ہو گیا اور مولانا نے مدرسہ ہی میں درس قرآن کا آغاز فرما دیا جس میں مدرسہ کے دوسرے اساتذہ کے ساتھ مولانا اختر احسن مرحوم بھی شریک ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ پورے پانچ سال قائم رہا۔</p> <p>طالب علمی کے دور میں تو ہم دونوں کے درمیان ایک قسم کی معاصرانہ چشمک و رقابت رہی تعلیم کے میدان میں بھی اور کھیل کے میدان میں بھی۔ لیکن مولانا فراہی کے درس میں شریک ہونے کے بعد ہم میں ایسی محبت پیدا ہو گئی کہ اگر میں یہ کہوں تو ذرا بھی مبالغہ نہ ہو گا کہ ہماری یہ محبت دو حقیقی بھائیوں کی محبت تھی۔ وہ عمر میں مجھ سے غالباً سال ڈیڑھ سال بڑے رہے ہوں گے۔ انھوں نے اس بڑائی کا حق یوں ادا کیا کہ جن علمی خامیوں کو دور کرنے میں مجھے ان کی مدد کی ضرورت ہوئی، اس میں انھوں نے نہایت فیاضی سے میری مدد کی۔ بعض فنی چیزوں میں ان کو مجھ پر نہایت نمایاں تفوّق حاصل تھا۔ اس طرح کی چیزوں میں ان کی مدد سے میں نے فائدہ اٹھایا۔ اس پہلو سے اگر میں ان کو اپنا ساتھی ہی نہیں استاذ بھی کہوں تو شاید بے جا نہ ہو۔</p> <p>مولانا فراہی کے درس میں اگرچہ مدرسہ کے دوسرے اساتذہ بھی شریک ہوتے، لیکن میرے واحد ساتھی مولانا اختر احسن ہی تھے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی خاص توجہ بھی ہم ہی دونوں پر رہی۔ مولانا اختر احسن اگرچہ بہت کم سخن آدمی تھے، لیکن ذہین اور نہایت نیک مزاج۔ اس وجہ سے ان کو برابر مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا خاص قرب اور اعتماد حاصل رہا۔ انھوں نے حضرت استاذ کے علم کی طرح ان کے عمل کو بھی اپنانے کی کوشش کی، جس کی جھلک ان کی زندگی کے ہر پہلو میں نمایاں ہوئی اور مجھے ان کی اس خصوصیت پر برابر رشک رہا۔</p> <p>مولانا اختر احسن کو استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کا بھی شرف حاصل ہوا، حالانکہ مولانا کسی کو خدمت کا موقع مشکل ہی سے دیتے تھے۔ یہ شرف ان کو ان کی طبیعت کی انھی خوبیوں کی وجہ سے حاصل ہوا، جن کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا۔</p> <p>استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ مدرسۃ الاصلاح کے ذریعہ سے جو تعلیمی اور فکری انقلاب پیدا کرنا چاہتے تھے، اس میں سب سے بڑی رکاوٹ موزوں اشخاص نہ ملنے کے سبب سے تھی۔ مولانا اختر احسن مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت سے اس تعلیمی مقصد کے لیے بہترین آدمی بن گئے تھے۔ اگر ان کو کام کرنے کی فرصت ملی ہوتی تو توقع تھی کہ ان کی تربیت سے مدرسۃ الاصلاح میں نہایت عمدہ صلاحیتوں کے اتنے اشخاص پیدا ہو جاتے جو نہایت وسیع دائرے میں کام کر سکتے۔ لیکن ان کو عمر بہت کم ملی، اور جو ملی اس میں بھی وہ برابر مختلف امراض کے ہدف رہے، تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا حوصلہ عطا فرمایا تھا۔ اپنی مختصر زندگی میں انھوں نے مدرسۃ الاصلاح کی بڑی خدمت کی۔ اور خاص بات یہ ہے کہ اپنی اس خدمت کا معاوضہ انھوں نے اتنا کم لیا کہ اس ایثار کی کوئی دوسری مثال مشکل ہی سے مل سکے گی۔</p> <p>میں نے ۱۹۳۵ء میں استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی غیر مطبوعہ تصنیفات کی ترتیب و تہذیب اور اشاعت کے لیے مدرسۃ الاصلاح میں دائرۂ حمیدیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کے زیر اہتمام ایک اردو ماہنامہ ’الاصلاح‘ کے نام سے جاری کیا تاکہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے افکار سے اردو خواں طبقہ کو بھی آشنا کیا جائے۔ اس ادارے میں مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے عربی مسودات کی ترتیب و تہذیب کا کام مولانا اختر احسن مرحوم نے اپنے ذمہ لیا اور رسالہ کی ترتیب کی ذمہ داری میں نے اٹھائی۔ مولانا اختر احسن مرحوم اگرچہ تحریر و تقریر کے میدان کے آدمی نہیں تھے، لیکن مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کے ترجمہ کے کام میں انھوں نے میری بڑی مدد فرمائی اور رسالہ میں بھی ان کے مضامین وقتاً فوقتاً نکلتے رہے۔ رسالہ تو کچھ عرصہ کے بعد بند ہو گیا، لیکن دائرۂ حمیدیہ الحمد للہ! برابر استاذ امام کی عربی تصنیفات کی اشاعت کا کام کر رہا ہے اور اس کے کرتا دھرتا مولانا اختر احسن مرحوم کے تلامذہ ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی سعی مشکور فرمائے!</p> <p>مولانا اختر احسن مرحوم پر یہ چند سطریں میں نے مولانا کے ایک شاگرد عزیزی محمد عنایت اللہ سبحانی کے اصرار پر لکھ دی ہیں۔ اگر مجھے استاذ مرحوم کی سیرت لکھنے کی سعادت حاصل ہوتی تو اس میں بسلسلۂ تلامذۂ فراہی ان کا ذکر تفصیل سے آتا۔ لیکن اب بظاہر اس طرح کے کسی کام کا موقع میسر آنے کی توقع باقی نہیں رہی۔ اب تو بس یہ آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں استاذ مرحوم کے ساتھ برادر مرحوم کی معیت بھی نصیب کرے!</p> </section> </body>
0010.xml
"<meta>\n\t\t<title>ترکی میں حدیث کی تدوین جدید</title>\n\t\t<author>\n\t\t\t<(...TRUNCATED)
ترکی میں حدیث کی تدوین جدید
1,313
No
"<body>\n\t\t<section>\n\t\t\t<p>حدیث سے متعلق کسی کام کو سمجھنے کے لی(...TRUNCATED)

Dataset Card for makhzan

Dataset Summary

An Urdu text corpus for machine learning, natural language processing and linguistic analysis.

Supported Tasks and Leaderboards

[More Information Needed]

Languages

ur

Dataset Structure

Data Instances

{
  "contains-non-urdu-languages": "No",
  "document_body":
  "
  <body>
        <section>
            <p>بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ نے طلاق کے ایک مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے علما کے فتووں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے پارلیمنٹ سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ جلد ایسا قانون وضع کرے کہ جس کے بعد فتویٰ بازی قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم بن جائے۔ بنگلہ دیش کے علما نے اس فیصلے پر بھر پور ردِ عمل ظاہرکرتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں علما کی ایک تنظیم ”اسلامک یونٹی الائنس“ نے متعلقہ ججوں کو مرتد یعنی دین سے منحرف اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔</p>
            <p>فتوے کا لفظ دو موقعوں پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک اس موقع پر جب کوئی صاحبِ علم شریعت کے کسی مئلے کے بارے میں اپنی رائے پیش کرتا ہے۔ دوسرے اس موقع پر جب کوئی عالمِ دین کسی خاص واقعے کے حوالے سے اپنا قانونی فیصلہ صادر کرتا ہے۔ ایک عرصے سے ہمارے علما کے ہاں اس دوسرے موقعِ استعمال کا غلبہ ہو گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس لفظ کا رائے یا نقطۂ نظر کے مفہوم میں استعمال کم و بیش متروک ہو گیا ہے۔ چنانچہ اب فتوے کا مطلب ہی علما کی طرف سے کسی خاص مألے یا واقعے کے بارے میں حتمی فیصلے کا صدور سمجھا جاتا ہے۔ علما اسی حیثیت سے فتویٰ دیتے ہیں اور عوام الناس اسی اعتبار سے اسے قبول کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے نزدیک، چند مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم مذکورہ فیصلے کے بارے میں اپنا تاثر بیان کریں، یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر ان مسائل کا جائزہ لے لیا جائے۔</p>
            <p>پہلا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون سازی اور شرعی فیصلوں کا اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو قانون کی رو سے اس کے مجاز ہی نہیں ہوتے۔ کسی میاں بیوی کے مابین طلاق کے مألے میں کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ ان کا نکاح قائم ہے یا باطل ہو گیا ہے؟ رمضان یا عید کا چاند نظر آیا ہے یا نہیں آیا؟کوئی مسلمان اپنے کسی قول یا اقدام کی وجہ سے کہیں دائرۂ اسلام سے خارج اورنتیجۃً مسلم شہریت کے قانونی حقوق سے محروم تو نہیں ہو گیا؟ یہ اور اس نوعیت کے بہت سے دوسرے معاملات سر تا سر قانون اور عدالت سے متعلق ہوتے ہیں۔ علما کی فتویٰ سازی کے نتیجے میںیہ امور گویا حکومت اورعدلیہ کے ہاتھ سے نکل کر غیر متعلق افراد کے ہاتھوں میں آجاتے ہیں۔</p>
            <p>دوسرا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون کی حاکمیت کا تصور مجروح ہوتا ہے اور لوگوں میں قانون سے روگردانی کے رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون اپنی روح میں نفاذ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر اسے نفاذ سے محروم رکھا جائے تو اس کی حیثیت محض رائے اور نقطۂ نظر کی سی ہوتی ہے۔ غیر مجاز فرد سے صادر ہونے والا فتویٰ یا قانون حکومت کی قوتِ نافذہ سے محروم ہوتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں ہوتا۔ چنانچہ فتویٰ اگر مخاطب کی پسند کے مطابق نہ ہو تو اکثر وہ اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ فتویٰ یا قانون بے توقیر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں رہنے والے شہریوں میں قانون ناپسندی کا رجحان فروغ پاتا ہے اور جیسے ہی انھیں موقع ملتا ہے وہ بے دریغ قانون کی خلاف ورزی کر ڈالتے ہیں۔</p>
            <p>تیسرامسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرغیر مجاز افراد سے صادر ہونے والے فیصلوں کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو ملک میں بد نظمی اور انارکی کا شدید اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جب غیر مجازافراد سے صادر ہونے والے قانونی فیصلوں کو حکومتی سرپرستی کے بغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اپنے عمل سے یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ مرجعِ قانون و اقتدارتبدیل ہو چکا ہے۔ جب کوئی عالمِ دین مثال کے طور پر، یہ فتویٰ صادر کرتا ہے کہ سینما گھروں اور ٹی وی اسٹیشنوں کو مسمار کرنامسلمانوں کی ذمہ داری ہے، یا کسی خاص قوم کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے، یا فلاں کی دی گئی طلاق واقع ہو گئی ہے اور فلاں کی نہیں ہوئی، یا فلاں شخص یا گروہ اپنا اسلامی تشخص کھو بیٹھا ہے تو وہ درحقیقت قانونی فیصلہ جاری کر رہا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، وہ ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست بنانے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ سوائے انتشار اور انارکی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔ یہی وجہ ہے کہ جن علاقوں میں حکومت کی گرفت کمزور ہوتی ہے وہاں اس طرح کے فیصلوں کا نفاذ بھی ہو جاتا ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہتی ہے۔</p>
            <p>چوتھا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف مذہبی مسالک کی وجہ سے ایک ہی معاملے میں مختلف اور متضاد فتوے منظرِ عام پر آتے ہیں۔ یہ تو ہمارے روز مرہ کی بات ہے کہ ایک ہی گروہ کو بعض علماے دین کافر قرار دیتے ہیں اور بعض مسلمان سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کے منہ سے اگر ایک موقع پر طلاق کے الفاظ تین بار نکلتے ہیں تو بعض علما اس پر ایک طلاق کا حکم لگا کر رجوع کا حق باقی رکھتے ہیں اور بعض تین قرار دے کررجوع کو باطل قرار دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک عام آدمی کے لیے نہایت دشواریاں پیدا کر دیتی ہے۔</p>
            <p>پانچواں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اگر دین و شریعت سے کچھ خاص دلچسپی نہ رکھتے ہوں تو وہ اس صورتِ حال میں شریعت کی روشنی میں قانون سازی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ کام چل رہا ہے کے اصول پر وہ اس طریقِ قانون سازی سے سمجھوتاکیے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومتی ادارے ضروری قانون سازی کے بارے میں بے پروائی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور قوانین اپنے فطری ارتقا سے محروم رہتے ہیں۔</p>
            <p>چھٹا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ رائج الوقت قانون اور عدالتوں کی توہین کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب کسی مسئلے میں عدالتیں اپنا فیصلہ سنائیں اور علما اسے باطل قرار دیتے ہوئے اس کے برعکس اپنا فیصلہ صادر کریں تو اس سے عدالتوں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شہری عدلیہ کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا ہے۔</p>
            <p>ان مسائل کے تناظر میں بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ کا فیصلہ ہمارے نزدیک، امت کی تاریخ میں ایک عظیم فیصلہ ہے۔ جناب جاوید احمد صاحب غامدی نے اسے بجا طور پر صدی کا بہترین فیصلہ قرار دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی عدالت اگر علما کے فتووں اور قانونی فیصلوں پر پابندی لگانے کے بجائے، ان کے اظہارِ رائے پر پابندی عائدکرتی تو ہم اسے صدی کا بدترین فیصلہ قرار دیتے اور انھی صفحات میں بے خوفِ لومۃ و لائم اس پر نقد کر رہے ہوتے۔</p>
            <p>موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے علما اپنی اصل ذمہ داری کو ادا کرنے کے بجائے ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر مصر ہیں جن کے نہ وہ مکلف ہیں اور نہ اہل ہیں۔ قرآن و سنت کی رو سے علما کی اصل ذمہ داری دعوت و تبلیغ، انذار و تبشیر اور تعلیم و تحقیق ہے۔ ان کا کام سیاست نہیں، بلکہ سیاست دانوں کو دین کی رہنمائی سے آگاہی ہے؛ ان کا کام حکومت نہیں، بلکہ حکمرانوں کی اصلاح کی کوشش ہے؛ ان کا کام جہاد و قتال نہیں، بلکہ جہادکی تعلیم اور جذبۂ جہاد کی بیداری ہے؛ اسی طرح ان کا کام قانون سازی اور فتویٰ بازی نہیں بلکہ تحقیق و اجتہاد ہے۔ گویا انھیں قرآنِ مجیدکامفہوم سمجھنے، سنتِ ثابتہ کا مدعا متعین کرنے اور قولِ پیغمبر کا منشامعلوم کرنے کے لیے تحقیق کرنی ہے اور جن امور میں قرآن و سنت خاموش ہیں ان میں اپنی عقل و بصیرت سے اجتہادی آراقائم کرنی ہیں۔ ان کی کسی تحقیق یا اجتہاد کو جب عدلیہ یا پارلیمنٹ قبول کرے گی تو وہ قانون قرار پائے گا۔ اس سے پہلے اس کی حیثیت محض ایک رائے کی ہوگی۔ اس لیے اسے اسی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔</p>
            <p>اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حکم نہیں لگایا جائے گا، کوئی فیصلہ نہیں سنایا جائے گا، کوئی فتویٰ نہیں دیا جائے گا، بلکہ طالبِ علمانہ لب و لہجے میں محض علم و استدلال کی بنا پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں شخص کافر ہے، بلکہ اس کی اگر ضرورت پیش آئے تو یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص کا فلاں عقیدہ کفر ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کا فلاں نقطۂ نظر اسلام کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ نہیں کہا جائے گا فلاں آدمی مشرک ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا فلاں نظریہ یا فلاں طرزِ عمل شرک ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ زید کی طرف سے دی گئی ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو نی چاہییں۔</p>
            <p>حکم لگانا، فیصلہ سنانا، قانون وضع کرنا اورفتویٰ جاری کرنا درحقیقت، عدلیہ اور حکومت کا کام ہے کسی عالمِ دین یا کسی اور غیر مجاز فرد کی طرف سے اس کام کو انجام دینے کی کوشش سراسر تجاوز ہے۔ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس اصول کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب ”ازالتہ الخفا ء“ میں لکھتے ہیں:</p>
            <blockquote>
                <p>”اس زمانے تک وعظ اور فتویٰ خلیفہ کی رائے پر موقوف تھا۔ خلیفہ کے حکم کے بغیر نہ وعظ کہتے تھے اور نہ فتویٰ دیتے تھے۔ بعد میں خلیفہ کے حکم کے بغیر وعظ کہنے اور فتویٰ دینے لگے اور فتویٰ کے معاملے میں جماعت (مجلسِ شوریٰ) کے مشورہ کی جو صورت پہلے تھی وہ باقی نہ رہی——- (اس زمانے میں) جب کوئی اختلافی صورت نمودار ہوتی، خلیفہ کے سامنے معاملہ پیش کرتے، خلیفہ اہلِ علم و تقویٰ سے مشورہ کرنے کے بعد ایک رائے قائم کرتا اور وہی سب لوگوں کی رائے بن جاتی۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ہر عالم بطورِ خود فتویٰ دینے لگا اور اس طرح مسلمانوں میں اختلاف برپا ہوا۔“ (بحوالہ ”اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل“، مولاناامین احسن اصلاحی، ص۳۲)</p>
            </blockquote>
        </section>
    </body>
  ",
  "file_id": "0001.xml",
  "metadata":
  "
  <meta>
        <title>بنگلہ دیش کی عدالت کا تاریخی فیصلہ</title>
        <author>
            <name>سید منظور الحسن</name>
            <gender>Male</gender>
        </author>
        <publication>
            <name>Mahnama Ishraq February 2001</name>
            <year>2001</year>
            <city>Lahore</city>
            <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7341b7dd1138372db999?articleId=5adb7452b7dd1138372dd6fb&amp;year=2001&amp;decade=2000</link>
            <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder>
        </publication>
        <num-words>1694</num-words>
        <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages>
    </meta>
  ",
  "num-words": 1694,
  "title": "بنگلہ دیش کی عدالت کا تاریخی فیصلہ"
}

Data Fields

file_id (str): Document file_id corresponding to filename in repository.

metadata(str): XML formatted string containing metadata on the document such as the document's title, information about the author and publication, as well as other potentially useful facts such as the number of Urdu words in the document and whether the document contains text in any other languages.

title (str): Title of the document.

num-words (int): Number of words in document.

contains-non-urdu-languages (str): Yes if document contains words other than urdu, No otherwise.

document_body: XML formatted body of the document. Details below:

The document is divided into <section> elements. In general the rule is that a clear visual demarkation in the original text (such as a page break, or a horizontal rule) is used to indicate a section break. A heading does not automatically create a new section.

Each paragraph is a <p> element.

Headings are wrapped in an <heading> element.

Blockquotes are wrapped in a <blockquote> element. Blockquotes may themselves contain other elements.

Lists are wrapped in an <list>. Individual items in each list are wrapped in an <li> element.

Poetic verses are wrapped in a <verse> element. Each verse is on a separate line but is not wrapped in an individual element.

Tables are wrapped in a <table> element. A table is divided into rows marked by <tr> and columns marked by <td>.

Text not in the Urdu language is wrapped in an <annotation> tag (more below).

<p>, <heading>, <li>, <td> and <annotation> tags are inline with the text (i.e. there is no new line character before and after the tag). Other tags have a new line after the opening and before the closing tag.

Due to the use of XML syntax, <, > and & characters have been escaped as &lt;, &gt;, and &amp; respectively. This includes the use of these characters in URLs inside metadata.

Data Splits

All the data is in one split train

Dataset Creation

Curation Rationale

All text in this repository has been selected for quality of language, upholding high editorial standards. Given the poor quality of most published Urdu text in digital form, this selection criteria allows the use of this text for natural language processing, and machine learning applications without the need to address fundamental quality issues in the text.

We have made efforts to ensure this text is as broadly representative as possible. Specifically we have attempted to select for as many authors as possible, and diversity in the gender of the author, as well as years and city of publication. This effort is imperfect, and we appreciate any attempts at pointing us to resources that can help diversify this text further.

Source Data

Initial Data Collection and Normalization

[More Information Needed]

Who are the source language producers?

Makhzan has been started with generous initial donations of text from two renowned journals  Bunyad, from the Gurmani Center of Literature and Languages at the Lahore University of Management Sciences (LUMS), and Ishraq, from the Al-Mawrid Institute. This choice of sources allowed us to get a diversity of voices even in a small initial corpus, while ensuring the highest editorial standards available in published Urdu text. As a result your models can also maintain high linguistic standards.

Annotations

Annotation process

Text is structured and annotated using XML syntax. The ontology of elements used is loosely based around HTML, with simplifications made when HTML's specificity is not needed, and additions made to express common occurences in this corpus that would be useful for linguistic analysis. The semantic tagging of text is editorial in nature, which is to say that another person semantically tagging the text may do so differently. Effort has been made however to ensure consistency, and to retain the original meaning of the text while making it easy to parse through linguistically different pieces of text for analysis.

Annotations have been made inline using an <annotation> element. A language (lang) attribute is added to the <annotation> element to indicate text in other languages (such as quoted text or technical vocabulary presented in other languages and scripts). The attribute value a two-character ISO 639-1 code. So the resultant annotation for an Arabic quote for example, will be <annotation lang="ar"></annotation>. A type (type) attributed is added to indicate text that is not in a language per se but is not Urdu text. URLs for example are wrapped in an <annotation type="url"> tag.

Who are the annotators?

[More Information Needed]

Personal and Sensitive Information

[More Information Needed]

Considerations for Using the Data

Social Impact of Dataset

[More Information Needed]

Discussion of Biases

[More Information Needed]

Other Known Limitations

A few of the files do not have valid XML and cannot be loaded. This issue is tracked here

Additional Information

Dataset Curators

Zeerak Ahmed

Licensing Information

[More Information Needed]

Citation Information

@misc{makhzan,
title={Maḵẖzan},
howpublished = "\url{https://github.com/zeerakahmed/makhzan/}",
}

Contributions

Thanks to @arkhalid for adding this dataset.

Downloads last month
434
Edit dataset card

Models trained or fine-tuned on makhzan