Dataset Preview
Go to dataset viewer
file_id (string)metadata (string)title (string)num-words (int64)contains-non-urdu-languages (string)document_body (string)
"0001.xml"
"<meta> <title>بنگلہ دیش کی عدالت کا تاریخی فیصلہ</title> <author> <name>سید منظور الحسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq February 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7341b7dd1138372db999?articleId=5adb7452b7dd1138372dd6fb&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1694</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"بنگلہ دیش کی عدالت کا تاریخی فیصلہ"
1,694
"No"
"<body> <section> <p>بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ نے طلاق کے ایک مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے علما کے فتووں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے پارلیمنٹ سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ جلد ایسا قانون وضع کرے کہ جس کے بعد فتویٰ بازی قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم بن جائے۔ بنگلہ دیش کے علما نے اس فیصلے پر بھر پور ردِ عمل ظاہرکرتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں علما کی ایک تنظیم ”اسلامک یونٹی الائنس“ نے متعلقہ ججوں کو مرتد یعنی دین سے منحرف اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔</p> <p>فتوے کا لفظ دو موقعوں پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک اس موقع پر جب کوئی صاحبِ علم شریعت کے کسی مئلے کے بارے میں اپنی رائے پیش کرتا ہے۔ دوسرے اس موقع پر جب کوئی عالمِ دین کسی خاص واقعے کے حوالے سے اپنا قانونی فیصلہ صادر کرتا ہے۔ ایک عرصے سے ہمارے علما کے ہاں اس دوسرے موقعِ استعمال کا غلبہ ہو گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس لفظ کا رائے یا نقطۂ نظر کے مفہوم میں استعمال کم و بیش متروک ہو گیا ہے۔ چنانچہ اب فتوے کا مطلب ہی علما کی طرف سے کسی خاص مألے یا واقعے کے بارے میں حتمی فیصلے کا صدور سمجھا جاتا ہے۔ علما اسی حیثیت سے فتویٰ دیتے ہیں اور عوام الناس اسی اعتبار سے اسے قبول کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے نزدیک، چند مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم مذکورہ فیصلے کے بارے میں اپنا تاثر بیان کریں، یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر ان مسائل کا جائزہ لے لیا جائے۔</p> <p>پہلا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون سازی اور شرعی فیصلوں کا اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو قانون کی رو سے اس کے مجاز ہی نہیں ہوتے۔ کسی میاں بیوی کے مابین طلاق کے مألے میں کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ ان کا نکاح قائم ہے یا باطل ہو گیا ہے؟ رمضان یا عید کا چاند نظر آیا ہے یا نہیں آیا؟کوئی مسلمان اپنے کسی قول یا اقدام کی وجہ سے کہیں دائرۂ اسلام سے خارج اورنتیجۃً مسلم شہریت کے قانونی حقوق سے محروم تو نہیں ہو گیا؟ یہ اور اس نوعیت کے بہت سے دوسرے معاملات سر تا سر قانون اور عدالت سے متعلق ہوتے ہیں۔ علما کی فتویٰ سازی کے نتیجے میںیہ امور گویا حکومت اورعدلیہ کے ہاتھ سے نکل کر غیر متعلق افراد کے ہاتھوں میں آجاتے ہیں۔</p> <p>دوسرا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون کی حاکمیت کا تصور مجروح ہوتا ہے اور لوگوں میں قانون سے روگردانی کے رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون اپنی روح میں نفاذ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر اسے نفاذ سے محروم رکھا جائے تو اس کی حیثیت محض رائے اور نقطۂ نظر کی سی ہوتی ہے۔ غیر مجاز فرد سے صادر ہونے والا فتویٰ یا قانون حکومت کی قوتِ نافذہ سے محروم ہوتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں ہوتا۔ چنانچہ فتویٰ اگر مخاطب کی پسند کے مطابق نہ ہو تو اکثر وہ اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ فتویٰ یا قانون بے توقیر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں رہنے والے شہریوں میں قانون ناپسندی کا رجحان فروغ پاتا ہے اور جیسے ہی انھیں موقع ملتا ہے وہ بے دریغ قانون کی خلاف ورزی کر ڈالتے ہیں۔</p> <p>تیسرامسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرغیر مجاز افراد سے صادر ہونے والے فیصلوں کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو ملک میں بد نظمی اور انارکی کا شدید اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جب غیر مجازافراد سے صادر ہونے والے قانونی فیصلوں کو حکومتی سرپرستی کے بغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اپنے عمل سے یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ مرجعِ قانون و اقتدارتبدیل ہو چکا ہے۔ جب کوئی عالمِ دین مثال کے طور پر، یہ فتویٰ صادر کرتا ہے کہ سینما گھروں اور ٹی وی اسٹیشنوں کو مسمار کرنامسلمانوں کی ذمہ داری ہے، یا کسی خاص قوم کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے، یا فلاں کی دی گئی طلاق واقع ہو گئی ہے اور فلاں کی نہیں ہوئی، یا فلاں شخص یا گروہ اپنا اسلامی تشخص کھو بیٹھا ہے تو وہ درحقیقت قانونی فیصلہ جاری کر رہا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، وہ ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست بنانے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ سوائے انتشار اور انارکی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔ یہی وجہ ہے کہ جن علاقوں میں حکومت کی گرفت کمزور ہوتی ہے وہاں اس طرح کے فیصلوں کا نفاذ بھی ہو جاتا ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہتی ہے۔</p> <p>چوتھا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف مذہبی مسالک کی وجہ سے ایک ہی معاملے میں مختلف اور متضاد فتوے منظرِ عام پر آتے ہیں۔ یہ تو ہمارے روز مرہ کی بات ہے کہ ایک ہی گروہ کو بعض علماے دین کافر قرار دیتے ہیں اور بعض مسلمان سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کے منہ سے اگر ایک موقع پر طلاق کے الفاظ تین بار نکلتے ہیں تو بعض علما اس پر ایک طلاق کا حکم لگا کر رجوع کا حق باقی رکھتے ہیں اور بعض تین قرار دے کررجوع کو باطل قرار دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک عام آدمی کے لیے نہایت دشواریاں پیدا کر دیتی ہے۔</p> <p>پانچواں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اگر دین و شریعت سے کچھ خاص دلچسپی نہ رکھتے ہوں تو وہ اس صورتِ حال میں شریعت کی روشنی میں قانون سازی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ کام چل رہا ہے کے اصول پر وہ اس طریقِ قانون سازی سے سمجھوتاکیے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومتی ادارے ضروری قانون سازی کے بارے میں بے پروائی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور قوانین اپنے فطری ارتقا سے محروم رہتے ہیں۔</p> <p>چھٹا مألہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ رائج الوقت قانون اور عدالتوں کی توہین کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب کسی مسئلے میں عدالتیں اپنا فیصلہ سنائیں اور علما اسے باطل قرار دیتے ہوئے اس کے برعکس اپنا فیصلہ صادر کریں تو اس سے عدالتوں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شہری عدلیہ کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا ہے۔</p> <p>ان مسائل کے تناظر میں بنگلہ دیش کی عدالتِ عالیہ کا فیصلہ ہمارے نزدیک، امت کی تاریخ میں ایک عظیم فیصلہ ہے۔ جناب جاوید احمد صاحب غامدی نے اسے بجا طور پر صدی کا بہترین فیصلہ قرار دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی عدالت اگر علما کے فتووں اور قانونی فیصلوں پر پابندی لگانے کے بجائے، ان کے اظہارِ رائے پر پابندی عائدکرتی تو ہم اسے صدی کا بدترین فیصلہ قرار دیتے اور انھی صفحات میں بے خوفِ لومۃ و لائم اس پر نقد کر رہے ہوتے۔</p> <p>موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے علما اپنی اصل ذمہ داری کو ادا کرنے کے بجائے ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر مصر ہیں جن کے نہ وہ مکلف ہیں اور نہ اہل ہیں۔ قرآن و سنت کی رو سے علما کی اصل ذمہ داری دعوت و تبلیغ، انذار و تبشیر اور تعلیم و تحقیق ہے۔ ان کا کام سیاست نہیں، بلکہ سیاست دانوں کو دین کی رہنمائی سے آگاہی ہے؛ ان کا کام حکومت نہیں، بلکہ حکمرانوں کی اصلاح کی کوشش ہے؛ ان کا کام جہاد و قتال نہیں، بلکہ جہادکی تعلیم اور جذبۂ جہاد کی بیداری ہے؛ اسی طرح ان کا کام قانون سازی اور فتویٰ بازی نہیں بلکہ تحقیق و اجتہاد ہے۔ گویا انھیں قرآنِ مجیدکامفہوم سمجھنے، سنتِ ثابتہ کا مدعا متعین کرنے اور قولِ پیغمبر کا منشامعلوم کرنے کے لیے تحقیق کرنی ہے اور جن امور میں قرآن و سنت خاموش ہیں ان میں اپنی عقل و بصیرت سے اجتہادی آراقائم کرنی ہیں۔ ان کی کسی تحقیق یا اجتہاد کو جب عدلیہ یا پارلیمنٹ قبول کرے گی تو وہ قانون قرار پائے گا۔ اس سے پہلے اس کی حیثیت محض ایک رائے کی ہوگی۔ اس لیے اسے اسی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔</p> <p>اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حکم نہیں لگایا جائے گا، کوئی فیصلہ نہیں سنایا جائے گا، کوئی فتویٰ نہیں دیا جائے گا، بلکہ طالبِ علمانہ لب و لہجے میں محض علم و استدلال کی بنا پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں شخص کافر ہے، بلکہ اس کی اگر ضرورت پیش آئے تو یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص کا فلاں عقیدہ کفر ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کا فلاں نقطۂ نظر اسلام کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ نہیں کہا جائے گا فلاں آدمی مشرک ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا فلاں نظریہ یا فلاں طرزِ عمل شرک ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ زید کی طرف سے دی گئی ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو نی چاہییں۔</p> <p>حکم لگانا، فیصلہ سنانا، قانون وضع کرنا اورفتویٰ جاری کرنا درحقیقت، عدلیہ اور حکومت کا کام ہے کسی عالمِ دین یا کسی اور غیر مجاز فرد کی طرف سے اس کام کو انجام دینے کی کوشش سراسر تجاوز ہے۔ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس اصول کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب ”ازالتہ الخفا ء“ میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>”اس زمانے تک وعظ اور فتویٰ خلیفہ کی رائے پر موقوف تھا۔ خلیفہ کے حکم کے بغیر نہ وعظ کہتے تھے اور نہ فتویٰ دیتے تھے۔ بعد میں خلیفہ کے حکم کے بغیر وعظ کہنے اور فتویٰ دینے لگے اور فتویٰ کے معاملے میں جماعت (مجلسِ شوریٰ) کے مشورہ کی جو صورت پہلے تھی وہ باقی نہ رہی——- (اس زمانے میں) جب کوئی اختلافی صورت نمودار ہوتی، خلیفہ کے سامنے معاملہ پیش کرتے، خلیفہ اہلِ علم و تقویٰ سے مشورہ کرنے کے بعد ایک رائے قائم کرتا اور وہی سب لوگوں کی رائے بن جاتی۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ہر عالم بطورِ خود فتویٰ دینے لگا اور اس طرح مسلمانوں میں اختلاف برپا ہوا۔“ (بحوالہ ”اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل“، مولاناامین احسن اصلاحی، ص۳۲)</p> </blockquote> </section> </body> "
"0002.xml"
"<meta> <title>جن اور فرشتہ</title> <author> <name>طالب محسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq January 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb739db7dd1138372dc378?articleId=5adb7427b7dd1138372dd0c5&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1588</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"جن اور فرشتہ"
1,588
"Yes"
"<body> <section> <p>(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: ۶۷۔۷۲)</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن ابن مسعود رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ما من أحد إلا و قد وکل بہ قرینہ من الجن و قرینہ من الملائکۃ۔ قالوا: و إیاک یا رسول اﷲ۔ قال: و إیای، و لکن اﷲ أعاننی علیہ فأسلم، فلا یأمرنی إلا بخیر۔</annotation></p> <p>”ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ اپنے ساتھی ایک جن اور ایک فرشتے کے سپرد کر دیا گیا ہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ، کیا آپ کے ساتھ بھی یہی معا ملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ نے میری مدد کی، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔ لہٰذا وہ مجھے خیر ہی کی باتیں کہتا ہے۔ ”</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">وکل بہ</annotation>: ’<annotation lang="ar">وَکَّل</annotation>‘ کا مطلب اپنا معاملہ کسی کے سپرد کرنا ہے۔ یہاں یہ مجہول ہے اور اس سے مراد ان کا مسلط ہونا ہے۔</p> <p>قرین: ساتھی، جس کا ساتھ ہمہ وقتی ہو۔</p> <heading>متون</heading> <p>اس روایت کے متون میں کچھ فرق تو محض لفظی ہیں۔ مثلا ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">من الجن</annotation>‘ کے بجائے ’<annotation lang="ar">من الشیاطین</annotation>‘ ہے۔ اسی طرح احمد کی ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">قد وکل بہ</annotation>‘ کی جگہ ’<annotation lang="ar">ومعہ</annotation>‘ روایت ہوا ہے۔ لیکن ایک فرق کافی اہم ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ ایک دو روایات میں ’<annotation lang="ar">قرینہ من الملائکۃ</annotation>‘ کا ذکر نہیں ہے۔ کیونکہ زیادہ تر روایات میں یہ جز بیان ہوا ہے۔ چنانچہ اسے راویوں کا سہو ہی قرار دیا جائے گا۔</p> <heading>معنی</heading> <p>اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو کچھ مادی قواعد و ضوابط کا پابند بنا رکھا ہے۔ یہ قواعد ہم اپنے مشاہدے اور تجزیاتی مطالعے کی روشنی میں سمجھ لیتے ہیں۔ جدیددور میں سائنس دانوں نے اس دائرے میں بہت سا کام کیا ہے اور وہ بہت سے قوانین دریافت کر چکے ہیں اوردریافت کرتے رہیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ دنیا صرف ان مادی احوال تک محدود نہیں ہے۔ اس مادی کارخانے کے پیچھے ایک غیر مادی نظام بھی کارفرما ہے۔ اس روایت میں اس غیر مادی دنیا کے ایک معاملے کے بارے میں خبردی گئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ کچھ غیر مادی طاقتیں وابستہ ہیں۔ یہ طاقتیں خیر اور شر کی طاقتیں ہیں۔ اس روایت میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ان طاقتوں کے وابستہ ہونے سے کوئی انسان بھی مستثنٰی نہیں ہے۔</p> <p>قرآنِ مجید میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذی شعور مخلوقات میں فرشتے اورجنات بھی شامل ہیں۔ فرشتے سراپاخیر مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تنفیذ کا ذریعہ بھی ہیں۔ جنات انسانوں کی طرح آزمایش سے گزر رہے ہیں اور انھیں خیروشر کے ترک و اختیار کی پوری آزادی حاصل ہے۔ چنانچہ ان میں صالحین بھی موجود ہیں اور اشرار بھی پائے جاتے ہیں، بلکہ انھی کا ایک فرد ابلیس انسانوں کو گمراہ کرنے کا مشن اختیار کیے ہوئے ہے اور اپنے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے انسانوں اور اپنے ہم جنسوں سے کام بھی لیتا ہے۔ ہمارے نزدیک، ملائکہ کی ذمہ داریوں اور ابلیس اور اس کے لشکر کی چالبازیوں کے نتیجے میں وہ صورتِِ حال پیدا ہو جاتی ہے جس کے لیے اس حدیث میں ایک جن اور ایک فرشتے کے مسلط کیے جانے کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔</p> <p>یہاں یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی رہنمائی اور بھلائی ہی کا بندو بست کیا گیا ہے۔ یہ آزمایش کے لیے جنوں اور انسانوں کو دی گئی آزادی ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ صورتِ معاملہ پیدا ہو جاتی ہے۔</p> <p>قرآنِ مجید میں یہ بات اس طرح بیان نہیں ہوئی، لیکن فرشتوں اور جنات کے انسانی زندگیوں میں کردار اور مداخلت کو مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ انعام میں بتایا گیا ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَ ھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃٌ۔</annotation>(۶: ۶۱)</p> <p>”وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ تم پر اپنے نگران مقرر رکھتا ہے۔“</p> </blockquote> <p>مولانا امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>”مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ خدا اپنی مخلوق کے کسی فرد اور اپنے گلے کی کسی بھیڑ سے غافل ہوتا ہے، سب ہر وقت اسی کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ برابر اپنے نگران فرشتوں کو ان پر مقرر رکھتا ہے، جو ایک پل کے لیے بھی ان کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتے۔“ (تدبرِقرآن، ج۳، ص۷۰)</p> </blockquote> <p>سورۂ رعد میں اس سے بھی واضح الفاظ میں یہ بات بیان ہوئی ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِنّ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہِ یَحْفَظُوْنَہُ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ۔</annotation> (۱۳: ۱۱)</p> <p>”ان پران کے آگے پیچھے سے امرِالٰہی کے مؤکل لگے رہتے ہیں جو باری باری ان کی نگرانی کرتے ہیں۔“</p> </blockquote> <p>اسی طرح جنات کے مسلط ہونے کا مضمون بھی قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے۔ سورۂ زخرف میں ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَھُوَ لَہُ قَرِیْنٌ۔</annotation>(۴۳: ۳۶)</p> <p>”اور جو خدا کے ذکر سے اعراض کر لیتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔“</p> </blockquote> <p>درجِ بالا آیات کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ روایت میں جو بات بیان ہوئی ہے، وہ قرآنِ مجید میں بھی بتائی گئی ہے۔ روایت سے شبہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھی راہ پر لگانے کے ساتھ ساتھ گمراہ کرنے کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔ سورۂ زخرف کی آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ شیطان کا تسلط خود انسان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔</p> <p>نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ میرے جن کو مسلمان کر دیا گیا ہے۔ یہ درحقیقت پیغمبر کی عصمت کی حفاظت کے اس نظام کا نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کارِ دعوت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار، باب ۱۷۔ دارمی، کتاب الرقاق، باب ۲۴۔ مسند احمد، مسند عبداللہ بن عباس، مسند عبد اللہ بن مسعود۔</p> </section> <section> <heading>شیطان اورانسان</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن أنس رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن الشیطان یجری من الانسان مجری الدم۔</annotation></p> <p>”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں اسی طرح گرداں ہے جیسے خون گرداں ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p>یجری مجری۔۔۔: کسی کی جگہ آنا، قائم مقام ہونا۔</p> <heading>متون</heading> <p>بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اپنے ایک عمل کی دلیل کے طور پر تھا۔ روایت کے الفاظ ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن علی بن الحسین رحمہ اﷲکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی المسجد و عندہ أزواجہ فرحن۔ فقال لصفیۃ بنت حیی: لا تعجلی حتی انصرف معک و کان بینہا فی دار اسامۃ۔ فخرج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم معھا۔ فلقیہ رجلان من الانصار۔ فنظرا الی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم، ثم أجازا۔ و قال لہما النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: تعالیا، إنھا صفیۃ بنت حیی۔ قالا: سبحان اﷲ یا رسول اﷲ۔ قال: إن الشیطان یجری من الانسان مجری الدم و إنی خشیت أن یلقی فی أنفسکما شیئا۔</annotation> (بخاری، کتاب الاعتکاف، باب ۱۱)</p> <p>”حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی ازواج بیٹھی خوش ہو رہی تھیں۔ آپ نے صفیہ بنت حیی سے کہا: جلدی نہ کرو میں تمھارے ساتھ لوٹوں گا۔ اور صفیہ کا گھر دارِ اسامہ میں تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے۔ اس موقع پر انصار کے دو آدمی ملے۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، پھر آگے بڑھ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو کہا: ادھر آؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں اسی طرح گرداں ہے جیسے خون گرداں ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ تمھارے دل میں کوئی بات نہ ڈال دے۔“</p> </blockquote> <p>بخاری کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صفیہ کے مسجد میں حضور سے ملنے آنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے۔ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئی تھیں۔</p> <p>معلوم ہوتا ہے کہ صاحب مشکوٰۃ نے یہ روایت مسلم سے لی ہے اور پوری روایت لینے کے بجائے باب کی مناسبت سے مکالمے کا ایک جز لے لیا ہے۔ اس جز کے اعتبار سے متون میں صرف ایک ہی فرق روایت ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’۔۔۔ یجری۔۔۔ مجری‘ کے بجائے ’۔۔۔ یبلغ۔۔۔ مبلغ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ </p> <p>دارمی، ابنِ ماجہ اور احمد میں مروی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ ایک اور موقع پر بھی بولا تھا۔ اس روایت کے الفاظ ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن جابر قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: لا تدخلوا علی المغیبات۔ فان الشیطان یجری من ابن آدم کمجری الدم۔ قالوا: و منک؟ قال: نعم ولکن اﷲأعاننی علیہ فأسلم۔</annotation> (دارمی، کتاب الرقاق، باب ۶۴) </p> <p>”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکیلی بیوی ہو تو گھر میں داخل نہ ہو، کیونکہ شیطان ابنِ آدم میں اس کے خون کی طرح گرداں ہے۔ لوگوں نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا۔“</p> </blockquote> <heading>معنی</heading> <p>شیطان نے جس مشن کو اختیار کیا ہے، اس کے لیے اس کو متعدد کارندے دستیاب ہیں اور وہ انھیں انسانوں کے پیچھے لگائے رکھتا ہے۔ اس روایت میں ان شیاطین کی مستعدی کو واضح کیا گیا ہے۔ یعنی یہ ایک انسان پراپنے افکار کے ساتھ حملہ آور ہونے کی بار بار کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوشش شب وروز میں اتنی بارکی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خون کی گردش سے تشبیہ دی ہے۔ </p> <p>مقصود یہ ہے کہ شیطان کے معاملے میں صالح سے صالح آدمی کو بھی بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔ شیاطین ہر وقت چپکے رہتے ہیں اور دراندازی کے ہر موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ متون کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کے ساتھ کھڑے ہونے پر راہ سے گزرنے والوں پر واضح کرنا ضروری سمجھا کہ آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب انھوں نے کسی سوے ظن کی نفی کرنی چاہی تو آپ نے یہ واضح کیا کہ اسی طرح کے مواقع ہوتے ہیں جب شیاطین فائدہ اٹھاتے اور برائی کا بیج بوتے ہیں۔ اسی طرح آپ نے اکیلی عورت کے گھر میں داخل ہونے سے منع کرتے ہوئے بھی یہی جملہ کہا ہے۔ اس موقع پر بھی آپ کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے لیے برائی کی طرف ابھارنے کے مواقع پیدا نہ کرو۔</p> <p>اس روایت سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ابلیس ہر آدمی کی رگوں میں گرداں رہتا ہے۔ یہ محض غلط فہمی ہے۔ ابلیس کو یہ طاقت نہیں دی گئی کہ وہ ہرجگہ ہروقت موجود رہے۔ یہ اس کے کارندے ہیں جو وہ مختلف لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے اور وہ مسلسل اپنے ہدف کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔</p> <p>کتابیات</p> <p>بخاری، کتاب الاعتکاف، باب ۱۱۔ ۱۲۔ کتاب بدء الخلق باب ۱۰۔ کتاب الاحکام، باب ۲۱۔ مسلم کتاب السلام، باب ۹۔ ترمذی، کتاب الرضاع، باب ۱۶۔ ابوداؤد، کتاب الصوم، باب ۷۹۔ کتاب السنۃ، باب ۱۸۔ کتاب الادب، باب ۸۸۔ ابن ماجۃ، کتاب الصیام، باب ۶۵۔ احمد، مسند انس بن مالک۔ مسند جابر بن عبداللہ۔ حدیث صفیہ ام المؤمنین۔ دارمی، کتاب الرقاق، باب۶۴۔</p> </section> </body> "
"0003.xml"
"<meta> <title>شعائر اللہ اور فطرت اللہ</title> <author> <name>ڈاکٹر وسیم مفتی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq February 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7341b7dd1138372db999?articleId=5adb73f3b7dd1138372dcbcf&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>744</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"شعائر اللہ اور فطرت اللہ"
744
"Yes"
"<body> <section> <p>”شِعار“ اس لباس کو کہتے ہیں جو جسم کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ اس کے مقابل میں ”دِثار“ کا لفظ بولا جاتا ہے یہ وہ لباس ہوتا ہے جو حسبِ ضرورت جسم سے الگ کر کے رکھ لیتے ہیں، جیسے چادر اور اوڑھنی۔ یوں ”شِعار“ کے لفظ میں شِےء لازم کا مفہوم پیدا ہو گیا۔ پھر یہ جنگ اور سفر کے دوران میں پکارے جانے والے کسی خاص نعرے کے لیے استعمال ہونے لگا، جس سے لوگ ایک دوسرے کو بلاتے ہیں یا للکار کر دشمن پر حملہ کر دیتے ہیں، جیسے جنگِ بدر میں مہاجرین یا بنی عبد الرحمن کہہ کر ایک دوسرے کو پکارتے تھے۔ اوس یا بنی عبید اللہ اور خرزج یا بنی عبداللہ پکار کر ایک دوسرے کی ہمت بڑھاتے تھے۔ (البدایہ وا لنھایہ، ابنِ کثیر، ج۳، ص۲۷۴)</p> <p>ایک اور غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’<annotation lang="ar">حٰمٓ۔ لا ینصرون</annotation>‘، شعار مقرر فرمایا۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد) آج کل سلوگن، ماٹو اور ’<annotation lang="en">Coat of arms</annotation>‘ کے الفاظ اس مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عوام کی طاقت ان کے سلوگن میں ہوتی ہے۔ ایسے ہی اسکول اور کالج اپنا ایک ماٹو مقرر کرتے ہیں اور طلبہ کو اسے مدِ نظر رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ ملکی سطح پر قومی ترانہ، قومی جھنڈا، قومی کھیل اور قومی پھول شناخت کا کام انجام دیتے ہیں۔</p> <p>”شِعار“ سے ملتا جلتا لفظ ”شعیرہ“ ہے، جس کی جمع شعائر ہے۔ ”شعیرہ“ کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ قرآنِ مجید میں یہ لفظ حج کے اعمال و مناسک کے لیے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’<annotation lang="ar">ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ</annotation>‘۔ (بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں)۔ (البقرۃ ۲: ۱۵۸) اسلام کے ابتدائی زمانے میں صحابہ سعی بین الصفا و المروہ سے کراہت محسوس کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ شعائر جاہلیت میں سے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مطلع کیا کہ صفا اور مروہ جاہلیت کے نہیں بلکہ اللہ کے شعائر میں شامل ہیں۔ سورۂ حج میں ارشاد ہے: ’<annotation lang="ar">والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر</annotation>۔ (اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے شعائرِ الہٰی میں سے ٹھیرایا ہے۔ تمھارے لیے ان میں بڑے خیر ہیں)۔ (۲۲: ۳۶) پھر یہ بھی فرمایا: ’<annotation lang="ar">لن ینال اللہ لحومھا ولا دمآؤھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم</annotation>‘۔ (نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں اور نہ خون۔ لیکن تمھارے اندر کا تقویٰ اس تک رسائی پاتا ہے)۔ (۲۲: ۳۷) اونٹ عربوں کا محبوب اور سب سے بڑھ کر کام آنے والے جانور تھا۔ یہود اس کی حرمت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اس لیے ہدی کے اونٹوں کے شعائر اللہ میں سے ہونے کا بطور خاص تذکرہ فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ان کے خون اور گوشت کا اللہ کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ جذبہء عبودیت اور خدا ترسی کے ساتھ ان کی قربانی ہی اللہ کو مطلوب ہے۔</p> <p>سنن ابنِ ماجہ، کتاب المناسک میں، زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے اور مسندِ احمد میں ان سے اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے او رکہا: ’<annotation lang="ar">یا محمد مر اصحابک فلیر فعوا اصواتھم بالتلبیۃ فانھا من شعار الحج</annotation>‘۔ (اے محمد، اپنے صحابہ کو حکم فرمائیں کہ تلبیہ پڑھتے ہوئے آواز بلند رکھیں کیونکہ یہ شعارِ حج میں سے ہے)۔</p> <p>ان شواہد سے پتا چلتا ہے کہ قرآن و حدیث میں شعار اور شعائر کے الفاظ خصوصاً مناسکِ حج کے لیے ہی استعمال ہوئے ہیں۔ سورۂ حج میں ان کے لیے حرمت کا لفظ بھی آیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ شعائر محترم اور قابلِ تعظیم ہیں۔ البتہ اردو اور فارسی لٹریچر میں شعائر کا لفظ عام معنوں میں بولا جاتا ہے۔ تمام مذہبی رسوم، عبادات اور مقدس مقامات ان میں شامل ہو جاتے ہیں اور یہ انگریزی لفظ ’<annotation lang="en">Ritual</annotation>‘ کے قائم مقام ہو گیا ہے۔ اسے زبان کا توسع کہا جا سکتا ہے لیکن خود قرآن و حدیث کے جو نظائر ہم نے پیش کیے ہیں ان کا اسلوب بتاتا ہے کہ صرف افعالِ حج ہی شعائر اللہ نہیں ہیں بلکہ یہ شعائر اللہ میں شامل ہیں اور ان میں سے کچھ ہیں۔ جیسے ’<annotation lang="ar">من شعائر اللہ</annotation>‘(شعائر اللہ میں سے۔ شعائر اللہ کی نوعیت والے) ’<annotation lang="ar">من شِعار الحج</annotation>‘ (عملِ حج میں سے) کی تراکیب سے رہنمائی ملتی ہے۔ چونکہ باقی عبادات اور دینی اہمیت رکھنے والے مقامات کا صراحت سے ذکر نہیں ہوا اس لیے ہم ان کو تبعاً شعائر اللہ کہیں گے کیونکہ یہ لغۃً و عرفاً اس معنی میں شامل ہیں۔ افعالِ حج کے شعائر اللہ میں سے ہونے کی صراحت اسی لیے کی گئی کہ زمانہء جاہلیت کی بعض قبیح رسمیں حج میں شامل ہو گئی تھیں اور صحابہء کرام سعی اور قربانی کے بارے میں کچھ شبہات رکھتے تھے۔ مشرکانہ رسوم کی نفی کر کے اصل مناسک کے بارے میں بتا دیا گیا کہ ان کو بغیر جھجک کے بجا لاؤ کیونکہ یہ اللہ کی قربت اور ثواب کا سبب ہیں۔</p> <p>شعائر اللہ کی طرح ایک اور ترکیب فطرت اللہ ہے جو قرآنِ مجید کی سورۂ روم آیت ۳۰ میں آئی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ’<annotation lang="ar">فاقم وجھک للدین حنیفا۔ فطرت اللہ الَتی فطر الناس علیھا</annotation>‘۔ (پس اے نبی، آپ یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف جما دیں اور اس فطرت پر برقرار رہیں جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے) فطرت سے مراد وہ فطری استعداد و صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر بندے میں ودیعت کی ہے۔ اس صلاحیت کو استعمال کر کے آدمی حق و باطل میں امتیاز کرتا ہے اور دینِ توحید تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ مرتے دم تک اور ہوش و حواس کے قائم رہنے تک موجود رہتی ہے اور کوئی اس کو کھرچ نہیں سکتا۔ لاکھ بدلنے کی کوشش کریں، یہ نہیں بدلتی۔ اور جب ہواے نفس اور تزئینِ شیطان کے ڈالے ہوئے حجاب اٹھتے ہیں تو دین کی سیدھی راہ نظر آنے لگتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’<annotation lang="ar">مامن مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یہودانہ او ینصرانہ اویمجسانہ کما تنتج البھیمہ جمآء ھل تحسون فیھا من جدعاء</annotation>‘۔ (ہر نومولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا پارسی بنا ڈالتے ہیں۔ جیسے ایک چوپایہ سالم چوپائے کی شکل میں پیدا ہوتا ہے کیا تم نے دیکھا کہ ان میں کوئی بوچا کانوں سے محروم پیدا ہوا ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز) چوپائے کی مثال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرکانہ رسم واضح کرنے کے لیے دی۔ جب ایک اونٹنی پانچ بچے جن لیتی اور آخری نر ہوتا تو اس کے کان چیر کر اس کو بوچابنا دیتے۔ اس کا دودھ پیتے اور نہ اس پر سواری کرتے۔ جہاں اس کا دل چاہتا چرتی پھرتی۔ اسے ”بحیرہ“ کا نام دیا جاتا۔ (المائدہ ۵: ۱۰۳) اس میں ایک لطیف سا اشارہ کافروں کے اعراض کی طرف بھی ہے کہ وہ کان لپیٹ کر دینِ فطرت سے بہرے ہو چکے ہیں۔</p> <p>یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ نے سورۂ روم کی یہی آیت تلاوت کر دی۔ اس سے پتا چلا کہ فطرت دینِ توحید و اسلام پر قائم ہونا ہے جبکہ شرک و کفر فطرت کی نفی ہے۔</p> <p>فطرت اللہ کا ایک مظہر وہ جسمانی ساخت وہیئت بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس ہیئت کو برقرار رکھیں اور اس کی آرایش اور اصلاح اس طرح کریں کہ یہ ساخت بگڑنے نہ پائے۔ جسمانی فطرت کو قائم رکھنے اور جسم کی صفائی و ستھرائی کے قاعدے، ابو الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی نشانی ہیں اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے ہمیں ملے ہیں۔ صحیح بخاری، کتاب اللباس میں حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں: ’<annotation lang="ar">سمعت النبی، یقول الفطرۃ خمس: الختان والاستحداد و قص الشارب و تقلیم الاظفار و نتف الآباط</annotation>‘۔( میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ پانچ چیزیں فطرت ہیں: ختنہ کرانا، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں چھوٹی کرانا، ناخنوں کو کاٹنا اور بغلوں کے بال اکھاڑنا) صحیح، مسلم کتاب الطہارہ میں حضرت عائشہ کی روایت میں دس چیزیں بیان ہوئی ہیں۔ اس میں ’<annotation lang="ar">اعفاء اللحیۃ</annotation>‘۔ (داڑھی کا بڑھانا۔ مسواک کرنا) ’<annotation lang="ar">استنشاق الماء</annotation>‘۔ (ناک میں پانی چڑھا کر صاف کرنا) ’<annotation lang="ar">غسل البراجم</annotation>‘۔ (انگلیوں کے جوڑوں کی میل دھونا) ’<annotation lang="ar">انتقاص الماء</annotation>‘۔ (پانی سے استنجا کرنا) اور ’<annotation lang="ar">المضمضہ</annotation>‘ (کلی کرنے)کے اضافے ہیں۔ ختنے کا ذکر نہیں ہوا۔ بحیثیتِ مجموعی یہ جسم کی صفائی کرنے اور اسے خوب صورت رکھنے کے ضابطے ہیں۔ طبری نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ وہ خصائل ہیں جن کے ذریعے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جانچا گیا۔ یعنی انھیں ان اطوار کی تعلیم دی گئی۔ (جامع البیان الجزء الاول ص۴۱۴۔ ۴۱۵)</p> <p>اب یہ مسلمان اور کافر کے درمیان نشانِ تفریق بن گئے ہیں۔ چنانچہ ایک آدمی نے اسلام قبول کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ کفر کے بال صاف کرو اور ختنہ کراؤ۔ (مسند احمد۔ مسند المکیین حدیث ابی کلیب)</p> <p>فطرت اللہ پر برقرار رہ کر ہی ہم دینِ اسلام پر قائم رہ سکتے ہیں۔ اسی فطرت سے توحید پھوٹتی ہے، شرک کی آلودگی دور ہوتی ہے اور عقائد کا فساد ختم ہوتا ہے۔ وحی کی تعلیم اسی فطرت کو چمکا کر اسے جلا بخشتی ہے۔ اس فطرت کی روشنی ہی میں ہم اپنے وجود اور اپنی وضع قطع کو اصل حالت میں باقی رکھ سکتے ہیں۔ اس فطرت کے منافی تزئین و آرایش جسم میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ کافر فطرت کو مسخ کر کے خیالات و اعمال کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔</p> <p>ایسے ہی شعائر اللہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ہیں۔ ان کی تعظیم خود اللہ کی تعظیم ہے۔ <annotation lang="ar">ذلک ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب</annotation>‘۔ (ان امور کا اہتمام رکھو۔ اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یاد رکھے کہ یہ چیز دل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہے)۔ (الحج ۲۲: ۳۲) ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ اپنی طرف سے کوئی شعیرہ مقرر کر لیں یا اللہ نے تعظیم کا جو طریقہ بتایا ہے اسے چھوڑ کر اپنی مرضی سے طریقہء تعظیم وضع کر لیں۔ حجرِ اسود کو بوسہ دینا یا اشارے سے استلام کرنا شعیرہ ہے۔ صفا اور مروہ کے درمیان پہلے آہستہ پھر تیز چلنا، شعار ہے۔</p> <p>بیعت اللہ کا طواف کرنا ہی عبادت ہے۔ نماز اور روزے کے جن آداب کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے، انھیں اسی طرح بجا لانا ہی ہمارے لیے عبادت ہے۔ ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی کرنا جائزنہیں۔ اپنی طرف سے نئے مقدس مقامات بنا لینا بھی درست نہیں کیونکہ اس سے شرک کی راہ کھلتی ہے۔</p> <p>فطرت اللہ اور شعائر اللہ دین کے دو پہلو ہیں، جو مختلف بھی ہیں اور آپس میں مربوط بھی۔ کچھ باتیں ہمیں اپنی عقل سے سمجھ میں آجاتی ہیں اور کچھ کتاب و سنت کی رہنمائی سے معلوم ہوتی ہیں۔ ہمارا کام ہے کہ اپنی عقل کو عقلِ سلیم بنائیں اور کتاب و سنت سے ہدایت حاصل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔</p> </section> </body> "
"0004.xml"
"<meta> <title>نومولود اور شیطان</title> <author> <name>طالب محسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq February 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7341b7dd1138372db999?articleId=5adb7427b7dd1138372dd0ca&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1871</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"نومولود اور شیطان"
1,871
"Yes"
"<body> <section> <p>(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: ۶۹۔۷۲)</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن إبی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: ما من بنی آدم مولود إلا یمسہ الشیطان حین یولد۔ فیستھل صارخا من الشیطان، غیر مریم و ابنھا (علیھما الصلٰوۃ و السلام)۔</annotation></p> <p>”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم کی اولاد میں کوئی جنم لینے والا ایسا نہیں ہے جسے شیطان اس کی پیدایش کے موقع پر تنگ نہ کرے۔ چنانچہ وہ شیطان کے چھونے سے چیخ چیخ کر رونے لگتا ہے، سوائے مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے کے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">مس</annotation>: یہ لفظ چھونے کے معنی میں آتا ہے۔ شیطان کے ساتھ نسبت میں اس میں شیطان کی ایذا رسانی کے معنی کا اضافہ ہو جاتا ہے۔</p> <p><annotation lang="ar">یستہل</annotation>: بچے کا پیدایش کے موقع پر رونا۔</p> <p><annotation lang="ar">صارخا</annotation>: بلند آواز سے چیخنا۔ یہ حال ہونے کی سبب سے منصوب ہے۔</p> <heading>متون</heading> <p>صاحبِ مشکوٰۃ نے یہ روایت حضرت مسیح اور حضرت مریم علیہما الصلوۃ و السلام کے استثنا پر ختم کر دی ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس استثنا پر قرآنِ مجید کی آیت: ’<annotation lang="ar">وانی اعیذھا بک و ذریتھا من الشیطان الرجیم</annotation>‘، (میں اسے اور اس کی ذریت کو(اے اللہ،) آپ کی پناہ میں دیتی ہوں)(آلِ عمران ۳:۳۶) سے استشہاد بھی روایت ہوا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ہریرہ نے یہ آیت ’<annotation lang="ar">واقرء وا ان شئتم</annotation>‘ (اگر چاہو تو پڑھو )کے الفاظ بول کر پڑھی ہے۔ باقی فرق محض لفظی ہیں۔ مثلاًصحیح مسلم کی ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">مس</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">یمس</annotation>‘ کی جگہ پر اس کے ہم معنی الفاظ <annotation lang="ar">’نخس</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">نخسۃ</annotation>‘ کے الفاظ روایت ہوئے ہیں۔ بعض روایات میں ’<annotation lang="ar">مس</annotation>‘ کی ایک دوسری صورت ’<annotation lang="ar">مسۃ</annotation>‘ استعمال ہوئی ہے۔ یہ روایت بخاری، مسلم اور مسندِ احمد میں روایت ہوئی ہے۔ اور اس کے ہر متن میں مذکورہ آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صاحبِ مشکوٰۃ نے اس حصے کو نقل نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ استشہاد کچھ زیادہ قوی نہیں ہے۔</p> <p>اس روایت کی تشریح کرتے ہوئے صاحبِ ”فتح الباری“ نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں شیطان کا طریقِ کار بیان ہوا ہے۔ یہ روایت بخاری میں ہے۔ روایت کے الفاظ ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: کل بنی آدم یطعن الشیطان فی جنبیہ باصبعہ حین یولد غیر عیسی بن مریم ذھب یطعن فطعن فی الحجاب۔</annotation> (کتاب بدء الخلق، باب ۱۰)</p> <p>”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمام بنی آدم کوجب وہ پیدا ہوتے ہیں، شیطان ان کے پہلو میں اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے۔ سوائے عیسیٰ بن مریم کے۔ وہ انھیں بھی کچوکا دینے گیا، مگر کچوکا ایک پردے میں دیا۔“</p> </blockquote> <heading>معنی</heading> <p>یہ روایت اپنے مفہوم کے اعتبار سے ایک خبر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیدایش کے موقع پر بچے کے رونے کا سبب کیا ہے۔ اس خبر کے درست یا غلط ہونے کا مدار روایت کی صحت پر ہے۔ بخاری ومسلم کے اس روایت کو منتخب کرلینے کی وجہ سے یہ ایک وقیع روایت ہے۔ لہٰذا اس میں جو خبر دی گئی ہے اسے درست ہی قرار دیا جائے گا۔ قرآنِ مجید میں نفیاً، اثباتاً، یا اشارۃً بھی اس ضمن میں کوئی بات بیان نہیں ہوئی ہے۔ چنانچہ اس روایت کے فہم یا مدعا کو متعین کرنے میں ہمیں قرآنِ مجید سے کوئی مدد نہیں ملتی۔</p> <p>بچے کے رونے کاظاہری سبب طبی ہے۔ اطبا کے مطابق بچے کے سانس کے عمل کا آغاز پھیپھڑوں کے کھلنے سے ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بچہ بلند آواز سے چیخے۔ جب بچہ چیختا ہے تو اس کے پھیپھڑے کھل جاتے ہیں اور تنفس کا عمل ہموار طریقے سے جاری ہو جاتا ہے۔ اطبا کی اس بات اور حدیث کے مفہوم میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ انسان کے لیے جو چیز طبی لحاظ سے ناگزیر ہے، اس کو مہیا کرنے کے مرئی یا غیر مرئی اسباب کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔</p> <p>اصل میں اس حدیث سے جس بات کا ابلاغ مقصود ہے، وہ شیطان کا عمل دخل ہے۔ اس روایت میں بتا دیا گیا ہے کہ انسان کے اس دنیا میں آتے ہی اس کا سابقہ شیاطین سے پڑ جاتا ہے۔ اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شیطان کی انسان سے دشمنی کی شدت کیا ہے۔ ایک بچہ جو ابھی دنیا میں داخل ہوا ہے۔ جس کا ابھی اس خیر و شر کی کشمکش سے کوئی واسطہ نہیں ہے، شیطان اسے بھی نظر انداز نہیں کرتا اور اپنی دشمنی کا اظہار اسے جسمانی تکلیف دے کر کرتا ہے۔</p> <p>قرآنِ مجید میں شیطان کی انسان سے دشمنی اور اسے گمراہ کرنے کا عزم پوری وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ یہ روایت اس دشمنی کے نقطۂ آغاز کا پتا دیتی ہے۔</p> <p>اس روایت میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کا استثنا بھی بیان ہوا ہے۔ یہ استثنا کس وجہ سے ہے ؟یہ نہ اس روایت سے واضح ہوتا ہے اور نہ اس روایت کے کسی اور متن میں اس کی وضاحت بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ بات بھی ایک خبر ہی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس مجمل خبر کو جان لینے کے سوا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ اس کے بارے میں مزید کوئی بات کہنے اور جاننے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔</p> <p>حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جس آیت سے اس استثنا کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے وہ بڑی حد تک قابلِ لحاظ ہے۔ لیکن آیت کا اصل مدعا اس خبر کی تصویب نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں حضرت مریم کی یہ دعا جس محل میں بیان ہوئی ہے، اس سے واضح ہے کہ ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور ان کی بچی اور نواسے کو شیطان کی دراندازیوں سے محفوظ کر دیا گیا، لیکن یہ بات واضح رہے کہ انھوں نے یہ دعا حضرت مریم علیہا السلام کی پیدایش کے بعد کی تھی۔ لہٰذا حضرت مریم کی پیدایش کے موقع کو اس آیت کی وجہ سے مستثنیٰ سمجھنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس روایت کا وہ متن زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے جس میں صرف عیسٰی بن مریم علیہ السلام کا استثنا بیان ہوا ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا پہلے دن ہی سے محفوظ ہونا اس لیے بھی درست ہے کہ انھیں گود ہی میں کلام کرنے کی اہلیت دی گئی تھی اور انھوں نے اپنے پیغمبر ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ قرآنِ مجید میں یہ بات پوری وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ جب کسی شخص پر وحی نازل کرنے کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو زمین آسمان میں اس حق کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کر دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے، حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے یہ اہتمام بچپن ہی سے ہونا چاہیے۔ اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام کو چونکہ ایک ایسے پیغمبر کی ماں بننا تھا، جو بن باپ کے پیدا ہو لہٰذا ان کی خصوصی حفاظت بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ۴۲۔ کتاب تفسیر القرآن، باب ۵۹۔ مسلم، کتاب فضائل القرآن، باب ۴۰۔ مسند احمد، مسندِ ابی ہریرہ۔</p> </section> <section> <heading>بچے کا رونا اور شیطان</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن أبی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: صیاح المولود حین یقع نزغۃ من الشیطان۔</annotation></p> <p>”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے چیخنے کاباعث، جب بچا چیختا ہے، شیطان کا کچوکا ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">نزغۃ</annotation>: کچوکا، انگلی یا کسی نوکیلی چیز کو چبونا۔</p> <heading>متون</heading> <p>اس روایت کا یہی متن روایت ہوا ہے۔ اصل میں یہ پہلی روایت کے مضمون ہی کا مختصر بیان ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>اس روایت کے متعدد پہلو ہم اوپر کی روایت کی شرح میں واضح کر چکے ہیں۔ یہاں صرف ایک پہلو کی توضیح پیشِ نظر ہے۔ ان روایات کے مطالعے سے یہ تاثر ہو سکتا ہے کہ انسان پیدا ہوتے ہی شیطان کے تسلط میں آجاتا ہے۔ اس روایت کا مدعا یہ نہیں ہے۔ شیطان کی صلاحیت صرف وسوسہ اندازی تک محدود ہے۔ انسان اپنے ارادے سے اس وسوسے کو قبول کرتا اور شیطانی راستوں پر چل نکلتا ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب الفضائل، باب ۶۵۔ تفصیلی مضمون کے لیے دیکھیے، ”کتابیات“، حدیثِ سابق۔</p> </section> <section> <heading>شیطان کے کارندے</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن جابر رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إن إبلیس یضع عرشہ علی الماء۔ ثم یبعث سرایاہ یفتنون الناس فأدناھم منہ منزلۃ أعظمھم فتنۃ۔ یجئ أحدھم فیقول: فعلت کذا و کذا۔ فیقول: ما صنعت شیئا۔ قال: ثم یجئ أحدھم فیقول: ما ترکتہ حتی فرقت بینہ و بین إمرأتہ۔ قال: فیدنیہ منہ۔ فیقول: نعم أنت۔ قال الأعمش: أراہ۔ قال: فیلتزمہ۔</annotation></p> <p>”حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے۔ پھر وہ مہمات بھیجتا ہے جو لوگوں کو فتنوں میں ڈالتی ہیں۔ جو ان میں سب سے بڑا فتنہ پرداز ہوتا ہے وہ مرتبے میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک آتا ہے، پھر وہ بیان کرتا ہے: میں نے یوں اور یوں کیا۔ پھر وہ کہتا ہے: تم تو کچھ بھی نہیں کر سکے، پھر ایک اور آتا ہے، آکر کہتا ہے: میں نے اسے نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی گھر والی کے مابین تفریق کرا دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے تم کیا خوب ہو۔ اعمش کہتے کہ میرے خیال میں آپ نے فرمایا تھا: پھر وہ اسے لپٹا لیتا ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">عرش</annotation>: صاحبِ اقتدار کی نشست۔</p> <p><annotation lang="ar">یفتنون</annotation>: آزمایش میں ڈالتے ہیں۔</p> <p><annotation lang="ar">فرقت</annotation>: تفریق کرا دیتے ہیں۔</p> <p><annotation lang="ar">نعم أنت</annotation>: تم کیا خوب ہو۔</p> <p><annotation lang="ar">یلتزم</annotation>: لپٹنا۔ چمٹ جانا۔</p> <heading>متون</heading> <p>اس روایت کا تفصیلی متن یہی ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ باقی کتابوں میں فتنوں کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ صرف یہ خبر دی گئی ہے کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے اور اس کے ہاں بڑے مراتب اسے حاصل ہوتے ہیں جو انسانوں کے لیے سب سے بڑا فتنہ سامان ہوتا ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>یہ روایت بھی ان اخبار میں سے ہے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا گیا اور آپ نے اپنی امت کو باخبر کیا۔ اس روایت میں پہلی بات یہ واضح کی گئی ہے کہ شیطان اپنی فتنہ سامانیوں میں اکیلا نہیں ہے۔ اس کا کارخانہ خود اس پر اور اس کے بہت سے کارندوں پر مشتمل ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ شیطان کے یہ کارندے ہر ہر طرح کی برائیوں کی ترویج کی کوشش کرتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے بار بار وسوسہ اندازی کرتے ہیں۔ تیسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ مرغوب زوجین میں مناقشہ پیدا کرنا ہے۔ انسانی سماج کی خیر و فلاح کا انحصار گھر کے سکون پر ہے۔ اگر یہ سکون غارت ہو تو اس کے نتیجے میں صرف دو مرد وعورت ہی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ ان کے بچے اور ان کے خاندان بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل کی صحیح خطوط پر تربیت شدید طور پر متاثر ہوتی ہے۔</p> <p>یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ میاں بیوی کی مثال ایک نمایاں مثال کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہے۔ شیطان کا ہدف تمام انسانی تعلقات ہیں۔ وہ ہر ہر رشتے کو توڑنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ بہنوں اور بھائیوں، والدین اور اولاد اور دوست اور دوست کے مابین بھی منافرت کے بیج بوتا رہتا ہے۔</p> <p>اس سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہوتا ہے۔ ان روابط کی درستی انسانی اخلاق کی درستی کی مرہون ہے۔ چنانچہ حقیقت میں اس کا اصل ہدف اخلاق کی بربادی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس لیے بیان کر دی ہے کہ ہر انسان اخلاق کے معاملے میں شیطان کی دراندازیوں پر متنبہ رہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب صفۃ القیامہ و الجنہ والنار، باب ۱۷۔ مسند احمد، مسند جابر بن عبداللہ۔</p> </section> <section> <heading>اہلِ عرب اور شیطان</heading> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن الشیطان قد أیس من أن یعبدہ المصلون فی جزیرۃ العرب و لکن فی التحریش بینھم۔</annotation></p> <p>”حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان جزیرۂ عرب کے ان نمازیوں سے اپنی عبادت سے مایوس ہو چکا ہے۔ لیکن باہمی مناقشات میں وہ پر امید ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">المصلون</annotation>: یہ نمازی۔ یہ الف لام عہد کا ہے۔</p> <p><annotation lang="ar">التحریش</annotation>: باہمی تفریق و دشمنی۔</p> <heading>متون</heading> <p>روایت کے متون زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ایک روایت میں ’<annotation lang="ar">فی التحریش</annotation>‘ کے بعد ’<annotation lang="ar">بینھم</annotation>‘ کا اضافہ روایت ہوا ہے۔ مسلم کی ایک روایت کے سوا کسی روایت میں ’<annotation lang="ar">المصلون</annotation>‘ کے ساتھ ’<annotation lang="ar">جزیرۃ العرب</annotation>‘ کی تخصیص بیان نہیں ہوئی۔ امام احمد نے اپنی کتاب میں یہ جملہ حج کے موقع پر آپ کے خطاب کے ایک جزکے طور پر بھی روایت کیا ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>یہ روایت صحابہء کرام رضوان اللہ عنہم کے حوالے سے ایک عظیم الشان بشارت کو بیان کرتی ہے۔ یہاں شیطان کی عبادت سے شرک مراد ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا تصور جس طرح راسخ کر دیا تھا اور صحابہء کرام جس طرح اس پر جازم ہو گئے تھے، یہ خوش خبری اسی کامیابی کا نتیجہ ہے۔</p> <p>اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ قیامت تک کے اہلِ عرب کو کوئی خصوصیت حاصل ہو گئی ہے۔ روایت میں ’<annotation lang="ar">المصلون</annotation>‘ کا لفظ معرف باللام آیا ہے اور یہ لام عہد کا ہے۔ چنانچہ اس روایت میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست تربیت کردہ صحابہ ہی کو ’<annotation lang="ar">المصلون</annotation>‘ قرار دیا گیا ہے۔</p> <p>اس روایت میں ایک اندیشے کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عقائد کے معاملے میں شیطان کا بس تم پر نہیں چلے گا۔ لیکن تمھارے اندر پھوٹ ڈالنے کے معاملے میں اسے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بات کو بیان کرنے سے آپ کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ شرک و توحید کے معاملے میں تمھارے اندر ضروری حساسیت پیدا ہو گئی۔ چنانچہ شیطان کی وسوسہ اندازی اس میں مؤثر نہیں ہو گی۔ لیکن تفریق و انتشار کے معاملے میں تم اس کے فریب میں آ سکتے ہو۔ تمھیں اس معاملے میں بھی پوری طرح چوکنا رہنا چاہیے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار، باب ۱۷۔ ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ۲۵۔ مسند احمد، مسند انس بن مالک۔</p> </section> </body> "
"0005.xml"
"<meta> <title>مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں</title> <author> <name>معز امجد</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq March 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7355b7dd1138372dbc47?articleId=5adb7355b7dd1138372dbc50&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>7335</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں"
7,335
"Yes"
"<body> <section> <p>پچھلے دنوں مولانا زاہد الراشدی صاحب کا ایک مضمون ”غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر‘ ‘تین قسطوں میں روزنامہ ”اوصاف‘ ‘میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں مولانا محترم نے استاذِ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کی بعض آرا پر اظہارِ خیال فرمایا ہے۔ مذکورہ مضمون میں مولانا محترم کے ارشادات سے اگرچہ ہمیں اتفاق نہیں ہے، تاہم ان کی یہ تحریر علمی اختلافات کے بیان اور مخالف نقطہء نظر کی علمی آرا پر تنقید کے حوالے سے ایک بہترین تحریر ہے۔ مولانا محترم نے اپنی بات کو جس سلیقے سے بیان فرمایا اور ہمارے نقطہء نظر پر جس علمی اندازسے تنقید کی ہے، وہ یقیناًموجودہ دور کے علما اور مفتیوں کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ مولانا محترم کے اندازِ بیان اور ان کی تنقید کے اسلوب سے جہاں ہمارے دل میں ان کے احترام میں اضافہ ہوا ہے، وہیں اس سے ہمیں اپنی بات کی وضاحت اور مولانا محترم کے فرمودات کا جائزہ لینے کا حوصلہ بھی ملا ہے۔ اس مضمون میں ہم مولانا محترم کے اٹھائے ہوئے نکات کا بالترتیب جائزہ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ صحیح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔</p> <heading>علماے دین اور سیاست</heading> <p>سب سے پہلی بات، جس پر مولانا محترم نے تنقید کی ہے، وہ علماے دین کے کام کے حوالے سے استاذِ گرامی کی رائے ہے۔ مولانا محترم کے اپنے الفاظ میں، وہ اس طرح سے ہے:</p> <blockquote> <p>علماے کرام خود سیاسی فریق بننے کی بجائے، حکمرانوں اور سیاست دانوں کی اصلاح کریں تو بہتر ہو گا، مولوی کو سیاست دان بنانے کے بجائے، سیاست دان کو مولوی بنانے کی کوشش کی جائے۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم استاذِ گرامی کی اس رائے کے بارے میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ علماے کرام خود سیاسی فریق بننے کی بجائے، حکمرانوں اور سیاست دانوں کی اصلاح کریں، تو اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ یہ موقع ومحل اور حالات کی مناسبت کی بات ہے اور دونوں طرف اہلِ علم اور اہلِ دین کا اسوہ موجود ہے۔ امت میں اکابر اہلِ علم کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جس نے حکمرانوں کے خلاف سیاسی فریق بننے کی بجائے ان کی اصلاح اور رہنمائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ لیکن ایسے اہلِ علم بھی امت میں رہے ہیں، جنھوں نے اصلاح کے دوسرے طریقوں کو کامیاب نہ ہوتا دیکھ کرخود فریق بننے کا راستہ اختیار کیا ہے ... اس لیے اگر کسی دور میں علماے کرام یہ سمجھیں کہ خود فریق بنے بغیر معاملات کی درستی کا امکان کم ہے تو اس کا راستہ بھی موجود ہے اور اس کی مطلقاً نفی کر دینا دین کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔</p> </blockquote> <p>ہمیں مولانا محترم کی محولہ عبارت سے بہت حد تک اتفاق ہے۔ علماے دین کا سیاسی اکھاڑوں میں اترنے کا مسئلہ، جیسا کہ استاذِ گرامی کے رپورٹ کیے گئے بیان سے بھی واضح ہے، حرمت و حلت کا مسئلہ نہیں ہے۔ استاذِ گرامی کا نقطہء نظر یہ نہیں ہے کہ علما کا سیاست کے میدان میں اترنا حرام ہے، اس کے برعکس، ان کی رائے یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں اترنے کے بجائے، یہ ’بہتر ہوگا‘ کہ علماسیاست دانوں کی اصلاح کریں۔ ظاہر ہے کہ مسئلہ بہتر اور کہتر تدبیر کا ہے، نہ کہ حلال و حرام یا مطلقاً نفی کا۔</p> <p>یہاں ہم البتہ، یہ بات ضرور واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں علماے دین کی جو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، وہ اپنی قوم میں آخرت کی منادی کرنا اور اس کے بارے میں اپنی قوم کو انذار کرنا ہے۔ چنانچہ، اپنے کام کے حوالے سے وہ جو رائے بھی قائم کریں اور جس میدان میں اترنے کا بھی وہ فیصلہ کریں، انھیں یہ بات کسی حال میں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ سب سے پہلے اسی ذمہ داری کے حوالے سے مسؤل ٹھیریں گے جو کتابِ عزیز نے ان پر عائد کی ہے۔ اس وجہ سے انھیں اپنی زندگی اور اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ کہیں ان کا یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داری کو ادا کرنے میں رکاوٹ تو نہیں بن جائے گا۔</p> <p>ہم یہاں اتنی بات کا اضافہ ضروری سمجھتے ہیں کہ علماے کرام پر قرآنِ مجید نے اصلاحِ احوال کی نہیں، بلکہ اصلاحِ احوال کی جدوجہد کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ مولانا محترم اگر غور فرمائیں، تو ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ پہلی صورت میں منزلِ مقصود اصلاحِ احوال، جبکہ دوسری صورت میں اصلاح کی جدوجہد ہی راستہ اور اس راستے کا سفر ہی اصل منزل ہے۔ چنانچہ، ہمارے نزدیک، معاملات کی درستی کے امکانات خواہ بظاہر ناپید ہی کیوں نہ ہوں، علماے دین کا کام کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک اس کی ڈالی ہوئی ذمہ داری کو بہتر سے بہتر طریقے پر ادا کرتے چلے جانا ہے۔ اس معاملے میں قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا بطورِ مثال، خاص طور پر ذکر کیا ہے، جو یہود کی ایک بستی میں آخرت کی منادی کرتے تھے۔ یہ یہود کی اخلاقی پستی کا وہ دور تھا کہ اصلاح کی اس جدوجہد کی کامیابی کا سرے سے کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔ چنانچہ، جب بستی والوں نے ان مصلحین سے یہ پوچھا کہ ناامیدی کی اس تاریکی میں وہ یہ کام آخر کس لیے کر تے چلے جا رہے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ۔ (الاعراف ۷: ۱۶۴)</annotation></p> <p>”اس لیے کہ تمھارے رب کے حضور یہ ہمارے لیے عذر بن سکے(کہ ہم نے اپنے کام میں کوئی کمی نہیں کی)۔“</p> </blockquote> <p>قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و انذار کے معاملے میں انبیاے کرام کا اسوہ بھی یہی رہا ہے۔ حالات کی نامساعدت اور کامیابی کی امید کے فقدان کو انھوں نے اپنے لیے کبھی رکاوٹ نہیں سمجھا۔ وہ اللہ کی طرف سے فیصلہ آنے تک اسی کام پر لگے رہے جس کا پروردگارِ عالم نے انھیں حکم دیا تھا۔ اس میدانِ عمل کا اسوۂ حسنہ یہی ہے۔ اس کی راہ پر چل نکلنا ہی منزل اور اس راہ میں اٹھایا ہوا ہر قدم ہی اصل کامیابی ہے۔</p> <heading>زکوٰۃ اور ٹیکس</heading> <p>اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِگرامی نے کہا ہے:</p> <blockquote> <p>زکوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ٹیکسیشن کو ممنوع قرار دے کر حکمرانوں سے ظلم کا ہتھیار چھین لیا ہے۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم اس بیان کے بارے میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>... لیکن کیا کسی ضرورت کے موقع پر (زکوٰۃ کے علاوہ) اور کوئی ٹیکس لگانے کی شرعاً ممانعت ہے؟ اس میں ہمیں اشکال ہے۔ اگر غامدی صاحب محترم اللہ تعالیٰ کی طرف سے زکوٰۃ کے بعد کسی اور ٹیکسیشن کی ممانعت پر کوئی دلیل پیش فرما دیں، تو ان کی مہربانی ہو گی اور اس باب میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔</p> </blockquote> <p>استاذِ گرامی اپنی بہت سی تحریروں میں اپنی رائے کی بنیاد واضح کر چکے ہیں۔ اپنے مضمون ’قانونِ معیشت‘ میں وہ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">”فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُاالزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ۔ (التوبۃ ۹: ۵)</annotation></p> <p>”پھر اگر وہ توبہ کر لیں، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔“</p> <p>سورۂ توبہ میں یہ آیت مشرکینِ عرب کے سامنے ان شرائط کی وضاحت کے لیے آئی ہے جنھیں پورا کر دینے کے بعد وہ مسلمانوں کی حیثیت سے اسلامی ریاست کے شہری بن سکتے ہیں۔ اس میں ’فخلوا سبیلہم‘ (ان کی راہ چھوڑ دو) کے الفاظ اگر غور کیجیے تو پوری صراحت کے ساتھ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آیت میں بیان کی گئی شرائط پوری کرنے کے بعد جو لوگ بھی اسلامی ریاست کی شہریت اختیار کریں، اس ریاست کا نظام جس طرح ان کی جان، آبرو اور عقل و رائے کے خلاف کوئی تعدی نہیں کر سکتا، اسی طرح ان کی املاک، جائدادوں اور اموال کے خلاف بھی کسی تعدی کا حق اس کو حاصل نہیں ہے۔ وہ اگر اسلام کے ماننے والے ہیں، نماز پر قائم ہیں اور زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں تو عالم کے پروردگار کا حکم یہی ہے کہ اس کے بعد ان کی راہ چھوڑ دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ واجب الاذعان کی رو سے ایک مٹھی بھر گندم، ایک بالشت زمین، ایک پیسا، ایک حبہ بھی کوئی ریاست اگر چاہے تو ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لے لینے کے بعد بالجبر ان سے نہیں لے سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت میں فرمایا ہے:</p> <p><annotation lang="ar">امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویقیموا الصلوٰۃ ویؤتوا الزکوٰۃ فاذا فعلوا عصموا منی وماء ہم واموالہم الا بحقہا وحسابہم علی اللہ۔ (مسلم، کتاب الایمان)</annotation></p> <p>”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروںیہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط پوری کر لیں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے، الا یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔“</p> <p>یہی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نہایت بلیغ اسلوب میں اس طرح بیان فرمائی ہے:</p> <p><annotation lang="ar">ان دماء کم واموالکم حرام علیکم لحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا فی بلدکم ھذا۔ (مسلم، کتاب الحج)</annotation></p> <p>”بے شک، تمھارے خون اور تمھارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، ۱؂جس طرح تمھارا یہ دن (یوم النحر) تمھارے اس مہینے (ذوالحجہ) اور تمھارے اس شہر (ام القری مکہ) میں۔“</p> <p>اس سے واضح ہے کہ اس آیت کی رو سے اسلامی ریاست زکوٰۃ کے علاوہ جس کی شرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے مختلف اموال میں مقرر کر دی ہے، اپنے مسلمان شہریوں پر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کر سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:</p> <p><annotation lang="ar">اذا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت ما علیک۔ (ترمذی، کتاب الزکوٰۃ)</annotation></p> <p>”جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو، تو وہ ذمہ داری پوری کر دیتے ہو جو (ریاست کی طرف سے) تم پر عائد ہوتی ہے۔“</p> <p>اسی طرح آپ نے فرمایا ہے:</p> <p><annotation lang="ar">لیس فی المال حق سوی الزکوٰۃ۔(ابنِ ماجہ، کتاب الزکوٰۃ)</annotation></p> <p>”لوگوں کے مال میں زکوٰۃ کے سوا (حکومت کا) کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔“</p> <p>اربابِ اقتدار اگر اپنی قوت کے بل بوتے پر اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ ایک بد ترین معصیت ہے جس کا ارتکاب کوئی ریاست اپنے شہریوں کے خلاف کر سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:</p> <p><annotation lang="ar">لا یدخل الجنۃ صاحب مکس۔(ابو داؤد، کتاب الخراج والامارۃ والفء)</annotation></p> <p>”کوئی ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔“</p> <p>اسلام کا یہی حکم ہے جس کے ذریعے سے وہ نہ صرف یہ کہ عوام اور حکومت کے مابین مالی معاملات سے متعلق ہر کشمکش کا خاتمہ کرتا، بلکہ حکومتوں کے لیے اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا کر قومی معیشت میں عدمِ توازن پیدا کردینے کا ہر امکان بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے۔</p> <p>تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ مال سے متعلق اللہ پروردگارِ عالم کے مطالبات بھی اس پر ختم ہو جاتے ہیں۔ قرآن میں تصریح ہے کہ اس معاملے میں اصل مطالبہ انفاق کا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح یہ فرمایا ہے کہ مال میں زکوٰۃ ادا کر دینے کے بعد حکومت کا کوئی حق باقی نہیں رہتا، اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے:</p> <p><annotation lang="ar">ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ۔(ترمذی، کتاب الزکوٰۃ)</annotation></p> <p>”بے شک، مال میں زکوٰۃ کے بعد بھی (اللہ کا)ایک حق قائم رہتا ہے۔“</p> <p>(ماہنامہ ”اشراق“، اکتوبر ۱۹۹۸، ص۲۹۔ ۳۲)</p> </blockquote> <p>امید ہے کہ دیے گئے اقتباس سے مولانا محترم پر استاذِ گرامی کا استدلال پوری طرح سے واضح ہو جائے گا۔ مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس استدلال میں اگر کوئی خامی دیکھیں، تو ہمیں اس سے ضرور آگاہ فرمائیں۔</p> <heading>جہاد اور مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی</heading> <p>اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِ محترم نے کہا ہے:</p> <blockquote> <p>جہاد تبھی جہاد ہوتا ہے، جب مسلمانوں کی حکومت اس کا اعلان کرے۔ مختلف مذہبی گروہوں اور جتھوں کے جہاد کو جہاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم، استاذِگرامی کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>... جہاد کی مختلف عملی صورتیں اور درجات ہیں اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی ملک یا قوم کے خلاف جہاد کا اعلان اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ایک اسلامی یا کم از کم مسلمان حکومت اس کا اعلان کرے، لیکن جب کسی مسلم آبادی پر کفار کی یلغار ہو جائے اور کفار کے غلبے کی وجہ سے مسلمان حکومت کا وجود ختم ہو جائے یا وہ بالکل بے بس دکھائی دینے لگے، تو غاصب اور حملہ آور حکومت کے خلاف جہاد کے اعلان کے لیے پہلے حکومت کا قیام ضروری نہیں ہو گا اور نہ ہی عملاً ایسا ممکن ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسے مرحلہ میں مسلمانوں کی اپنی حکومت کا قیام قابلِ عمل ہو تو کافروں کی یلغار اور تسلط ہی بے مقصد ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ صورت پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب مسلمانوں کی حکومت کفار کے غلبہ اور تسلط کی وجہ سے ختم ہو جائے، بے بس ہو جائے یا اسی کافر حکومت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ جائے۔</p> <p>سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں کیا کیا جائے گا؟ اگر جاوید غامدی صاحب محترم کا فلسفہ تسلیم کر لیا جائے تو یہ ضروری ہو گا کہ مسلمان پہلے اپنی حکومت قائم کریں اور اس کے بعد اس حکومت کے اعلان پر جہاد شروع کیا جائے۔ لیکن پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہو گا کہ جب مسلمانوں نے اپنی حکومت بحال کر لی ہے تو اب جہاد کے اعلان کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی ہے؟ کیونکہ جہاد کا مقصد تو کافروں کا تسلط ختم کر کے مسلمانوں کا اقتدار بحال کرنا ہے اور جب وہ کام جہاد کے بغیر ہی ہو گیا ہے تو جہاد کے اعلان کا کون سا جواز باقی رہ جاتا ہے؟</p> </blockquote> <p>مولانا محترم کی یہ بات کہ کسی قوم یا ملک کے خلاف جہاد تو بہرحال مسلمان حکومت ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے، ہمارے لیے باعثِ صد مسرت ہے۔ ہم اسے بھی غنیمت سمجھتے ہیں کہ موحودہ حالات میں مولانا نے اس حد تک تو تسلیم کیا کہ کسی ملک وقوم کے خلاف جہاد مسلمان حکومت ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اسی مسئلے میں ہے کہ اگر کبھی مسلمانوں پر کوئی بیرونی قوت اس طرح سے تسلط حاصل کر لے کہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اس کے آگے بالکل بے بس ہو جائے تو اس صورت میں عام مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ واضح رہے کہ ایسے حالات میں مولانا ہی کی بات سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ بیرونی طاقت کے خلاف اگر مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی اپنی سلطنت کے دفاع کا انتظام کرنے کو آمادہ ہو تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی ہی کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد ہی اس بات کی مستحق ہو گی کہ اسے جہاد قرار دیا جائے۔ مزید برآں ایسے حالات میں نظمِ اجتماعی سے ہٹ کر، جتھہ بندی کی صورت میں کی جانے والی ہر جدوجہد، غلط قرار پائے گی۔ اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ مولانا کو ہماری اس بات سے اتفاق ہو گا، تاہم پھر بھی ہم یہ چاہیں گے کہ مولانا ہمارے اس خیال کی تصدیق یا تردید ضرور فرما دیں، تاکہ اس معاملے میں قارئین کے ذہن میں بھی کوئی شک باقی نہ رہے۔ چنانچہ ہمارے فہم کی حد تک، اب ہمارے اور مولانا کے درمیان اختلاف صرف اس صورت سے متعلق ہے جب مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی، کسی بھی وجہ سے، بیرونی طاقت کے تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے سے قاصر ہو۔ مولانا کے نزدیک اس صورت میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنی سلطنت کے دفاع کی جدوجہد کرنی چاہیے، خواہ یہ جدوجہد غیر منظم جتھہ بندی ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ اس ضمن میں جو منظم یا غیر منظم جدوجہد بھی مسلمانوں کی طرف سے کی جائے گی، وہ مولانا محترم کے نزدیک ’جہاد ‘ہی قرار پائے گی۔</p> <p>مولانا محترم نے اپنی بات کی وضاحت میں فلسطین، برِ صغیر پاک وہند، افغانستان اور الجزائرکی کامیاب جدوجہدِ آزادی اور دمشق کے عوام میں تاتاریوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ جہاد کی روح پھونکنے کے معاملے میں ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہم اپنا نقطہء نظر بیان کرنے سے پہلے، تین باتوں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں: اول یہ کہ مولانا محترم نے جتنے واقعات کا حوالہ دیا ہے، ان سب کی مولانا محترم کی رائے سے مختلف توجیہ نہ صرف یہ کہ کی جا سکتی بلکہ کی گئی ہے۔ دوم یہ کہ کسی جدوجہد کی اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی، اس جدوجہد کے شریعتِ اسلامی کے مطابق ہونے کی دلیل نہیں ہوتی اور نہ کسی جدوجہد کی اپنے مقصد کے حصول میں ناکامی اس کے خلافِ شریعت ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ اور سوم یہ کہ عام انسانوں کی بات بے شک مختلف ہو گی، مگر مولانا محترم جیسے اہلِ علم سے ہماری توقع یہی ہے کہ وہ اہلِ علم کے عمل سے شریعت اخذ کرنے کے بجائے، شریعت کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیں۔ اگر شریعتِ اسلامی کے بنیادی ماخذوں، یعنی قرآن و سنت، میں اس عمل کی بنیاد موجود ہے تو اسے شریعت کے مطابق اور اگر ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو بغیر کسی تردد کے اسے شریعت سے ہٹا ہوا قرار دیں۔ ’جہاد‘ یا ’قتال‘ شریعتِ اسلامی کی اصطلاحات ہیں۔ ان اصطلاحات کی تعریف یا ان کے بارے میں تفصیلی قانون سازی کا ماخذ اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبروں کا اسوہ اور ان کی جاری کردہ سنت ہی ہو سکتی ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی جدوجہد ہو یا برِ صغیر پاک و ہند، افغانستان، الجزائریا دمشق کے مسلمانوں کی، یہ جدوجہد جہاد و قتال کی تعریف اور قانون سازی کا ماخذ نہیں، بلکہ خود اس بات کی محتاج ہے کہ شریعت کے بنیادی ماخذوں کی روشنی میں اس کی صحت یا عدمِ صحت کا فیصلہ کیا جائے۔ مولانا یقیناًاس بات سے اتفاق کریں گے کہ شریعتِ اسلامی مسلمانوں کے عمل سے نہیں، بلکہ مسلمانوں کا عمل شریعتِ اسلامی سے ماخوذ ہوناچاہیے۔ وہ یقیناًاس بات کو تسلیم کریں گے کہ شریعتِ اسلامی کے فہم کی اہمیت اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے ہر قسم کے جذبات و تعصبات سے بالا ہو کر پوری دیانت داری کے ساتھ پہلے سمجھ لیا جائے اور پھر پورے جذبے کے ساتھ اس پر عمل کیا جائے۔ جذبات و تعصبات سے الگ ہو کر غور کرنے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بات کو اصولی سطح پر سمجھ لیا جائے۔ اس کے بعد بھی اگر ضروری محسوس ہو تو فلسطین، برصغیر پاک و ہند، افغانستان، الجزائر اور دمشق کے مسلمانوں کی جدوجہد کو شریعت سے مستنبط اصولی رہنمائی کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔</p> <p>اس وضاحت کے بعد، اب آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کی کتاب قرآنِ مجید اور اس کے پیغمبروں کا اسوہ اور ان کی جاری کردہ سنت زیرِ غور مسئلے میں ہمیں کیا رہنمائی دیتے ہیں:</p> <p>سب سے پہلی صورت جو ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان متفق علیہ ہے، یہ ہے کہ کسی قوم و ملک کے خلاف جارحانہ اقدام اسی صورت میں ’جہاد‘ کہلانے کا مستحق ہو گا، جب یہ مسلمانوں کی کسی حکومت کی طرف سے ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھی منظم حکومت کی طرف سے ہونا، اس اقدام کے جواز کی شرائط میں سے ایک شرط ہی ہے۔ بات یوں نہیں ہے کہ مسلمانوں کی منظم حکومت کی طرف سے کیا گیا ہر اقدام ’جہاد‘ ہی ہوتا ہے، بلکہ یوں ہے کہ ’جہاد‘ صرف مسلمانوں کی منظم حکومت ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔</p> <p>دوسری صورت، جس کا اگرچہ مولانا محترم نے اپنی تحریر میں ذکر تو نہیں کیا، تاہم ان کی باتوں سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ اس میں بھی ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ جب کسی مسلمان ریاست کے خلاف جارحانہ اقدام کیا جائے اور اس کا نظمِ اجتماعی اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہو اور اس مقصد کے لیے جارح قوم کے خلاف میدانِ جنگ میں اترے، تو اس صورت میں بھی مسلمانوں کی منظم حکومت ہی کی طرف سے کیا گیا اقدام ’جہاد‘ کہلانے کا مستحق ہو گا۔ اس صورت میں تمام مسلمانوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنے نظمِ اجتماعی ہی کے تحت منظم طریقے سے اپنے ملک و قوم کا دفاع کریں اور اس سے الگ ہو کر کسی خلفشار کا باعث نہ بنیں۔ یہ صورت، اگر غور کیجیے، تو پہلی صورت ہی کی ایک فرع ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ معاملہ خواہ قوم کے دفاع کا ہویا کسی جائز مقصد سے کسی دوسری قوم کے خلاف جارحانہ اقدام کا، دونوں ہی صورتوں میں یہ چونکہ مسلمانوں کی اجتماعیت سے متعلق ہے، لہٰذا اس کے انتظام کی ذمہ داری اصلاً ان کی اجتماعیت ہی پر ہے۔ اس طرح کے موقعوں پر عام مسلمانوں کو دین و شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ملک و قوم کی خدمت کے لیے پیش کر دیں، اپنے حکمرانوں (اولوالامر) کی اطاعت کریں اور ہر حال میں اپنے نظمِ اجتماعی (الجماعۃ) کے ساتھ منسلک رہیں۔ ان کا نظمِ اجتماعی انھیں جس محاذ پر فائز کرے، وہ وہیں سینہ سپر ہوں، ان کا نظمِ اجتماعی جب انھیں پیش قدمی کا حکم دے تو اسی موقع پر وہ پیش قدمی کریں اور اگر کبھی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا اجتماعی نظم انھیں دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دینے کا حکم دے، تو وہ اپنے ملک و قوم ہی کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے، اس ذلت کو بھی برداشت کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔</p> <p>منظم اجتماعی دفاع و اقدام کی ان دو واضح صورتوں کے علاوہ اندرونی یا بیرونی قوتوں کے جبر و استبداد کی بہت سی دوسری صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان اختلاف اصلاً انھی دوسری صورتوں سے متعلق ہے۔ مولانا محترم کے نزدیک، اوپر دی ہوئی دونوں صورتوں کو چھوڑ کر، جبر و استبداد کی باقی صورتوں میں مسلمانوں کو گروہوں، جتھوں اور ٹولوں کی صورت میں اپنا دفاع اور آزادی کی جدوجہد کرنی چاہیے اور اس صورتِ حال میں یہی جدوجہد ’جہاد‘ قرار پائے گی۔ ہمارے نزدیک، مولانا محترم کی یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک، ایسی صورتِ حال میں بھی دین و شریعت کی ہدایت وہی ہے، جو پہلی دو صورتوں میں ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان متفق علیہ ہے۔ شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ دین و شریعت کی رو سے جہاد و قتال کی غیر منظم جدوجہد، بالعموم، جن ہمہ گیر اخلاقی و اجتماعی خرابیوں کو جنم دیتی ہے، شریعتِ اسلامی انھیں کسی بڑی سے بڑی منفعت کے عوض بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ قرآنِ مجید اور انبیاے کرام کی معلوم تاریخ سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جبر و استبداد کی قوتوں کے خلاف، خواہ یہ قوتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، اسی صورت میں تلوار اٹھانے کا حکم اور اس کی اجازت دی، جب مسلمان اپنی ایک خودمختار ریاست قائم کر چکے تھے۔ اس سے پہلے کسی صورت میں بھی انبیاے کرام کو کسی جابرانہ تسلط کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p> <p>جابرانہ تسلط میں حالات کی رعایت سے جو صورتیں پیدا ہوتی ہیں، وہ درجِ ذیل ہیں:</p> <p>۱۔ جہاں محکوم قوم کو اپنے مذہب و عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی حاصل ہو۔</p> <p>۲۔ جہاں محکوم قوم کو اپنے مذہب و عقیدے پر عمل کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو۔</p> <p>پہلی صورت میں جابرانہ تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا ہر محکوم قوم کا حق تو بے شک ہے، مگر یہ دین کا تقاضا نہیں ہے۔ چنانچہ اسی اصول پر حضرتِ مسیح علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت کے موقع پر اگرچہ بنی اسرائیل رومی سلطنت کے محکوم ہو چکے تھے، تاہم اللہ کے اس پیغمبر نے انھیں نہ کبھی رومی تسلط کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے کا مشورہ دیا اور نہ خود ہی ایسی کسی جدوجہد کی بنا ڈالی۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسے حالات میں آزادی کی جدوجہد کو دین میں مطلوب و مقصود کی حیثیت حاصل ہوتی، تو حضرتِ مسیح جیسے اولو العزم پیغمبر سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ دین کے اس مطلوب و مقصود سے گریز کی راہ اختیار کرتے۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسی صورتِ حال میں آزادی کی جدوجہد دین و شریعت کا تقاضا نہیں ہے۔ اس بات سے بہرحال اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ ایسی صورتِ حال میں بھی آزادی کی جدوجہد ہر قوم کا فطری حق ہے۔ وہ یقیناًیہ حق رکھتی ہے کہ اس جابرانہ تسلط سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد کرے۔ مگر چونکہ یہ جدوجہد دین کا تقاضا نہیں ہے، اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ اسے نہ صرف پرامن بنیادوں ہی پر استوار کیا جائے، بلکہ اس بات کا بھی پوری طرح سے اہتمام کیا جائے کہ مسلمانوں کے کسی اقدام کی وجہ سے کسی مسلم یا غیر مسلم کا خون نہ بہنے پائے۔ اس جدوجہد میں مسلمانوں کے رہنماؤں کو یہ بات بہرحال فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دین و شریعت میں جان و مال کی حرمت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ انھیں ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے کسی اقدام کے نتیجے میں جان و مال کی یہ حرمت اگر ناحق پامال ہوئی، تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنے اس اقدام کے لیے اللہ کے حضور میں مسؤل قرار پا جائیں۔ جان و مال کی یہ حرمت اگر کسی فرد یا قوم کے معاملے میں ختم ہو سکتی ہے تو شریعت ہی کی دی ہوئی رہنمائی میں ختم ہو سکتی ہے۔ چنانچہ، ظاہر ہے کہ جبر و تسلط کی اس پہلی صورت میں اگر آزادی کی جدوجہد دین و شریعت کا تقاضا نہیں ہے تو پھر اس کے لیے کیے گئے کسی جارحانہ اقدام کو نہ ’جہاد‘ قرار دیا جا سکتا اور نہ اس راہ میں لی گئی کسی جان کو جائز ہی ٹھیرایا جا سکتا ہے۔</p> <p>دوسری صورت وہ ہے کہ جب کسی دوسری قوم پر جابرانہ تسلط ایسی صورت اختیار کر لے کہ محکوم قوم کے باشندوں کو اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی اجازت حاصل نہ ہو۔ اس صورت میں محکوم قوم کے امکانات کے لحاظ سے دو ضمنی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں:</p> <p>۱۔ جہاں محکوم قوم کے لیے جابرانہ تسلط کے علاقے سے ہجرت کر جانے کی راہ موجود ہو۔</p> <p>۲۔ جہاں محکوم قوم کے لیے ہجرت کی راہ مسدود ہو۔</p> <p>اگر مذہبی جبر اور استبداد کے دور میں لوگوں کے لیے اپنے علاقے سے ہجرت کر جانے اور کسی دوسرے علاقے میں اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی راہ کھلی ہو، تو اس صورت میں دین کا حکم یہ ہے کہ لوگ اللہ کے دین پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کی خاطر، اپنے ملک اور اپنی قوم کو اللہ کے لیے چھوڑ دیں۔ قرآنِ مجید کے مطابق ایسے حالات میں ہجرت نہ کرنا اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو مذہبی جبر اور استبداد کا نشانہ بنے رہنے دینا جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْ فِیْمَ کُنْتُمْ، قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْآ اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَا جِرُوْا فِیْھَا فَاُولٰٓءِکَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا۔ (النساء ۴: ۹۷)</annotation></p> <p>”بے شک، جن لوگوں کو فرشتے اس حال میں موت دیں گے کہ وہ (ظلم و جبر کے باوجود یہیں بیٹھے) اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہوں گے، تو وہ ان سے پوچھیں گے: ’تم کہاں پڑے رہے؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم اپنی زمین میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تھے‘۔ فرشتے ان سے پوچھیں گے: ’کیا اللہ کی زمین اتنی وسیع نہ تھی کی تم اس میں (کہیں اور) ہجرت کر جاتے؟‘ چنانچہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔“</p> </blockquote> <p>ہجرت کی یہی صورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگیوں میں پیش آئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ ہجرت مصر سے صحراے سینا کی طرف تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت نے یثرب کو مدینۃ النبی بننے کا شرف بخشا۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس ہجرت سے پہلے نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثار ساتھیوں کو جبر وا ستبداد کے خلاف کسی جہاد کے لیے منظم کیا اور نہ حضرت موسیٰ ہی نے اس طرح کی کسی جہادی کارروائی کی روح اپنی قوم میں پھونکی۔ اللہ تعالیٰ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا اسوہ یہی ہے کہ ظلم و استبداد کی بدترین تاریکیوں میں بھی انھوں نے فدائین کے جتھے، گروہ اور ٹولے تشکیل دینے کے بجائے، صبر واستقامت سے دار الہجرت کے میسر آنے کا انتظار کیا اور اس وقت تک ظلم و جبر کے خاتمے کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی جب تک اللہ کی زمین پر انھیں ایک خود مختار ریاست کا اقتدار نہیں مل گیا۔</p> <p>اس کے برعکس، اگر ایسے حالات میں دارالہجرت میسر نہ ہو یا کسی اور وجہ سے ہجرت کرنے کی راہیں مسدود ہوں، تو اس صورت میں بھی قرآنِ مجید میں دو امکانات بیان ہوئے ہیں: اولاًیہ کہ ان حالات میں ظلم و استبداد کا نشانہ بنے ہوئے یہ لوگ کسی منظم اسلامی ریاست کو اپنی مدد کے لیے پکاریں۔ ایسے حالات میں قرآنِ مجید نے اس اسلامی ریاست کو، جسے لوگ مدد کے لیے پکاریں، یہ حکم دیا ہے کہ اگر اس کے لیے اس جابرانہ اور استبدادی حکومت کے خلاف ان مسلمانوں کی مدد کرنی ممکن ہو تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ یہ مدد کرے، الا یہ کہ جس قوم کے خلاف اسے مدد کرنے کے لیے پکارا جا رہا ہے، اس کے اور مسلمانوں کی اس ریاست کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہو۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِہِمْ مِّنْ شَیْ ءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلاَّ عَلٰی قوَمٍْ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (الانفال ۸: ۷۲)</annotation></p> <p>”وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، مگر جنھوں نے ہجرت نہیں کی، تم پر ان کی اس وقت تک کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے جب تک وہ ہجرت کر کے تمھارے پاس نہ آ جائیں۔ البتہ، وہ اگر تمھیں دین کے نام پر مدد کے لیے پکاریں، تو تم پر ان کی مدد کرنے کی ذمہ داری ہے، الا یہ کہ جس قوم کے خلاف وہ تمھیں مدد کے لیے پکاریں، اس کے اور تمھارے درمیان کوئی معاہدہ موجود ہو۔ اور یاد رکھو، جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“</p> </blockquote> <p>پھر ایک اور مقام پر وقت کی اسلامی ریاست کو ان مجبور مسلمانوں کی مدد پر ابھارتے ہوئے فرمایا:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیّاً وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا۔(النساء ۴: ۷۵)</annotation></p> <p>”اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار، ہمیں اس ظالم باشندوں کی بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہمدرد پیدا کر اور ہمارے لیے اپنے پاس سے مددگار کھڑے کر۔“</p> </blockquote> <p>ثانیاً یہ کہ ظلم و استبداد کے ان حالات میں ان کے لیے مسلمانوں کی کسی منظم ریاست سے مدد طلب کرنے یا کسی ریاست کے ان کی مدد کو آنے کا امکان موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ لوگ صبر و استقامت کے ساتھ ان حالات کو برداشت کریں، یہاں تک کہ آں سوے افلاک سے ان کی آزمایش کے خاتمے کا فیصلہ صادر ہو جائے۔ قرآنِ مجید میں حضرت شعیب علیہ الصلاۃ والسلام کی سرگزشت بیان کرتے ہوئے ان کے حوالے سے فرمایا ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">وَاِنْ کَانَ طَآءِفَۃٌ مِّنْکُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَطَآءِفَۃٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَ ھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ۔(الاعراف ۷: ۸۷)</annotation></p> <p>”اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس بات پر ایمان لے آئے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ اسے ماننے سے انکار کرے، تو (ایمان لانے والوں کو چاہیے کہ) وہ صبر کریں، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اور یقیناً اللہ بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔“</p> </blockquote> <p>مولانا حمید الدین فراہی اسی صورتِ حال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>... اپنے ملک کے اندر بغیر ہجرت کے جہاد جائز نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت اور ہجرت سے متعلق دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد اگر صاحبِ جمیعت اور صاحبِ اقتدار امیر کی طرف سے نہ ہو تو وہ محض شورش و بد امنی اور فتنہ و فساد ہے۔ (مجموعہء تفاسیرِ فراہی، ص۵۶)</p> </blockquote> <p>قرآنِ مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاے کرام کے حوالے سے، ظلم و استبداد کی مذکورہ صورتیں اور ان صورتوں کا مقابلہ کرنے میں اللہ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا اسوہ بیان ہوا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا محترم پیغمبروں کے اس اسوہ سے جہاد و قتال کے احکام کا استنباط کرنے کے بجائے، مسلمان قوموں کی تحریک ہاے آزادی ہی سے جہاد کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام اخذ کرنے پر کیوں مصر ہیں۔ ہم البتہ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جب کبھی غیر مقتدر گروہوں کی طرف سے تلوار اٹھائی گئی ہے، تو اس اقدام نے آزادی کی تحریک کو کوئی فائدہ پہنچایا ہو یا نہ پہنچایا ہو، ظلم و جبر کی قوتوں کو بے گناہ شہریوں، عورتوں اور بچوں پر ظلم و جبر کے مزید پہاڑ گرانے کا جواز ضرور فراہم کیا ہے۔ لوگ خواہ اس قسم کی قتل و غارت کو جبر و استبداد کی بڑھتی ہوئی لہریں قرار دے کر اپنے دلوں کو کتنی ہی تسلی دیتے رہیں، ہمیں یہ بات بہرحال فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دین و شریعت سے اعراض کر کے، اپنی بے تدبیری اور بے حکمتی کے ساتھ امن و امان کی فضا خراب کر کے ظلم و جبر کو اخلاقی جواز فراہم کرنا، کسی حال میں بھی ظلم و جبر کا ساتھ دینے سے کم نہیں ہے۔</p> <heading>فتووں پر پابندی</heading> <p>اخبار کے بیان کے مطابق، استاذِگرامی نے کہا ہے:</p> <blockquote> <p>فتووں کا بعض اوقات انتہائی غلط استعمال کیاجاتا ہے۔ اس لیے فتویٰ بازی کو اسلام کی روشنی میں ریاستی قوانین کے تابع بنانا چاہیے اور مولویوں اور فتووں کے خلاف بنگلہ دیش میں (عدالت کا) فیصلہ صدی کا بہترین فیصلہ ہے۔</p> </blockquote> <p>مولانا محترم استاذِ گرامی کی اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>جہاں تک اس شکایت کا تعلق ہے کہ ہمارے ہاں بعض فتووں کا انتہائی غلط استعمال ہوتا ہے ہمیں اس سے اتفاق ہے۔ ان فتووں کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، وہ بھی ہمارے سامنے ہیں اور ان خرابیوں کی اصلاح کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی قابلِ عمل فارمولا سامنے آتا ہے تو ہمیں اس سے بھی اختلاف نہیں ہو گا۔ مگر کسی چیز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سرے سے اس کے وجود کو ختم کر دینے کی تجویز ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ چونکہ ہماری عدالتوں میں رشوت اور سفارش اس قدر عام ہو گئی ہے کہ اکثر فیصلے غلط ہونے لگے ہیں اور عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اس لیے ان عدالتوں میں بیٹھنے والے ججوں سے فیصلے دینے کا اختیار ہی واپس لے لیا جائے۔ یہ بات نظری طور پر تو کسی بحث و مباحثے کا خوب صورت عنوان بن سکتی ہے، مگر عملی میدان میں اسے بروے کار لانا کس طرح ممکن ہے؟...</p> <p>اور ”فتویٰ“ تو کہتے ہی کسی مسئلے پر غیر سرکاری ”رائے“ کو ہیں کیونکہ کسی مسئلہ پر حکومت کا کوئی انتظامی افسر جو فیصلہ دے گا، وہ ”حکم“ کہلائے گااور عدالت فیصلہ صادر کرے گی تو اسے ”قضا“ کہا جائے گا اور ان دونوں سے ہٹ کر اگر کوئی صاحبِ علم کسی مسئلے کے بارے میں شرعی طور پر حتمی رائے دے گاتو وہ ”فتویٰ“ کہلائے گا۔ امت کا تعامل شروع سے اسی پر چلا آ رہا ہے کہ حکام حکم دیتے ہیں، قاضی حضرات عدالتی فیصلے دیتے ہیں اور علماے کرام فتوی صادر کرتے ہیں۔</p> </blockquote> <p>ہم مولانا محترم کو یقین دلاتے ہیں کہ استاذِگرامی کی مذکورہ رائے بھی اسی قسم کے فتووں سے متعلق ہے، جسے مولانا محترم نے بھی ’فتووں کا انتہائی غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا محترم کسی نامعلوم وجہ سے اس ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے بھی کسی ’غیر سرکاری‘ فارمولے ہی کے قائل ہیں. جبکہ ہمارے استاذ کے نزدیک فتووں کا یہ ’انتہائی غلط استعمال‘ بالعموم، جن مزید ’انتہائی غلط‘ نتائج و عواقب کا باعث بنتا اور بن سکتا ہے، اس کے پیشِ نظراس کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح پرسخت قانون سازی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔</p> <p>ہم یہاں یہ ضروری محسوس کرتے ہیں کہ قارئین پر صحیح اور غلط قسم کے فتووں کا فرق واضح کر دیں۔ اس کے بعد قارئین خود یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ موجودہ دور کے علما میں فتووں کا صحیح اور ’انتہائی غلط‘ استعمال کس تناسب سے ہوتا ہے۔</p> <p>اس میں شبہ نہیں کہ علماے کرام کی سب سے بڑی اور اہم ترین ذمہ داری، عوام و خواص کے سامنے دینِ متین کی شرح و وضاحت کرنا اور مختلف صورتوں اور احوال کے لیے دین و شریعت کا فیصلہ ان کے سامنے بیان کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ علما ہی کا کام ہے کہ وہ نکاح و طلاق کے بارے میں شریعت کے احکام کی وضاحت کریں، یہ انھی کا مقام ہے کہ وہ قتل و سرقہ، قذف و زنا اور ارتداد وغیرہ کے حوالے سے شریعت کے احکام بیان کریں۔ اس میں شبہ نہیں کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اس طرح کے تمام احکام کی شرح و وضاحت کا کام علما ہی کو زیب دیتا ہے اور وہی اس کے کرنے کے اہل ہیں۔ علما کے اس کام پر پابندی لگانا تو درکنار، اس کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنا بھی بالکل ممنوع قرار پانا چاہیے۔ تاہم، ریاستی سطح پر قانون سازی اور اس قانون سازی کے مطابق مقدمات کے فیصلے کرنے کا معاملہ محض مختلف علما کے رائے دے دینے ہی سے پورا نہیں ہو جاتا۔ اس کے آگے بھی کچھ اہم مراحل ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں، سب سے پہلے ملک کی پارلیمان کو مختلف علما کی رائے سامنے رکھتے اور ان کے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے، ملکی سطح پر قانون سازی کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، ملکی سطح پر قانون سازی کرتے ہوئے تمام مکاتبِ فکر اور علما کی رائے کو سامنے تو رکھا جا سکتا ہے، مگر ان سب کی رائے کو مانا نہیں جاسکتا۔ رائے بہرحال وہی نافذالعمل ہوگی اور ملکی اور ریاستی قانون کا حصہ بنے گی، جو پارلیمان کے نمائندوں کے نزدیک زیادہ صائب اور قابلِ عمل سمجھی جائے گی۔ قانون سازی کے اس عمل کے بعد بھی علما کا یہ حق تو بے شک برقرار رہتا ہے کہ وہ قانون و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے، اپنی بات کو مزید واضح کرنے، اس کے حق میں مزید دلائل فراہم کرنے اور پارلیمان کے نمائندوں کو اس پر قائل کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں۔ لیکن ریاست کا نظم یہ تقاضا بہرحال کرتا ہے کہ اس میں جس رائے کے مطابق بھی قانون سازی کر دی گئی ہو، اس میں بسنے والے تمام لوگ عوام خواص اور علما اس قانون کا پوری طرح سے احترام کریں اور اس کے خلاف انارکی اور قانون شکنی کی فضا پیدا کرنے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ پارلیمان کے اختیار کردہ قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش ہونے والے مقدمات کے فیصلے کرنے کا ہے۔ یہ مرحلہ، دراصل، قانون کے اطلاق کا مرحلہ ہے۔ اس میں عدالت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ فریقین کی رائے سن کر، ملکی پارلیمان کی قانون سازی کی روشنی میں حق و انصاف پر مبنی فیصلہ صادر کرے۔</p> <p>جن فتووں کو ہم ’انتہائی غلط‘ سمجھتے اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو جن کے شر و فساد سے بچانے کے لیے قانون سازی کو نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں ضروری سمجھتے ہیں، ان کا تعلق دراصل قانون سازی اور اس کے بعد کے مراحل سے ہے۔</p> <p>چنانچہ، مثال کے طور پر، یہ بے شک علماے دین کا کام ہے کہ وہ دین و شریعت کے اپنے اپنے فہم کے مطابق لوگوں کو یہ بتائیں کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے، اور اس میں غلطی کی صورت میں کون کون سے احکام مترتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی علما ہی کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ ان کے فہم کے مطابق کن کن صورتوں میں طلاق واقع ہو جاتی اور کن کن صورتوں میں اس کے وقوع کے خلاف فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ریاستی سطح پر طلاق کے بارے میں قانون سازی، ہما شما کی رائے پر نہیں بلکہ پارلیمان کے نمائندوں کی اکثریت کے کسی ایک رائے کے قائل ہو جانے پر منحصر ہو گی۔ پارلیمان میں طے پا جانے والی یہ رائے بعض علما کی رائے کے خلاف تو ہو سکتی ہے، مگر ریاست میں واجب الاطاعت قانون کی حیثیت سے اسی کو نافذ کیا جائے گا اور، علما سمیت، تمام لوگوں پر اس کی پابندی کرنی لازم ہو گی۔ مزید برآں، یہ فیصلہ کہ زید یا بکر کے کسی خاص اقدام سے اس کی طلاق واقع ہو گئی یا اس کا نکاح فسخ ہو گیا ہے، ایک عدالتی فیصلہ ہے، جس کا دین کی شرح و وضاحت اور علماے کرام کے دائرہء کار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر یہ فیصلے بھی علماے کرام ہی کو کرنے ہیں، تو پھر مولانا محترم ہی ہمیں سمجھا دیں کہ عدالتوں کے قیام اور ان میں مقدمات کو لانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔</p> <p>اسی طرح، یہ علماے دین ہی کا کام ہے کہ وہ اپنے نقطہء نظر کے مطابق ارتداد کی صورتوں اور ان کی مجوزہ سزاؤں کو پارلیمان سے منوانے کی کوشش کریں۔ تاہم یہ ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کے خلاف، پارلیمان کے نمائندوں کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیں۔ مزید برآں، کسی خاص شخص کو مرتد قرار دینا بھی، چونکہ قانون کے اطلاق ہی کا مسئلہ ہے، اس لیے یہ بھی علما کے نہیں بلکہ عدالت کے دائرے کی بات ہے، جو اسے مقدمے کے گواہوں کے بیانات، ان پر جرح اور ملزم کو صفائی کا پورا پورا موقع دے دینے کے بعد انصاف کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی کرنا چاہیے۔ یہی معاملہ کسی فرد یا گروہ کو کافر یا واجب القتل قرار دینے اور اس سے ملتے جلتے معاملات کا ہے۔ چنانچہ، فتووں کے ’انتہائی غلط استعمال‘ ہی کی ایک مثال بنگلہ دیشی عدالت کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد اگلے ہی روز سامنے آئی، جب بنگلہ دیشی علما کے ایک گروہ نے فیصلہ کرنے والے جج کو ’مرتد‘ اور، ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں، واجب القتل قرار دے دیا۔ مولانا محترم ہی ہمیں یہ بتائیں کہ اگر اس قسم کے فتوے کو سن کر کوئی مذہبی انتہا پسند فیصلہ کرنے والے جج کو، صفائی کا موقع دیے یا اس کی بات کو سمجھے بغیراپنے طور پر خدا نخواستہ، قتل کر دے تو کیا ریاست کو ایسے انتہا پسندوں کے ساتھ ساتھ فتووں کا یہ ’انتہائی غلط استعمال‘ کرنے والے علما کو کوئی سزا نہیں دینی چاہیے؟ مولانا محترم کا جواب یقیناًنفی ہی میں ہو گا، کیونکہ اس معاملے میں ان کا ’فتویٰ‘ تو یہی ہے کہ فتووں کے اس ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے بھی اگر کوئی اقدام ہونا چاہیے، تو وہ ’غیر سرکاری سطح‘ ہی پر ہونا چاہیے۔</p> <p>مولانا کی مذکورہ رائے کے برعکس، ہمارے نزدیک، فتووں کے اس طرح کے ’انتہائی غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لیے ’سرکاری سطح پر‘ مناسب قانون سازی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔</p> <p>اس ضمن میں علما صحابہ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ انھیں تقسیمِ میراث کے معاملے میں عول و رد کے قانون سے اتفاق نہیں تھا۔ تاہم ان کا یہ اختلاف ہمیشہ جائز حدود کے اندر ہی رہا۔ وہ اپنے اس اختلاف کا ذکر اپنے شاگردوں میں تو کرتے تھے اور بے شک یہ ان کا فطری حق بھی تھا، مگر انھوں نے نہ اپنے اس اختلاف کی وجہ سے قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی، نہ اس کی بنیاد پر حکومت کے خلاف پراپگینڈہ کیا اور نہ ریاست میں تقسیمِ وراثت کے معاملے میں اپنے فتوے جاری کیے۔</p> <p>علماے کرام کے فتوے بھی جب تک ان اخلاقی اور قانونی حدود کے اندر رہیں، اس وقت تک وہ یقیناًخیر و برکت ہی کا باعث بنیں گے۔ مگر ان حدود سے باہرپارلیمان اور عدالتوں کے کام میں مداخلت کرنے والے فتووں پر پابندی نہ صرف مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت کے لیے ضروری ہے، بلکہ منظم اجتماعی زندگی کی تشکیل کے لیے ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔</p> <p>اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا فرمائے اور غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو دنیا اور آخرت میں محفوظ و مامون رکھے۔</p> <p /> </section> </body> "
"0006.xml"
"<meta> <title>برے خیالات اور وسوسہ</title> <author> <name>طالب محسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq March 2001</name> <year>2001</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7355b7dd1138372dbc47?articleId=5adb7427b7dd1138372dd0cf&amp;year=2001&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1356</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"برے خیالات اور وسوسہ"
1,356
"Yes"
"<body> <section> <p>(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث:۷۳۔ ۷۴)</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">عن ابن عباس: أن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم جاء ہ رجل، فقال: إنی أحدث نفسی بالشئ لأن أکون حممۃ أحب إلی من أن أتکلم بہ۔ قال: الحمد ﷲ الذی رد أمرہ إلی الوسوسۃ۔</annotation>”حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں اپنے آپ سے ایسی باتیں کرتا ہوں کہ میں ان کو بیان کرنے سے کوئلہ ہونے کو زیادہ پسند کروں گا۔ آپ نے فرمایا: اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس کے معاملے کو وسوسے کا معاملہ بنا دیا۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">حممۃ</annotation>: کوئلہ، راکھ، ہر وہ چیز جو آگ میں جل چکی ہو۔<annotation lang="ar">رد أمرہ </annotation>: لفظی مطلب ہے: اس نے اس کے معاملے کو لوٹا دیا۔ یہاں اس سے مراد ایک معاملے کو دوسری صورت دے دینا ہے۔</p> <heading>متون</heading> <p>یہ روایت مختلف الفاظ میں ملتی ہے، لیکن ان متون میں کوئی فرق ایسا نہیں ہے جو کسی بڑے معنوی فرق پر دلالت کرتا ہو۔ مثلاً بعض روایات میں ’<annotation lang="ar">إنی أحدث نفسی بالشی‘ کے بجائے ’إنا أحدنا یجد فی نفسہ یعرض بالشی</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">إنی لأجد فی صدری الشء</annotation>‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ لیکن یہ تینوں جملے ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں۔ البتہ ایک روایت میں ’الشء‘ کے ساتھ ’من أمر الرب‘ کی وضاحت بھی بیان ہوئی ہے۔ یہ وضاحت کسی راوی کا اضافہ بھی ہو سکتی ہے۔ بعض روایات میں ’<annotation lang="ar">لأن أکون حممۃ</annotation>‘ کے بجائے ’<annotation lang="ar">لأن أخر من السماء</annotation>‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ دوسرا جملہ بھی شدت ندامت ہی کو ظاہر کرتا ہے۔ سوال کے ساتھ ساتھ حضور کا جواب بھی مختلف الفاظ میں روایت ہوا ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’<annotation lang="ar">الحمد ﷲ</annotation>‘ کا کلمہ بولنے سے پہلے اپنی مسرت کو ’<annotation lang="ar">اﷲ اکبر، اﷲ اکبر</annotation>‘ کہہ کر ظاہر کیا تھا۔ اس تفصیلی جواب کے برعکس ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ آپ نے صرف ’ذاک صریح الایمان‘ کے الفاظ کہہ کر سائل کے صادق جذبے کی تصویب کی تھی۔ اس کے برعکس ایک روایت میں حضور کے جواب کے الفاظ یہ ہیں:’<annotation lang="ar">إن الشیطان قد أیس من أن یعبد بأرضی ھذہ و لکنہ قد رضی بالمحقرات من أعمالکم</annotation>‘، (شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ اس سر زمین میں اس کی پوجا کی جائے گی۔ البتہ، وہ تم سے چھوٹے گناہوں کے ارتکاب کے معاملے میں مطمئن ہے۔) یہ تمام جوابات بھی مختلف اسالیب میں ایک ہی حقیقت کا بیان ہیں۔ کچھ روایتوں میں ’<annotation lang="ar">ردأمرہ</annotation>‘ کی جگہ ’<annotation lang="ar">ردکیدہ</annotation>‘ کی ترکیب مروی ہے۔ ’<annotation lang="ar">کید</annotation>‘ کا لفظ ’<annotation lang="ar">امر</annotation>‘ کے مقابلے میں شیطانی در اندازی کے لیے زیادہ موزوں ہے۔</p> <heading>معنی</heading> <p>اس روایت میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کی سوچ اسے بسا اوقات انتہائی پر خطر وادیوں میں لے جاتی ہے۔ وہ ایسی باتیں سوچنے لگ جاتا ہے جنھیں بیان کرنا اسے بہت ہی ناگوار گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس پر آسمان گر جائے یا وہ جل کر راکھ ہو جائے، لیکن اس کی اس سوچ سے کوئی آگاہ نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والا یہ سائل کسی ایسی ہی سوچ میں مبتلا ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس نے نے آپ کے سامنے بھی اپنی سوچ بیان نہیں کی۔ صرف ایک سچے اور مخلص مؤمن کی طرح اپنی پریشانی بیان کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سائل کی الجھن یہ تھی کہ کہیں اس طرح کی سوچ پر اس کی گرفت تو نہیں ہو گی۔ یعنی وہ کسی گناہ کا مرتکب تو نہیں ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس روایت کے ایک متن میں یہ تصریح ہو گئی ہے کہ اس کی سوچ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں تھی، لیکن اس تحدید کی کوئی اصولی اہمیت نہیں ہے۔ غلط، پر خطر اور بری سوچ کا دائرہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس کی صفات، اس کے سنن، قانونِ آزمایش، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، شخصیت، ان کی دی ہوئی تعلیمات، یعنی عقائد، شریعت اور اس سے آگے اخلاقی رویوں ہر ہر چیز پر محیط ہے۔ شیطان دین کی ہر چیز کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا اور آدمی کے ایمان وعمل کو متزلزل کرنے کے درپے رہتا ہے۔ چنانچہ بندۂ مؤمن کا اپنی سوچ کے بارے میں حساس اور بیدا رہنا اس کے ایمان اور عمل کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس روایت میں دوسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ اس طرح کی سوچ پر گرفت کی نوعیت کیا ہے۔ سائل نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسے اپنی یہ سوچ بہت ناگوار گزری ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس سوچ کی اپنی ذات کے ساتھ نسبت کے ظاہر ہونے کو بھی کسی حال میں پسند نہیں کرے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پریشانی اور پشیمانی کی اس صورت کو دیکھ کر یک گونہ مسرت کا اظہار کیا ہے۔ اور اس کے اطمینان کے لیے یہ واضح فرما دیا ہے کہ اگر آدمی ذہن میں آنے والے غلط خیالات پر اس طرح پریشان اور پشیمان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سوچ کے مضر اثرات سے بچا لیتے ہیں۔ یہ سوچ جہاں پیدا ہوتی ہے وہیں مرجھا کر مر جاتی ہے۔ یعنی ایمان و عمل کی خرابی کی صورت میں کوئی برگ و بار لائے بغیر اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب یہ معاملہ ہو تو یہ سوچ محض وسوسہ ہے اور اس پر کوئی گرفت نہیں ہو گی۔ شارحین کے سامنے روایت کے جملے ’رد أمرہ‘ کے بارے میں یہ سوال ہے کہ اس میں وارد ترکیب ’أمرہ‘، کا مرجع کیا ہے۔ یعنی ”اس کے معاملے“ سے شیطان کا معاملہ مرادہے یا اشارہ بندۂ مومن کے معاملے کی طرف ہے۔ اوپر بیان کردہ تصریح سے واضح ہے کہ اس سے اشارہ بندۂ مومن ہی کی طرف ہے۔ اس روایت سے نکتے کی بات یہ سامنے آتی ہے کہ شیاطین نفسِ انسانی میں مختلف قسم کے خیا لات اور خواہشات کے وجود پذیر ہونے کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ بندۂ مؤمن اگر اپنی باگ ان کے ہاتھ میں دے دے تو اس کا نتیجہ اس کے ایمان میں خرابی یا عمل میں برائی کی صورت میں نکلے گا۔ یہ چیز اسے گناہ گار بنا دے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور اگر وہ ان خیالات یا خواہشات کو پوری طاقت سے رد کر دیتا ہے تو یہ چیز وسوسے سے آگے نہیں بڑھے گی اور وسوسے پر کوئی گرفت نہیں ہے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>ابوداؤد، کتاب الادب، باب ۱۱۸۔ احمد، عنِ ابن عباس۔ تفسیر ابنِ کثیر، ج۴ ص۵۷۶۔ صحیح ابنِ حبان، ج۱۴، ص۶۷۔ موارد الظمان، ج۱، ص۴۱۔ مسندِ ابی عوانہ، ج۱، ص۷۷۔ مسندِ عبد بن حمید، ج۱، ص۲۳۲۔ المعجم الکبیر، ج۱۰، ص۳۳۸۔ ج۲۰، ص۱۷۲، لا بن مندہ، ج۱، ص۴۷۱۔</p> </section> <section> <p>شیاطین اور فرشتے</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">و عن ابن مسعود، قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن للشیطان لمۃ بابن آدم و للملک لمۃ۔ فأما لمۃ الشیطان فایعاد بالشر و تکذیب بالحق۔ وأما لمۃ الملک فإیعاد بالخیر و تصدیق بالحق۔ فمن وجد ذلک فلیعلم أنہ من اﷲ فلیحمد اﷲ۔ و من وجد الأخری، فلیتعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم۔ ثم قرأ: (الشیطان یعدکم الفقر و یأمرکم بالفحشاء)۔</annotation></p> <p>”حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابنِ آدم (کے نفس میں) دخل اندازی کا موقع شیطان کو بھی حاصل ہے اور فرشتے کو بھی۔ شیطان کی در اندازی برے حالات کا ڈراوا (دے کر) حق کے جھٹلانے پر آمادہ کرنا ہے اور فرشتے کی دخل اندازی خیر کی توقع (پیدا کر کے) حق کی تصدیق پر ابھارنا ہے۔ جو اسے پائے، وہ یہ جان لے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ جو دوسری چیز پائے وہ اللہ تعالیٰ کی شیطان مردود سے پناہ مانگے۔ پھر آپ نے یہ آیہء کریمہ تلاوت کی: <annotation lang="ar">الشیطان یعدکم الفقر و یأمرکم بالفحشاء</annotation>۔ (شیطان تمھیں فقر سے ڈراتا اور بے حیائی کا کہتا ہے۔ اور اللہ تم سے اپنی جناب میں مغفرت اور عنایت کا وعدہ کرتا ہے اور وہ سمائی والا اور جاننے والا ہے۔“</p> </blockquote> <heading>لغوی مباحث</heading> <p><annotation lang="ar">إیعاد</annotation>: یہ ’<annotation lang="ar">وعد</annotation>‘ سے باب افعال میں مصدر ہے اس کا مطلب ہے دوسرے کو کسی بات کا یقین دلانا۔<annotation lang="ar">لمۃ</annotation>: ’<annotation lang="ar">لم</annotation>‘ کا مطلب ہے: اترنا، اثر انداز ہونا اور قریب ہونا۔ یہاں یہ شیطانی وساوس کے لیے آیا ہے۔</p> <heading>متون</heading> <p>مختلف کتابوں میں اس روایت کا ایک ہی متن روایت ہوا ہے۔ جو تھوڑے بہت فرق ہیں، ان کی نوعیت بھی محض لفظی فرق کی ہے۔ مثلاً ’<annotation lang="ar">بابن آدم</annotation>‘ کی جگہ ’<annotation lang="ar">من ابن آدم</annotation>‘ اور ’<annotation lang="ar">فمن وجد ذلک</annotation>‘ کے بجائے ’<annotation lang="ar">فمن أحس من لمۃ الشیطان اور من لمۃ الملک</annotation>‘ کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں۔</p> <heading>معنی</heading> <p>بنیادی طور پر یہ روایت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جہاں شیاطین انسانوں کے نفوس میں برائیوں کے لیے تحریک پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں وہیں فرشتے نیکیوں کے لیے آمادگی کا جذبہ ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات ہم اس سے پہلے حدیث: ۶۷میں واضح کر چکے ہیں کہ یہ بات صرف حدیث ہی میں نہیں آئی ہے، بلکہ قرآنِ مجید میں بھی بیان ہو ئی ہے۔ چنانچہ یہ نکتہ تو ایک طے شدہ نکتہ ہے۔ اس روایت میں پیشِ نظر نکتہ شیطانی اور ملکوتی تاثیرات میں فرق اور نوعیت کو واضح کرنا ہے، تاکہ اہلِ ایمان شیطان کے اصل ہتھیار سے واقف ہو جائیں اور اس کا مقابلہ کرنا ان کے لیے آسان ہو۔ شیطان کا اصل حربہ یاس اور ناامیدی پیدا کر کے مستقبل کی ناکامیوں اور پیش آنے والی تکلیفوں کے خوف میں مبتلا کر کے برائی کے راستے پر لگانا ہے۔ اسی بات کو واضح کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’ایعاد بالشر‘ کی ترکیب اختیار کی ہے۔ انسانی فطرت صالح ہے۔ لہٰذا اس کا اصل میلان اعمالِ صالحہ ہی کی طرف ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے کہ انسان کو صحیح کاموں سے ہٹا کر برے کاموں کی طرف لگایا جائے۔ اس کے لیے ایک راستہ یہ ہے کہ آدمی کو مختلف اندیشوں میں مبتلا کر دیا جائے تاکہ وہ صحیح اصول پر فیصلہ کرنے کے بجائے مایوسی اور خوف کی حالت میں شیطان کا مطلوب فیصلہ کرے۔ شیطان کا دوسرا حربہ انسان کے جنسی جذبے کو بے راہ رو کرنا ہے۔ جنسی جذبے کو قابو کرنے میں حیا کے جذبے کو مؤثر ترین عامل کی حیثیت حاصل ہے۔ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اس جذبے کو غیر مؤثر کر دے تاکہ انسان بے حیائی کی راہ پر چلنے میں عار محسوس نہ کرے اور نتیجۃً معاشرے میں فحاشی پھیل جائے۔ فرشتے اس کے برعکس انسان کو امید دلاتے ہیں۔ اسے خدا کی رحمت اور مغفرت پانے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ امید آدمی کی مثبت سرگرمیوں کا منبع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے ناامیدی کی کیفیت پیدا کرنے کے بجائے آدمی کی توجہ خدا کی رحمتوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ مایوسی کے نتیجے میں آدمی کفر کی راہ اختیار کرتا اور خدا کی رحمت کے بھروسے پر آدمی حق کو اختیار کرتا اور اس کے نتیجے میں آنے والی مشکلات اور مصیبتوں کو دیکھ کر اس کے قدم متزلزل نہیں ہوتے۔</p> <heading>کتابیات</heading> <p>ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ۳۔ تفسیر قرطبی ج۳، ص۳۲۹۔ ج۷، ص۱۸۶۔ تفسیر طبری، ج۳، ص۸۸۔ صحیح ابنِ حبان، ج۳، ص۲۷۸۔ موارد الظمآن، ج۱، ص۴۰۔ السنن الکبری، ج۶، ص۳۰۵۔ مسند ابی یعلیٰ، ج۸، ص۴۱۷۔</p> </section> </body> "
"0007.xml"
"<meta> <title>نیا پاکستان مبارک!</title> <author> <name>خورشید احمد ندیم</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq June 2013</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb73a7b7dd1138372dc6e2?articleId=5adb7463b7dd1138372dda93&amp;year=2013&amp;decade=2010</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1429</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"نیا پاکستان مبارک!"
1,429
"Yes"
"<body> <section> <p>وزیراعظم: نواز شریف، قائد حزب اختلاف: عمران خان۔</p> <p>پاکستان کے لیے اس سے بہتر سیاسی مستقبل ممکن نہیں تھا۔ اگر یہ ترتیب الٹ جاتی تو بھی میری راے یہی ہوتی۔ وزیراعظم: عمران خان، قائد حزب اختلاف: نواز شریف۔ پاکستان کے عوام نے بالعموم جس ذہنی بلوغت کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے جمہوریت پر میرے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ نواز شریف نے ۱۱ مئی کی شب جو تقریر کی، وہ بلاشبہ ایک نئے پاکستان کی خبر دے رہی ہے۔ شہباز شریف کے چند جملوں نے فضا میں جو تلخی پیدا کر دی تھی میاں صاحب کی بصیرت نے بڑی حد تک اس کا تدارک کر دیا۔ انھوں نے زبان حال سے بتا دیا کہ شہباز شریف صاحب وزارت عظمیٰ کے لیے جتنے غیر موزوں ہو سکتے ہیں، نواز شریف صاحب اتنے ہی موزوں ہیں۔ قومی راہنما ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ آدمی کے دل میں ایک کائنات سما جائے۔ مخالفین کے لیے بھی وہ سراپا شفقت ہو۔ عمران خان کو بھی اس باب میں ابھی بہت تربیت کی ضرورت ہے۔</p> <p>نواز شریف اور عمران خان اب ایک نئے عرصۂ امتحان میں ہیں۔ دونوں کے لیے نئے چیلنج ہیں۔ نواز شریف نے باہمی تعاون کی بنیاد پر ایک نئے عہد کے خدوخال واضح کرنے کی کوشش کی، تاہم عمران خان اس کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے۔ یہ ان کی راے ہے جن کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ میں ان کی بات پر اعتبار کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہا ہوں۔ اس میں بھی پاکستان کے لیے خیر ہے۔ جمہوریت کی کامیابی کے لیے اچھی اپوزیشن اتنی ہی ضروری ہے جتنی اچھی حکومت۔ اس وقت یہ خطرہ موجود ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر اپوزیشن کا منصب لے سکتے ہیں۔ نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ یہ منصب عمران خان کے پاس رہے۔</p> <p>نئے پاکستان میں نواز شریف صاحب اور عمران خان کو جو چیلنج درپیش ہوں گے، ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پہلے نواز شریف، عوامی تائید کے ساتھ اس وقت ان کے دو مثبت امتیازات ہیں۔ ایک یہ کہ انھیں پاکستان کے کاروباری طبقے کا اعتماد حاصل ہے۔ دوسرا بین الاقوامی برادری کا۔ آج پاکستان کو ایسے ہی راہنما کی ضرورت تھی۔ اس سے پاکستان کی معیشت اور ساکھ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس زاد راہ کے ساتھ وہ جس سفر کا آغاز کریں گے، اس میں انھیں چار اہم سوالات کا سامنا ہو گا۔ ان کا جواب دیے بغیر وہ سیاست کے پل صراط سے کامیابی کے ساتھ نہیں گزر پائیں گے۔</p> <p>۱۔ پاکستان سکیورٹی سٹیٹ بنا رہے گا یا اسے ایک فلاحی جمہوری ریاست بننا ہے؟ آٹھ ماہ پہلے میں نے ایک بالمشافہ ملاقات میں بھی میاں صاحب کے سامنے یہ سوال رکھا تھا۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب ہے خارجہ پالیسی سمیت قومی ترجیحات کا نئے سرے سے تعین۔ انتخابات کی رات ’’دنیا‘‘ ٹی وی پر امتیاز گل صاحب نے ایک اہم بات کہی۔ ان کے بقول میاں صاحب نے اپنے قریبی حلقے سے یہ کہا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک فیصلہ کن بات کریں گے: مشرقی اور مغربی سرحدوں پر وہ پرانی حکمت عملی برقرار رکھیں گے یا نئی حکمت عملی ترتیب دینے کا موقع دیں گے۔ اگر وہ پرانی حکمت عملی پر اصرار کریں گے تو میاں صاحب حکومت بنانے سے معذرت کر لیں گے اور اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب ہے، وہ پاکستان کے بنیادی مسئلے کا ادراک رکھتے ہیں اور اصلاح چاہتے ہیں۔ گویا اس صورت میں پاکستان کو اس مسلسل غلطی سے نجات مل سکتی ہے جسے سٹریٹجک ڈیپتھ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ اگر میاں صاحب یہ کام کر گزرے تو بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اس سے پاکستان کے بہت سے مسائل کا تدارک ہو سکے گا۔</p> <p>۲۔ دہشت گردی کے بارے میں وہ کیا حکمت عملی اپناتے ہیں؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج یہ پاکستان کی جنگ ہے۔ قاتل اور مقتول، حملہ آور اور ہدف دونوں پاکستانی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے وابستگان پاکستانی ہیں اور بشیر بلور اور منیر اورکزئی جیسے لوگ بھی پاکستانی۔ اس میں امریکا فریق نہیں ہے۔ یہ طے ہے کہ دہشت گردی سے نجات کے بغیر پاکستان ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ نہ سیاسی حوالے سے نہ معاشی اعتبار سے۔ نواز شریف صاحب کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ کیا وہ طالبان کو پاکستان میں حملوں سے باز رکھ پائیں گے؟</p> <p>۳۔ کیا وہ امن و امان اور بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل پر ایک سال میں قابو پا سکیں گے؟ اگر عوام کو ان دو مسائل سے نجات نہ مل سکی یا بڑی حد تک ان کا خاتمہ نہ ہوا تو نواز شریف صاحب کی عوامی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے آئے گا۔ اس وقت عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے۔ پیپلز پارٹی کو دراصل اسی کی سزا ملی ہے۔ شہباز شریف صاحب کے دعووں کی بازگشت اب باربار سنی جاتی رہے گی۔ </p> <p>۴۔ کیا وہ مرکزی حکومت میں دوسرے صوبوں کو نمائندگی دے پائیں گے؟ حکومت کی ساکھ اور وفاق کی یک جہتی کے لیے ضروری ہے کہ تمام صوبوں کے لوگ حکومت کا حصہ ہوں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو شامل کیے بغیر مرکزی حکومت کتنی نمائندہ ہو گی؟ میاں صاحب کو ابتدا میں ہی اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے۔</p> <p>عمران خان کو بھی چار سوالات کا سامنا ہے:</p> <p>۱۔ کیا وہ ملک کو ایک موثر اور مثبت اپوزیشن دے پائیں گے؟ انتخابی مہم کے دوران میں عمران خان کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ سابقہ پارلیمنٹ میں موجود کسی جماعت سے اتحاد نہیں کریں گے۔ یہ انداز نظر غیر جمہوری ہے۔ اگر وہ خیر میں تعاون اور شر میں عدم تعاون کے اصول کو پیش نظر رکھیں تو اس سے ان کی پذیرائی میں اضافہ ہو گا اور اس طرح وہ اس نظام کی تقویت کا باعث بن سکیں گے۔ </p> <p>۲۔ انھیں یہ بات بھی سامنے رکھنا ہو گی کہ اس نظام میں تبدیل ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انھیں عوامی فیصلے کی تائید کرنی چاہیے اور کھلے دل کے ساتھ ن لیگ کی کامیابی کا اعتراف کرنا چاہیے۔ نواز شریف نے ان کے حادثے پر جس ردعمل کا اظہار کیا، اس سے ان کو اخلاقی برتری ملی ہے۔ اگر عمران خان بھی ہسپتال میں شہباز شریف صاحب سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا۔ پارلیمنٹ میں موثر اپوزیشن کا کردار نبھانے کے لیے انھیں خوے دل نوازی پیدا کرنی ہو گی۔</p> <p>۳۔ انتخابی کامیابی کو وہ کس حد تک پارٹی کی مضبوطی کے لیے استعمال کر پائیں گے؟ انتخابات میں تحریک انصاف کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی ہے۔ وہ بہت آگے جا سکتی ہے۔ اس کے لیے عمران خان کو پارٹی پر بہت توجہ دینا ہو گی۔ میرا یہ خیال اب پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ملک ایک بار پھر دو جماعتی نظام کی طرف بڑھے گا اور ان میں ایک جماعت تحریک انصاف ہو گی، تاہم اس کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کس طرح اپنے خدو خال کا تعین کرتی ہے۔</p> <p>۴۔ کیا تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں امید کی کرن بن سکتی ہے؟ امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف صوبے میں حکومت بنائے گی۔ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے۔ اب طالبان کے ساتھ ان کا براہ راست پالا پڑنے والا ہے۔ اس مرحلے پر وہ جو پالیسی اختیار کریں گے، اس سے ان کے مستقبل کا تعین ہو گا۔ اچھی حکومت اور امن میں توازن پیدا کرنا ہی امتحان ہے۔ ڈرون حملوں اور قبائلی علاقوں میں آپریشن جیسے مسائل پر انھیں عملی کردار ادا کرنا ہے۔ ان کے سامنے ایک مجلس عمل کا وجود ہے۔ جن کے نعروں اور عمل میں تفاوت نے ان کے سیاسی مستقبل کو تاریک کر دیا۔ خیبر پختون خوا کی حکومت اعزاز سے کہیں زیادہ ایک چیلنج ہے۔</p> <p>آج ایک نیا پاکستان ہمارے سامنے ہے۔ کئی نئے حقائق جنم لے چکے۔ ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھٹو اور اینٹی بھٹو کی نفسیات سے باہر آ گیا ہے۔ نئی عصبیتیں جنم لے رہی ہیں۔ جمہوریت اسی کا نام ہے کہ سماج متحرک رہتا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان دونوں کے ساتھ امید وابستہ ہے۔ پاکستان کو آج امید ہی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ یہ جمہوریت کا تحفہ بھی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ہم کس طرح اس کی قدر افزائی کرتے ہیں۔</p> </section> </body> "
"0008.xml"
"<meta> <title>روزہ</title> <author> <name>جاوید احمد غامدی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq July 2013</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb735ab7dd1138372dbdef?articleId=5adb7364b7dd1138372dbe0b&amp;year=2013&amp;decade=2010</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>2762</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"روزہ"
2,762
"No"
"<body> <section> <p>نماز اور زکوٰۃ کے بعدتیسرا فرض روزہ ہے۔ یہ روزہ کیا ہے؟ انسان کے نفس پر جب اس کی خواہشیں غلبہ پالیتی ہیں تو وہ اپنے پروردگار سے غافل اور اس کے حدود سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی غفلت اور بے پروائی کی اصلاح کے لیے ہم پر روزہ فرض کیا ہے۔ یہ عبادت سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینے تک کی جاتی ہے۔ رمضان آتا ہے تو صبح سے شام تک ہمارے لیے کھانے پینے اور بیویوں کے ساتھ خلوت کرنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس نے یہ عبادت ہم سے پہلی امتوں پر بھی اسی طرح فرض کی تھی جس طرح ہم پر فرض کی ہے۔ ان امتوں کے لیے، البتہ اس کی شرطیں ذرا سخت تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے جس طرح دوسری سب چیزوں کو ہلکا کیا، اسی طرح اس عبادت کو بھی بالکل معتدل بنا دیا ہے۔ تاہم دوسری سب عبادتوں کے مقابلے میں یہ اس لیے ذرا بھاری ہے کہ اس کا مقصد ہی نفس کے منہ زور رجحانات کو لگام دے کر ان کا رخ صحیح سمت میں موڑنا اور اسے حدود کا پابند بنا دینا ہے۔ یہ چیز، ظاہر ہے کہ تربیت میں ذرا سختی ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔</p> <p>سحری کے وقت ہم کھا پی رہے ہوتے ہیں کہ یکایک اذان ہوتی ہے اور ہم فوراً ہاتھ روک لیتے ہیں۔ اب خواہشیں کیسا ہی زور لگائیں، دل کیسا ہی مچلے، طبیعت کیسی ہی ضد کرے، ہم ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جن سے روزے کے دوران میں ہمیں روک دیا گیا ہے۔ یہ ساری رکاوٹ اس وقت تک رہتی ہے، جب تک مغرب کی اذان نہیں ہوتی۔ روزہ ختم کر دینے کے لیے ہمارے رب نے یہی وقت مقرر کیا ہے۔ چنانچہ مغرب کے وقت موذن جیسے ہی بولتا ہے، ہم فوراً افطار کے لیے لپکتے ہیں۔ اب رات بھر ہم پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ رمضان کا پورا مہینا ہم اسی طرح گزارتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وقتی طور پر اگرچہ کچھ کمزوری اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی تو محسوس کرتے ہیں، لیکن اس سے صبر اور تقویٰ کی وہ نعمت ہم کو حاصل ہوتی ہے جو اس زمین پر اللہ کا بندہ بن کر رہنے کے لیے ہماری روح کی اسی طرح ضرورت ہے، جس طرح ہوا اور پانی اور غذا ہمارے جسم کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے نہیں جیتا، بلکہ اس بات سے جیتا ہے جو اس کے رب کی طرف سے آتی ہے۔</p> <p>یہ روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے، لیکن وہ اگر مرض یا سفر یا کسی دوسرے عذر کی بنا پر رمضان میں یہ فرض پورا نہ کر سکے تو جتنے روزے چھوٹ جائیں، ان کے بارے میں اجازت ہے کہ وہ رمضان کے بعد کسی وقت رکھ لیے جائیں۔ روزوں کی تعداد ہرحال میں پوری ہونی چاہیے۔</p> <p>اس روزے سے ہم بہت کچھ پاتے ہیں۔ سب سے بڑی چیز اس سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ ہماری روح خواہشوں کے زور سے نکل کر علم و عقل کی ان بلندیوں کی طرف پرواز کے قابل ہو جاتی ہے، جہاں آدمی دنیا کی مادی چیزوں سے برتر اپنے رب کی بادشاہی میں جیتا ہے۔</p> <p>۱س مقصد کے لیے روزہ ان سب چیزوں پر پابندی لگاتا ہے جن سے خواہشیں بڑھتی ہیں اور لذتوں کی طرف میلان میں اضافہ ہوتا ہے۔ بندہ جب یہ پابندی جھیلتا ہے تو اس کے نتیجے میں زہد و فقیری کی جو حالت اس پر طاری ہو جاتی ہے، اس سے وہ دنیا سے ٹوٹتا اور اپنے رب سے جڑتا ہے۔ روزے کا یہی پہلو ہے جس کی بنا پر اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں اپنے ہاتھ سے دوں گا، اور فرمایا کہ روزے دار کے منہ کی بو مجھے مشک کی خوش بو سے زیادہ پسند ہے۔</p> <p>ہر اچھے کام کا اجر سات سو گنا ہو سکتا ہے، لیکن روزہ اس سے بھی آگے ہے۔ اس کی جزا کیا ہو گی؟ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ جب بدلے کا دن آئے گا تو وہ یہ بھید کھولے گا اور خاص اپنے ہاتھ سے ہر روزے دار کو اس کے عمل کا صلہ دے گا۔ پھر کون اندازہ کر سکتا ہے کہ آسمان و زمین کا مالک جب اپنے ہاتھ سے صلہ دے گا تو اس کا بندہ کس طرح نہال ہو جائے گا۔</p> <p>دوسری چیز اس سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان کے وجود میں فتنے کے دروازے بڑی حد تک بند ہو جاتے ہیں۔ یہ زبان او رشرم گاہ، یہی دونوں وہ جگہیں ہیں جہاں سے شیطان بالعموم انسان پر حملہ کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مجھے ان دو چیزوں کے بارے میں ضمانت دے گا جو اس کے دونوں گالوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان ہیں، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ روزہ ان دونوں پر پہرا بٹھا دیتا ہے اور صرف کھانا پینا ہی نہیں، زبان اور شرم گاہ میں حد سے بڑھنے کے جتنے میلانات ہیں، ان سب کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی کے لیے وہ کام بہت آسان ہو جاتے ہیں جن سے اللہ کی رضا اور جنت مل سکتی اور ان کاموں کے راستے اس کے لیے بڑی حد تک بند ہو جاتے ہیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور جن کی وجہ سے وہ دوزخ میں جائے گا۔ یہی حقیقت ہے جسے اللہ کے نبی نے اس طرح بیان کیا ہے کہ روزوں کے مہینے میں شیطان کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔</p> <p>تیسری چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان کا اصلی شرف، یعنی ارادے کی قوت اس کی شخصیت میں نمایاں ہو جاتی ہے اور اس طریقے پر تربیت پالیتی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی طبیعت میں پیدا ہونے والے ہر ہیجان کو اس کے حدود میں رکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ارادے کی یہ قوت اگر کسی شخص میں کمزور ہو تو وہ نہ اپنی خواہشوں کو بے لگام ہونے سے بچا سکتا ہے، نہ اللہ کی شریعت پر قائم رہ سکتا ہے اور نہ طمع، اشتعال، نفرت اور محبت جیسے جذبوں کو اعتدال پر قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں انسان سے صبر چاہتی ہیں اور صبر کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان میں ارادے کی قوت ہو۔ روزہ اس قوت کو بڑھاتا اور اس کی تربیت کرتا ہے۔ پھر یہی قوت انسان کو برائی کے مقابلے میں اچھائی پر قائم رہنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی نے روزے کو ڈھال کہا اور انسان کو بتایا کہ وہ برائی کی ہر ترغیب کے سامنے یہ ڈھال اس طرح استعمال کرے کہ جہاں کوئی شخص اسے برائی پر ابھارے، وہ اس کے جواب میں یہ کہہ دے کہ میں تو روزے سے ہوں۔</p> <p>چوتھی چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان میں ایثار کا جذبہ ابھرتا ہے اور اسے دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان کے لیے کچھ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ روزے میں آدمی کو بھوک اور پیاس کا جو تجربہ ہوتا ہے، وہ اسے غریبوں کے قریب کر دیتا ہے اور ان کی ضرورتوں کا صحیح احساس اس میں پیدا کرتا ہے۔ روزے کا یہ اثر، بے شک کسی پر کم پڑتا ہے اور کسی پر زیادہ، لیکن ہر شخص کی صلاحیت اور اس کی طبیعت کی سلامتی کے لحاظ سے پڑتا ضرور ہے۔ وہ لوگ جو اس اعتبار سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، ان کے اندر تو گویا دریا امنڈ پڑتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ آپ یوں تو ہر حال میں بے حد فیاض تھے، مگر رمضان میں تو بس جودوکرم کے بادل بن جاتے اور اس طرح برستے کہ ہر طرف جل تھل ہو جاتا تھا۔</p> <p>پانچویں چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزے دار کو جو خلوت اور خاموشی اور دوسروں سے کسی حد تک الگ تھلگ ہو جانے کا موقع ملتا ہے، اس میں قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے معنی کو سمجھنے کی طرف بھی طبیعت زیادہ مائل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ کتاب اسی ماہ رمضان میں اتاری اور اسی نعمت کی شکر گزاری کے لیے اس کو روزوں کا مہینا بنا دیا ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جبریل علیہ السلام بھی اسی مہینے میں قرآن سننے اور سنانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ روزے سے قرآن مجید کی یہی مناسبت ہے جس کی بنا پر امت کے اکابر اس مہینے میں اپنے نبی کی پیروی میں رات کے پچھلے پہر اور عام لوگ آپ ہی کی اجازت سے عشا کے بعد نفلوں میں اللہ کا کلام سنتے اور سناتے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں نماز کے لیے کھڑا رہا، اس کا یہ عمل اس کے پچھلے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا۔</p> <p>چھٹی چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ آدمی اگر چاہے تو اس مہینے میں بہت آسانی کے ساتھ اپنے پورے دل او رپوری جان کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔ اللہ کے بندے اگر یہ چیز آخری درجے میں حاصل کرنا چاہیں تو اس کے لیے اسی رمضان میں اعتکاف کا طریقہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اگرچہ ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہے، لیکن دل کو اللہ کی طرف لگانے کے لیے یہ بڑی اہم عبادت ہے۔ اعتکاف کے معنی ہمارے دین میں یہ ہیں کہ آدمی دس دن یا اپنی سہولت کے مطابق اس سے کم کچھ دنوں کے لیے سب سے الگ ہو کر اپنے رب سے لو لگا کر مسجد میں بیٹھ جائے اور اس عرصے میں کسی ناگزیر ضرورت ہی کے لیے وہاں سے نکلے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اکثر اس کا اہتمام فرماتے تھے اور خاص طور پر اس ماہ کے آخری دس دنوں میں رات کو خود بھی زیادہ جاگتے، اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور پوری مستعدی کے ساتھ اللہ کی عبادت میں لگے رہتے تھے۔</p> <p>یہ سب چیزیں روزے سے حاصل ہو سکتی ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ روزے دار ان خرابیوں سے بچیں جو اگر روزے میں در آئیں تو اس کی ساری برکتیں بالکل ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ خرابیاں اگرچہ بہت سی ہیں، لیکن ان میں بعض ایسی ہیں کہ ہر روزے دار کو ان کے بارے میں ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے۔</p> <p>ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ لوگ رمضان کو لذتوں اور چٹخاروں کا مہینا بنا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں جو بھی خرچ کیا جائے، اس کا اللہ کے ہاں کوئی حساب نہیں ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگ اگر کچھ کھاتے پیتے بھی ہوں تو ان کے لیے تو پھر یہ مزے اڑانے اور بہار لوٹنے کا مہینا ہے۔ وہ اس کو نفس کی تربیت کے بجائے اس کی پرورش کا مہینا بنا لیتے ہیں اور ہرروز افطار کی تیاریوں ہی میں صبح کو شام کرتے ہیں۔ وہ جتنا وقت روزے سے ہوتے ہیں، یہی سوچتے ہیں کہ سارے دن کی بھوک پیاس سے جو خلا ان کے پیٹ میں پیدا ہوا ہے، اسے وہ اب کن کن نعمتوں سے بھریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو روزے سے وہ کچھ پاتے ہی نہیں اور اگر کچھ پاتے ہیں تو اسے وہیں کھو دیتے ہیں۔</p> <p>اس خرابی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندرکام کی قوت کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیے تو ضرور، لیکن اس کو جینے کا مقصد نہ بنا لے۔ جو کچھ بغیر کسی اہتمام کے مل جائے، اس کو اللہ کا شکر کرتے ہوئے کھا لے۔ گھر والے جو کچھ دستر خوان پر رکھ دیں، وہ اگر دل کو نہ بھی بھائے تو اس پر خفا نہ ہو۔ اللہ نے اگر مال و دولت سے نوازا ہے تو اپنے نفس کو پالنے کے بجاے، اسے غریبوں اور فقیروں کی مدد اور ان کے کھلانے پلانے پر خرچ کرے۔ یہ چیز یقیناًاس کے روزے کی برکتوں کو بڑھائے گی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اللہ کے نبی نے رمضان میں اس عمل کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔</p> <p>دوسری خرابی یہ ہے کہ بھوک اور پیاس کی حالت میں چونکہ طبیعت میں کچھ تیزی پیدا ہو جاتی ہے، اس وجہ سے بعض لوگ روزے کو اس کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجاے، اسے بھڑکانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے نیچے کام کرنے والوں پر ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے، جو منہ میں آیا، کہہ گزرتے، بلکہ بات بڑھ جائے تو گالیوں کا جھاڑ باندھ دیتے ہیں اور بعض حالتوں میں اپنے زیر دستوں کو مارنے پیٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ روزے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔</p> <p>اس کا علاج اللہ کے نبی نے یہ بتایا ہے کہ آدمی اس طرح کے سب موقعوں پر روزے کو اس اشتعال کا بہانہ بنانے کے بجاے اس کے مقابلے میں ایک ڈھال کی طرح استعمال کرے، اور جہاں اشتعال کا کوئی موقع پیدا ہو، فوراً یاد کرے کہ میں روزے سے ہوں۔ وہ اگر غصے اور اشتعال کے ہر موقع پر یاددہانی کا یہ طریقہ اختیار کرے گا تو آہستہ آہستہ دیکھے گا کہ بڑی سے بڑی ناگوار باتیں بھی اب اسے گوارا ہیں۔ وہ محسوس کرے گا کہ اس نے اپنے نفس کے شیطان پر اتنا قابو پالیا ہے کہ وہ اب اسے گرا لینے میں کم ہی کامیاب ہوتا ہے۔ شیطان کے مقابلے میں فتح کا یہ احساس اس کے دل میں اطمینان اور برتری کا احساس پیدا کرتا ہے اور روزے کی یہی یاددہانی اس کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ وہیں غصہ کرتا ہے، جہاں اس کا موقع ہوتا ہے۔ وقت بے وقت اسے مشتعل کر دینا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔</p> <p>تیسری خرابی یہ ہے کہ بہت سے لوگ جب روزے میں کھانے پینے اور اس طرح کی دوسری دل چسپیوں کو چھوڑتے ہیں تو اپنی اس محرومی کا مداوا ان دل چسپیوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں جن سے ان کے خیال میں روزے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ بہل جاتا ہے۔ وہ روزہ رکھ کر تاش کھیلیں گے، ناول اور افسانے پڑھیں گے، نغمے اور غزلیں سنیں گے، فلمیں دیکھیں گے، دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکیں گے اور اگر یہ سب نہ کریں گے تو کسی کی غیبت اور ہجو ہی میں لپٹ جائیں گے۔ روزے میں پیٹ خالی ہو تو آدمی کو اپنے بھائیوں کا گوشت کھانے میں ویسے بھی بڑی لذت ملتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات صبح اس مشغلے میں پڑتے ہیں اور پھر موذن کی اذان کے ساتھ ہی اس سے ہاتھ کھینچتے ہیں۔</p> <p>اس خرابی کا ایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کا ادب سمجھے اور زیادہ سے زیادہ یہی کوشش کرے کہ اس کی زبان پر کم سے کم اس مہینے میں تو تالا لگا رہے۔ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ آدمی اگر ہر قسم کی جھوٹی سچی باتیں زبان سے نکالتا ہے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔</p> <p>اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ جو وقت ضروری کاموں سے بچے، اس میں آدمی قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے اور دین کو سمجھے۔ وہ روزے کی اس فرصت کوغنیمت سمجھ کر اس میں قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعاؤں کا کچھ حصہ یاد کرلے۔ اس طرح وہ اس وقت ان مشغلوں سے بچے گا اور بعد میں یہی ذخیرہ اللہ کی یاد کو اس کے دل میں قائم رکھنے کے لیے اس کے کام آئے گا۔</p> <p>چوتھی خرابی یہ ہے کہ آدمی بعض اوقات روزہ اللہ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں اور ملنے جلنے والوں کی ملامت سے بچنے کے لیے رکھتا ہے اور کبھی لوگوں میں اپنی دین داری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے یہ مشقت جھیلتا ہے۔ یہ چیز بھی روزے کو روزہ نہیں رہنے دیتی۔</p> <p>اس کا علاج یہ ہے کہ آدمی روزے کی اہمیت ہمیشہ اپنے نفس کے سامنے واضح کرتا رہے اور اسے تلقین کرے کہ جب کھانا پینا اور دوسری لذتیں چھوڑ ہی رہے ہو تو پھر انھیں اللہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑتے۔ اس کے ساتھ رمضان کے علاوہ کبھی کبھی نفلی روزے بھی رکھے اور انھیں زیادہ سے زیادہ چھپانے کی کوشش کرے۔ اس سے امید ہے کہ اس کے یہ فرض روزے بھی کسی وقت اللہ ہی کے لیے خالص ہو جائیں گے۔</p> </section> </body> "
"0009.xml"
"<meta> <title>مولانا اختر احسن اصلاحی</title> <author> <name>امام امین احسن اصلاحی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq August 2013</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7349b7dd1138372dbb3f?year=2013&amp;decade=2010&amp;articleId=5adb7349b7dd1138372dbb43</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>901</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"مولانا اختر احسن اصلاحی"
901
"No"
"<body> <section> <p>میں اور مولانا اختر احسن اصلاحی مرحوم دونوں ایک ہی ساتھ ۱۹۱۴ء میں مدرسۃ الاصلاح سیرائے میر، اعظم گڑھ کے ابتدائی درجوں میں داخل ہوئے اور مدرسہ کا تعلیمی کورس پورا کر کے ایک ہی ساتھ ۱۹۲۲ء میں فارغ ہوئے۔ اس کے بعد مولانا اختر احسن تو مدرسہ ہی میں تدریس کی خدمت پر مامور ہو گئے اور میں دو اڑھائی سال اخبارات میں اخبار نویسی کرتا پھرا۔ ۱۹۲۵ء میں استاذ امام مولانا فراہی نے مجھے یہ ایماء فرمایا کہ میں اخبار نویسی کا لاطائل مشغلہ چھوڑ کر ان سے قرآن حکیم پڑھوں۔ میرے لیے اس سے بڑا شرف اور کیا ہو سکتا تھا۔ میں فوراً تیار ہو گیا اور مولانا نے مدرسہ ہی میں درس قرآن کا آغاز فرما دیا جس میں مدرسہ کے دوسرے اساتذہ کے ساتھ مولانا اختر احسن مرحوم بھی شریک ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ پورے پانچ سال قائم رہا۔</p> <p>طالب علمی کے دور میں تو ہم دونوں کے درمیان ایک قسم کی معاصرانہ چشمک و رقابت رہی تعلیم کے میدان میں بھی اور کھیل کے میدان میں بھی۔ لیکن مولانا فراہی کے درس میں شریک ہونے کے بعد ہم میں ایسی محبت پیدا ہو گئی کہ اگر میں یہ کہوں تو ذرا بھی مبالغہ نہ ہو گا کہ ہماری یہ محبت دو حقیقی بھائیوں کی محبت تھی۔ وہ عمر میں مجھ سے غالباً سال ڈیڑھ سال بڑے رہے ہوں گے۔ انھوں نے اس بڑائی کا حق یوں ادا کیا کہ جن علمی خامیوں کو دور کرنے میں مجھے ان کی مدد کی ضرورت ہوئی، اس میں انھوں نے نہایت فیاضی سے میری مدد کی۔ بعض فنی چیزوں میں ان کو مجھ پر نہایت نمایاں تفوّق حاصل تھا۔ اس طرح کی چیزوں میں ان کی مدد سے میں نے فائدہ اٹھایا۔ اس پہلو سے اگر میں ان کو اپنا ساتھی ہی نہیں استاذ بھی کہوں تو شاید بے جا نہ ہو۔</p> <p>مولانا فراہی کے درس میں اگرچہ مدرسہ کے دوسرے اساتذہ بھی شریک ہوتے، لیکن میرے واحد ساتھی مولانا اختر احسن ہی تھے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی خاص توجہ بھی ہم ہی دونوں پر رہی۔ مولانا اختر احسن اگرچہ بہت کم سخن آدمی تھے، لیکن ذہین اور نہایت نیک مزاج۔ اس وجہ سے ان کو برابر مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا خاص قرب اور اعتماد حاصل رہا۔ انھوں نے حضرت استاذ کے علم کی طرح ان کے عمل کو بھی اپنانے کی کوشش کی، جس کی جھلک ان کی زندگی کے ہر پہلو میں نمایاں ہوئی اور مجھے ان کی اس خصوصیت پر برابر رشک رہا۔</p> <p>مولانا اختر احسن کو استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت کا بھی شرف حاصل ہوا، حالانکہ مولانا کسی کو خدمت کا موقع مشکل ہی سے دیتے تھے۔ یہ شرف ان کو ان کی طبیعت کی انھی خوبیوں کی وجہ سے حاصل ہوا، جن کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا۔</p> <p>استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ مدرسۃ الاصلاح کے ذریعہ سے جو تعلیمی اور فکری انقلاب پیدا کرنا چاہتے تھے، اس میں سب سے بڑی رکاوٹ موزوں اشخاص نہ ملنے کے سبب سے تھی۔ مولانا اختر احسن مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت سے اس تعلیمی مقصد کے لیے بہترین آدمی بن گئے تھے۔ اگر ان کو کام کرنے کی فرصت ملی ہوتی تو توقع تھی کہ ان کی تربیت سے مدرسۃ الاصلاح میں نہایت عمدہ صلاحیتوں کے اتنے اشخاص پیدا ہو جاتے جو نہایت وسیع دائرے میں کام کر سکتے۔ لیکن ان کو عمر بہت کم ملی، اور جو ملی اس میں بھی وہ برابر مختلف امراض کے ہدف رہے، تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا حوصلہ عطا فرمایا تھا۔ اپنی مختصر زندگی میں انھوں نے مدرسۃ الاصلاح کی بڑی خدمت کی۔ اور خاص بات یہ ہے کہ اپنی اس خدمت کا معاوضہ انھوں نے اتنا کم لیا کہ اس ایثار کی کوئی دوسری مثال مشکل ہی سے مل سکے گی۔</p> <p>میں نے ۱۹۳۵ء میں استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی غیر مطبوعہ تصنیفات کی ترتیب و تہذیب اور اشاعت کے لیے مدرسۃ الاصلاح میں دائرۂ حمیدیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کے زیر اہتمام ایک اردو ماہنامہ ’الاصلاح‘ کے نام سے جاری کیا تاکہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے افکار سے اردو خواں طبقہ کو بھی آشنا کیا جائے۔ اس ادارے میں مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے عربی مسودات کی ترتیب و تہذیب کا کام مولانا اختر احسن مرحوم نے اپنے ذمہ لیا اور رسالہ کی ترتیب کی ذمہ داری میں نے اٹھائی۔ مولانا اختر احسن مرحوم اگرچہ تحریر و تقریر کے میدان کے آدمی نہیں تھے، لیکن مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کے ترجمہ کے کام میں انھوں نے میری بڑی مدد فرمائی اور رسالہ میں بھی ان کے مضامین وقتاً فوقتاً نکلتے رہے۔ رسالہ تو کچھ عرصہ کے بعد بند ہو گیا، لیکن دائرۂ حمیدیہ الحمد للہ! برابر استاذ امام کی عربی تصنیفات کی اشاعت کا کام کر رہا ہے اور اس کے کرتا دھرتا مولانا اختر احسن مرحوم کے تلامذہ ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی سعی مشکور فرمائے!</p> <p>مولانا اختر احسن مرحوم پر یہ چند سطریں میں نے مولانا کے ایک شاگرد عزیزی محمد عنایت اللہ سبحانی کے اصرار پر لکھ دی ہیں۔ اگر مجھے استاذ مرحوم کی سیرت لکھنے کی سعادت حاصل ہوتی تو اس میں بسلسلۂ تلامذۂ فراہی ان کا ذکر تفصیل سے آتا۔ لیکن اب بظاہر اس طرح کے کسی کام کا موقع میسر آنے کی توقع باقی نہیں رہی۔ اب تو بس یہ آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں استاذ مرحوم کے ساتھ برادر مرحوم کی معیت بھی نصیب کرے!</p> </section> </body> "
"0010.xml"
"<meta> <title>ترکی میں حدیث کی تدوین جدید</title> <author> <name>جاوید احمد غامدی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq August 2013</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7349b7dd1138372dbb3f?articleId=5adb7358b7dd1138372dbd73&amp;year=2013&amp;decade=2010</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1313</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"ترکی میں حدیث کی تدوین جدید"
1,313
"No"
"<body> <section> <p>حدیث سے متعلق کسی کام کو سمجھنے کے لیے اِس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ دین کا تنہا ماخذ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ آپ سے یہ دین دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے: ایک قرآن، دوسرے سنت۔ یہ بالکل یقینی ہیں اور اپنے ثبوت کے لیے کسی تحقیق کے محتاج نہیں ہیں۔ اِنھیں مسلمانوں نے نسلاً بعد نسلٍ اپنے اجماع اور تواتر سے منتقل کیا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کی ہرنسل کے لوگوں نے بغیر کسی اختلاف کے پچھلوں سے لیا اور اگلوں تک پہنچا دیا ہے اور زمانۂ رسالت سے لے کر آج تک یہ سلسلہ اِسی طرح قائم ہے۔</p> <p>پورا دین اِنھی دو میں محصور ہے اور اُس کے تمام احکام ہم اِنھی سے اخذ کرتے ہیں۔ اِس میں بعض اوقات کوئی مشکل پیش آجاتی ہے۔ پھر جن معاملات کو ہمارے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے، اُن میں بھی رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اِس کے لیے دین کے علما کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر تھے، اِس لیے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ سب عالموں کے امام بھی آپ ہی تھے۔ دین کے دوسرے عالموں سے الگ آپ کے علم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ کا علم بے خطا تھا، اِس لیے کہ اُس کو وحی کی تائید و تصویب حاصل تھی۔ یہ علم اگر کہیں موجود ہو تو ہر مسلمان چاہے گا کہ قرآن و سنت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اِسی سے رہنمائی حاصل کرے۔</p> <p>ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ علم موجود ہے اور اِس کا ایک بڑا حصہ ہم تک پہنچ گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ علم آپ کے صحابہ نے حاصل کیا تھا، لیکن اِس کو آگے بیان کرنا چونکہ بڑی ذمہ داری کا کام تھا، اِس لیے بعض نے احتیاط برتی اور بعض نے حوصلہ کر کے بیان کر دیا۔ اِس میں وہ چیزیں بھی تھیں جنھیں وہ آپ کی زبان سے سنتے یا آپ کے عمل میں دیکھتے تھے اور وہ بھی جو آپ کے سامنے کی جاتی تھیں اور آپ اُن سے منع نہیں فرماتے تھے۔ یہی سارا علم ہے جسے ’حدیث‘ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کو جاننے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے۔ اِس سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ اُسی دین کی شرح و وضاحت اور اُس پر عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے جو آپ نے قرآن و سنت کی صورت میں اپنے ماننے والوں کو دیا ہے۔</p> <p>یہ ہم تک کس طرح پہنچا ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ اِسے حدیثوں کی صورت میں سب سے پہلے صحابہ نے لوگوں تک پہنچایا۔ پھر جن لوگوں نے یہ حدیثیں اُن سے سنیں، اُنھوں نے دوسروں کو سنائیں۔ یہ زبانی بھی سنائی گئیں اور بعض اوقات لکھ کر بھی دی گئیں۔ ایک دو نسلوں تک یہ سلسلہ اِسی طرح چلا، لیکن پھر صاف محسوس ہونے لگا کہ اِن کے بیان کرنے میں کہیں کہیں غلطیاں ہو رہی ہیں اور کچھ لوگ دانستہ اِن میں جھوٹ کی ملاوٹ بھی کر رہے ہیں۔ یہی موقع ہے، جب اللہ کے کچھ بندے اٹھے اور اُنھوں نے اِن حدیثوں کی تحقیق کرنا شروع کی۔ اِنھیں ’محدثین‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے غیرمعمولی لوگ تھے۔ اِنھوں نے ایک ایک روایت اور اُس کے بیان کرنے والوں کی تحقیق کر کے، جس حد تک ممکن تھا، غلط اور صحیح کی نشان دہی کی اور جھوٹ کو سچ سے الگ کر دیا۔ پھر اِنھی میں سے بعض نے ایسی کتابیں بھی مرتب کر دیں جن کے بارے میں بڑی حد تک اطمینان کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اُن میں جو حدیثیں نقل کی گئی ہیں، وہ بیش تر حضور ہی کا علم ہے جو روایت کرنے والوں نے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ علم کی زبان میں اِنھیں ’اخبار آحاد‘ کہتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِنھیں صرف گنتی کے لوگوں نے بیان کیا ہے، قرآن و سنت کی طرح یہ اجماع اور تواتر سے منتقل نہیں ہوئی ہیں۔ چنانچہ بالعموم تسلیم کیا جاتا ہے کہ اِن سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا، اُسے زیادہ سے زیادہ ظن غالب قرار دیا جا سکتا ہے۔</p> <p>حدیث کی جن کتابوں کا ذکر ہوا ہے، وہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر امام مالک، امام بخاری اور امام مسلم کی کتابیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور بہت مستند خیال کی جاتی ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بڑی تحقیق کے بعد مرتب کی گئی ہیں۔ تاہم اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اِن کے مرتب کرنے والوں سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ اِس علم کے ماہرین جانتے ہیں کہ اُن سے تحقیق میں غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔ اِسی بنا پر وہ حدیث کی کتابوں کو برابر جانچتے پرکھتے رہتے ہیں۔ چنانچہ کسی حدیث کے بیان کرنے والوں کو اگر سیرت و کردار اور حفظ و اتقان کے لحاظ سے قابل اعتماد نہیں پاتے یا آپس میں اُن کی ملاقات کا امکان نہیں دیکھتے یا اُن کی بیان کردہ حدیث کے مضمون میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بات قرآن و سنت کے خلاف ہے یا علم و عقل کے مسلمات کے خلاف ہے تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ یہ آں حضرت کی بات نہیں ہو سکتی۔ یہ غلطی سے آپ کی طرف منسوب ہو گئی ہے۔ یہی معاملہ اِن حدیثوں کے فہم اور اِن کی شرح و وضاحت کا ہے۔ اہل علم اِس معاملے میں بھی اپنی تعبیرات اِسی طرح پیش کرتے رہتے ہیں۔</p> <p>یہ کام ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ ابھی پچھلی صدی میں علامہ ناصر الدین البانی نے اِس سلسلے میں بڑی غیرمعمولی خدمت انجام دی ہے اور حدیث کی اکثر کتابوں پر ازسرنو تحقیق کر کے اُن کے صحیح اور سقیم کو ایک مرتبہ پھر الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمہوریہ ترکی کے اہل علم نے جس کام کا بیڑا اٹھایا ہے، اُس کی نوعیت بھی کم و بیش یہی ہے۔ اُن کے نتائج فکر و تحقیق ابھی سامنے نہیں آئے، لہٰذا اُن کے بارے میں تو کوئی راے نہیں دی جا سکتی، لیکن کام کی نوعیت سے متعلق جو تفصیلات معلوم ہیں، اُن میں بظاہر کوئی چیز قابل اعتراض نہیں ہے۔ حدیث کی جو حیثیت اوپر بیان ہوئی ہے، اُس کو پیش نظر رکھ کر اگر اِس علم کے مسلمہ قواعد کے مطابق اُس کا جائزہ لیا جائے گا یا اُس کو نئے سرے سے مرتب کیا جائے گا یا اُس کا مدعا سمجھنے اور اُس کے وقتی اور دائمی کو الگ الگ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اِس میں اعتراض کی کیا بات ہو سکتی ہے؟ علم و تحقیق کا دروازہ کسی دور میں اور کسی حال میں بھی بند نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کام میں اگر کچھ غلطیاں بھی ہوں گی تو تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ دوسرے اہل علم اپنی تنقیدات سے اُن کی نشان دہی کر دیں گے۔ علم کی ترقی کا اِس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ لوگوں کو آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے۔ نئی راہیں اِسی سے کھلتی ہیں اور اگلوں نے اگر کہیں غلطی کی ہے تو اُس کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ ترک اہل علم کی کاوش کو اِسی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور اُن لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ادارے کی صورت میں یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اُن کا کام اگر معیار کے مطابق ہوا تو یہ ایک عظیم خدمت ہو گی اور اگر کم عیار ثابت ہوا تو بے وقعت ہو کر تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو جائے گا۔ علم کی عدالت بڑی بے رحم ہے۔ وہ جلد یا بدیر اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔ اِس طرح کے معاملات میں اُسی کے فیصلوں کا انتظار کرنا چاہیے۔</p> </section> </body> "
"0011.xml"
"<meta> <title>قرآن مجید بطور کتاب تذکیر۔ چند توجہ طلب پہلو</title> <author> <name>محمد عمار خان ناصر</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq March 2012</name> <year>2012</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb73a7b7dd1138372dc6ab?year=2012&amp;decade=2010&amp;articleId=5adb73a7b7dd1138372dc6af</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>4832</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"قرآن مجید بطور کتاب تذکیر۔ چند توجہ طلب پہلو"
4,832
"No"
"<body> <section> <p>[الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر قرآن کے شرکا سے گفتگو]</p> <p>قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے اور اس کے تفسیری مباحث پر غور کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال جس کے حوالے سے قرآن مجید کے طالب علم کا ذہن واضح ہونا چاہیے، یہ ہے کہ قرآن کا اصل موضوع اور قرآن نے جو کچھ اپنی آیات میں ارشاد فرمایا ہے، اس سے اصل مقصود کیا ہے؟</p> <p>اس سوال کا جواب ہمیں خود قرآن مجید کی تصریحات سے یہ ملتا ہے کہ یہ اصل میں کتاب تذکیر ہے۔ قرآن نے اپنے لیے ’ذکر‘، ’تذکرہ‘ اور ’ذکری‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تذکیر کا مطلب ہے یاد دہانی کرانا۔ ایسے حقائق جو انسان کے علم میں تو ہیں اور وہ ان سے بالکل نامانوس نہیں ہے، لیکن کسی وجہ سے ان سے غفلت کا شکار ہو گیا ہے اور وہ اس کے فعال حافظے سے محو ہو گئے ہیں، وہ حقائق اسے یاد کرانا، ان کی طرف اس کی توجہ مبذول کرنا اور ان حقائق کی یاد دہانی سے اس کو اپنی زندگی میں ایک خاص طرح کا رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنا، یہ ’تذکیر‘ کی اصل روح ہے۔ معروف اور مانوس لیکن بھولی ہوئی باتوں کو یاد کرانا اور اس یادد ہانی کے ذریعے سے انسان کے فکر کو، اس کے عمل کو اور اس کے رویے کو ایک خاص رخ پر ڈالنا، یہ تذکیر ہے۔</p> <p>قرآن مجید اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے ایک کتاب تذکیر ہے۔ اللہ تعالیٰ چند حقائق کی تذکیر انسان کو کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ حقائق انسان کے ذہن میں مستحضر رہیں اور انسان کا دھیان اور اس کی توجہ ان پر لگی رہے اور ان کی مدد سے وہ زندگی کے ایک ایک قدم پر صحیح راستے پر قائم رہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کا، اس کی صفات کا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے لیے جو قانون، ضابطے، قاعدے، سنن اور نوامیس مقرر کیے ہیں جن کے تحت وہ اس دنیاکا نظام چلا رہا ہے، خاص طور پر انسانوں کے معاملات وہ جن ضابطوں کے تحت چلاتا ہے، ان کا تعارف انسان کو کروانا، یہ نزول قرآن کی اصل غایت ہے۔</p> <p>قرآن مجید کے جتنے مضامین ہے، ان کی آپ ذیلی تقسیمات کریں تو وہ بے شمار بن جاتے ہیں او رمختلف اہل علم نے اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے قرآن میں پھیلے ہوئے مضامین ومطالب کو مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کیا ہے۔ ہمارے ہاں ایک معروف تقسیم شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’الفوز الکبیر‘ میں لکھا ہے کہ قرآن مجید کے مضامین کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:</p> <p>۱۔ تذکیر بآلاء اللہ، یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت وربوبیت کی جو نشانیاں کائنات میں بکھری ہوئی ہیں، ان کی یاد دہانی۔</p> <p>۲۔ تذکیر بایام اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے دنیا کی مختلف قوموں کے ساتھ نعمت ونقمت، دونوں پہلووں سے جو معاملہ کیا ہے، ان کی یاد دہانی۔</p> <p>۳۔ تذکیر بما بعد الموت، یعنی اس بات کی یاد دہانی کہ اس دنیا سے جانے کے بعد جو ایک یوم الجزاء آنے والا ہے، اس دن اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں گے۔</p> <p>۴۔ احکام وشرائع، یعنی شریعت کے وہ قوانین جن کی پابندی اس دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کو انسانوں سے مطلوب ہے۔</p> <p>۵۔ علم المخاصمۃ، یعنی قرآن کا مخاطب بننے والے جو گروہ قرآن کے دعاوی اور اس کے پیغام کو تسلیم کرنے اور اس کی دعوت کو قبول کرنے سے گریزاں تھے اور اس پر ان کے ذہن میں کچھ استدلالات اور کچھ شبہات تھے، ان کا جواب دینا اور ان کی تردید کر کے صحیح بات کو واضح کرنا۔</p> <p>یہ بڑی حد تک ایک جامع تقسیم ہے جس میں قرآن مجید کے کم وبیش سارے نمایاں مطالب اور مضامین آ جاتے ہیں۔ اب ان پانچوں پر اگر آپ غور کریں تو مرکزی نکتہ یہ نکلے گا کہ انسان کو اس بات کی پہچان کرا دی جائے کہ اس کائنات کا خالق ومالک کیسا ہے، اس کی صفات کیا ہیں، اس کی صفات سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جو مظاہر وجود میں آتے ہیں، وہ کیا ہیں اور اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے وہ کون کون سے قوانین مقرر کیے ہیں جن کے تحت وہ اپنی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ گویا یہ سب مضامین مختلف پہلووں سے تذکیر ہی کے مقصد کو پورا کرتے ہیں اور مختلف حوالوں سے، مختلف زاویوں سے انسان کے ذہن میں اس بات کے شعور کو راسخ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مالک کو پہچانے اور اس کے ذہن میں اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا صحیح تصور قائم ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں کسی بھی ہستی کے بارے میں جو تصور ہوگا، اسی کے لحاظ سے اس کا اس کے ساتھ تعلق بھی قائم ہوگا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے قوانین اور اس کے معاملہ کرنے کے اصولوں اور ضوابط کا جو تصور انسان کے ذہن میں ہوگا، اسی کے لحاظ سے انسان کا تعلق بھی خدا کے ساتھ قائم ہوگا۔ یہ ساری باتیں جس درجے میں انسان کے ذہن میں واضح ہوں گی، اسی کے لحاظ سے خدا کے ساتھ اس کا تعلق بھی ایک خاص رنگ اختیار کر لے گا۔</p> <p>اللہ نے اپنے لیے کچھ نوامیس مقرر کیے ہیں جن کے تحت وہ اپنی ساری کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ کوئی دوسری ہستی اللہ کو کسی بات کی پابند نہیں کر سکتی: ’لَا یُسْئلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْأَلُونَ‘ (الانبیاء: ۲۳)۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی عالی صفات مثلاً عدل، رافت ورحمت کے تقاضے سے خود اپنے لیے کچھ قوانین مقرر کیے ہیں جن کی پابندی وہ کہتا ہے کہ میرے ذمے لازم ہے۔ کسی دوسرے نے لازم نہیں کی اور نہ کوئی کر سکتا ہے، لیکن ان کی پابندی اس نے خود اپنے ذمے لازم کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ: ’حَقّاً عَلَیْْنَا‘ (یونس: ۱۰۳)۔ یہ جو ہم نے وعدہ کیا ہے، اس کی پابندی اب ہم پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے جو قوانین اور نوامیس مقرر کیے ہیں، ان کے لیے قرآن نے ’سنت‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ مثلاً دنیا میں حق کا انکار کرنے والی قوموں کے ساتھ معاملہ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک خاص قانون بنایا ہے جس کے ظہور کی مثالیں تاریخ میں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ قرآن اس کو ’سنت اللہ‘ کہتا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا: ’سُنَّۃَ اللَّہِ فِیْ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللَّہِ تَبْدِیْلاً‘ (الاحزاب: ۶۲)۔</p> <p>اللہ نے اس ساری کائنات کے لیے کیا ضابطے بنا رکھے ہیں، وہ تو اس نے ہمیں نہیں بتائے۔ ہمیں تو اس نے قرآن میں مخاطب کیا ہے اور صرف اس دائرے کے قوانین اور ضابطے بتائے ہیں جس کا تعلق ہم انسانوں سے ہے۔ سورج چاند اور دوسری مخلوقات کو اس نے کن قوانین کے تحت بنایا ہے، وہ اس نے ہمیں نہیں بتائے۔ کائنات کے مادی قوانین بھی، جن کو سائنس دریافت کرتی ہے، قرآن کا موضوع نہیں کہ وہ انسان کو یہ بتائے کہ سورج، چاند اور دوسرے مظاہر فطرت کن قوانین کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح باقی مخلوقات سے متعلق جو اخلاقی قوانین ہیں، ان کی وضاحت بھی قرآن کا موضوع نہیں۔ مثال کے طور پر ایک انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا خواہش کی تکمیل کے لیے کسی دوسرے انسان کی جان لے، لیکن آپ جانوروں میں دیکھیں گے کہ بہت سے درندوں کی زندگی اور بقا کا دار ومدار ہی اس پر ہے کہ وہ کسی دوسرے جاندار کی، بسا اوقات اپنے ہی کسی ہم جنس جاندار کی جان لیں اور اس کے گوشت سے اپنا پیٹ بھریں۔ اب حیوانات کے اور اسی طرح دوسری بے شمار مخلوقات کے معاملات کن اخلاقی قوانین اور ضابطوں پر مبنی ہیں، ان کی وضاحت قرآن کا موضوع نہیں اور نہ اس نے ان کی وضاحت کی ہے۔ قرآن کا موضوع یہ ہے کہ انسان کو اس دنیا میں اللہ نے ایک خاص مقصد کے تحت بھیجا ہے اور اس کی نقل وحرکت کا اور زندگی کی سرگرمیوں کا ایک محدود دائرہ ہے۔ اللہ نے کائنات کے اربویں کھربویں بلکہ اس سے بھی حقیر ایک چھوٹے سے حصے میں انسان کو بسایا ہے اور اس کو ایک نہایت محدود دائرے میں اختیار دیا ہے۔ انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی آزمایش کی جائے۔ اس آزمایش میں کامیاب ہونے کے لیے انسان کو اپنے خالق ومالک اور اس کے مقرر کردہ قوانین کی پہچان کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے خدا کے ساتھ صحیح طو رپر تعلق قائم کر سکے اور اس معرفت صحیحہ کا ظہور اس کے فکر وعمل اور اس کے کردار میں بھی ہو۔ یہ سب باتیں انسان کے علم میں ہونی چاہییں تاکہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد خدا کے حضور میں پیش ہو تو اس کی ابدی نعمتوں کا حق دار بن سکے۔</p> <p>یہ ہے قرآن کی ساری تذکیر اور اس کے تمام تر مطالب ومضامین کا محور۔ دین کے جو تین بنیادی عقیدے ہیں جن پر پورے دین کی بنیاد ہے، وہ بھی یہی ہیں۔ خدا کو ماننا اس کی تمام صفات کے ساتھ اور ان تمام قوانین ونوامیس کے ساتھ جو اس نے اپنے لیے مقرر کیے ہیں، نبوت ورسالت کے اس سلسلے پر ایمان رکھنا جو اللہ نے اپنی صفات اور اپنے قوانین اورضابطوں سے انسانوں کو متعارف کرانے کے لیے دنیا میں جاری کیا اور اس حقیقت پر ایمان رکھنا کہ دنیا کی اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی بھی آنی ہے جس میں انسان اپنے قول وعمل کے لحاظ سے ابدی عذاب یا ابدی نعمتوں کا مستحق قرار پائے گا۔</p> <p>اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کا ایک اور نہایت اہم پہلو بھی آپ کے سامنے رہنا چاہیے۔ وہ یہ کہ قرآن مجید سے اس کا یہ مطمح نظر بڑے غیر مبہم طریقے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کو پڑھتے ہوئے لوگ اسی چیز کے حصول پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں جو اس کے نزول کا اصل مقصد ہے۔ یہ نہ ہو کہ لوگ اپنی اپنی دلچسپیاں لے کر آئیں اور ان میں الجھ کر رہ جائیں۔ قرآن نے بعض پہلووں سے اپنا یہ مطمح نظر واضح کرنے کا خاص اہتمام کیا ہے اور اپنے انداز سے، اپنے اسلوب سے یہ بات سمجھائی ہے کہ قرآن کو پڑھنے کے لیے آؤ تو کیا ذہن لے کر آؤ اور تمھاری دلچسپی کا مرکزی نکتہ کیا ہونا چاہیے۔ مثال کے طو رپر آپ دیکھیں کہ قرآن مجید کا ایک بہت بڑا حصہ واقعات پر مشتمل ہے۔ شاید ایک تہائی یا اس سے زیادہ آپ کو قرآن میں واقعات ہی ملیں گے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اسی لیے اس حصے کو تذکیر بایام اللہ کا ایک مستقل عنوان دے دیا ہے۔ قرآن میں انبیا کے، دنیا کی قوموں کے اور قوموں کی تاریخ کے واقعات ہیں۔ ان واقعات کے ذکر سے قرآن کا مقصود انسان کا دل بہلانا یا اس کی تفریح طبع نہیں۔ گزشتہ زمانے کے واقعات کے بارے میں جستجو اور ان میں دلچسپی محسوس کرنا انسانی نفسیات کا حصہ ہے۔ عام طو رپر انسان جب ایسے واقعات کو سنتے ہیں تو اس کا مقصد جستجو کے جذبے کی تسکین یا محض تفریح طبع ہوتا ہے۔ تاہم قرآن کے، واقعات بیان کرنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے۔ اس سے اس کا مقصد وہی تذکیر ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان واقعات سے انسان روحانی واخلاقی سبق حاصل کرے اور ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کے جن ضابطوں اور قوانین کا ظہور ہوا، ان کی طرف متوجہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی واقعے سے متعلق ایسا لوازمہ جو اس میں کہانی کا مزہ پیدا کرتا ہے اور ایسے پہلو جو اسے تفریح طبع کا سامان بنا سکتے ہیں، قرآن کم وبیش ہر جگہ ایسے عناصر کو بالکل نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے کو محیط سلسلہ واقعات کے بے شمار اجزا کو حذف کر کے اس کے صرف ان اجزا کو بیان کر دیتا ہے جو اس کے مقصد کے لحاظ سے مفید ہیں۔ کئی سالوں پر پھیلے ہوئے سلسلہ واقعات کو قرآن یوں بیان کرتا ہے کہ اس کا ابتدائی حصہ، کچھ درمیانی حصے اور کچھ اختتامی حصہ معرض بیان میں آ جاتا ہے اور یہ تمام اجزا وہ ہوتے ہیں جو تذکیر کے پہلو سے مفید اور برمحل ہوتے ہیں۔ باقی تمام تفصیلات جن کو اگر قرآن بیان کرنے لگ جائے تو لوگ قصے میں الجھ کر رہ جائیں اور اس سے کہانی کا لطف اٹھانے لگیں، ان سب کو قرآن حذف کر دیتا ہے۔ اس کی چند مثالیں دیکھیے:</p> <p>قرآن مجید نے حضرت موسیٰ کی پیدایش سے لے کر وادئ تیہ تک ان کی زندگی کا سفر بیان کیا ہے، لیکن اس سارے واقعے کے صرف وہ اجزا منتخب کیے ہیں جن میں تذکیر کا کوئی نہ کوئی پہلو پایا جاتا ہے اور جس سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا کوئی خاص ضابطہ اور کوئی مخصوص قانون واضح کرنے میں مدد ملتی ہے۔ قرآن نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی پیدایش سے پہلے مصر میں صورت حال کیا تھی اور بنی اسرائیل کس طرح ظلم وستم کا شکار تھے۔ پھر حضرت موسیٰ کی پیدایش کا ذکر ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے کس طرح انھیں فرعون کی قتل اولاد کی اسکیم سے معجزانہ طو رپر محفوظ رکھا اور خود فرعون کے گھر میں ان کی پرورش کا انتظام کر دیا۔ اس کے بعد اگلا منظر جو سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ جوانی کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس درمیانی عرصے میں بھی کئی واقعات رونما ہوئے ہوں گے جن سے قرآن نے کوئی تعرض نہیں کیا۔ جوانی کے زمانے کا بھی صرف وہ واقعہ منتخب کیا ہے جو سلسلہ واقعات کو آگے بڑھانے والا ہے، چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ کیسے حضرت موسیٰ نے قبطی کے مقابلے میں اپنے اسرائیلی بھائی کی مدد کی اور اس کے نتیجے میں انھیں ہجرت کر کے مدین جانا پڑا۔ پھر وہاں اللہ نے ان کے لیے کیا بندوبست کیا، اس کا ذکر ہوا ہے۔ مدین سے واپسی پر راستے میں انھیں نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور پھر وہ سیدھے فرعون کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح کئی سالوں پر پھیلے ہوئے سلسلہ واقعات کو قرآن نے صرف چند اجزا میں سمیٹ دیا ہے۔</p> <p>اس ضمن میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ایک خاص پہلو سے توجہ طلب ہے۔ اس واقعے کو قرآن نے تفصیل سے بیان کیا ہے اور اگرچہ یہاں بھی قرآن نے واقعے کے وہی حصے منتخب کیے ہیں جن سے کوئی نہ کوئی تذکیری فائدہ حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ واقعہ نسبتاً زیادہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہ واقعہ پڑھتے ہوئے آپ کو محسوس ہوگا کہ حضرت یوسف کی کہانی سے متعلق بعض ایسے اہم سوالات سامنے آتے ہیں جن سے قرآن کوئی تعرض نہیں کرتا، جبکہ کہانی کے تسلسل کے اعتبار سے اس میں ایک خلا سا رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان کو تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ انسان اپنے ذہنی قیاسات سے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کرتا رہے، لیکن قرآن کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مثلاً یہ دیکھیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بچپن میں ہی خواب کے ذریعے سے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کی طرف سے ان پر خاص رحمت اور عنایت ہوگی۔ یہ بھی ان کو معلوم ہے کہ ان کے سوتیلے بھائی ان کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ پھر جب بھائی ان کو لے جا کر کنویں میں پھینک دیتے ہیں تو اس وقت بھی اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب تم یہ سب کچھ اپنے بھائیوں کو بتاؤ گے۔ اس کے بعد یوسف علیہ السلام مصر پہنچ جاتے ہیں۔ قرآن سے یہ واضح ہے کہ یوسف علیہ السلام کو اپنا بچپن، اپنا خاندان اور یہ سارا سلسلہ واقعات اچھی طرح یاد ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ ان کے والد کون ہیں، ان کا خاندانی پس منظر کیا ہے، لیکن مصر میں فروخت ہونے سے لے کر منصب اقتدار پر فائز ہونے تک کے اس سارے عرصے میں وہ کہیں بھی اس بات کی کوشش کرتے نظر نہیں آتے کہ اپنے والد سے رابطہ کریں۔ ان کے والد ان کی جدائی کے غم میں نڈھال ہیں، رو رو کر بینائی کھو چکے ہیں، ان کی ملاقات کے شوق میں تڑپ رہے ہیں اور کوئی ظاہری امید نہ ہونے کے باوجود پرامید ہیں کہ یوسف زندہ ہے، لیکن ادھر حضرت یوسف کے ہاں ایسی کسی تڑپ یا کسی کوشش کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا۔ یہ چیز عام انسانی نفسیات کے لحاظ سے بڑی عجیب سی لگتی ہے۔ معلوم نہیں، حضرت یوسف نے اس سلسلے میں کیا کیا ہوگا۔ کچھ کیا بھی ہوگا یا نہیں کیا ہوگا۔ بہرحال یہ ایک سامنے کا سوال ہے جو شاید ہر پڑھنے والے کے ذہن میں پیدا ہوتا ہوگا کہ جب یوسف کو اپنے والد کے بارے میں معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ ان کی جدائی پر سخت بے چین اور مضطرب ہوں گے تو وہ ان سے رابطہ کر کے انھیں صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ خاص طو رپر بادشاہ کا وزیر بن جانے کے بعد تو کوئی ظاہری رکاوٹ بھی اس میں دکھائی نہیں دیتی، تاہم قرآن اس پہلو سے سرے سے کوئی تعرض نہیں کرتا کہ انھوں نے اس کی کوشش کی یا نہیں کی۔ نہیں کی تو کیوں نہیں کی اور اگر کی تو اس کا کیا بنا اور وہ کیوں کامیاب نہیں ہوئی۔</p> <p>اب دیکھیں، قرآن یہاں اپنے انداز سے یہ واضح کر رہا ہے کہ جب وہ یہ واقعہ بیان کر رہا ہے اور بڑی تفصیل سے بیان کر رہا ہے تو واقعے سے متعلق ایک بڑے نمایاں سوال کا جواب دینے سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ قاری کو اس کا جواب ملتا ہے تو ملے، نہیں ملتا تو نہ ملے۔ قرآن کا مقصد کہانی سنانا اور کہانی کا پورا لوازمہ فراہم کرنا نہیں۔ وہ تو حضرت یوسف کے واقعے میں تذکیر کے اور تربیت کے جو پہلو ہیں، بس ان کو سامنے لانا چاہتا ہے۔</p> <p>اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا جو واقعہ سورۂ سبا میں نہایت اختصار سے بیان ہوا ہے، وہ بھی بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ بیان ہوا ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنی لاٹھی کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ اسی حالت میں اللہ نے ان کی روح قبض کر لی۔ جنات جنھیں ان کی غلامی میں دیا گیا تھا، ان کو پتہ نہ چل سکا۔ زمین کے کیڑے نے حضرت سلیمان کی لاٹھی کو کھانا شروع کیا اور جنات کو اس وقت خبر ہوئی جب لکڑی اتنی کھوکھلی ہو گئی کہ حضرت سلیمان کا وزن نہ سہار سکی اور وہ گر گئے۔ تب جنات کو پتہ چلا کہ حضرت سلیمان کا انتقال ہو چکا ہے۔ یہاں دیکھیں، قرآن نے اپنے مقصد کے تحت واقعے کا صرف یہ پہلو بیان کر دیا ہے کہ جنوں کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو حضرت سلیمان کی وفات کے بعد وہ اس ’’عذاب مہین‘‘ میں مبتلا نہ رہتے، لیکن اس مختصر بیان سے ایک سوال ہر پڑھنے والے کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان وفات کے بعد لکڑی کے سہارے آخر کتنا عرصہ کھڑے رہے؟ ظاہر ہے کہ کیڑے کو لکڑی کو کھوکھلا کرتے ہوئے کچھ دن تو لگے ہوں گے۔ کیا اس سارے عرصے میں حضرت سلیمان وہیں لاٹھی کے سہارے کھڑے رہے اور ان کی اس کیفیت پر کسی کو تعجب نہیں ہوا؟ کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ اتنے دن سے وہ نہ کہیں آ جا رہے ہیں، نہ کھا پی رہے ہیں اور نہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ اس سوال سے قرآن کوئی تعرض نہیں کرتا۔</p> <p>حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعے کے بیان میں بھی یہی اسلوب ہے۔ قرآن جب نازل ہوا تو یہودی اور مسیحی صدیوں سے یہ عقیدہ رکھتے چلے آ رہے تھے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے سولی چڑھا کر قتل کر دیا تھا۔ قرآن آ کر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ یہودی نہ انھیں سولی چڑھانے میں کامیاب ہوئے اور نہ کسی اور طریقے سے قتل کرنے میں، بلکہ اس معاملے کو ان کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا جس کی وجہ سے وہ یہی سمجھتے رہے کہ انھوں نے سیدنا مسیح کو سولی چڑھا دیا ہے، حالانکہ حقیقت میں اللہ نے حضرت مسیح کو بحفاظت آسمانوں کی طرف اٹھا لیا تھا۔ اب دیکھیں، قرآن مذہبی تاریخ کے ایک نہایت اہم واقعے کی اصل حقیقت کو واضح کرتے ہوئے صرف دو لفظوں میں یہ کہہ کر گزر جاتا ہے کہ یہ معاملہ یہود ونصاریٰ کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ وہ اس اشتباہ کی نوعیت اور واقعے کی عملی تفصیلات سے جن سے اس پہلو پر روشنی پڑتی ہو، بالکل کوئی تعرض نہیں کرتا، اس لیے کہ یہ سب باتیں اس کے مقصد سے متعلق نہیں۔ آپ غور کرتے رہیں، چاہیں تو اسرائیلیات کو پڑھیں اور یہود ونصاریٰ کے لٹریچر کا مطالعہ کریں تاکہ اندازہ کیا جا سکے کہ کیا ہوا ہوگا، لیکن قرآن کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔</p> <p>حاصل یہ ہے کہ کہ واقعات کے بیان میں قرآن جگہ جگہ اپنے اسلوب سے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ جتنی بات اس نے بیان کی ہے، یقیناًاس کی کچھ زائد تفصیلات بھی ہیں جن کو جاننے کی انسان کو جستجو ہو سکتی ہے، لیکن قرآن کو ان سے غرض نہیں۔ قرآن کا مقصد یہ نہیں کہ وہ پورے واقعے کو اس کی جملہ تفصیلات کے ساتھ بیان کرے تاکہ سننے والے کو کسی پہلو سے تشنگی کا احساس نہ ہو۔ وہ قاری کی توجہ کو اپنی نظر میں مقصود معنوی حقائق پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے اور اپنے انداز سے قاری کو متنبہ کرتا رہتا ہے کہ واقعات کے بیان سے قرآن کے اصل مقصد کو سمجھے اور اسی کو اپنا مطمح نظر بنائے۔</p> <p>قرآن کے اصل مقصد کی وضاحت کے ضمن میں، میں نے جو کسی قدر طول بیانی سے کام لیا، شاید وہ آپ کو بے فائدہ دکھائی دیتی ہو۔ اس لیے کہ یہ بات بظاہر ایک سادہ سی اور معلوم ومعروف سی بات لگتی ہے اور ظاہری نظر سے دیکھیں تو علم تفسیر کے طلبہ کے سامنے اس کا ذکر شاید تحصیل حاصل بھی لگتا ہے۔ قرآن مجید نے اپنا یہ تعارف کروایا ہے اور اس کے لفظ لفظ سے اس کا یہ مقصد ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے۔ قرآن کو پڑھنے والا ہر مسلمان اس سے واقف ہے کہ قرآن اس مقصد کے لیے نازل کیا گیا ہے اور یہ یہ اس کے مطالبات ہیں۔ اس لیے یہ سوال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ اس نکتے کو خاص طو رپر موضوع بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے اور خاص طور پر علم تفسیر سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے خاص طو رپر سمجھنے کی بات ہے۔</p> <p>اصل میں ہوا یہ ہے اور انسانی تاریخ میں ہمیشہ ایسے ہی ہوتا رہا ہے کہ اللہ کی کتاب نے اپنا جو اصل موضوع متعین کیا اور اپنے مضامین ومطالب کا جو اصل مقصد بیان کیا، ایک خاص وقت گزر جانے کے بعد لوگوں کی توجہ اس اصل مقصود سے ہٹ کر کچھ اور باتوں پر مرکوز ہو گئی۔ میں نے ’توجہ ہٹنے‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، لاعلمی یا جہالت کا نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اصل مقصد لوگوں کے دائرۂ معلومات میں نہیں رہتا۔ وہ لوگوں کے علم میں ہوتا ہے، لیکن جس چیز کو ‘مرکز توجہ‘ کہتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ بدل جاتا ہے۔ اس کتاب کو اتارنے سے جو چیز اللہ کو مقصود ہے کہ انسان جب اس کو پڑھیں تو ان کے ذہن کا رخ اس طرف ہو، وہ مرکز توجہ نہیں رہتی اور اس کے ساتھ ملحق، اس کے ارد گرد گھومنے والی کچھ دوسری باتیں، کچھ اضافی معلومات اور کچھ زوائد زیادہ توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس دنیا میں انسان کے لیے ظاہر ہے کہ دلچسپی کی چیزیں بے شمار ہیں۔ یہ چیزیں مادی بھی ہیں اور ذہنی وفکری بھی۔ ایک عام آدمی کی سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے اور اس کے فکر کی سطح بھی سادہ ہوتی ہے، لیکن جب علم ودانش سے دلچسپی رکھنے والے لوگ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ انسان کو دیے گئے بہت تھوڑے اور محدود علم کے باوجود، اس دنیا میں علم کے رنگ بے شمار اور اس کے اطراف وجوانب ان گنت ہیں اور علمی وفکری مزاج رکھنے والے افراد قدرتی طو رپر ان میں دلچسپی بھی محسوس کرتے ہیں۔ انسان اپنی بنیادی فطرت کے لحاظ سے علوم وفنون میں اور ان تمام چیزوں میں غیر معمولی کشش محسوس کرتا ہے جنھیں انسان اپنی عقل سے دریافت کر سکتا ہے۔</p> <p>اب جب اس طرح کے مختلف علوم وفنون کا پس منظر رکھنے والے حضرات کلام الٰہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو قدرتی طور پر انسان میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اس کے اپنے ذوق پر جس چیز کا غلبہ ہے، وہ کتاب الٰہی کو بھی اسی رنگ میں دیکھے۔ اس کی توجہ کتاب الٰہی میں ان پہلووں پر زیادہ مرکوز ہو جاتی ہے جو اس کے اپنے ذہنی وفکری پس منظر سے ہم آہنگ ہوتی ہیں اور وہ انھیں زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے غور وفکر اور اس کی دلچسپی کے دائرے سے تعلق رکھنے والے جو پہلو ہیں، انھیں زیادہ اجاگر کیا جائے۔ چنانچہ آپ دیکھیں، صحابہ و تابعین اور ابتدائی ایک دو صدیوں کے بعد رفتہ رفتہ قرآن مجید کی تفسیر میں کئی انداز سامنے آ گئے۔ آپ تاریخ تفسیر کی کوئی کتاب، مثلاً محمد حسین ذہبی کی مشہور کتاب ’التفسیر والمفسرون‘ اٹھا کر دیکھ لیں جس میں علم تفسیر کی تاریخ اور اس کے مختلف مناہج کا تعارف کروایا گیا ہے۔ آپ کو تفسیر کے ضمن میں بہت سے رجحانات مثلاً تفسیر بالراے، تفسیر بالروایۃ، بلاغت کے پہلو سے قرآن کی تفسیر، تصوف کے نکات ومعارف کے لحاظ سے آیات قرآنی کی تشریح، فقہی احکام کے استنباط کے پہلو سے قرآن کی تفسیر اور اس طرح کے دوسرے رجحانات کا تعارف ملے گا۔ اب آپ ان سب کا تجزیہ کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ مختلف رجحانات کیسے وجود میں آئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جن لوگوں کی علم نحو اور علم بلاغت کے ساتھ ایک خاص مناسبت تھی، انھوں نے اپنے زاویہ نظر سے قرآن کو دیکھا۔ ظاہر ہے کہ قرآن عربی زبان کا ایک نہایت عالی شان شہ پارہ ادب ہے اور اسالیب زبان اور نحو وبلاغت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس میں غور وفکر کے لیے نہ ختم ہونے والا مواد اور لطائف ودقائق اخذ کرنے کی ایک وسیع جولان گاہ ہے۔ اسی طرح سے فقہا، جن کی توجہ اور غور وفکر کا محور احکام وقوانین کا استنباط ہے، قرآن کی طرف متوجہ ہوئے اور انھوں نے اس کی کوشش کی کہ قرآن کی آیات سے، دلالت کے مختلف درجات کے تحت حتیٰ کہ لطیف اشارات تک سے جتنے زیادہ سے زیادہ فقہی احکام اخذ کیے جا سکتے ہیں، وہ کیے جائیں اور قرآن کے فقہی اور قانونی پہلو کو نمایاں کیا جائے۔</p> <p>اس طرح جب مختلف علمی وفکری پس منظر رکھنے والے حضرات قرآن کی طرف متوجہ ہوئے تو انھوں نے اپنی اپنی دلچسپی کے لحاظ سے قرآن کو ایک خاص رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اب یہ جو کام ہوا، اس کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس طرح قرآن کی علمی خدمت اور اس کی شرح ووضاحت کے اتنے متنوع اور گوناگوں پہلو سامنے آ گئے، تاہم اس کے ساتھ اس کا ایک سلبی پہلو بھی ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ آپ جیسے جیسے ابتدائی دور کا تفسیری ذخیرہ دیکھتے ہوئے نیچے آتے جائیں گے، آپ کو ہر دور میں تفسیر کے مباحث میں مزید تنوع اور وسعت پیدا ہوتی نظر آئے گی۔ شروع کے دور کی تفسیریں دیکھیں تو صحابہ وتابعین کے ہاں قرآن کی کسی آیت کی تشریح میں آپ کو بہت سادہ انداز نظر آئے گا۔ کوئی لفظ مشکل ہے تو وہ اس کی وضاحت کر دیں گے۔ آیت کے مفہوم اور عملی مصداق کو واضح کرنے کے لیے کسی واقعے کا حوالہ دے دیں گے۔ اسی کو عام طو رپر شان نزول کہہ دیتے ہیں۔ کسی آیت کے معنی ومفہوم کے حوالے سے کوئی اشکال کسی کے ذہن میں پیدا ہوا ہے تو اس کو وہ حل کر دیں گے۔ یہ ایک سادہ سا انداز ہے۔ لیکن جیسے جیسے آپ نیچے آتے جائیں گے، یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ آپ تفسیر کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو بے شمار علوم کی بحثیں مل جائیں گی۔ شروع میں لوگ اپنے اپنے مخصوص دائرے میں قرآن کے متن سے نکات ومعارف استنباط کرتے تھے۔ نحویوں نے اپنے انداز میں فوائد جمع کیے اور فقہا نے اپنے انداز میں۔ اس کے بعد جو لوگ آئے، انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ ان سب مباحث کو یکجا کر دیا جائے۔ اس طرح گوناگوں اور رنگا رنگ علوم وفنون کے مباحث تفسیر کے عنوان سے جمع کیے جانے لگے۔</p> </section> </body> "
"0012.xml"
"<meta> <title>عذر اور اعتراف</title> <author> <name>ریحان احمد یوسفی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq September 2012</name> <year>2012</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb73c0b7dd1138372dc8d7?articleId=5adb740eb7dd1138372dd08e&amp;year=2012&amp;decade=2010</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>849</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"عذر اور اعتراف"
849
"No"
"<body> <section> <p>قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس واقعے کی جو تفصیلات قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں بیان ہوئی ہیں ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر خلیفہ بنایا۔ پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ فرشتوں نے سجدہ کیا۔ مگر اس موقع پر موجود ایک جن نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ ابلیس تھا جو بعد میں شیطان کے نام سے مشہور ہوا۔</p> <p>جب اللہ تعالیٰ نے شیطان سے پوچھا کہ کس چیز نے تجھے میرا حکم ماننے سے روکا تو اس نے ایک خوبصورت عذر پیش کر دیا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خود اسے ایک برتر حیثیت میں پیدا کیا ہے، یعنی اس کی پیدایش آگ سے ہوئی، جبکہ جس ہستی کے سامنے اسے سجدے کا حکم دیا گیا ہے، اس کی پیدایش ایک کم تر مادے یعنی مٹی سے کی گئی ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو اسے برتر بنایا گیااور دوسری طرف اسے ایک کم تر مخلوق کے سامنے جھکنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ اس لیے خرابی اس کے انکار میں نہیں، بلکہ اس حکم میں ہے جس میں بظاہر ایک غلط مطالبہ کیا گیا ہے۔</p> <p>یہ شیطان کا مقدمہ تھا جو بظاہربہت مضبوط اور مدلل تھا۔ مگروہ کسی اور کے سامنے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے موجود تھا، جو دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کی اصل حالت کو بیان کردیاکہ تو دراصل تکبر کا شکار ہو چکا ہے۔ اور اس تکبرنے تجھے اس طرح اندھا کیا ہے کہ تو میرے سامنے بغاوت پر تیار ہو گیا ہے۔ اس لیے اب تجھے راندۂ درگاہ کیا جاتا ہے۔</p> <p>شیطان اس موقع پر بھی سرکشی سے باز نہ آیا۔ اس نے اپنی گمراہی کا الزام یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ پر ڈالنے کی کوشش کی کہ جس طرح تونے مجھے گمراہ کیا ہے ،میں آدم اور اس کی اولاد کو گمراہ کروں گا۔ اس طرح یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ اس عزت کے مستحق نہ تھے جو انھیں دی گئی ہے۔ بس تو مجھے قیامت کے دن تک کی مہلت دے دے۔ اللہ تعالیٰ شیطان سے سخت ناراض تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی تاکہ اس کی بدی اس طرح واضح ہو جائے کہ خدا کی رحمت جیسی بلند صفت بھی اس کے کام نہ آسکے۔</p> <p>دوسری طرف حضرت آدم کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیگم کے ہمراہ ایک باغ میں قیام کریں۔ البتہ ایک خاص درخت سے دور رہیں۔ اور انھیں یہ بھی بتادیا کہ یہ ابلیس ان کا دشمن ہے۔ لہٰذا وہ اس کے دھوکے میں نہ آئیں۔ حضرت آدم و حوا کچھ عرصہ تو اللہ کے حکم کے پابند رہے ،مگر آہستہ آہستہ شیطان نے وسوسہ انگیزی شروع کر دی۔ اس نے ان دونوں کو قسم کھا کر یہ یقین دلادیا کہ وہ اس درخت کا پھل کھا لیں تو انھیں ہر طرح سے فائدہ ہوگا۔ وہ دونوں اس کی باتوں میں آگئے اور اس درخت کا پھل کھابیٹھے۔ مگر اس کے نتیجے میں فوراََ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے محروم ہوگئے۔ یوں بظا ہر شیطان اپنے اس چیلنج میں کامیاب ہو گیا کہ وہ یہ ثابت کر کے رہے گا کہ آدم اس مقام کے مستحق نہیں ہیں جو انھیں دیا گیا ہے۔</p> <p>مگر آدم و حوا کا کیس شیطان والا نہیں تھا۔ انھوں نے اس کا پہلا ثبوت یہ دیا کہ جیسے ہی انھیں احساس ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم نہیں رہ سکے، دونوں رب کی بارگاہ میں معافی کے خواستگار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ کیا میں نے تمھیں منع نہیں کیا تھا۔ یہ دوسرا موقع تھا جب حضرت آدم نے شیطان سے مختلف ہونے کا ثبوت دیا۔ انھوں نے شیطان کی طرح اپنے عمل کی کوئی تاویل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ وہ دونوں یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمیں شیطان نے دھوکا دیا ہے۔ مگر انھوں نے کوئی عذر پیش نہ کیا اور یکطرفہ طور پر ساری غلطی قبول کرلی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کر دیا۔</p> <p>آج بھی ابن آدم اور ابن شیطان میں ایک ہی بنیادی فرق ہوتا ہے۔ آدم کے بیٹے اعتراف کی نفسیات میں جیتے ہیں، جبکہ شیطان کے پیروکار عذر کی نفسیات میں۔ پہلوں سے جب کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ کسی توجہ دلانے سے قبل ہی غلطی مان لیتے ہیں۔ دوسروں سے جب کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ فوراََ کوئی تاویل سوچتے ہیں۔ پہلوں سے کوئی بھول ہوتی ہے تو اپنے اس عذر کو بھی استعمال کرنے میں جھجکتے ہیں جو وہ بجا طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ دوسرے اپنے ہر جرم کا الزام دوسروں پر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔</p> <p>ان دو گروہوں کا رویہ اگر اپنے اپنے پیش رو جیسا ہے تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رویہ بھی وہی ہے۔ ابن آدم کی ہر بھول اور ہر غلطی معاف کر دی جاتی ہے، جبکہ شیطان کا رویہ اختیار کرنے والے انسانوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں۔ پہلوں کو جنت کی بادشاہی میں اعلیٰ مقام دیا جائے گا۔ دوسروں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنا دیا جائے گا۔</p> </section> </body> "
"0013.xml"
"<meta> <title>معاشرہ کی اصلاح کے وسائل</title> <author> <name>امام امین احسن اصلاحی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq January 2014</name> <year>2014</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7349b7dd1138372dbb5a?articleId=5adb7364b7dd1138372dbe1a&amp;year=2014&amp;decade=2010</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1910</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"معاشرہ کی اصلاح کے وسائل"
1,910
"No"
"<body> <heading>معاشرہ کی اصلاح کے وسائل</heading> <section> <p>اصلاح معاشرہ کے جن پہلوؤں کی طرف ہم نے توجہ دلائی ہے، بہت سے درد مندوں نے ان کی اہمیت محسوس کی ہے۔ اس اثنا میں ہمیں جو خطوط موصول ہوئے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ بحمد اللہ ہمارے اندر موجود ہیں جو صورت حال کی نزاکت کا احساس رکھتے ہیں اور دین کے بقا و تحفظ کے لیے وہ اپنا وقت بھی صرف کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان میں سے جن کو خدا نے مال دیا ہے، وہ اپنا مال بھی خرچ کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ ان خطوط سے ہمیں بڑی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے درد مندوں کی تعداد میں اضافہ فرمائے۔</p> <p>کسی معاشرہ کے اندر ہزار خرابیاں موجود ہوں، لیکن جب تک اس کے اندر ان خرابیوں کو محسوس کرنے والے اور ان کو دور کرنے کی راہ میں ایثار کرنے والے افراد موجود رہیں، اس وقت تک اس کے مستقبل کی طرف سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ کسی معاشرہ کی حالت مایوس کن اس وقت ہوتی ہے، جب اس کا بگاڑ اس حد کو پہنچ جائے کہ نہ اس کی اصلاح کے لیے اپنا وقت اور مال قربان کرنے والے باقی رہ جائیں اور نہ اس کی حالت پر غم کھانے والے۔ الحمد للہ ہمارا بگاڑ ابھی اس حد کو نہیں پہنچا ہے۔</p> <p>لیکن ان خطوط سے جہاں ہمیں یہ اندازہ کر کے خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے وسائل و ذرائع اسلام کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ ہیں۔ وہیں انھی خطوط سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہوا ہے کہ ابھی اس معاملہ کے بعض گوشے لوگوں کے سامنے اچھی طرح واضح نہیں ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ جب تک یہ گوشے اچھی طرح واضح نہیں ہوں گے، اس وقت تک یہ احساس، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے، کوئی مفید نتیجہ نہیں پیدا کر سکتا۔ اس وجہ سے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان پہلوؤں کی طرف بھی چند سطروں میں توجہ دلا دیں۔</p> <p>اس وقت جو لوگ اس مقصد کے لیے اپنے مال یا وقت کی کوئی قربانی دینا چاہتے ہیں، انھیں دو باتوں پر اچھی طرح غور کر کے اپنے ذہن کو یک سو کر لینا چاہیے۔</p> <p>ایک اس بات پر کہ اس وقت اسلام کے لیے جو مرحلہ درپیش ہے، اس مرحلہ میں اسلام کی خدمت کے لیے سب سے مقدم اور سب سے زیادہ ضروری کام کیا ہے؟ دوسرے اس بات پر کہ اس وقت جو وسائل و ذرائع میسر ہیں، ان کو اس مقدم اور ضروری کام کے لیے زیادہ سے زیادہ بہتر طریقہ پر کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟</p> <p>ان دونوں سوالوں پر غور کیے اور ان کے باب میں یک سو ہوئے بغیر جو کام اس وقت کیے جائیں گے، ہمیں اندیشہ ہے کہ ان پر ہماری مادی و ذہنی طاقتیں تو صرف ہوں گی، لیکن ان سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور ہو گا تو اتنا کم کہ وہ نہ ہونے کے برابر ہو گا۔</p> <p>پہلے سوال پر غور کرنے کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ یہ بات تو بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بیمار ہے، لیکن اس امر میں بڑا اختلاف ہے کہ یہ بیماری کیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟ اس بیماری اور اس کے علاج کے متعین نہ ہونے کے سبب سے ہر تیماردار الگ الگ مرض تشخیص کر رہا ہے اور الگ الگ اس کے علاج تجویز کر رہا ہے۔ بعض لوگ اس کے ہاتھ پاؤں کو مریض سمجھ رہے ہیں اورا پنی اس تشخیص کے مطابق اس کے پاؤں پر مالش کرنا چاہتے ہیں۔ بعض اس کے پیٹ میں درد خیال کر رہے ہیں اور اپنی سمجھ کے مطابق اس درد کی تسکین کی کوئی دوا دینا چاہتے ہیں۔ بعض اس کو ضعف قلب کا مریض سمجھتے ہیں، وہ اس ضعف قلب کو دور کرنے کے لیے کوئی مقوی قلب چیز اس کو کھلانا چاہتے ہیں۔ غرض جتنے تیماردار ہیں، اتنی ہی تشخیصیں اور اتنے ہی علاج ہیں۔ یہ اختلاف تشخیص و اختلاف علاج اگرچہ زیادہ تر نتیجہ ہے اس ذہنی پریشانی کا جس سے ایک ہمہ گیر خرابی کے احساس نے ہمیں دوچار کر دیا ہے اور اس پہلو سے یہ ایک قدرتی سی چیز ہے، لیکن کسی موثر اور نتیجہ خیز علاج کے لیے اس پریشان خیالی کا دور ہونا ضروری ہے۔ جب کسی گھر میں آگ لگتی ہے تو بالعموم یہی ہوتا ہے کہ جس جس کونے سے بھی دھواں اٹھتا نظر آتا ہے، پاس پڑوس کے ہمدرد اسی کونے کو آگ کا مرکز سمجھ کر اس پر اپنے اپنے پانی کے ڈول پھینکنے شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کام اگرچہ وہ ازراہ ہمدردی کرتے ہیں، لیکن منتشر کوششوں سے آگ نہیں بجھا کرتی۔ آگ بجھتی اس وقت ہے جب فائر بریگیڈ آگ کے اصل سنٹر کو متعین کر کے اس کو اپنے محاصرے میں لے لیتا ہے اور اپنے زور دار دونگڑوں سے اس کے سر غرور کو کچل کے رکھ دیتا ہے۔</p> <p>دوسرے سوال پر غور کرنے کی ضرورت یوں ہے کہ اس مقصد کے لیے جو اسباب و وسائل اس وقت میسر ہیں یا آئندہ جن کے میسر آنے کی توقع ہے، وہ بہرحال نہایت محدود بھی ہیں اور نہایت منتشر حالت میں بھی ہیں۔ اگر یہ اسباب و وسائل الگ الگ مختلف مقامات پر استعمال ہوں تو کہیں بھی ان سے کوئی بڑے پیمانہ کا کوئی ایسا نتیجہ خیز کام نہیں انجام پا سکتا جو اس ضرورت کو پورا کر سکے جس کو پورا کرنا پیش نظر ہے۔ پھر مادی وسائل سے زیادہ اہم سوال اس مقصد کے لیے ذی صلاحیت اور موزوں اشخاص کی فراہمی ہے۔ اس زمانہ میں کسی اس طرح کے کام کے لیے سرمایہ حاصل کرنا جتنا مشکل ہے، اس سے کہیں زیادہ مشکل اس کے لیے اس دور قحط الرجال میں آدمیوں کی تلاش ہے۔</p> <p>ان دونوں سوالوں میں سے جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، اس پر ہم نے جس حد تک غور کیا ہے ہم اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہماری بیماری کوئی سرسری اور معمولی قسم کی نہیں ہے، بلکہ بڑی گہری ہے۔ انگریزوں کے تسلط کے بعد سے مغربی فکر و فلسفہ کی جو چھوت ہمیں لگی، اس نے ڈیڑھ دو سو سال کی مدت میں ایک مزمن بیماری کی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اس نے ہمارے ذہین طبقہ کے دماغ اور دل بالکل ماؤف کر دیے ہیں۔ اس بیماری کا عمل تقریباً یک طرفہ قسم کا رہا ہے۔ اس کے تدارک کی تدبیریں یا تو اختیار ہی نہیں کی گئیں یا اختیار کی گئیں تو وہ اتنی سائنٹیفک اور علمی نہیں تھیں جتنا سائنٹیفک اور علمی اس کا عمل تھا، اس وجہ سے آہستہ آہستہ اس کے اثرات دماغوں اور دلوں کے اندر اتنے گہرے اتر چکے ہیں کہ اب اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ان سے ہمارے ذہین طبقہ کی اکثریت کے عقائد و ایمانیات کی جڑیں تک ہل چکی ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی قوم کے ذہین طبقہ کی بیماری اعضا و جوارح کی بیماری نہیں ہے، بلکہ اس کے دماغ اور عقل کی بیماری ہے اور دماغ کی خرابی ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج نہ تو درد سر کی دوا سے ہو سکتا ہے اور نہ ہر عطائی اس کا علاج کر سکتا ہے۔</p> <p>یہ مغرب کی فاسد عقلیت کا ایک عذاب ہے جو ہم پر مسلط ہوا ہے۔ اس فاسد عقلیت کا مداوا اگر ہو سکتا ہے تو اس صالح عقلیت ہی سے ہو سکتا ہے جو قرآن اور سنت کی حکمت کے اندر مضمر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ہر شخص کے بس کا نہیں ہے۔ یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو دین کی عقلیت کے بھی رازداں ہوں اور جو موجودہ عقلیت کے مفاسد سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اور ساتھ ہی اس معیار و پیمانہ پر اور اس انداز اور اس طریقہ سے اس کام کو کر سکنے کا سلیقہ رکھتے ہوں جو موجودہ زمانہ میں اس طرح کے کام کے لیے وجود میں آ چکا ہے۔ یہ ایک ٹھوس علمی اور تحقیقی کام ہے جس کا فائدہ صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکنے کی توقع ہے جب ایک ٹیم پرسکون ماحول اور اطمینان بخش حالات کے اندر اس خدمت کے لیے اپنے آپ کو دوسری تمام دل چسپیوں اور ہنگامی مشاغل سے فارغ کر لے اور اپنی محنتوں سے ان تمام زہروں کے تریاق بھی فراہم کرے جن سے اس وقت ہمارے معاشرے کا ذہین طبقہ مسموم ہے اور ساتھ ہی ان لوگوں کی تربیت بھی کرے، جو آئندہ نسلوں کے لیے اس خدمت کو جاری رکھ سکیں۔</p> <p>دوسرے سوال سے متعلق ہمارا مشورہ اسلام اور مسلمانوں کے ان تمام بہی خواہوں کے لیے جو اس عظیم خدمت میں اپنے وسائل و ذرائع سے حصہ لینا چاہتے ہیں یہ ہے کہ وہ اسلام کے وسیع مفاد کے پیش نظر اپنے شخصی اور مقامی میلانات و رجحانات کو اس وقت بھول جائیں۔ پیش نظر کام ایک بڑا وسیع کام ہے، اس کو صحیح طور پر انجام دینے کے لیے وسیع اسباب و وسائل کی ضرورت ہے جن کے فراہم ہونے کی توقع صرف اسی شکل میں ہو سکتی ہے جب تمام اصحاب وسائل مل کر اپنی متحدہ کوشش سے فراہم کریں۔ متحدہ کوشش کی صورت میں تو بلاشبہ اس بات کی توقع ہے کہ اس کام کے لیے ضرورت کے مطابق سرمایہ بھی حاصل ہو جائے اور اس کا بھی امکان ہے کہ اس کام کو چلانے کے لیے موزوں اشخاص بھی مل جائیں۔ لیکن اگر وسائل رکھنے والے حضرات کسی ایک اسکیم پر متفق نہ ہو سکے تو اس صورت میں کسی بڑے کام کے انجام پا سکنے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ بس یہ ہو سکے گا کہ بعض لوگ اپنے اپنے شہروں میں ایک آدھ بے مقصد قسم کے مدرسے اور قائم کر دیں گے یا اپنے دیہاتوں میں وعظ کہنے کے لیے ایک آدھ مبلغ بھیج دیں گے۔ اس سے ان مدرسوں کے بانیوں اور ان مبلغوں کے سرپرستوں کو تو ضرور تسلی ہو جائے گی کہ انھوں نے دین کی کوئی خدمت انجام دی ہے، لیکن ان مدرسوں اور ان مبلغوں سے اس اسلام کا کیا بھلا ہو گا جس کی بنیادیں تک ہمارے معاشرے کے اندر ہل چکی ہیں۔</p> <p>اس کام کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے عام معاشرہ کی دینی و اخلاقی اصلاح کی جدوجہد بھی شروع کی جائے۔ اس کا زوال و انحطاط اب خطرہ کے پوائنٹ تک پہنچ چکا ہے۔ اب اس کام میں مزید غفلت کے معنی اس کو اسلامی نقطۂ نظر سے موت کے حوالہ کر دینے کے ہوں گے۔ ابھی تو اس بات کا امکان ہے کہ اگر سمجھ دار بے لوث اور مخلص لوگوں کی ایک جماعت اس کی اصلاح کے لیے اٹھ کھڑی ہو تو شاید اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں سے اس کی حالت کو سنبھال دے، لیکن اگر یہ کوشش نہ کی گئی تو زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ اس کے لیے گمراہی کا ہر موڑ مڑ جانا بالکل متوقع ہو گا اور عند اللہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہو گی جو اس کی اصلاح کے سلسلہ میں کچھ کر سکنے کی صلاحیت رکھتے تھے، لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ جن لوگوں کے نزدیک سیاسی اقتدار کے حصول کے بغیر اصلاح معاشرہ کی کوئی جدوجہد ممکن ہی نہیں ہے، انھیں ہم ان کے نظریے کی بنا پر مجبور سمجھتے ہیں، لیکن جو لوگ سیاست سے الگ رہ کر بھی اسلام کی خدمت کر سکنے کے امکانات کے قائل ہیں، ہم انھیں ان کی ذمہ داری یاد دلانا چاہتے ہیں۔</p> </section> </body>"
"0014.xml"
"<meta> <title>مولانا محمد علی جوہر</title> <author> <name>امام امین احسن اصلاحی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq September 2014</name> <year>2014</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7349b7dd1138372dbb63?year=2014&amp;decade=2010&amp;articleId=5adb7349b7dd1138372dbb67</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1499</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"مولانا محمد علی جوہر"
1,499
"No"
"<body> <section> <p>اضل محترم مولانا رئیس احمد جعفری نے مجھ سے فرمایش کی ہے کہ مولانا محمد علی جوہر رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق میں چند تاثرات قلم بند کروں۔ میں اس فرمایش کی تعمیل کے لیے آمادہ تو ہو گیا ہوں، لیکن یہ بات مضمون کے پہلے مرحلہ ہی میں واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے مولانا سے صرف نسبت غائبانہ عقیدت ہی کی حاصل ہے، ان سے ملنے جلنے کے مواقع تو درکنار ان کو دور دور سے دیکھ لینے کی سعادت بھی شاید دو تین بار سے زیادہ مجھے حاصل نہیں ہوئی ہے۔ تحریک خلافت کے شباب کے زمانے میں، سن ٹھیک طرح یاد نہیں (غالباً ۱۹۲۱ء یا ۱۹۲۲ء میں) مولانا مدرسۃ الاصلاح ۔۔۔۔۔ سرائے میر، ضلع اعظم گڑھ یو پی، بھارت ۔۔۔۔۔ کے سالانہ جلسہ میں تشریف لائے۔ میں اس وقت مدرسۃ الاصلاح میں آخری درجوں کا طالب علم تھا۔ اس جلسہ میں مجھے یاد ہے کہ مولانا کا نام سن کر مدرسہ کے وسیع میدان میں بے پناہ خلقت جمع ہوئی۔ مولانا کے ساتھ وقت کے بعض دوسرے اکابر و مشاہیر بھی تشریف لائے میرے استاذ مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کسی جلسہ میں کبھی مشکل ہی سے شریک ہوتے تھے، لیکن اس جلسہ میں وہ بھی شریک ہوئے۔ بڑا عظیم اجتماع تھا۔ میں نے اس سے پہلے اس سے بڑا اجتماع کوئی نہیں دیکھا تھا۔ جلسہ کھلے میدان میں تھا۔ ہوا نہایت تند چل رہی تھی۔ اس زمانہ تک لاؤڈ سپیکر کا رواج نہیں ہوا تھا، اس وجہ سے اندیشہ تھا کہ مولانا کی تقریر سنی نہ جا سکے گی جس سے جلسہ میں انتشار پیدا ہو جائے گا، لیکن جب مولانا تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کے رعب و دبدبہ نے ہر شخص کو اس طرح مرعوب و مسحور کر لیا کہ جو شخص جس جگہ کھڑا یا بیٹھا تھا، وہیں پیکر تصویر بن کر رہ گیا! مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی بلند اور پرشکوہ آواز ہوا کی تندی اور مجمع کی غیر معمولی وسعت کے باوجود ہر گوشہ میں پہنچنے لگی۔ اور تقریر کے اثر کا عالم یہ ہوا کہ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک آنکھ بھی ایسی نہ تھی جو رو نہ رہی ہو۔ یہ مجمع بالکل دیہاتیوں کا تھا، اس میں پڑھے لکھے لوگ بہت تھوڑے سے تھے۔ ان دیہاتیوں کے لیے مولانا محمد علی جیسے شخص کی کسی تقریر کو سمجھنا کچھ آسان کام نہیں تھا، لیکن ان کی تقریر میں ایمان و یقین کی ایسی گرمی اور سوز و درد کی ایسی گھلاوٹ تھی کہ اس سے متاثر ہونے کے لیے شاید اس کو زیادہ سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی۔</p> <p>اس موقع کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے جو قابل ذکر ہے۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر جب ختم ہو گئی تو ہم نے دیکھا کہ مجمع کے ایک کنارے سے ایک بوڑھا دیہاتی اٹھا اور وہ مجمع کو چیرتا پھاڑتا سیدھا سٹیج کی طرف چلا۔ اگرچہ سٹیج تک پہنچنے میں اس کو سخت مزاحمتوں سے سابقہ پیش آیا، لیکن وہ اپنی دھن کا ایسا پکا نکلا کہ اس نے مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچ کر ہی دم لیا۔ اور پہنچتے ہی ان کی ڈاڑھی پر ہاتھ رکھ کر اپنے مخصوص لہجہ میں بولا:</p> <blockquote> <p>محمد علی! جو تو نے کیا، وہ کسی سے نہ ہو سکا! یہ کہہ کر جب وہ واپس مڑا تو مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’اس طرح کی داد بھی آپ کے سوا مجھے کسی اور سے نہیں ملی‘!</p> </blockquote> <p>اس موقع پر مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت کا ایک اور پہلو میرے سامنے اپنے استاذ مولانا فراہی کے تاثرات سے واضح ہوا۔ اس جلسہ میں تقریر کر کے مولانا محمد علی اعظم گڑھ شہر کے لیے روانہ ہو گئے جہاں شب میں ان کو ایک جلسۂ عام میں تقریر کرنی تھی۔ وہ گئے تو ان کے ساتھ مدرسۃ الاصلاح کا سارا جلسہ بھی چلا گیا، یہاں تک کہ خود مولانا فراہی بھی جو مدرسہ کے ناظم تھے، ان کی تقریر میں شرکت کے لیے ان کے ساتھ چلے گئے۔ انھوں نے چلتے وقت ہمیں یہ ہدایت کی کہ کچھ کٹے ہوئے کاغذ اور چند اچھی پنسلیں ان کے سامان میں رکھ دی جائیں تاکہ وہ اعظم گڑھ میں ہونے والی مولانا محمد علی کی تقریر نوٹ کر سکیں۔ یہ معاملہ میرے لیے نہایت حیرت انگیز تھا۔ میں اس بات سے تو واقف تھا کہ مولانا فراہی مولانا محمد علی اور مولانا آزاد سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی کی تقریر سے مولانا کا اس درجہ متاثر ہونا کہ وہ خود اس کے نوٹ کرنے کا اہتمام کریں، میرے تصور سے مافوق تھا۔ مولانا نہ تو جذباتی آدمی تھے، نہ کوئی سیاسی آدمی۔ وہ ایک محقق، ایک فلسفی اور ایک حکیم تھے۔ وہ، جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا، وعظ و تقریر کے جلسوں میں، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، کبھی مشکل ہی سے شریک ہوتے تھے، لیکن مولانا محمد علی کی تقریر میں شریک ہونے کے لیے نہ صرف یہ کہ سفر کے لیے آمادہ ہو گئے، بلکہ ان کی تقریر کے نوٹ لینے کے لیے یہ اہتمام فرمایا۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے اس اہتمام نے میرے دل میں مولانا محمد علی کی عظمت بہت بڑھا دی۔ میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ معلوم ہوتا ہے کہ مولانا محمد علی ایک عظیم سیاسی لیڈر ہی نہیں، بلکہ وہ علمی و عقلی اعتبار سے بھی ایسے بلند پایہ آدمی ہیں کہ مولانا فراہی جیسے لوگ بھی ان کی تقریروں کو یہ درجہ دیتے ہیں کہ ان کے نوٹ لیتے ہیں۔</p> <p>اس واقعہ کے دوسرے ہی دن مجھ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ مولانا محمد علی کی تقریر میں وہ کیا چیز تھی جس سے استاذ مرحوم اس درجہ متاثر ہوئے ۔۔۔۔۔ دوسری صبح کو جب مولانا فراہی مدرسہ پر واپس آئے تو منتظمین میں سے بعض نے ان سے دبی زبان سے یہ شکایت کی کہ مولانا محمد علی کے ساتھ ان کے چلے جانے کے سبب سے خود مدرسہ کا جلسہ درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ مولانا نے اس کا جواب یہ دیا کہ:</p> <blockquote> <p>جو کام کی باتیں تھیں، وہ محمد علی نے اپنی تقریر میں کہہ دی تھیں، اس کے بعد کسی اور تقریر کی اب کیا ضرورت باقی رہی تھی!</p> </blockquote> <p>مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات اس اعتماد اور یقین کے ساتھ فرمائی کہ ہر شخص پر یہ بات واضح ہو گئی کہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو مدرسہ کے جلسہ کے درہم برہم ہو جانے کا ذرہ برابر بھی افسوس نہیں ہے۔ ان کے نزدیک سننے کی باتیں وہی تھیں جو مولانا محمد علی نے کہہ دی تھیں اور لوگوں نے وہ سن لی تھیں، اس کے بعد جلسہ کا جاری رہنا، ان کے نزدیک، گویا اضاعت وقت کے حکم میں تھا۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد متعدد بار مولانا محمد علی کی تقریر پر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرماتے ہوئے یہ بھی کہا کہ:</p> <blockquote> <p>محمد علی کی تقریر میں ایمان ہوتا ہے۔</p> </blockquote> <p>ایک مرتبہ بطور لطیفہ کے یہ بھی فرمایا کہ:</p> <blockquote> <p>چونکہ محمد علی بہت ذہین آدمی ہیں، اس وجہ سے لوگوں کو قرآن کے نظم کی طرح ان کی تقریروں اور تحریروں کے نظم کو سمجھنے میں بھی بسا اوقات زحمت پیش آتی ہے!</p> </blockquote> <p>پھر فرمایا کہ:</p> <blockquote> <p>کچھ اسی قسم کا حال مولانا محمد قاسم کی تقریروں اور تحریروں کا بھی ہے۔</p> </blockquote> <p>اگرچہ بڑوں کے اس ذکر کے درمیان اپنا بیان کچھ مناسب نہیں، لیکن جن کا کل سرمایۂ زندگی صرف وہ چند چھوٹی بڑی نسبتیں ہی ہوں جو بڑوں سے ان کو حاصل ہوئیں، وہ اگر ان کو بیان نہ کریں تو آخر اپنے طرۂ افتخار کی آرایش کے لیے سامان کہاں سے لائیں گے! اس وجہ سے مجھے یہ واقعہ ذکر کرنے کی اجازت دیجیے کہ یہی جلسہ، جس کا اوپر ذکر ہوا، اول اول مجھے پبلک میں روشناس کرانے کا ذریعہ بنا۔ وہ اس طرح کہ مجھے مدرسہ کی تعلیم و تربیت کا نمونہ دکھانے کے لیے مدرسہ کے ذمہ داروں کی طرف سے اس جلسہ میں ایک تقریر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ چنانچہ میں نے اس میں ایک تقریر کی۔ یہ تقریر میری اپنی ہی تیار کردہ تھی اور اگرچہ کسی پبلک جلسہ میں یہ میری بالکل پہلی تقریر تھی، لیکن میری عمر اور علم کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہی ۔۔۔۔۔ مولانا محمد علی اور سٹیج پر بیٹھے ہوئے دوسرے اکابر نے اس کی بڑی تحسین فرمائی، یہاں تک کہ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے بصلۂ حسن تقریر اپنے تفسیری رسائل کا ایک سیٹ اپنے دستخط سے مزین فرما کر مجھے بطور انعام عنایت فرمایا۔ اس کے بعد مجھے دور دور سے جلسوں کی شرکت کے لیے دعوت نامے ملنے لگے اور میں کبھی کبھی جلسوں میں شریک بھی ہونے لگا، لیکن میں نے یہ لے زیادہ بڑھنے نہیں دی۔ ایک مرتبہ تو انھوں نے مجھ سے یہاں تک فرمایا کہ زیادہ تقریریں کرنے سے آدمی کا دل سیاہ ہو جایا کرتا ہے! ظاہر ہے کہ جس چیز کو وہ اس درجہ ناپسند فرماتے ہوں، اس کی طرف زیادہ راغب ہونا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔</p> <p>(مقالات اصلاحی ۲/ ۴۰۱، بہ حوالہ ماہنامہ میثاق لاہور ۔جولائی ۱۹۶۴ء)</p> </section> </body> "
"0015.xml"
"<meta> <title>فوج کی حکمرانی</title> <author> <name>سید منظور الحسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq April 2007</name> <year>2007</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb7356b7dd1138372dbcc6?articleId=5adb745bb7dd1138372dd8db&amp;year=2007&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>2026</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"فوج کی حکمرانی"
2,026
"No"
"<body> <section> <p>ہمارے سیاسی کلچر میں فوج کی حکمرانی کو اب ایک روایت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں باہم بر سر پیکار ہوتی ہیں؛ سیاست دان ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے سے انکار کرتے ہیں؛ سول حکومتیں بدانتظامی، عدم استحکام اور اخلاقی انحطاط کا بدترین نمونہ پیش کرتی ہیں؛ عوام الناس حکمرانوں کے آگے اپنے مسائل حل نہ ہونے کا رونا روتے ہیں؛ غیر مقبول مذہبی اور سیاسی گروہ فوج کو حکومت سنبھالنے کی پیشکش کرتے ہیں اور فوجی جنرل پوری آمادگی دل کے ساتھ اس صداے خوش نوا پر لبیک کہتے اور قوم کے مسیحا کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ آئین کو بالاے طاق رکھ کر مسند اقتدار پر فائز ہوتے ہیں، اقتدار کے زیادہ سے زیادہ مظاہر کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ استحکام حاصل کر لینے کے بعداپنے اقتدار کے آئینی جواز کے لیے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں، اقتدار کو طول دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور بالآخر عوام کی ناپسندیدگی کا داغ اپنے دامن پر سجا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق نے یہی روایت قائم کی ہے اور جنرل پرویز مشرف بھی اسی کو پروان چڑھا رہے ہیں۔</p> <p>فوج کے اقتدار پر قابض ہونے سے چند ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو ہمارے نزدیک ملک و قوم کے لیے ضرررساں ہیں۔</p> <p>ایک مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں اس اصول پر زد پڑتی ہے جو شریعت کی رو سے مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی اساس ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے: ’وامرہم شوریٰ بینہم‘، یعنی مسلمانوں کا نظام ان کے باہمی مشورے پر مبنی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست کی سطح پر اجتماعی نوعیت کا کوئی فیصلہ مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوگا اور اس ضمن میں ان کی رائے کو حتمی حیثیت حاصل ہو گی۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>”مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی اساس ’امرہم شوریٰ بینھم‘ہے، اس لیے ان کے امرا و حکام کا انتخاب اور حکومت و امارت کا انعقاد مشورے ہی سے ہو گا اور امارت کا منصب سنبھال لینے کے بعد بھی وہ یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کے اجماع یا اکثریت کی رائے کو رد کر دیں۔“ (قانون سیاست۲۶)</p> </blockquote> <p>دوسرا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اقدامات آئین کی خلاف ورزی پر منتج ہوتے ہیں۔ ہمارا آئین درحقیقت وہ دستور العمل ہے جس کے بارے میں قوم نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی امور کو اس کی روشنی میں انجام دے گی۔ اس میں ہم نے قومی سطح پر یہ طے کیا ہے کہ ہمارانظام حکومت کیا ہو گا؟ حکومت کس طریقے سے وجود میں آئے گی اور کس طریقے سے اسے تبدیل کیا جا سکے گا؟سربراہان ریاست و حکومت کس طریقے سے منتخب ہوں گے، ان کے کیا اختیارات ہوں گے اور کس طرح ان کا مواخذہ کیا جا سکے گا؟ یہ اور اس نوعیت کے بے شمار امور جزئیات کی حد تک اس دستور میں طے کیے جا چکے ہیں۔ کسی بھی قوم کا سیاسی استحکام اس بات میں مضمر ہوتا ہے کہ آئین کے لفظ لفظ پر پوری دیانت داری سے عمل کیا جائے۔ </p> <p>تیسرا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں جمہوری اقدار کی ترویج رک جاتی ہے۔ سیاسی عمل میں رخنہ آجاتاہے اور قومی تعمیر و ترقی کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میںیہ بات ہر لحاظ سے ثابت شدہ ہے کہ جس معاشرے میں جمہوری اقدار مستحکم ہوں گی، وہ تعمیر و ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری اقدار معاشرے کے افراد کو باشعور بناتی، ان کے اندر اعتماد پیدا کرتی اور انھیں مستقبل کی بہتری کے لیے سرگرم عمل کر دیتی ہیں۔ فوجی حکمرانوں کی آمد سے چونکہ قومی معاملات میں ان کی شرکت کا راستہ بند ہو جاتا ہے، اس لیے وہ کوئی فعال کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔</p> <p>یہاں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جملۂ معترضہ کے طور پر مختصراً ان اعتراضات کا جائزہ بھی لے لیا جائے جو ہمارے ہاں جمہوریت کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں۔</p> <p>ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جمہوری نظام حکومت ان ممالک کے لیے ناموزوں ہے جہاں خواندگی کی شرح کم ہو۔ جناب پرویز مشرف صاحب نے بھی منصب صدارت پر فائز ہونے سے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک بیان کے ذریعے سے اسی نقطۂ نظرکا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ:</p> <blockquote> <p>”پاکستان کا ماحول پارلیمانی جمہوریت کے لیے سازگار نہیں ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی چودہ کروڑ آبادی میں سے ستر فی صد لوگ ناخواندہ ہیں، اس سے دنیا کیوں توقع رکھتی ہے کہ وہ مغربی طرز کی جمہوریت کا حامل ہو۔“ (روزنامہ جنگ، ۳ جون ۲۰۰۱)</p> </blockquote> <p>پارلیمانی جمہوریت سے مراد وہ طرز حکومت ہے جس میں پارلیمان کو ریاست کے سب سے برتر ادارے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ادارہ عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ عوام کے یہ نمائندے اپنے اندر سے ایک وزیر اعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔ وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ذریعے سے حکومت کا نظم چلاتا ہے۔ وہ اپنے تمام اقدامات کے حوالے سے پارلیمان کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ ارکان پارلیمان اگر اس کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہوں تو وہ اسے تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ اس نظام میں صدر کی حیثیت آئینی سربراہ کی ہوتی ہے، نظم حکومت اور قانون سازی کے معاملات میں اس کی مداخلت نہایت محدود ہوتی ہے۔</p> <p>اس نظام جمہوریت پرمذکورہ اعتراض کے جواب میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ دو باتیں ہی اس کی تردید کے لیے کافی ہیں:</p> <p>ایک یہ کہ اس بات کا فیصلہ کہ اہل پاکستان کے لیے کون سا نظام درست ہے اور کون سا درست نہیں ہے، دین، اخلاق اور اجتماعی مصالح کے لحاظ سے اہل پاکستان ہی کو کرنا چاہیے۔ ۱۹۷۳ء تک اہل پاکستان دانستہ یا نادانستہ طور پر مختلف نظام ہاے حکومت کا تجربہ کر چکے تھے۔ اس موقع پر ان کے منتخب نمائندوں نے بہت سوچ بچار کے بعد پارلیمانی نظام حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی قوم اپنے اس فیصلے پر ابھی تک قائم ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں ہے تو انھیں رائے عامہ کو اپنے نقطۂ نظر کے حق میں ہموار کرنا چاہیے، یہاں تک کہ لوگوں کی اکثریت ان کی رائے کو اپنی رائے کے طور پر اختیار کر لے۔ رائے عامہ کی تائید کے بغیر کیا جانے والا اجتماعی اقدام کسی لحاظ سے بھی درست قرار نہیں پا سکتا۔</p> <p>دوسری یہ کہ سیاسی شعور کے ہونے یا نہ ہونے کا تعلیم و تعلم سے کوئی ایسا گہرا تعلق بھی نہیں ہے کہ محض تعلیم کی کمی کو سیاسی شعور کی کمی پر محمول کر لیا جائے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم اجتماعی شعور کی بیداری میں معاون ثابت ہوتی ہے، مگر حقیقی معنوں میں سیاسی شعور سیاسی عمل کے تسلسل اور استحکام سے پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو واضح ہو گا کہ اس قوم میں سیاسی شعور کی ایسی کمی نہیں ہے کہ اسے حق رائے دہی سے محروم کر دیا جائے۔ ۱۹۴۷ء میں اس قوم نے اپنے ووٹوں ہی کے ذریعے سے علیحدہ مملکت اور اس کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کا فیصلہ کیا۔۱۹۶۹ء میں اس قوم نے اپنی پرزور تحریک سے جنرل ایوب خان جیسے باجبروت حکمران کو اقتدار سے علیحدہ ہو جانے پر مجبور کر دیا۔ کیا یہ سیاسی شعور کا اظہار نہیں ہے کہ اس قوم نے بتدریج مذہبی سیاست کو بالکلیہ ختم کر دیا اور ملک کو دو جماعتی نظام کی طرف گام زن کر دیا ہے؟یہ بات صحیح ہے کہ ہماری عوامی سیاست ابھی تک جاگیر داروں اور صنعت کاروں کے حصار سے نہیں نکلی، لیکن اس کی اصل وجہ عوام کی ناخواندگی نہیں، بلکہ سیاسی عمل میں بار بار آنے والا تعطل ہے۔ اگر یہ سیاسی عمل کسی انقطاع کے بغیر جاری رہے تو یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آیندہ تین چار انتخابات کے بعدشفاف نظام سیاست کے قیام اور باصلاحیت اور با کردار حکمرانوں کا انتخاب بہت آسان ہو جائے گا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے معروف محقق جناب ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب ”پاکستان تاریخ و سیاست“ میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>”تاریخ کے صفحات شاہد ہیں کہ پاکستان کے عوام کی سیاسی پسماندگی کا رونا ان حکمرانوں نے رویا ہے جن کی کوئی نمائندہ حیثیت نہیں تھی۔ اس بدعت کا آغاز میجر جنرل سکندر مرزا سے ہوا۔ پھر یہ روایت فیلڈ مارشل ایوب خان سے ہوتی ہوئی صدر ضیا الحق تک پہنچی، کیونکہ یہ حکمران غیرسیاسی پس منظر کے مالک اورعوام سے الرجک تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے جو حقیقی معنوں میں قوم کے قائد تھے کبھی بھی عوام کی ناخواندگی یا سیاسی پسماندگی کی شکایت نہیں کی، حالانکہ اس وقت ناخواندگی کی شرح کہیں زیادہ تھی۔</p> <p>دنیا میں کسی ایسے ملک کی مثال نہیں ملتی جس کے عوام نے اپنے ووٹ کے تقدس کے تحفظ کی خاطر اتنی قیمتی جانوں اور املاک کا نذرانہ پیش کیا ہوجتنا پاکستانی عوام نے ۱۹۷۷ء میں قومی اتحاد کی تحریک کے دوران پیش کیا۔ یہ حقیقت میں پاکستان کے اس عام شہری کی فتح تھی جو ہر قیمت پر جمہوریت کی بالا دستی کا خواہاں ہے۔ کیا ایک ایسی قوم کو جو اپنے ووٹ کے تقدس کا اس قدر شعور رکھتی ہے جمہوریت کے لیے نااہل قرار دینا ناانصافی نہیں ہے؟“ (۲۹۴)</p> </blockquote> <p>جمہوری نظام پر دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری عمل کے نتیجے میں جو سیاسی رہنما منظر عام پر آئے ہیں، انھوں نے ہمیشہ اخلاقی پستی ہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت کی زمام کار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دیناملک و قوم کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بات کچھ ایسی غلط نہیں ہے، مگر اس کا علاج قومی اداروں کا انہدام نہیں، بلکہ ان کا استحکام ہے۔ ادارے جس قدر مستحکم ہوں گے، احتساب کا نظام بھی اسی قدر بہتر ہو گا۔ اگر ہم اداروں کو ان کے بننے کے عمل سے پوری طرح گزرنے ہی نہیں دیں گے تو طالع آزما لوگ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کرتے رہیں گے۔ اداروں کا استحکام بھی سیاسی عمل کے تسلسل کے بغیر ممکن نہیں۔</p> <p>چوتھا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے لازمی نتیجے کے طور پر عوام اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں اور اجتماعی معاملات میں ان کی دل چسپی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ صورت حال معاشرے کی صحت کے لیے کسی طرح بھی مفید نہیں ہے۔ معاشرہ اسی وقت صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گام زن ہوتا ہے جب اس کا ہر فرد قومی تعمیر کے عمل میں پوری طرح شریک ہو۔ مگر جب وہ اپنے اور اپنی قوم کے مستقبل کے حوالے سے شبہات کا شکار ہو گا تو پوری دل جمعی کے ساتھ اپنا کردارادا نہیں کر پائے گا۔</p> <p>پانچواں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں فردواحدبلا شرکت غیرے اقتدار کا مالک بن جاتا ہے۔ کوئی فرد واحد اپنی ذات میں بہت ایمان دار ہو سکتا ہے، اخلاق و کردار کے حوالے سے بہت بہتر ہو سکتا ہے، قیادت و سیادت کی بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہو سکتا ہے، سیاسی بصیرت سے بہرہ مند ہو سکتا اور قومی تعمیر کے لیے بہت متفکر ہو سکتا ہے۔ یہ تمام خصائص، بلاشبہ کسی فرد کی شخصی عظمت پر دلالت کرتے ہیں، لیکن ان سب کا کسی ایک شخص میں اجماع بھی اسے یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ عوام کی رائے کے بغیر مسند اقتدار پر قابض ہو جائے۔ دین و اخلاق اور عقل و فطرت کے مسلمات کے اعتبار سے اقتدار کے لیے صرف اور صرف ایک شرط ہے اور وہ رائے عامہ کی اکثریت کا اعتماد ہے۔ یہ اعتماد اگر حاصل ہے توذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف جیسے افراداپنی تمام خامیوں کے باوجود اقتدار کے حق دار ہیں اور اگر یہ اعتماد حاصل نہیں ہے تو ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسے افراد اپنی تمام خوبیوں کے باوجود اقتدار کے مستحق نہیں ہیں۔</p> </section> </body> "
"0016.xml"
"<meta> <title>اہل سیاست اور سیاسی استحکام</title> <author> <name>سید منظور الحسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq May 2007</name> <year>2007</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb73a4b7dd1138372dc579?articleId=5adb745bb7dd1138372dd8e0&amp;year=2007&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1552</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"اہل سیاست اور سیاسی استحکام"
1,552
"No"
"<body> <section> <p>پاکستان میں جمہوری اقدار کو غیر مستحکم کرنے کا الزام جس قدر فوج اور بیوروکریسی پر عائد کیا جاتا ہے، اسی قدر اس کے مستحق اہل سیاست بھی ہیں۔ جتنی یہ بات درست ہے کہ اگر فوج اور بیوروکریسی کے ادارے اپنے دائرۂ کار تک محدود رہتے تو ملک سیاسی خلفشار سے محفوظ رہتا، اتنی ہی یہ بات بھی صحیح ہے کہ اگر سیاست دان اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے تو سیاسی استحکام کی منزل زیادہ مشکل نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے نہ صرف اپنے فرائض سے غفلت برتی ہے، بلکہ مجرمانہ افعال کا ارتکاب کیا ہے۔ گزشتہ پچاس ساٹھ برسوں میں انھوں نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد عوام کی لغت میں دھوکا اور سیاست ہم معنی الفاظ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ لوگوں کے لیے اب اس کا تصور ہی محال ہے کہ کوئی سیاست دان ہوس اقتدار سے بالاتر ہو کر ان کی ترقی کے لیے سرگرم ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اس جمہوریت پسند دور میں بھی بعض سادہ لوح لوگوں کی زبان پر یہ بات آ جاتی ہے کہ ان جیسے سیاست دانوں کے اقتدار سے تو فوجی حکومت ہی بہتر ہے۔</p> <p>اس صورت حال کا سبب درحقیقت چند سنگین غلطیاں ہیں جو ہمارے سیاست دانوں کے طرز عمل میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہیں اور جن کی وجہ سے عوام ان سے مایوس ہو چکے ہیں۔</p> <p>ان کے طرز عمل کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے حصول اقتدار کی جدوجہد کرتے ہوئے دین و اخلاق، اصول و قانون اور جمہوری اقدار کی کبھی پروا نہیں کی۔ مناصب کے حصول کے لیے اگر انھیں جھوٹ بولنا پڑا ہے تو انھوں نے بولا ہے، خوشامد کرنی پڑی ہے تو کی ہے، رشوت دینی پڑی ہے تو دی ہے، وقار کو داؤ پر لگانا پڑا ہے تو لگایا ہے، یہاں تک کہ اقتدار کے قیام و دوام کے لیے اگر انھیں آمروں کے ہاتھ بھی مضبوط کرنے پڑے ہیں تو انھوں نے اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی میدان میں یہ لوگ فوج اور بیوروکریسی کے اشاروں پر حرکت کرنے والے کھلونوں سے زیادہ کوئی حیثیت کبھی اختیار نہیں کر سکے۔ ہماری سیاسی تاریخ کا یہ کوئی معمولی المیہ نہیں ہے کہ جب بھی کوئی غیر جمہوری اور غیر آئینی حکمران مسنداقتدار پر فائز ہوا ہے، ان اہل سیاست کی معتد بہ تعداد نے اپنی خدمات اسے پیش کر دی ہیں۔ ایسے موقعوں پر اگر کسی کی طرف سے کوئی مزاحمت بھی سامنے آئی ہے تو کسی اصول اور آدرش کی بنا پر نہیں، بلکہ محض مفادات اور تعصبات ہی کی بنا پر سامنے آئی ہے۔</p> <p>قائد اعظم نے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دے کر جمہوری روایت کی بنا ڈالی، مگر لیاقت علی خان نے اسے توڑکر جب وزارت عظمیٰ کے ساتھ مسلم لیگ کی صدارت بھی حاصل کرنا چاہی تو مسلم لیگی سیاست دانوں نے اسے خوش دلی سے قبول کیا۔ گورنر جنرل غلام محمد نے پارلیمانی روایات کے علی الرغم پارلیمنٹ کی اکثریتی جماعت کے سربراہ خواجہ ناظم الدین کو برطرف کیا تو اہل سیاست خاموش رہے۔ اس کے بعد گورنر جنرل نے یکے بعد دیگرے محمد علی بوگرا اور چوہدری محمد علی جیسے غیر سیاسی افراد کو وزیر اعظم نامزد کیا تو مسلم لیگ کے اہل سیاست نے اس پر احتجاج کے بجائے انھیں اپنی جماعت کی صدارت بھی پیش کر دی۔ پھر گورنر جنرل نے منتخب دستور ساز اسمبلی توڑی تو اسے بھی کچھ احتجاج کے بعد قبول کر لیا گیا۔ بعد ازاں جب گورنر جنرل سکندر مرزاکے ایما پر مسلم لیگ کے مقابلے کے لیے ری پبلکن پارٹی تشکیل دی گئی جو نہ عوامی حمایت رکھتی تھی اور نہ مسلم لیگ کا مقابلہ کرنے کی اہل تھی تو مسلم لیگ کے بیش تر منتخب نمائندے اپنی جماعت چھوڑ کر اس میں شامل ہو گئے۔ اسی طرح جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے جب غیر جمہوری طریقے سے حکومتیں قائم کیں تو انھیں بھی سیاست دانوں کے طائفے سے بے شمار لوگ میسر آ گئے۔ تاریخ کے اس جائزے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے اہل سیاست نے محض اپنے اقتدار کے لیے ملک میں سیاسی استحکام کو داؤ پر لگائے رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سیاست دان ہوس اقتدار سے بالاتر رہتے اور باہم متحد ہو کرغیر جمہوری حکمرانوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھتے تو یہ ملک اس وقت مستحکم سیاسی اقدار کا حامل ہوتا۔</p> <p>اہل سیاست کی دوسری غلطی یہ ہے کہ انھوں نے عوام کے ساتھ سراسر غیر سیاسی طرز عمل اختیار کیا۔ انھوں نے نہ عوام کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی طرف کبھی توجہ دی، نہ ان سے رابطے کا کوئی چینل قائم کیا اور نہ ان کی تنظیم سازی کی طرف مائل ہوئے۔ انھوں نے عوام سے اگر کچھ ربط و تعلق قائم بھی کیا تو اسے بھی انتخابی جلسے جلوسوں تک محدود رکھا۔ عوام سے مینڈیٹ لینے کے بجائے اکثر ان کی یہی کوشش رہی کہ کسی دوسرے ذریعے سے ایوان اقتدار میں پہنچا جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ہمیشہ عوام کی ترجیحات اور امنگوں کے برعکس معاملہ کیا۔</p> <p>جب کبھی برسر اقتدار آئے تو عوام سے اپنا تعلق یکسر ختم کر لیا۔ یہ تجربہ اکثر لوگوں نے کیا کہ جو سیاسی لیڈر انتخابات کے دنوں میں اس کے ساتھ محبت سے ملتے تھے، اس کے دکھ درد کو سنتے تھے اور اس کی حاجت روائی کے وعدے کرتے تھے، انھوں نے کامیاب ہوتے ہی اسے پہچاننے سے ان کا رکر دیا۔ ان سیاست دانوں نے اقتدار میں آ کر اگر کچھ پرواکی تو صرف اقربا، احباب اور قریبی کارکنان کی۔ ترقی کے دروازے اگر کھولے گئے تو صرف قریبی لوگوں کے لیے اور اس ضمن میں میرٹ کا کوئی لحاظ نہ کیا گیا۔</p> <p>جو سیاسی جماعتیں تشکیل دیں، انھوں نے اپنے کارکنوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے بجائے ارادت کے جذبات کو پروان چڑھایا۔ انھیں اس بات کی ترغیب دی کہ قائد ہی کی بات حرف آخر ہے۔ آج اگر وہ کسی بات کو غلط کہتا ہے تو وہ سراسر باطل ہے اور کل اسی بات کو صحیح کہتا ہے تو وہ عین حق ہے۔ جماعت کے اندر اسی شخص کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جو قائد کے اشارے پر بے بہا مال وزر لٹانے کے لیے تیار ہو یا اس کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والا ہو۔</p> <p>ملکی سطح پر تو جمہوریت کے نعرے خوب بلند کیے، مگر اپنی جماعتوں کے اندر بدترین آمریت کا مظاہرہ کیا۔ نہ کارکنوں کواپنے قائدین منتخب کرنے کا موقع فراہم کیا، نہ نیچے سے اوپر تک مشاورت کا کوئی نظام وضع کیا اور نہ آزادی رائے کی گنجایش باقی رکھی۔ عوام کوجب بھی سڑکوں پر نکالا تو اس مقصد کے لیے نکالا کہ وہ اپنی جانوں، اپنی املاک اوراپنے وقت کی قربانی دے کر ان کے اقتدار کی راہیں ہموار کریں۔</p> <p>عوام کے ساتھ اس طرز عمل کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ وہ ان سے پوری طرح مایوس ہو گئے۔ ان اہل سیاست پر نہ انھیں اعتماد رہا اور نہ کوئی تعلق خاطروہ باقی رکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم انتخابات کے موقع پر ان سیاست دانوں کے لیے عوام کی حمایت کا تجزیہ کریں تو اس کی حقیقت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی دانست میں بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی کو ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔</p> <p>ان اہل سیاست کی تیسری بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے ان جمہوری اقدار کو بھی پامال کر ڈالاجو ان کی اپنی بقا کے لیے ضروری تھیں۔ وہ وعدے جن کی بنا پر انھوں نے عوام سے ووٹ لیے، برسر اقتدار آ کر ان پر عمل تو کجا، کسی کو یاد بھی نہیں رہے۔ وہ جماعتیں جن کی حمایت سے وہ ایوان حکومت میں پہنچے، ان سے اپنی وفاداری تبدیل کر لینے میں انھیں کبھی تردد نہ ہوا۔ وہ آئین اور قوانین جنھیں انھوں نے خود تخلیق کیا اور جن کی حفاظت پر وہ مامور ہوئے، ان کی خلاف ورزی کو سیاسی عمل کی ضرورت سمجھا۔ پارلیمنٹ میں اختلاف برائے اختلاف ہی کی روایت قائم کی۔ اگر حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھے توحکومت کے صحیح اقدامات کی بھی مخالفت کی اور اگرمسند حکومت پر فائز ہوئے تو حزب اختلاف کے وجود ہی کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔ قوم کی معاشی بد حالی کے باوجود ایسی مراعات کو اپنے لیے مختص کیا جو دنیا کی بڑی ریاستوں کے ارباب اقتدار کو بھی حاصل نہیں ہیں۔ قومی خزانے میں مالی بدعنوانی کی ایسی داستانیں رقم کیں جنھیں سن کر راہ زن بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ سیاسی جماعتیں ہوں یا مقننہ اور انتظامیہ کے جمہوری ادارے، سب تباہ و برباد ہو کر رہ گئے۔</p> <p>یہ اس طرز عمل کی ایک جھلک ہے جو ہمارے سیاست دانوں نے گزشتہ عرصے میں پیش کیا ہے۔ یہ تصویر سامنے لانے سے ہمارا مقصود یہ ہر گز نہیں ہے کہ لوگ ان کے بجائے کسی اور طرف رجوع کریں، وہ اچھے ہیں یا برے، بہرحال ملک کی زمام اقتدار سنبھالنا انھی کا استحقاق اور انھی کی ذمہ داری ہے۔ اس سے ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ اہل سیاست ماضی کے آئینے کو اپنے سامنے رکھیں اور قومی تعمیر کے لیے اپنے کردار کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔</p> </section> </body> "
"0017.xml"
"<meta> <title>نئے میدان جنگ کا انتخاب</title> <author> <name>سید منظور الحسن</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Mahnama Ishraq June 2007</name> <year>2007</year> <city>Lahore</city> <link>https://www.javedahmedghamidi.org/#!/ishraq/5adb73a4b7dd1138372dc582?articleId=5adb745bb7dd1138372dd8e5&amp;year=2007&amp;decade=2000</link> <copyright-holder>Al-Mawrid</copyright-holder> </publication> <num-words>1420</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"نئے میدان جنگ کا انتخاب"
1,420
"No"
"<body> <section> <p>گزشتہ دو صدیوں میں ہماری ہزیمت کی داستان بار بار دہرائی گئی ہے۔ میسور، پلاسی، بالا کوٹ، دہلی، افغانستان اور عراق کے جنگی میدانوں میں ہماری شکست اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اس شکست کے اسباب و عواقب کے بارے میں ہمارے ارباب علم و دانش مختلف الخیال ہیں۔ بعض اسے اللہ کی آزمایش سے تعبیر کر کے عزیمت و استقامت کا درس دیتے ہیں۔ بعض قومی انتشار کا نتیجہ تصور کر کے اتحاد و یک جہتی کی تلقین کر تے ہیں اور بعض سپر پاورکی عسکری برتری کا مظہر قرار دے کر عسکری قوت کے حصول کا لائحۂ عمل تجویز کر تے ہیں۔ یہ سب تجزیے اور تجاویز درست ہو سکتی ہیں، مگر ایک حقیقت ان کے ماسوا بھی موجود ہے جس سے ہماری فکری اور سیاسی قیادت مسلسل صرف نظر کر رہی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری قوم نے جنگ کے لیے غلط میدان کا انتخاب کر رکھا ہے۔ ایک ایسا میدان جنگ جس میں ہم پے در پے شکست کھا رہے ہیں۔ یہ مادی قوت کا میدان ہے۔ اس قوت کا مظہراگر دولت ہے تو ہمارے ہاتھ میں کاسۂ گدائی ہے، اگر علم و فن ہے تو ہمارا جہل مسلم ہے، اگر اسلحہ ہے تو ہم بے دست و پاہیں اور اگر اقتدار ہے توہم محکوم محض ہیں۔ مادی قوت کے ان تمام مظاہر سے ہمارا وجود بالکل خالی ہے۔ اس حقیقت کے تلخ نتائج کا مسلسل شکار ہونے کے باوجود ہم مسلسل اسی میدان میں جان کی بازی لگا رہے ہیں۔ یہ عمل اگرسوچا سمجھا ہوتا تو سوچ کے زاویوں کو نیا رخ دے کر ہزیمت کی گردش سے نکلا جا سکتا تھا، مگر المیہ یہ ہے کہ یہ سرتاسر بے شعوری پر مبنی ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ہم مادی قوت کے جس میدان میں برسر جنگ ہیں، اس میں فتح و کامرانی کے اسباب علوم و فنون، زراعت و معدنیات اور صنعت و تجارت ہیں۔ انھیں بعض اقوام نے جمع کر کے مادی قوت کے میدان میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جذباتی نعروں، موہوم تمناؤں اور بے بنیاد دعووں کے ذریعے سے ہم یہ اجارہ داری ختم کر سکتے ہیں۔ ہماری بے شعوری کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہم نے افغانستان میں اپنی کمزوری کا ہر سطح پر مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی سرزمین عراق کو اسی میدان جنگ کا مرکز بننے دیا ہے۔ </p> <p>بہرحال صداقت صرف اور صرف یہ ہے کہ موجودہ حالات میں مادی قوت کا میدان ہماری ہزیمت کا میدان ہے۔ ہم اگر اسی کمزور حیثیت سے اس میدان میں برسر پیکار رہے تو خدانخواستہ بربادی کی عبرت انگیز داستانیں رقم ہوتی رہیں گی اور قانون الٰہی کے عین مطابق شکست ہی ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔ اس میدان میں اگر ہم کوئی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اس میدان سے نکل کر مادی قوت کے وہ تمام اسباب و وسائل حاصل کریں جو کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کے حصول کے لیے ایک طویل جدوجہد درکار ہے۔ آج اگر ہم اس جدوجہد کا آغاز کریں تو ممکن ہے کہ ایک مدت بعد انھیں حاصل کر لیں۔ </p> <p>تاہم، ایک میدان جنگ ایسا ہے جس میں فتح یابی کے اسباب و و سائل اس وقت بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرہم اس میں سرگرم عمل ہوں تو دنیا کی سب اقوام مل کر بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اس میدان میں ہماری فتح یقینی ہے۔ یہ مادی قوت کا نہیں، بلکہ فکری قوت کا میدان ہے۔ ہمارے پاس پروردگار عالم کی آخری ہدایت کی صورت میں لافانی فکری قوت موجود ہے۔ یہودیت ہو یا عیسائیت، بدھ مت ہو یا ہندو مت، تمام مذاہب عالم پر اس کی فضیلت مسلم ہے۔ تصوف، لادینیت، اشتراکیت، سرمایہ داری اور دیگر سیاسی، معاشی اور عمرانی افکار میں سے کوئی فکر بھی اسے چیلنج کرنے کا اہل نہیں ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ اگر اس میدان میں مغرب سقراط و فلاطوں سے لے کر فرائڈ اور مارکس تک فلاسفہ کی تمام فکری قوت کو بھی مجتمع کر لے تب بھی اس کی رسائی محمد عربی کے افکار تک نہیں ہو سکتی۔ </p> <p>یہ مقدمہ اگر درست ہے تو پھر ہمیں یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اب ہمیں اقوام عالم کی علاقائی سرحدوں کو نہیں، بلکہ نظریاتی سرحدوں کو ہدف بنانا ہے، ہمیں ان کے ملکوں پر نہیں، بلکہ ان کے افکارپر تاخت کرنی ہے اور ہمیں ان کے جسموں کو نہیں، بلکہ دل و دماغ کوتسخیر کرنا ہے۔ چنانچہ اس نئے میدان میں ہمیں تعلیم و تعلم، اصلاح و دعوت اور اخلاق و کردار کے زور پر دنیا کو یہ بتاناہے کہ پیغمبر اسلام کی رسالت ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے۔ یہودیت اور نصرانیت جیسے الہامی ادیان کا اثبات بھی اس رسالت کے اثبات پر منحصر ہے۔ یہ واضح کرنا ہے کہ زمین پر اللہ کی ہدایت کا آخری اور حتمی منبع قرآن مجید ہے۔ اس کی حفاظت کے انتظام، اس کی شان کلام اور اس کے خالص عقلی و فطری مشمولات کی بنا پر اس کی حاکمیت دیگر الہامی صحائف اور افکار فلاسفہ پرہر لحاظ سے قائم ہے۔ چنانچہ عقیدہ و ایمان اور فلسفہ و اخلاق کے تمام مباحث میں رہتی دنیا تک اسے میزان اور فرقان کی حیثیت حاصل ہے۔ ہر نظریے اور ہر عمل کو اب اس کی ترازو میں تلنا اور اس کی کسوٹی پر پرکھا جانا ہے۔ اس میدان میں ہمیں یہ بھی تسلیم کرانا ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کوصحیح خطوط پر قائم کرنے کا وا حد راستہ اسلامی شریعت ہے۔ اس ضمن میں یہ ان مسئلوں کو بھی حل کرتی ہے، جنھیں انسانی عقل اپنی محدودیتوں کی وجہ سے حل نہیں کر سکتی۔ اس کی روشنی میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جس میں حیا کو بنیادی قدر کی حیثیت حاصل ہو اور معاشرے کی اکائی خاندان کو اس قدر استحکام حاصل ہو کہ انسان بچپن اور بڑھاپے کی ناتواں زندگی بھی خوش و خرم گزار سکے۔ ایک ایسا نظم معیشت وجود میں آسکتا ہے جو لالچ، جھوٹ اور استحصال سے پاک ہو۔ ایک ایسی ریاست وجود میں آسکتی ہے جس کا نظام شہریوں کی فلاح کا ضامن اور عدل و انصاف کا عکاس ہو۔ اس کی برکت سے دنیا میں ایک ایسے ماحول کا وجود پذیر ہونا ممکن ہے جس میں انسان کا اصل ہدف دنیا نہیں، بلکہ آخرت ہو۔ انسان اپنی دنیوی ذمہ داریاں مسابقت کے پورے جذبے کے ساتھ انجام دے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کی نظر اخروی کامیابی پر ہو۔ اس بنا پر یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ شریعت کی روشنی جس خطۂ ارضی کو منور کر دے، اس میں دہشت، درندگی، ظلم اور اخلاق باختگی کے مظاہر شاذ ہو جاتے ہیں۔</p> <p>فکری قوت کے اس میدان میں پیش قدمی کو حالات زمانہ نے بہت سازگار بنا دیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک افراد، اقوام اور حکمران جنگ کی نفسیات میں جیتے تھے۔ جس کے پاس مادی قوت ہو، اس کا یہ حق تسلیم شدہ تھا کہ وہ اگر چاہے تو اخلاقی جواز کے بغیر بھی کمزور کوتر نوالا بنا لے۔ چنگیز، ہلاکو، ہٹلر اور میسولینی جیسے حکمران قوموں کی تباہی کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ خوف و دہشت کو بین الاقومی قانون کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ فضا اب تبدیل ہو گئی ہے۔ دنیا کا اجتماعی ضمیر جنگ کی نفسیات سے نکل آیا ہے۔ جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کا چلن ہے۔ انسان دوسرے انسانوں کے اور اقوام دوسری قوموں کے حق خود ارادی کو تسلیم کرنے لگی ہیں۔ خوف و دہشت کے مظاہر عظمت کے بجائے ذلت کی علامت قرار پا گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت کواپنی ظالمانہ کارروائیوں کے لیے بھی دہشت گردی، کیمیائی ہتھیار اور آمریت جیسے مقدمات کا سہارا لینا پڑتا ہے اور اس کے باوجود امریکہ سمیت پوری دنیا، بلا استثناے قوم و مذہب سراپا احتجاج ہے۔ پھر میڈیا کی عظیم وسعت نے دنیا کے ہرشخص تک رسائی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس صورت حال میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اسلام کی دعوت کے لیے میدان بالکل صاف ہے اور یہ آج جس قدر موثر ہو سکتی ہے، گزشتہ زمانے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ اس وقت ہمارے لیے واحد لائحۂ عمل یہ ہے کہ جب تک ہم مادی اعتبار سے ضروری قوت بہم نہیں پہنچا لیتے، اس وقت تک اپنی تمام تر توانائیاں فکری قوت کے میدان میں بروئے کار لائیں۔ یہی ہماری فتح یابی کا میدان ہے۔ ایک ایسا میدان جس میں شکست کا کوئی تصور نہیں ہے۔</p> </section> </body> "
"0018.xml"
"<meta> <title>اداریہ</title> <author> <name>نجیبہ عارف</name> <gender>Female</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/0.2_page_no.5_7_idariah_vol_4.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>837</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"اداریہ"
837
"No"
"<body> <section> <p>ردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور ایک عظیم تہذیبی وثقافتی ورثے کی امین و عکاس ہے۔ پاکستان کے عمومی سیاسی و معاشرتی منظر نامے میں بعض اوقات اس زبان کی حقیقی قدر و قیمت کے تعین میں کوتاہی بھی ہو جاتی ہے لیکن پاکستان کی ایک بڑی اکثریت اردو کے فروغ و ارتقا پر متفق رہی ہے۔ یہ واحد زبان ہے جو پاکستان کے تمام علاقوں کے درمیان رابطے اوریک جہتی کاذریعہ ہے۔ پاکستانی عوام، خواہ وہ کسی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، اردو ہی کو اپنے علمی وفکری اظہارکا بہترین وسیلہ خیال کرتے ہیں۔ معاشرتی سطح پر اس کی پذیرائی کا ایک ثبوت نوجوان نسل کے وہ بچے ہیںجو انگریزی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر کے نکلے ہیں، اور جنھیں اب تک اپنی تہذیب و ثقافت سے بیگانہ خیال کیا جاتا تھا، مگر وہ بھی اردو پر شرمانے کی بجائے اسے اپنانے کی طرف مائل ہیں۔ تاہم یہ بات کسی بھی طرح پاکستان کی دیگر زبانوں کی اہمیت اورضرورت کو کم نہیں کرتی۔ پاکستان کی تمام زبانیں اپنی تہذیبی ثروت مندی، ادبی ورثے اور سماجی اظہار کی بیش بہاصلاحیت کے باعث اپنی اپنی جگہ قابلِ فخر مقام کی حامل ہیں اورہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ یہ زبانیں بھی ترقی کر کے جلد از جلد علمی اظہار کی صلاحیت حاصل کر لیں۔ تاہم اردو کو یہ امتیازضرور حاصل ہے کہ یہ ایک طرف توپاکستان کے ہر خطے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور دوسری طرف کئی سو برس کے ارتقائی مراحل سے گزرنے کے بعد جدید علمی انکشافات کے ابلاغ پر قادر ہے۔ اگرچہ یہ زبان دنیا کے کئی ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور ہندوستان کی تو قومی زبانوں میں سے ایک ہے لیکن معروضی حقائق کا ادراک کرنے پر احساس ہوتا ہے کہ اردو کے اس علمی و ادبی سرمائے کی حفاظت اور اس کا فروغ اب مملکت پاکستان ہی کی ذمہ داری ہے۔ </p> <p>لاہور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ سائنسزکے گرمانی مرکز زبان و ادب کے زیر اہتمام بنیاد جیسے علمی وتحقیقی مجلے کااجرا اردو زبان کے حوالے سے اس اہم قومی ذمہ داری سے نبرد آزما ہونے کی ایک قابلِ ستائش کوشش ہے۔ بنیاد کا تازہ شمارہ پیشِ خدمت ہے۔ گرمانی مرکز زبان و ادب کے فیصلے کے مطابق اب یہ شمارہ سالانہ بنیاد پر شائع کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ضخامت پہلے شماروں سے زیادہ ہے۔ مشمولات کے حوالے سے مجلے میں موضوعاتی تنوع پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور تحقیق، تنقید، تراجم اور تبصرۂ کتب کو علیحدہعلیحدہ عنوانات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ اس شمارے میں ’’بیادِرفتگاں‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی گوشہ ترتیب دیا گیا ہے۔ اس حصے میں معروف محقق عبدالستّارصدیقی کی علمی و تحقیقی خدمات کے مفصل مطالعے پر مبنی مقالے کے علاوہ اردو نظم کے معروف شاعر میرا جی کے تخصیصی مطالعات بھی شامل ہیں، جس میں ان کی شعری و فکری جہات کے علاوہ ان کے تراجم کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اس شمارے کے لیے ہمیں پاکستان کے علاوہ جرمنی، امریکہ اور بھارت کے نامور اساتذہ، محققین اور علما کے مقالات بھی موصول ہوئے ہیں۔ ہم ان تمام مقالہ نگاروں کے ممنون ہیں۔ امید ہے ہمیں صاحبانِ علم و فضل کا تعاون اسی طرح حاصل رہے گا۔ </p> <p>بنیادکی مہمان مدیر کی حیثیت سے لازم ہے کہ میں گرمانی مرکز کی رابطہ کار محترمہ یاسمین حمیدصاحبہ اور ان کے معاونین، خصوصاً احمد بلال اور ذیشان دانش کی بھرپور معاونت، مشاورت اور عملی و اخلاقی مدد کانہ صرف اعتراف کروں بلکہ شکریہ بھی ادا کروں۔ یاسمین حمید صاحبہ، بنیادکی ترتیب و تدوین کے ہر مرحلے پر شریک کار رہیں۔ بلال جب تک ملک میں موجود رہے، مسلسل بنیاد سے متعلق فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ان کے جانے کے بعد یہ ذمہ داری ذیشان دانش نے بہت خلوص اور جاں فشانی سے نبھائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈین کلیۂ انسانی و سماجی علوم، پروفیسر انجم الطاف کی حوصلہ افزائی اور اخلاقی مدد بھی قابلِ تحسین ہے۔ اردو اور پاکستان کی دیگر زبانوں اور ان کے ادب سے انھیں جو ربطِ خاص ہے، اس کے اظہار کی ایک صورت بنیاد میں ان کی خصوصی دلچسپی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں بنیادکے سابق مدیر اعلیٰ، سید نعمان الحق، مدیر منتظم اطیب گل اور ناظمِ طباعت و اشاعت محمد نویدکا شکریہ بھی واجب ہے، جنھوں نے اس مجلے کے حوالے سے ایک مضبوط علمی و تحقیقی روایت کی بنا رکھی اور اس کا ایک جمیل اور خوش نظر سانچا تیار کر دیا۔ چناںچہ ہم نے روایت کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے، اسی تحقیقی و طباعتی انداز کو اختیار کیا ہے۔ ان تمام اہلِ علم کا بھی شکریہ، جنھوں نے صلے کی پروا کیے بغیر بنیادکے لیے موصول ہونے والے مقالات کو دقت نظری سے پرکھا اورہمیں بنیاد کا علمی معیار قائم رکھنے میں مدد دی۔</p> <p>آخر میں اس ذات کے حضور احساسِ تشکر جو الاوّل بھی ہے اورالآخر بھی۔ اس دعا کے ساتھ کہ ہم سب کوشہر علمؐ اور بابِ شہر علمؑ کی نسبت سے علم اور ادب کی توفیق ارزانی ہو!</p> <p>نجیبہ عارف</p> <p>مہمان مدیر،</p> <p>مئی ۲۰۱۳ئ؍ رجب المرجب ۱۴۳۴ھ</p> </section> </body> "
"0019.xml"
"<meta> <title>عالمِ اسلام میںطباعت کا آغاز اورتذبذب: جنوبی ایشیا میں فارسی طباعت کے عروج و زوال کا مطالعہ</title> <author> <name>معین الدین عقیل</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/1_moinuddin_aqeel_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>6170</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"عالمِ اسلام میںطباعت کا آغاز اورتذبذب: جنوبی ایشیا میں فارسی طباعت کے عروج و زوال کا مطالعہ"
6,170
"Yes"
"<body> <section> <heading>دنیاے اسلام، مخطوطات سے مطبوعات تک:</heading> <p>طباعت نے ابلاغِ علم میں جو انقلاب برپا کر دیا تھا، اور مغربی عیسائی دنیا نے عہدِ وسطیٰ میں اپنی مذہبی زندگی کی تشکیل ِنو میں اس وسیلے کو استعمال کرتے ہوئے جو فوائد حاصل کرنے شروع کر دیے تھے، اسلامی دنیا ابھی ان سے محروم تھی اور انیسویں صدی کے اوائل تک، عیسائی دنیا سے چار صدیوں کے بعد بھی، اس میں طباعت کا آغاز نہ ہو سکا تھا۔ اسلامی دنیا کے ان ممالک میں، جہاں اسلامی اقتدار کو مغربی توسیع پسندی سے خطرات لاحق تھے، جیسے ترکی، مصر اور پھر ایران، وہاںمطابع اگرچہ انیسویں صدی کے آغاز میں قائم ہونے شروع ہوگئے تھے، لیکن انیسویں صدی کے نصف آخر تک یہاں طباعت عام نہ ہو سکی تھی۔ لیکن جنوبی ایشیا میں صورتِ حال قدرے مختلف تھی۔</p> <p>واقعہ یہ نہیں تھا کہ مسلمان طباعت سے واقف نہیں ہوئے تھے۔ ترکی میں ۱۴۹۳ئ تک اسپین سے آنے والے یہودی آبادکاروں نے اپنے مطابع قائم کر کے اپنی مذہبی اور کچھ علمی کتابیں شائع کرنی شروع کر دی تھیں اور دیگر اسلامی ملکوں میں بھی یہودیوں اور عیسائیوں نے مطابع سے کام لینا شروع کر دیا تھا۔</p> <p>اس کا سبب یہ بھی نہیں تھا کہ دنیاے اسلام کی زبانوں کے رسم الخط کی متحرک حرفی طباعت کے لیے الفاظ میں چار مختلف صورتوں میں تقسیم کا عمل انھیں نسبتاً مشکل لگا ہو، جب کہ پندرھویں صدی میں قرآن عربی رسم الحظ میں شائع ہو چکا تھا اور سولھویں صدی میں شام کے عیسائی باشندے عربی کتابوں کی اشاعت کے لیے مطابع استعمال کرنے لگے تھے۔</p> <p>مسلمانوں کا حفظ، علم ِسینہ اور خطاطی وکتابت کی ان کی اپنی منفرد اور قابل فخرروایات نے مسلمانوں کے لیے طباعت کو قابلِ قبول نہ بنایا۔ طباعت کے لیے مخطوطے یا مسودے کی نقل نویسی میں جو اغلاط روا رہ جاتیں، وہ ان کے لیے گوارا نہ تھیں۔ خود مصنف کا لکھا ہوا ان کے لیے قابلِ اعتبار تھا اور استناد رکھتا تھا۔ پھر طباعت کے عمل میں روا رہنے والی بدصورتی اس وقت مسلمانوں کے جمالیاتی ذوق سے قطعی مختلف تھی اور قرآن کی حد تک حد سے زیادہ احتیاط اور حسن کاری کی مستحکم و مستقل روایت نے طباعت کو اختیار کرنے کے خیال کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ کیوں کہ وینس (اٹلی) سے ۱۵۲۷ئ میں شائع ہونے والے قرآن میں بعض حروف، جیسے ’د‘ اور ’ذ‘ وغیرہ کے درمیان امتیاز برقرار نہ رہ سکا تھا۔ مگر یہ ابتدائی تجرباتی عمل تھا، بعد میں صورت حال بہتر ہوتی رہی، لیکن مسلمانوں کا ذہن ایک عرصہ تک طباعت کو گوارا نہ کر سکا۔ شاید اس گریز پائی کے اس رویے میں ان کا یہ خیال بھی کار فرما رہا کہ کفار کی اس ایجاد کا استعمال کفر میں ان کی شرکت یا کفر کی معاونت کے مساوی رہے گا۔ لیکن اس مرحلہ پر، یہ رویہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں تھا، قدامت پرست عیسائی یا کیتھولک بھی طباعت کے آغاز کے ایک عرصہ بعد تک اس کی راہ میں اسی طرح مزاحم رہ چکے تھے۔</p> <p>اگرچہ مذہبی کتابوں کی اشاعت خود دنیاے اسلام میں متعدد ملکوں کے لیے ناقابل قبول تھی، لیکن ترکی، عہدِ زار کے روس اور ہندوستان کا نقطۂ نظر مختلف تھا۔ یہاں انیسویں صدی کے اوائل میں مذہبی کتابوں کی اشاعت شروع ہو گئی۔ ’وہابی‘ اولین مسلمان تھے، جو حج کے لیے دخانی کشتیوں اور جہاد کے لیے آتشیں اسلحہ کے استعمال کے آغاز کی طرح، اپنے خیالات کی عام اشاعت کے لیے طباعت کے جدید وسیلے کو اختیار کرنے میں مذبذب نہ ہوئے۔ چناں چہ مسلمان دانش وروں اور ان کے زیر اثر حکومتوں کا رویہ کچھ عرصے میں طباعت کے حق میں استوار ہو گیا۔ وہ یورپ میںطباعت کے مفید اثرات کو دیکھتے ہوئے اسے نہ صرف علوم کی ترقی اور معاشرتی اصلاح کے لیے بلکہ علومِ اسلامیہ کے فروغ کی خاطر عالم ِاسلام کے لیے ناگزیر سمجھنے لگے تھے۔ ان کے متوازی حکمران طبقے نے طباعت کو اپنی حکمت عملی کے نفاذ اور اس کی کامیابی کے لیے بطور وسیلہ و ہتھیار اختیار کرنا قرین مصلحت سمجھا۔ ترکی میں اولاً سلطان مراد سوم (۱۵۴۶ئ۔ ۱۵۹۵ئ) نے اکتوبر ۱۵۸۸ئ میں یورپی تاجروں کو عربی رسم الخط میں مطبوعہ کتابوں کو ترکی میں درآمد کرنے کی اجازت دے دی اور سلطان احمد سوم (۱۶۷۳ئ۔ ۱۷۳۶ئ) نے اس اقدام سے آگے بڑھ کر ۱۷۲۷ئ میں اپنی قلم رو میں مطابع کے قیام کی اجازت بھی دے دی، لیکن یہ اجازت صرف غیر مذہبی کتابوں تک محدود تھی۔ اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر ابراہیم متفرقہ (۱۶۷۰ئ۔۱۷۴۵ئ) نے، جو ہنگری سے آکر استنبول میں بس گیا تھا اور اسلام بھی قبول کرلیاتھا، ۱۷۲۷ئ میں دنیاے اسلام کا پہلا مطبع قائم کیا۔ یہاں سے محض تاریخی اور سائنسی کتابوں کی اشاعت کے باوجود علما اور عام مسلمانوں کی جانب سے اس کی اتنی شدید مخالفت ہوئی کہ ۱۷۴۲ئ کے بعد یہ مطبع قائم نہ رہ سکا، بند ہو گیا۔ </p> <p>ترکی میں طباعت کا عمل، محدود اور مختصر مدت تک رہنے کے باوجود، دنیاے اسلام کے لیے مؤثر اور محرک ثابت ہوا۔ یورپ سے عربی مطبوعات کی درآمد کے ساتھ ساتھ لبنان میں ۱۷۳۴ئ میں عربی میں طباعت شروع ہو گئی، لیکن یہاں سے شائع ہونے والی کتابیں عیسائیت اور اس کی تبلیغ کے لیے مخصوص تھیں اور یہ محدود تعداد میں شائع ہوئیں۔ اس وقت حالات ایسے تھے کہ عرب دنیا نے یورپی افکار سے اثرات قبول کرنے شروع کر دیے تھے۔ یہی اثرات تھے جنھوں نے اس وقت کی دنیاے اسلام میں ترکی اور مصر کو سب سے پہلے متاثر کیا۔ مصر میں، خلفاے عباسیہ کے دارالترجمہ کی روایت کا ایک اگلا اور مؤثر اقدام طباعت کے شروع ہونے پر محمد علی پاشا (۱۷۸۶ئ۔ ۱۸۴۹ئ) کے دورِ حکمرانی میں نظر آتا ہے، جب حکومت کی سرپرستی میں قائم دارالترجمہ نے مغربی تصانیف کے ترجمے کرانے شروع کیے اور ۱۸۲۲ئ اور ۱۸۴۲ئ کے عرصے میں ۲۴۳ کتابیں قاہرہ میں شائع ہوئیں۔ یہ اگرچہ عربی زبان کے مرکز قاہرہ میں شائع ہوئیں، لیکن ان میں سے تقریباً نصف ترکی زبان میں تھیں۔ حکومت کی سرپرستی میں یہاں ۱۸۱۹ئ سے سرکاری مطبع نے طباعت کا کام شروع کر دیا تھا۔</p> <p>ایران میں بھی طباعت حکمراں طبقے کی توجہ کے باعث شروع ہوئی اور اس کا آغاز، مصر سے کچھ پہلے، ۱۸۱۶ئ میں عباس مرزا، نائب السلطنت (۱۷۸۹ئ - ۱۸۳۳ئ) نے تبریز میں ایک مطبع قائم کر کے کیا۔ قریب قریب اسی وقت عبدالوہاب معتمد الدولہ (متوفی ۱۸۲۷ئ) نے تہران میں ایک مطبع قائم کیا۔ یہ مطابع حکمراں طبقے کی طباعت میں اس دلچسپی کے مظہر ہیں، جس کا آغاز کئی سال قبل ۱۷۸۴ئ میں اس وقت دیکھا جاسکتا ہے، جب عباس مرزا نے جعفر شیرازی کو ماسکو اور اسد آغا تبریزی (جس کے والد اور بھائی کا ایک مطبع، ایک روایت کے مطابق، پہلے ہی تبریز میں قائم تھا) کے بیان کے مطابق، مرزا صالح شیرازی (متوفی ۱۸۳۹ئ)، وزیر تہران نے فارس کے ایک باشندے مرزا اسد اللہ کو سینٹ پیٹرس برگ بھیجا تھاتاکہ وہ سنگی طباعت کا فن سیکھ سکے۔ مرزا اسد اللہ کی واپسی پر تبریز میں پہلا سنگی مطبع قائم ہوا، جو پانچ سال کے بعد تہران منتقل کر دیا گیا۔ ۱۸۲۷ئ میں زین العابدین تبریزی کے زیر اہتمام بھی تبریز میں ایک مطبع کے قیام کا پتا چلتا ہے۔ کچھ ہی عرصے میں ایران کے دیگر شہروں میں بھی مطابع قائم ہونے لگے۔ محض تبریز میں، جو اس وقت ایران کا سب سے بڑا شہر تھا، ۱۸۴۶ئ میں کم از کم مطابع کام کر رہے تھے۔</p> <heading>جنوبی ایشیا میں ابتدائی طباعتی سرگرمیاں: فارسی طباعت کا آغاز:</heading> <p>ترکی، مصر اور ایران کے مقابلے میں جنوبی ایشا میں صورتِ حال مختلف تھی۔ یہاں کے مسلمانوں کا رویہ بھی دنیاے اسلام کے دیگر مسلمانوں سے مختلف نہ تھا، لیکن وہ اس کی افادیت کے منکر نہ تھے۔ چناںچہ مغل حکمرانوںمیںسے جہانگیر (۱۶۰۵ئ۔ ۱۶۲۷ئ) کو جب جیسوٹ (Jesuits) مبلغین نے عربی میں اٹلی میں طبع شدہ انجیل کا ایک نسخہ دکھایا، تو جہانگیر نے ان سے نستعلیق میں ٹائپ ڈھالنے کے امکانات پر گفتگو کی تھی۔ لیکن دوسری جانب شاہجہاں (۱۶۲۸ئ۔ ۱۶۵۷ئ) کے ایک وزیر سعد اللہ خاں (متوفی ۱۶۷۶ئ) کو ۱۶۵۱ئ میں جب ایک مطبوعہ عربی کتاب بطور تحفہ پیش کی گئی تو اس نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ یہی رویہ رہا کہ طباعت کے مروج ہوجانے پر بھی، دو تین دہائیوں تک، نستعلیق یا نسخ کے شیدائیوں میں طباعت کو خود اختیار کرنے کا احساس عام نہ ہو سکا۔ چناں چہ انیسویں صدی کے اوائل تک، ایک دو مستثنیات سے قطع نظر، جنوبی ایشیا میں جو بھی طباعتی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں، وہ سب غیر ملکی افراد، تبلیغی اداروں یا ایسٹ انڈیا کمپنی کے عمال کی کوششوں کے باوصف تھیں اور اگرچہ مقامی افراد کی کوششوں کے نتیجے میں اسلامی ورثے کی حامل زبانوں: عربی، فارسی اور اردو میں طباعت اٹھارویں صدی کی تیسری دہائی میں عام ہو سکی، لیکن یہاں اس کا آغاز سولھویں صدی کے وسط (۱۵۵۶ئ) سے ہو چکا تھا۔ اس وقت تک ان زبانوں میں طباعت کے نمونے ان کتابوں تک محدود تھے، جویورپ کے مختلف مقامات پر شائع ہوتی رہیں اور یہ مقامی زبانوں کی ان مطبوعات میں جزوی عبارتوں یا الفاظ کی شمولیت تک مخصوص تھے، جو یہاں کے مختلف مقامات پر قائم ہونے والے مطابع میں شائع ہوئیں۔ لیکن برطانیہ کے زیرِاقتدار علاقوں میں طباعت کے آغاز و فروغ کی رفتار سست رہی۔ یہاں اوّلین مطبع ۱۷۶۱ئ میں پانڈی چری میں فرانسیسیوں کی شکست کے نتیجے میں مال غنیمت کے طور پر انگریزوں کے ہاتھ لگا۔ یہ مطبع مدراس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے سرکاری احکام اور جنتریوں کی طباعت میں کام آنے لگا۔ مگر فارسی میں طباعت کا تسلسل اور مستقل یا مکمل کتابوں کی اشاعت اس وقت ممکن ہو سکی، جب مطابع کلکتہ میں قائم ہوئے اور ان مطابع نے اپنی اپنی ضرورتوں اور مصلحتوں کے تحت فارسی (اور اردو) میں طباعت کا خاص فنی اہتمام کیا۔</p> <p>جنوبی ایشیا میں طباعت کو اس وقت تک سرکاری سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ یہاں مطابع کے قیام کی دو سو سے زائد سالوں پر مشتمل تاریخ میں جو بھی طباعتی سرگرمیاں سامنے آئیں، وہ زیادہ تر عیسائی تبلیغی جماعتوں کے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے قائم کردہ مطابع کے باعث تھیں یا چند تاجرانہ مطابع بھی وقتاً فوقتاً اس ضمن میں سرگرم رہے۔ پھر ایسے جو مطابع قائم تھے وہ صرف ان عیسائی انجمنوں کے قائم کردہ اداروں یا ان کی آبادیوں میں کام کر رہے تھے اور ان کی مطبوعات کے موضوعات بھی ان کے مقاصدہی کی تکمیل کے لیے مخصوص تھے۔ محض چند مطبوعات ایسی تھیں، جن پر تبلیغی یا مذہبی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ طب یا پھر جغرافیہ و تاریخ سے تعلق رکھتی تھیں اور بالعموم متعلقہ ادارے یا طابع کے اپنے ملک کی زبان میں چھاپی جاتیں۔ ان مطابع نے اگرچہ مقامی زبانوں میں بھی کتابیں اور جنتریاں وغیرہ چھاپنی شروع کر دی تھیں مگر نسخ یا نستعلیق میں طباعت کا تسلسل تو در اصل اس وقت قائم ہوا جب مطابع کلکتہ میں قائم ہوئے، جو مغرب کی ایک مستحکم اور ترقی یافتہ طاقت برطانیہ کے زیر نگیں آچکا تھا اور جنوبی ایشیا میں اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں اس کا ایک ایسا مرکز بن گیا تھا، جہاں یورپی افکار اور تازہ ایجادات سے تربیت یافتہ افراد، علما اور مدبرین کی ایک خاصی تعداد اس وقت جمع ہو گئی تھی اور ان میں سے چند افراد کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں سے یہاں مقامی زبانوں کے رسم الخط میں متحرک حرفی طباعت کی ممکنہ سہولتوں سے آراستہ مطابع نے کام شروع کر دیا تھا۔ اس وقت ان کوششوں اور مطابع کے قیام کو سرکاری سرپرستی حاصل نہ تھی۔ نہ اس ابتدائی مرحلے میں عیسائی تبلیغی انجمنوں کی یہاں اپنی طویل طباعتی سرگرمیوں کی روایت یا تجربہ ہی اس وقت روبہ عمل آیا۔ کلکتہ میں مطابع کی ابتدائی دو دہائیوں کی سرگرمیوں کے بعد کہیں عیسائی تبلیغی انجمنوں کو اس جانب آنے کا موقع ملا یا اجازت حاصل ہوئی۔ اس وقت تک یہاں مطابع کا قیام اور ان میں طباعت کا اہتمام اور پھر مقامی زبانوں میں طباعت کے تجربوں کا سارا دارو مدار انفرادی دلچسپیوں تک محدود رہا۔</p> <p>یہ وہ زمانہ ہے جب برطانوی اقتدار کو بنگال میں یہاں کے آزاد و خود مختار حکمراں سراج الدولہ (۱۷۳۳ئ۔ ۱۷۵۷ئ) کو جنگ پلاسی (۱۷۵۷ئ) میں شکست دینے کے بعد اپنے قدم اس طرح مضبوطی سے جمانے کا موقع مل گیا تھا، جو بعد میں سارے جنوبی ایشیا کو اس کے زیر اقتدار لانے کا سبب بن گیا۔ اب اس کے سامنے ایک وسیع تر علاقہ تھا جس پر استحکام حاصل کرنے اور اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اسے جن ذرائع کو اختیار کرنا اور جن نئی یورپی ایجادات سے معاونت حاصل کرنا تھا، ان میں، اس وقت، اسلحہ اور ہتھیاروں کے بعد، دراصل مطبع ہی نے اس کے عزائم کی راہ ہموار کی۔ حال آنکہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے حکمت سازوں کو اس مرحلے پر نہ اپنے محکوم باشندوں کو مطبع کے فوائد سے ہمکنار کرنے کا خیال آیا تھا، نہ وہ اپنے ہم نسل افراد کو یہاں خود پر تنقید کا کوئی ذریعہ فراہم کرنے کے حق میں تھے۔ بلکہ خود حکومت برطانیہ، برطانیہ میں مطابع کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتی تھی اور اسے محدود رکھنے کے حق میں تھی، چناںچہ جنوبی ایشیا میں نجی مطابع کے قیام کے ایک عرصہ بعد تک نہ اس نے خود اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اپنا مطبع قائم کیا نہ اپنے عمال کو اجازت دی کہ وہ کمپنی کی ملازمت میں رہتے ہوئے کوئی مطبع قائم کر سکیں یا کسی مطبع یا جریدے سے تعلق ہی رکھ سکیں۔ اس لیے اپنی انتظامی ضرورتوں کے باوجود طباعت کا کام وہ ان مطابع سے لیتے رہے، جو نجی ملکیتوں میں تھے۔ یہ تو بنگال میں قدم جمانے کے بعدجلد ہی ایسٹ انڈیاکمپنی کو وارن ہیسٹنگز (<annotation lang="en">Warren Hastings</annotation>، ۱۷۳۲ئ۔۱۸۱۸ئ) جیسا روشن خیال مدبر ومنتظم ہاتھ آگیا تھا، جس نے اپنے زمانہ نظامت بنگال (۱۷۷۲ئ۔ ۱۷۸۵ئ) میں جہاں اس وقت موجود لائق مستشرقین کی علمی و تالیفی سرگرمیوں کی حوصلہ افرائی کی، وہیں ۱۷۸۱ئ میں ”مدرسۂ عالیہ کلکتہ“ کے قیام میں معاونت اور ۱۷۸۴ئ میں ”ایشیاٹک سوسائٹی بنگال“ کے قیام کی راہ ہموار کی۔ اس کی ایسی ہی حوصلہ افزائیوں کے باوصف نہ صرف مشرقی علوم کی تحقیقات کو تحریک ملی بلکہ یہ تحقیقات طباعت واشاعت کے دائرے میں بھی داخل ہوئیں۔ پھر یہی زمانہ تھا جب کلکتہ اپنے وقت کے سب سے بڑے مستشرق ولیم جونز (<annotation lang="en">William Jones</annotation>، ۱۷۴۶ئ۔ ۱۷۹۴ئ) کی آمد (۱۷۸۳ئ) اور اس کی کوشش سے ایشیاٹک سوسائٹی کے قیام کے نتیجہ میں مستشرقین کی بڑی آماجگاہ اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ جونز اور اس کے ہم عصر ساتھیوں نے فارسی کے مطالعہ، تراجم اور قواعد و فرہنگ نویسی پر بھی خاص توجہ دی۔</p> <p>ان تمام یورپی اقوام کے لیے، جو کسی بھی مقصد کی تکمیل کے لیے جنوبی ایشیا آتے رہے، فارسی زبان کا سیکھنا ناگزیر رہا۔ انھیں یہاں فارسی کی حیثیت کا خوب اندازہ اور تجربہ ہوتارہا۔ اعلیٰ سرکاری عمّال اور حکام سے کامیاب ابلاغ کے لیے یہ ایک مؤثر وسیلہ تھی۔ اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے اس زبان کو صرف اداے مطلب کے لیے اختیار کرنا ہی ان کے لیے ضروری نہیں تھا، بلکہ اس میں اتنی مہارت بھی ان کے لیے ضروری تھی کہ اعلیٰ سطحی قانونی معاملات اور سرکاری و سفارتی مراسلت کے لیے بھی وہ اسے استعمال کر سکیں۔ اسی ضرورت نے ان میں سے بعض کے تحقیقی و تصنیفی ذوق کی آبیاری بھی کی۔ قواعد اور لغات کے ساتھ ساتھ تاریخی وادبی متون کے تراجم ان کے اسی ذوق کے مظہر تھے۔ جنگ پلاسی (۱۷۵۷ئ) میں کامیابی کے بعد سیاسی مصالح کے تحت ان میں اس زبان سے ضروری اقفیت حاصل کرنے کا احساس مزیدبڑھ گیا تھا۔ کیوں کہ وہ سارے سرکاری معاملات میں مقامی افراد سے مدد نہیں لے سکتے تھے اور نہ ہی ان پر اعتماد کر سکتے تھے۔ یہی ضرورت تھی جس نے ان مستشرقین سے فارسی کی متعدد قواعد و لغات مرتب کروائیں اور ایسی ہی وسیع تر ضرورت نے انھیں ”فورٹ ولیم کالج“ کے قیام کی تحریک دی، جو ۱۸۰۰ئ میں قائم کیا گیا۔ اگر اس کالج کا قیام خود کو مقامی زبانوں کے ہتھیار سے مسلح کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا، تو قبل ازیں وہ ”مدرسۂ عالیہ“ (کلکتہ) قائم کر کے مسلمانوں کے شرعی اور نافذ العمل قوانین کے مطالعہ کی جانب قدم اٹھا چکے تھے۔ یہ دونوں ادارے ان کے لیے گوناگوں فوائد کا باعث بنے۔ رائج الوقت قوانین سے ان کی واقفیت انتہائی ضروری تھی۔ اسلامی قوانین کے مجموعے ”ہدایہ“ (عربی)، مولفہ برہان الدین علی کے فارسی ترجمہ از غلام یحییٰ کے ۱۷۷۸ئ میں انگریزی ترجمہ ازچارلس ہملٹن <annotation lang="en">(Charles Hamilton)</annotation> جیسے تراجم کی تحریک و سرپرستی ان کی اسی ضرورت کا مظہر تھی۔ اسی اہمیت کے پیش نظر وارن ہیسٹنگز نے، جو ہندوستان آنے سے قبل اوکسفرڈ یونیورسٹی میں فارسی زبان کے حق میں تحریک چلا چکا تھا، اور فورٹ ولیم کالج کے قیام کے وقت اگرچہ ہندوستان میں نہیں تھا، لیکن اس کالج کے نصاب میں فارسی اور عربی کو ترجیح اور ضروری اہمیت دینے کے زبردست حق میں تھا۔ فارسی کی اسی حیثیت اور اہمیت نے لسانیات کا ذوق رکھنے والوں سے نہ صرف قواعد اور فرہنگیں مرتب کروائیں بلکہ بڑھتی ہوئی ضرورتوں نے طباعت کے ذرائع اختیار کرنے پر بھی انھیں راغب کیا۔ چناںچہ جنوبی ایشیا میں فارسی طباعت کی مذکورہ ابتدائی مثالوں سے قطع نظر، اس کا اولین باقاعدہ اہتمام ایک لائق مستشرق چارلس ولکنس <annotation lang="en">Charles Wilkins</annotation>)، ۱۷۵۰ئ۔ ۱۸۳۶ئ) کی اس شعوری کوشش میں دیکھا جاسکتا ہے جو اس نے نستعلیق حروف کو بلاک کی شکل میں ڈھالنے کے لیے انجام دیں اور اس مرحلے پر خاصی کامیابی حاصل کی۔ وہ ایک لائق مستشرق کے ساتھ ساتھ بنگالی طباعت کے بانی کی شہرت بھی رکھتا ہے۔ طباعتی امور کا وہ نہ صرف ایک ہنر مند تھا، بلکہ مطبع کا منتظم، خطاط، نقاش، کندہ کار اور حروف تراش بھی تھا۔ ۱۷۷۸ئ کے آخر میں وہ نستعلیق حروف کی ڈھلائی میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اسی سال اس کے ایک مستشرق دوست نیتھینل براسی ہالہیڈ (<annotation lang="en">Nathaniel Brassy Halhed</annotation>، ۱۷۵۱ئ۔ ۱۸۳۰ئ) کی مرتبہ: <annotation lang="en">A Grammar of the Bengali Language</annotation> میں، جو اسی کے اہتمام سے کلکتہ میں چھپی تھی، اس کے تیار کردہ نستعلیق ٹائپ کا ایک ابتدائی نمونہ دیکھا جاسکتا ہے، یا اس سے اگلا قدم فرانسس گلیڈون <annotation lang="en">Francis Gladwin</annotation>)، ۱۷۴۰ئ۔ ۱۸۱۳ئ) کی ترتیب دی ہوئی انگریزی فارسی فرہنگ تھی، جو مالدا سے ۱۷۸۰ئ میں اسی کے اہتمام سے شائع ہوئی۔ اس میں اس کے تیار کردہ خوبصورت نستعلیق کا استعمال کیا گیا تھا۔</p> <p>دستیاب مطبوعات میں، جو اوّلین مکمل فارسی کتاب دستیاب ہے، وہ ہر کرن ملتانی کی تصنیف انشاے ہر کرن ہے، جو چارلس ولکنس ہی کے اہتمام سے کلکتہ سے ۱۷۸۱ئ میں شائع ہوئی۔ اس سے قبل کلکتہ یا اس کے نواح سے جو متعدد کتابیں فارسی یانستعلیق عبارتوں کے ساتھ شائع ہوتی رہیں، ان کی نوعیت مختلف تھی۔ اس قسم کی طباعت زیادہ تر ان ضوابط کے تراجم پر مشتمل تھی، جو ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ وقتاً فوقتاً اپنے زیر انتظام علاقوں کے لیے انگریزی زبان میںجاری کرتی تھی، لیکن بالعموم ان کا فارسی ترجمہ بھی ساتھ ہی یا علاحدہ شائع ہوتا تھا۔ بعد میں یہ روایت زیادہ مستقل ہو گئی۔ ضوابط کے علاوہ قواعدِ ِزبان اور فرہنگوں کی قسم کی تالیفات میں بھی نستعلیق الفاظ یا عبارتوں کی شمولیت عام ہو گئی تھی۔ اس وقت تک جو مطبوعات شائع ہوتی رہیں، ان میں بالعموم جنتریاں، فہرستیں، سرکاری احکامات بشمول قوانین، نقشے، لغات وفرہنگ، زبانوں کے قواعد، ادبی تراجم، سفر نامے، تاریخ، سوانح، ریاضی، علم الادویہ، جغرافیہ وغیرہ سے متعلق کتابیں شامل تھیں۔ انشاے ہر کرن ولکنس کے تیار کردہ ٹائپ کا مبسوط نمونہ تھی، جس کے انگریز مترجم و مرتب فرانسس بالفور <annotation lang="en">(Francis Balfour)</annotation> نے ولکنس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اب ہندوستان میں فارسی طباعت کو بنیادی وسیلہ میسر آگیا ہے۔ ولکنس کی کوششوں کی کامیابی نے اب خود ایسٹ انڈیا کمپنی کو بالآخر اپنی آئے دن کی کم از کم انتظامی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایک سرکاری مطبع کے قیام کی ضرورت کا احساس دلادیا، جس کی تجویز خود ولکنس نے کمپنی کو پیش کی تھی اور وارن ہیسٹنگزنے، جو خود کسی مطبع کے قیام کے حق میں تھا، اپنے اختیارات کے تحت ایک مطبع کے قیام کے لیے کمپنی کے اکابر سے ولکنس کی تجویز کی پر زور سفارش کی، چناںچہ کمپنی نے یہ تجویز منظور کرلی اور کلکتہ میں سرکاری سرپرستی کے تحت ایک مکمل سرکاری مطبع کا قیام عمل میں آگیا۔</p> <p>ولکنس تو اپنی خرابیِ صحت کی وجہ سے ۱۷۸۶ئ میں واپس انگلستان چلا گیا، لیکن جانے سے قبل اس نے نستعلیق ٹائپ سازی کا ہنر مقامی افراد کو سکھا دیا تھا۔ اس کے معاصر فرانسس گلیڈون کی کوششیں بھی فارسی طباعت کے فروغ میں معاون ثابت ہوئیں، جس نے متعدد تالیفات کے علاوہ، جن کا تعلق قواعد اور فرہنگ سے تھا، اپنے مرتبہ مجلے <annotation lang="en">The Asiatic Miscellany</annotation> یاجواہر التالیف فی نوادر التصانیف کے ذریعے، جس کے شمارے ۱۷۸۵ئ اور ۱۷۸۸ئ کے درمیان منظر عام پر آئے، فارسی اور عربی و اُردو کی ادبی تخلیقات کے متن اصل اور انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع کیے اور ادبی طباعت کے آغاز کا سہرا اپنے سر باندھا۔</p> <p>ولکنس اور گلیڈون کی کوششوں کے زیر اثر کلکتہ میں فارسی طباعت کا سلسلہ جاری رہا اور سرکاری اور علمی و تعلیمی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں، تاآںکہ کلکتہ میں ۱۸۰۰ئ میں ”فورٹ ولیم کالج“ قائم ہوا، جس میں نصابی اور تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ”ہندوستانی پریس“ کے نام سے ۱۸۰۲ئ میں کالج کے ایک مستقل مطبع کا قیام ناگزیر ہو گیا۔ اس پریس نے مقامی زبانوں بالخصوص اردو کی ادبی طباعت اور نصابی ضرورتوں کی تکمیل اور فروغ میں زبردست حصہ لیا۔ اس پریس کے قیام کے باوجود فورٹ ولیم کالج کے شعبۂ عربی و فارسی کے ایک استاد میتھیو لینسڈون <annotation lang="en">(Matthew Lansdowne)</annotation> نے فارسی طباعت کے مزید فروغ کے لیے؍ ستمبر ۱۸۰۵ئ کو کالج کونسل کے سامنے ایک مخصوص فارسی مطبع کے قیام کی تجویز پیش کی، جس کے لیے اس کا خیال تھا کہ کلکتہ کے بہترین خطاط شیخ کلب علی کا تقرر کیا جائے اور ایسی کتابیں شائع کی جائیں، جو مقبولِ عام ہوں۔ لیکن شاید یہ تجویز منظور نہ ہوئی۔ اس عرصے میں عیسائی تبلیغی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے مطابع قائم کر کے طباعت کے فروغ میں نمایاں سرگرمی دکھائی، لیکن ان کی توجہ مقامی زبانوں پر مرکوز رہی، فارسی ان کے مقاصد کے دائرہ کار میں نہ آتی تھی۔</p> <p>فارسی اور دیگر مقامی زبانوں میں طباعت کی سرگرمیاں اس دور میں، ایک دو مستثنیات سے قطع نظر، تمام تر غیر ملکی افراد، اداروں اور تبلیغی جماعتوں کی توجہ اور اپنے اپنے مفادات کے باعث جاری رہیں۔ انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں کہیں مقامی افراد نے ذاتی مطابع کے قیام اور طباعت میں دل چسپی لینی شروع کی۔ اس وقت تک طباعت شہروں سے نکل کر ضلعی قصبات تک پھیل گئی تھی۔ سرکاری پابندیوں اور کاغذ کی کمی کے باوجود یہ اس قدر عام ہو گئی تھی کہ ۱۸۰۱ئ سے ۱۸۳۲ئ کے عرصے میں مطبوعات کے نسخوںکی تعداد دو لاکھ بارہ ہزار کے لگ بھگ تھی۔</p> <p>اولین ہندوستانیوںمیں، جنھوں نے ذاتی مطابع قائم کیے، ایک ”مطبع شکر اللہ“ کا نام ملتاہے، جس کے نام سے پتا چلتا ہے کہ اسے غالباً کسی مسلمان نے قائم کیا تھا۔ لیکن ابتدائی عہد میں ہندوستانیوں کے قائم کردہ جن مطابع نے فارسی طباعت کو فروغ دیا، ان میں لکھنؤکا ”مطبع سلطانی“ تھا، جسے اودھ کے حکمران غازی الدین حیدر (۱۸۱۴ئ۔ ۱۸۲۷ئ) نے ۱۲۳۴ھ؍ ۱۸۱۸ئ میں قائم کیا تھا۔ اسے قائم کرنے میں انھیں ایک یورپی شخص ارسل، شاگرد جون گلکرسٹ کا تعاون حاصل ہوا۔ ایک روایت کے مطابق یہ مطبع کلکتہ میں شیخ احمد عرب (متوفی ۱۸۴۰ئ) کی ملکیت میں تھا، جو شاہ اودھ کی خواہش پر کلکتہ سے لکھنؤ منتقل کیا گیا۔ اس مطبع میں ٹائپ رائج تھا۔ اس وقت کے اکابر علما شیخ احمد عرب، مولوی اوحد الدین بلگرامی اور قاضی محمد صادق اخترؔ خطیر مشاہرے پر تصنیف و تالیف کے کام پر مامور کیے گئے۔ یہاںسے۱۸۱۹ئ میںاولین کتاب عربی میںمناقبِ حیدریہمصنفہ شیخ احمدعرب شائع ہوئی، اور فارسی میںمحامد حیدریہ، زاد المعاد، ہفت قلزم اورتاج اللغات شائع ہوئیں۔ یہ کتابیں ٹائپ میں چھپی تھیں، اس لیے پسند نہ کی گئیں، چناںچہ یہ شاہی مطبع ترقی نہ کر سکا۔</p> <p>اس وقت تک طباعت کے لیے ٹائپ کی کلیدوں کا استعمال کیا جاتا تھا، جو دھاتوںکی مدد سے بنائی جاتی تھیں۔ لیکن نستعلیق یا نسخ حروف کو دھاتوں کی کلیدوں میں اس طرح ڈھالنا کہ ان رسم الخطوں کے حروف لفظ میں مناسب طور پر باہم جڑ سکیں، کبھی آسان نہ رہااورساتھ ہی حرفی جوڑوں کے درمیان رہنے والے فاصلوں کی وجہ سے لفظ کا صوری حسن اس عمل میں اس طرح متاثر ہوتا کہ روایتی خوش خطی اور خطاطی کی عادی قوم کے لیے یہ اس صورت میں کبھی گوارا اور قابل قبول نہ رہا۔ خصوصاً نستعلیق میں حروف کو جوڑنے کا عمل زیادہ مشکل تھا اور کبھی بے عیب نہ رہ سکا۔ اسی لیے نستعلیق کے ادی افراد نستعلیق ٹائپ سے کبھی مطمئن نہ ہوئے اور ان کارویہ نسخ کے ساتھ بھی بالعموم یہی رہا۔ سنگی مطابع کے قیام سے پہلے اسے اختیار کرنا بہرحال ایک مجبوری تھی، چناںچہ اسے اختیار کیا گیا تو اسے حتی الامکان بہتر سے بہتر صورت دینے کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ چوں کہ یہ کوششیں انفرادی تھیں، اس لیے مختلف مطابع کے تیار کردہ یا اختیار کردہ ٹائپ میں تنوع اور فرق بھی روارہا۔ قارئین کے ذوق کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نستعلیق کے ساتھ ساتھ نسخ بھی اختیار کیا گیا اور کہیں کہیں ان دونوں کو باہم اس طرح ملانے کی کوشش بھی کی گئی کہ اس طرح بننے والا ٹائپ نستعلیق اور نسخ کی درمیانی شکل میں ڈھل گیا، چناںچہ انیسویں صدی کے نصف اوّل میں کچھ اخبارات اور کتابوں میں یہ ملا جلا رسم الخط بھی ملتاہے۔ اگرچہ ٹائپ سے طباعت میں نستعلیق پر انحصار کو مستقل طور پر کبھی گوارا نہ کیا گیا، لیکن پھر بھی طباعت میں نستعلیق ہی زیادہ مروج رہا۔ یہ تو اب حالیہ چند برسوں سے کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کے تجربوں اور ان کی کامیابیوں نے ان عیوب کو دور کر دیا ہے، جو قبل ازیں نستعلیق ٹائپ میں روا رہیں، اس لیے اب خصوصاً جنوبی ایشا اور اردو کی حد تک نستعلیق خط طباعت میں نہ صرف مروج ہو گیا ہے بلکہ مقبول عام بھی ہے۔</p> <heading>سنگی طباعت کاآغاز اور فارسی طباعت کا فروغ:</heading> <p>جنوبی ایشیا میں فارسی طباعت کے آغاز کا دور متحرک کلیدی ٹائپ کے رواج کا دور تھا۔ چوبی بلاکوں کے ذریعے طباعت کا عمل، جو چین میں دو صدیوں سے رائج تھا، کہیں اٹھارویں صدی کے آغاز میں یورپ سے ہوتا ہوا جنوبی ایشیا پہنچ سکا۔ چوںکہ طباعت کے آغاز میں خود طباعت مسلمانوں کے لیے کوئی کشش نہ رکھتی تھی، اس لیے ہنرسازی اور کپڑوں پر نقش ونگار کے لیے چوبی بلاکوں کے استعمال کے اپنے روزمرہ کے عمل کے باوجود وہ اس جانب فوری متوجہ نہ ہوئے۔ یہ توجنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار کے مقابل کچھ تو مدافعت کے احساس اور پھر مغرب کی لائی ہوئی مفید ایجادات کے فوائد تھے، جن سے ان کے مقابل کی دوسری بڑی قوم (ہندو)، جس سے برطانوی عہد کے ہر دور میں ان کی مسابقت رہی، پوری طرح استفادہ کر رہی تھی، وہ مقابلے کی دوڑ میں اس سے کسی میدان میں پیچھے رہ کر مطمئن نہ ہو سکتے تھے۔ چناں چہ سنگی مطابع کے رواج نے انھیں اس جانب آنے پر آمادہ کر لیا اور جب وہ اس کے لیے آمادہ ہوئے تو پھر کوئی تذبذب اور رکاوٹ باقی نہ رہ گئی۔ سنگی مطابع کے مروج ہوجانے پر طباعتی سرگرمیوں کی ایک عام فضا سارے جنوبی ایشیا میں پھیل گئی اور چند سالوں کے عرصے میں چھوٹے چھوٹے نجی سنگی مطابع کا ایک جال تھا، جو اطراف ملک میں پھیل گیا۔</p> <p>سنگی مطابع کے رائج ہونے سے طباعت آسان او رکم خرچ تو ہو گئی لیکن اس میں قباحتیں بھی تھیں۔ اس کے مروجہ طریق کار کے تحت اس میں زیادہ تعداد میں یکساں معیار کی طباعت ممکن نہ تھی۔ زیادہ تعداد میں طباعت کے بعد پتھر یا سل پر منقش حروف یا تو پھیلنے لگتے یا ہلکے پڑجاتے، چناںچہ ان کی درستی یا تصحیح طباعت کے سابقہ معیار تک نہ پہنچ پاتی۔ اس طرح معیاراورحسن برقرار نہ رہتا۔ ایسے عیوب یا قباحتوںکے پیش نظرجب سیداحمد خاں (۱۸۱۷ئ۔۱۸۹۸ئ) نے اپنی تعلیمی تحریک کے ذیل میں اشاعت کا ایک ہمہ جہت منصوبہ بنایا تو سنگی طباعت کے بجاے پھر ٹائپ کے ذریعے طباعت کو اختیار کرنا مفید خیال کیا۔ ان کے قائم کردہ ادارے ”سائنٹی فک سوسائٹی“ (علی گڑھ) نے اپنے جرائد اور کتابیں ٹائپ میں شائع کرنا شروع کیں اور نستعلیق سے قطع نظر، جو طباعت میں اپنے اصل حسن سے عاری ہو جاتا تھا، نسخ کو اپنایا۔ اس ادارے کی مطبوعات اپنے موضوع اور مقصد کے لحاظ سے خاطر خواہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں، چناںچہ طباعت میں نسخ ٹائپ کو کچھ عرصہ تک رواج حاصل ہوا، لیکن پھر بھی قبولیت عام حاصل نہ ہوئی۔ جس کے نتیجے میں اس تحریک کو، ایک دو دہائیوں کے بعد، اپنی مطبوعات کے لیے نسخ اور ٹائپ کے بجاے نستعلیق اور سنگی طباعت ہی سے رجوع کرنا پڑا۔ بعد میں وقتاًفوقتاً ٹائپ میں طباعت کے تجربے ہوتے رہے اور نسخ اور نستعلیق دونوں کو اختیار کرنے کی کوششیں بھی جاری رہیں لیکن عامۂ خلائق نے نستعلیق اور سنگی طباعت ہی کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ تاآں کہ آفسٹ طباعت نے کتابت اور طباعت کے معیار کو مزید جاذب نظر بنا دیا جس کی وجہ سے ٹائپ اور نسخ کی طباعت کی طرف توجہ مزید کم ہو گئی اور نستعلیق مزید مقبول ہو گیا۔</p> <p>جنوبی ایشیا میں سنگی مطبع کے قیام کا آغاز ۱۸۲۳ئ کا واقعہ ہے، جب ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ نے مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں اوّلین سنگی مطابع قائم کیے۔ اس کے قیام میں یہ آسانی اورسہولت ہی تھی کہ محض تین سال کے عرصہ میں نجی اہتمام سے پہلا سنگی مطبع ۱۸۲۶ئ میں بمبئی میں ”مطبع فردونجی سہراب جی دستور“ قائم ہوا۔ سنگی مطبع سے جس اوّلین فارسی کتاب کی اشاعت کا علم ہوتا ہے وہ ملا فیروز ابن کاؤس (۱۷۵۸ئ۔ ۱۸۳۰ئ) کی تصنیف رسالہ موسومہ بادلہ قویہ برعدم جواز کبیسہ در شریعت زرتشتیہ تھی، جو محمد ہاشم اصفہانی کی تصنیف شواہد النفیسہ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ یہ ۱۸۲۷ میں بمبئی کے مطبع ”بمبئی سما چار“ سے شائع ہوئی۔ اسی سال سعدیؔ کی گلستاں بھی کلکتہ سے سنگی طباعت میں شائع ہوئی اور پھر بوستاں بھی اگلے برس یہیں سے چھپی، لیکن سنگی مطابع کے ذریعے فارسی طباعت کو فروغ دراصل شمالی ہند میں بالخصوص کانپور اور لکھنؤمیں حاصل ہوا۔ کانپور میں ایک یورپی باشندے آرچر (<annotation lang="en">Archer</annotation>) کے قائم کردہ اوّلین سنگی مطبع کے بارے میں ذکر عام ہے، جسے اس کے قیام کے بعد آرچر نے شاہ اودھ نصیر الدین حیدر (۱۸۲۷ئ۔ ۱۸۳۷ئ) کی خواہش پر لکھنؤ منتقل کر دیا۸۵، جہاں سے پہلی کتاب بہجتہ مرضیہ فی شرح الفیہ ۱۸۳۱ئ میں شائع ہوئی۔ یہ مطبع جو ”سلطان المطابع“ اور ”مطبع سلطانی“ دونوں ناموںسے معروف رہا، انتزاعِ سلطنت ِاودھ (۱۸۵۶ئ) تک سرگرم رہا۔ پھرآخری معزول شاہِ اودھ واجد علی شاہ (۱۸۴۷۔۱۸۵۶ئ) نے لکھنؤ سے اپنی بے دخلی اور کلکتہ منتقلی کے بعد اسے مٹیا برج، کلکتہ میں دوبارہ جاری کیا۔ ۱۸۸۵ئ میں اس مطبع سے شائع ہونے والی کتاب ریاض القلوبمصنفہ واجد علی شاہ غالباً آخری کتاب تھی۔ ”مطبع سلطانی“ کے قیام کے بعد لکھنؤ میں ”مطبع حاجی حرمین شریفین“ (مطبع محمدی) نجی مطابع میں غالباً سب سے پہلے قائم ہوا تھا۔ اس کی پیروی میں ”مطبع مصطفائی“ قائم ہوا۔ پھر لکھنؤ اور نواحِ لکھنؤ میں مطابع کے قیام کا ایک سلسلہ تھا، جو جاری ہو گیا۔ ان مطابع نے فارسی طباعت کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔</p> <p>سنگی طباعت کے اس آغاز کو ہندوستان میں طباعت کی تاریخ کے ایک نمایاں موڑ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ آغاز اس کے تیز رفتار اور وسیع تر فروغ کے لیے ایک متحرک سبب ثابت ہوا۔ چناںچہ سنگی مطابع کے قیام نے، جس میں سرمایہ، ہنر کاری اور ٹائپ کی ناگواری اب رکاوٹ نہ رہ گئی تھی، طباعت کو آسان، ارزاں، تیزتر اور ساتھ ہی منافع بخش بھی بنا دیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب قریب قریب سارا جنوبی ایشیا برطانوی اقتدار کے زیر تسلط آچکا تھا اور ملک و معاشرہ نئے وسائل، قدیم و جدید تصورات اور سیاسی و تعلیمی انقلابات کے دوراہے پر کھڑا تھا۔ کچھ سیاسی حالات کا تقاضا تھا اور کچھ تاریخ و تہذیب کے اپنے اسباب تھے کہ جن کے زیر اثر برطانوی اقتدار کے خلاف سیاسی تحریکوں کا آغاز ہوا اور قومی اصلاح و بیداری کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ ہر تحریک کا سب سے بڑا وسیلہ زبان ہوتی ہے اور زبان ذرائع ابلاغ کو اپنا سہارا بناتی ہے۔ اب یہ سہارا سنگی مطابع کی صورت میں گلی گلی پہنچ رہا تھا۔ اس صورتِ حال میں مسلمانوں نے، جو طباعت سے بوجوہ اب تک گریزاں رہے تھے، سنگی طباعت کو اپنے لیے مفید اور سہولت آمیز سمجھ کر اسے اس حد تک اپنانے پر آمادہ ہوگئے کہ ایشیا بھر میں کوئی قوم، انیسویں صدی کے آخر تک، ان کے مقابل نہ رہی، برطانوی منتظمین کے مطابق انیسویں صدی میں مذہبی کتابوں کی تجارت پر مسلمان ہی حاوی تھے۔ اس کی تائید نامور مستشرق الویس اشپرنگر <annotation lang="en">Aloys Sprenger</annotation>)، ۱۸۰۳ئ۔ ۱۸۹۳ئ) کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ لکھنؤ اور کانپور سے ۱۸۵۴ئ تک سنگی مطابع سے چھنے والی مطبوعات تعداد میں تو تقریباََسات سو تھیں، لیکن انھوں نے مذہبی تعلیم یافتہ طبقہ میں وسعت پیدا کر دی تھی۔ یہاں تک کہ خواتین تک یہ حلقہ وسیع ہو گیا تھا اورعام مسلمان جو صدیوں سے اپنے اصل منابع کو نہ دیکھ سکتے تھے، اب بنیادی کتب و متون ان تک پہنچ رہے تھے۔ اس عرصے میں شائع ہونے والے قرآن اور حدیث کے متون دنیاے اسلام کے اوّلین مطبوعہ متون تھے۔ مسلمانوں میں مذہبی اصلاح اور قومی بیداری کی ہمہ جہت تحریکوں کا یہی زمانہ تھا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۷۴۶ئ۔۱۸۲۴ئ) کے خانوادے اور شاگردوں نے، جنھوں نے اسلامی تعلیمات کو عام مسلمانوں تک پہنچانے کے لیے مؤثر کوششیں کیں، اپنے تحریکی ادب کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی۔ سید احمد شہید (۱۷۸۶ئ۔ ۱۸۳۱ئ) کی تحریکِ جہاد سے تعلق رکھنے والے علمائ میں سے عبداللہ سیرام پوری نے سید احمد شہید ہی کی ترغیب پر کلکتہ میں ۱۸۲۴ئ میں اپنا ”مطبع احمدی“ قائم کیا تھا۔ اس مطبع سے تحریکی ادب کی اشاعت میں اس تیزی سے اضافہ ہوا کہ مطبع کے قیام کے محض آٹھ سالوں کے بعد ایک بڑی تعداد میں بازاروں میں عام دستیاب تھا۔ یہ اشاعتیں اس بڑے پیمانے پر ہونے لگیں کہ نہ صرف سارے جنوبی ایشیا بلکہ افغانستان اور اس کے راستے سے وسطِ ایشیا تک یہاں کی مطبوعات پہنچنے لگیں۔ ایک سرکاری روداد کے مطابق محض ایک سال، ۱۸۷۱ئ کے عرصے میں، قرآن حکیم کی تیس ہزار جلدیں شائع ہوئیں۔ علماے اسلام کی روز افزوں اشاعتی سرگرمیوں سے، جو ان کی تحریکی سرگرمیوں کا ایک لازمی حصہ بن گئی تھیں اور وہ انھیں اپنے علمی اور تعلیمی اور اصلاحی و مناظراتی مقاصد میں استعمال کرنے لگے تھے، یہ واضح طور پر محسوس کیا جانے لگا تھا کہ حنوبی ایشیا میں طباعت کے منظر پر ایک لحاظ سے ان کی اجارہ داری سی قائم ہو گئی تھی اور اس میدان میں ایشیاکی کوئی قوم ان کے مد مقابل نہ تھی۔ طباعت اب ان کے لیے ایک ایسے ہتھیار کی صورت اختیار کر گئی تھی، جس سے وہ ایک جانب اپنے مقابل کی ہندو تحریکوں اور دوسری جانب عیسائی مبلغوں کی کوششوں کا دفاع بھی کر سکتے تھے۔ چناںچہ انھوں نے اپنی قوم کو علمی توانائیوں سے بار آور کرنے کے لیے طباعت کو ایک مؤثر ترین وسیلے کے طور منتخب کر لیا۔</p> <p>اسلامی ادب کی طباعت اور قدیم مذہبی متون کے تراجم پر ان کی خاص توجہ رہی۔ اس ادب کی اشاعت کسی ایک دو مطابع سے مخصوص نہیں تھی۔ متعدد مطابع نے مذہبی ادب کے فروغ میں حصہ لیا، لیکن چند مطابع کی خدمات نمایاں بھی رہیں۔ شاہ عبدالعزیز کی تحریک سے متاثر مولانا محمد احسن نانوتوی (۱۸۲۵ئ۔۱۸۹۴ئ) کے قائم کردہ ”مطبع صدیقی“ (بریلی) نے، جو ۱۸۶۲ئ سے طباعت میں سرگرم ہوا تھا، عربی اور فارسی کے ادبِ عالیہ کی اشاعت ثانی اور تراجم کے ساتھ ساتھ مناظراتی ادب اور تحریکی ادب کی اشاعت پر خاص توجہ دی۔ طباعت کے وسیلے نے اسلام کے عظیم علمی آثار کو عام مسلمانوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ انھیں محفوظ کرنے اور اگلی نسلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی فراہم کر دیا۔ اس طرح مسلمانوں کی جانب سے طباعت کو اختیار کرنے کا عمل ان کے اپنے سیاسی زوال کے تدارک کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں طباعت ہی، وسطِ انیسویں صدی میں، مذہبی اور سیاسی تبدیلیوں کے ایک بڑے محرک اور مؤثروسیلے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہاں علمائ تاریخ کے کسی دور میں اتنے مؤثر نہ ہوئے تھے، جتنے طباعت عام ہونے کے بعد ہوگئے۔ پھر طباعت کو اختیار کرنے میں محض شاہ عبدالعزیز کی تحریک سے منسلک علمائ ہی پیش پیش نہ تھے، علماے فرنگی محل، علماے اہلِ حدیث اور علماے دیوبند اور ہر طبقہ فکر کے علما اپنے لیے اس وسیلے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے لگے۔</p> <heading>فارسی طباعت کا دورِ زوال:</heading> <p>انیسویں صدی کے ہندوستان میں طباعت کے فروغ کی مثال کے لیے محض ایک ”مطبع نول کشور“ کا حوالہ کافی ہے۔ یاپھروسط انیسویں صدی میں ”مطبع مصطفائی“ کانپور و لکھنؤ کا نام اہمیت رکھتا تھا، جن کی مطبوعات اپنی نفاست و دل کشی میں مثالی ہوتی تھیں، لیکن تمام دیگر مطابع کے مقابلے میں مطبع نول کشور کی اشاعتی سرگرمیاں یا خدمات اس ضمن میں منفرد اور مثالی ہیں۔ اس کی خدمات کا عرصہ اس کے قیام ۱۸۵۸ئ سے قریب قریب ۱۹۴۰ئ تک پھیلا ہوا ہے، جب کہ اس کے بانی و مہتمم منشی نول کشور)۱۸۳۶ئ۔۱۸۹۵ئ) کی زندگی میں یہ عروج پر رہا اور لکھنؤ کے علاوہ اس کی شاخیں کانپور، لاہور، جبل پور، پٹیالہ اور اجمیر میں قائم تھیں۔ اس وقت اس نے ہندوستان بلکہ ایشیا کے سب سے بڑے مطبع کی حیثیت حاصل کرلی تھی، لیکن طباعت کی اس عمومی ترقی پذیر صورتِ حال کے باوجود فارسی طباعت کا رخ اب زوال کی طرف گامزن تھا۔ انیسویں صدی کا نصف اوّل، جو مسلمانوں کے زیراہتمام ان کے اپنے مطابع میں فارسی کی طباعت کے لحاظ سے اس کا سنہری دور تھا، اب خود مسلمانوں میں اردو کے ان کی عام زبان کے ساتھ ساتھ بتدریج علمی، ادبی اور صحافتی زبان کا درجہ حاصل کرلینے اور سرکاری اور عدالتی امور سے برطانوی حکومت ِہند کی جانب سے ۱۸۳۲ئ میں فارسی کو بے دخل کردینے کے نتیجے میں فارسی کی دیرینہ وقعت کے ساتھ ساتھ اس کی سماجی اور علمی حیثیت اور طباعتی سرگرمیوں کو بھی صدمہ پہنچا۔ فارسی کی اس بے دخلی کا رد عمل مسلمانوں میں شدید تھا۔ اگرچہ اس تبدیلی کے ردِعمل کو کم کرنے کے لیے حکومت نے انگریزی کے ساتھ ساتھ مصلحتاً مقامی زبانوں (مثلاًاُردو) کو بھی متبادل زبان کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن مسلمان پھر بھی مطمئن نہ ہوئے، چناں چہ ۱۸۳۹ئ کے اوائل میں ڈھاکا کے پانچ سو باشندوں نے فارسی کی حمایت میں اور بنگالی زبان کی مخالفت میں، جو فارسی کی جگہ وہاں نافذ کی گئی تھی، حکومت سے تحریری احتجاج کیا، لیکن صورت ِحال کہیں بھی فارسی کے حق میں حوصلہ افزا نہ رہی اور اب سرکاری اور عدالتی امور سے فارسی کے یک لخت اور تعلیمی اور علمی مدارس سے بتدریج خارج ہوجانے کے باعث اس کی سماجی حیثیت بھی بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔ اس صورت حال میں فارسی میں طباعتی سرگرمیاں محدود سے محدود تر ہوتی چلی گئیں۔ اب اس کا دارومدار بڑی حد تک مسلمانوں کی مذہبی اور علمی ضرورتوں اور ان کے ادبی ذوق و شوق پر یا مطبع نول کشور اور بعض دیگر ہم عصر مطابع کی مصلحتوں تک مخصوص رہا۔</p> <p>طباعت کے دورِ اوّل میں اگرچہ فارسی زبان میں طباعت کا رجحان لکھنؤ میں زیادہ نمایاں رہا، لیکن دیگر شہروں میں بھی فارسی طباعت تسلسل سے جاری تھی۔ ویسے کانپور اور لکھنؤ ہی فارسی طباعت کا، کم از کم انیسویں صدی کے آخر تک، مرکز بنے رہے۔ ”مطبع مصطفائی“ اور ”مطبع نول کشور“ کی طباعتی سرگرمیاں ان ہی شہروں میں نمایاں رہیں، جب کہ دیگر مطابع بھی ان شہروں میں سرگرم تھے۔ بمبئی، مدراس، کلکتہ، دہلی اور حیدر آباد بھی فارسی طباعت کے مراکز بن گئے تھے، جہاں انیسویں صدی کے نصف آخر تک متعدد مطابع قائم ہوئے اور انھوں نے فارسی طباعت میں خاصی دلچسپی لی۔ وسطِ انیسویں صدی کے آس پاس کے عرصے میں دیگر کئی اور شہروں میں بھی طباعتی سرگرمیوں کی ایک عام فضا پیدا ہو گئی تھی، جہاں فارسی مطبوعات کی بھی ایک بڑی تعداد سامنے آتی رہی۔ ۱۸۳۷ئ کے بعد بھی، جب فارسی کی سرکاری حیثیت کامکمل خاتمہ ہو گیا، یہ صورت حال ۱۸۵۷ئ کی جنگ آزادی کے آس پاس تک یوں ہی برقرار رہی، لیکن اس جنگ میں ناکامی کے نتیجے میں جہاں مسلمانوں کے اقتدار، ان کی تہذیبی و سماجی حیثیت کو یکسر زوال اور دیگر متعدد صدمات سے دوچار ہونا پڑا، وہیں ان کی علمی و تعلیمی زندگی میں اردو زبان کے روز افزوں استعمال اور ہندوستان میں اس کے وسیع تر فروغ کے باعث فارسی کی رہی سہی حیثیت مزید متاثر ہوئی۔ چناںچہ اگلی چند دہائیوں میں اس صورت حال کو طباعت کی شرح کے حوالے سے یوں دیکھا جاسکتا ہے کہ صوبۂ متحدہ میں ۱۸۸۱ئ سے ۱۸۹۰ئ کی دہائی میں جہاں فارسی میں مطبوعہ کتب کی تعداد ۱۰۲۲ تھی، اگلی دہائی میں ۶۱۵ رہ گئی۔ ۱۹۰۱ئ میں یہ تعداد ۶۳؛ ۱۹۰۲ئ میں۳۸؛ ۱۹۰۳ئ میں ۴۴؛ ۱۹۰۴ئ میں ۳۶؛ ۱۹۰۵ئ میں ۳۲؛ ۱۹۰۶ئ میں ۲۳؛ ۱۹۰۷ئ میں ۸؛ ۱۹۰۸ئ میں۱۵؛ ۱۹۰۹ئ میں ۲۵ اور ۱۹۱۰ئ میں ۲۰ تھی۔ اس طرح فارسی کتابوں کی جو اوسط تعداد ماہانہ ۱۰۲ تھی، وہ محض ۳۰ ہو گئی۔ کل تعداد اشاعت کے لحاظ سے بھی اس صورت حال کو یوں دیکھا جاسکتا ہے کہ ۱۹۰۰ئ میں فارسی کتابوں کی جو کل تعداد ۷۴۲۵۵ تھی، وہ ۱۹۱۴ئ میں ۲۴۹۷۵ ہو گئی اور ۱۹۲۵ئ میں محض ۱۰۸۰۰ رہ گئی۔</p> <p>فارسی طباعت کے اس دورِ زوال میں کہ جس میں فارسی طباعت کا دائرہ یا تو محض رہی سہی نصابی ضرورتوں کی تکمیل یا ذاتی دل چسپیوں اور مذہبی متون کی اشاعت تک سمٹ کر رہ گیا، یا پھر ان نمائندہ علمی مطبوعات کی محدود اشاعت کی صورت میں نظر آتا ہے، جو علمی اداروں یا تحقیقاتی مجلسو ںکے اپنے مقاصد کے تحت شائع ہوئیں۔ انیسویں صدی میں اس قسم کے اداروں میں ”ایشیاٹک سوسائٹی بنگال“ (کلکتہ) کی خدمات مثالی ہیں، جس نے قرون وسطیٰ کی تاریخ کے اہم متون کو ترتیب و تدوین کے اعلی معیار کے ساتھ شائع کیا۔ بیسویں صدی کے اوائل تک یہ ادارہ فارسی متون کی اشاعت کی جانب قدرے متوجہ رہا، لیکن پھر اس کا یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ ریاست حیدرآباد میں قائم شدہ ”دائرۃ المعارف“ نے اپنے قیام ۱۸۹۰ئ سے عربی کے ساتھ ساتھ فارسی متون کی طباعت میں بھی دل چسپی لی، لیکن ریاست کے خاتمے (۱۹۴۸ئ) کے بعد اس کا یہ کردار محدود بلکہ مسدود ہو گیا۔ ”گورنمنٹ اورینٹل مینوسکرپٹس لائبریری“ (مدراس) نے اپنے ذخیرۂ مخطوطات کی فہارس کے علاوہ فارسی متون بھی شائع کیے۔ بیسویں صدی میں بعض جامعات کے شعبہ ہاے زبان وادب یا جامعاتی تحقیقی اداروں نے بھی گاہے گاہے فارسی متون کی تدوین واشاعت میں دل چسپی لی، جیسے ’جامعہ علی گڑھ‘، ’جامعہ مدراس‘، ’جامعہ کلکتہ‘، ’جامعہ عثمانیہ‘، ’جامعہ پنجاب‘ (لاہور)، ’انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز‘) بڑودہ (وغیرہ، لیکن یہ مثالیں عام نہیں تھیں۔ ـ ”خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری“ (پٹنہ) نے زیادہ تر اپنے ذخیرۂ مخطوطات کی فہارس کی طباعت تک خود کو محدود رکھا، لیکن حالیہ کچھ برسوں سے یہاں سے فارسی متون بھی شائع ہو رہے ہیں۔</p> <p>۱۹۴۷ئ میں تقسیمِ ہندوستان کے بعد یہ صورتِ حال مزید زوال پذیر نظر آتی ہے۔ بھارت میں تو مسلمانوں کی تاریخ وتہذیب اور ان سے وابستہ تمام آثار، یہاں تک کہ اردو زبان کو بھی، جو جنوبی ایشیا میں مسلمانوں ہی کی نہیں خطہ کی دیگر قوموں کی بھی مشترکہ میراث ہے اور ان اقوام کی ایک بڑی تعداد اپنے روزمرہ کے اور تدریسی و علمی مقاصد کے لیے اسے استعمال کرتی آئی ہے، اور اس زبان کے ادب میں ان سب کی خدمات نمایاں بھی رہی ہیں، سرکاری عدم سرپرستی یہاں تک کہ عصبیت کا نشانہ بننا پڑا۔ فارسی کے لیے تو مواقع اور امکانات یوں بھی حوصلہ افزا نہ ہو سکتے تھے، چناںچہ یہ محض چند جامعات کے جزوی شعبوں میں ایک اختیاری مضمون کے طور پر باقی رہ گئی ہے یا چند علمی و تحقیقی اداروں مثلاً ”مولانا ابوالکلام آزاد عربک اینڈ پرشین انسٹی ٹیوٹ“ (ٹونک) اور ”انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ ان عربک اینڈ پرشین لرننگ“ (پٹنہ) کی جانب سے شائع ہونے والی مطبوعات کی حد تک دیکھی جاسکتی ہے۔ یا پھر اب بڑی حد تک دہلی میں ”مرکز تحقیقاتِ زبانِ فارسی درہند“ کی طباعتی سرگرمیوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔</p> <p>پاکستان میں بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ یہاں تو بہ اعتبار علاقہ و آبادی علمی و تحقیقی ادارے بھی نسبتاً کم ہیں اور علمی ذخائر بھی محدود ہیں۔ یہ زیادہ تر بھارت میں رہ گئے۔ فقط ”مجلس ترقی ادب“ (لاہور)، ”اقبال اکیڈمی پاکستان“ (لاہور)، ”پنجابی اکیڈمی“ (لاہور)، ”جامعہ پنجاب“ اور اس کے ذیلی ادارے ”ادارۂ تحقیقات پاکستان“ (لاہور)، ”سندھی ادبی بورڈ“ (حیدرآباد سندھ)، ”انجمن ترقی اردو“ (کراچی) کا نام اس لحاظ سے لیا جاسکتا ہے کہ ان اداروں نے بعض فارسی متون شائع کیے۔ حالیہ چند دہائیوں میں یہاں فارسی طباعت کو سب سے زیادہ اہمیت ”مرکز تحقیقاتِ فارسی پاکستان“ (اسلام آباد) نے دی، جس نے فارسی کے علمی ذخیرے کو یکجا کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد علمی وتحقیقی تصانیف اور بالخصوص کتبِ حوالہ اور فہارس مخطوطات کی ترتیب واشاعت کا خاص اہتمام کیا۔ اب پاکستان میں فارسی طباعت بڑی حد تک محض اس ایک ادارے تک مخصوص ہو کر رہ گئی ہے۔</p> </section> </body> "
"0020.xml"
"<meta> <title>فطرت، جمالیاتی ادراک، صوفیہ اور خانقاہیں: بنگال کے اسلامی کتبات کی روحانی جہت</title> <author> <name>محمد یوسف صدیق</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/2_m_yousaf_sadique_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>7023</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"فطرت، جمالیاتی ادراک، صوفیہ اور خانقاہیں: بنگال کے اسلامی کتبات کی روحانی جہت"
7,023
"Yes"
"<body> <section> <p>کتبہ: حضرت پنڈوہ میں نور قطب العالم کی خانقاہ میں ان کا تدفینی کتبہ بتاریخ ۸۶۳ھ؍۱۴۵۹ئ (جس میں شیخ کے لیے سات روحانی القاب استعمال کیے گئے ہیں)</p> <list> <li><annotation lang="ar">قال اللہ تعالی کل نفس ذائقۃ الموت وقال اللہ تعالی ]فـ[ ـإذا جا]ئ [أجلہم لا یستأخرون ساعۃ ولا یستقدمون قال اللہ تعالی کل من علیہا فان ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والإکرام وانتقل</annotation></li> <li>اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا پڑے گا’۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا ’جب وہ گھڑی آپہنچتی ہے تو نہ ایک لمحے کی تاخیر ہو سکتی ہے نہ تقدیم‘۔ اللہ عزوجل نے فرمایا ’جو کچھ روئے زمین پر ہے فنا ہو جائے گا اور باقی صرف تیرے ربِ ذوالجلال والاکرام کی ذات رہے گی۔‘</li> <li><annotation lang="ar">مخدومنا العلامۃ استاد &lt;أستاذ&gt; الأیمۃ برہان الأمۃ شمس الملۃ حجۃ الإسلام والمسلمین نافع الفقرائ والمساکین مرشد الواصلین والمسترشدین من دار الفنائ إلی دار البقائ الثامن والعشرین من ذی الحجۃ فی یوم الإثنین</annotation></li> <li>ہمارا آقا...عظیم عالم، اماموں کا استاد، امت کا ہادی، قوم کا سورج، اسلام اور مسلمانوں کی حجت، فقرائ اور مساکین کو نفع پہنچانے والا، سیدھے راستے کے متلاشیوں اور متوصلین کو راہ دکھانے والا... دارِ فنائ سے دارِ بقائ کی طرف کوچ کر گیا ہے، مؤرخہ ذوالحجہ کی اٹھائیس بروز پیر</li> <li><annotation lang="ar">وکان ذلک من السنۃ الثالث ٴ&gt;الثالثۃ&lt; والستین وثمانمایۃ فی عہد }الـ {سلطان السلاطین حامی بلاد أہل الإسلام والمسلمین ناصر الدنیا والدین أبو &gt;أبی&lt; المظفر محمود شاہ سلطان صانہ اللہ بالأمن والأمان وبنی ہذا &gt;ہذہ&lt; الروضۃ خانا لاعظم لطیفخان سلمہ من البلیات والآفات</annotation></li> <li>اور یہ سنہ آٹھ سو تریسٹھ (۲۵ اکتوبر، ۱۴۵۹ئ )میں ہوا، بعھد سلطان السلاطین حامی بلاد اہل الاسلام والمسلمین (اسلام اور مسلمانوں کی زمینوں کے محافظ)، ناصر الدنیا والدین أبوالمظفر محمود شاہ السلطان۔ اللہ سلامتی اور حفاظت سے اس کی پشت پناہی کرے۔ عظیم خان لطیف خان نے اس مقبرے کو تعمیر کیا؛ اللہ اس کو آفات و بلیات سے محفوظ رکھے۔</li> </list> <p>اس کتباتی عبارت میں موجود گہرے طور پر روحانی رنگ میں رنگے ہوئے غیر معمولی دینی القاب اس عمیق وابستگی اور احترام کے مظہر ہیں جس کا اظہار بنگال کے چند انتہائی محترم صوفی بزرگوں میں سے ایک، نور قطب العالم، کے لیے بنگال کی دیہی آبادی کے جمِ غفیر نے ہمیشہ کیا۔ اس کا سادہ و فطری اور متوازن فنی اسلوب خاصا جاذبِ نظر ہے۔ سادہ پس منظر کے اوپر خطاطی کو خطِ بِہاری میں پیش کیا گیا ہے، جو کسی بھی غیر معمولی آرائش یا مصنوعی سجاوٹ سے خالی ہے۔ متناسب ترتیب سے صف آرا مخروطی عمودی ڈنڈے نچلے حصے میں باریک لکیر سے شروع ہو کر اوپر جاتے ہوئے موٹائی پکڑتے ہیں۔ عمودی ڈنڈوں کی اوپر کی جانب غیر معمولی طوالت اور ایک صف میں ان کی تنظیم کو بچھڑجانے والی روحوں کے اوپر کی جانب سفر یا جنازہ کی دعا میں شامل حاضرین اور ساتھ ساتھ مرحوم شخص کی روح کے لیے رحمت لے کر اترنے والے فرشتوں کے علامتی اظہار کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ تہہ میں موجود جمگھٹا نما حروف کو بھی اجتماع کی علامت شمار کیا جاسکتا ہے جو نمازِ جنازہ کے لیے صف بند سوگوار مصلیوں کی طرف اشارہ کر رہے ہوں۔ پہلی سطر کے اوپری حصے کے وسط میں ہشت پہلو پھول آٹھ جنتوں کی علامت ہے جو اس ترتیب میں ایک مناسب آرائشی عنصر ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ یہ مرحوم کی نمازِ جنازہ کی تنظیم میں مخصوص جگہ سے میل کھاتا ہے، خاص طور پر جب جسم کو جنازے کے اجتماع کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ مسلم بنگال کی فنِ تعمیرکی خطاطی میں ہمیں چند مثالیں ملتی ہیں جہاں ”تحریر“ اور ”کتابت“ نے آغاز سے ہی ایک فن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی مظہر کا کردار بھی ادا کیا ہے اور جس کے جمالیاتی پہلو میں فطرت کے عناصرکوبھی سمو دیا گیا ہے۔</p> <p>فطرت سے گہرے اتصال اور انسانی نجات کی روحانی تلاش میں گندھا ہوا سادہ زندگی کا صوفی پیغام بنگال کے وسیع دیہاتی علاقوں میں دیہی اندازِ زندگی کے ساتھ شروع سے ہی بہت اچھی طرح ہم آہنگ ہو گیا تھا۔ حضرت محمدﷺ کی زبانی دین الفطرۃ سے موسوم اسلام علاقے میں فطرت اور روحانیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق بناتے ہوئے پھیلا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے تمام ماحول - کائنات - اپنے ایک الگ انداز میں جاندار ہے، جس کا ایک ایک جز اپنے خالق کی عبادت میں مصروف ہے۔ خالق اور مخلوق میں ایک گہرا تعلق پایا جاتا ہے، جس کو درجۂ کمال صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب مناسب ہم آہنگی سے ان کو پروان چڑھایا جائے۔ خالق اپنی مخلوق کے ذریعے ہر جگہ جلوہ گر ہے جسے صوفیہ کے یہاں ”وحدت الشہود“ کا نام دیا جاتا ہے اور یہ نظریہ بنگال کے صوفی ادب میں خاص طور پر پایا جاتا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ایک مومن کو خدا کی موجودگی کی شہادت کائنات میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔ ایک مومن کے لیے زمان و مکان کا ہر عنصر اللہ کی عظمت کی یاددہانی کرواتا ہے جو اس کے اندر حیرت کی انتہا اور دل کی گہرائیوں میں ایمانی جوش ابھارتا ہے، جو مومن کو روحانی تجربے کی چوٹی اور خالق کے ساتھ اتصال تک لے جاتا ہے۔ اس مرحلے پر مومن حیرت و استعجاب کی شدت سے بے ساختہ سبحان اللہ کہتے ہوئے خدا کی عظمت کی صدا بلند کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو بنگال کے کتبات میں مذکور قرآنی آیات اور نبیﷺ کے اقوال میں کثرت سے ملتاہے۔</p> <p>مسلم دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح بنگال میں بھی بنیادی صوفی پیغام کا مرکزی نقطہ اللہ کی وحدت ہے جو(قرآن میں) المحیط (سب پر چھایا ہوا) کے گہرے مفہوم کے مطابق حتمی کائنات (وجود)ہے۔ وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور ہر جگہ موجود(قرآن میں ”الموجود“ بمعنی ہمیشہ سے موجود، ایک صفتِ الہٰی)ہے۔ وجود (الوجود) کی حقیقتِ منتہی (الحق۳، ایک اور صفتِ خداوندی) خدائی وحدت یا توحید - اسلام کے بنیادی پیغام - کی روح میں پنہاں ہے، جس کی بہترین توضیح صوفی نظریہ وحدۃ الوجود (موجودات کی وحدت) سے ہوتی ہے۔ گویا صوفی تعلیمات میںوجود کے گوناگوں اظہار میں وحدت پنہاں ہے اور الدین(مذہب)دراصل اپنے اصلی روپ میں ازلی وحدت کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جس کا علامتی اظہار نور قطب العالم کے تدفینی کتبے میں ایک منفرد اور دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔</p> <p>قرآن میں فطرت کا کائنات میں دلچسپ کردار اور اس میں پنہاں روحانی پیغام کی طرف اشارہ جابجا موجود ہے، اگرچہ اس کو اپنی حیثیت میں بطور موضوعِ خاص شاذ و نادر ہی کھوجا گیا ہے۔ قرآنی نقطۂ نظر کے مطابق کائنات کے تمام اجزائ فطری قوانین کی پیروی کرتے ہیں جو خدائی اور بایں صورت اسلامی ہیں۔ قرآن کے مطابق ہر موجود چیز اللہ کی عظمت بیان کرتی ہے۔ (۱۷:۴۴) فطرت کی جانب اشارہ کرنے والی قرآنی آیات بنگال میں کئی کتبات میں ملتی ہیں۔ پرہیز گاری کے کام اور عبادت انسانوں کو فطرت کے قریب آنے میں مدد دیتے ہیں اور لطیف ماحولیاتی توازن اور ان کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کی انسانی سوچ کی ایجابی پرورش کرتے ہیں۔</p> <p>اسلامی تصوف کے نظریہ میں زمین کا ایک مقدس پہلو نمایاں طور پر موجود نظر آتا ہے۔ نبیﷺ نے پوری زمین کو مقدس اور مسجد جیسا پاکیزہ اور صاف قرار دیا۔ چناںچہ پوری کائنات کی بے مثل تخلیق ایک جائے عبادت کے طور پر کی گئی ہے۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں - جنگل میں، پہاڑ پر، صحرا میں یا سمندر پر - اپنے مذہبی فریضہ کے لحاظ سے صلوٰۃ (نماز) کی شکل میں کم از کم روزانہ پانچ مرتبہ اپنے خالق کو یاد کرنے کے پابند ہیں۔ اسلام میں مساجد ہمیشہ زندگی کے مختلف گوشوں میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اور اس لیے شاید مساجد کو صرف عبادت یا نماز ہی کی جگہ قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی صحیح معنوں میں مساجد فقط باجماعت عبادت کا مرکز بنی رہیں، بلکہ ثقافتی ارتقائ اور سماجی نشو نما میں مساجد نے ہمیشہ ایک گہرا اثر چھوڑا۔ اسلام کی یہ سادہ تعبیر بنگالی دیہی کاشتکاری آبادی کو راس آئی جس نے ان کے مذہبی اعمال کو آسان تر اور فطری بنا دیا۔ دیگر جگہوں کی طرح بنگال میں بھی صوفیہ نے اسلامی معاشروں میں شریعہ اور اسلامی طرزِ حیات کی ضرورت پر زور دیا۔ اور ہو بھی کیوں نہ جبکہ ان کے نزدیک یہ نظام اس دنیا میں ایک فطری طرزِ حیات اور صحت مند ماحول میں فرد اور اجتماع کے لیے شادمانی کا ضامن تھا۔ آخرکار یہ نظام آخرت میں لافانی خوشی کے انتہائی درجہ کی راحت، پودوں، پھولوں، دریاؤں، پانی اور زندگی سے بھرپور جنۃ (لغوی معنی باغ) کے طور پر روحانی انعام کا ضامن بھی تھا۔</p> <p>حق(سچائی) کے ساتھ تعلق کی بنا پر اسلامی صوفی تعلیمات میں خوبصورتی کو ایک پسندیدہ خوبی سمجھا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ”خوبصورتی حق(سچائی) ہے اور حق (سچائی) خوبصورتی ہیـ“ کا نظریہ اسلامی روایت میں ایک اہم جگہ پاتا ہے۔ خدائی حسن کو سمجھنے کی خاطر فطرت کی درخشانی کا ادراک مومن کی صفاتِ لازمہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ نبیﷺ کا یہ فرمان کہ ”اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے“ اُس اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور اس طرح حسِ جمالیات اسلام کے ساتھ گہری طرح منسوب ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ حسن کا مخرج درحقیقت اللہ ہی کے وجود میں ہے جو اس قدر شاندار ہے کہ ایک بے حجاب انسانی آنکھ اس کی تاب نہیں لا سکتی۔ جب یہ خدائی مخلوق میں سادہ انداز میں جلوہ گر ہوتی ہے پھر کہیں جا کے یہ خوبصورتی گہری روحانی بصیرت رکھنے والے انسانوں کے مشاہدے میں آسکتی ہے۔ اسلامی نقطۂ نگاہ سے اس خدائی حسن کو کائنات میں تلاش کرنا مذہبی زہدا جزوِ لازم ہے، جو بالآخر ایک مومن کو فطرت سے ایک گہرا تعلق استوار کرنے کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے۔</p> <p>اسلامی روحانی پیام کو بنگال کے اسلامی فن میں عمدگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جو فطرت میں بکھری خدائی تخلیق میں لامتناہی حسن سے ترغیب پاتا ہے۔ ہم آہنگ، متقابل خاکوں اور کونیاتی نظام میں اجزاے فطرت کی بے نظیر تخلیق کے طریقہ کار کا تخیل ایک مومن کے فرائض میں سے ہے۔ وجود کی درخشانی و تابناکی میں عدم دلچسپی کو ذہنی اندھے پن سے مماثلت دی گئی ہے(قرآن،۲۲:۴۶)۔ قرآن کے مطابق ہر انسان کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ کونیاتی نظم کے بے مثل مظہر پر غور کرے (قرآن، ۱۳:۱۹۰)۔ اسلامی ثقافت میں ایک فنکار کا ادراک خدائی تحفہ شمار کیا جاتا ہے۔ یہ اس کو قدرت کے مظاہر کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے اور اس کے حسن کو مزید جامعیت سے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ اپنی فنکارانہ کاوشوں کے سفر کے دوران میں وہ حق کے ادراک کو وسعت دیتا ہے اور اس طرح جلد ہی اپنی تخلیقی اور تخیلاتی قوتوں کی محدودیت کو محسوس کر لیتا ہے۔ آخر کار اس تمام عمل کے دوران میں وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہر شکل کا منبع اللہ کی تخلیق میں پنہاں ہے، ہر تخلیق اپنی اصل شکل میں خالص حسن کا جوہر رکھتی ہے (قرآن،۳۲:۷) جو نقل کے دوران اپنی اصلی ساخت کھو دیتی ہے۔ جیسے جیسے فنکار کا ادراک نمو پاتا ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ ہر رنگ، آرائش، شکل اور خاکے کے حقیقی مخارج صرف اور صرف خدائی تخلیق میں ہی موجود ہیں۔ چناںچہ خواہ ایک فنکار اپنے فن میں مہارت کی جس سطح پر بھی پہنچ جائے وہ کسی نئی چیزکی تخلیق صحیح معنوں میں نہیں کر پاتا۔ پس ایک حقیقی فن کا نمونہ ایک مومن کے لیے کونیاتی سچائی کے قریب آنے میں مددگار ہوتا ہے، اور اس طرح آخر کار اپنی فنی کاوشوں کے دوران وہ اپنے خالق کا مشاہدہ و ادراک گہرائی سے کرتا ہے۔</p> <p>ایک مسلمان کو اپنے فنکارانہ کام میںخاصی آزادی سے مستفید ہوتے ہوئے بھی اس کی اسلامی معروضیت یہ بتاتی ہے کہ اس کے اندرابداعی صلاحیتوں کے ودیعت کیے جانے کا ایک مثبت اور مفید مقصد ہے تاکہ یہ انسانیت کے لیے مثبت خدمت سرانجام دے۔ اسلامی فن کو مثالی طور پر سچائی، عظیم ترین خوبصورتی اور سچی انسانی اقدار کو ظاہر کرنا چاہیے۔ ایک طرح سے اس سے مراد ہر اس چیز کی نفی ہے جو مثبت تخلیقی صلاحیت کی طرف نہ لے کر جاتی ہو۔ بایں طور اسلامی زندگی کو دنیوی اور دینی کے دو الگ خانوں میں بانٹا نہیں جا سکتا۔ چونکہ ایک مسلمان فنکار اپنے تخلیقی کارناموں کے ذریعے اپنے اسلامی اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کا فنی نمونہ خود کو ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کردینے کے عمل میں بدل جاتا ہے۔ اپنی فنی تخلیقی صلاحیت کے تعاقب میں ایک مسلمان فطری قانون (دین الفطرۃ) کی حدود کوکبھی بھی پھلانگ نہیں سکتا۔ مزید برآں وہ فطرت کی خدائی ترتیب و تنظیم میں قدرتی وسائل کابے جا یا ناجائزاستعمال نہیں کر سکتا اور نہ اسے قدرتی توازن کو نقصان پہنچانے یا کسی قسم کا فساد پھیلانے کی اجازت ہے۔</p> <p>ان تمام روحانی پیغامات سے بھرپوردین اسلام آخر کار تیرھویں صدی عیسوی کے آغاز میں بنگال کے دریائی ڈیلٹائی علاقے، چاول کی ثقافت کی گزرگاہ، تک جا پہنچا۔ یہ وہ وقت تھا جب بنگال ابھی تک اپنی سرسبز وزرخیز زمین کے ایک بڑے حصے پر قدرتی جنگلات سے گھرا ہوا علاقہ تھا۔ اگرچہ آریائی نسل اور ویدی ثقافت نے اپنی جڑیں پندرہ سو سال قبل مضبوط کرنی شروع کر دی تھیں، مگر بنگال کی آبادی کی اکثریت تاحال غیر آریائی (آریائی مفتوحین کے بقول ملیچھ یا ناپاک وحشی کہلائی جانے والی) اور خانہ بدوش تھی اور مقامی لوگوں کے زیادہ تر حصے نے ابھی تک ایک مستقل دیہی زندگی نہیں اپنائی تھی۔ ویدی مذہبی روایت اور مقامی فطرت و مظاہر پرستی کی رسوم کے علاوہ اسلام سے پہلے اس علاقے میں بدھ مت بھی پھیلااور گاہے بگاہے کچھ ہندو حکمران سلطنتوں بالخصوص سین حکمرانوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود لمبے عرصے تک قرار پذیر رہا۔</p> <p>اس خطے میں اسلام کا زیادہ تر استحکام اس وجہ سے ممکن تھا کہ اسلامی پیغام کو ایک عوامی زبان میں پیش کیا گیا، جس میں بعض اوقات مقامی مذہبی استعارات بھی استعمال ہوتے رہے۔ لیکن ضرور بالضروریہ اسلامی پیغام“ اجتماع ضدین“ سے اجتناب کرتے ہوئے پہنچایا گیا۔ ویدی مذہب کے برعکس اسلام نے خود کو بنگال میں ایک بیرونی آلہ کار کے طور پر مسلط نہیں کیا۔ علاقے میں بدھ مت کے سابقہ پھیلاؤ سے خاصی مماثلت رکھتے ہوئے اسلام نے بنگالی نفسیات کی گہرائی اور سماجی زندگی میں ایک باسہولت، بتدریج تحولاتی انداز میں بغیر کسی معاشرتی بدامنی یا یورش برپا کیے اپنا راستہ ہموار کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مقامی آبادی میں سے اکثر ابھی تک خانہ بدوش تھے، جبکہ بقیہ مستقل دیہی زندگی کو اپنانے کے مراحل میں تھے۔ اسلامی طرزِ حیات فطرتی اندازِزندگی کے ساتھ بخوبی ہم آہنگ ہو گیا۔ ”دین الفطرۃ“ ہونے کے باوصف اس نے مقامی لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا، جن کا روایتی طرزِ زندگی صدیوں سے فطرت کے بہت قریب رہا تھا۔ گویا بنگال میں اسلام کی اشاعت انقلابی ہونے کی بجائے بہت حد تک ارتقائی تھی۔ جیسے جیسے ڈیلٹا میں دیہی آبادی میں توسیع ہوتی گئی، اسلام بنگال کی دیہی اندازِ زندگی میں آہستگی اور تدریج کے ساتھ ڈھلتا گیا۔ چند ابتدائی سلاطینی کتبات (مثال کے طور پر دیکھیے: بحال شدہ الیاس شاہی حکمران محمود شاہ کے عہد میں نبہ گرام کا مدرسہ ومسجدکاکتبہ بتاریخ۸۵۸ھ ؍ ۱۴۵۴ئ؛ کتبہ نمبر ۴۲) بھی بنگالی گاؤں (الخطۃ الریفیۃ) میں بااثر انتظامیہ کی مدد اور علما کی کوشش سے شریعہ (شعائر الشرع) یا اسلامی طرزِ زندگی کے استحکام کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔</p> <p>ہمیشہ سے نمو پذیر قابلِ دید بنگالی گاؤں میں اسلام آہستہ آہستہ ایک عوامی مذہب بن گیا۔ جیسے جیسے انسانی آبادکاری ڈیلٹا کے ساتھ ساتھ پھیلی اور اس علاقے کے زیریں دلدلی زمین کے جنگل صاف کر کے چاول کی کاشت میں توسیع ہوئی، توں توں اسلام بھی پھلتا پھولتا گیا۔ بنگال کے شاندار ماحولیاتی توازن اور فطرتی ہم آہنگی نے اس کے مشہور ادب، لوک کہانیوں، فن، تعمیرات اور ثقافت پر گہری چھاپ رکھی۔ بنگال نے چند خود مختار اسلامی سلاطین کے دورِ حکومت میں بہت خوشحالی دیکھی جن کے دور میں رفاہی کاموں (جیسا کہ: عوامی سڑکوں، سقایۃ یا آبی حوض اور کنوؤں) نے اسلام کی اس خطے کے انتہائی جوانب تک توسیع میں مدد کی۔ بنگال کے کئی اسلامی کتبوں(مثلاً مغل شہنشاہ اکبر کے زمانے کے چند کتبات)میں ہمیں وقف اور مددِ معاش (معاشی اخراجات کے لیے خصوصی مراعات؍اوقاف)کے اداروں کی طرف اشارہ ملتا ہے جس نے بلا تفریقِ مذہب تمام لوگوں کی مدد کی۔ بعد میں آنے والے مغلیہ دور(سترھویں اور اٹھارویں صدی) میں بنگال نے اپنے ماحولیاتی توازن کو کھوئے بغیر قدرتی وسائل کے مثبت استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھااور بنگال اس سلطنت کے لیے اناج کا نہ ختم ہونے والا وسیلہ شمار ہونے لگا۔ سلاطینی کتبات میں کثرت سے ملنے والے بنگالی خطِ طغرائ کے خصائصِ خطاطی بہت خوبصورتی سے بنگال میں دیہی طرزِ زندگی اور اسلام کی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان انتہائی دلکش کتبات کی خطاطی میں لمبے لمبے عمودی خطوط کی باقاعدہ تکرار نمایاں طور پر نظر آتی ہے جو علامتی طور پر کاشت کے لیے استعمال ہونے والے ہل یا پھاؤڑا یا پھر شاید دلدلی زمین کے بانس نما درخت (اور سرکنڈوں) اور ساتھ ساتھ بنگال کے جنگلاتی منظر کو ایک تجریدی فن میں پیش کرتی ہے۔</p> <p>بالآخر اٹھارویں صدی میں اسلام بنگال کا مقبول ترین عقیدہ و عوامی مذہب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک غالب ثقافت کے طور پر ابھرا۔ اگرچہ اس علاقے میں اسلام کے پھیلاؤ میں کارفرما عوامل کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں کی گئی ہیں، تاہم یہ کہنا مبنی بر مبالغہ نہیں کہ اسلام علاقے میں ایسے مذہب کے طور پر داخل ہوا جو فطرت کے قریب (دین الفطرۃ)تھا۔ پس اس نے دیہاتی بنگالیوں کو اپنی طرف مائل کیا جن کا روایتی طرزِ زندگی صدیوں سے نہایت ہی سادہ اور ماحول سے ہم آہنگ رہا تھا۔ سلاطینی اور مغلیہ ادوار میںبنگال کے شاندارماحولیاتی توازن اور فطرتی ہم آہنگی نے یہاں کے اسلامی ادب، فن، تعمیرات، ثقافت اور لوک ادب پر گہری چھاپ ڈالی۔</p> <p>بنگال میں مسلم حکمرانی کے ایک سو سال میں اب تک تقریباً تیرہ عربی اور فارسی کتبات دریافت ہو چکے ہیں جن کی تاریخ ۱۲۰۵ئ اور ۱۳۰۴ئ کے درمیان کی ہے۔ ان میں سے چھے، ایک اہم مذہبی ادارے یعنی خانقاہ کی تعمیر کی یادگار پر مبنی ہیں جس نے زمانوں تک بنگال کے معاشرے اور زندگی میں اسلامی روحانی اقدار پھیلانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ خانقاہوں نے مدرسہ کے ادارے کے ساتھ مساوی انداز میں علمی درسگاہ کا کردار ادا کیا۔ اسلامی دنیاکے ازمنۂ وسطیٰ میں خانقاہوں کے تعلیم اوردانش و فکر پھیلانے کے کردار کو اس قدر اہم سمجھا جاتا تھا کہ مشہور مؤرخ اور فلسفیِ زمان ابن خلدون (م۔۱۴۰۶ئ )کو مصر کے مملوک حاکم نے قاہرہ میں بیبرس کی خانقاہ کا سربراہ مقرر کیا جو اُس وقت اسلامی دنیا کے ایک کلیدی روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔</p> <p>متعدد تاریخی شواہد بنگال میں کافی پہلے ہی یعنی تیرھویں صدی کے آغاز میں ہی اسلامی صوفی تحریکات شروع ہونے کا پتہ دیتے ہیں جنھوں نے مقامی آبادی پر گہرا اثر چھوڑا۔ سیان کا کتبہ بتاریخ ۶۱۸ھ؍۱۲۲۱ئ (بنگال میں دوسرا قدیم ترین اسلامی کتبہ)صوفیوں کے لیے خصوصی طور پر وقف کردہ خانقاہ کا پہلا ریکارڈ ہے۔ یہ راڑ کے علاقے کے شمال مغرب میں لکھنور(مغربی بنگال کے موجودہ بیربھوم ضلع میں)کے ایک ابتدائی مسلم انتظامی مرکز، سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اس کے بانی (ابن محمد المراغی) نے اپنے لیے کتبے میں ”صوفی“ یا ”شیخ“ کی جگہ جنوبی ایشیا کی ایک مشہور اصطلاح ”فقیر“ استعمال کرنے کو ترجیح دی، جو مقامی بدھ اور ہندو سنیاسی روایات میں راہب کے تصور سے زیادہ ہم آہنگی رکھتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ سیان میں خانقاہ کا مقام بذاتِ خود کسی تباہ شدہ بدھ مت کا آشرم یا ایک ہندو مندر رہا ہو، کیونکہ اس عربی کتبہ پر مشتمل پتھر کی یہ لوح (جس کے الٹی طرف ایک سنسکرت کتبہ بھی ہے)وہاں موجود ایک مندر میں ملی۔ ان مسلمان صوفیہ کی جماعت کو ”أہل الصفۃ“ سے موسوم کیا گیا ہے، جو ہمیں نبیﷺ کے زمانے کی مدینہ کی ابتدائی روحانی برادری کی یاددلاتی ہے جنھوں نے مسجدِ نبویﷺ میں عبادت کی خاطر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کے لیے غربت کاراستہ اختیار کیا تھا۔ کتبہ میں مذکور عمارت نے اس جماعت کے لیے بطور مسجد بھی کام دیا۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو اُس علاقے میں آج تک قائم ہے۔ کتبہ میں قرآنی آیت اور حدیث کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ابتدائی صوفی شریعہ پر سختی سے کاربند تھے۔ اگرچہ یہ روایت مرورِ زمانہ میں مدھم پڑتی چلی گئی۔</p> <p>سیان خانقاہ کے بانی کی نسبت ”المراغی“ بنگال کی طرف مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ابن محمد المراغی بحیرۂ خزر (بحیرۂ کیسپین) پر المراغہ کے قصبے سے ہجرت کر کے بنگال آئے۔ بنگال کے جنوبی ساحلی علاقوں میں موجود بحری راستوں کے ذریعے صوفیہ کی آمد کا امکان اس علاقے میں۱۲۰۵ئ میں بختیار خلجی کی کامیاب فوجی مہم سے پہلے بھی وجود رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ وسطی ایشیاسے اس دور دراز مضافاتی علاقے میں اُن کا ورود تیرھویں صدی میں شروع ہوا جب وسطی ایشیا، خراسان، فارس اور ملحقہ علاقوں کا ایک بڑا حصہ منگول حملوں کی زد میں تھا۔ پس ان صوفیہ کی اس دور دراز زمین کی طرف ہجرت کرنے میں روحانی تڑپ کے ساتھ سماجی و معاشی عوامل نے لازماً اہم کردار ادا کیا ہوگا۔ وسطی ایشیا میں اپنے ترک منگول پیش روؤں کی طرح وہ اپنی خانہ بدوش ثقافت بھی اپنے ساتھ ضرور لائے ہوں گے۔ متعدد ابتدائی قرائن اور مقامی روایات اشارہ کرتی ہیں کہ ان کو اس علاقے میں شمالی بھارت، وسطی ایشیا یا مغربی ایشیاسے ان کے روحانی پیشواؤں کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ تب تو اس بات میں کوئی اچنبھا نہیں کہ بنگال کے صوفیہ ہر جگہ موجود اپنے مذہبی بھائیوں کی طرح ہمیشہ اپنے صلاح کاروں کے ساتھ روحانی تعلق برقرار رکھنے کے لیے پرجوش رہتے تھے۔ جب بھی ان میں سے کچھ لوگ ایک علاقے میں اپنی صوفی اخوت کی ایک توسیعی شاخ کے طور پر گئے۔ انھوں نے اس علاقے میں سکونت اختیار کرنے کے بعد وہاں اپنی بھائی چارہ تنظیم قائم کی، جس میں مرشد اور مرید کے درمیان روحانی وابستگی نے کلیدی کردار ادا کیا۔</p> <p>سرحد بنگال کی جانب اسلامی سرگرمیوںکے آغاز کے لیے راہ ہموار کرنا ان کے لیے کبھی بھی آسان نہ تھا۔ اکثر اوقات ان کو اس دور افتادہ مضافاتی علاقے میں کئی سخت مراحل اور مشکلات سے گزرنا پڑتا۔ بسا اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ مقامی غیر مسلم حکمرانوں کے خلاف مقدس جنگ (جہاد) شروع کرنے کے کردار کے حوالے سے ان کی کئی کہانیاں سوائے مشہور اساطیر کے کچھ بھی نہیں۔ پس ایک انسان کو ان کی موت کے مدتوں بعد لکھے گئے سوانحی ادب پر نگاہ دوڑاتے ہوئے محتاط رہنا پڑتا ہے، کیونکہ ان میںاِن مصنفوں کی نیک تمناؤں اور مذہبی جذبات سے میل کھاتی مبالغہ آرائی بھی موجود ہوتی ہے، جو ان اولیائ کی کاوشوں و کامرانیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ مقامی روایات ان کو زندگی سے کہیں بڑی اور کرشمہ ساز شخصیات کے طور پر پیش کرنے کی خاطر ان کو مجاہد یا مذہبی جنگجو کے روپ میں بھی ڈھال دیتی ہیں، جنھوں نے علاقے میں اسلام کا جھنڈا لہرانے کے لیے مختلف قسم کی مصیبتیں جھیلیں۔ اگرچہ ایسے نظریات کی تاریخی شہادت شاید ہی کہیں ملتی ہے۔ صوفیہ کا مرکزِ نگاہ ہمیشہ نفسِ بہیمہ (دنیاوی لذات و خواہشات) کے خلاف جہادِ اکبر ہی رہا۔ اس لیے ہمیں بنگال کے معدودے چند صوفیہ ہی غازی (فاتح) یا مجاہد (مذہبی ؍دینی جنگجو)کا لقب استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ بعض مواقع پر چند ناگزیر حالات میں جہادِ اصغر (مقدس جنگ) میں مشغول بھی نظر آتے ہیں، تاکہ اپنے مقامی حریف یعنی غیر مسلم حکومت یا جاگیردار (جیسے ظالم بادشاہ یا غاصب زمینداروں)کو اقتدار سے الگ کر سکیں۔ تاہم مقبول سطح پر ”غازی“ کا لقب کچھ مقامی پیروں کو دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ مقامی روایات کے مطابق مغربی بنگال کے ضلع ہوگلی میں مندران کے گاؤں میں مدفون شاہ اسماعیل کو غازی کا لقب دیا گیا ہے۔ بہر حال نئے نئے علاقے میں منتقلی کے بعد بیشتر صوفیہ نے اپنے شاگردوں کو گھر بسانے اور گھریلو زندگی(قدیم ترکی روایت میں موجود“ کتخدا“ یا خاندانی زندگی اپنانے کا نظریہ)منتخب کرنے کی اجازت دی اور کئی صورتوں میں حوصلہ افزائی بھی کی۔</p> <p>بنگال میں صوفیہ کی اثر اندازی صرف روحانی دائرہ اثر میں ہی نہیں، بلکہ سیاسی اور سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان میں اکثرو بیشتر بلا شک و شبہ تاریخی واقعات کے سرگرم حصہ دار تھے۔ وہ عوامی زندگی، معاشرہ اور سیاسی معاملات پر گہرا اثر رکھتے تھے، کیونکہ بہر حال وہ کائنات کے روحانی واخلاقی منتظم تھے۔ کچھ واقعات میں صوفیوں کی سرپرستی اورحمایت نے کئی حکمرانوں کو ایک طرح کی مذہبی سند عطا کر دی۔ ان میں سے بعض کے بارے میں روحانی پیشواؤں نے ان کی ابتدائی زندگی میں کسی خاص نیکی کی بدولت مخصوص علاقے کی حکمرانی کی پیشین گوئی کی تھی، جیسا کہ کچھ ابتدائی ذرائع پتہ دیتے ہیں۔ متعدد قدیم مسلمان حکمرانوں نے اپنا سیاسی سفر صوفیہ سے دعا لینے کے بعد شروع کیا۔ ابن بطوطہ نے اپنے شہرۂ آفاق سفر نامہ ”رحلۃ“ میں سونار گاؤں اور سلہٹ جیسے دور افتادہ علاقوں تک میں بھی کئی مشہور و معروف مسلمان بزرگوں سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ وہ ”شیدا“ نامی ایک فقیر کا بھی ذکر کرتا ہے، جس نے سونار گاؤں کے حکمران فخر الدین مبارک شاہ (عہد۷۳۹۔ ۷۵۰ ھ؍ ۱۳۳۸۔۱۳۴۹ئ) کے خلاف بغاوت کی اور اس جدوجہد کے دوران مارا گیا۔ نور قطب العالم (م۔ ۱۴۵۹ئ بمطابق لوحِ قبر) جیسے صوفیہ نے اپنے وقت کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ سحر انگیز شخصیات کے مالک بتدائی کئی فاتحین جیسے جنوب بنگال کے باگیرہاٹ میںخان جہان کو ان کی وفات کے بعد لوک داستانوں میں بتدریج پیروں کے درجے تک بلند کر دیا گیا اور ان کی قبروں کو درگاہوںمیں بدل دیا گیا۔ بعینہ دکھشن دیناج پور میں دیوی کوٹ کے قریب ایک چھوٹے سے غیر معروف گاؤں کے ایک ٹیلے کی چوٹی پر موجود بختیار خلجی کے مقبرہ کو مقامی آبادی میں مسلم اور غیر مسلم دونوں یکساں طور پر ایک مسلمان بزرگ کی درگاہ کی حیثیت سے تعظیم و احترام دیتے ہیں۔</p> <p>صوفیہ سیاست اور معاشرے دونوں پر اثر انداز تھے اور مقتدر طبقہ نے اکثر ان کی سرپرستی کی۔ ان کی مسلسل بڑھتی ہوئی قوت اور شہرت بعض اوقات حکمران طبقہ کے ساتھ محبت و نفرت کے ملے جذبے کی طرف بھی گئی۔ سلطان سکندر شاہ دارالخلافہ میں شیخ علاؤ الحق کی بڑھتی ہوئی اثر اندازی سے اس قدر بد ظن تھا کہ اُس نے اِس بزرگ کو مشرقی بنگال میں سونار گاؤں میں شہر بدر کر دیا۔ تاہم عمومی طور پر بنگال کے مسلمان حکمران اِن صوفیہ کی بحیثیت روحانی صلاح کار عزت کرتے تھے اور ان کی نصیحتوں کو سنتے تھے، تاکہ کم از کم عوام میں اپنی مقبولیت عام کو قائم رکھ سکیں۔ ان میں سے چندنے اپنے بیٹوں کو مذہبی تعلیم کے لیے اِن کے پاس بھی بھیجا۔ مثال کے طور پر مظفر شمس بلخی نے اعظم شاہ (تقریباً ۷۹۲۔۸۱۳ھ ؍ ۱۳۹۰۔۱۴۱۰ئ) کو تعلیم دی۔ شہری مراکز اور دارالخلافوں مثلاً گوڑ، پنڈوہ اور سونار گاؤں وغیرہ میں ہمیشہ صوفیہ کی گہری وابستگی رہی، جس نے ان کو سیاسی زندگی اور شاہی خانوادے پر اثر انداز ہونے کے متعدد مواقع دیے۔ ان میں سے اکثر نے اسلامی ادب میں خاصا اثر چھوڑا۔ بعضوں نے مدارس اور ہسپتال بھی قائم کیے اور عوام الناس کی رفاہ میں مجموعی طور پر سرگرمی سے حصہ لیا۔</p> <p>بنگال کے قدیم صوفیہ ایک طرف روحانی پیشوا ہوتے تھے اور دوسری طرف علما، محدث اور نبیﷺ کی روایات کے مستند عالم ہوتے تھے۔ بعض نے علاقے میں حدیث کی تعلیم میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں سے اکثر نے علم کی متعدد شاخوں میں دلچسپی لی۔ بالخصوص علم و دانش کے تبادلے کے لیے عموماً انھوں نے فارسی زبان کو استعمال کیا۔ نتیجتاً ان کے ملفوظات اور مکتوبات جیسے اکثر تحریری کام فارسی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ چونکہ اکثریت ایک مضبوط دینی تعلیم کی بنیاد بھی رکھتی تھی، اس لیے ان کی عربی پر گرفت بھی اچھی تھی۔ در حقیقت کئی حضرات نے اپنا علمی کام عربی میں بھی تالیف کیا۔</p> <p>بنگال کے قدیم ترین اسلامی ادبی فن پاروں میں سے ایک ”حوض الحیاۃ“ (زندگی کا چشمہ)، اصلاً یوگا کے ایک سنسکرت مخطوطہ بعنوان امرت کنڈ(لافانی جھیل) کا عربی ترجمہ؛ (فارسی ترجمہآب حیاۃاوربحر حیاۃ) ایسے باہمی تعاملات کا بہت واضح انداز میں ذکر کرتا ہے۔ اس عظیم کام کا مرکزی خیال زندگی کے ایک روحانی سفر سے ترتیب پاتا ہے جو مختلف مراحل سے گزرتا ہے، اور باوجودیکہ اپنے تاثر میں ایک خواب نما تجربہ ہی رہتا ہے، جو صوفیوں کے مطابق زندگی کی اصل حقیقت ہے۔ مخطوطہ کا آغاز اس تاریخی پس منظر سے ہوتا ہے جس میں کامروپ سے ایک مشہور ہندو یوگی اور اپنے وقت کا خاصا مشہور ہندو عالم بھوجربرہمن بنگالی دارالخلافہ لکھنوتی میں علی مردان(۱۲۱۰۔۱۲۱۳ئ) عہد میں آتا ہے تاکہ اس نئی فاتح قوت کے مذہب و عقیدے کے بارے میں کھوج لگا سکے۔ جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت اس کی ملاقات اس زمانے کے ممتاز حنفی قاضی رکن الدین سمرقندی سے ہوئی اور اس نے مذہبی امور پر گفت و شنید کی۔ بھوجر برہمن نے بالآخر اسلام قبول کیا اور مذہبی نصابات کی رسمی تربیت سے گزرنے کے بعد وہ آخر کار ایک مفتی(باقاعدہ قانونی رائے دینے کے اہل) کی سطح تک پہنچ گیا۔ اس ابتدائی ہندو مسلم تعامل میں ہندی مذہبی صحائف کو ابراہیمی روایت کے تسلسل سے آنے والی مقدس کتاب کے طور پرذکر کیا گیا ہے جو ”حوض الحیاۃ“ کی زبان کے مطابق ”دو براہما“ یا بالفاظ دیگر ”ابراہم اور موسی کے مصحف“ تھے۔ پس ہندوؤں کامقدس صحیفہ ”ویدا“ اور ساتھ ساتھ آریائی ویدی مذہب کو بہت آسانی سے بنگال کے ابتدائی مسلم علما کے ذریعے اسلامی عالمگیر منظر و تصور کَون(بالفاظِ دیگر رسالت یا وحیِ الہٰی کے تصور)کے وسیع مفہوم میں سمو دیا گیا۔ اس جذبِ باہم کے طریق کار کا بہت گہرا اثر ہوا۔ یہاں تک کہ بعض مسلم فقہا نے اس مفتوح زمین میں غیر مسلم اکثریت (بدھ مت کے پیروکاروں اور ہندوؤں)کو ”مشابہ بہ اہل الکتاب“ (ایک اسلامی ریاست میں عیسائیوں اور یہودیوں کو دیا جانے والے مقام)کا مرتبہ دے دیا، جو ذمی (ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا) کی حیثیت سے واضح بیان کردہ مکمل قانونی حقوق رکھتے تھے۔ بہت کم معروف مگر یہ اہم اقدام بہرحال جنوبی ایشیا کی اسلامی تاریخ میں نیا نہیں تھا۔ صوفی ادب میں اکثر اوقات ”صلحِ کل“ یا سب کے لیے امن کے نام سے پائی جانے والی یہ حکمت عملی محمد بن قاسم نے ٹھیک پانچ سو سال قبل فتح سندھ کے بعد کم و بیش اسی طرح اپنائی تھی، جس کے انجامِ کار نے اس علاقے کو مسلم اکثریتی علاقے میں بدل دیا۔ بنگال کے مسلمان علما کی جانب سے براہما کی بطور ابراہیم اور موسی نبی کی علامت کے طور پر شناخت نے دو اہم ترین مذہبی گروہوں - ہندو اور مسلمان - کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک پُل کا کردار ادا کیا، کیونکہ ان گروہوں کو آخر کارآنے والے زمانوں میں لمبے عرصے تک ایک ساتھ رہنا تھا۔ مذہبی سطح پر باہم میل جول کے ذریعے ہندو اور مسلمان علما کے درمیان مکالمہ بین المذاہب کا آغاز ایک بہت ابتدائی مرحلے میں شروع ہو گیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان صوفیہ نے بنگال کے مشرقی اور شمال مشرقی دور افتادہ جنگلاتی علاقوں بالخصوص کامروپ اور آسام میں یوگا اور اس طرح کی دیگر تنتری (اور روحانی) ورزشوںاور طریقوں میں بہت زیادہ فاضلانہ دلچسپی لی۔</p> <p>سلام کا پیغام مقامی آبادی میں متعارف کرانے کے لیے اور آسان کر کے پہنچانے کے لیے مقامی مذہبی امثال و تشبیہات اور استعارات کا استعمال صرف بنگال تک محدود نہ تھا، بلکہ گجرات اور ہندوستان کے دوسرے علاقے بھی اس تاریخی تجربے سے گزرے۔ اس دلچسپ خصوصیت نے ازمنۂ وسطیٰ کی مسلم بنگالی شاعری (پُوتھی) میں اپنے اظہار کی راہ ڈھونڈ لی۔ ایک خاص برہمن یوگی کا اسلام کی طرف مائل ہونے کا فعل علامتی طور پر بہت اہم ثابت ہوا، کیونکہ اس عمل نے یہ تاریخی تاثر دیا کہ مذہب تبدیل کرنے کا رجحان علاقے میں مسلمان حکومت کے ابتدائی ادوار میں ہی شروع ہو گیا تھا، اور اِس رجحان نے آبادی میں برہمنوں سے لے کر ملیچھوں تک کے تمام طبقات پر اثر ڈالا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنگال کے اوائل عہد کے اکثرو بیشتر علما، جیسے قاضی رکن الدین سمر قندی، وسط ایشیاسے آئے تھے۔ چونکہ وہ فقہ حنفی کے پیرو کارتھے، اس لیے ان کے اثر سے بنگالی مسلم اکثریت میں حنفی فقہ کو قبولیتِ عام ملی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برصغیر میں صرف بعض حنفی فقیہ ہی ہندوؤں کو مشابہ بہ اہل الکتاب قرار دیتے تھے، جبکہ شافعی اور دوسرے فقہی مذاہب عموماً ہندوؤں کو مشرک خیال کرتے تھے۔ فقہ حنفی (جو جلد ہی علاقے میں رائج ہو گئی)کی رواداری اور کشادہ ذہنی کے رویے کے تحت ہندو، بدھ اور دوسرے مذاہب کے لوگ مسلمانوں کے ساتھ مساوی سطح پر آگئے اور ہر شہری بلا تفریق مذہب قانون کی نظر میں برابری کے حقوق پانے لگا۔</p> <p>اگر ابراہیم نخعی (جو عبد اللہ بن مسعودؓ کے مشہور شاگرد تھے اور عراق میں قاضی القضاۃ تھے) جیسے مسلم فقہا نے اسلام کے اوائل ہی سے، خصوصاً عراق میں، اور مشرق کے دوسرے مفتوحہ علاقوں میں یہی درسِ مساوات دیا، توبعض نے تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ارتداد جیسے ارتکاب گناہ کے لیے صرف توبہ ہی کو اس کی سزا قرار دیا۔ بلکہ بعض نے تو ارتداد کے بعد اسلام میں واپسی کے لئے کسی سزا کی بھی ضرورت کو مناسب نہ جانا۔ تاریخ کے صفحات شاہد ہیں کہ بنگالی مسلمان ہمیشہ خراسان اورعراق کی طرف عقیدت و احترام سے دیکھتے تھے، کیونکہ فقہ حنفی کی ترویج کے یہی دو بڑے خطے تھے جسے وہ اپنی روحانی اور ذہنی جولان گاہ خیال کرتے تھے۔</p> <p>علمااور صوفیہ دونوں ہی عوام الناس کے ساتھ قریبی تعلقات جوڑنے میں نیز دیہی اکثریت کے لیے آسان وقابلِ فہم زبان میں اسلام کا پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے تھے۔ عموماً صوفیہ نے اسلامی معاشرے کی تشکیل میں بعض اوقات خاموشی کے ساتھ اور بعض اوقات واضح اور بین انداز سے کئی اہم کردار ادا کیے۔ فطری تقاضوں کے عین مطابق ان کی اثر اندازی کی شرح اور ان کی سرگرمی کی شدت ہر زمان و مکاں میں ایک سی نہیں رہی۔ اُن کی خاصی بڑی اکثریت نے اصلاً اسلامی معاشروں کے مرکزی دھارے میں شریعت کے پیروکار رہتے ہوئے زندگی گزاری اور علما کے ساتھ بھی ایک گہرا تعلق استوار رکھا۔</p> <p>یہ دراصل وحدت کے بڑے تانے بانے کے اندر ثقافتی مظاہر کا علاقائی تنوع ہے جو اسلام کو ایک بھرپور، اہم اور عظیم تہذیب بناتا ہے۔ یہ اس کے بنیادی مذہبی اصولوں، زمان و مکان کی ضرورت، خیال اور حقیقت اور تغیر و ثبات کے درمیان تعامل کے تخلیقی طریقہ کار ہیں، جس نے اس تہذیب کو حتی الیوم زندہ، تاباں و دلکش اور فعال رکھا ہے۔ جب اس کا پیغام قدیم دنیا کے دور دراز کونوں میں پھیلنا شروع ہوا، تو اسلام کو دو تحدیاتی امور کا سامنا تھا: اجتماع ضدین <annotation lang="en">(Sycretion)</annotation> اورعلاقائی اظہار <annotation lang="en">(Indigenization)</annotation>۔ اگرچہ سوئِ فہم کی بنیاد پر اکثران کو مترادف تصور کر لیا جاتا ہے، لیکن کسی حد تک ان دو الفاظ کامختلف معنوی پس منظر ہے۔ علاقائی اظہار کے عمل میں جہاں بیرونی عناصر اپنے اظہار میں مقامی خصوصیات کو ڈھونڈتے ہیں، وہاں اجتماع ضدین کی اصطلاح تاریخی تناظر میں ایک عیسائی اصطلاح سے نکلی ہے، جس کا اطلاق خاص کر مخلوط زبان کی شکل میں غیر منطقی ملاپ اور متضاد عقائد کی موافقت اور معرض گفتگو میں مذکور لوگوں کی جانب سے ان کی بلا تنقید قبولیت پر ہوتا ہے۔</p> <p>مختلف لوگوں اور گروہوں کے اسلام قبول کرنے کے عمل میں علاقائی اظہار کا ایک خاص کردار ہے جو اسلامی دنیا میں ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے، اور بنگال اس سلسلے میں مستثنیٰ نہیں ہے۔ بنگال درحقیقت باقی امت سے اپنا مضبوط بندھن قائم رکھتے ہوئے اسلامی معاشرے کی علاقائی تشکیل و تنظیم کا ایک شاندار مثالی نمونہ پیش کرتا ہے۔ علما اور صوفی شیوخ نے عمومی طور پر علاقائی اظہار کی حوصلہ افزائی کی جو کہ کسی حد تک اسلامی دعوت کو عوام کی اکثریت میں مقبول بنانے میں مددگار تھی۔ زندہ اور مقبول زبان میں مقامی گروہوں کو اسلام پیش کرنے کی کوشش میں مقامی نظام سے توافق پیدا کرنے کے لیے وہ بعض اوقات ایک خاص حد تک لچک بھی بروئے کار لائے، جس حد تک وہ بنیادی اسلامی روح کے ساتھ ہم آہنگی رکھتا تھا۔</p> <p>س کے برعکس اجتماعِ ضدین کبھی بھی علما اور صوفی شیوخ کے ہاں اس بنا پر قابلِ قبول نہیں ہوئی کہ یہ شریعت سے میل نہیں کھاتی۔ مگر وقتاً فوقتاً اس نے مقتدر مسلمان اشرافیہ کی متضمن حمایت پائی، جن میں سے اکثر بذاتِ خود وسطی ایشیاکی ساسانی بادشاہی میراث کی مخلوط روایت کے علمبردار تھے۔ لیکن جس چیز نے اجتماع ضدین نیز مخلوط روایات کو وقتاً فوقتاً مقبول بنایا، وہ پیر اور مُلا(اور دیگر مختلف ناموں سے معروف مثلاً :سابقی یا روایت پسند، بے شرع یا شریعت کے غیر مقلد، اباحی یا بے لگام)کے ایک خاص طبقے کی مصلحت پسندی کی سیاست تھی۔ ان کے اپنے ذاتی سماجی اور معاشی مفادات کے باعث وہ ہمیشہ عصری صورتحال کے دفاع کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ یہاں اس بات کی نشان دہی اہم ہے کہ صوفی، شیخ اور پیر یا مثال کے طور پر عالم اور مُلا کے الفاظ کے معروف اور محاوراتی استعمال میں کوئی خاص فرق نہیں ہے اور اکثر یہ ایک دوسرے کے متبادل و مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ بایں ہمہ اِن دو علاحدہ علاحدہ سماجی طبقوں کا وجود بنگال میں ہمیشہ رہا، جنھوں نے اِس خطے کے عوام الناس کی مذہبی روایت پر گہرا اثر چھوڑا۔ جہاں صوفی شیوخ، اولیا اور علماکے ایک گروہ نے ہمیشہ شریعت کی پیروی کی پرزور حمایت کی، وہاں دوسرے گروہ (پیر، درویش اور مُلا کے نام سے مشہور)نے مخلوط ثقافت کے علم برداروں کی خدمت سرانجام دی۔ ایسی صورت حال میں شریعت پسند صوفیوں، شیوخ اور علما کے اوراجتماع ضدین اورپرانی روایات کا دفاع کرنے والے پیروں اور ملاؤں کے درمیان موجود مستقل تناؤ باعثِ حیرت نہیں۔</p> <p>مختلف سلاسل(روحانی سلسلوں)کے صوفی شیوخ نے علما (منشی، مولانااور مولوی کے نام سے معروف) کی علمی قیادت کے دوش بدوش روحانی قیادت فراہم کی جن کو عموماً مذہبی پرہیزگاری اور قابلیت کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا تھا۔ روایتی پیروں نے اس کے برخلاف ایک قسم کے مذہبی پیشواؤں کے طبقے (برہمن کے مماثل) کو جنم دیا جہاں پیشرویت موروثی ہوا کرتی تھی۔ خاندانی سلسلے پر مبنی قدامت پسند پیروں اورملاؤں نے بعد کے دنوں میں ترقی پسند صوفیہ اور علما کے زیرِ سرپرستی چلائی جانے والی اصلاحی تحریکات کی مزاحمت کی۔ مثال کے طور پر وہ تیتومیر کے زیرِ سرپرستی کسانوںکی اپنی بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد اور آخر کار انگریز استعماری قوت کے ساتھ ٹکراؤ اور علما کی ہمہ گیر مساوات کے قیام کی تحریکات(ابتدائی نوآبادیاتی مصنفوں کے یہاں اکثر مولوی تحریک کے نام سے مذکور)کے خلاف کھڑے ہوئے۔</p> <p>مسلمانوں نے اس علاقے میں جیسے جیسے ایک معاشرتی اجتماع کے طور پر وسعت پکڑنی شروع کی ویسے ویسے صوفیہ کی پیشرو نسلوں کی اکثریت کی ترجیحات آہستہ آہستہ اپنے بنیادی روحانی مقصدِ اولیٰ یعنی سادہ زندگی گزارنے اور روحانی ترقی کے ہدف سے ہٹتی چلی گئیں۔ درگاہ، روضہ اور مزار کے نام سے مشہور اداروںکی بڑھتی ہوئی تعداد بنگال میں ابھرنا شروع ہوئی، جبکہ صوفیوں اور خانقاہوں کا اصلی فریضہ بالفاظ دیگر دعوت یا اسلامی پیغامات کی تبلیغ بتدریج مدھم پڑنا شروع ہو گئی۔ وقت کے ساتھ یہ درگاہیں اجتماع ضدین اور مخلوط روایات کی مشہور آماجگاہ بن گئیں، جنھوں نے عام لوگوں کو بزرگوں کی تعظیم اور مزاروں پر سجدہ ریزی کی طرف مائل کیا۔ مقتدر طبقہ اکثرمشہور بزرگوں کی قبروں پر شاندار مقبرے تعمیر کرنے کا عادی تھا، تاکہ ان کو مشہور درگاہوں میں تبدیل کر کے مقبولیتِ عام حاصل کر سکے۔ یہ درگاہیں بعدازاں ان کے انتظام و انصرام پر مامور لوگوں کی آمدنی کا ایک سود مند ذریعہ بن گئیں۔ بِہار میں مونگیر قلعہ کے جنوبی داخلے کے نزدیک شاہ نافہ کے مقبرے کی مشرقی دیوار پر نصب ایک کتبہ اشارہ دیتا ہے کہ سلطان حسین شاہ نے بزرگ کی قبر پر ایک یادگار گنبد ۹۰۳ھ؍۱۴۹۷ئ ۱۴۹۸ئ میں تعمیر کیا۔</p> <p>اس عمل میں صوفی روایات کی اکثریت نے اخلاقی فضیلتوں اور نفس کشی کی روحانی تربیت اور ساتھ ساتھ نفسِ بہیمی اور شہوانی خواہشات پر قابو پانے (ضبطِ نفس) پر اپنی توجہ و اصرار کھو دیا۔ بالآخر مسلمان بزرگوں کا ایک نیا طبقہ (یعنی پیر) آہستہ آہستہ نمودار ہونا شروع ہوا۔ انھوں نے اَن پڑھ دیہی طبقے سے رضاکار تلاش کیے، جن کے نزدیک اسلام کا تصور زیادہ تر وحدت الوجود یا ہمہ اوست کی ایک بگڑی ہوئی شکل کا تھا۔ کئی درگاہیں فی الحقیقت پیروں کے لیے نفع بخش ذریعہ آمدنی میں بدل گئیں۔ اس نئے طبقے کو خانقاہ کی سطح سے گزر کر ’طریقۃ‘ (روحانی بھائی چارے) کے مرحلے میں جانے اور بالآخر ’طائفۃ‘ (فرقوں) تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ ان میں سے اکثر تبدیلیاں پیروں کے حکومتی انتظامیہ سے گہرے مراسم کی وجہ سے رونما ہوئیں، کیونکہ انھوں نے اپنے خودمختار مقام کی قربانی دے کر ریاست کی طرف سے ملنے والی مختلف معاشی عنایات مثلاً انعامات یا مددِ معاش (زمینوں کی ملکیت) حاصل کیں۔</p> <p>گویا ہمیں اصلاح پسند صوفیہ ؍علما اور روایت پسند درویش یا پیروں کے مابین بدستور تاریخی نزاع کے تاریخی شواہد کثرت سے ملتے ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ ابتدائی صوفیہ نے عوام الناس پر زیادہ اور مقتدر طبقہ پر نسبتاً کم اعتماد کیا؛ جبکہ بعد کے ادوار میں پیر بذاتِ خود مقامی روایات بالفاظِ دیگر علاقائی مذہبی رواجوں اور روایتوں (مثلاً: بھکتی تحریکات، ہندو آشرم، مٹھ)اور ہندو مت کے گرو شاگرد کے تعلق سے متاثر ہوتے رہے۔ چند ادنیٰ طریقوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایک عوامی تائید یافتہ نظریۂ صلح کل (سب کے ساتھ امن ؍ ہرنظریہ و مذہب سے ہم آہنگی)کوجواز بناتے ہوئے بعض پیروں نے کئی ایسے مقامی غیر مسلم طریقوں اور روایتوں کو جذب کر نا شروع کر دیا، جنھوں نے بالآخر مختلف مسلکوں اور گروہوں کی شکل اختیار کر کے اسلامی تصوف کا اصل چہرہ چھپا دیا۔ اسی طرح بزرگوں کی تعظیم و توقیر کی اس نئی طرز کی مخلوط روایت نے صوفیہ کی جانب سے تزکیۂ نفس اور دینی پختگی جیسے انتہائی اہم کام کی اہمیت کو پس پشت ڈال دیا۔</p> <p>خاصی دلچسپ بات یہ ہے کہ اجتماع ضدین اور مخلوط روایات ہندو اور مسلمان معاشروں کو ذرا بھی مزید قریب نہیں لائیں، جتنے وہ حقیقت میں تھے۔ مشہور بنگالی افسانہ نگار اور ادیب شرت چندرا چٹاپدھائے نے بڑے پیمانے پر پڑھے جانے والے اپنے ناولوں اور کہانیوں میں ابتدائی بیسویں صدی کے بنگالی گاؤں کے سماجی میل جول کی روایت کا المناک نقشہ کھینچا ہے جہاں اگرچہ ہندو اور مسلمان ایک ہی جگہ اور فضا میں صدیوں سے بستے رہے، لیکن اس یک جائی کے باوجود ان کے درمیان ایک نفسیاتی خطِ امتیاز ہمیشہ کھنچا رہا، جس نے ان کی مذہبی اور ثقافتی زندگی کو الگ الگ رکھا۔ اس کے باوجود چند سطحوں پر باہمی تعلق و تعامل بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہا۔</p> <p>دیہی بنگال میں خانقاہ عام لوگوں پر گہرا اثر رکھتی تھی۔ خانقاہ سے وابستہ افراد بشمول غریب عوام کے، جو خانقاہ کے قرب و جوار میں رہائش پذیر تھی، بذریعۂ اوقاف بالخصوص مدد معاش (دیکھیے: بہرام سقا کتبہ بتاریخ ۱۰۱۵ھ ؍ ۰۷۔۱۶۰۶ئ) کے نام سے معروف طریقے سے سہارا پاتی تھی۔ چند خانقاہوں کے ساتھ عوامی سہولیات بھی میسر تھیں جیسے لنگرخانہ اور مفت ہسپتال وغیرہ۔ پس خانقاہوں نے مشرقی اورجنوبی بنگال کے زیریں ڈیلٹا میںنئے مسلمان گاؤںاور بستیوں کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کیا۔</p> </section> </body> "
"0021.xml"
"<meta> <title>اردو صحافت کا انقلاب آفریں نمائندہ: روزنامہ ”انقلاب“ اور اس کا سیاسی کردار</title> <author> <name>محمد حمزہ فاروقی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/4_m_hamza_farooqi_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>8574</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"اردو صحافت کا انقلاب آفریں نمائندہ: روزنامہ ”انقلاب“ اور اس کا سیاسی کردار"
8,574
"Yes"
"<body> <section> <p>عبدالمجید سالک نے ۱۹۱۲ئ میں اور مو لانا غلام رسول مہر نے فروری ۱۹۲۲ئ میںزمیندار کی ادارت سنبھالی۔ یہ تحریکِِ خلافت کا زمانہ تھا اور دونوں حضرات نظریاتی اور عملی اعتبار سے ’ترکِِ موالات‘ اور ’تحریکِِ خلافت‘ سے وابستہ تھے۔ زمینداراور اس کے مالک و مدیر مو لانا ظفر علی خاں ان تحریکات میں پیش پیش تھے۔ ظفر علی خاں تو اس تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں پانچ سال کے لیے قید کر لیے گئے۔ نو مبر ۱۹۲۱ئ میں سالک بھی ایک سال کے لیے داخلِ زنداں ہو ئے۔ مہر اور سالک نے جد و جہدِ آزادی اور تحریکِ خلافت میں بھر پور حصہ لیا۔ پھر ایسے حالات درپیش ہو ئے کہ یہ دونوں حضرات مارچ ۱۹۲۷ئ میں عملۂ زمیندار کے ساتھ مُستعفی ہو گئے۔</p> <p>مہر کی دیرینہ خواہش تھی کہ اپنا اخبار نکا لیں اور قومی خدمت سے متعلق جذبات و خیالات کا آزادانہ اظہار کریں۔ تربیت یا فتہ عملہ ان کے ساتھ تھا۔ گذشتہ بر سوں میں ان کا حلقۂ احباب خا صا وسیع ہو چکا تھا اور ان سے تعلقات کی نو عیت ایسی تھی کہ وہ اخبار کے لیے قر ضِ حسنہ دے سکیں۔ انھیں بر سر اقتدار یو نینسٹ پا رٹی کی آشیر باد اور مالی تعاون بھی میسر تھا۔ چناںچہ ۲ اپریل ۱۹۲۷ئ کو انقلاب عالمِ وجودمیں آیا۔</p> <p>مہر اور سالک کے درمیان دورِ زمینداری میں دوستی کی بنیاد پڑی۔ اس کی بنیادی وجوہ یہ تھیں۔ دونوں تقریباً ہم عمر تھے۔ فارسی شعرو ادب کا ذوق دونوں میں مشترک تھا۔ دونوں کا سیاسی مسلک بھی یکساں تھا۔ دونوں میں اشتراکِ فکرو عمل اس قدر تھا کہ زمیندار اور انقلاب کے اٹھا ئیس سالہ دور میں کبھی اختلاف کی نو بت نہ آئی۔ سالک بے پناہ متحمل مزاج تھے۔ مہر کا انقلاب کے ادارتی امور سے تعلق تھا جبکہ سالک انتظامی امور کے نگران تھے۔ مہر اداریہ نویس تھے اور سالک فکاہیہ کالم’’افکار و حوادث‘‘لکھا کرتے تھے۔</p> <p>انقلاب کے ابتدائی دور میں پنجاب میں ہندو اور سکھ تجارت، صنعت اور سرکاری ملازمتوں میں چھائے ہو ئے تھے۔ مسلمان زیادہ تر زراعت سے وابستہ تھے اور ہندو سا ہو کار گراں قدر شرح سود کے ذریعے ان کی زمینیں ہتھیانے کے درپے تھے۔ پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن ۱۹۱۶ئ کے معا ہدۂ لکھنٔو کے ذریعے مسلما نوں کو جداگانہ طر زِ انتخاب تو میسر آیا لیکن بنگال اور پنجاب میںانھیں آبادی کے تناسب سے حقِ تناسب نہ مل سکا۔ پنجاب میں مسلمان ۵۶ فی صد تھے اور بنگال میں ۵۵ فی صد لیکن انھیں قانون سازی اور بلدیاتی اداروں میں ۵۰ اور ۴۰ فی صد نیابت ملی۔ اس زمانے میں ووٹنگ جا ئیداد اور تعلیم سے مشروط تھی۔ مسلمان، ہندوؤں اور سکھوں کی نسبت زیادہ غریب، پسماندہ اور غیر تعلیم یا فتہ تھے۔ اس لیے ان کے اصل نمائندے منتخب نہ ہو پاتے اور ان اداروں میں جا گیردار یا زمیندار منتخب ہو تے جنھیں قومی مفاد سے زیا دہ نام و نمود اور ترقی عزیز تھی۔</p> <p>انقلاب مسلم حقوق کے چمپئن کے طور پر اُبھرا۔ اُس نے آبادی کے تناسب سے نما ئندگی اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے مسلسل جہاد جاری رکھا۔ مدیرانِ انقلاب نے جدا گانہ طرزِ انتخاب کی حمایت جاری رکھیجو مسلمانا نِ ہند کے منفرد سیاسی حقوق کا ضا من تھا اور ہندو قو میت کے سیلاب کے آگے بند کا کام دیتا رہا۔ ۲۸-۱۹۲۷ئ میں جب قا ئد اعظم محمد علی جناح چند آئینی تحفظات کے ساتھ مخلوط انتخاب قبول کر نے پر آمادہ تھے تو سر محمد شفیع نے اس سے اختلاف کیا اور طریقِ انتخاب کے سوال پر لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ مدیرانِ انقلابنے اس وقت شفیع لیگ کا ساتھ دیاتھا۔ شفیع لیگ میں اقبال بھی شامل تھے اور اس جماعت نے ہندوستان کی دیگر جما عتوں کے بر عکس سائمن کمیشن سے تعاون کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ آنے والی آئینی اصطلاحات میں مسلما نوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کی حفاظت کی جا سکے اور ان کی تہذیب و ثقافت کو ہندو تہذیب و ثقافت اور زبان کے غلبے سے بچا یا جا سکے۔</p> <p>انقلابساڑھے با ئیس برس کے عر صے میں عروج و زوال کی منا زل سے گزرا۔ ان عوامل کا تجزیہ اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس اخبار کی زندگی کے اُتار چڑھا ؤ پنجاب کی سیاسی تا ریخ کے مد و جزر سے وابستہ رہے۔ انقلابکا جب آغاز ہوا تو اسے اقبال کی فکری رہنما ئی اور اخلاقی تا ئید میسر تھی، لیکن اسے مالی اور سیاسی استحکام یو نینسٹ پارٹی نے فراہم کیا تھا۔ پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن معا ہدۂ لکھنٔو سے ان کی اکثریت بے اثر ہو گئی۔ پنجاب میں اقتصادی، سیاسی اداروں اور مختلف شعبوں میں ہندو اور سکھ اقلیتوں کی بالا دستی تھی اور وہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رُکاوٹ تھی۔ انقلابنے ابتدا ہی سے مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑی اور مقبولیت حا صل کی۔</p> <p>کا نگرس قا ئدین نے سا ئمن کمیشن کے مقابلے میں ۱۹ مئی ۱۹۲۸ئ کو بمبئی میں آل پا رٹیز کا نفرنس منعقد کی جس میں ہندوستان کا آئندہ دستور وضع کرنے کے لیے ایک ذیلی جما عت مر تب کی۔ اس کے صدر موتی لال نہروتھے اوردیگرارکان میں سر علی امام، شعیب قریشی، ایم۔ ایس آنپے، ایم۔ آرجیکر، جی۔ آرپردھان، سردار منگل سنگھ، سر تیج بہادر سیرو، ایم۔ این جوشی اور سبھاش چندر بوس تھے۔</p> <p>انقلاب نے ۱۲ اگست ۱۹۲۸ئ کو ایک خاص نمبر شائع کیا جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مفا ہمتی تجا ویز پر سیر حا صل گفتگو کی گئی تھی۔ اس نمبر میں میثا قِ لکھنؤ، میثا قِ بنگال، میثا قِ لا جیت اور انصاری اور مختلف ادوار میں پیش کی گئی مسلم رہنماؤں کی تجا ویز شامل تھیں۔ </p> <p>۱۵ اگست ۱۹۲۸ئ میں جب نہرو رپورٹ منظرِ عام پر آئی تو وہ مسلمانا نِ ہند کی توقعات پر پوری نہ اُتری اوردر حقیقت نہرو رپورٹ کے ذریعے ہندو اکثریت کے غلبے کا آئینی خاکہ وضع کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:</p> <list> <li>ملک بھر میں بلا امتیاز مخلوط انتخاب رائج کرنے پر زور دیا گیا۔</li> <li>سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور الگ صوبہ بنا نے کی تا ئید کی گئی بشرطیکہ مجوزہ صوبہ اپنا اقتصادی بو جھ اُٹھانے والا ہو۔</li> <li>بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کو آبادی کے تنا سب سے نما ئندگی دینے سے انکار کیا گیا۔</li> <li>ملک میں وفاقی طرز کی بجا ئے وحدانی طر زِ حکومت کی سفارش کی گئی۔</li> <li>کامل آزادی کی بجا ئے درجۂ مستعمرات کے حصول کو نصب العین قراردیااور عورتوں کو نمائندگی کا حق دیا گیا۔</li> </list> <p>کا نگرس کے مجوزہ آئینی خاکے میں نام نہاد ہندی قو میت پر اس قدر زور دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کے منفرد سیا سی حقوق کی سرے سے گنجا ئش نہ تھی۔ پنجاب کے خلافتی اور قو میت پرست رہنماؤں نے ۲۸ اگست کو لکھنؤ میں آل پا رٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور نہرو رپورٹ کو تسلیم کر لیا۔ مسلم قا ئدین کا معتدل مزاج طبقہ جن میں مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی جوہر، مو لانا شفیع داؤدی، شعیب قریشی اور جمعیت مر کزیہ خلافت اور جمعیتُ العلما کے اکابر شامل تھے، نہرو رپورٹ کے مخالف تھے۔</p> <p>مہر نے اس وقت نہرو رپورٹ کے خلاف اداریے لکھے۔ مدلل اور منطقی انداز سے اس کے مسلم ضرررساں پہلوؤںکا جا ئزہ لیا اور مسلم رائے عامہ کو بیدار کیا۔ انھوں نے اعداد و شمار کا سہارا لے کر رپورٹ کی مسلم دُشمنی کو آشکار کیا۔</p> <p>مسلم قیادت کا ایک حصہ، جس میں جناح اور مولانا محمد علی شامل تھے، رپورٹ میں آئینی ترامیم کے ذریعے مسلم مفادات کی تحفیظ کے ساتھ مخلوط انتخاب قبول کرنے پر آمادہ تھا، لیکن کا نگرس اور ہندو مہا سبھا اس رپورٹ کو حر فِ آخر تصور کرتی تھی اور کسی ترمیم کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھی۔</p> <p>مہر نے اس دور میں تا ریخ ساز کردار انجام دیا۔ آپ کے نزدیک مخلوط انتخاب کسی صورت میں بھی قابلِ قبول نہ تھا۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنے اداریوں اور مضا مین میں رپورٹ کا تا رو پود بکھیر کر رکھ دیا۔ نہرو رپورٹ کی مخالفت نے انقلابکی ساکھ جما ئی اور مقبولیت میں اضافہ کیا۔</p> <p>نہرو رپورٹ کے متعلق مو لانا محمد علی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۲۸ئ کو پٹنہ کے ایک جلسہ میں فرمایا: </p> <blockquote> <p>ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہد میں جب منادی دی جا تی تھی تو مناد پکارتا تھا کہ خلقت خدا کی، ملک با دشاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا لیکن نہرو رپورٹ کا ملخص یہ ہے کہ خلقت خدا کی، ملک وائسرائے کا یا پارلیمنٹ کا اور حکم ہندو مہا سبھا کا۔ درجۂ مستعمرات تسلیم کر لینے اور اس میں بھی مسلما نوں کے تحفظِ حقوق سے انکار کر دینے کے بھی وہی معنی ہیں۔</p> </blockquote> <p>نہرو رپورٹ کی اشاعت کے بعدانقلابمیں مسلما نوں کا ردِعمل مختلف انداز میں ظا ہر ہوا۔ مرتضیٰ احمد خاں مے کش نے دسمبر ۱۹۲۸ئ میںانقلابمیں ایک سلسلۂ مضا مین، ”ہندی مسلما نوں کے لیے الگ وطن“، کے عنوان سے شائع کیا۔ ان مضامین میں انھوں نے شمال مغربی مسلم اکثریتی صو بوں پر مبنی مسلم مملکت کے قیام پر زور دیا۔ مے کش نے ۱۹ دسمبر ۱۹۲۸ئ کے انقلاب میں لکھا:</p> <blockquote> <p>ان حا لات کے اندر یہ اشد ضروری ہے کہ مسلمانا نِ ہند کے لیے بھی ایک ایسا وطن پیدا کیا جائے جسے وہ اپنا گھر سمجھیں اور جہاں رہ کر وہ اپنی تہذیب، اپنے افکار اور اپنے تمدن و معاشرت کو اپنی منشا اور خوا ہشات کے مطا بق ترقی دے سکیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہندو ستان کے مسلما نوں کو بھی اس سر زمین میں ایک الگ وطن نہ دیا جا ئے۔ مسلما نا نِ ہند کے لیے وطن پیدا کرنے کے واسطے کسی بڑی جستجو کی ضرورت نہیں۔ صرف صوبہ پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو یک جا تصور کر کے مسلما نا نِ ہند کے لیے ایک بنا بنا یا وطن مل سکتا ہے۔</p> </blockquote> <p>اقبال نے ۳۰ دسمبر ۱۹۳۰ئ کو خطبۂ الٰہ آباد پیش کیا تو اس کا اردو ترجمہ مہر نے کیا تھا اور مو لوی محمد یعقوب ایم ایل اے سکریٹری مسلم لیگ نے حا ضرین کو اردو ترجمہ سنا یا۔ یہ ترجمہ ۲ جنوری ۱۹۳۱ئ کوانقلاب میں شائع ہوا۔</p> <p>اقبال نے فر ما یا تھا:</p> <blockquote> <p>میں پنجاب، شمال مغربی صوبۂ سر حد، سندھ اور بلو چستان کو ایک ریاست میں ضم ہو تے دیکھنا چاہتا ہوں۔ خود اختیاری حکومت یا تو سلطنتِ بر طا نیہ کے اندر ہو یا سلطنتِ بر طا نیہ کی حدود سے با ہر ہو، شمال مغربی ہند میں مسلما نوں کی آخری منزل نظر آ تی ہے۔</p> </blockquote> <p>اقبال کی مجوزہ ریاست میں بنگال شامل نہ تھا۔ آپ نے فرمایا:</p> <blockquote> <p>قسمتِ انبالہ اور چند ایسے اضلاع جہاں غیر مسلم اکثریت، نکال دینے سے یہ کم وسعت اور زیادہ مسلم آبادی کا علاقہ بن جا ئے گا۔ مجوزہ انتظام سے غیر مسلم اقلیتوں کی حفاظت کا بہتر انتظام ممکن ہو گا۔ اس تصور سے ہندوؤں یا انگریزوں کو پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں۔</p> </blockquote> <p>سندھ کی بمبئی پر یذیڈنسی سے الگ ہونے کے بارے میں اقبال نے اسی خطبے میں فرمایا:</p> <blockquote> <p>سندھ کی پشت ہند کی جانب اور چہرہ وسط ایشیا کی طرف ہے۔ مزید یہ کہ اس کے زرعی مسائل، جن سے حکومتِ بمبئی کو کوئی ہمدردی نہیں اور لا محدود تجارتی امکانات کے پیشِ نظر کراچی ترقی پا کرہند کا دوسرا دارا لحکومت بن جا ئے گا۔ میں اسے غیر منا سب سمجھتا ہوں کہ اسے (سندھ)ایک ایسی پر یزیڈنسی سے وابستہ رکھا جا ئے جس کا رویہ آج تو دوستانہ ہے لیکن تھوڑے عرصے ہی بعد اس کا رویہ مخا صمانہ ہو نے کا امکان ہے۔</p> </blockquote> <p>اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد سے مسلما نوں پر تو کو ئی خاص اثر نہ ہوا لیکن ہندو سیا ست دانوں اور اخبارات نے اس کی مخا لفت میں ایک طو فان کھڑا کر دیا۔ شمال مغربی ہند میں مسلما نوں کی الگ ریاست کا تصور ہند وؤں کے لیے نا قا بلِ بر داشت تھا۔ یہ نام نہاد ہندی قو میت کے منا فی تھا اور بھا رت ما تا کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کے مترادف تھا۔ ہندو اخبارات اور معتر ضین کے جواب کے لیے انقلابکے صفحات تھے۔ مہر نے ۲۲ جنوری ۱۹۳۱ئ کے ایک اداریے میں لکھا:</p> <blockquote> <p>اگر مسلما نوں کے مطا لبات جو اقلِ قلیل ہیں، منظور کر لیے جا ئیںتو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ پنجاب، صوبۂ سرحد، بلو چستان اور سندھ میں وہ اپنی اکثریت کی وجہ سے غالب رہیں گے اور ہندو ستان بھر کی ہندو اکثریت ان کے اس غلبہ و اقتدار میں دست اندازی نہ کر سکے گی۔ علامہ اقبال بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں چا ہتے۔ انھوں نے صرف اتنا اضا فہ فر ما یاہے کہ یہ اسلامی صوبے متحد ہو کر ایک اسلامی سلطنت کے قیام کا نصب العین کسی بھی طرح غیر حق بجانب قرار نہیں دیا جا سکتا۔</p> </blockquote> <p>انقلابکے ۱۵ جنوری ۱۹۳۱ئ کے اداریے میں مہر نے لکھا:</p> <blockquote> <p>ہندو چا ہتے تھے کہ مسلمان ’قو میت و جمہوریت‘ کے ان فریب کارانہ دعا وی کے ’حشیش‘ سے مد ہوش رہیں جو ہر ہندو کی زبان کا ما یۂ گفتار ہے۔ وہ چا ہتے تھے کہ مسلمان ہندوستان میں اپنی قومی تقدیر سے آشنا نہ ہوں۔ ہندوؤں کے گا نٹھے ہو ئے منصوبوں کے نتائج و عواقب سے آشنا نہ ہوں۔ سمجھتے ہیں کہ ہندو قوم جو کچھ کر رہی ہے ’قومیت و جمہوریت. کے لیے کر رہی ہے اور اسی طرح چپ چاپ ہندوستان میں ہندو راج قائم ہو جا ئے گا لیکن حضرت علامہ اقبال کی حق پرست آواز نے ہندو سلطنت، ہندو راج اور ہندو حکومت کے حصار کا طلسمِ با طل توڑ ڈالاہے۔</p> </blockquote> <p>مہر نے ایک اداریے میں شمال مغربی صو بوں کی مردم شماری کے ذریعے مسلم اور غیر مسلم آبادی کا تعین کیا اور یہ ثابت کیا کہ ضلع انبالہ کی عدم شمولیت کے نتیجے میں مسلم آبادی اس خطے میں ۶۲فی صد سے بڑھ کر ۶۷ فی صد ہو تی اور ہندو آبادی کی شرح ۲۸ فی صد سے کم ہو کر ۲۲ فی صد رہ جاتی جبکہ سکھ آبادی ۱۰ فی صد رہتی۔ اگر دریائے ستلج کو پنجاب کی آخری حد قرار دیا جاتا جیسا کہ سکھ عہدمیں تھا تو مسلم آبادی کا تناسب بڑھ جا تا اور پنجاب کو قدرتی سر حد میسر آتی۔</p> <p>آل انڈیا مسلم کانفرنس ۳۱ دسمبر ۱۹۲۸ئ کو وجود میں آئی۔ اس کی تاسیس میں میاں فضل حسین کا ہاتھ تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے غیر مو ٔثر ہونے کی بنا پر مسلم کانفرنس نے سیاسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ان معنوں میں سیاسی جما عت نہ تھی جیسی کا نگر س یا مسلم لیگ تھیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ ان ہم خیال مسلم اشرافیہ کا گروہ تھا جو مسلم مفادات کے تحفظ کے لیے مسلم کا نفرنس کے پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تھے۔ میاں فضل حسین سیاست میں عوام کی شمولیت کے قائل نہ تھے۔ ان کے نزدیک سیاست شطرنج کے کھیل کی مانند تھی۔ پنجاب میں یو نینسٹ پارٹی بھی عوامی جما عت نہ تھی اور پنجاب اسمبلی کے با ہر اس کا وجود نہ تھا۔ جنوری ۱۹۳۲ئ میں اقبال مسلم کانفرنس کے صدر منتخب ہوئے۔</p> <p>آل انڈیا مسلم کا نفرنس کا سالانہ اجلاس مارچ ۱۹۳۲ئ میں لاہورمیں ہونے والا تھا۔ مہر نے انقلاب کے اداریوں میں اقبال کی حما یت کی اور ان کی سر کر دگی میں مسلما نوں کے سیاسی مسائل کے حل پر زور دیا۔ مہر نے ۱۶ جنوری ۱۹۳۲ئ کے اداریے میں لکھا:</p> <blockquote> <p>خوش قسمتی سے ہمیں کا نفرنس کے اجلاس کی صدارت کے لیے حضرت علامہ اقبال کی سی شخصیت میسر آگئی ہے اور ہمیں کامل اُمید ہے کہ حضرت ممدوح اس نازک وقت میں مسلمانوں کی صحیح رہنما ئی فر مائیں گے اور آپ کا پیغامِ عمل مسلمان نوجوانوں کی رگوں میں خونِ تازہ کی لہر دوڑا دے گا۔ مسلما نانِ ہند کو چا ہیے کہ اس کانفرنس کو کا میاب بنا نے میں کو ئی کسر اُٹھا نہ رکھیں۔</p> </blockquote> <p>مہر نے ۱۰ مارچ ۱۹۳۲ئ کو مجوزہ کانفرنس کے بارے میں اداریے میں لکھا:</p> <blockquote> <p>قارئین کرام کو معلوم ہے کہ اس کانفرنس کی صدارت حضرت علامہ اقبال نے منظور فر ما ئی ہے۔ الٰہ آباد مسلم لیگ کے بعد یہ دوسرا مو قع ہے کہ مسلما نانِ ہند کو حضرت علامہ کے پا کیزہ خیالات سننے کا فخر حا صل ہو گا۔ آپ کانفرنس کا خطبہ تحریر فرما رہے ہیں جس میں آپ مسلمانوں کے لیے ایک صاف اور واضح را ہِ عمل کی تلقین فر مائیں گے۔ اس کے علاوہ ہندوستان بھر کے مسلمان اکابرین اس موقع پر جمع ہو کر اپنے اپنے خیالات مسلمانوں کے سامنے پیش کریں گے۔ ملتِ اسلامیہ آج کل انتہا ئی ہیجان و اضطراب میں مبتلا ہے۔ نہ کانگرس نے اس کے حقوق تسلیم کیے ہیں نہ حکومت نے ان کے حق میں کو ئی اعلان کیا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے سوا کو ئی چارہ نہیں کہ ہر خیال اور ہر عقیدے کے مسلمان متحد ہو کر بیٹھیں اور اپنی ایک تنظیم کا لو ہا حکومت اور ہنود دونوں سے منوا سکیں۔</p> </blockquote> <p>ارچ ۱۹۳۲ئ کو مسلم کانفرنس کا سالانہ جلسہ ہوا۔ مہر نے اقبال کے خطبۂ صدارت کے متعلق ۲۴ مارچ ۱۹۳۲ئ کے اداریے میں لکھا:</p> <blockquote> <p>حضرت علامہ اقبال نے مسلم کا نفرنس کے صدر کی حیثیت میں جو خطبہ ارشاد فر مایا، وہ حضرتِ ممدوح کے خطبۂ لیگ کی طرح خطباتِ صدارت کی تاریخ میں با لکل یگانہ حیثیت رکھتا ہے اور حضرت علامہ کی ذاتِ گرامی سے ہر مسلمان کو ایسے ہی خطبے کی توقع تھی۔ خطبے کے مختلف پہلوؤں پر مفصل بحث کا یہ مو قع نہیں۔ اس کا ہر حصہ ضروری ہے۔ سیاسی صورتِ حالات، سرحد، کشمیراور تنظیمِ ملی کا پروگرام، خطبے کے یہ چار اجزا ہیں۔ اول الذکر تین اجزا کے متعلق تمام ضروری امور انتہا ئی صفائی کے ساتھ پیش کر دیے گئے ہیں۔ ذمہ دارانِ انتظام کی غلطیاں، مسلما نوں کے ترجما نوں کی لغزشیں اور عام مسلما نوں کے جذبات و احساسات۔</p> </blockquote> <p>مہر نے خطبۂ اقبال کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا تھا:</p> <blockquote> <p>ہما رے نزدیک حضرت علامہ کے خطبے کا ایک اہم حصہ وہ ہے جس میں حضرت مو صوف نے مو جودہ سیاسی صور تِ حال کی بحث کے نتا ئج پیش کیے ہیں مثلاً یہ کہ:</p> <list> <li>مسلمان برطانیہ کے اوضاع و اطوار سے بد ظن ہو رہے ہیں۔</li> <li>اکثر اشخاص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مسلم اقلیت کے لیے تیسری پارٹی کا وجود عناد کیش اکثریت کے خلاف کو ئی حقیقی تحفظ ہے؟</li> <li>انگلستان کا نظامِ حکومت پار ٹیوں کی اکثریت و اقلیت پر مبنی ہے، جو لوگ حکومت کے مصیبت خیز اوقات میں تعاون کرتے ہیں انھیں ہر لحظہ شبہ رہتا ہے کہ اگر اس مدت کے گزر جانے کے بعد انگلستان میں دوسری پارٹی بر سر اقتدار آئے گی تو وہ اس تعاون کو قا بلِ قدر سمجھے گی یا نہیں۔</li> <li>مسلما نوں کو کسی ایک پارٹی پر بھروسہ نہیں کرنا چا ہیے بلکہ ایک ایسی پا لیسی وضع کرنی چاہیے جو بالغ نظرانہ اسلامی مفاد پر مبنی ہو اور جس سے بر طانیہ کے تمام باشندوںپر اثر پڑے۔</li> <li>حکومتِ بر طانیہ کا دعویٰ ہمیشہ یہ رہا کہ وہ ہندوستان میں توازن قائم رکھنے کے لیے مو جود ہے لیکن موجودہ رویے سے ظاہر ہو تا ہے کہ ایک غیر جانبدار ثالث کی حیثیت سے رہنے کی نیت نہیں رکھتی۔ </li> <li>اکثریت ہما رے پیش کردہ تحفظات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ حکومت کی روش سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قدیم بر طانوی جرأت و دیانت کی جگہ متزلزل و غیر مستقل حکمتِ عملی پر آگئی ہے جس پر کوئی اعتماد نہیںکر سکتا۔</li> <li>مسلمان یہ غور کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کی مو جودہ پا لیسی سے انگریز وں کی مشکلات تو دور ہو گئیں لیکن مسلمانوں کے لیے کو ئی مفید نتیجہ مرتب نہ ہو سکا۔</li> </list> </blockquote> <p>آخر میں حضرت ممدوح نے فرمایا:</p> <blockquote> <p>اگر تم موجودہ حکمتِ عملی کو ترک کر دینے کا فیصلہ کرو تو تمھارا قومی فرض ہو گا کہ ساری قوم کو ایثار کے لیے تیارکردو، جس کے بغیر کوئی خوددار قوم عزت کی زندگی بسر نہیں کر سکتی۔ ہندوستان کے مسلما نوں کی تاریخ میں نازُک وقت آپہنچاہے، اپنا فرض ادا کرو یا مٹ جاؤ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کانفرنس ادائے فرض کے لیے اُٹھے گی؟</p> </blockquote> <p>انقلاب نے مسلم کا نفرنس کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ ۲۱ مارچ ۱۹۳۲ئ کو اخبار کا خصوصی شمارہ چھپا جس میں اقبال کا خطبۂ صدارت اور آل انڈیا مسلم یو تھ کا نفرنس کے صدر حاجی عبدللہ ہارون کا خطبہ شامل تھا۔</p> <p>اس زمانے میں اقبال مہرو سالک کے سیاسی و فکری مرشد تھے لیکن ان کے مالی مفادات یو نینسٹ پارٹی سے منسلک تھے اور اس پارٹی کی قیادت کے مسلم لیگ سے اختلافات کھل کر سامنے نہ آئے تھے اس لیے مہر اور سالک مسلمانوں کے عمومی مسائل کے حل کے لیے مسلم لیگ کی حما یت کر تے تھے۔ تاہم دو باتوں میں وہ میاں فضل حسین کے ہم نوا تھے اور اس پر کسی انحراف پر آمادہ نہ تھے۔ ایک جدا گانہ انتخاب اور دوسرابنگال اور پنجاب میں آبادی کے تناسب سے مجالسِ قانون ساز میں نما ئندگی کا مسئلہ تھا۔ دوسری گول میز کا نفرنس کے بعد میاں فضل حسین کی در پردہ کو شش کے نتیجے میں بر طانوی وزیرِ اعظم ریمزے میکڈونلڈ نے پنجاب اور بنگال میں مسلم اکثریت تسلیم کر لی تھی لیکن یہ اکثریت ان کی آبادی کے تناسب سے نہ تھی۔ پنجاب میںسکھوں کو ان کی آبادی سے زیادہ حقِ نما ئندگی میسر تھا اور یہ مسلمانوں کے لیے پریشان کن صورتِ حال تھی۔ پنجاب اسمبلی میں مسلمانوں کی معمولی اکثریت نے یو نینسٹ پارٹی کے قدم جما دیے اور انھوں نے نہ تو شہروں سے اُبھرنے والے متوسط طبقے کے سماجی اور سیاسی شعور کو پھلنے پھولنے دیا اور نہ ہی سیاسی بیداری کو اُبھرنے دیا۔</p> <p>یو نینسٹ پارٹی اقتدار پرست، رجعت پسندزمیندد اروں اور جا گیرداروں کا سیاسی گروہ تھا جو اقتدار میں رہنے کے لیے انگریزوں کی سر پرستی کا محتاج تھا۔ انھیں ہم خیال ہندو اور سکھ قا ئدین کا تعاون میسر تھا جن کی مدد سے انھوں نے پنجاب اسمبلی میں اکثریت حا صل کر لی تھی۔</p> <p>قا ئدِ اعظم اپریل ۱۹۳۶ئ میں جب لا ہور تشریف لائے تو ان کے پیشِ نظر ۱۹۳۷ئ کے انتخابات تھے جو ۱۹۳۵ئ کی دستوری اصلا حات کے بعد منعقد ہونے والے تھے۔ لاہور میں جناح نے میاں فضل حسین سے ملاقات کی اور مجوزہ انتخابات میں تعاون کے طلب گار ہوئے۔ میاں صا حب نے مسلم لیگ کی پنجاب میں انتخابی عمل میں شمو لیت کی شدید مخالفت کی اور انتخابی تعاون سے انکار کیا۔ جناح، یکم مئی ۱۹۳۶ئ کواقبال سے ملے تو آپ نے نہ صرف جناح کی قیادت کو قبول کر لیا بلکہ مسلم لیگ سے بھر پور تعاون کیا۔ مو لانا ظفر علی خان نے بھی مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور نیلی پوش تنظیم کو مسلم لیگ میں ضم کر دیا۔</p> <p>یونینسٹ پارٹی کی قیادت جب تک مسلم لیگ کی مخا لفت میں کھل کر سامنے نہ آئی مدیرانقلاب منقار زیرِ پر رہے لیکن مخالفت کا آغاز ہو تے ہی مدیرانِ انقلاب یو نینسٹ پارٹی کا حقِ نمک ادا کرنے کے لیے میدان میں کُود پڑے۔ ۱۲ مئی ۱۹۳۶ئ کو اقبال نے ایک بیان میں یونینسٹ پارٹی کی رجعت پسندی اور منافقت کو طشت از بام کیا تو انقلاب نے اس بیان کو شائع تک نہ کیا۔ ۱۸ مدیرانِ انقلاب اقبال کو اپنا سیاسی اور فکری مرشد تسلیم کرتے تھے لیکن انہوں نے اس بیان کو انقلابکے صفحات میں جگہ تک نہ دی۔ مہر نے ۱۵ مئی،۱۷ مئی اور ۲۴ مئی ۱۹۳۶ئ کے اداریوں میں اس کا جواب لکھا۔</p> <p>ان کے نزدیک مسلم لیگ کی آنے والے انتخابات میں شمولیت اور یو نینسٹ پارٹی کی مخالفت ”مسٹر جناح کی سعی کو عناصرِ افتراق کی تقویت کے سوا اور کیا قرار دے سکتے ہیں“۔ مسلم لیگ کی تنظیمِِ نو اور مسلمانانِ ہند کو متحد و منظم کرنے کے متعلق مہر کا تبصرہ یہ تھا کہ ”داخلی کش مکش بر پا کریں اور ایک دوسرے سے لڑائی چھیڑ کر اپنی قوتوں اور مسلمانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچائیں“۔</p> <p>مسلم لیگ کی تنظیمِ نَو مسلمانا نِ ہند کی سیاست میں نئے دور کا آغاز تھا۔ یو نینسٹ پارٹی زمانے کے بدلتے منا ظر میں اپنی افادیت کھو رہی تھی۔ عوام کے سیاسی شعور کی بیداری اور کاروبارِ سیاست میں ان کی شمولیت وقت کی اہم ضرورت تھی۔ ہندو ستان میں بر طانوی اقتدار سیاسی تحریکات اورآئینی اصلاحات کے نفاذ کے بعد کمزور ہو رہا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کو ایک ملک گیر سیاسی تنظیم کی ضرورت تھی جو کا نگرس اور دیگر ہندو فرقہ پرست تنظیموں کا مقابلہ کرتی اور اکھنڈ بھارت کے خواب کو پریشان کرتی۔ اگر وہ علا قائی تنظیموں کے زیرِ سایہ منتشر و درماندہ رہتے تو بر طانوی سامراج اور ’’ہندو کانگرس ‘‘کے طا غوتی عزائم کا مقابلہ نہ کر پاتے۔</p> <p>میاں فضل حسین ۹ جو لائی ۱۹۳۶ئ کو انتقال کر گئے۔ انتقال سے قبل میاں صاحب آئندہ انتخابات کے لیے یو نینسٹ پا رٹی کی قیادت تیار کر چکے تھے۔ ان کے جانشین سردار سکندر حیات مختلف ڈھب کے آدمی تھے۔ ۱۹۳۷ئ کے انتخابات یو نینسٹ پارٹی کا نقطۂ عروج تھے۔ پنجاب اسمبلی میں یہ اکثریتی جماعت بن کر اُبھری۔ مدیرانِ انقلاب نے بھی خوب حقِ نمک ادا کیا۔ پنجاب میں مسلم لیگ بے سرو سا مانی کے عالم میں تھی اور مدیرانِ انقلاب کی پھبتیوں اور تنقید کی سزا وار ٹھہری۔</p> <p>جنوری ۱۹۳۷ئ کے انتخا بات میں کانگرس نے چھ صوبوں میں واضح اکثریت حا صل کی۔ مسلم لیگ مسلم اقلیتی صو بوں میں خا صی کامیاب رہی لیکن مسلم اکثریتی صوبوں میں نا کام رہی۔ انتخا بات جیتنے کے بعد کانگرس کے صدر جوا ہر لال نہرو نے جا رحا نہ رویہ اپنایا اور اس کا اظہار مختلف سطحوںپر ہوا۔ نہرو مسلمانوں کے منفرد سیاسی حقوق اور جدا گانہ تشخص کے مخا لف تھے۔ وہ ہندی قو میت، مغربی جمہو ریت اور سو شلزم پر یقین رکھتے تھے۔ مغربی طر زِ جمہوریت کے وہ اس لیے خوا ہاں تھے کہ اس کے بلا امتیاز نفاذ سے ہندو غلبے کی راہ ہموار ہوتی تھی۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مذہبی، لسانی اور نسلی اختلافات بہت نما یاں تھے، وہاں نہ تو ہندی قومیت کا تصور کامیاب ہو سکتا تھا اور نہ ہی مغربی جمہوریت کا بلا ترمیم نفاذ کا میابی کا ضا من بن سکتا تھا۔</p> <p>صوبۂ سر حد میں کانگرس اقلیتی پار ٹی تھی لیکن وہاں کانگرس خان برادران کے تعاون سے جوڑ توڑ کے ذریعے اپنی حکومت بنانے میں کا میاب ہو گئی۔ کانگرس کی نظریں سندھ پر تھیں اور سندھ میں ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جا ری تھا۔ کانگرس نے مسلم لیگ کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلم را بطۂ عوام مہم شروع کی۔ کانگرس کی جا رحیت اور مسلما نوں کے خلاف یلغار نے مسلم اکثریتی صو بوں کی قیادت کو مسلم لیگ کی چھتری تلے پناہ لینے پر مجبور کیا۔ چنا نچہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۳۷ئ کے مسلم لیگ کے سا لانہ اجلاس منعقدہ لکھنؤ میں بنگال آسام اور پنجاب کے وزرائے اعظم نے نہ صرف شرکت کی بلکہ مسلم لیگ میں شمو لیت کا بھی اعلان کیا۔ مو لوی ابوالقاسم فضل حق، سرسعد اللہ خان اور سر سکندر حیات نے جناح اور لیگ کو بے پناہ تقویت بخشی۔ پرانے خلا فتی رہنما مو لانا شوکت علی اور ظفر علی خان بھی لیگ میں شامل ہو گئے۔</p> <p>سکندر حیات خان جناح کی عوامی مقبولیت اور مسلمانانِ ہند پر ان کے اثرو رسوخ سے بخوبی واقف تھے اور جناح سے بنا ئے رکھنے میں ہی عا فیت جانتے تھے۔ انھوں نے کا نگرسی یلغار کا مقابلہ کر نے کے لیے ”سکندر جناح پیکٹ“ کاسہارا لیا تھا لیکن وہ مسلم لیگ سے مخلص نہ تھے اور نہ ہی پنجاب میںمسلم لیگ کو فعال دیکھنا چا ہتے تھے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ کے واحد نما ئندے سے ان کی مخا صمت تھی۔ وہ ہر حال میں یونینسٹوں کی بالا دستی اور اقتدار کے خوا ہاں تھے۔</p> <p>جناح اس صورتِ حال سے بخوبی واقف تھے۔ لیکن کا نگرس کا مقابلہ اور بر طانیہ سے آزادی کی جنگ میں اپنی قوت مقامی مسلم قیادت سے ٹکرا کر بر باد نہیں کرنا چا ہتے تھے۔ وہ پنجاب اور بنگال کے مسلمان ووٹروں کی اہمیت سے بھی آگاہ تھے۔ انھیں آئندہ سیاسی جنگ میں بہر حال ان دو صو بوں کے عوام کو ساتھ ملانا تھا۔ پنجاب میں یو نینسٹوں سے برا ہِ راست ٹکرا ؤ کے بغیر وہ رفتہ رفتہ مسلم لیگ کی سیاسی قوت میں اضافہ اور اثرونفوذ بڑھا تے گئے۔ دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے مقررہ وقت پر انتخا بات تو نہ ہوئے لیکن لیگ ضمنی انتخابات میں مو ٔثر قوت بن کر اُبھرتی رہی۔</p> <p>اکتوبر ۱۹۳۷ئ سر سکندر حیات اور جناح کے در میان جو معا ہدہ ہوا تھا، اس کی ایک شق یہ تھی:</p> <blockquote> <p>سر سکندر حیات خان واپس پنجاب جا کراپنی پا رٹی کا ایک خاص اجلاس منعقد کریں گے جس میں پارٹی کے تمام مسلمان ممبروں کو جو ابھی تک مسلم لیگ کے ممبر نہیں بنے، ہدایت کریں گے کہ وہ سب مسلم لیگ کے حلف نامے پر دستخط کر کے مسلم لیگ میں شامل ہو جا ئیں۔ اندریں حالات وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے مر کزی اور صو بائی بو رڈوں کے قواعد و ضوابط کی پا بندی کریں گے، لیکن یہ معا ہدہ یو نینسٹ پار ٹی کی مو جودہ کو لیشن پر اثر انداز نہیں ہو گا۔</p> </blockquote> <p>اس معاہدہ پر کسی دور میں بھی عمل نہیں ہوا۔ جب تک سر سکندر حیات زندہ رہے، انھوں نے معمولی اختلافات کے با وجود لیگی قیادت سے بنا ئے رکھی۔ لیکن معا ہدے کی مندرجہ بالا شق ایسا ٹائم بم تھی جس نے کسی مر حلے پر پھٹنا تھا اور لیگ اور یو نینسٹ پا رٹی کی راہیں جدا کرنا تھا۔</p> <p>پنجاب کی سیاسی تاریخ میں مسجد شہید گنج کا واقعہ ایسا تھاجس کے اثرات بر سوں پنجاب کی سیاست پر رہے۔ ۱۹۳۵ئ میں مسجد شہید گنج کا سکھوں کے ہا تھوں شہید ہونا اور یو نینسٹوں کی سکھوں کو اس اقدام سے روکنے میں ناکامی، یو نینسٹ پارٹی کی مسلما نوں میں غیر مقبولیت کا سبب بنی۔ مجلسِ احرارِ اسلام بھی مسجد شہید گنج کے ملبے تلے دب گئی اور ایک مقبول سیاسی جما عت کی حیثیت سے دوبارہ نہ اُبھر سکی۔</p> <p>دوسرا اہم واقعہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ئ کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے منعقدہ لا ہور میں قرار دادِ پاکستان کا منظور ہو نا تھا۔ اس کے بعد مسلم لیگ پنجاب میں مقبول اور مؤ ثر ہو تی گئی اور یو نینسٹ پا رٹی نمک کے تودے کی مانند سیاست کے دریا میں پگھلتی چلی گئی۔ دسمبر ۱۹۴۲ئ میں سر سکندر حیات خان کی اچانک موت یونینسٹ پارٹی کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔ ان کے جانشین سر خضر حیات ٹوانہ نہ تو عوام میں اس قدر مقبول تھے اور نہ انھیں اپنے پیشرو جیسا تدبر، سیاسی بصیرت اور دور اندیشی میسر تھی۔ انھوں نے ظاہری احتیاط کے تقا ضوں کو بالائے طاق رکھ کر آویزش کی راہ اپنائی۔ انھیں اندازہ نہ تھا کہ مسلم لیگ پنجاب میں ۳۷-۱۹۳۶ئ کے دورِ کسمپرسی سے نکل کر ایک مضبوط اور توانا جما عت بن چکی تھی۔</p> <p> کے آغاز میں جناح نے مناسب سمجھا کہ یو نینسٹ پا رٹی کی منا فقت کا پردہ چاک کیا جا ئے اور سکندر جناح معا ہدے کے تحت مسلمان یو نینسٹ اراکینِ پنجاب اسمبلی کو مسلم لیگ میں شامل کیا جائے۔ جناح نے فر ما یا کہ کو ئی شخص بیک وقت دو جما عتوں کا وفادار نہیں رہ سکتا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ یو نینسٹ پا رٹی کا نام ترک کے ’’مسلم لیگ کو لیشن پارٹی ‘‘ کا نام اختیار کیا جا ئے۔</p> <p>خضر حیات نے سکندر جناح معا ہدے کا سہارا لیتے ہو ئے دعویٰ کیا کہ وہ بیک وقت یونینسٹ اور مسلم لیگی تھے۔ انھوں فر مایا کہ معاہدے کی رُو سے پنجاب وزارت یو نینسٹ کا لاحقہ بر قرار رکھے گی اور جناح صوبا ئی معا ملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ خضر حیات نے جس معا ہدے کا سہارا لیا تھا، اس پر سکندر حیات کے دور سے اس وقت تک عمل ہی نہیں ہوا تھا۔ جناح کو بجا طور پر خضر حیات خان کی بیان کردہ تعبیر سے اختلاف تھا۔ انھوں نے فر ما یا تھا کہ معا ہدہ برابر کی سطح کے لوگوں کے لوگوں کے درمیان ہو تا ہے۔ ”کسی لیڈر اور اس کے تابع فرمان کے درمیان کیسے معا ہدہ ممکن تھا“۔</p> <p>۱۹۴۴ئ میں پنجاب مسلم لیگ اس قدر توانا ہو چکی تھی کہ یو نینسٹ پارٹی کی با لا دستی اور اقتدار کو چیلنج کر سکے۔ وہ ایک خوابیدہ جما عت سے اُبھر کر عوامی تحریک کا رُوپ دھار چکی تھی۔ حصولِ پاکستان کے لیے یو نینسٹ پارٹی کی رفاقت کا بوجھ اُتارنے پر آمادہ تھی جو اس کے مقاصد کی راہ میں بڑی رُکاوٹ تھی۔ اس کے علاوہ مجوزہ مسلم ریاست میں پنجاب ایک اہم اکائی تھا۔ پنجابی مسلما نوں کی تا ئید و حما یت کے بغیر پا کستان کا قیام ممکن نہ تھا۔</p> <p>جناح کو بخوبی اندازہ تھا کہ یو نینسٹ پارٹی کی قیادت سے ٹکرا ؤ مسلم لیگ کے لیے سود مند ہو گا۔ یونینسٹ پارٹی اپنے تضادات، رجعت پسندی اور بر طانوی حکمرانوں پر انحصار کرنے کی بنا پر زوال پذیر ہوگی۔ ۲۰ اپریل ۱۹۴۴ئ کو جناح اور خضر حیات لا ہور میں ملے، لیکن جناح خضر کو قائل نہ کر سکے۔ مئی ۱۹۴۴ئ خضر حیات ٹوانہ مسلم لیگ سے نکال دیے گئے۔ اور عملاًسکندر جناح معا ہدہ ختم ہو گیا۔</p> <p>اس واقعہ کے بعد یو نینسٹ پارٹی تیزی سے زوال پذیر ہو ئی۔ اس کے ارکان مسلم لیگ میں شامل ہوتے گئے۔ یو نینسٹ پارٹی کو سر چھوٹو رام نے سہارا دیا تھا۔ یہ ہندو جاٹوں کے نما ئندہ تھے۔ وہ جب تک زندہ رہے یو نینسٹ پا رٹی کی پُر جوش وکالت کرتے رہے۔ جنوری ۱۹۴۵ئ میں ان کی وفات سے پارٹی کو شدید نقصان پہنچا۔</p> <p>انقلاب نے خضر اور لیگ تنا زعہ کے دوران خضر حیات کا ساتھ دیا اور اس طرح وہ خضر حیات اور یونینسٹوں کی عوام میں غیر مقبولیت کا بھی حصہ دار بنا۔ مہر نے یو نینسٹوں کے دفاع میں لکھا :</p> <blockquote> <p>تمام یو نینسٹ مسلمان پاکستان کو مسلمہ قومی نصب العین سمجھتے ہیں۔ وہ صوبے میں ایک پائیدار اور مو ٔثر وزارت بنا نا چا ہتے ہیں اور ایسی وزارت ان غیر مسلم عنا صر کے اشتراک ہی سے بن سکتی ہے جن کے مفاد مسلما نوں سے ملتے جلتے ہوں۔</p> <p>ملک خضر حیات خان اور ان کے ساتھی خود اس نظام سے با ہر نہیں ہوئے بلکہ انھیں زبر دستی نکالا گیااور علت یہ نہیں تھی وہ پاکستان کے قومی نصب العین سے یا قومی تنظیم کی کسی اصل سے منحرف ہو گئے تھے۔ علت محض یہ تھی کہ وزارتی پارٹی کا نام ’’مسلم لیگ کو لیشن پارٹی‘‘ہو۔ یہ بھی نہیں کہ ملک خضر حیات خان کو اس نام سے اختلاف تھا۔ عذر محض یہ تھا کہ جو غیر مسلم عنا صر اس کولیشن میں شریک نہیں وہ اس نام کو نہیں مانتے۔</p> </blockquote> <p>پنجاب کی صور تِ حال مہر کے بیان کے مطابق اس قدر سادہ نہ تھی۔ دو نوں جما عتوں کے مقا صد میں جو اختلافات تھے وہ کسی نہ کسی مر حلے پر راستوں کی جدائی پر منتج ہوتے تھے۔ مدیرانِ انقلاب کی یو نینسٹ جماعت کی حمایت اس پارٹی کے لیے تو کیا سود مند ہوتی خود انقلابکے لیے نہا یت ضرر ساں ثابت ہوئی۔ اخبار کی اشاعت کم ہو تی گئی۔ مہر و سالک کی سیاسی بصیرت ایسی کشتی کو بچانے میں صرف ہوئی جس کا کھیون ہار اسے بیچ منجدھار ڈبونے کے درپے تھا۔ </p> <p>مہر پاکستان بننے کے مخالف نہ تھے۔ آپ نے مر غوب صدیقی کے خط کا ۱۹۶۶ئ کے غیر مطبوعہ خط میں جواب دیتے ہوئے لکھا:</p> <blockquote> <p>پاکستان کا مسئلہ معین صورت میں مارچ ۱۹۴۰ئ سے پیشِ نظر ہے۔ اس سے بیس سال پیشتر بیسیوں قومی، ملکی اور ملی مسا ئل سا منے آئے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے مر جانے کے بعد بھی پاک و ہند کے مختلف گو شوں سے میرے کام کی شہادتیں ملیں گی۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ خود پاکستان کے لیے کسی نے سب سے بڑھ کر کام کیا تو وہ میں ہوں، اس لیے کہ میرے اخبار میں یہ صدا پہلے پہل ۱۹۲۸ئ میں بلند ہو ئی تھی۔ پھر جب حضرت علامہ اقبال کا خطبۂ صدارت شائع ہوا تھا اور اس کے خلاف طو فان بر پا ہوا تھا، غیروں کا بھی اپنوں کا بھی، تو آپ نے اس طوفان کا مقابلہ نہیں کیا تھا، کیو نکہ آپ کا تو وجود بھی اس وقت نہ تھا۔</p> <p>پھر ۱۹۳۰ئ سے ۱۹۴۰ئ تک یہ سفینہ جن طوفانوں اور گر دابوں سے گزرا، اگر آپ سے پو چھا جائے تو ان کے بارے آپ کیا بتا ئیں گے۔ اکتوبر ۱۹۳۸ئ میں سندھ مسلم لیگ کا نفرنس کے خطبۂ استقبالیہ میں حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون نے یہ صدا بلند کی تھی ۲۶ پھر آل انڈیا مسلم لیگ کمیٹی کی فارن کمیٹی جس کے صدر سیٹھ صا حب مر حوم تھے، پاکستان کا پہلا معین جغرا فیائی منصوبہ اس کمیٹی نے تیار کیا تھا، جس کے بعد اس معا ملے نے محسوس و مشہود عملی شکل اختیار کی۔ میں نے یہ داستان کبھی نہیں سنائی۔ جب کو ئی بالغ نظر شخص پا کستان کی تا ریخ لکھے گا اور وہ کم ازکم ۱۹۳۰ئ سے منظو ریِ قرارداد کی سر گذشت سامنے لا ئے گاتو اسے نظر اندز نہیں کر سکے گا۔</p> </blockquote> <p>مہر نے نو مبر ۱۹۳۸ئ سے فروری ۱۹۴۰ئ تک سر عبدللہ ہارون اور علی محمد راشدی کے ساتھ پاکستان اسکیمکی تدوین و ترتیب میں حصہ لیا تھا۔ مہر کی مرتب کردہ رپورٹ کی بنیاد پر مسلم لیگ کی مر کزی مجلسِ عاملہ نے مارچ ۱۹۴۰ئ میں قراردادِ پاکستان مرتب کی تھی۔</p> <p>انقلاب نے ۱۹۳۷ئ اور ۱۹۳۸ئ کے دوران پا کستان کی حمایت میں متعدد مضامین شائع کیے۔ ۱۱ جولائی ۱۹۳۹ئ کو مہر نے عبدللہ ہارون کے مالی تعاون سے ایک رسالہ بعنوان سیاسیاتِ اسلامیانِ ہندشائع کیا۔ اس کا مقصد بیرونِ ہند مسلم لیگ کا پیغام پھیلانا تھا۔ اس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور اسلامی مما لک میں تقسیم کیا گیا۔</p> <p>مہر نے سیاسیات اسلامیانِ ہندکے متعلق مئی ۱۹۶۵ئ خط بنام محمد عالم مختارِ حق میں لکھا: سیا سیا تِ اسلامیانِ ہند با لکل غیر ممکن ہے کہ مل جا ئے۔ یہ میں نے ۱۹۴۰ئ میں لکھی تھی۔ مسلم لیگ کے شعبۂ خارجہ نے چھا پی۔ اب وہ نہ لیگ رہی، نہ اس کا شعبۂ خارجہ۔ کہاں سے ملے گی۔</p> <p>مہر نے اسے ۱۱ جولائی ۱۹۳۶ئ کو دفترِ امورِ خارجہ آل انڈیا مسلم لیگ (کراچی) کے تعاون سے چھپوایا تھا۔ مہر نے ابتدا میں اختصار کے ساتھ مسلما نوں کے عروج و زوال کی داستان بیان کی تھی۔ فصلِ دوم اور سوم میں آپ نے ان عوامل سے بحث کی تھی جو ہندوؤں اور مسلما نوں کی سیاسی راہیں جدا کرنے کا موجب بنے۔ ان ابواب میں آپ نے ہندوؤں کی تنگ نظری اور مہا تما گا ندھی کی منا فقانہ پالیسی کو مو ردِ الزام ٹھہرایا۔ فصلِ چہارم میں تحریکِ خلافت کے دوران مسلمانوں کی قر با نیوں اور سر فروشانہ جدو جہد کا ذکر کیا تھا۔ مہر کو ہمیشہ یہ رنج رہا کہ جب تحریک کامیابی کے نزدیک پہنچی تو پنڈت مدن مو ہن مالویہ اور گاندھی جی نے اس کا خاتمہ کر کے اس کو نا قا بلِ تلافی نقصان پہنچایا۔</p> <p>فصلِ پنجم میں ۱۹۳۷ئ سے ۱۹۳۹ئ تک کے کا نگرسی راج میں مسلم تہذیب و ثقافت کو جو نقصانات ہوئے اور ہندو تہذیب و روایات کے احیائ کے لیے جو اقدامات کیے گئے ان کا جا ئزہ لیا۔ مہر نے بد لائل یہ ثابت کیا کہ کانگرس کا اقتدار عملاً ہندو راج تھا جس میں مسلمان دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری تھے۔ اس میں مسلما نوں کے وقار، سیاسی اور تہذیبی وجود کی گنجائش نہ تھی۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نے مسلمانوں کی اکثریت کو قو میت کے تصور سے بر گشتہ کیا تھا۔</p> <p>مہر نے تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں اپنی خدمات گنوانے کے لیے ۱۵ جون ۱۹۶۷ئ کے ایک غیر مطبوعہ خط بنام بشیر احمد ڈار میں لکھا:</p> <blockquote> <p>ان تمام مدعیانِ چراغ افروز یِ پا کستان کو یہ بھی خبر نہیں کہ میری زندگی کب سے اس جہاد کے لیے وقف ہو ئی اور معا ملہ کہاں تک پہنچ کر اتمام کو پہنچا۔ کیا یہ حقیقت کسی کو معلوم ہے کہ ۱۹۳۹ئ میں جب مسلم لیگ کی خارجہ کمیٹی بنی تھی اور دنیاے اسلام میں مسلما نانِ ہند کی حقیقی پو زیشن واضح کرنے کی ضرورت پیش آئی تو سب سے پہلا رسالہ مجھ سے ہی لکھوا یا گیا تھا۔ وہ چھپا ہوا مو جود ہے۔ کیا یہ معلوم ہے پاکستان کی پہلی اسکیم میری ہی کوشش سے تیار ہوئی تھی جس کا مسودہ اب بھی سید علی محمد راشدی کے پاس مو جود ہے۔ اسی کو دیکھ کر قا ئدِ اعظم اس طرف مائل ہوئے تھے۔ باقی رہا یہ امر کہ اس جہاد کو اتمام پر پہنچا کر میں نے تقسیمِ پنجاب و بنگال کی مخالفت ضرور کی۔ وہ پاکستان کی مخالفت نہ تھی۔ اور کوئی تھا ہی نہیں جو یہ کام انجام دے سکتا۔ نوائے وقت ۱۹۴۴ئ میں نکلا، ڈان ۱۹۴۶ئ میں، پاکستان ٹائمز ۱۹۴۷ئ میں، امروز ۱۹۴۸ئ میں۔</p> </blockquote> <p>مہر کی مسلم لیگ سے قربت سر عبداللہ ہارون کے دم سے تھی۔ عبداللہ ہارون اور سر سکندر حیات خان، مہر کے قدر دان تھے اور ان کی سیا سی بصیرت کے نہ صرف قائل تھے بلکہ وقتاً فوقتاً ان کی بصیرت اور ذہانت سے مستفید ہوتے تھے۔ ان حضرات کے انتقال کے بعد پنجاب کی مسلم لیگی قیادت سے مہر کے اختلافات بڑھتے رہے اور آپ سر خضر حیات ٹوانہ اور یونینسٹ پارٹی کے قریب تر ہوتے گئے۔ مہر نے جب مقامی مسلم لیگی قیادت جسے آپ’’ہمہ گیر نا لائق‘‘ قیادت قرار دیتے تھے، پر تنقید کی تو انھوںنے انقلاب کو پاکستان کا دشمن اور یونینسٹوں کا حاشیہ بر دار قرار دیا۔</p> <p>حکومتِ وقت کی مدح سرائی سے اخبار مالی فوائد تو سمیٹ لیتا ہے لیکن عوام میں مقبولیت کھو بیٹھتا ہے۔ پھر یو نینسٹ پا رٹی تو آزدی سے چند سال قبل ڈوبتا ہوا سورج تھی جس کی پوجا مہر و سالک کر رہے تھے۔ چناںچہ انقلاباور مہر نے حصولِ پاکستان کے لیے جو قابلِ قدر خدمات انجام دی تھیں وہ مخالفانہ پروپیگنڈے میں گہنا گئیں اور یو نینسٹوں کی حمایت نے انھیں عوام میں معتوب کر دیا۔</p> <p>دوسری جنگِ عظیم کے بعد برِ صغیر پاک و ہند میں جو سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان میںدو باتیں ناگزیر تھیں۔ ایک یہ کہ بر طانوی سا مراج کے دن گنے جا چکے تھے اور حکومتِ بر طانیہ ہندو ستان پر حکمرانی کے لائق نہ رہی تھی۔ جنگ میں انگلستان فا تح بن کر اُبھرا تھا لیکن عالمی جنگ نے اس کا تمام کس بل نکال دیا تھا۔ معاشی اور سیاسی عوامل کی بنا پر ہندوستان پر حکمرانی اس کے بس کا روگ نہ تھا۔ دوسرا امر یہ تھا کہ پاکستان کا قیام نا گزیر تھا۔ تصو رِ پا کستان مسلما نا نِ ہند کی دلوں کی دھڑکن میں جا گزیں تھا اور ان کی امنگوں اور آرزوؤں کا محور تھا۔ اس سے رُو گر دانی نہ کا نگرسی قیادت کے بس میں تھی اور نہ بر طانوی حکمران اسے ٹال سکتے تھے۔ سر خضر حیات ٹوانہ کے نزدیک مستقبل قریب میں نہ تو بر طانوی اقتدار ختم ہونے والا تھا اور نہ پا کستان کا قیام ممکن تھا۔ وہ خود فریبی کے حصار میں گھرے ہوئے اور بر طانوی مفا دات کی پا سداری میں اس قدر مگن تھے کہ زمینی حقائق ان کی نگا ہوں سے اوجھل تھے۔</p> <p>مسلم لیگ نے ۴۶۔۱۹۴۵ئ کے الیکشن پاکستان کے حصول کے نام پر لڑے تھے اور اس میں اسے فقید المثال کا میا بی نصیب ہو ئی۔ پنجاب میں مسلم لیگ کو ۱۷۵ کے ایوان میں ۷۹ نشستیں حا صل ہو ئیں اور یونینسٹوں کے ۱۰ ارکان تھے۔ ان میں سے بیشتر ارکان مسلم لیگ سے ملنے کے لیے تیار تھے۔ غیر مسلم ارکان بھی یونینسٹ پارٹی کو داغِ مفا رقت دے چکے تھے۔ اس طرح بھان متی کا کنبہ بکھرنے والا تھا۔ اس شکست کے بعد سرخضر حیات ٹوانہ کو وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہو جا نا چا ہیے تھا۔ وہ نہ صرف وزارتِ عظمیٰ سے چمٹے رہے بلکہ کانگرس اور اکا لی دل کے ساتھ مل کر انھوں نے نئی وزارت تشکیل دی۔ مہر کے نزدیک اس مسئلے کا حل یہ تھا:</p> <blockquote> <p>لیگ پا رٹی اصولاً وزارت بنا نے کی سب سے بڑھ کر حق دار ہے اس لیے کہ وہ اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی ہے اور اکثریت کی نما ئندہ ہے۔ باقی رہا دوسری پا رٹیوں سے گفتگو کا معا ملہ تو ہما رے نزدیک مسلما نوںکے نقطۂ نگاہ سے بہترین صورت یہ ہے کہ لیگ پا رٹی اور یو نینسٹ مسلمان مل جا ئیں اس لیے کہ اسلامی تنظیم کے اصول و مقا صد کے اعتبار سے ان میں کو ئی اختلاف نہیں۔ اس حالت میں دوسری غیر مسلم یا سیاسی پا رٹیوں سے جو گفت و شنید ہو گی اس میں مسلما نوں کے واضح مقا صد اور حیثیتِ کا رفرمائی ہر خطرے اور ہر خلا سے محفوظ رہے گی۔</p> </blockquote> <p>مسلم لیگ نے وزارت سازی کے لیے اکالی پا رٹی کے سردار اجل سنگھ اور گیا نی کرتار سنگھ سے مذاکرات کیے لیکن وہ کا میاب نہ ہو سکے۔ پنجاب کے اچھوت ارکان، عیسائی اور آزاد ارکان وزارت سازی کے لیے مسلم لیگ سے ملنے پر آمادہ تھے اور مسلم لیگ مطلوبہ اکثریت بھی حا صل کر لیتی لیکن انگریز گورنر نے مسلم لیگ کی وزارت نہ بننے دی۔ خضر حیات کو گورنر سر بر ٹرینڈ گلینسیِ <annotation lang="en">(Bertrand James Glancy)</annotation> کی آشیر باد حاصل تھی۔</p> <p>۵ مارچ ۱۹۴۶ئ کو یو نینسٹ پارٹی نے اکالی دل اور کا نگرس کے ساتھ مل کر وزارت تشکیل دی۔ مو لانا ابو الکلام آزاد کو بخوبی اندازہ تھا کہ خضر حیات ٹوانہ اور یو نینسٹ پارٹی مسلما نوں کا مسترد شدہ گروہ تھا۔ کانگرس، اکالی دل اور خضر حیات کے سا تھیوں میں صرف مسلم لیگ دشمنی کی قدر مشترک تھی۔ نہ ان کے سیاسی مقا صد ایک تھے نہ ہی ان کے اقتصادی منصو بوں میں اشتراک تھا۔</p> <p>مہر نے اس مو قع پر لکھا تھا:</p> <blockquote> <p>پنجاب میں جو وزارت بنی ہے اسے اس کا بڑے سے بڑا حامی بھی صحیح اور نما ئندہ قرار نہیں دے سکتا اس لیے کہ مسلما نوں کی ایک بڑی جما عت جس وزارت سے الگ ہو وہ کسی بھی حق دوست انسان کے نزدیک صحیح وزارت نہیں ہو سکتی۔ پنجاب میں مو جودہ دستور کے تحت اس قسم کی غیر طبعی حالت پہلی مر تبہ پیدا ہوئی ہے اور اس پر مسلما نوں میں تشویش و اضطراب یا غم و غصے کے جذبات پیدا ہو ئے ہیں تو انھیں کو ئی شخص نا واجب قرار نہیں دے سکتا۔</p> </blockquote> <p>مارچ ۱۹۴۶ئ میں قائم ہو نے والی وزارت سراسر کا نگرس اور اکالی دل کے رحم و کرم پر قائم تھی اور خضر حیات خان اور ان کے رفقا نہ صرف بے اثر ہو ئے بلکہ عملاً کا نگرس کے مر غانِ دست آموز ثابت ہو ئے۔ اس دور میں انتظا میہ کمزور ہو ئی اور قا نون شکنی عام ہو ئی۔ ہندو ؤ ں، سکھوں اور مسلمانوں نے بڑے پیما نے پر اسلحہ جمع کیا اور آئندہ فسادات کی تیا ریاں کیں۔</p> <p>جنوری ۱۹۴۷ئ خضر حکومت نے جلسے، جلوس اور سیاسی اجتما عات پر پا بندی عا ئد کی۔ پنجاب کے مسلمان جو پہلے ہی اس حکومت سے بیزار تھے، سول نا فر مانی پر اُتر آئے۔ حکومت نے مسلم لیگ نیشنل گارڈز اور راشٹریا سیوک سنگھ کو غیر قانونی قرار دیا۔ ان جما عتوں کو جنگِ عظیم دوم سے قبل کی فاشسٹ اور نازی جما عتوں سے مشا بہت دی گئی۔ مسلم لیگ نے خضر وزارت کے خلاف’’راست اقدام‘‘کیا۔ لا کھوں مسلمان مظاہروں میں شریک ہو ئے اور ہزاروں نے گر فتاریاں پیش کیں۔ آخر حکومت کے پر ان جواب دے گئے اور ۲۸ جنوری ۱۹۴۷ ئ کو مسلم لیگ نیشنل گارڈز اور راشٹریا سیوک سنگھ پر پا بندی ختم کر دی گئی اور لیگی رہنما رہا کر دیے گئے۔</p> <p>پنجاب حکومت نے جلسوں اور سیاسی اجتما عات پر پا بندی بر قرار رکھی لیکن ایک زوال آمادہ وزارت ان پا بندیوں سے معا شرے میں انتشار اور خود اپنی بر بادی کا سامان فراہم کر رہی تھی۔ ان سو ختہ سا ما نوں کو آنے والے دور کی خانہ جنگی اور صوبۂ پنجاب کی بر بادی کا کو ئی انداز ہ نہ تھا۔ سیاسی محاذ آرائی سے مسلم لیگ کی مقبو لیت میں اضافہ ہوا اور مطا لبۂ پا کستان نے شدت اختیار کرلی۔ ۲۶ فروری ۱۹۴۷ئ کو خضر حیات ٹوانہ نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد بر طا نوی گورنر نے دفعہ ۹۳ کا سہارا لے کر صوبے میں گورنر راج قائم کر دیا۔</p> <p>انقلاب نے اپریل ۱۹۲۲ئ سے ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۹ئ کے عر صے میں پنجاب میں مسلم حقوق کی با زیابی کے لیے بھر پور جہاد کیا۔ ملک اور صوبے میں ہندوؤں کے سیاسی اور معا شی اور تہذیبی غلبے کے خلاف مسلسل جدجہد کی، کیونکہ ہندوؤں کا غلبہ مسلما نوں کی سیاسی، معا شرتی اور ثقافتی تبا ہی کے ساتھ مشروط تھا۔ یہ کا وشیں بالآخر مسلما نوں کے لیے الگ وطن کے مطا لبے پر منتج ہو ئیں۔ انقلابجنوری ۱۹۳۱ئ سے حصولِ پا کستان کے لیے کو شاں تھا۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ئ کو مسلم لیگ کی قراردادِ پاکستان کی تدوین میں مہر کا دخل تھا۔ ان خدمات کے باوجود مہر کی خدمات کا نظر انداز کیا جانادر حقیقت مدیرانِ انقلاب کی کرنی کا پھل تھا۔ وہ مسلم لیگ اور یو نینسٹ کی کش مکش کے دوران یو نینسٹوں کا ساتھ دینے میں حد سے تجا وز کر گئے۔ اور بدلتے ہو ئے سیاسی موسم کے ادراک میں نا کام رہے۔</p> <p>مدیرانِ انقلاب کو بنگال اور پنجاب کی تقسیم کا بے حد دکھ تھا اور وہ اس غم کو آخر تک بھلا نہ پا ئے۔ وہ ان صو بوں کی تقسیم کا ذمہ دار مسلم لیگی قیادت کو تصور کرتے تھے حال آنکہ مسلم لیگ آخری وقت تک ان صوبوں کی تقسیم کی مخالف رہی۔ ان کی غیر منصفانہ تقسیم کی ذمہ دار بر طانوی حکومت اور کانگرسی قیادت تھی۔ دونوں قوتیں ہندوستان کی تقسیم کی مخالف تھیں۔ حا لات کے جبر کے تحت وہ بادلِ نخواستہ اس پر راضی بھی ہو ئیں تو حتی الامکان پاکستان کو نقصان پہنچا یا۔</p> <p>پاکستان بننے کے بعدانقلاباپنے حلقۂ قارئین کے بڑے حصے سے محروم ہوا۔ مدیرانِ انقلاب کا بر سوں کا جمع شدہ سر ما یہ اور جا ئیدا دیں مشرقی پنجاب میں غارت ہو ئیں۔ معا شی بنیا دیں متزلزل ہو نے کے بعد زوال آمادہ انقلابکا دوبارہ پنپنا محال تھا۔ قیام پاکستان کے بعد انقلابنے مسلم لیگی قیادت کی بد انتظامی پر کڑی نکتہ چینی کی اور متروکہ املاک کی بندر بانٹ پر انھیں آڑے ہا تھوں لیا۔ صو با ئی حکومت نے اخبار کے اشتہارات اور نیوز پرنٹ کا کو ٹہ بند کر دیا۔ انقلابکو مہنگے داموں بازار سے کاغذ خریدنا پڑا۔</p> <p>مہر نے اپنے اداریے میں صوبۂ سر حد کے وزیرِ اعظم خان عبد القیوم خاں کے آمرانہ ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی۔ حکومتِ سر حد نے صوبۂ سر حد میںانقلاب کے داخلے پر پا بندی عا ئد کر دی۔ انقلابڈھا ئی تین سال سے معا شی مشکلات میں مبتلا تھا۔ مہر اور سالک کے دو ستوں کے قرض نے اسے مالی سہارا دیا تھالیکن ڈوبتے اخبار کے لیے یہ تنکے کا سہارا تھا۔ آخر مسلسل نقصان اُٹھانے کے بعد مہر اور سالک نے ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۹ئ کو انقلاببند کر دینے کا فیصلہ کیا۔</p> </section> </body> "
"0022.xml"
"<meta> <title>اردو میں شکنتلا کی تقلیب: نمائندہ متون کا تحقیقی مطالعہ</title> <author> <name>جاوید احمد خورشید</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/6_javed_ahmed_khursheed_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>3154</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"اردو میں شکنتلا کی تقلیب: نمائندہ متون کا تحقیقی مطالعہ"
3,154
"Yes"
"<body> <section> <p>ادبی تقلیب <annotation lang="en">(Literary Adaptation)</annotation> اور ادبی تطبیق <annotation lang="en">(Literary Appropriation)</annotation> کی شعریات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کالی داس کی شکنتلا یا سکنتلا (کہانی)۳ خود ایک ادبی تقلیب کی صورت ہے۔ کیوں کہ شکنتلا کالی داس کے تخیل کی اُپج نہیں ہے۔ یہ ڈراما، رزمیہ داستان۴ مہا بھارت کے ایک قصے سے ماخوذ ہے۔ کالی داس کے اس ڈرامے کو ادبی تقلیب اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس میں تقلیب کار <annotation lang="en">(adapter)</annotation> نے ماخذ متن <annotation lang="en">(source text)</annotation> کو بطور حوالہ استعمال کرتے ہوئے صنف ِ رزمیہ سے ڈرامے کے قالب میں ڈھالا ہے۔ کالی داس کی یہ کہانی نئی اور تمام تر طبع زاد نہیں ہے۔ اس کا موادمہابھارت کی ایک ضمنی کہانی سے حاصل کیا گیا ہے۔ البتہ اس کہانی میں اس نے تھوڑا سا ردوبدل اورترمیم و اضافہ کر کے کچھ نئی ترتیب کے ساتھ اس کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اچھوتی اور طبع زاد معلوم ہوتی ہے۔۶ کالی داس نے اس کہانی کو اپنے ڈرامے کی بنیاد بنایا لیکن اس میں، جیسا کہ اس کی کہانی سے ظاہر ہے، بعض اضافے بھی کیے ہیں اور اس کو بالکل نئی شکل دے دی ہے۔ ڈرامے اور کہانی میںجو مواقع بالکل مماثلت رکھتے ہیں وہاں دونوں میں سیرت کے رنگ اور جذبات کے آہنگ کے اظہار میں نمایاں اختلاف رونما ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کی شہرت و مقبولیت میں کچھ حصہ کالی داس کے سحر و اعجاز کا بھی ہے۔ مہاکوی کالی داس نے اس سیدھی سادی کہانی میں قدرے تبدیلی کر کے اپنے ڈرامے شکنتلا کا موضوع بنایا۔ کہانی کے واقعات، پلاٹ کی ترتیب، مناظر کی پیش کش اور صورت حال کے انداز بیان میں فرق رونما ہوا ہے۔ پیش کردہ افراد کی سیرتوں میں بھی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پرراجا کا کردار ایسا ہے جس میں اسے مذہب پسند دکھایاگیا ہے، وہ سادھوئوں کا احترام کرتا ہے، اسے ان کی بات کا پاس ہے، آشرم اس کے لیے پاکیزہ اور مقدس جگہ ہے جسے ایک نظر دیکھنے ہی سے انسان کے پاپ دھلتے ہیں۔ راجا کی سیرت کا یہ پہلومرزاکاظم علی جو ان (م۔۱۸۱۶ئ) کی کہانی کے راجا میں نہیں ہے۔ چناں چہ اس کی سیرت ادھوری اور یک رخی ہو کر رہ گئی ہے۔ ماخذ متن میں تقلیب کار کی جانب سے ان تبدیلیوںسے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تقلیب کار ماخذ متن کو اپنے انداز میں پیش کرنے کاخواہش مند تھا۔ یہی وہ عنصر ہے جو تقلیب کار اور تطبیق کار میں حدِ فاصل کھینچتا ہے۔ تطبیق کار <annotation lang="en">(appropriater)</annotation> قالب کی تبدیلی کے ساتھ ماخذمتن سے ممکنہ حد تک قریب (faithful)رہتا ہے۔ تطبیق کار کی نسبت تقلیب کار ماخذ متن کی تعبیرِ نو <annotation lang="en">(re-interpret)</annotation> ہی نہیں کرتا بلکہ تخلیقِ نو <annotation lang="en">(re-create)</annotation> بھی کرتا ہے۔ عصری رائے یہ ہے:</p> <blockquote> <p>مہا کوی کالی داس نے اس سیدھی سادی کہانی میں قدرے تبدیلی کر کے اپنے ڈرامے شکنتلا کا موضوع بنا یا ہے۔ مہابھارت کی کہانی میں راجا دشنیت ایک عیش پسند راجا معلوم ہوتا ہے جو ایک بھولی بھالی لڑ کی کو اپنے دام ہوس میں پھنسا کر اس سے شادی کر لیتا ہے اور پھر اسے پہچاننے اور اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ کالی داس نے اس کہانی میں بنیادی تبدیلی یہ کی ہے کہ راجے کی بھول کو ایک بگڑے دل سادھو درواسا کی بددعا پر محمول کیا ہے۔ [قصہ یہ ہے کہ] ایک دفعہ درواسا آشرم میں سکنتلا کے پاس آتا ہے۔ سکنتلا اپنے محبوب کے دھیان میں اس قدرمگن ہوتی ہے کہ اسے کسی کے آنے اور صدا دینے کی خبر تک نہیں ہوتی۔ سادھو بگڑ کر وہاں سے چل دیتا ہے اور یہ بددعا دیتا ہے کہ جس کے خیال میں تو ایسی ڈوبی ہے کہ کسی کی سدھ نہیں، وہ بھی تجھے ایسا بھول جائے کہ یاد دلانے پر بھی نہ پہچانے۔ سکتنلا کی سکھی پریم ودا جب یہ سنتی ہے تو سادھو کے پیچھے بھاگتی ہے اسے راضی کرنا چاہتی ہے۔ پریم ودا کی منت سماجت سے وہ اس قدر کہتا ہے کہ نشانی کی انگوٹھی دیکھنے کے بعد بددعا کا اثر جاتا رہے گا۔ کالی داس نے اس واقعے اور انگوٹھی کے گم ہونے کے قصے کو شامل کر کے کہانی میں جان ڈال دی ہے اور راجا کے کردار کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ مہابھارت کی کہانی اور کالی داس کی کہانی میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ اصل کہانی میں سکنتلا بچے کی ولادت کے بعد راجا کے دربار میں پہنچتی ہے اور بچے کو ساتھ لے کر جاتی ہے لیکن کالی داس کے یہاں بچے کی ولادت بعد میںہیم کوٹ کے پہاڑ پر کشیب رشی کے آشرم میں ہوتی ہے۔ کالی داس نے ڈرامے کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مناظر کی پیش کش میںاور بھی اضافے کیے ہیں جن کی اصل منظوم کہانی میں گنجائش نہ تھی۔</p> </blockquote> <p>اٹھارویں صدی کے آخر میں جب سر ولیم جونس (۱۷۴۶ئ-۱۷۹۴ئ) نے انگریزی میںشکنتلا کا ترجمہ کیا تو یورپ میں اسے مقبولیت حاصل ہوئی جس کے بعد وہاں کی اور ہندوستان کی تمام ادبی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ انگریزی، فرانسیسی، جرمنی وغیرہ کے علاوہ فارسی اور عربی زبان میں بھی اس ڈرامے کانثری یا شعری ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو میں بھی کالی داس کی اس تخلیق کو مختلف قالبوں میں ڈھالا گیا ہے: مرزا کاظم علی جو ان نے کہانی کے قالب میں، حافظ محمد عبداللہ نے غنائیہ ناٹک کی صنف میں سید محمد تقی اور اقبال ورما سحر ہت گامی (م۔۱۹۴۲ئ) نے ۱۹۱۰ئ میںمثنوی کے قالب میں موسوم بہ رشکِ گلزار اورمثنوی سحر بالترتیب پیش کیا ہے۔ اس ڈرامے کو ناول کے قالب میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ رابندرناتھ ٹیگور (۱۸۶۱ئ-۱۹۴۱ئ) نے شکنتلا کے قصے کو بچوں کے لیے بنگالی زبان میں تحریر کیا۔ پریم چند کا بیان شکنتلا کی ناول کی صنف میں تقلیب کے تعلق سے اہم ہو سکتا ہے:</p> <blockquote> <p>لکھنے والا تخیل یا فکری قوت کی کمی کے سبب سے قدیم کہانیوں کا سہارا نہیں لیتا بلکہ نئے قصوں میں وہ ’رس‘ اور دل فریبی نہیں جو پرانے قصوں میں پائی جاتی ہے۔ ان پرانے قصوں کو ایک نئے قالب میں ہونا چاہیے۔ شکنتلا پر اگر کوئی ناول لکھا جائے تو وہ کتنا دل آویز اور دلچسپ ہوگا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔</p> </blockquote> <p>چوں کہ زیرِ نظر مطالعے کا تعلق انیسویں صدی کی تقلیبات سے ہے اس لیے صرف ان تقلیبات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا جن کا تعلق انیسویں صدی سے ہے۔ شکنتلا کو اردو سے روشناس کرانے کا سہرا مرزا کاظم علی جو ان کے سر ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر جان گل کرسٹ کی فرمائش پر ۱۸۰۱ئ میں کہانی کے قالب کو اردو کا جامہ پہنایا۔ جو ان کی لکھی ہوئی شکنتلا کا کالی داس کی شکنتلاسے مقابلہ کرنا عبث ہے۔ جو ان کی شکنتلا اصل ناٹک کے مقابلے میں محض ایک بعیدپرتو ہے البتہ قصہ سمجھنے اور اس کے مضامین پر اطلاع پانے کے لیے ایک تمہید کا کام خوب دے سکتی ہے۔</p> <p>انیسویں صدی کے وسط تک اردو میں منظوم افسانوی ڈرامے بالعموم مثنوی کے قالب میں لکھے گئے۔ منظوم ڈراموں میں بے نظیر بدرمنیر، جہاںگیر شاہ گوہر، چھل بٹاو موہنا ر انی، شکنتلا، پدماوت اورلیلیٰ مجنوں آرام کے مشہور ڈرامے ہیں۔ اسی طرح حافظ محمد عبداللہ نے شکنتلا کے متن کو اپنی قائم کردہ ”دی انڈین امپیریل تھیئٹریکل کمپنی آف انڈیا“ (۱۸۸۱ئ-۱۸۸۲ئ)۲۵کے لیے غنائیہ ناٹک کی صورت میںڈھالا۔ حافظ عبداللہ کے اس ڈرامے کا آغاز یعنی پہلا سین ’اِندر کے دربار‘ سے ہوتا ہے اس میں راجا اِندر اپنے خوف کا اظہار کرتا ہے کہ بسوا متر کوجب سے جانا ہے حال دل میں کھٹکا ہے مرادیہ کہ ہر دم خارِ ملال۔ اسی منظو م اظہار میں اِندر نے اپنے دل میں پیدا ہونے والے خدشے کے سدباب کا بھی بیان کیا ہے کہ یہ کھٹکا اور سوگ اسی صورت مٹ سکتا ہے کہ کوئی پری اس کا جوگ توڑ دے۔ جب کہ سنسکرت ڈرامے کے قدیم رواج کے مطابق اصل ڈراما ناندی یعنی حمد سے شروع ہوتا ہے۔ پھر سوتردھار (ہدایت کار)کی تمہید کے بعد پہلا انک (ایکٹ) شروع ہوتا ہے۔ اس میں راجا کو شکار کے دوران میں ہرن کا پیچھا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہاں راجا اور رتھ بان کا مکالمہ پیش ہوتا ہے۔ پھر راجا آشرم میں پہنچتا ہے اور شکنتلا اور اس کی سکھیوں سے ملتا ہے۔ اور راجا شکنتلا کے عشق میں گرفتا ر ہو جاتا ہے۔ حافظ عبداللہ کی اس منظوم تقلیب پر نہ صرف تقلیب کار کا ناصحانہ اندازِ فکر غالب ہے بلکہ متعدد جگہوں پر تقلیب کار نے ڈرامے میں موجود سنسکرت روایت کے ساتھ ساتھ وہ لفظیات اور طرزفکر پیش کیا ہے جس سے ماخذ متن اپنی سنسکرت روایت سے دور اور اسلامی روایت سے قریب ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ اس ڈرامے کی انیسویں صدی کی ایک قدیم طباعت کے آخر میںشائع کردہ ایک اشتہار میں بھی ”دی انڈین امپیریل تھیٹریکل کمپنی آف انڈیا“ نے اپنی پالیسی کا بین اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:</p> <blockquote> <verse> بشر کرتے ہیں جو کچھ نیک و بد کام دکھا دیتے ہیں ہم ہر اک کا انجام </verse> <p>اس کمپنی کے تقرر کا یہ منشا رہا ہے کہ اہلِ ہند کو افعالِ قبیحہ کے بد نتائج اور اعمالِ حسنہ کی نیک ثمری بذریعہ فن ناٹک نصیحتاً دکھلائی جائیں۔ اس کمپنی نے اکثر ایسے ہی تماشے جو عمدہ نتیجہ بخش مشہور و معروف حکایتوں سے لیے ہیں اور ان کے مضامین عربی، ہندی، انگریزی عروض کی مختلف بحروں میں بہ زبانِ فصیح اردو نظم کیے ہیں۔ یہ کمپنی ہر شب میں ایک جدید شاہانہ تماشا گوناگوں پردوں، زرق برق پوشاکوں اور عجیب و غریب شعبدوں سے عمدہ سازو سامان کے ساتھ دلکش راگ میں بہ کمال خوبی و خوش اسلوبی دکھاتی ہے۔ تماشوں کے بعد بڑی دل لگی کی ایک نقل بھی دکھائی جاتی ہے۔ اور اثناے تماشا میں فرصت کے موقع پر پیانو، میوزیکل بکس، آرگن، ہارمونیم وغیرہ کی اقسام سے کوئی باجا سناتی ہے۔ ہر ایک تماشے کے دن ا شتہارات شرائط جلسہ مع خلاصہ مضمون تماشا تقسیم کیے جاتے ہیںجن کے پیشِ نظر ہونے سے مطالب تماشا ہر شخص کی سمجھ میں بخوبی آجاتے ہیں۔ یہ کمپنی عموماً ٹکٹ پرتماشا دکھلاتی ہے مگر طلب فرمانے سے امراے نامدار کے درِ دولت پر بھی جاتی ہے۔ انگریز عمل داری ریلوے سفر میں بااستثنا میلوں کے اخراجات طلبی کمپنی بابت تیاری اسٹیج پانچ سو روپیہ اور بابت کرایہ سواری و بار برداری فی میل پانچ روپیہ اور تاریخ روانگی سے واپسی تک با استثنا تعطیل یکشنبہ جن راتوں میں تماشا نہ ہو سکے فی شب پچاس روپیہ مقرر ہے اور معمولی اجرت تماشا چار تماشوں کے لیے ایک ہزار روپیہ۔ انھیں تماشوں کے لیے ڈیڑھ ہزار روپیہ بعد فی تماشا سوروپیہ کے اور انعام و اکرام رئیس کی ہمت و قدردانی پر منحصر ہے۔</p> </blockquote> <p>مذکورہ منظو م ناٹک میں متعد د مقامات پر ایسی تراکیب، تشبیہات اور ا لفاظ استعمال کیے ہیں جس سے قاری شکنتلا کی اصل سنسکرت روایت سے دور ہوتا نظرآتا ہے۔ جن و بشر، حور وغلمان، یادِ خدا، آنکھوںکا نور، خداحافظ، مہِ کنعانی، فضلِ باری، مالک و شہِ ہر دو جہان، خالق نے حسن و خوبی کی تمام صفات اس کی ذات میں۔۔۔، ماشائ اللہ، اس جیسی متعدد لفظیات اس تقلیب کا حصہ ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تقلیب کار کے ناظرین وہ لوگ ہیں جو فارسی اور عربی الفاظ سے بھی واقفیت رکھتے ہوں گے۔ کالی داس کی شکنتلا کو منظوم ڈراموں میں پیش کرنے کی اہم وجوہات میں سے ایک شکنتلا میں کہانی کا دلچسپ انداز میں آگے بڑھنا اور اس کا اختتام طرب انگیز ہونا ہے۔</p> <p>شکنتلاکے ڈرامے کو مختلف اصناف میں پیش کرنے کا اہم محرک یہی رہا ہے کہ سنسکرت ڈراموں میں جذبات نگاری کی مکمل تصویریں نظر آتی ہیں۔ اس ڈرامے میں شاید ہی کوئی ایسا مقام ہو، جہاںڈراما کہیں پس منظر میں چلا گیا ہو اور خصوصیاتِ شاعری نمایاں ہو گئی ہوں۔ ساغر نظامی نے، جنھوں نے اختر حسین رائے پوری کے بعد اس ڈرامے کو نظم کے قالب میں سمویا، کہا ہے کہ سنسکرت ڈرامے کے سلسلے میں انھوں نے جن چار بنیادی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ یہ ہیں: (۱)زندگی کے کسی پہلو کے کسی تخیلی نقش کو پیش کرنے کے بجاے جذبات کی مصوری۔ (۲) شخصی کرداروںکے بجائے تمثیلی کرداروںکی موجودگی۔ (۳) پلاٹ اہرام <annotation lang="en">[pyramid]</annotation> کی صورت آگے بڑھتا ہے۔ اور (۴)المیہ اور طربیہ کا امتیاز مصنوعی تسلیم کیا جاتا ہے۔ سنسکرت جیسی شائستہ زبان کے ادبی حسن اور کالی داس کے مرتعش اور اچھوتے تخیل کو اردو زبان میں اس طرح سمو دینا کہ ترجمے میں اصل کا حسن جھلک اٹھے، بہت جان جوکھم کا کا م تھا۔ پارسیوں کے ان منظوم ڈراموں کے ناظرین عام طور پر عوام کے طبقات سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا شاعرانہ ذوق بھی اعلیٰ یا تربیت یافتہ نہیں ہوتا تھا اس لیے انھیں ایسے شاعرانہ اسلوب میں پیغام دیا جاتا تھا جو سمجھنے میں سہل ہو۔ یہ پہلو بھی حافظ کے منظوم ڈرامے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تقلیب میں اس پہلو کو ایک انحراف کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ کالی داس نے جس وقت اس ڈرامے کو تخلیق کیا تھا اس وقت اس کے ناظرین یقینی طور پر عوام کے طبقات نہ ہوں گے۔ تقلیب کا یہ پہلو عام طور پر ماخذ متن کو ایک نئی شکل دے دیتا ہے۔ بہت سے ماخذ متن اپنے تاریخی تناظر اور ثقافتی ماحول میں تخلیق کیے جاتے ہیں۔ اگر ان موضوعات کو کسی اجنبی ماحول میں پیش کیا جائے تو تقلیب کار کے پاس ماخذ متن سے انحراف کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوتا ہے۔ وکٹرہیوگو (۱۸۰۲ئ-۱۸۸۵ئ) کے مشہورِ زمانہ ناول لامیزرابیل کو جس انداز میں محمد عمر مہاجر (۱۹۱۷ئ-۱۹۷۷ئ) نے ریڈیو ڈرامے مجرم کون میں تقلیب کیا ہے، اس سے تقلیب کار کی ذہانت کی داد دینی پڑتی ہے کہ انھوں نے ایک ایسے متن کو جو فرانس کے ادبی، تاریخی اور سیاسی ماحول سے آگاہی کے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا تھا، ایک ایسی دنیا میں کامیابی کے ساتھ ریڈیو ڈرامے میں منقلب کیا جہاں سامعین فرانس کی ادبی، تاریخی، سیاسی اور انقلاب کی تاریخ سے قدرے کم آگاہ ہیں۔</p> <p>حافظ عبداللہ کے منظوم ناٹک میں ناصحانہ انداز ڈرامے کی پوری فضا پر غالب ہے۔ مذکورہ ڈراما نگار یا تقلیب کار اپنے ماخذ متن کو ایک خاص انداز میں پیش کرنے کا متمنی بھی ہے ؛ جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کی ڈراما کمپنی ”دی انڈین امپیریل تھیٹریکل کمپنی آف انڈیا“ کا منشا یہ ہے کہ ’۔۔۔ اہلِ ہند کو افعالِ قبیحہ کے بد نتائج اور اعمالِ حسنہ کی نیک ثمری بذریعہ فن ناٹک نصیحتاً دکھلائی جائیں۔۔۔‘ اس کے برعکس کالی داس کی شکنتلا کے بارے میں مختلف شارحین نے اس تخلیق کو سنگاررس <annotation lang="en">(erotic sentiments)</annotation> کا ناٹک کہا ہے جب کہ پنڈت ونشی دھردیالنکار (۱۹۰۰ئ۔ ؟) کا اس ڈرامے کے موضوع کے تعلق سے یہ کہنا ہے کہ یہ ڈراما المی [یا المیہ] جذبات <annotation lang="en">(pathos)</annotation> کی تمثیل ہے۔ عام طور پر تقلیب کار شعوری طور پر اپنے ماخذ متن کو جدید اور علاقائی ر جحانات کے تحت نہ صرف تبدیل کرتے ہیں بلکہ اس ماخذ متن کو ایک حوالہ <annotation lang="en">(as a reference point)</annotation> کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس کی تعبیر نو بھی کرتے ہیں، جو عام طور پر ناظرین یاقارئین میں مقبولیت کا درجہ بھی حاصل کرتی ہے۔ اردو ادب کی ایسی سینکڑوں مثنویاں ہیں جو اپنے ڈرامائی اسلوب کی با بت اپنے اندر تعبیر نو یا تخلیق نو کی وسعت رکھتی ہیں۔ ان متون کو ریڈیو ڈراموں میں پیش بھی کیا گیا ہے۔ اردو ادب کے معروف افسانہ نگار وں کی تخلیق کو نہ صرف دوسرے قالبوں میں پیش کیا گیا ہے بلکہ ان کہانیوں میں کچھ کردار اپنی وسعت کے اعتبارسے ایسے ہیں جو ناول کے لیے بھی مواد فراہم کر سکتے ہیں۔ اسد محمد خاں کی ایک معروف کہانی دربدا اپنے اندر ناول کا چولا پہننے کے امکانات رکھتی ہے۔ اسد محمد خاںنے اپنی ایک کہانی کے بارے میںلکھا ہے کہ ’۔۔۔ ادیبوں کو لکھے گئے تین خط ہیں، سال ۷۶، ۸۵ اور ۹۱ کے، اور اگست، ستمبر ۲۰۰۴ئ کی تین ای میلز ہیں جو میری ایک مجوزہ کہانی مہا مائی کا ہریاکی صورت گری کے مراحل بیان کرتی ہیں اور یہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح اس کہانی نے آخر کار ایک مجوزہ ناول کا چولا پہننا شروع کیا‘۔</p> <p>حافظ عبداللہ نے بھی دیگر تقلیب کاروں کی طرح اپنی اس منظوم تقلیب میں راجا یعنی دشنیت کے کردار کومہابھارت کے برعکس پیش کیا ہے۔ جس سے راجا کے بارے میں قاری کے ذہن میں ایک رحم دل راجا کے خیالات ابھرتے ہیں۔ مہابھارت پڑھنے سے دشنیت قصوروار معلوم ہوتا ہے۔ مہابھارت میں لکھا ہے کہ دشنیت، شکنتلا کو پہچان گیا تھا اور انجان بنا بیٹھا رہا۔ جب کہ منظوم ناٹک کے دشنیت کاکردار مختلف ہے اور وہ شکنتلا کو جس وقت وہ اس کے سامنے پیش ہوتی ہے سرے سے پہچانتا ہی نہیں۔ اوربعد میں اسے کچھ شہادتیں ملتی ہیں تو پشیمان دکھائی دیتا ہے۔</p> <p>تھامس لیچ <annotation lang="en">(Thomas Leitch)</annotation> نے اپنے ایک مضمون <annotation lang="en">”Adaptation Studies at a Crossroads“</annotation> میں رابرٹ اسٹیم <annotation lang="en">(Robert Steam)</annotation> کی تین جلدوں پر مبنی کام، جن میں سے دو کو ۲۰۰۴ئ اور ۲۰۰۵ئ میں ایلیسینڈرا رائینگو <annotation lang="en">(Alessandra Raengo)</annotation> کی معاونت میں ترتیب دیا تھا، کا ذکر کیا ہے۔ اس میں رابرٹ اسٹیم نے کم و بیش ایک عشرے پر مبنی برائن میک فرلین <annotation lang="en">(Brian McFarlane)</annotation>، ڈی بورا کارٹ میل <annotation lang="en">(Deborah Cartmell)</annotation>، امیلڈا ویلی ہین <annotation lang="en">(Imelda Whelehan)</annotation>، جیمز نیری مور <annotation lang="en">(James Naremore)</annotation> اور سارا کارڈویل <annotation lang="en">(Sarah Cardwell)</annotation> کے فلمی تقلیب اور اس کے ادبی ماخذ کے تعلق سے اولین کام کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔ مذکورہ مضمون میں ان نظریہ سازوں نے جو سوالات دراسات تقلیب <annotation lang="en">(Adaptation Studies)</annotation> کے تعلق سے اٹھائے ہیں، فلمی تقلیب کے ساتھ ساتھ تقلیب کے ان نمونوں پر بھی ان سوالات کا اطلاق ہوتا ہے، جن میں صفحے سے صضحے پر <annotation lang="en">(from page to page)</annotation> تقلیب کی گئی ہے، یعنی جس میں ماخذ اور تقلیب دونوں ادب کا نمونہ ہیں۔ ان اساسی سوالات کو یہاں ر قم کیا جاتا ہے: کیا تقلیب نے اپنے ادبی ماخذ سے انحراف (depart)کیا ہے؟ کیا تقلیب خود اپنے ماخذ متن کی تعبیرِ نو <annotation lang="en">(re-interpret)</annotation> کرنے کی کوشش کرتی ہے؟ کیا تقلیب کسی نئے تاریخی تناظر کی بابت اپنے ماخذسے انحراف کی مرتکب ہوئی ہے؟اگر کوئی متن اپنے اصل ادبی ماخذسے ہٹ گیا ہے تو کیا وہ ماخذ جو تقلیب کی بابت پس منظر میں چلا گیا ہے اپنے دلچسپ ہونے کی بابت عمیق مطالعے کا مستحق ہے؟ کیا کسی تقلیب کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنے ماخذ کی تخلیقِ نو <annotation lang="en">(re-create)</annotation> کر سکتی ہے؟کیا تقلیب اور اس کا ماخذ اپنے اپنے ثقافتی اور تاریخی تناظر سے مشروط ہوتا ہے؟ تقلیب میں ہو بہو مشابہت <annotation lang="en">(fidelity)</annotation> کے تعلق سے وہ کو ن سے سوالات ہیں جو ادبی متون کے علاوہ دیگر متون کی تقلیب کے دوران قابلِ ذکر ہیں؟ وہ تقلیبات کس نوعیت کی ہیں جن کا تعلق خالص ادبی کاموں سے نہیں ہوتا ہے اور وہ کس طرح دراسات ِ تقلیب کے نظریہ سازوں کی تنگ نظری کو ظاہر کرتی ہیں جو اپنے لیے واحد معیار ادب یا فکشن کو بناتے ہیں؟ اپنی متنی حکمتِ عملی کی بابت تقلیبات کے وہ نمونے کس معیار کے ہیں جو اپنے اصل ماخذ کے بجائے معروف ماخذ پرمبنی ہیں؟ بحیثیت ایک فن پار ہ جب تقلیب اپنے بارے میں کچھ سوالات اٹھاتی ہے تو ان سوالات کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے؟ تقلیب میں وہ کون سے مظاہر ہیں جو عام طور پربین المتونیت کے تعلق سے سوالات اٹھاتے ہیں؟ تقلیب کے وہ کون سے نظریات ہیں جو عالمی تبدیلی کے تعلق سے قومی اور ثقافتی شناخت کے باوجود اپنی حد پار کر جاتے ہیں؟تقلیب کے ان نمونوں کو کس طرح تبدیل کیا جاسکتا ہے جو تقلیب سازوں کے لیے ہمیشہ سے پسندیدہ رہے ہیں؟ مثال کے طور پر ناول کوعام طور پر فلم کے لیے تقلیب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اردوادب کے کلاسیکی دور میں مثنویوں کوبطور ماخذ متن داستان، کہانی اور ڈرامے کی صنف میںتقلیب کیا گیا ہے۔</p> <p> تقلیب کے تعلق سے جہاں ان مذکورہ سوالات کی اہمیت ہے وہاں لنڈا ہچن <annotation lang="en">(Linda Hutcheon)</annotation> کی کتاب <annotation lang="en">A Theory of Adaptation</annotation> (۲۰۰۶ئ) میں کسی تقلیب کا تجزیہ کرنے کا جو استفہامیہ اسلوب واضح کیا ہے وہ اہمیت کا حامل ہے: کیا <annotation lang="en">(what)</annotation>؟ (ہیئت)، کون <annotation lang="en">(who)</annotation>؟ کیوں <annotation lang="en">(why)</annotation>؟ (تقلیب کار)، کیسے <annotation lang="en">(how)</annotation>؟(قارئین، ناظرین یا سامعین)، کہاں <annotation lang="en">(where)</annotation>؟ کب <annotation lang="en">(when)</annotation>؟(تناظر)۔</p> <p>اس استفہامیے میںہر پہلو تقلیب کو سمجھنے میں معاون و مدد گار ہے۔ کالی داس نے اپنی تخلیق شکنتلا کو ڈرامے یا ناٹک۳۷ کی صنف میں پیش کیا ہے لیکن مرزا کاظم علی جو ان نے نہ صرف انیسویں صدی کے بالکل آغاز میں کالی داس کی اس تخلیق کو داستان کے قالب میں منتقل کیا بلکہ ان تمام لوازم کو بھی اختیار کیا جو کسی تحریر کو داستان بناتے ہیں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے شکنتلا کے جس متن کو مرتب کیا ہے اسے بارہ مختصر حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ دوسرے حصے کے آغاز میں مرزا کاظم علی جو ان اپنی اس کوشش کو خودداستان کہتے ہیں۔ رقم کرتے ہیں کہ ’اب آگے داستان کا یوں بیان ہے کہ۔۔۔‘ اس انداز سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مرزا کاظم علی جو ان کے سامنے بھی شکنتلا ناٹک کو داستان کی صنف میں منقلب کرنا تھا۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ لنڈا ہچن کے سوال ’کیا‘ کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرزا کاظم علی جو ان نے اس ناٹک کو داستان کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کاظم علی جو ان نے اپنے ماخذ متن میں جو تبدیلیاں یا اضافے کیے ہیں اس کی اہم وجوہات میں سے ایک وجہ داستان کا پیر ایہ اظہار بھی ہے۔ جو ان کی کہانی کا راجا اردو داستانوں کے روایتی ہیر و جیسے خصائل کا مالک نظر آتا ہے۔ جب راجا نے شکنتلا کو پہلی بار دیکھا تو وہ ایسا محوِ دیدار ہوا کہ بے خود ہو کر خاک پر گرا اور اپنے تن بدن کی کچھ خبر نہ رہی۔ ڈرامے کا راجا جب بھونرے کوشکنتلا کے گرد منڈلاتے دیکھتا ہے توبڑے لطیف جذبات کا اظہار کرتا ہے جب کہ کہانی کا راجا بھونرے کو ہوس ناک نظروں سے دیکھتا ہے اور رشک و رقابت میں جلا جاتا ہے۔ راجا کی محبت کا عامیانہ انداز اردو داستانوں کاخاصہ رہا ہے۔ رعایا پروری ڈرامے کے راجا کی بڑی خصوصیت ہے۔ راجا کے یہ خصائل جو ان کی کہانی میں نہیں ہیں۔ اس کہانی میں راجا کو شروع سے آخر تک محبت میں دیوانہ اورشکنتلا کے حسن کا پروانہ دکھایا ہے۔ اس کہانی میں راجا کے علاوہ شکنتلا کا کردار بھی کسی قدر بدلا ہوا ہے لیکن یہاں سیرت کا فرق راجا کی نسبت کم ہے۔ اس کہانی کو پیش کرتے ہوئے ہر تخلیق کار کا مذاق تقلیب میں کہیں نہ کہیں راہ پا گیا ہے۔ اس کی وجوہات میں جہاں اس کہانی کی اثر انگیزی ہے وہاں اس کہانی کے اساسی نسخوں میں بھی فرق پا یا جاتا ہے۔ عام طور پر شکنتلا کے دو نسخوں کا ذکر ملتا ہے۔ ایک تو شمالی ہند کا نسخہ ہے جسے عام طور پر بنگالی نسخہ کہا جاتا ہے اور جس کا ترجمہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں ولسن (۱۷۸۶ئ-۱۸۶۰ئ)نے کیا تھا۔ یہی وہ نسخہ تھا جو گوئٹے (۱۷۴۹ئ-۱۸۳۲ئ) کی نظر سے گذرا۔ دوسرا نسخہ جنوبی ہند کا ہے جو اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ اس ڈرامے کا قصہ رامائن کے قصے سے قریبی مشابہت رکھتا ہے۔ ان دونوں نسخوں کا تقابلی مطالعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ شمالی ہند کے نسخے میںڈرامے کا تیسرا ایکٹ طویل تر ہے اور اس میںدشنیت اور شکنتلا کی دوسری ملاقات کے سلسلے میں دشنیت اور شکنتلا کے وصل کا مقام اور وقت بتا کے ایک طرح سے ڈرامے کی نفیس تر خصوصیت ضبط و تحمل کو کھودیا ہے۔ جنوبی ہند کے نسخے میں یہ جاننیکے بعد کہ راجا کو بھی شکنتلا سے محبت ہے شکنتلا کو سہیلیاں (انسویا) اسے صرف خط لکھنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ راجہ جو جھاڑیوں کی اوٹ میں سے ان کی باتیں سن رہا ہوتا ہے سامنے آ جاتا ہے اور سہیلیاں وہاں سے چلی جاتی ہیں۔ راجا اور شکنتلا کی گفتگو شروع ہوتی ہے کہ گوتمی کی آواز کی بھنک پا کر شکنتلا گھبرائی ہوئی چلی جاتی ہے۔ اور پھر ان کی ملاقات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لیکن بنگالی نسخے میں راجا کی گندھروا بیاہ کی تجویز اور شکنتلا کی شرائط (اس کے لڑکے کا وارث تخت و تاج اور شکنتلا کا راج رانی ہونا) کی تفصیلات کا ذکر ہے۔ جنوبی ہند کے نسخے میں شکنتلا سرِ دربار راجا سے بحث بھی نہیں کرتی بلکہ راجا کے انکار کے ساتھ ہی اس کی ماں منیکااسے وہاں سے لے جاتی ہے۔ رامائن سے ماخوذ قصو ں کی نوعیت عام طور پر مذہبی ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب فلمیں بنائی جاتی تھیں تو مذہبی موضوعات کو بھی ترجیح دی جاتی تھی۔ اس دور میں فلمیںپراسرار موضوعات پر بھی بنائی جاتی تھیں۔ اسی طرح ’ستی ساوتری‘، ’شکنتلا‘، ’تارامنی‘، ’عرب کا چاند‘ کے عنوان سے فلمیں بنائی جاتی تھیں۔ ان فلموںمیںعورت کے کردارکوایک مثالی عورت کے روپ میںپیش کیاجاتاتھا۔</p> <p>لنڈا ہچن کے قائم کردہ سوالات میں ’کون‘ اور ’کیوں‘ بھی شامل ہیں۔ جس سے مرادیہ ہے کہ تقلیب کار کون ہے اور اس کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے۔ کسی تقلیب کو سمجھنے کے لیے تقلیب کار کی افتادِ طبع اور طبعی میلانات کا معلوم ہونا بھی ناگزیر ہے۔ مرزا کاظم علی جو ان، دلی کے رہنے والے تھے۔ نواب علی ابراہیم خان خلیل (م۔۱۷۹۳ئ) نے گلزارِ ابراہیم میں، بینی نرائن جہاںنے دیوانِ جہاں میں، اور کریم الدین نے طبقات شعرائے ہند میں ان کا ذکراختصار کے ساتھ کیا ہے اور ان کے کچھ اشعار بھی ان مذکورہ تذکروں میں درج ہیں۔ نثر نگار کی نسبت شاعر جب کسی ماخذ کو منقلب کرتا ہے تو اپنے متن سے نہ صرف دانستہ انحراف کرتا ہے بلکہ اپنے ماخذ کی تخلیق نو کو بھی اپنے لیے وجہ افتخار تصور کرتا ہے۔ محمد حسن عسکری (۱۹۲۱ئ-۱۹۷۸ئ) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ”ایذراپائونڈ کی تقلید کرتے ہوئے میں اچھا ترجمہ اس کو سمجھتا ہوں جس میںچاہے کتاب [ماخذ متن] کی اصل روح برقرار نہ رہے لیکن وہ کچھ نہ کچھ بن ضرور جائے۔ سرشار (۱۸۴۶ئ-۱۹۰۳ئ) نے بھی بالکل ایسا ہی کیا ہے۔“ سرشار جیسے ناول نگار نے ڈان کوٹکزٹکا ترجمہ کیا۔ سروالٹیر (۱۷۷۱ئ-۱۸۳۲ئ) کے طفیل اردو میں کم از کم دو ناول وجود میں آئے۔ ایک توفسانہ آزاد اور دوسراحاجی بغلول۔ سرشار کی تخلیق اور ان کے ترجمے میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خدائی فوج دار ترجمے کے لحاظ سے کیسا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ سرشار نے ترجمہ کیا ہی نہیں۔ بلکہ اصل کہانی کو دیسی لباس پہنایا ہے۔ اس میں انھیں کھینچ تان بھی کرنی پڑی ہے اور ٹھونس ٹھانس بھی۔ ترجمے کی بدولت ہمیں ایسا تخلیقی جذبہ نہیں ملتا جیسا کہ سرشار کو مل گیا تھا۔ اس تعلق سے سوال ’کون‘ اہم ہے یعنی تقلیب کار کون ہے؟ وہ کس ادبی روایت کا حامل ہے؟ اس ادبی روایت میں تراجم یاماخذ متن کو دوسری اصناف میں ڈھالنے کے کیا معیارات ہیں؟ اس تعلق سے دیکھا جائے تو فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج میں جن کاموں کو آج تراجم کہا جاتا ہے وہ اصل میں دراساتِ تقلیب کے ذیل میں آتے ہیں۔ اور ان متون کو ازسرِ نو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ان تراجم میں سے بیشتر ایسے ہیں جس میں ماخذ متن سے انحراف کیا گیا ہے۔ ماخذ متن کی تشکیلِ نو یا تخلیقِ نو کی گئی ہے۔ تقلیب کار نے اپنی ادبی روایات اور اریخی تناظر کو ہی اہم تصو ر نہیں کیا بلکہ اپنے قارئین کے مذاق کو بھی اہم جانا ہے۔ جو ان کا شکنتلا میں اندازِ تحریر سلیس و رنگین و لکش ہے۔ شاعر بھی تھے اور انھوں نے کہیں کہیں شعر بھی لکھے ہیں۔ انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھیں نثر لکھنے کی پہلے سے مشق نہ تھی۔ مگر اہل زبان تھے۔ ان کی نثر مستند محاوروں اور روزمرہ سے مالا مال ہے۔ داستان سرائی میں عرصے سے مقفٰی عبارتوں کا رواج تھا۔ باوجود سادہ زبان لکھنے کے یہ تکلف جو ان نے بھی اختیار کیا ہے۔</p> <p>ایک اور سوال ’کیسے‘ کے ذیل میں جو پہلو آتا ہے وہ تقلیب کار کے قارئین ہیں۔ جن کے لیے تقلیب کار ماخذ متن کو پیش کرتا ہے۔ قارئین کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے کیوں کہ دراساتِ تقلیب میں قارئین، سامعین یا ناظرین کو اس لیے اساسی اہمیت حاصل ہے کہ قارئین کے مزاج یا مذاق میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو تبدیلیاں صنعت و حرفت کے باعث رونما ہوئی ہیں جس کے باعث قدیم موضوعات یا کلاسیکی متون کومقامی لباس میں نہ صرف پیش کیا جاتا ہے بلکہ اس کے لیے مقبول ذرائع <annotation lang="en">(media)</annotation> بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مرزا کاظم علی جو ان کی اس تقلیب کے تعلق سے آج یہ کہا جاسکتا ہے کہ کالی داس کے شکنتلا ناٹک کے بارے میں، کرنیل اسکاٹ کی جانب سے مرزا کاظم علی جو ان کو جو ہدایت ملی اس کے محرکات ادبی ہونے سے زیادہ سیاسی تھے۔ کرنیل اسکاٹ چاہتے تھے کہ انگریز نوواردان ہند کو وہاں کے کلاسیکی ادب سے متعارف کرایا جائے بلکہ ایسی سلیس زبان کا بھی بیج بویا جائے جس سے اردو اپنے روایتی انداز سے بھی دور ہو جائے۔ کرنیل اسکاٹ، جو لکھنؤ کے بڑے صاحب تھے، انھوں نے حسب الطلب گورنر بہادر دام ملکہ کے، ۱۸۰۰ئ میں کتنے ہی شاعروں کو سرکار عالی کے ملازموں میں سرفراز فرماکر اشرف البلاد کلکتہ کو روانہ کیا۔ مرزا کاظم علی جو ان ’دیباچہ مولف‘ لکھتے ہیں کہ انھی میں احقر بھی یہاں وارد ہوا۔ اور موافقِ حکم حضور خدمت میں مدرس مدرسہ ہندی کے جو صاحب والا گلکرسٹ (۱۷۵۹ئ-۱۸۴۱ئ) صاحب بہادر دام اقبال میں اندوز ہوا۔ دوسرے ہی دن انھوں نے نہایت مہربانی و الطاف سے ارشاد فرمایا کہ شکنتلا ناٹک کا ترجمہ اپنی زبان کے موافق کر اور للو جی لال کو حکم کیا کہ بلاناغہ لکھا یا کرے۔ اردو نثر کی کتابیں نووارد انگریزوں کے نصاب کے لیے لکھوائی گئی تھیں۔ اسی لیے شکنتلا کا پہلا ایڈیشن رومن حروف میں ۱۸۰۴ئ میں شائع کیا گیا تھا۔ اس دور میں اردو زبان میں سلیس نثر کے ادب پارے بہت کم تھے۔ زیادہ تر شاعر اور ادیب نثر بھی مقفٰی اور مسجع لکھا کرتے تھے۔ ایسے قارئین جو اردو زبان وبیان پر معمولی شد بد رکھتے ہوں، ان کو کسی ادب پارے سے متعارف کرانے کے لیے ایک شاعر کا انتخاب بھی اس پہلو پر دال ہے کہ اس وقت نثر لکھنے والے کم تھے۔ مرزا کاظم علی جو ان خود لکھتے ہیں کہ ”سوا نظم کے نثر کی مشق نہ تھی۔۔۔“ حال آنکہ فورٹ ولیم کالج کے قائم ہونے کے بعد یہاں بھی علم و ادب کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ اس وقت کے بہت سے لکھنے والے یہاں جمع تھے۔ میرامن (م۔۱۸۰۹ئ)، میرشیرعلی افسوس (۱۷۴۶ئ-۱۸۰۹ئ)، میر بہادر علی حسینی، سید حیدر بخش حیدری (۱۷۶۰ئ-۱۸۲۳ئ)، مظہر علی خاں ولا (م۔۱۸۰۴ئ)، مرزاجاں طپش (۱۷۶۸ئ-۱۸۱۷ئ)، مرزا علی لطف (۱۷۶۲ئ-۱۸۲۲ئ)، مولوی امانت اللہ، مولوی اکرام علی (۱۷۸۲ئ-۱۸۳۸ئ)، حفیظ الدین احمد، بینی نرائن جہاں، للو جی لال (۱۷۶۲ئ-۱۸۲۵ئ) اور نہال چند لاہوری کے نام اہم ہیں۔ اس تقلیب میں زبان و بیان کے تعلق سے ایسے متعدد مقامات ہیں جس میں مرزا کاظم علی جو ان کے شاعر ہونے کے باعث متن دقیق ہو گیا ہے۔ بہت سی شاعرانہ تلمیحات، تراکیب، تشبیہات اپنی فارسی اور اردو روایات کے باعث سنسکرت کی اس تخلیق سے لگا نہیں کھاتیں، جس کے باعث بین المتونیت کا پہلو در آیا ہے۔ کیوں کہ ماخذ متن اورجوان کی اس تقلیب میں دو مختلف تاریخی تناظر ات کو دیکھا جاسکتا ہے۔</p> </section> </body> "
"0023.xml"
"<meta> <title>اُردو کا پہلا نثری رسالہ اور اس کا مصنف</title> <author> <name>محمد علی اثر</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/3_m_ali_asar_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>3178</num-words> <contains-non-urdu-languages>No</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"اُردو کا پہلا نثری رسالہ اور اس کا مصنف"
3,178
"No"
"<body> <section> <p>اُردو زبان وادب کی تاریخ میں یہ مسئلہ ایک طویل عرصے سے زیر بحث رہا ہے کہ اُردو کے پہلے نثری رسالے اور اُس کے مصنف کا نام کیا ہے؟ جس طرح اردو شاعری کے فروغ وارتقا اور سرپرستی کے سلسلے میں عادل شاہی اور قطب شاہی حکمرانوں کو امتیازی حیثیت حاصل ہے بالکل اُسی طرح قدیم اردو نثر کی ترویج واشاعت میں سلاطینِ دکن سے زیادہ روحانی تاج داروں اور مذہبی پیشوائوں کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ نیز دبستانِ گولکنڈہ کے مقابلے میں دبستانِ بیجاپور کے صوفیاے عظام اور خصوصاََ خانوادۂ میراں جی شمس العشاق کے مذہبی رہنمائوں کو سبقت اور فضیلت حاصل ہے۔ ان بندگانِ خدانے سرزمین ِبیجاپور میںکم وبیش تین صدیوں تک، مختلف صوفیانہ افکار، شرعی احکام اور مذہبی مسائل کے موضوع پر دکنی نثر میں، متعدد رسائل اور کتابیں تصنیف کر کے یہاں کے عوام وخواص کے دلوں پر حکمرانی کی۔</p> <p>اُردو میں نثری رسائل اور کتابوں کی باقاعدہ تصنیف وتالیف سے قبل مختلف اہل اللہ اور مذہبی مبلغین کے ملفوظات میں بار پانے والے اردو فقرے اور جملے درحقیقت اردو نثر کی خشتِ اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ہی مختصر اقوال اور جملوں کی بنیادپر مستقبل میں اردو نثری تصانیف کی عمارت استوار کی گئی۔ ڈاکٹر گیان چند نے اپنی مؤلفہ شراکتی تاریخ ادب اردو ۱۷۰۰ئ تکمیں ـ ”اردو نثر ۱۶۰۰ئ تک“ کے عنوان سے اردو نثر کے اولین نمونوں کی نشاندہی کی ہے۔ اور چوبیس اولیاے کرام اور صوفیوں کے ملفوظات سے متعدد اقوال اور فقرے نقل کیے ہیں۔</p> <p>پروفیسر حامد حسن قادری کا خیال ہے کہ سید اشرف جہا نگیر سمنانی (م۔۸۰۰ئ) کا ایک رسالۂ تصوف اردو کی پہلی نثری کتاب ہے۔</p> <p>حضرت اشرف ایک صوفی بزرگ تھے۔ انھوں نے ۲۳ سال کی عمر میں سمنان کی بادشاہت کو خیر باد کہہ کر درویشی اختیار کرلی تھی۔ ہندوستان میں آپ نے کچھو چھہ (اودھ) کے مقام پر سکونت اختیار کی۔ اور یہاں کے علماے دین اور روحانی پیشوائوں سے ظاہری علوم اور باطنی فیوض وبرکات حاصل کیں۔ حامد حسن قادری نے اپنی کتاب داستان تاریخ اردو میں اپنے اس دعوے کی دلیل میر نذرعلی درد کاکوروی کے ایک مقالے ”اردو اور شمالی ہند“ پر قائم کی، جولاہور کے رسالے یاد گار میں شائع ہواتھا۔ میرنذر علی نے لکھا ہے کہ اشرف جہانگیر کا مذکورہ رسالہ انھوں نے اورنگ آباد میں آستانۂ شاہ قادر اولیا کے ایک خدمت گزار محبوب علی شاہ کے یہاں دیکھا تھا، جس کا انھوں نے صرف دوسطری اقتباس پیش کیا ہے۔ اس اقتباس کی زبان قدیم معلوم نہیں ہوتی اور اب یہ کتاب ناپید ہے۔ اردو کی اولین تصنیف ہونے کے سلسلے میں اس رسالے کے بابت پیش کیے گئے سارے دلائل بھی ضعیف ہیں۔ باباے اردو نے اس رسالے کے اصلی ہونے میں بھی شک وشبہے کا اظہار کیا ہے۔ لہٰذایہ رسالہ اردو نثر کی پہلی تصنیف نہیں ہو سکتا۔</p> <p>حکیم شمس اللہ قادری نے شیخ عین الدین گنج العلم (۷۰۶ تا ۷۹۹ھ) کو اردو کا پہلا نثر نگار قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت نے دکنی میں کئی چھوٹے بڑے رسالے لکھے تھے، جو ایک جلد میں فورٹ جارج کالج کے کتب خانے میں موجود تھے۔ جملۂ دکنی میںچالیس اوراق پر مشتمل اس مخطوطے میں تین رسالے تحریر کیے گئے تھے، جن میں فرائض وسُنن کے مطابق احکام ومسائل قلمبند کیے گئے تھے۔</p> <p>شیخ عین الدین دہلی کے متوطن تھے۔ روحانی علوم کی تکمیل کے سلسلے میں گجرات اور دولت آباد کا سفر کیا۔ اور پھر ۷۷۳ھ میں بیجاپور میں مقیم ہوگئے۔ شمس اللہ قادری کا محولہ بالا بیان اس لیے نا قابل قبول ہے کہ موصوف نے گنج العلم کی تحریر کا کوئی نمونہ پیش کیا ہے اور نہ ان رسائل کے سنہ تصنیف کی واضح طور پر نشان دہی کی۔ اب ان رسائل کا وجود بھی نہیں۔ بقول ڈاکٹررفیعہ سلطانہ، حکیم صاحب نے انھیںیہ بات بتائی کہ یہ رسائل ۷۲۵ھ کی تحریر ہیں۔</p> <p>مولوی عبدالحق نے خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ سے منسوب رسالے معراج العاشقین کو حضرت کی تصنیف مان کراسے پہلی بار ۱۹۲۴ئ میں اپنے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا تھا۔ باباے اردو کے بعد اس کتاب کو گوپی چندنارنگ اور خلیق انجم نے بھی مرتب وشائع کیا۔ یہ کتاب ایک عرصے تک ہندوستان بھر کی مختلف جامعات میں شامل ِنصاب رہی۔ ۱۹۶۸ئ میں جامعہ عثمانیہ کے مشہور محقق اور نقاد ڈاکٹر حفیظ قتیل نے معراج العاشقین اور اس کا مصنف کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی جس میں ڈاکٹر قتیل نے معراج العاشقین کے خواجہ صاحب سے انتساب کی مدلل طور پر تغلیط کرتے ہوئے اس کتاب کو حضرت مخدوم شاہ حسینی بیجاپوری کے نثری رسالے تلاوت الوجودکی نامکمل تلخیص قرار دیا۔ معراج العاشقین کے علاوہ اردو ادب کی تواریخ میں خواجہ صاحب سے منسوب اور بھی نثری رسالوں کے نام ملتے ہیں۔ جیسے شکار نامہ، سہ بارہ، دُرالاسرار، ہدایت نامہ، تشریح کلمۂ طیبہ، تلاوت المعراج، تمثیل نامہ، ہشت مسائل وغیرہ۔ ان میں سے اول الذکر رسالے شکار نامہ کو ڈاکٹر ثمینہ شوکت اور ڈاکٹر مبارزالدین رفعت نے خواجہ صاحب کی تصنیف مان کر ۱۹۶۲ئ میں علاحدہ علاحدہ طور پر شائع کیا۔ بقول ڈاکٹر گیان چند شکارنامہ اب تک چار بار چھپ چکا ہے۔</p> <p>معراج العاشقین کی طرح خواجہ صاحب سے منسوب یہ دوسرا اہم اور مقبول نثری رسالہ تھا۔ جس کے متعلق زور صاحب نے لکھا تھا کہ ”معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسالہ (شکار نامہ) بندہ نواز نے اردو میں نہیں لکھا؛ بلکہ ان کے مرید یا معتقد نے قلمبند کیا“۔</p> <p>ڈاکٹر حسینی شاہد نے اس رسالے کی اندرونی شہادتوں کی مدد سے خواجہ صاحب سے اس کے انتساب کو غلط قراردیتے ہوئے لکھا ہے: ”شکار نامہ کا بندہ نواز سے انتساب معراج العاشقین کے انتساب سے زیادہ کم زور ہے“۔ شاہد صاحب کے خیال میں فارسی شکار نامے کے مترجم بندہ نواز نہیں بلکہ شاہ معظم ہیں۔</p> <p>جہاں تک بندہ نواز سے منسوب دیگر تمام رسائل کا تعلق ہے۔ حضرت کے مرید سید محمد علی سامانی نے اپنی تصنیف سیر محمدی میں خواجہ صاحب کی فارسی اور عربی چھتیس تصانیف کی فہرست دی ہے۔ جن میںسے کوئی بھی کتاب دکنی اردو میں نہیں۔ نیز بندہ نواز کے پوتے سید ید اللہ حسینی کی روایت سے بدالعزیز بن شیخ ملک نے تاریخ حبیبی وتذکرۂ مرشدی تصنیف کی تھی، جس میں موصوف نے حضرت گیسودرازؒ کی سوانح حیات تحریر کی ہے۔ اس میں بھی حضرت کی کسی دکنی تصنیف کا ذکر نہیں ملتا۔ اگر ہم خواجہ بندہ نواز ؒسے منسوب سارے نثری رسائل کونظر انداز کر دیں تو بھی بحیثیت شاعرآپ کے مقام و مرتبے سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ بحیثیت دکنی اردو کے اولین شاعر خواجہ صاحب کی ادبی شخصیت کل بھی مسلّم تھی اور آج بھی ناقابل تردید ہے۔</p> <p>حکیم شمس اللہ قادری اور چنددوسرے ادبی مورخین نے بیجاپور کے اولین صوفی شاعر حضرت شمس العشاق کو بھی قدیم دکنی کے اولین نثرنگار اور شاعر قرار دیا ہے۔ چناں چہ حکیم صاحب نے حضرت میراں جی کے دونثری رسالے جلترنگاور گل باس کا تذکرہ ان کی مختلف صوفیانہ اور عارفانہ نظموں کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے علاوہ شرح مرغوب القلوب، سب رس اورسبع صفات نامی رسائل کو بھی شمس العشاق سے منسوب کیا ہے۔ لیکن جدید تحقیق کے بموجب اولین دو رسائل ناپید ہیں اور آخر الذکرکتاب بھی شمس العشاق کی تصنیف نہیں۔</p> <p>جدید تحقیق کی روشنی میں حضرت میراں جی شمس العشاق کے فرزند اکبر اور خلیفہ شاہ برہان الدین جانم دکنی اردو کے سب سے پہلے اور مستند نثر نگار ہیں۔ حضرت کے رسالے کلمۃ الحقائق کو اردو کی سب سے پہلی نثری تصنیف کاشرف حاصل ہے۔ آپ کا سلسلہ رُشدوہدایت دکن کے مشہور صوفی اور بلندپا یہ عالم حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ؒسے ملتا ہے۔</p> <p>جہاں تک جانمؔ کی دیگر نثری تصانیف کا تعلق ہے، اس موضوع پر اظہار کرنے والوں میں، محمد اکبر الدین صدیقی، ڈاکٹررفیعہ سلطانہ، ڈاکٹر نذیر احمد، ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر گیان چند کے نام قابل ذکر ہیں۔ محمد اکبر الدین صدیقی نے جانمؔ کے نثری رسالے کلمۃ الحقائق کو ۱۹۶۱ئ میں مرتب کر کے شائع کیا تھا۔ اس کتاب کے مقدمے میں انھوں نے جانمؔ کی دیگر تصانیف کی نشان دہی نہیںکی۔ البتہ ۱۹۷۱ئ میں جب انھوں نے جانمؔ کی ایک اور منظوم تصنیف ارشاد نامہ شائع کی تو اس میں جانمؔ کے درجِ ذیل نثری رسائل کے نام لکھے ہیں:</p> <list> <li>مقصودابتدائی</li> <li>کلمتہ الاسرار</li> <li>ذکر جلی (نثری ارشاد نامہ)</li> <li>معرفت القلوب</li> <li>ہشت مسائل</li> <li>کلمۃ الحقائق</li> </list> <p>کلمۃ الحقائق کو ڈاکٹررفیعہ سلطانہ نے بھی ۱۹۶۱ئ ہی میں شائع کیا، جس کے مقدمے میں انھوں نے اکبر الدین صدیقی کی دی ہوئی فہرست کے مقابلے میں ایک نثری رسالے رسالۂ تصوفکا اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر نذیر احمد نے اپنے مقالے ”اردو ادب عادل شاہی دور میں“ مشمولہ علی گڑھ تاریخ ادب اردو جلد اول (۱۹۶۲ئ) میں شاہ برہان کے پانچ نثری رسائل کی نشاندہی کی ہے، جن میں کلمۃ الاسرار شامل نہیں۔ البتہ ایک اور نثری رسالے مجموعۃ الاشیا کا نام شامل ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے تاریخ ادب اردو کی پہلی جلد(۱۹۷۵ئ) میں حضرت جانمؔ کے صرف دونثری رسائل کلمتہ الحقائق اور رسالہ وجودیہکا تذکرہ کیا ہے۔</p> <p>ڈاکٹر گیان چند نے تاریخ ادب اردو ۱۷۰۰ئ تک کی دوسری جلد (۱۹۹۸ئ) میں حضرت جانمؔ سے منسوب مذکورہ بالا تمام نثری رسائل کا تحقیقی جائزہ لیتے ہوئے کلمۃ الحقائق کو بالیقین سوفیصدی جانمؔ کی تصنیف مانا ہے۔ ان کے خیال میں ارشادنامہ نثر (ذکر جلی)، مقصود ابتدائی اور مجموعۃ الاشیاکو جانمؔ کی تصانیف تسلیم کرنے میں ٹھوس دلائل موجود ہیں اور کلمۃ الاسرار ’رسالہ وجودیہ‘ ہشت مسائل اورر سالۂ تصوف بالیقین جانم کے رسائل نہیں ہیں۔</p> <p>کلمۃ الحقائق: اس رسالے کے درج ذیل تمہیدی جملوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسے جانمؔ کے کسی مرید یاعقیدت مند نے خاص اہتمام سے مرتب کر دیا تھا۔</p> <blockquote> <p>ایں کتاب کلمتہ الحقائق گفتار حضرت شاہ برہان صاحب قدس سرۂ العزیز تصنیف کردہ است۔</p> <p>ہذا کتاب قطب الاقطاب حضرت شاہ برہان العارفین قدس اللہ سرۂ العزیز تصنیف کردہ اند۔</p> </blockquote> <p>کلمۃ الحقائق میں تصوف وعرفان کے دقیق مسائل سیدھی سادی زبان اور عام فہم الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاََ خدا کی ذات وصفات، ابتداوانتہا، تقدیر وتدبیر، فناو بقا اور دوسرے متصوفانہ مسائل پر سوال وجواب کی شکل میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ برہان الدین جانمؔ نے اس میں جگہ جگہ آیاتِ قرآنی اور احادیث بھی نقل کی ہیں اور مطالب کی تشریح کے سلسلے میں مشہور صوفیہ، مولانا رومی اور ابوبکر شبلی کے اقوال بھی درج کیے ہیںاورکہیں کہیں سنسکرت اورہندی الفاظ بھی استعمال کیے ہیں اور ہندو فلسفے کی اصطلاحوں کو اسلامی فلسفے سے ملانے کی کوشش بھی کی ہے۔ مرید سوال پوچھتا ہے اور مرشداس کا جواب دیتے ہیں۔ دکنی اور فارسی جملوں کا امتزاج سوال اور جواب دونوں میں نظر آتا ہے۔ مصنف دکنی عبارت لکھتے لکھتے فارسی جملے تحریر کرنے لگتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے دکنی کے مقابلے میں فارسی زبان پر زیادہ عبور حاصل ہے۔ اس لیے کہیں ایک جملہ اردو میں ہو تاہے تو اس کے آگے کی عبارت فارسی میں۔ کہیں جملے کی ابتدافارسی سے ہوتی ہے اور اختتام اردو میں جیسے</p> <blockquote> <verse> در منزل ملکوت حال کیوں دسے گا ایں نام بر ہریک صفت تعلق دھرتا ہے </verse> <p>اسی طرح کہیں جملے کا آغاز دکنی میں ہوتا ہے اور اختتام فارسی میں </p> <p>ان کے سیوک میں رنگ لال پیدا شدوہاں کا مراقبہ و مشاہدہ چیستاس دل کی بزرگی کے را نہایت نہ رسد</p> </blockquote> <p>کلمۃ الحقائق کو دکنی نثر کی تاریخ میں کئی امتیازات حاصل ہیں۔ اس کا اوّلین وصف یہ ہے کہ یہ دکنی نثر کا سب سے پہلا اور ایک ایسا مستند رسالہ ہے، جس کے مصنف کے بارے میں اشتباہ کی گنجائش نہیں۔ جدید تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معراج العاشقینخواجہ بندہ نوازؒ کی تصنیف نہیں بلکہ بارھویں صدی ہجری کے ایک اور صوفی بزرگ مخدوم شاہ حسینی بیجاپوری کی تلاوت الوجودکا خلاصہ ہے۔ دوسرے یہ کہ خواجہ بندہ نوازؒ سے امین الدین اعلیٰ(۸۰۱ھ-۱۰۸۶ھ) تک جتنے نثری رسائل تصنیف کیے گئے ہیں ان میں کلمۃ الحقائق سب سے ضخیم ہے۔ محمد اکبر الدین صدیقی کا مرتبہ متن کراون سائز کے ۸۲ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ تیسرے یہ کہ قدیم دکنی کے دیگر رسائل کے مقابلے میںکلمۃ الحقائق کے تمام نسخوں میں کوئی ایسا اہم اختلاف نظر نہیں آتا جس سے اس کے متن کی صوری ومعنوی حیثیت میں کوئی تغیر وتبدل وقوع پذیر ہو۔</p> <p>کلمتہ الحقائق کو محمد اکبر الدین صدیقی اور ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ نے جولائی ۱۹۶۱ئ میں بالترتیب ادارۂ ادبیات اردو اور مجلس تحقیقات اردو حیدرآباد کی جانب سے شائع کیا۔ صدیقی صاحب کی مرتبہ کلمۃ الحقائق کو رفیعہ سلطانہ کی کتاب سے صرف دودن کا تقدم حاصل ہے۔ دونوں مرتبین کے پیش نظر اس رسالے کے چار چار قلمی نسخے رہے ہیں۔ جن میں کتب خانۂ جامعہ عثمانیہ اور ادارۂ ادبیات اردو کے نسخے مشترک ہیں۔ ڈاکٹر حسینی شاہد نے اس رسالے کے مزید چار نسخوں کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھا ہے:</p> <blockquote> <p>دونوں متن رواروی میں مرتب ہوئے ہیں اور ان میں متنی تنقید کے بنیادی اصولوں کی پابندی نہیں کی گئی ہے۔</p> </blockquote> <p>کلمۃ الحقائق کے سنہ تصنیف کے بارے میں برہان الدین جانم نے کوئی اشارہ نہیں کیا۔ تاہم اس کے مطالعہ سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ یہ ارشادنامہ (۹۹۰ھ) کے بعد کی تصنیف ہے کیوں کہ اس میں جگہ جگہ ارشادنامہ کے اشعار نقل کیے گئے ہیں اور متعدد اشعار کونثر کر کے لکھا گیا ہے۔ جو مسائل اور موضوعات ارشادنامہ میں جس اندازمیں نظم کیے گئے ہیں انھیں کلمۃ الحقائق میں اسی انداز میں منثور کر کے پیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طورپرکلمۃ الحقائق کی ابتداہی میں یہ عبارت ملتی ہے۔</p> <blockquote> <p>اللہ کرے سوہوے کہ قادر توانا توے کہ اوقدیم القدیم اس قدیمی کا بھی کرنہار سہج سہج سو تیر اٹھاروسہج توج تھے بار۔ جدہاں کچھ نہ تھا بھی تمہیں دوجا شریک کوئی نہیں۔ ایسا حال سمجھنا خدا تھے خدا کو ں(کوے) جس پر کرم خدا کا ہوے۔ سبب یوزبان گجری نام ایں کتاب کلمۃ الحقائق خلاصہ بیان۔</p> </blockquote> <p>یہ عبارت دراصل مثنوی ارشاد نامہ کے درج ذیل اشعار کا دوایک لفظوں کی تبدیلی کے بعد نثری روپ ہے۔</p> <blockquote> <verse> پہلے اس پر لیاوے ایمان اللہ کرے سو ہوے جان قدیم القدیم آچھے وو بعداز رچنا رچے وو قدیم جدید ہے اس تھے سب ایسا قدرت کیرا رب سہج سہج سو اس کا ٹھار سہج ہوا ہے اس تھے بار جد کچھ نہ تھا، تھا وو ہی شریک نا اس دوجا کوئی ایسا حال جے سمجے کوے جس پر کرم خدا کا ہوے یہ سب گجری کیا بیان کریہ آئینہ دین نمان کلمہ حق سب کیا بیاں دیکھ خلاصہ ہوے عیاں </verse> </blockquote> <p>کلمۃ الحقائق چوں کہ اردو نثر کا اولین رسالہ ہے اور اس کے مصنف کے سامنے دکنی نثر کا کوئی نمونہ نہیں ہے اس لیے جگہ جگہ وہ اس کی عبارت کو منظوم ارشاد نامہ کی مدد سے آگے بڑھاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ نثر کے درمیان باربار موزوں فقرے بھی آجاتے ہیں۔ جیسے</p> <blockquote> <verse> اس جان پنے کوں مرگ نہیں تو یہ سکت کیا تیری ہے </verse> </blockquote> <p>دکنی اور فارسی نظم ونثر کے امتزاج، قرانی آیات واحادیث، اقوال، دوہے اور اشعار کی شمولیت ونیز سنسکرت کے ادق الفاظ اور ہندو فلسفے کی اصطلاحوں کے استعمال کی وجہ سے کلمۃ الحقائق کی زبان گنجلک اور عسیر الفہم ہے۔ لیکن جانمؔ نے بعض مقامات پر عبارت میں زور پیدا کرنے کے لیے مقفٰی جملے بھی تحریر کیے ہیں، جو بہت ہی خوب صورت اور خوش آہنگ ہیں۔ بقول اکبر الدین صدیقی مصری کی ڈلیاں معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے:</p> <blockquote> <p>نہ آکار، نہ نرنکار، نہ جلال نہ جمال، نہ شوق نہ ذوق، نہ رنج نہ گنج، نہ جان نہ انجان، ولیکن جسے خدا لوڑے اسے راہ دیوے آفتاب تھے پڑے آگ یوں قدرت تھے عالم اٹھے جاگ جے کچھ ہمارے دل آوتا سواسی کا قدیم بھاوتا جہاں تھے سماد روپ سب میں وہی سروپ</p> </blockquote> <p>جہاں تک جانمؔ کی زبان کا تعلق ہے ‘انھوں نے اپنی زبان کو گجری کہا ہے:</p> <blockquote> <verse> سبب یوزبان گجری نام ایں کتاب کلمتہ الحقائق یہ سب گجری کیا بیان کریہ آئینہ دیا نمان </verse> <p>(ارشادنامہ)</p> </blockquote> <p>چوں کہ جانمؔ نے گجری کا لفظ زبان کے معنی میں استعمال کیا ہے جس سے بعض محققین نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ جانمؔ یا ان کے خاندان کا تعلق گجرات سے رہا ہے اور اسی نسبت سے انھوں نے اپنی زبان کو گجری کہا ہے۔ چناں چہ پروفیسر محمود شیرانی کہتے ہیں:</p> <blockquote> <p>وہ تمام دکنی علمائ جو اپنی زبان کو گجری کہتے تھے درحقیقت گجرات ہی کے باشندے یا ان کے اولاد میں تھے، جنھوں نے دکن میں آکر بودو باش اختیار کی۔</p> </blockquote> <p>مولوی عبدالحق، نجیب اشرف ندوی اور بعض دوسرے علمائ بھی پروفیسر شیرانی کے ہم خیال معلوم ہوتے ہیں لیکن جانمؔ نے اپنی زبان کو ”گجری کے علاوہ“ ہندی بھی کہا ہے</p> <blockquote> <verse> یہ سب بولوں ہندی بول پر تو انبھو سیتی کھول عیب نہ راکھیں ہندی بول معنی تو چمک دیکھیں کھول ہندی بولوں کیا بکھان جے گرپرساد تھا منجھ گیان </verse> <p>(ارشادنامہ)</p> </blockquote> <p>جانمؔ اگر گجرات سے اپنے اجداد کے تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے اپنی زبان کو ”گجری“ کہتے ہیں تو پھر زبان ہی کے معنی میں ”ہندی“ کالفظ استعمال نہیں کرتے۔ گجری کا لفظ دراصل قدیم اردو کے مختلف ناموں جیسے ہندوی، ہندوستانی، زبان ہندوستان، ہندی، دہلوی، دکنی میں سے ایک ہے۔۱۷ اس کا گجرات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر زور کا یہ بیان کافی اہمیت رکھتا ہے کہ:</p> <blockquote> <p>اس عہد کی تواریخ دکن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گجرات سے بہت سے ادیب اور عالم بیجاپور آیا کرتے تھے۔ وہاں کی سلطنت کے زوال پر ابراہیم عادل شاہ نے وہاں کے تمام ادیبوں کو اپنے دربار میں بلایا۔ چناں چہ گجرات کے ان پناہ گزینوں نے دکن میں اردو کا ادبی ذوق بڑھانے میں حصہ لیا اور غالباََ یہی وجہ ہے کہ بیجاپور کے بعض اردو مصنفین جیسے شاہ برہان اپنی زبان کو گجری کہتے ہیں۔</p> </blockquote> <p>جانمؔ نے اپنی زبان کو گجری اس لیے بھی کہا ہوگا کہ ان کے والد شمس العشاق اور دوسرے قدیم مصنفین کے ہاں زبان کے لیے ”دکنی“ کی اصطلاح عام نہیں ہوئی تھی۔ بقول پروفیسر مسعود حسین خاں:</p> <blockquote> <p>اردو زبان کا دکنی نام بہت زیادہ قدیم نہیں عہد بہمنی کے کسی مصنف نے اپنی زبان کو دکنی کے نام سے نہیں پکارا۔ اس کے ہندی‘ہندوی اور گجری نام زیادہ قدیم ہیں۔</p> </blockquote> <p>لسانی خصوصیات: جانمؔ کے کم وبیش سبھی نقادوں نے ان کی تصانیف کا لسانی جائزہ بھی لیا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر یہاں چند لسانی خصوصیات پر روشنی ڈالی جاتی ہے:</p> <list> <li>دکنی کی عام لسانی خصوصیت حرفِ تخصیص ”چ“ یا ”چہ“ کا بکثرت استعمال جانمؔ کے یہاں بھی موجود ہے۔ جیسے تو نچ(توہی) وھیچ (وہی) ایکچچ(ایک ہی)۔</li> <li>لفظوں کی جمع ”اں“ کے اضافے سے بنائی جاتی ہے جیسے: لوگاں، باتاں، کاماں، بندیاں (بندے کی جمع) بعضیاں (بعضے کی جمع)وغیرہ۔</li> <li>”پنا“ کے لاحقے سے اسم مصدر کی مثالیں بھی بکثرت نظر آتی ہیں جیسے: جیوپنا، خداپنا، بندہ پنا، میں پنا، جان پنا وغیرہ۔</li> <li>اسم فاعل کے لیے ہارا اور ہار کے لاحقے کا بکثرت استعمال جیسے: سرجنہارا، سرجنہار، بھوگنہارا، بھوگنہار، دیکھنہارا، بوجھنہارا وغیرہ۔</li> <li>ماضی مطلق بنانے کے لیے علامت مصدر ”نا“ حذف کر کے ”یا“ کا اضافہ جیسے: کریا(کرنا) دیکھیا (دیکھنا) اٹھیا (اٹھنا)۔</li> <li>ہندی الفاظ اور جملوں کوواوِ عطف سے جوڑنا جیسے: پھل وپھول وکانٹا</li> <li>واو عطف والے الفاظ میں عموماََ پہلے حرف پر ”بے“ یا ”لا“ کا اضافہ کیا جاتا ہے لیکن جانم نے دونوں لفظوں پر اس کا اضافہ کیا ہے۔ جیسے: بے چوں وبے چگونہ، لاشک ولاشبہ۔</li> <li>ایک حرف ربط کی جگہ دوسرے کا استعمال: جیسے: جامۂ پاکیزہ کرکر سکالینا بھی میلا کرنا (پھر کے بجائے بھی)۔</li> </list> </section> </body> "
"0024.xml"
"<meta> <title>قرار اللغات: امیر اللغات کا تکملہ؟</title> <author> <name>رؤف پاریکھ</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/5_rauf_parekh_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>4061</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"قرار اللغات: امیر اللغات کا تکملہ؟"
4,061
"Yes"
"<body> <section> <p>زیر نظر مقالے میں ہم اردوکا ایک غیر معروف اور کم یاب لغت قرار اللغات کا تعارف پیش کریں گے اور اس کی اہمیت اور قدر وقیمت کا اندازہ لگانے کے علاوہ مؤلف کے اس دعوے کو بھی پرکھنے کی کوشش کریں گے جس میں اس نے کہا ہے کہقرار اللغات امیر مینائیکے معروف لغت امیر اللغاتکی تکمیل ہے۔</p> <heading>تعارف</heading> <p>قرار اللغات ایک اردو بہ اردو لغت ہے۔ اس کا پورا نام قرار اللغات یعنی اردو محاوراتہے اور اس کے مؤلف سید تصدق حسین شاہجہاں پوری المتخلص بہ قرارؔ ہیں۔ قرار اللغات ایک کم یاب لغت ہے اور کم ہی لوگ اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کا ذکرلغات اور لغت نویسی کے موضوع پر کیے گئے تحقیقی و تنقیدی کاموں میں بھی نہیں ملتا۔ صرف ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری اور لیلیٰ عبدی خجستہ نے اس کا ذکر کیا ہے (لیکن خجستہ صاحبہ کے اس مقالے کا ذکر ذرا آگے آئے گا)۔ قرار اللغات کا ایک مطبوعہ نسخہ اردو لغت بورڈ(کراچی) کے کتب خانے میں موجود ہے اور راقم کو اسے وہیں دیکھنے کا موقع ملا۔ نسخہ یوں تو اچھی حالت میںہے لیکن لوح اور طباعتی تفصیلات پر مبنی اس کے ابتدائی چند صفحات ناپید ہیںچناںچہ اس مطبوعہ نسخے سے سالِ اشاعت اور ناشر کی تفصیلات کا علم نہیں ہوتا۔ البتہ بورڈ کے کارکنان نے حوالے کی سہولت کے لیے اس پرسالِ طباعت۱۹۱۹ئ لکھ رکھا ہے۔ ابو سلمان صاحب نے اس کا سالِ اشاعت نہیں دیا لیکن اس کے ناشر کا نام ”گلشنِ ابراہیم، لکھنؤ“ درج کیا ہے۔ انھوں نے لغت کا پورا نام قرار اللغات یعنی اردو محاورات دیا ہے۔</p> <p>لغت کے آخر میں دو اعلانات ہیں جو بعض اہم معلومات دیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ قرار شاہجہاں پوری یعنی اس لغت کے مؤلف معروف شاعر منشی امیر احمد مینائی کے شاگرد تھے۔ نیز یہ کہ قرار کے والد کا نام سید اصغر حسین شاہ چشتی تھا اور کتاب کی اشاعت کے زمانے میں قرار شاہ جہاں پور سے لکھنؤ آئے ہوئے تھے۔ ان اعلانات میں سے پہلاگویا ایک اشتہار ہے جو ”اردو کی مستند کتابیں“ کے عنوان سے ہے جس میںخواجہ عبدالرئوف عشرت لکھنوی کی کتابوں کی فہرست ہے اور المشتہر کے تحت ”خواجہ عبدالرئوف عشرت احاطہ خانساماں، لکھنؤ“ درج ہے۔</p> <p>دوسرا اعلان قرار اللغات کے عقبی سرِوَرَق پرہے جس میں ”اطلاع“ کی سرخی کے تحت یہ عبارت دی گئی ہے:</p> <blockquote> <p>میں نے اس کتاب قرار اللغات کا حق تصنیف کسی کو نہیں دیا ہیکوئی صاحب بغیر میری باضابطہ اجازت کے چھاپنے یاچھپوانے کا قصد نکریں [نہ کریں] ورنہ نفع کے عوض نقصان اٹھانا ہوگا اور حسب ضابطہ ہرجہ و نقصان کے دیندار ہوں گے۔</p> <p>العبد و [ا] لمشتہر: سید تصدق حسین قرار ولد سید اصغر حسین شاہ چشتی، ساکن شاہجہانپور وارد حال لکھنؤ، تلمیذ حضرت امیر مینائی لکھنوی</p> </blockquote> <p>کتاب کی ابتدا میں ”گزارش“ کے عنوان سے ایک صفحے میں مؤلف نے بتایا ہے کہ کوئی تیس (۳۰) سال قبل ان کے استاد امیر مینائی نے نواب کلب علی خان والیِ رام پور کی فرمائش پر اردو محاورات کی جانب توجہ مبذول کی تھی لیکن ان کا یہ لغت جس کا نام امیراللغات تھا نامکمل رہا۔ بقولِ مؤلف امیر کے جانشینوں میں سے حافظ جلیل حسن جلیل [مانک پوری] اور پھر حکیم محمد ضمیر حسن خان دل شاہ جہاں پوری سے امیدیں تھیں کہ وہ امیر کے اس کام کو تکمیل تک پہنچا کر ملک پر احسان کریں گے لیکن انھوں نے ”امیر اللغات کو تمام کرنے کی ہمت نہ کی“۔ اس کے بعد مؤلف نے، بقول خود ان کے، اپنی ”ناقابلیت اور عدم واقفیت“ کے باوجود اس کام کو ”جوں توں تکمیل تک پہنچایا“۔ لیکن مؤلف کے دل میں یہ خیال تھا کہ ”امیر اللغات کے طرز پر لکھنا تو ٹیڑھی کھیر“ ہے اس لیے ”اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانا چاہیے“۔ پھر اپنے استاد امیر مینائی کا یہ شعر درج کیا ہے:</p> <blockquote> <verse> نگاہِ مست ساقی نے دکھا کر کہا لو پھول کی جا پنکھڑی ہے </verse> </blockquote> <p>اس کے بعد بتایا ہے کہ ”اس لغت کا دیگر لغات سے کچھ انداز ہی نرالا ہے“ اور اس کی وضاحت یوں کی ہے کہ اس میں مرکب اور مفرد محاورات کی تفصیل الگ الگ تحریر کی گئی ہے، ”تمامی محاورات“ کے ہر معنی کے ثبوت میں اساتذہ کے اشعار لکھے گئے ہیں اور آخرمیں مثلیں اور کہاوتیں بھی درج کی گئی ہیں۔</p> <p>اس کے بعد تین صفحات میں ان شعرا کے نام دیے ہیں ”جن کا کلام محاورات کے ثبوت میںتحریر کیا“۔ ان میں کچھ نام یہ ہیں: امیرؔ مینائی، میر انیسؔ، آتشؔ، انشائؔ، جرأتؔ، جانؔ صاحب، جلیلؔ مانک پوری، حالیؔ، داغؔ، ذوقؔ، رندؔ، رشکؔ، ریاضؔ خیر آبادی، سوداؔ، شیفتہؔ، غالبؔ، قلقؔ، خود مؤلف یعنی قرار، پنڈت دیا شنکر نسیمؔ، میرتقی میرؔ، میر حسنؔ، مومنؔ، منیرؔ شکوہ آبادی، ناسخؔ، نوحؔ ناروی وغیرہ۔</p> <p>مولف کا امیر اللغات کے بارے میں یہ لکھنا کہ ”تخمیناً تیس سال کا زمانہ ہوا“ نواب کلب علی خاں نے امیر مینائی کی توجہ لغت کی تالیف کی جانب مبذول کرائی تھی، قرار اللغات کے سالِ تا لیف کے بارے میں ہماری رہنمائی کر سکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ الفرڈ لائل نے نواب کلب علی خاں سے اردو کے ایک جامع لغت کی فرمائش ۱۸۸۴ئ میں کی تھی اورنواب نے امیر مینائی کو لغت کی تیاری کا حکم دیا۔ ۱۸۸۴ئ میں تیس سال جمع کیے جائیں تو گویاقرار اللغات کی تالیف ۱۹۱۴ئ کے لگ بھگ ہوئی۔ لہٰذا سال ۱۹۱۹ئ میں طباعت و اشاعت قرینِ قیاس ہے۔</p> <p>قرار اللغات کا غالباً ایک ہی ایڈیشن شائع ہوا۔ کم از کم ہماری معلومات کی حد تک اس کا دوسرا ایڈیشن نہیں چھپا۔ اس ایڈیشن کے کُل تین سو سولہ (۳۱۶) صفحات ہیں۔ یہ ایڈیشن پانچ انچ ضرب آٹھ انچ کے مسطر پر چھپا ہے۔ ہر صفحے پر دو کالم ہیں اور ہر کالم ڈھائی ڈھائی انچ چوڑا اور آٹھ آٹھ انچ لمبا ہے۔ ہر کالم میں تیئیس (۲۳)سطریں ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، صفحہ ایک پر ”گزارش“ اور اگلے تین صفحات پر شعرا کے نام ہیں۔ پانچویں صفحے پر، جہاں سے لغت شروع ہوتا ہے، ”مرکب محاورات جو فصیح ہونے کی وجہ سے عموماً نظم میں استعمال کیے جاتے ہیں“ کا عنوان قائم کیا گیا ہے۔ اس پہلے صفحے(یعنی صفحہ ۵ پر) پر پہلا اندراج ”آب آب کرنا“ کا ہے۔ معنی دیے ہیں: ”شرمندہ کرنا“۔ اس کے بعد جلیل ؔکا یہ شعر سند میں دیا ہے:</p> <blockquote> <verse> چھلک چھلک کے ترے جامِ مے نے اے ساقی ستم کیا مری توبہ کو آب آب کیا </verse> </blockquote> <p>اس ابتدائی عنوان کے تحت مندرج محاورات (الف تا ی) صفحہ دو سو انہتر (۲۶۹)تک چلے گئے ہیں اور اس حصے میں آخری اندراج ”یوہیں ہونا“ [یونہی ہونا] کا ہے(ص۲۶۹) اور اس کے معنی دیے ہیں ”اسی طرح ہونا“ اور سند میں امیرؔ کا یہ شعر ہے:</p> <blockquote> <verse> شیخ جی یونہی جو مے پینے کی عادت ہوگی ایک دن رہن یہ دستارِ فضیلت ہوگی </verse> </blockquote> <p>صفحہ دوسو ستر(۲۷۰) سے دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جس کا عنوان ہے: ”تفصیلِ اسمائِ فصیح جو عموماً نظم میں استعمال ہوتے ہیں“۔ اس صفحے پر ”الف“ کے تحت پہلااندراج ”آستین کا سانپ“ کا ہے اور یہ معنی درج ہیں: ”خفیہ دشمن“۔ اس کے بعد بطور سند بحرؔ کا یہ شعر دیا ہے:</p> <blockquote> <verse> چلو بلا سے اگر ہے یہ آستیں کا سانپ بغل میں پال کے میں کیا کروں گِلا دل کا </verse> </blockquote> <p>یہ حصہ صفحہ دوسوبیاسی (۲۸۲) پر اختتام پذیر ہوتا ہے جس پر آخری اندراج ”یارِ غار“ کا ہے۔ معنی یوں لکھے ہیں: ”دلی دوست، سچا غم خوار“۔ سند میں دو شعر ہیں۔ پہلے صفدرؔکا یہ شعر دیا ہے:</p> <blockquote> <verse> محشر پہ کیوں رہے یہیں ہو جائے امتحاں سنتا ہوں غیر ان کا بڑا یارِ غار ہے </verse> </blockquote> <p>پھر شاد ؔکا یہ شعر درج کیا ہے: </p> <blockquote> <verse> اے شادؔ مرگئے پہ کسی نے دیا نہ ساتھ جو حد کا یارِ غار ہوا گور تک گیا </verse> </blockquote> <p>صفحہ دوسو تراسی (۲۸۳) سے تیسرا حصہ شروع ہوتا ہے جس کا عنوان ہے: ”مثلیں اور کہاوتیںجو عموماً نثر میں مثالاً بولی جاتی ہیں اور بعض جگہ نظم میں بھی استعمال کی جاتی ہیں“۔ اس میں پہلا اندراج ”آپ ڈوبے جگ ڈوبا“ کا ہے اور یہ معنی دیے ہیں: ”جب ہمیِں نہ ہوں گے تو کسی سے کیا غرض“۔ یہ حصہ صفحہ تین سو دس (۳۱۰) تک جاتا ہے جس پر آخری اندراج ”یہ منھ اور مسور کی دال“ کا ہے جس کے معنی یوںدیے ہیں: ”تم اس کام کے لائق نہیں ہو“۔</p> <p>چوتھااور آخری حصہ (یا یوں کہہ لیجیے کہ تیسرے یا کہاوتوں کے حصے کا ایک ذیلی باب )صفحہ تین سو گیارہ (۳۱۱) سے شروع ہوکرلغت کے آخری صفحے یعنی صفحہ تین سو سولہ (۳۱۶) تک جاتا ہے۔ اس حصے کا عنوان ہے ”فارسی کے جملے جو مثلوں کی جگہ استعمال کیے جاتے ہیں“۔ صفحہ ۳۱۱پرپہلا اندراج ”آب آمد تیمم برخاست“ کا ہے اور اس کے یہ معنی درج ہیں: ”بڑوں کے آگے چھوٹوں کی نہیں چلتی“۔ اس حصے کا آخری اندراج، جو لغت کا بھی آخری اندراج ہے، ”یک نہ شد دو شد“ کا ہے اور معنی لکھے ہیں: ”ایک بلا تھی دوسری اور نازل ہوئی“ (ص۳۱۶)۔</p> <heading>اندراجات کی نوعیت اور قدر وقیمت</heading> <p>اس تعارف کے بعد ہم قرار اللغات کے اندراجات پر ایک نظر ڈالتے ہیںکہ ان کی نوعیت اورمعیار کیا ہے؟</p> <p>اگر قرار اللغات کے اندراجات کی تعداد کو دیکھا جائے تو اتنی کم ضخامت کے لغت میں اندراجات کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی توقع کی بھی نہیں جاسکتی تھی نیز چھوٹی تقطیع(جیسا کہ سطورِ بالا میں عرض کیا گیا، پانچ ضرب آٹھ انچ)کی اس لغت میں ایک کالم میں اوسطاً سات یا آٹھ اندراجات ہیں جو فی صفحہ اوسطاًپندرہ بنتے ہیں اور اس کے صفحات کی تعدادکے پیش نظر اس کے اندراجات کی کُل تعداد ہمارے محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ ہو گی۔ اس میں مفرد الفاظ کو بطور ”بنیادی مفرداندراج“ (جس کو انگریزی لغت نویسی کی اصطلاح میں <annotation lang="en">headword</annotation> کہا جاتا ہے) بہت کم لیا گیا اور نوے فی صد بلکہ اس سے بھی زیادہ اندراجات مرکبات اور محاورات کے ہیں۔ اس کے اس حصے میں جسے ”تفصیلِاسماے فصیح“ کا نام دیا گیا ہے اور جو بمشکل تیرہ چودہ صفحات پر مبنی ہے، زیادہ تر مفرد الفاظ درج ہیں لیکن درمیان میں کہیں کہیں مرکبات و محاورات بھی موجود ہیں۔ مفرد الفاظ کے بھی مجازی یا مرادی معنوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قراراللغات بنیادی طور پر محاورات کا لغت ہے اور مؤلف کا منشا محاورات یا مجازی و مرادی استعمال کے معنی کی وضاحت ہے (جیسا کہ ابو سلمان صاحب کے بیان کردہ لغت کے مکمل نام سے بھی ظاہر ہے مولف نے اردو محاورات کا لغت ترتیب دیا ہے)۔ لیکن کہیں کہیں مفرد الفاظ کے لغوی معنی دے دیے گئے ہیں اور مرادی معنی چھوڑدیے ہیں، مثلاً لفظ ”حراف“ کے لغوی معنی ”تیز، چالاک“ درج ہیں (ص۲۷۵) لیکن اس کے مجازی معنی (یعنی معشوق) نہیں لکھے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مؤلف ایک اصول قائم کرتے اور اس لغت کو یا تو صرف مرکبات تک محدود رکھتے اور اگر مفرد الفاظ درج کرنے ہی تھے تو ان کے وضعی یا لغوی معنی کے ساتھ مرادی یا مجازی معنی بھی ساتھ میں دے دیتے۔</p> <p>معنی میں زیادہ وضاحت اور تفصیل سے کام نہیں لیا گیا ہے اور بالعموم وہ معنی ہی دیے گئے ہیںجو مجازاً یا مراداً یا کنایتہً آتے ہیں۔ لیکن اس میںبھی نہایت اختصار اور کفایت سے کام لیا گیا ہے لہٰذا اکثر مقامات پر تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ مثلاً لفظ ”اُلّو“ کے صرف ایک معنی ”بے وقوف“ دیے ہیں جو مرادی معنی ہیں (ص۲۷۰)، لغوی معنی نہیں دیے۔ جبکہ امیر مینائی کا لغت، جس کی تکمیل کا مؤلف نے ارادہ ظاہر کیا ہے، میں الّو کے دونوں معنی یعنی لغوی اور مجازی باقاعدہ الگ الگ شقوں میں دیے گئے ہیں۔ امیر نے ایسے مواقع پر مختلف معنی کی شقوں کو نمبر دیے ہیں۔ امیر اللغات کی تیسری جلد میں ان نمبروں کا بطور خاص اہتمام ہے۔ جبکہ قرار اللغات کے مولف نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ بلکہ اگر کہیں ایک سے زیادہ مجازی معنی دیے بھی ہیں تو انھیں ایک ساتھ لکھ دیا ہے مثلاً ”دم دینا“ کے معنی ”فریب کرنا، جان دینا، محبت کرنا“ کسی شق کی نشان دہی کے بغیر ایک ساتھ لکھ دیے ہیںاورمعنی کے بعد تین اسناد بھی ایک ساتھ لکھ دی ہیں (ص۱۳۸)۔ غنیمت یہ ہے کہ یہ تین اسناد اسی ترتیب سے درج ہیں جس ترتیب سے معنی لکھے ہیں یعنی پہلے درج کیا گیاداغ کا شعر</p> <blockquote> <verse> وعدہ کرنے کو وہ تیار تھے سچے دل سے میں نے کم بخت یہ جانا مجھے دم دیتے ہیں </verse> </blockquote> <p>پہلے معنی (فریب کرنا )کی سند میں ہے، دوسرا شعر بھی داغ کا ہے جو یہ ہے:</p> <blockquote> <verse> مجھ سے وہ کہتے ہیں پروانے کو دیکھا تو نے دیکھ یوں جلتے ہیں اس طرح سے دم دیتے ہیں </verse> </blockquote> <p>یہ دوسرے معنی (جان دینا) کی سند ہے۔ تیسرا شعر انیس کا ہے جو تیسرے معنی (محبت کرنا) کی سند میں ہے، یہ ہے:</p> <blockquote> <verse> دم دیتے ہیں وہ اس پہ، جو ہیں صاحبِ ایمان اس بینیٔ نازک پہ، ان آنکھوں پہ کرو دھیان </verse> </blockquote> <p>گویا یہ ترتیب درست ہے لیکن اصولاً معنی شق واردینے چاہئیں اورسند معنی کے فوراً بعد آنی چاہیے۔</p> <p>قرار اللغات کے بعض اندراج معنی کے لحاظ سے بہت تشنہ معلوم ہوتے ہیں۔ نیز جب مؤلف نے لغوی یا حقیقی معنی کی بجاے مرادی یا مجازی معنی پر زور دیا ہے تو اسے تمام مجازی معنی شق وار بیان کرنے چاہئیں تھے، مثلاً ”یارِ غار“ کے معنی میں ”دلی دوست، سچا غم خوار“ لکھا ہے (ص۲۸۲) لیکن اس کے ایک اور مرادی معنی یعنی ”حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ“ نہیں دیے۔ اسی طرح یارِغار کے ایک اور مجازی یا مرادی معنی ”اصحابِ کہف“ بھی ہیں اور یہ فرہنگِ آصفیہ میں بھی درج ہیں۔</p> <p>بعض مقامات پر اندراجات کی تسوید میں ترتیبِ حروفِ تہجی کاخیال نہیں کیا، مثال کے طور پر ”جھوٹے منھ نہ پوچھنا“ کے بعد ”جھوٹی سچی اوڑانا [اُڑانا] کا اندراج ہے جبکہ ترتیب میں ”جھوٹی“ سے شروع ہونے والے مرکبات کا اندراج ”جھوٹے“ سے شروع ہونے والے اندراجات سے پہلے ہوناچاہیے کیونکہ ”جھوٹی“ میں یاے معروف ہے جو لغت میں ترتیب کے لحاظ سے پہلے آنی چاہیے۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ یاے معروف اور مجہول کے فرق کوبعض قدیم لغات کے تتبع میں اس لغت میں نظر انداز کیا گیا ہے تو پھر بھی بات نہیں بنتی کیونکہ اگلا اندراج ”جھوٹے کو حد تک پہونچانا [پہنچانا]“ کا ہے اور اس میں پھر یاے معروف کی بجاے مجہول ہے (ص۱۰۲)۔</p> <p>مندرجہ بالا مثالوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مؤلف کا املا اپنے دور کے لحاظ سے بھی خاصے قدیم انداز کا ہے جبکہ اس معاملے میں امیرؔ بہت محتاط تھے اور ان کا املا ان کے دور کی حد تک جدید ہے۔ بلکہ امیرؔ نے املا اور صحتِ زبان کا خاص خیال رکھا ہے اور کہیں کہیں ترجیح کی وضاحت بھی کی ہے۔ قرار کا ”اڑتی“ کو ”اوڑتی“ اور “بے راہ قدم اٹھنا“ کو “بیراہ قدم اوٹھنا“ لکھنا اس کے املا کے اصولوں سے بے نیازی کے ثبوت ہیں۔ مؤلف کے املا کا یہ عالم ہے (گو اسے کاتب کے کھاتے میں بھی ڈالا جاسکتا ہے) کہ وہ اردو املا کے اس مسلمہ اصول کہ مصدر میں آنے والی نون کی مشدد آواز کو تشدید سے ظاہر نہیں کیا جاتا بلکہ اس حرف (یعنی نون )کو دو بار لکھا جاتا ہے (جیسے بننا، گننا، تننا، جننا، سننا وغیرہ) کو کہیں کہیںنظر انداز کر دیتا ہے اور مثلاً ”کان دھر کے سننا“ میں ”سننا“ کو ”سنا“ لکھتا ہے (ص۱۹۳)۔ (یہاں کاتب نے سین پر پیش اور نون پر تشدیدکا اہتمام کیا ہے لہٰذااسے کاتب کے کھاتے میں ڈالنا بھی مشکل ہے)۔</p> <p>بعض مقامات پر اسناد پیش کرنے میں احتیاط نہیں کی گئی، جیسے ”دن منانا“ بمعنی ”امیدواری کرنا“ کی سند میں صفحہ ۱۴۱ پر عاشق ؔ کا جو شعر دیا ہے وہ یہ ہے:</p> <blockquote> <verse> خالق نے یہ روزِ خوش دکھایا جس دن کو مناتے تھے وہ آیا </verse> </blockquote> <p>حالانکہ یہ ”دن منانا“ کی نہیں بلکہ ”دن کو منانا“ کی سند ہے۔ جبکہ محاورہ دن منانا ہے نہ کہ دن کو منانا اور نور اللغات میں اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔ نوراللغات کے مطابق اس کے معنی ہیں دن کی تمنا کرنا۔ گویامحاورے کے اصل الفاظ میں بھی اور مفہوم میں بھی کچھ کمی رہ گئی ہے۔ بظاہرذرا سا فرق ہے لیکن لغت نویسی کے اصولوں میں اس طرح کے فرق کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی محاورے کے الفاظ میں تبدیلی جائز نہیں سمجھی جاتی۔</p> <p>بعض اندراجات کے معنی مشکوک بلکہ غلط ہیں۔ مثال کے طور پر ”دور کی سوجھنا“ کے معنی لکھے ہیں : تہہ کوپہونچنا [پہنچنا] (ص۱۴۲)۔ لیکن فرہنگ آصفیہ اور نوراللغات میںدور کی سوجھنا کے جو معنی درج ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں: گہرا خیال آنا، باریک اور نادر بات خیال میں آنا نیز دور اندیش ہونا۔ اردو لغت بورڈ کے تاریخی اصولوں پر مرتبہ لغت میں بھی یہی معنی دیے گئے ہیں۔ صاحبِ قرار اللغات نے سند میں امیر مینائی کا جو شعر دیا ہے اس سے بھی ”تہہ کو پہنچنا“ کے معنی نہیں نکلتے، بلکہ آصفیہ، نوراور بورڈ کے لغت میں دیے گئے معنی کی تصدیق ہوتی ہے، ملاحظہ ہو:</p> <blockquote> <verse> یہ آتا ہے جی میں کہ کوثر کو چلیے خرابات میں دور کی سوجھتی ہے </verse> </blockquote> <p>اسی طرح قرار نے ”بازار کی مٹھائی“ کے معنی لکھے ہیں ”آسان“ (ص۴۱)۔ جبکہ اس کے معنی فرہنگ آصفیہ کے مطابق یہ ہیں: وہ چیز جو ہر ایک شخص اپنے استعمال میں لاسکے، (مجازاً) کسبی۔ صاحبِ نور اللغات نے آصفیہ کے الفاظ کو دہرادیا ہے۔ لغت بورڈ نے بازار کی مٹھائی کے معنی یوں دیے ہیں: ”(لفظاً) وہ چیز جو ہر شخص کو آسانی سے مل سکے، (مراداً) کسبی، طوائف، رنڈی“۔ اس اندراج یعنی بازار کی مٹھائی کی سند میں مؤلفِ قرار اللغات نے خود اپنا جو شعر دیا ہے اس سے بھی ”آسان“ کی بجاے ”جسے ہر کوئی حاصل کر سکے“ کے مرادی معنی نکلتے ہیں، ملاحظہ ہو:</p> <blockquote> <verse> یار کا بوسۂ لبِ شیریں کوئی بازار کی مٹھائی ہے </verse> </blockquote> <p>امیر اللغات میں بھی ”بازار کی مٹھائی“ کے معنی ”وہ چیز جو علی العموم سب کو مل سکے“ درج ہیں لیکن امیر نے اس سے اگلا اندراج ”بازار کی مٹھائی جس نے پائی اس نے کھائی“ کا کیا ہے اور معنی لکھے ہیں: مذاق سے کسبیوں کی نسبت کہتے ہیں۔ گویا مؤلف کے نزدیک ”آسان“ اور ”جسے ہر کوئی آسانی سے حاصل کر سکے“ کے معنی میں کوئی فرق نہیں۔ اس سے ان کی لغت نویسی کی مہارت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔</p> <p>مؤلف نے بعض الفاظ یا مرکبات کے معنی یہ دیکھے بغیر لکھ دیے ہیں کہ آیا سند سے وہ معنی برآمد ہو بھی رہے ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر لفظ ”بازاری“ کے معنی درج ہیں ”معمولی“ (ص۲۷۱)۔ اصولاً یہ معنی درست ہیں لیکن ”بازاری“ کے کئی اورمعنی بھی ہیں( جو اردو کے مستند لغات میں دیکھے جاسکتے ہیں، یہاں انھیں دہرایا نہیں جارہا)۔ سرِ دست ”بازاری“ کے دیگر معنی کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سند دیکھتے ہیں جو مؤلف نے اپنی دانست میں ”بازاری“ کے معنی کے لیے دی ہے۔ سندرندؔ کے شعر سے ہے جس کا دوسرا مصرع ہے :</p> <blockquote> <verse> خانگی ہے مرا محبوب، وہ بازاری ہے </verse> </blockquote> <p>حالانکہ یہ مصرع ”بازاری عورت، طوائف، رنڈی، کسبی“ کے معنی میں ہے نہ کہ ”معمولی“ کے معنی میں۔ بازاری کے ایک معنی ”کسبی، پیشہ کرنے والی عورت“ بھی ہیں اور اردو لغت بورڈ کے لغت میں اس کی اسناد بھی موجود ہیں۔ رندؔ کے مصرعے میں یہی معنی مراد ہیں۔ دراصل رندؔ نے طوائفوں کی دو قسموں یعنی بازاری اور خانگی کا موازنہ کیا ہے۔ خانگی کے دیگر معنی سے قطعِ نظر، خانگی وہ طوائف ہوتی ہے جو پردہ نشین ہو اور چھپ کر پیشہ کرتی ہو۔”خانگی“ کے یہ معنی آصفیہ اور نور دونوں نے دیے ہیں اور سند میں دونوں نے آتشؔ کا یہ شعر دیا ہے:</p> <blockquote> <verse> دنیا سی خانگی کوئی ہوگی نہ بیسوا شوہر سے اپنے رہتی نہ دیکھی یہ زن درست </verse> </blockquote> <p>بورڈنے بھی یہ معنی دیے ہیں اور دو نثری اسناد بھی دی ہیں۔</p> <p>پھر اپنے لغت کو مختلف حصوں میں مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کرنے کا کوئی جوازقرار اللغات کے مؤلف نہیں پیش کر سکے ہیں اور نہ ہی ”تمامی محاورات“ کی کوئی وضاحت انھوں نے کی ہے۔ موجودہ صورت میںلغت میں کسی خاص اندراج کو تلاش کرنے میں دقت ہوتی ہے کیونکہ باری باری تمام حصے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ان معروضات کی روشنی میں مجبوراً ہمیں یہ رائے قائم کرنی پڑتی ہے کہ قرار اللغات کوئی بہت معیاری لغت نہیں ہے۔ محاورات کے کچھ لغات اس سے پہلے موجود تھے۔ مؤلف کو چاہیے تھا کہ ان میں کچھ اضافہ کرتے یا ان سے کچھ اختلاف کرتے۔ ان کے اس کام سے اردو محاورات یا الفاظ کے ضمن میںیا لغت نویسی کے باب میں بہت کم اضافہ ہوا۔</p> <heading>اردو لغات اور شعری متون سے استناد</heading> <p>البتہ ایک میدان ایسا ہے جس کی وجہ سے قرار اللغات کی کچھ اہمیت سامنے آتی ہے اور وہ ہے الفاظ کے معنوں کے ساتھ شعر ی متون سے استناد۔</p> <p>شعری متون سے لغت میںاسناد پیش کرنے کے ضمن میں راقم الحروف ضروری سمجھتا ہے کہ اردو لغت نویسی کے موضوع پر کیے گئے ایک غیر مطبوعہ لیکن بہت وقیع اور اہم کام کا ذکر کرے۔ یہ ایک مقالہ ہے جو ایک ایرانی طالبہ لیلیٰ عبدی خجستہ نے پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کی نگرانی میں اردو لغت نویسی میں ادبی ذوق کے شواہد کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ مقالے میں انھوں نے اس امر کا بطور خاص جائزہ لیا ہے کہ اردو کے کن کن لغات میں کون کون سے شعرا کے اشعار درج کیے گئے ہیں اور کن شعرا کے اشعار زیادہ تعداد میں بطورسند آئے ہیں۔</p> <p>اس ضمن میں خجستہ صاحبہ نے قرار اللغات کا بھی جائزہ لیا اور اس میں دی گئی شعری اسناد کا تجزیہ بھی کیا۔ انھوں نے قراراللغات میں مختلف شعرا کی پیش کی گئی شعری اسناد کو باقاعدہ شمار کر کے ان کی جو تفصیلات دی ہیں وہ یہاں درج کی جارہی ہیں:</p> <table> <tr> <td>شاعر</td> <td>تعدادِ اشعار</td> </tr> <tr> <td>داغ</td> <td>۷۹۴</td> </tr> <tr> <td>امیر</td> <td>۶۴۹</td> </tr> <tr> <td>شوق</td> <td>۴۰۲</td> </tr> <tr> <td>قرار [یعنی خود موؔلف]</td> <td>۳۲۰</td> </tr> <tr> <td>جلیل</td> <td>۳۰۸</td> </tr> <tr> <td>عاشق</td> <td>۱۹۲</td> </tr> <tr> <td>شاد</td> <td>۱۷۵</td> </tr> <tr> <td>قلق</td> <td>۱۵۸</td> </tr> <tr> <td>جلال</td> <td>۱۴۷</td> </tr> <tr> <td>دل</td> <td>۱۱۰</td> </tr> <tr> <td>بحر</td> <td>۷۸</td> </tr> <tr> <td>حالی</td> <td>۳۵</td> </tr> <tr> <td>صفدر</td> <td>۳۴</td> </tr> <tr> <td>میر</td> <td>۳۴</td> </tr> </table> <p>اس فہرست میں جہاں بعض بڑے اور اہم ناموں مثلاً غالبؔ کی عدم موجودگی کھٹکتی ہے وہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ بعض شعرا کی مثالیں بہت زیادہ اور بعض کی بہت کم ہیں۔ اس کی وجوہات پر بحث فی الحال ہمارے موضوع سے بہت دور ہے۔ لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ مؤلف نے خوداپنے اشعار بطور سند اچھی خاصی تعداد میں پیش کر دیے ہیں۔</p> <p> بہرحال، اس لغت میں شامل بعض اسناد اہم ہیں اور کچھ تو ایسی ہیں کہ نسبتاً کم معروف شعرا کے کلام سے لی گئی ہیں اور ان میں سے کچھ کا کلام اب آسانی سے دستیاب بھی نہیں۔ بظاہرایسا لگتا ہے کہ اس کے بعد تالیف ہونے والے لغات (مثلاً نور اللغات) کے مؤلفین کو بالخصوص اسناد کے ذیل میں اس سے کچھ نہ کچھ مدد ضرور ملی ہوگی لیکن تحقیق اور عمیق مطالعے کے بغیر اس امر کو یقینی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ ضرور ہے کہ اردو لغت نویسی میں استفادے (بلکہ نقل در نقل )کی روایت بھی کسی دلچسپ تحقیقی مطالعے کا موضوع ہو سکتی ہے(بشرطے کہ ہمارے محترم اساتذہ اور طلبہ و طالبات کو تیسرے درجے کے زندہ اہل قلم پر ”حیات و خدمات“ اور ”احوال و آثار“ جیسے غیر اہم اور گھسے پٹے موضوعات سے کچھ فراغت نصیب ہو)۔</p> <p>ان اسناد کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن قرار اللغات کی اہمیت زیادہ ترتاریخی ہے۔ اسے اردو لغت نویسی کی تاریخ میں کوئی اہم سنگِ میل قرار نہیں دیا جاسکتا اور اس کی جانب توجہ بھی اس لیے مبذول ہوتی ہے کہ مؤلف کے بقول یہ امیر اللغات کی تکمیل ہے۔</p> <heading>امیر اللغات کاتکملہ؟</heading> <p>مؤلف کا یہ کہنا کہ انھوں نے اس لغت کی صورت میں امیر کے کام کو تکمیل تک پہنچایا ہے کئی وجوہ کی بنا پر درست نہیں۔</p> <p>جہاں تک امیرؔ مینائی کے نقشِ قدم پر چلنے کا سوال ہے تو امیرؔ کا تتبع اگر مؤلف صحیح معنی میں کرتے تو سند میں اپنا کوئی شعر نہ دیتے جیسا کہ امیراللغات میں امیرؔ نے کیا ہے۔ گو امیرؔ کی قادر الکلامی سے یہ توقع بے جا نہیں کہ وہ جس لفظ کی سند چاہتے اسی وقت ایک شعر کہہ کر اسے باندھ لیتے۔ لیکن امیرؔ نے بوجوہ ایسا نہیں کیا۔</p> <p>پھر امیرؔ نے لغت نویسی کا کام جتنے بڑے پیمانے پر شروع کیا تھا اور جس طرح اس کے لیے باقاعدہ دفتر اور عملہ فراہم کیا تھا، اس کا عشر عشیر بھی قرار کے ہاں نظر نہیں آتا۔ امیرؔ کے لغت کی ضخامت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ الف ممدودہ اور الف مقصورہ کے الفاظ امیر اللغات کی دو جلدوں میں سمائے اور تیسری جلد صرف ”ب“ سے شروع ہونے والے الفاظ پر مبنی ہے۔ ضخامت اور اندراجات کی تعداد کے لحاظ سے کُل ۳۱۶ صفحات پر مشتمل لغت کو امیر اللغات کا تکملہ قرار دینا عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ امیر اللغات اگر مکمل ہوتا تو اس کی کئی جلدیں ہوتیں، کم از کم آٹھ جلدوں تک کا منصوبہ تو امیر کے ذہن میں تھا۔</p> <p>تعداداور مقدارسے قطع نظر اگر اصول لغت نویسی کے لحاظ سے دیکھا جائے تب بھی قرار اللغات، امیر اللغات کے معیارسے بہت پیچھے ہے جیسا کہ سطورِ بالا میں مذکور ہوا۔ لیکن ایک اچھی بات اس دعوے کے ساتھ یہ ہے کہ خود مؤلف کو بھی احساس ہے کہ یہ امیر اللغات کی تکمیل نہیں ہے اور وہ ایک طرح سے تکملے کے دعوے سے یہ کہہ کر ابتدا ہی میں دست بردار ہو گیا ہے کہ امیر اللغات کے انداز میں لکھنا تو ٹیڑھی کھیر ہے اوراپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانی چاہیے، نیز یہ کہ ”کہا لو پھول کی جا پنکھڑی ہے“۔</p> <p>اس طرح ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرار اللغات، امیر اللغات کا تکملہ تو نہیں ہے اور یہ مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے امیر اللغات کو نہیں پہنچتا لیکن اس کی بعض اسناد اہم اور دلچسپ ہیں اور یہ لغت اردو لغت نویسی کے طویل سفر میں کوئی اہم سنگِ میل نہ سہی بہرحال ایک سنگِ میل ضرور ہے جس کے مطالعے سے کچھ نہ کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے۔</p> </section> </body> "
"0025.xml"
"<meta> <title>اردو مصنفین اور تحریکِ اتحادِ اسلامی (مولوی عبدالحق کی ایک نادر تحریر)</title> <author> <name>خالد امین</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/7_khalid_amin_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>1285</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"اردو مصنفین اور تحریکِ اتحادِ اسلامی (مولوی عبدالحق کی ایک نادر تحریر)"
1,285
"Yes"
"<body> <section> <p>مولوی عبدا لحق (۱۸۷۰ئ-۱۹۶۱ئ) اردو کے بڑے محقق، نقا د، خا کہ نگار اور خطبہ و مقدمہ نگار تھے۔ انھوں نے اردو کی ادبی تاریخ کے کئی گم نام گوشوں کو حیات جاوداں عطا کی۔ سر سید (۱۸۱۷ئ-۱۸۹۸ئ) وحالی (۱۸۳۷ئ-۱۹۱۴ئ) کی قائم کردہ نثری روایت کو عبدالحق نے ایک نئی تازگی عطا کی۔ ان کی نثر نہایت سادہ، دلکش، بامعنی ہے۔ مگر کچھ مضامین ایسے بھی ہیں جو کم یاب رسائل میں ہونے کے باعث مولوی عبدالحق کی مرتبہ کتابوں میں شامل نہیں ہیں، جیسے مولو یصاحب نے علی گڑھ منتھلی میں ایک مضمون ”ختنے کی تاریخ اور اس کے فوائد“ پر جون ۱۹۰۵ئ میں تحریر کیا تھا۔ اسی طرح مولوی عبدالحق کا ایک نادر مضمون ”مصطفی کامل پاشا“ جو رسالہ دکن ریویو میں ۱۹۰۸ئ میں شائع ہوا تھا تاحال غیر مدون اور غیر معروف ہے۔</p> <p>یہ مضمون ایک خاص پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ انیسویں صدی کے وسط میں عالم اسلام کو یورپی طاقتوں کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، اور بیشتر اسلامی ممالک یورپی طاقتوں کی نوآبادیات میں تبدیل ہو کررہ گئے۔ اس صورتحال میں عالم اسلام کو ایک مرکز پر متحد کرنے کے لیے سلطنتِ عثمانیہ اور عالم اسلام کے سر کردہ رہنمایانِ کرام نے، جن میں جمال الدین افغا نی (۱۸۳۸ئ-۱۸۹۷ئ) پیش پیش تھے، ایک تحریک برپا کی جسے ”تحریکِ اتحادِ اسلامی“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے اہم مقاصد میں یہ بات شامل تھی کہ تمام مسلم ممالک اپنی آواز کو دنیا کے سامنے مشترکہ طور پر پیش کریں تاکہ ان پر کی جانے والی جارحیت کا مداوا کیا جا سکے۔</p> <p>ہندوستانی مسلمان بھی برطانیہ کی نوآبادیات کا حصہ تھے لہٰذا اس خطے میں بھی اس تحریک کے پنپنے اور پھلنے پھولنے کے امکانات بےپناہ تھے اور ان امکانات کو پروان چڑھانے کے لیے جمال الدین افغانی نے ہندوستان کی سرزمین کا بھی انتخاب کیا اور تحریک اتحاد اسلامی کے تعلق سے حیدرآباد دکن میں کئی لیکچر دیے، جس کے خاطر خواہ اثرات ہندوستان کے علمی و ادبی حلقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس تحریک کے حوالے سے کئی علمی اور ادبی مضامین بھی منصہ شہود پر آئے۔ اردو کے ادیبوں نے یورپ کی جارحانہ پالیسی کا جائزہ لیا، اور اس وقت کی بڑی علمی و ادبی شخصیات پر مضامین لکھے گئے۔ خصوصاًــــجمال الدین افغانی (۹؍۱۸۳۸۔۱۸۹۷)، مصطفی کمال پاشا (۱۸۸۱-۱۹۳۸ئ)، سلطان عبدالحمید (۱۸۴۲-۱۹۱۸ئ)، مصطفیٰ کامل پاشا (۱۸۷۴-۱۹۰۸ئ) وغیرہ پر اردو زبان میں سوانحی مضامین کی کثرت نظر آتی ہے۔ مولوی انشائ اللہ خان (۱۸۷۰ئ-۱۹۲۸ئ) نے حمیدیہ سٹیم پریس لاہور سے جس کے وہ خود بانی بھی تھے، اور ایک اخبار وطن بھی نکالتے تھے، ”تحریک اتحاد اسلامی“ سے وابستہ شخصیات اور ان کے کاموں کو نمایاں انداز میں شائع کیا۔ عربی زبان میں محمد علی پاشا (۱۷۶۹ئ-۱۸۴۹ئ) پر نسیب آفندی نے ناول لکھا، اس کا ترجمہ کروا کے انھوں نے اپنے پریس سے شائع کروایا، مگر اس پر تاریخ اشاعت موجود نہیں۔ علاوہ ازیں ایک اہم کتاب کا ترجمہ سلطان عبدالحمید (۱۸۴۲ئ-۱۹۱۸ئ) کے حوالے سے مولوی انشائ اللہ خان نے خود کیا ہے۔ مولوی صاحب کے بقول یہ کتاب ایک یورپی شہزادی این ڈی لوسگنان <annotation lang="en">(Anne de Losignan)</annotation> نے سلطنت عثمانیہ میں کئی برس رہنے کے بعد ۱۸۸۸ئ میں تصنیف کی تھی۔ اس کتاب میں سلطان عبدالحمید کے عہد حکومت کے پہلے بارہ برسوں کے حالات درج ہیں۔ اس کا مطالعہ یورپ اور ترکی کے پیچیدہ معاملات کی تفہیم کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔ مولوی انشائ اللہ خان نے اس کتاب میں ترجمہ کے علاوہ حواشی و تعلیقات کا اضافہ بھی کیا ہے۔ یہ کتاب سلطان کی زندگی اور برطانیہ کے ترکی کے ساتھ تناقضات کا صحیح منظر پیش کرتی ہے۔ مولوی انشأ اللہ خان نے اس کتاب کے علاوہ بھی ترکی اور ”تحریک اتحاد اسلامی“ کے تعلق سے کئی اہم کتابوں کا ترجمہ اور کئی کتابوں کو مرتب بھی کیا ہے ان میں ایک ترک کا روزنامچہ، واقعات روم، مفر و ضہ مظالم آر مینیا و دول ثلاثہ، وہ کتابیں ہیں جو نادر ہونے کے علاوہ ترک اور اسلامی دنیا کے حالات کو جاننے کے لیے اور ”تحریکِ اتحاد اسلامی“ کے اردو ادب پر اثرات کو سمجھنے کے لیے اہم ماخذ کا کام دیں گی۔</p> <p>۱۸۵۷ئ سے ۱۹۱۴ئ تک اردو کے کئی رسالے ایسے ہیں جو صرف ترکی اور خلافت عثمانیہ اور عالم اسلام میں برپا تحریکوں کے لیے وقف تھے اور ان رسائل کے ذریعے اردو ادب میں نظم و نثر کا سرمایہ وسیع ہوا۔ انھیں رسالوں میں ایک رسالہ معارف بھی تھا، جو دہلی سے نکلتا تھا اس کے مدی رحاجی محمد اسماعیل خان تھے اس رسالے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں سب سے پہلے حیات جاوید حالی کی لکھی ہوئی سید احمد کی سوانح عمری، قسطوار شائع ہوئی۔ اردو کے انشأ پرداز سجا دحیدر یلدرم (۱۸۸۸ئ-۱۹۵۰ئ) کے مضامین بھی اس رسالے میں پہلی بار شائع ہوئے۔ اس رسالے میں ترکی کے مشہور اور مقبول ناول نگار ”احمد مدحت“ کے ایک ناول سرکیشیا کا ترجمہ سجاد حیدر یلدرم نے اردو زبان میں کیا۔ یہ ناول کوہ قاف اور سرکیشیا کے رسم و رواج اور وہاں کے عجیب و غریب مناظر کے ذکر سے بھرپور ہے۔ احمد مدحت کا یہ ناول ترکوں کی ناول نگاری کی قابلیت کا خوبصورت ترین اظہار بھی ہے۔ اس ناول میں عالم اسلام سے دلی لگا ئو اور وابستگی کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔</p> <p>صبحی خانم تعلیم یافتہ اور روشن خیال خاتون تھیں۔ انھوں نے ترک عورتوں پر اپنے خیالات کے گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ان کا ایک مضمون ”ایک ترکی خاندان اور اس کی گذشتہ و موجودہ حالت“ ترکوں کی معاشرتی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس مضمون کا ترجمہ اردو زبان میں کیا گیا۔ اس مضمون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم روایات کو ترک کر کے جدید رجحانات کس طرح کسی معاشرے میں پروان چڑھتے ہیں۔</p> <p>رسالہ معارف، دہلی میںتر کی زبان کے ایک شاعر ”نامق کمال بے“ (۱۸۴۰ئ-۱۸۸۸ ئ) کی سوانح عمری بھی موجود ہے جس کو عبدالعلی خان نے مرتب کیا ہے۔ نامق کمال بے خاندانی لحاظ سے ایک شاعر کے گھر میں پیدا ہوئے، ان کے دادا احمد راتب پاشا بھی ترکی زبان کے نامور شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں تصوف کی جھلک پائی جاتی ہے۔ نامق کمال بے شاعری اور نثر نگاری دونوں میدانوں کے شہسوار تھے۔ الطاف حسین حالی (۱۸۳۷ئ-۱۹۱۴ئ) پر نامق کمال بے کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ کیوںکہ حیاتِ جاوید کا آغاز بھی نامق کمال بے کے ایک پیرا سے ہوتا ہے۔ حالی لکھتے ہیں کہ ترکی زبان کے نامور شاعر نامق کمال بے نے اپنے چند اشعار میں یہ مضمون درج کیا ہے کہ:</p> <blockquote> <p>ایک انسان کی زندگی دوسرے انسان کے لیے روشنی کے مینار کی طرح ہے جو سمندر کے کنارے ڈولتے جہازوں کو اشارہ کرتا ہے کہ جلد بھنور سے نکل جائو۔ مبارک ہیں وہ جو اس اشارے کو سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی کے جہاز کو چٹانوں سے بچا کر نکل جا تے ہیں۔</p> </blockquote> <p>مار ماڈیوک پکھتال (۱۸۷۵ئ-۱۹۳۶ئ) بھی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انھوں نے جنگِ عظیم اوّل کے حوالے سے کئی ناول لکھے ہیں۔ ان کا ایک ناول <annotation lang="en">Early Our's</annotation> کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کا ترجمہ مظہرالدین مالک دائرہ علمیہ الامان، دہلی نے صبحِ ترکی کے نام سے کیا ہے۔ تر کی، مصر و شام کے طویل سفر، مسلمانوں کی زندگی کے عمیق مطالعہ اور ان میں موجود سیاسی، سماجی اور نفسیاتی کیفیات جو نوآبادیات کے تسلط کی وجہ سے ان کے ذہنوں پر قائم ہوئیں، ان تمام مشاہدات و تاثرات کا خاکہ اس ناول میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ترجمے سے اردو زبان و ادب میں اس تحریک کے بھرپور رجحانات کا پتا چلتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تحریروں کو دوبارہ اہلِ نظر کے سامنے پیش کیا جائے۔</p> <p>مصطفی کامل پاشا مصر کے قوم پر ست رہ نما تھے۔ ۱۴ اگست ۱۸۷۴ئ میں پیدا ہوئے اور فروری ۱۹۰۸ئ میں ان کاانتقال ہو گیا۔ فرانس میں قانون دانی کی ڈگری حاصل کی، اور خد یو رفیق پاشا کے معاونِ کار کی حیثیت سے مصر کی عملی سیاست میں حصہ لیا۔ عالم اسلام میں ان کو نہایت اچھی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ مصطفی کامل پاشا نے صحافی کی حیثیت سے بھی اپنا لوہا منوایا، اور ۱۹۰۰ئ میں ایک رسالہ اللیوا جاری کیا۔</p> <p>رسالہ دکن ریویو کے مدیر مولانا ظفر علی خاں (۱۸۷۳ئ-۱۹۵۶ئ) نے اس رسالے میں اردو زبان و ادب کے مشاہیر کے علاوہ اسلامی تحریکوں سے وابستہ اصحاب پر مضامین شائع کیے۔ مولوی عبدالحق کے مضمون کے اختتام پر ظفر علی خاں نے ”رحلت مصطفی کامل پاشا“ نظم بھی لکھی ہے۔ ترکی کی خلافت اور عالم اسلام پر یور پی جارحیت کے سیاسی نتائج خواہ کچھ بھی ہوں مگر اردو ادب پر اس کے اثرات نہایت گہرے مرتسم ہوئے ہیں، جس کا مطالعہ کئی حوالوں سے کیا جانا چاہیے۔ اس کی ایک مثال رتن ناتھ سرشارؔ (۱۸۴۶ئ-۱۹۰۳ئ) کے ناول میں اس کا ہیرو ”آزاد“ جنگ بلقان میں باقاعدہ شریک ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ علاوہ ازیں قرۃالعین حیدر (۱۹۲۸ئ-۲۰۰۷ئ) کے ناولوں میں جابجا ترکی اور خلافت تحریک کے حوالوں سے مثالیں ملتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ خصوصًا چاند نی بیگم میں قنبر صاحب کے حالات کو بیان کرتے ہوئے ایک بھائی کے ذکر میں یہ مذکور ہے کہ وہ ترکی کی خلافت تحریک سے اتنے متاثر ہوئے کہ ”جنگ سمرنا“ میں شریک ہونے کے لیے ترکی چلے گئے۔ یہ وہ چند مثالیں ہیں جن کا تفصیلی مطالعہ کیا جانا ضروری ہے۔ تاکہ اردو ادب میں ان قوی رجحانات کا درست پس منظر و پیش منظر سامنے آسکے۔</p> </section> </body> "
"0026.xml"
"<meta> <title>عبدالستار صدیقی: نامور ماہرِ لسانیات، تہہرس محقّق</title> <author> <name>تحسین فراقی</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/8_tehsin_firaqi_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>11285</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"عبدالستار صدیقی: نامور ماہرِ لسانیات، تہہرس محقّق"
11,285
"Yes"
"<body> <section> <p>عبدالستار صدیقی (۱۸۸۵ئ-۱۹۷۲ئ) اردو کے ان نامور محققوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں جن پر ”یک در گیر ومحکم در گیر“ کے قول کا بڑی خوبی سے اطلاق ہوتا ہے۔ انھوں نے زندگی طویل پائی مگر مقابلۃً کم لکھا تاہم جتنا لکھا اس پر ”قدرِ اول“ کی مہر ثبت کیے بغیر چارہ نہیں۔ ان کی تحریری تگ و تاز کا اصل میدان تاریخی و تقابلی لسانیات تھا اور اس باب میں ان کے علمی حاصلات ایک مدت تک اہلِ نظر سے خراجِ توصیف وصول کرتے رہیں گے۔ انھوں نے تاریخ کو تحقیق سے مربوط کیا۔ ان کا تحقیقی طریقِ کار گہرا تعقلاتی تھا، جذبات اور جذباتیت سے خالی اور خالصتہً علمی۔ تاریخی لسانیات پر ان کی نظر قابلِ رشک تھی۔ وہ عربی، فارسی، ہندی، پہلوی، سنسکرت اور انگریزی سے گہری آگاہی رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں عبرانی، سریانی اور ترکی سے بھی کسی قدر واقفیت بہم پہنچائی۔ ارد و، فارسی اور عربی کے لسانی امور ہی نہیں، ان زبانوں کے ادبیات سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ دراصل عبدالستار صدیقی کے پاے کے علما اردو میں شاذ کے حکم میں داخل ہیں۔ مقالات صدیقی (پہلا حصہ)، معرّباتِ رشیدی (ترتیب) اور دیگر متعدد تحریروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عبدالستار صدیقی کو لفظوں کی عہد بہ عہد موجودگی اور ان کے اوضاع و تغیرات، فرہنگوں کی صحت و سقم، اپنی مخصوص علمی و لسانی اقلیم میں ہر دور کے لفظی و لسانی نظائر اور وضعِ اصطلاحات کے بصیرت افروز نکتوں کا کیسا گہرا شعور تھا۔ ان کے بعض مقالات لسانی معلومات کی کان ہیں۔ ان کے معاصرین میں یہ لسانی ذوق اور گہرا لسانی شعور حافظ محمود شیرانی، وحید الدین سلیم، سید سلیمان ندوی، احمد دین، مولانا سلیمان اشرف، پنڈت کیفی، شوکت سبزواری اور چند ہی اور انے گنے لوگوں میں تھا۔ پیشروؤں میں اس کی مثالیں سراج الدین آرزوؔ، انشا اللہ خاں انشاؔ اور محمد حسین آزادؔ کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ تقابلی لسانیات کے اولیں شواہد برعظیم میں آرزوؔ اور انشاؔ ہی کے ہاں ملتے ہیں۔</p> <p>عبدالستار صدیقی کے معاصرین مثلاً حافظ محمود شیرانی، سید سلیمان ندوی، عبدالماجد دریا بادی اور متعدد دیگر حضرات ان کی لسانی خدمات اور اس باب میں ان کے تبحّر کا لوہا مانتے تھے۔ سید سلیمان ندوی نے معارف کے مارچ ۱۹۳۰ئ کے شمارے میں ان کے بارے میں بالکل درست لکھا تھا:</p> <blockquote> <p>موصوف ہندوستان کے موجودہ مغربی سند یافتگانِ السنۂ شرقیہ میں ممتاز درجہ رکھتے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ عربی زبان کے فقہ اللغہ (فیلالوجی) اور عربی اور سامی اور فارسی زبانوں کے باہمی تعلقات پر ان کو عبورِ کامل ہے۔</p> </blockquote> <p>چونکہ عبدالستار صدیقی نے اپنی متعدد انتظامی مصروفیات اور طلبہ و احباب کی علمی رہنمائی اور معاونت میں وقت کے کثیر حصے کے صرف کے باعث کم لکھا، اسی لیے ایک دوسرے موقع پر جب سید سلیمان ندوی نے ۱۹۳۹ئ میںمعارف اورہندستانی میں ”بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق اور تہنید“ کے زیر عنوان دو قسطیں شائع کیں اور صدیقی صاحب نے ان پر استدراک رقم کیا تو سید صاحب نے دلچسپ انداز میں لکھا:</p> <blockquote> <p>علم میں خیّام کی طرح بخیل ہیں اور قلم کو بہت کم حرکت دیتے ہیں۔</p> </blockquote> <p>صدیقی صاحب نے سید سلیمان ندوی کے مذکورہ مقالے پر استدراک ہی نہیں لکھا، سید صاحب سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے نام ایک دلچسپ خط میں ان کے اس خیال سے اختلاف بھی کیا کہ ایک زبان میں درآنے والے دخیل الفاظ کو اُس زبان کے برتنے والے ”بگاڑ“ دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>میں دل سے ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ برا نہ مان جائیں مگر زبان کم بخت مانتی نہیں۔ ”بوتام“ ہمارا بڑا اچھا لفظ ہے، اسے ”بگاڑ“ کہنا تو کجا میں سُن نہیں سکتا۔ ہم جس لفظ کو اپنی زبان میں لیتے ہیں، اپنی زبان کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ”بناتے“ ہیں یعنی ہماری زبان اسے اپنے ڈھب کا بنا لیتی ہے۔ اسے بگاڑنا کیونکر کہیے گا؟ اور ”بوتام“ میں تو یہ بھی نہیں۔ جس زمانے میں فرانسیسی ہندستان آئے، ان کی زبان سے پہلے پہلے (شاید ہندستانی سپاہیوں نے) بُوتون سنا۔ ’بٹن‘ بہت بعد کو انگریز لوگ لائے۔ اسی طرح ایک اور لفظ ہے ”کارتوس“، انگریزی میں ”کارٹ رِج“ اس سے ہمارا ”کارتوس“ ہرگز نہیں بنا۔ فرانسیسیوں سے ”کارتوش“ سن کر ہمارے سپاہیوں نے ”کارتوس“ تلفظ کیا۔ جیسے ”دیش“ سے ”دیس“ ہوا، ”کارتوش“ سے کارتوس ہوا۔ انگریز ”کمانڈانٹ“ بولتا ہے۔ اس کو فرانسیسی ”کوماں داں“ بولتا ہے۔ ”کمیدان“ کہا تو ہم نے اس کا کیا بگاڑا؟</p> </blockquote> <p>آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک منجھے ہوئے ماہرلسانیات نے کتنے اہم لسانی اصول کی نشان دہی کیسے سلیقے اور کس علمی شان سے کی۔ اس اقتباس سے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ صدیقی صاحب تاریخی اور تقابلی لسانیات پر کیسی اچھی نظر رکھتے تھے۔</p> <p>تاریخی اور تقابلی لسانیات سے صدیقی صاحب کی اطمینان بخش بلکہ حیران کن آگاہی کے شواہد مقالاتِ صدیقی اور متعدد دیگر تحریروں میں قدم قدم پر نظر آتے ہیں۔ دخیل الفاظ کے موضوع سے انھیں خصوصی دلچسپی تھی۔ ۱۹۱۲ئ سے ۱۹۱۹ئ تک کم و بیش سات برس انھوں نے یورپ اور خصوصاً جرمنی میں گزارے تھے اورکلاسیکی عربی میں فارسی کے مستعار (دخیل) الفاظ کے زیر عنوان جرمن زبان میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا تھا جو ۱۹۱۹ئ ہی میں جرمنی سے شائع ہوا تھا۔ اپنی اس کتاب اور بعض دیگر اہم تحریروں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا امتیاز علی عرشی کے نام ۲۵ اپریل ۱۹۴۴ئ کے ایک خط میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>۱۹۱۹ئ میں میری کتاب جرمانی زبان میں (جرمانیا کے شہر گوئِ ٹنگن سے) شائع ہوئی تھی۔ اس کا نام انگریزی زبان میں ترجمہ کر کے لکھتا ہوں: <annotation lang="en">Studies in Persian Loan-words in Classical Arabic</annotation>۔ اس میں ان فارسی الاصل لفظوں پر بحث ہے جو جاہلیت کے زمانے سے لے کر اسلام کے ابتدائی زمانے تک فارسی سے عربی میں داخل ہو چکے تھے۔ اس مقالے میں فرداً فرداً لفظوں سے بحث نہیں کی گئی بلکہ تعریب وغیرہ کے اصول سے بحث ہے۔۔۔ اگر آپ وہ بڑودے والی کتاب میرے لیے بھیج دیںتو ضرور آرامی اور عبرانی وغیرہ لفظوں کا تلفظ لکھ بھیجوں گا۔ وہ جرمانی کتاب آپ کو دیکھنے کو بھیج دیتا لیکن وہ آپ کے کس کام کی؟ ۱۹۳۰ئ میں ایک مقالہ ابنِ دُرَید اور اس کے معرّبات پر شائع کیا تھا۔ اس کا ایک نسخہ بھیجتا ہوں۔۔۔ اُسی سال مولوی سید سلیمان اشرف مرحوم کی کتاب المبین پر میں نے ایک تبصرہ رسالہ معارف میں لکھا تھا۔ اس کے کچھ نسخے الگ بھی چھپ گئے تھے جو بٹ گئے۔ یہ نسخہ اس خیال سے آپ کو بھیجتا ہوں کہ شاید معارف کی جلدوں میں ڈھونڈنا زحمت کا باعث ہو۔۔۔</p> <p>عربی مبین پر حرف آنے کا طوفان ہمارے بزرگوں ہی نے اٹھایا تھا۔ اگرچہ اسی زمانے میں بعضے محققوں نے اس کی تردید کر دی تھی مگر وہ بات جو مذہبی عصبیت کی لَے میں ایک بار کہہ دی گئی تھی، لوگوں کے دلوں میں جم گئی۔ اُس کی تردید کو کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا۔</p> </blockquote> <p>یہ درست ہے کہ صدیقی صاحب نے زندگی میں کم نویسی کو اپنا شعار بنائے رکھا مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جو لکھا ان تحریروں کی بھی صرف ایک جلد اب تک منظر عام پر آسکی حال آں کہ بقول مرتب مقالات کی تعداد اتنی تھی کہ دو مزید جلدیں شائع ہو سکتی تھیں مگر نہ ہوسکیں۔</p> <p>زیرِ نظر مقالے میں ان کے مضامین کی جلد اول اور بعض دیگر مقالوں سے، جو رسائل و جرائد سے حاصل ہو سکے، اعتنا کیا گیا ہے۔ ان تحریروں سے صدیقی صاحب کی گہری نظر اور غیرمعمولی تعمّق و تبحرّ کا بہ سہولت اندازہ ہوتا ہے۔ ان تحریروں میں اگر مشاہیر کے نام ان کے علمی مکتوبات بھی شامل کر لیے جائیں تو ان کے علم و فضل کی زیادہ مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔ سو میں نے ان کے غیرمعمولی علمی مقام کے تعیّن میں ان مکتوبات سے بھی جابجا مدد لی ہے۔ حق یہ ہے کہ رشید حسن خاں نے اگر عبدالستار صدیقی کو ”اساطینِ ادب“ میں شمار کیا ہے تو کسی مبالغے سے کام نہیں لیا اور اگر ڈاکٹر سید عبداللہ نے لکھا ہے کہ ان کے بے مثال علمی و لسانی مباحث کے حامل مکتوبات پڑھ کر اصمعی، ابنِ سلّام، ابنِ سیدہ اور ابنِ دُرَید کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، تو ایک بدیہی صداقت کے سوا کچھ نہیں۔</p> <p>مقالاتِ صدیقی میں صدیقی صاحب کی ۱۹۱۰ئ سے لے کر ۱۹۶۱ئ تک کی تحریروں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ جلد زیادہ تر لسانی مباحث پر مشتمل ہے مگر اس میں ایسے ایسے چشم کشا لسانی موضوعات کو زیربحث لایا گیا ہے کہ اُن کی داد نہ دینا ظلم ہوگا۔ ہندوستان بغیر واؤ کے، بغداد کی وجہِ تسمیہ، لفظ سُغد کی تحقیق، ذال معجمہ فارسی میں، ولیؔ کی زبان، اردو املا، بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق اور ان کے علاوہ افسوس (لفظ کا ایک بھولا ہوا مفہوم) معرّب لفظوں میں حرف ”ق“ کی حیثیت، تماہی کی ترکیب، وضع اصطلاحات پر تبصرہ اور معائبِ سخن کلامِ حافظؔ کے آئینے میں وغیرہ کے مطالعے سے صدیقی صاحب ایک ایسے عالم لسانیات کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں جو شاید لفظ و لغات سے ہمہ وقت محوِ مکالمہ رہتے ہوں اور انھی سے ربط و ضبط کو اپنا حاصلِ حیات سمجھتے ہوں۔ تماہی کی ترکیب کو درست ثابت کرنے کے لیے وہ اردو میں مستعمل ایسے لفظوں کا انبار لگا دیتے ہیں جو ایسی ہی تراکیب کے مماثل ہیں یعنی ایسی ترکیبیں جن میں ہندی اور فارسی یا عربی الفاظ کو مرکبات کی صورت میں ڈھالا گیا ہے۔ ”بارہ دری“، ”بارہ گزی“، ”تیس ہزاری باغ“، تپائی، تراہا، دوغزلا، تغزلا، ست خصمی، چھ ماہی، دُفصلا (جو درخت سال میں دو بار پھلتا ہے) وغیرہ وغیرہ۔ اس ساری بحث میں صدیقی صاحب کا طریق کار ایک بردبار اور حلیم الطبع عالم کا ہے جو بغیر کسی جھنجھلاہٹ یا خشونَت کے بڑی نرمی لیکن کمال ثبات کے ساتھ دلیلوں پر دلیلیں دیے چلا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اردو کے مجتہد فصیحوں نے نہایت بے تکلفی اور بے باکی سے فارسی اردو اجزا کو باہم ملایا ہے مثلاً سوداؔ نے برفاب، غرقاب کے وزن پر ”چھڑکاب“ بنا لیا۔ صدیقی نے اسے سندِ ثقاہت عطا کر دی۔</p> <p>تاریخی لسانیات سے صدیقی صاحب کے لگاؤ کے شواہدان کی تحریروں میں جابجا نظر آتے ہیں۔ ان کے مقالے ”ہندوستان بغیر واؤ کے صحیح ہے“ کے مطالعے سے یہ امر بڑی صراحت سے آئینہ ہو جاتا ہے کہ ”ہندوستان“ کے مقابلے میں ”ہندستان“ (بغیر واؤ) کے زیادہ رائج رہا ہے۔ ایران کے متقدم شعرا ابوالفرج رونیؔ، مسعود سعد سلمان، فرخیؔ، عثمان مختاری، نظامیؔ اور رومیؔ وغیرہ سے لے کر متاخّر شعرا مثلاً جامیؔ تک کے یہاں ”ہندستان“ ہی مستعمل رہا ہے۔ پھر فرہنگِ انجمن آراے جہانگیری میں رضا قلی خاں ہدایت نے ”ہندستان“ ہی کو مستقل لفظ کی حیثیت میں جگہ دی ہے۔ ڈاکٹر صدیقی بے شمار مثالوں سے ثابت کرتے ہیں کہ لفظ ”ہندستان“ کی وہی حیثیت ہے جو بغداد (باغِ داد)، پرستان (پری ستان)، دشمن (دشت من)، دشنام (دشت نام) اور ناخدا (ناوخدا) وغیرہ کی تھی۔ پھر معاملہ محض فارسی زبان تک نہیں رہا، عربی اور ترکی میں بھی ’ہندستان‘ بغیر واو کے مستعمل رہا ہے۔ خود اردو شاعری میں وجہیؔ، ولیؔ، سوداؔ، میرؔ، آتشؔ، مصحفیؔ، ناسخؔ، جرأتؔ، قدرؔ بلگرامی، اِسماعیلؔ میرٹھی وغیرہ کے یہاں ”ہندستان“ ہی مستعمل رہا ہے۔ میرے خیال میں بعض مستثنیات بھی ہیں جن کی طرف صدیقی صاحب نے اشارہ نہیں کیا مثلاً مصحفیؔ کا یہ مشہورشعر کیسے نظر اندازکیا جاسکتا ہے:</p> <blockquote> <verse> ہندوستاں کی دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی ظالم فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی! </verse> </blockquote> <p>بہرحال صدیقی صاحب کے نزدیک فصحا کی زبان پر ”ہندستان“ اور ”ہندستانی“ ہی ہے اور یہی قابلِ ترجیح ہے۔ اس کے باوجود صدیقی صاحب ہندوستان اور ہندوستانی کو بھی غلط نہیں کہتے اور یہ ان کی سلامتیِ طبع کی دلیل ہے۔</p> <p>س مقالے میں ایک مقام پر صدیقی صاحب نے لکھا ہے کہ ”ہندستان“ کی مزید تخفیف ”ہندساں“ کی صورت میں بھی ملتی ہے۔ وہ اس ضمن میں فرہنگِ جہانگیری اور بہارِ عجم کی عبارتیں نقل کرتے ہیں جہاں ”ہندوستان“ کی ایک شکل ”ہندستاں“ نقل ہوئی ہے مگر وہاں فرّخی کا جو شعر درج ہوا ہے اس میں ”ہندستاں“ کے بجاے ”ہندساں“ ہے، شعر یہ ہے</p> <blockquote> <verse> گر ز جُودِ تو نسیمی بگذرد بر زنگبار! ور ز خشم تو سمومی دروزد بر ہندساں </verse> </blockquote> <p>چونکہ دونو فرہنگوں کی نثری عبارت اور شعر میں مستعمل نظیروں (ہندستاں/ ہندساں) میں فرق ہے لہٰذا اب برہانِ قاطعسے سند لاتے ہیں جہاں لکھا ہے: ”ہندساں“ باسینِ بے نقطہ بروزنِ ہندواں“۔۔۔ پھر لکھتے ہیں کہ برہانِ قاطع کی اس تشریح سے جہانگیری اوربہار کی عبارتیں صاف ہو گئیں اور ”اب پورے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ استاد فرّخیؔ کے شعر میں ’ہندساں‘ ہی ہے ’ہندستاں‘ نہیں۔ ’ہندساں‘ شاعروں کے کلام میں زیادہ نہیں ملتا مگر اس کا تو یقین ہو گیا کہ چوتھی صدی ہجری میں ”ہندساں“ زبان میں داخل ہو چکا تھا (مقالات صدیقی ص۴۱)۔ اس مختصر عبارت سے جہاں اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ صدیقی صاحب لفظوں کے عہد بہ عہد متغیر اوضاع پر غیرمعمولی نظر رکھتے تھے وہاں اس عبارت پر تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی: ”اب پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ استاد فرّخیؔ کے شعر میں ”ہندساں“ ہی ہے ’ہندستاں‘ نہیں“۔ حیرت اس امر پر ہے کہ عروض اور معاملاتِ عروض پر گہری نظر رکھنے والے محقق کو یہ لکھنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ فرّخیؔ کا شعر جس بحر میں (فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات =رمل مثمن مقصور/ محذوف)ہے، اس میں ’ہندستاں‘ سماہی نہیں سکتا۔ وہاں تو ”فاعلات“ کے وزن پر کوئی لفظ ہی آسکتا تھا اور وہ ”ہندساں“ کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا، اس لیے بھی کہ زنگبار اور ہندساں میں رعایت معنوی ہے کہ دونوں میں ”سیاہی“ کا عنصر موجود ہے۔</p> <p>اوپر ذکر ہوا کہ صدیقی لفظوں کے عہد بہ عہد متغیر اوضاع پر غیر معمولی نظر رکھتے تھے۔ اس کے شواہدان کے مقالات اور دیگر تحریروں میں جگہ جگہ ملتے ہیں مثلاً ”بغداد“ کی وجہ تسمیہ “نامی معروف مضمون میں بغداد کے ایک توضیحی مترادف ”باغ داد” کے ضمن میں بتاتے ہیں کہ بعض کے خیال میں ”بغ“ کے معنی بستاں کے ہیں اور داد“ عطا کیا۔ چونکہ کسریٰ (ساسانی بادشاہ) نے یہ باغ ایک خواجہ سرا کو دے دیا تھا لہٰذا ”بغ داد“ کہلایا۔ پھرداد تحقیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>اگر یوں لیجیے تو پھر اس باغ کا نام ’باغِ دادہ‘ ہونا چاہیے تھا مگر ’دادہ‘ کی صورت ساسانی عہد کی زبان میں ’داذک‘ یا ’دازگ‘ تھی۔ یہ معرّب ہو کر (اگر پہلے الف کا حذف ہو جانا بھی مان لیا جائے تو) ’بغداذق‘ یا ’بغداذخ‘ ہو گیا ہوتا جیسے ”بَیذق“ اور ”ساذج“ اور موجودہ فارسی میں ”بغدادہ“ ہوتا مگر ان صورتوں میں سے ایک بھی نہیں ملتی۔</p> </blockquote> <p>اسی مقالے میں آگے چل کر ”باغ داد“ یا ”باغِ داد“ کی تخئیلی اڑان کو رد کرتے ہوئے صدیقی بغداد کے پہلے حصے ”بغ“ کی معنویت اجاگر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کی صورت اوِستا میں بَغَ اور بَگَ، میخی کتبوں میں بَغَ ہے اور اس کے معنی خدا/ دیوتا کے ہیں۔ ان کے خیال میں سنسکرت کے بھگوان یا بھگوت وغیرہ کا پہلا جز ”بھگ“ اور ”بَغ“ ایک ہی لفظ ہے۔ ایران میں یہ لفظ زردشتیت سے پہلے موجود تھا جب وہاں بتوں کی پوجا ہوتی تھی۔ اسی طرح چند صفحات کے بعد صدیقی صاحب نے ”بے ستون“ کے ضمن میں تاریخی لسانیات کی روایت کو کام میں لاتے ہوئے جس گہرائی کے ساتھ اس کے اجزا کی مختلف وضعوں کی توضیح کی ہے، اس کی کیفیت لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ بس، آبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جائے ہے، کی صورت ہے۔ مقالے کے آخر میں صدیقی صاحب نے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ اسما و القاب کی کس طرح اپنی نہاد میں کسی عقیدے، ایقان یا اعتقاد کو چھپائے ہوتے ہیں جن تک نگاہ گہرے لسانی تاریخی شعور کے بغیر نہیں پہنچ پاتی۔ فغفور (بغپور) فَغ= خدا، دیوتا، پور = بیٹا، کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے جو کچھ لکھا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخی اور تقابلی لسانیات بہت سے قدیم مذہبی و معتقداتی تصورات کی بھی پردہ کشا ہے۔ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>”بغپور“ چبن کے شہزادوں کا لقب ہرگز نہ تھا۔۔۔ چین کے بادشاہ کو کہتے تھے اور اسے ویسا ہی استعارہ سمجھنا چاہیے جیسا ”ظل اللہ“ میں ہے۔ بادشاہ کے ربّانی حقوق کو پورب ہی نہیں پچھّم کی قومیں بھی آج سے چند ہی صدی پہلے تک مانتی رہی تھیں۔ خوارزمی کا خیال ادھر نہیں گیا، نہیں تو یہ فقرہ مفاتیح العلوم میں جگہ نہ پاتا: وَلَعَلّ بغدادُ ھی عَطِیّۃ الملِک(اور شاید بغداد سے مراد ہو: بادشاہ کا عطیہ)۔</p> </blockquote> <p>دراصل لسانیات کی باقاعدہ سالہا سال کی تحصیل، ایک مدت کے تعمق اور مشرقی زبانوں اور ان کے ادبیات کے ساتھ گہری فکری و ذہنی وابستگی نے صدیقی صاحب کو غیرمعمولی لسانی بصیرت عطا کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سطحی لسانی یا صوتی تماثلات کو بے اصولی گردانتے تھے۔ ان کا بالکل صحیح موقف تھا کہ لسانیات کی حالت اور حیثیت ریاضیات کی سی ہے۔ مختارالدین احمد کے نام اپنے ایک خط میں نہایت پتے کی باتیں کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چند آوازوں اور ان کے مجموعوں (لفظوں) کو جان لینا اور بغیر کسی ترتیب اور نظام کے لکھ دینا لسانیات سے بہت دور ہے۔ لسانیات ایک <annotation lang="en">Accurate Science</annotation> ہے۔</p> <p>۲- لسانی بحث کے لیے نہایت ضروری ہے کہ آپ لفظوں کی تاریخ معلوم کریں اور ہر قدم پر یہ دیکھیں کہ میں کچھ تاریخ کے خلاف تو نہیں کہہ رہا ہوں۔</p> </blockquote> <p>یہ فہمائش صدیقی صاحب کو اس لیے کرنا پڑی تھی کہ مختارالدین احمد نے اپنے ایک مضمون میں بعض انگریزی اور عربی لفظوں کی مماثلت دکھائی تھی۔ انھوں نے نہ صرف <annotation lang="en">Navel</annotation> کو ناف سے جاملایا تھا بلکہ ناف کو عربی قرار دے ڈالا تھا۔ چنانچہ صدیقی صاحب کو وضاحت کرنا پڑی کہ ”ناف“ عربی نہیں فارسی ہے۔ عربی میں اسے ”سرہ“ کہتے ہیں۔ انھوں نے اس طرح کی بے جوڑ لسانی مماثلتوں کو ”انتقال“ اور ”انت کال“ کی سی لسانی بوالعجبی قرار دیا تھا۔ ان کے خیال میں آریائی اور سامی زبانوں کو آپس میں جوڑنا سعیِ لاحاصل ہے۔ دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ صدیقی صاحب کے اس موقف کی تائید ان کے سینئر معاصر احمد دین کی سرگذشتِ الفاظسے بھی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ احمد دین کی مذکورہ کتاب پہلی بار ۱۹۲۳ئ میں شائع ہوئی تھی۔ احمد دین نے لکھا تھا:</p> <blockquote> <p>انتقال عربی الاصل ہے، نقل سے مشتق ہے۔ اسے سنسکرت انتسا (موت) اور کال (وقت) سے ملانا بے جوڑ بات ہے۔ اسی طرح ”انتہا“ بھی عربی ہے، سنسکرت ”ان تھاہ“ یعنی جس کی تھاہ نہ ملے، بیان کرنا سراسر غلطی ہے۔</p> </blockquote> <p>لسانیات ہی کے ضمن میں عبدالستار صدیقی کا ایک قابلِ قدر مقالہ <annotation lang="en">”Ibn Duraid and His Treatment of Loan Words“</annotation> ہے۔ اس مقالے میں صدیقی صاحب نے عربی لسانیات کے دبستان بصرہ کے آخری سب سے بڑے عالم پر ایک مفصل مقالہ لکھا تھا۔ ابنِ درید نے پچانوے چھیانوے برس عمر پائی اور اب اس کی ولادت پر ۱۱۷۵ برس ہو چکے۔ اس کی ضخیم تصنیف جمھرۃ اللغہہے۔ ابنِ درید خلیج فارس اور ایران میں ایک مدّت تک مقیم رہا۔ دلچسپ بات ہے کہ وہ عالموں میں شاعر اور شاعروں میں عالم مشہور تھا۔ ابنِ درید نے عربی میں مستعار الفاظ کی نشان دہی وسیع پیمانے پر کی تھی۔ جوالیقی نے اپنی معرّب میں ابنِ درید سے جابجا استفادہ کیا تھا بالکل اسی طرح جیسے خود ابنِ درید نے الخلیل کی کتاب العین سے فیض اٹھایا تھا۔ ابنِ درید نے اپنی کتاب میں کتاب العین سے فیض اندوزی کا اعتراف بھی کیا ہے اور اپنی تالیف میں برتے گئے طریق کار کی وضاحت بھی کی ہے۔ ابنِ درید نے عربی حروف تہجی اور ان کی اصوات پر بھی بصیرت افروز بحث کی ہے۔</p> <p>یہاں اس امر کا اظہار بے محل نہ ہوگا کہ جس زمانے میں عبدالستار صدیقی گوئِ ٹنگن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے، اپنے تحقیقی مقالے کی تکمیل تک ابنِ درید کی جمھرۃ اللغہکا ضخیم مخطوطہ نہ دیکھ پائے تھے تاہم اس کے باوجود ابنِ سِیدہ کی مخصَّصاور جوالیقی کی معرّب کے مطالعے سے وہ اس صحیح نتیجے تک پہنچ گئے تھے کہ یہ ابنِ درید ہی تھا جس نے عربی میں مستعار الفاظ کی بڑی تعداد میں نشان دہی کی تھی۔ پی ایچ ڈی کے مقالے کے شائع ہونے کے بعد جب صدیقی صاحب کو ہالینڈ کی لائیڈن لائبریری میں ابنِ درید کی ضخیم لغات جمھرۃ اللغہ کو دیکھنے کا موقع ملا تو ان کا سابقہ قیاس بالکل درست نکلا۔</p> <p>ابنِ درید کمال درجے کی مجتہدانہ بصیرت کا حامل تھا۔ یہی سبب ہے کہ وہ متعدد مقامات پر اپنے نامور پیشروؤں مثلاً الخلیل، سیبویہ، الاصمعی اور ابو عبیدہ کی تعبیرات سے اختلاف رکھتا تھا۔ صدیقی لکھتے ہیں کہ ”سِجِلّاط“ کے باب میں ابنِ درید، الاصمعی کے اس خیال سے متفق نہیں تھا کہ یہ لفظ فارسی سے مستعار ہے۔ اس کے تجسس نے اسے مجبور کیا اور اس نے ایک یونانی خاتون کو مذکورہ لفظ (سِجِلّاط دراصل ایک طرح کا کپڑا تھا) کی تفصیل بتا کر اس سے پوچھا کہ اسے یونانی (بازنطینی) کس نام سے پکارتے ہیں۔ خاتون نے جواباً کہا: سِجِلّاطس <annotation lang="en">(Sigillatus)</annotation>۔ ابنِ درید کی وسعتِ نظر اور لسانی تگ و تاز کا ذکر کرتے ہوئے صدیقی لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>He not only tries to sort out provincial and dialectical words and indicates the localities where they were in use originally, but also distinguishes sharply between the varions dialects of Arabic on one hand and the other semitic languages on the other, and it is only in respect of words from the latter, or, of course, from non-semitic languages that he uses the term معرّب ”Arabicized". A number of his statements show that Ibn Duraid had a clear idea as to from what sources and in what way loan-words came into Arabic.</p> </blockquote> <p>صدیقی صاحب چونکہ خودممتاز اور صاحب نظر محقق ہیں لہٰذا اُنھوں نے ابنِ درید کی غیرمعمولی لسانی بصیرت کے اعتراف کے باوجود لکھا ہے کہ عربی میں مستعار الفاظ کے باب میں بعض صورتوں میں اس سے اتفاق کرنا ممکن نہیں تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا طریقِ کار درست تھا۔ مقالے کے اخیر میں صدیقی صاحب نے ابنِ درید کی کتاب کی تیسری جلد کا وہ باب نقل کیا ہے جس میں مستعار الفاظ سے بحث کی گئی ہے اور وہ اقتباسات درج کیے ہیں جو مستعار الفاظ سے متعلق ہیں اور پوری کتاب میں جابجا موجود ہیں۔</p> <p>یہ بات معلوم ہے کہ تاریخی لسانیات کی مقتضیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس منہاج سے استفادہ کرنے والے کی عہد بہ عہد تاریخ اور جغرافیہ اور دیگر متعلقات پر بھی کافی ووافی نظر ہونی چاہیے۔ صدیقی ان تقاضوں سے خوب آگاہ تھے چنانچہ ان کی تحریروں سے جابجا تاریخی اور جغرافیائی معلومات پھوٹی پڑتی ہیں۔ وہ ’بغداد‘ کے نام کے پہلے حصے ”بغ“ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں بھولتے کہ اور بھی کئی قریے ایسے ہیں جن کا سابق ’بغ‘ ہے مثلاً ہرات اور مَرۡو کے درمیان ایک قصبہ بَغشُور (جسے صرف بَغ بھی کہتے ہیں)، ارمینیا میں ایک بغاوَند، ایک بَغرَوند۔ یہ اور اس طرح کے دیگر متعدد پیش کردہ نظائر سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدیقی صاحب لسانیات کے بین العلومی منہاج سے خوب واقف تھے۔ وہ عہدِ وسطیٰ کے مسلم مورخین و ادبا مسعودی، احمد ابن یحییٰ بلاذری، البیرونی اور یاقوت حموی وغیرہ کے علمی آثار سے استفادہ کر کے اپنی لسانی تحقیقات کو استوار کرتے تھے۔</p> <p>ابھی اوپر دبستانِ بصرہ کے نامور عالم ابنِ درید کیجمھرۃ اللغہ اور اس کے ان مباحث کا ذکر ہوا جو معرّبات سے متعلق تھے۔ خود معرّبات سے صدیقی صاحب کی دلچسپی قرار ناآشنا تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ آخروقت تک رہی تو غلط نہ ہوگا۔ ”معرّب لفظوں میں حرفِ ”ق“ کی حیثیت“ انھوں نے اپنی عمر کے آخری حصے (۱۹۶۱ئ) میں لکھا اور یہاں بھی تاریخی اور تقابلی تحقیق کا حق ادا کر دیا مثلاً اس مقالے کے آغاز ہی میں انھوں نے اپنے وسیع لسانی مطالعے کا ثبوت دیتے ہوئے لکھا کہ ”ق“ جس آواز کی نیابت کرتا ہے وہ تمام سامی زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ آریائی زبانیں اس حرف سے خالی ہیں تاہم ترکی اس سے مستثنیٰ ہے کہ غیر سامی ہونے کے باوجود اس میں ”ق“ کی صَوت موجود ہے (واضح رہے کہ ترکی بقول صدیقی نہ سامی زبان ہے نہ آریائی بلکہ تاتاری ہے)۔ اس مقالے سے اس دلچسپ حقیقت کا بھی پتا چلا کہ بعض اوقات کسی زبان کے متغیر ہوجانے والے لفظوں اور آوازوں کی محافظت ان کی اصل صورت میں کسی اور علاقے یا جغرافیائی خطّے کی زبان بھی کرتی ہے جیسے مثلاً ارمنی زبان میں فارسی لفظوں کی پرانی شکلیں محفوظ ہیں۔ ارمنی ایرانی زبان نہیں بلکہ اس علاقے کی زبان ہے جو ایران کے شمال مغرب میں آذر بائیجان سے ملحق ہے۔ صدیقی لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>فارسی زبان کے محققوں کو ارمنی سے بہت مدد ملی اور بہت سی کھوئی ہوئی کڑیاں مل گئیں چنانچہ جن لفظوں میں ’ک‘ یا ’گ‘ باقی نہیں رہا تھا ارمنی سے اس کا وجود یقینی ہو گیا۔ جو ’ک‘ سامی زبانوں میں ’ق‘ ہو گیا ہے وہ ارمنی میں ’ک‘ ہے اور جس ’گ‘ نے سامی میں ’ج‘ کا تلفظ اختیار کیا، ارمنی میں وہ اب بھی ’گ‘ ہے۔</p> </blockquote> <p>”معرّبات“ سے اسی غیرمعمولی لگاؤ کے پیش نظر صدیقی صاحب نے معرّباتِ عبدالرشید تتوی(م۔۱۰۷۷ھ) کا ایک قلمی نسخہ رام پور اسٹیٹ لائبریری سے ڈھونڈ نکالا۔ حیدرآباد دکن والا نسخہ ان کا اپنا مملوکہ تھا۔ انھوں نے اس کی ترتیب کا کام بقول ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی بیسویں صدی کے چھٹے عشرے کی ابتدائ میں شروع کر دیا تھا(رسالہ معرّباتِ رشیدی، کراچی، ص۷)۔</p> <p>معرّباتِ رشیدی کی تدوینِ نو (۲۰۰۳ئ، مرتّبِ ثانی: ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی) کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مرحوم صدیقی صاحب نے معرّباتِ رشیدی کو نسخۂ حیدرآباد (جو ان کا ذاتی نسخہ تھا اور ۱۹۲۱ئ میں اپنے قیام حیدرآباد کے زمانے میں انھیں ملا تھا) اور نسخۂ اسٹیٹ لائبریری رامپور کے تقابل کے بعد مدوّن کیا تھا۔ موخرالذکر نسخہ انھیں ۱۹۴۶ئ میں ملا تھا۔ انھوں نے اپنے حیدرآبادی نسخے کو اساسی نسخہ قرار دیا تھا مگر اسے بھی محققانۂ ژرف نگاہی سے جانچا اور آنکا تھا۔ ڈاکٹر شیرانی لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>انھوں نے نسخۂ ب (حیدرآبادی نسخہ) کو اساسی نسخہ قرار دیا لیکن آنکھیں بندکرکے اس پر اعتماد نہیں کیا۔ چنانچہ پاورقی (کذا) میں دونو نسخوں کے متن کا فرق دکھایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مختصر حواشی اور بعض کتابوں کے حوالے بھی درج کیے گئے ہیں۔ رسالہ ہٰذا کی تشریحی زبان فارسی ہے اس لیے مرتب نے حواشی بھی فارسی میں دیے ہیں۔ صرف ۲۹ صفحہ پرمعجم البلدان کا ایک مختصر اقتباس عربی میں ہے۔</p> </blockquote> <p>معرّباتِ رشیدی ۱۹۵۵ئ میں شائع ہوئی۔ اس میں وہ انگریزی دیباچہ شامل نہیں جو لکھا تو گیا مگر صدیقی صاحب کی غیرمعمولی مثالیت پسندی کے باعث خود ان کے لیے موجبِ اطمینان نہیں رہا تھا۔ اس کے کم و بیش دوبرس بعد آقاے محمد عباسی نے تہران سے فرہنگِ رشیدی شائع کر دی جس کے دوسرے حصے کے آخر میں انھوں نے اضافہ شدہ رسالہ معرّبات رشیدی بھی شامل کر دیا جو انھیں مخطوطے کی صورت میں دستیاب ہوا تھا۔ نسخۂ تہران کی اس اشاعت کے باعث صدیقی صاحب کو اپنے مطبوعہ نسخے پر نظرثانی کرنا پڑی چنانچہ انھوں نے اپنے نسخے پر نسخۂ تہران کی روشنی میں کچھ حواشی لکھے لیکن اپنی گوناگوں مصروفیات اور گرتی ہوئی صحت کے باعث وہ اُس نسخے کا اپنے نسخوں سے متنی تقابل کرنے کا حق ادا نہ کرپائے۔ یہ کام مرحوم مشفق خواجہ کے ایما پر جناب مظہر محمود شیرانی نے کیا اور حق یہ ہے کہ ان کی مساعی سے معرّباتِ رشیدی کی ایک اطمینان بخش تدوین اہلِ علم کے ہاتھ آئی۔ شیرانی صاحب نے صدیقی صاحب کے انگریزی دیباچے کا اردو ترجمہ بھی اپنی تدوین میں شامل کیا اور مرحوم کے جملہ حواشی بھی اپنے حاشیوں کے اضافے کے ساتھ شامل تدوین کیے۔</p> <p>معرّباتِ رشیدی مرتّبہ عبدالستار صدیقی کے مختصات کیا ہیں اور انھوں نے مؤلف عبدالرشید تتوی کے حالات اور اس کے علمی کارناموں کی تفصیل کے ضمن میں کیا لکھا اور اس پر مرتب ثانی نے کیا کیا اضافے کیے اس کی تفصیل کا یہ محل نہیں مگر اتنی بات اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ مرتب ثانی کی غیر معمولی تحقیقی کاوش جتنی بھی قابلِ داد سہی اس کی بنیاد گذاری بہرحال عبدالستار صدیقی ہی کے مبارک ہاتھوں سے ہوئی۔</p> <p>لفظ و لسان سے ڈاکٹر صدیقی کے عشق و انسلاک کے متعدد مظاہر ان کی اور بہت سی تحریروں میں بھی بخوبی دیکھے جاسکتے ہیں۔ مختلف فرہنگوں کے صحت و سقم پر بھی ان کی گہری نظر تھی اور یہ گہری نظر دراصل متعدد زبانوں کے عمیق مطالعے کا حاصل تھی۔ ”ہندستان بغیر واؤ کے صحیح ہے“ نامی مقالے میں، جس سے پہلے بھی استشہاد کیا جاچکا ہے، ایک جگہ تین بڑی اہم فارسی فرہنگوں فرہنگِ جہانگیری، برہانِ قاطع اور بہار عجم کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ انھیں مستند مانتے ہیں مگر ان کے بعض مشمولات کو قابلِ اصلاح سمجھتے ہیں۔ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>فرہنگ جہانگیری کی فروگذاشتوں کی تلافی کی غرض سے فرہنگِ رشیدی تصنیف ہوئی۔ برہانِ قاطع پر غالبؔ نے اعتراضوں بلکہ خوردہ گیریوں کی بوچھار کی۔ کتنے جواب اور جواب الجواب لکھے گئے۔۔۔ ناصرالدین شاہ قاچار کے عہد میں رضاقلی خاں ہدایتؔ (صاحبِ تذکرۂ مجمع الفصحا) نے یہ کوشش کی کہ ٹکسالی فارسی کا ایک لغت ترتیب دے۔ اسی کوشش کا نتیجہ ہے فرہنگِ انجمن آراے ناصری۔ کتاب کے طویل مقدمے میں مصنف نے اپنے پیشرولغت نویسوں کی غلطیاں چُن چُن کر گنائی ہیں اور فرہنگ کے متن میں بھی جابجا اَوروں کی لغزشوں کا ذکر کیا ہے۔ رضاقلی خاں کی کتاب اس لحاظ سے زیادہ مستند خیال کی جاتی ہے کہ اس کے پیشِ نظر متقدمین، متوسّطین اور متاخّرین کی تصنیفوں کا بیش قرار ذخیرہ تھا اور اس نے ایران میں بیٹھ کر فارسی کا لغت لکھا جو اس کی زندگی ہی میں چھپ بھی گیا۔</p> </blockquote> <p>جس زمانے میں ڈاکٹر سید عبداللہ نوادرالالفاظ (آرزوؔ) کی تدوین کر رہے تھے، ڈاکٹر صدیقی نے جس اخلاص اور جانکاہی سے سید صاحب کی رہنمائی کی اس کی تفصیل خود سید عبداللہ نے نوادرالمکاتیب کی تمہید میں فراہم کر دی ہے۔ نوادرالالفاظ کے متنازع فیہ الفاظ کی ترتیب دادہ فہرست کے اُن الفاظ کے تلفظ اور ان کے متروک اور مروّج معانی کی صدیقی صاحب نے غیر معمولی تحقیق کی اور اس ضمن میں متعدد پیشہ وروں سے مل کر ان الفاظ کی گرہیں کھولیں۔ نوادرالالفاظ کے مقدمے میں سید عبداللہ کے اس اعتراف میں کوئی مبالغہ نہیں سمجھنا چاہیے جب انھوں نے لکھا کہ عبدالستار صدیقی (اور عرشی) کی مراسلتیں اگر شائع کر دی جائیں تو اہلِ علم کے لیے یہ مراسلتیں بجاے خود غرائب اللغات اور نوادرالالفاظ بن جائیں۔ بعدازاں جب سید صاحب نے نوادرالمکاتیب کے زیر عنوان ان خطوں کا ایک حصہ اردو نامہ، کراچی میں شائع کر دیا تو واقعی ان کے مذکورہ قول کی تصدیق ہو گئی۔ صرف چند ایسے مقامات ملاحظہ فرمائیے:</p> <blockquote> <list> <li>کباب کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بڑی قسمیں دو ہیں۔ ایک وہ جو سیخ پر بھونے جاتے ہیں یعنی قیمے کو مہین پیس کر اور نمک اور مسالہ لگا کر سیخ پر لپیٹ دیتے ہیں اور پھر سیخ کو آگ دکھاتے جاتے ہیں اور پھریری سے تھوڑا تھوڑا گھی چپڑتے جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو کڑھائی میں ڈال کر تلے جاتے ہیں یعنی شامی کباب، شکم پر کباب وغیرہ۔ اس دوسری قسم کے کباب کو الٹنے کے لیے ایک آلہ استعمال ہوتا ہے جس کی شکل ارّے کی سی ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ کہ ڈنڈی چھوٹی ہوتی ہے۔ شکل کی مناسبت سے قرینِ قیاس ہے کہ اسے بھی اس زمانے میں ارّا کہتے ہوں (اور فارسی کتابت کے اثر سے ”ارّہ“ لکھتے ہوں)۔</li> <li>میں نے لکھنؤ سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں کے نانبائی تنور میں سے روٹی نکالنے کے دونوں آلوں کو جو ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں ”جوڑی“ کہتے ہیں۔ وہ سیخ جس کا ایک سرا چپٹا (کھرپی کی شکل کا) ہوتا ہے ”ارّا“ کہلاتی ہے اور دوسری سیخ جس (کی) نوک مڑی ہوئی ہوتی ہے ”طوطا“ (یعنی توتا) کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ یہ تو نانبائیوں کی اصطلاحیں ہوئیں۔ بسکٹ بنانے والوں سے دریافت کیا گیا۔ میرا پرچہ نویس لکھتا ہے کہ بسکٹ والوں کے ہاں ایک آلہ ہے جسے ”ارا“ (بلاتشدید) کہتے ہیں مگر اس آلے سے جلانے کی لکڑی تنور میں ڈالتے ہیں۔ ظاہر ہے بسکٹ پکانے والوں کی اصطلاحیں مستحدث ہوںگی۔ اصل وہی نانبائیوں کی اصطلاحیں ہیں۔</li> <li> ”پٹا دینا“۔ اس زمانے میں ”پٹی دینا“ ورغلانے یا دھوکا دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگلے زمانے میں ”پٹّا“ ہوگا۔ لفظ وہی ہے۔ ”پٹی پڑھانا“ بھی بولتے ہیں۔</li> <li> ”پھرت“، وہ چیز جو پھردی جائے۔ زرِ ناسرہ بھی صرّاف پھیر دیتا ہے، قبول نہیں کرتا۔ </li> <li> ”پتا دیولی“، اسی طرح لکھا ہے۔ اس کے دو مرادف (فارسی) لکھے ہیں ایک پِرِستُوک (اور پِرِ ستُواور پِرِ ستُک) دوسرا بادخورک۔ اصل عبارت یہاں نقل کرتاہوں: ”پتادیولی مرغکِ سیاہ کہ پیوستہ درپرواز باشد و آنرا پاپیل (کذا) نیز گویند بادخورک ببائِ موحدہ و پرستوک و پرستووپرستک ہرسہ ببای فارسی و سینِ مہملہ و(ضمِ) فوقانی“ ”پاپیل“ ظاہرا ”ابابیل“ کی تصحیف ہے۔ عربی لفظ ابابیل کو ہندستانیوں نے غلط طور پر ایک خاص پرندہ سمجھا اور اردو میں پرستوک (=وطواط = <annotation lang="en">Swallow</annotation>) کو ابابیل کہنے لگے۔ بادخورک وہ سیاہ پرندہ ہے جو ہوا میں رہتا ہے اور ہوا ہی اس کی خورش ہے۔ فارسی فرہنگ نویسوں نے اکثر پرستوک اور بادخورک کو ایک جانا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بادخورک ایک افسانوی پرندہ ہے اور اسی لیے بعضے فرہنگ نگاروں نے اسے ’ہما‘ کا مرادف قرار دیا ہے۔ </li> </list> </blockquote> <p>اوپر کے اقتباسات سے بہ آسانی اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صدیقی لفظ و لغت کے کھوج میں کتنا لمبا سفر کرنے کے قائل تھے۔ ”پتادیولی“ کی تشریح میں وہ فارسی فرہنگوں سے استشہاد کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کم و بیش سارے ہی فارسی فرہنگ نویس پرستوک / پرستو اور بادخورک /بادخور کو ایک جانتے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو پایا کہ کون سے فرہنگ نگاروں نے بادخورک کو ’ہما‘ کا مرادف قرار دیا ہے۔ برہانِ قاطع، غیاث اللغات، فرہنگِ معین اور لغت نامۂ دھخدا، سے لے کر فرہنگِ عمید اور تازہ ترین قابلِ قدر فرہنگ یعنی فرہنگ بزرگِ سخن (دکتر حسن انوری) تک دیکھ جائیے پرستو/پرستوک/ بادخورک کے حوالے سے متعدد حیران کن تفصیلات ملیں گی مگر کہیں یہ نظر نہ آئے گا کہ بادخورک ’ھما‘ کے مترادف ہے۔ لغت نامۂ دھخدا تو دراصل تمام اہم لغات کا جامع ہے مگر اس میں بھی مذکورہ حوالہ نہ مل پایا۔ علاوہ ازیں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ پرستو/پرستوک میں ’پ‘ اور ’ر‘ کو لغت نویسوں نے کسرہ اور فتحہ دونوں سے لکھا ہے۔ بے محل نہ ہوگا اگر چند اہم فرہنگوں سے مذکورہ الفاظ کے معانی درج کر دیے جائیں:</p> <blockquote> <list> <li>ادخورک: مرغکی است سیاہ و کوچک واو پیوسہ در پروازمی باشد، گویند غذای او باداست و اگر در جای نشیند دیگر نتواند برخاست و بعضی گویند ابابیل ھمان است“۔ برہانِ قاطع، ص۱۴۴۔</li> <li>پرستو: بکسرِ اول و ثانی و سکون ثالث و ضمِ فوقانی و واوِ ساکن۔ بمعنی پرستک است کہ خطّاف باشد و بعضی گویند پرستو و طواط است کہ آن خطافِ کوھی باشد“ __ برہانِ قاطع، ص۲۴۸۔</li> </list> </blockquote> <p>اسی لغت میں پرستو کے بعد پرستوک کے تحت اوپر کے معانی درج کرنے کے بعد اس پرندے کے بارے میں کچھ محیرّالعقول باتیں لکھی ہیں جنھیں اُسطور کا درجہ دیا جاسکتا ہے مثلاً لکھا ہے کہ جب چاند بڑھ رہا ہو اور پرستو کے پہلے بچے کو پکڑ کر اس کا پیٹ چاک کریں تو اس میں سے دو سنگریزے نکلیں گے۔ ایک تو یک رنگ اور دوسرا رنگا رنگ۔ جب اسے (یا انھیں) بچھڑے یا پہاڑی بکرے کی کھال میں لپیٹ کر (اس پر گرد و غبار پڑنے سے پہلے) کسی مصروع (مرگی کے دورے میں مبتلا) کے بازو پر باندھ دیں یا اس کی گردن میں حمائل کر دیں تو مرگی کا مرض جاتا رہے گا اور کہتے ہیں کہ اگر دو ابابیلیں (پرستوک) ایک نر ایک مادہ پکڑ کر ان کے سر آگ میں جلا کر شراب میں ڈال دیں تو جو بھی وہ شراب پیے گا ہرگز مست نہ ہوگا اور اگر اس کا خون عورتوں کی خوراک میں شامل کر کے انھیں کھلا دیا جائے تو ان کی شہوت جاتی رہے گی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ ص۲۴۸</p> <blockquote> <list> <li> پرستُو /پِرِسۡتُگ: طائر یست کوچک و سیاہ کہ در سقف و عمارات پختہ (؟) از پرھا آشیانہ سازد و باسمِ ابابیل شھرت دارد“ غیاث اللغات، ص۱۶۸ (بحوالۂ برہان و جہانگیری)</li> <li>باد خورک کی وضاحت میں لغت نامہ دھخدا میں لکھا ہے کہ اس کا ایک نام زازال بھی ہے (بحوالۂ ناظم الاطبا، ص۲۲۴)۔ ایک مترادف بادخوار بھی دیا ہے اور دوسرا پرستو۔ پرستو کی وضاحت میں دھخدا میں وہ طویل عبارت لفظاً لفظاً درج کر دی گئی ہے جو برہان میں ہے اور پھر جہانگیری سے دو شعر بھی نقل کیے ہیں جن میں دوسرے کا مفہوم برہان نے بھی بیان کیا ہے۔ شعر یہ ہیں: <blockquote> <verse> از پرستوک اگر خوری لحمش دیدہ را روشنی کند (شود؟) حاصل خون اورا، چوزن بیاشامد شہوتِ زن ہمہ کند زایل </verse> </blockquote> ص۲۱۴۔</li> <li>رستو: فرہنگِ معین میں اس کے کئی قدیم مترادف بھی دیے ہیں یعنی پرستوک، پرستک، فرستک، فراستوک، فراشتوک فراشتر، فراشتروک۔ ان کے علاوہ دیگر مترادفات میں چلچلہ، زازال، ابابیل، بلوایہ، پیلوایہ اور خطاف بھی گنوائے گئے ہیں، جلد اول، ص۷۴۱۔ واضح رہے کہ فرہنگ معین میں بادخورک کو پرستو کے مرادف یا مترادف قرار نہیں دیا گیا۔</li> <li>فرہنگِ عمید میں پرستو کے کچھ اور مترادفات مثلاً فرشتوک، بلسک، بالوایہ، بالوانہ، پالوانہ، پیلوانہ، دالیوز اور باسیچ بھی دیے گئے ہیں ___ فرہنگ عمید جلد اول، ص۴۵۱۔</li> </list> </blockquote> <p>اس قدر تفصیل میں جانے اور قارئین کی ”چشم خراشی“ پر معذرت!</p> <p>لفظ و فرہنگ سے ڈاکٹر صدیقی کی وسیع دلچسپی کے ذیل میں دو اقتباسات مزید ملاحظہ فرمائیے:</p> <blockquote> <list> <li> ابھی تک اتنی فرصت نہیں ملی کہ انشا کی ترکی کی گتھیاںسلجھانے کی کوشش کروں۔ وہ جو ملّاحوں کی بولی کی نقل اتاری ہے وہ بنگال کے ملاحوں کی نقل ہے۔ بنگالی زبان کی بہت ہی عام چیز یہ ہے کہ آپ کا ہر فتحہ ان کے ہاں ضمّہ ہو جاتا ہے اور اکثر کسی قدر اِشباع کے ساتھ اور کبھی پورا و ہو کر ان کی زبان سے نکلتا ہے جیسے گھر کو گھور اور گنگا کو گونگا کہتے ہیں۔ انشا پیدا ہی بنگال میں ہوئے تھے۔ ملاحی کا پیشہ کرنے والے بنگال میں مسلمان ہی ہیں اس لیے یہ بہت قرینِ قیاس ہے کہ بنگال کے ملاح مراد ہیں۔</li> <li>کھانے سب تو نہیں جو سامنے تھے ہو چکے۔ ایک لذیذ چیز رہ گئی۔ اودھ کے قصبوں میں ”جھجلے“ پکتے ہیں اور اودھ ہی میں کہیں کہیں ان کو ”شیرازے“ بھی کہتے ہیں۔ عربی میں پانی نچوڑے ہوئے دہی یا پنیر کو ”شیراز“ کہتے ہیں اور جمع دو طرح پر آتی ہے ”شراریز“ اور ”شواریز“۔ برہانِ قاطع میں لکھا ہے کہ بعضوں نے اس لفظ کو عربی بتایا ہے۔ عربی لغت کی کتابوں میں اسے فارسی بتایا ہے اور یہی صحیح ہے۔ فارسی میں علاوہ پنیر کے بعض مٹھائیوں، مربّے اور اچار کو بھی کہتے ہیں۔ ”جھجلے“ بھی میٹھی چیز ہے۔ معلوم نہیں ایران کی کس خاص مٹھائی کی مشابہت سے ”شیرازے“ نام پڑا۔</li> </list> </blockquote> <p>”جھجلے“ کی کچھ اور دلچسپ تفصیل صدیقی صاحب نے اپنے بہت معلومات افزا مضمون ”کچھ بکھرے ہوئے ورق“ مشمولہ ہندستانی میں بھی دی ہے۔ یہ تفصیل لطیف احمد عثمانی بلگرامی کی مختصر سوانح کے ذیل میں دی گئی ہے جو غالب سے اپنے کلام پر اصلاح لیتے تھے۔ صدیقی لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>ایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ لطیف ایک بار اپنے استاد( غالبؔ) سے ملنے دلی گئے تو ان کے لیے بلگرام سے ”جھجلے“ پکوا کر ساتھ لے گئے۔ غالبؔ کو یہ مزیدار چیز ایسی پسند آئی کہ سولہ سترہ شعر اس کی تعریف میں کہہ ڈالے جن میں سے صرف ایک ہی اب لوگوں کو یاد رہ گیا ہے: خوشا لذتِ جھجلۂ بلگرام۔ کہ شبنم از و تازگی کردوام</p> </blockquote> <p>گمان ہے کہ ”جھجلے“ کی لذت کے اسیر غالبؔ ہی نہیں صدیقی صاحب بھی تھے۔ تبھی تو مذکورہ اقتباس کے حاشیے میں اس کے اجزائے ترکیبی اور اس کے بنانے کا طریقہ تک بیان کر دیا:</p> <blockquote> <p>یہ لذیذ پکوان اودھ کے اکثر قصبات میں عام ہے۔ ماش کی دال کو سِل پر پیستے اور چھان پھینٹ کر اس کے چھوٹے چھوٹے گلگلے بناتے ہیں اور انھیں گھی میں تل کے قوام یا دودھ میں ڈال دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر ان کو ”شیرازے“ اور کہیں ”نازکیاں“ بھی کہتے ہیں۔</p> <p>(حاشیہ ہندستانی، ص۴۸۲)</p> </blockquote> <p>کیا معلوم کہ جب میرؔ نے ذیل کا شعر کہا ہوگا تو اس میں ”نازکی“ کے لفظ میں شیرینی لب کے ساتھ ساتھ ”شیرازے“ کی شیرینی اور لذت بخشی کا ایہام بھی رکھا ہو (آخر عمر کا طویل حصہ اُنھوں نے اودھ ہی میں بسر کیا تھا):</p> <blockquote> <verse> ناز کی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے </verse> </blockquote> <p>قابلِ مبارک باد ہیں ڈاکٹر صدیقی جیسے زبان شناس جنھوں نے اردو کے کتنے ہی گم شدہ خوابیدہ الفاظ کو قم باذن اللہ کہہ کر جگایا اور ہماری تہذیبی توسیع کا سروسامان کیا! کیا ہم ’مشکل خواں‘، ’چاشنی گیر‘ (نمونہ گیر) ’سود اور‘ (سوداگر)، ٹاٹ بافی، ’میدہ سالار‘، ’مائدہ سالار‘ (چاشنی گیر)، ’جھجلے‘ اور ’شیرازے‘ ایسے غیر معمولی الفاظ کو بھول نہیں گئے تھے؟</p> <p>املا اور صحتِ املا کے باب میں بھی ڈاکٹر صدیقی کی کاوشیں قابل داد ہیں۔ صحتِ املا کے ضمن میں وہ ان اصحاب میں سے ہیں جن پر سابقون الاوّلون کی ترکیب کا اطلاق ہوتا ہے۔ وہ اس خیال کے زبردست علمبردار تھے کہ اردو املا کی معیار بندی ضروری ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ہر معاشرے میں بڑا گروہ مقلدوں اور عادت کے بندوں کا ہوتا ہے اور تدارک یا اصلاح کی ذمہ داری اہلِ تحقیق پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اس خیال کے مؤیّد تھے کہ اہلِ تحقیق املا کے لیے قواعد سازی کریں۔ اس ضمن میں انھوں نے جو نہایت اہم تجاویز پیش کیں وہ ان کے ایک قابلِ قدر مقالے ”اردو املا“ اور بعض دیگر تحریروں میں موجود ہیں۔ انھوں نے بجا طور پر اس امر پر اصرار کیا کہ ہندی لفظ ہو تو اسے ہ کے بجائے الف پر ختم ہونا چاہیے سواے مقاموں کے ناموں کے مثلاً پٹنہ، آگرہ وغیرہ۔ اسی طرح ان لفظوں کے آخر میں بھی الف لکھا جانا چاہیے جو ایک اردو اور ایک فارسی یا عربی جُز سے بنے ہوں جیسے تماہا، پچرنگا، وغیرہ۔ وہ اسم جو اِفتِعال یا استفعال کے وزن پر مصدر ہیں اور ان کے آخر میں الف کے بعد ہمزہ ہے، یہ فارسی اور اردو میں گر جاتا ہے اور ایسے لفظوں کو مندرجہ ذیل صورت میں لکھا جانا چاہیے: ابتدا، ارتقا، اِقتدا، اِسۡتِقرا، استقصا وغیرہ۔</p> <p>صحت املا کے ضمن میں ڈاکٹر صدیقی کی ایک اور اہم تجویز یہ تھی کہ مختفی ہ پر ختم ہونے والے مذکر اسم جب واحد محرف حالت میںہوں تب بھی ان کا تلفظ وہی ہوتا ہے جو جمع قائم کی حالت میں ہوتا ہے ایسی صورت میں ”میں مدرسہ جاتا ہوں“، ”شیر کے پنجہ میں بڑی طاقت ہوتی ہے“ کے بجاے یوں لکھنا قرین صحت ہوگا: ”میں مدرسے جاتا ہوں“، شیر کے پنجے میں بڑی طاقت ہوتی ہے“ وغیرہ۔</p> <p>ہمزے کے سلسلے میں صدیقی صاحب کا موقف یہ تھا اور بالکل درست تھا کہ اردو میں ہمزہ الف کا قائم مقام ہے لہٰذا جب دو حروفِ علت اپنی الگ الگ آواز دیں تو ان کے درمیان ہمزہ آتا ہے جیسے آئو، جائو، گائ و، مگر بھاو تاو، کھاو، کڑھاو میں ہمزہ غیر ضروری ہے۔ اسی طرح لیے، دیے، کیے میں بھی ہمزہ غیر ضروری ہے۔ صدیقی صاحب تمام عمر اپنی تحریروں میں الگ الگ آواز دینے والے دو حروفِ علت کے درمیان ہمزہ لکھتے رہے جیسے تم آئ و تو آم لیتے آئ و، وغیرہ مگر اردو دنیا نے ان کے اس صحیح موقف کو قابل قبول نہ سمجھا اور ہمزے کو ہمیشہ و کے اوپر علامت کے طور پر استعمال کیا یعنی تم آؤ تو آم لیتے آؤ۔ جب جاؤ مجھے بتا کر جاؤ وغیرہ۔</p> <p>ہمزے ہی کے ضمن میں ان کا یہ قول بھی صحیح تھا کہ ایرانیوں کے یہاں ہمزہ بہت کم استعمال ہوتا ہے اور وہ معمولاً ہمزے کی جگہ ی استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ اردو زبان میں ہمزے کا چلن بہت ہے لہٰذا ایرانیوں کی پیروی کے بجاے عربی لفظوں کو جواردو میں مستعمل ہوتے ہیں، ہمزے سے لکھنا چاہیے جیسے تائب، قائل، سائل، حقائق، خائن، شائع وغیرہ۔ ان کا یہ کہنا بھی اپنے اندر بڑا وزن اور صداقت رکھتا تھا کہ راے، جاے، خداے وغیرہ پر ہمزہ نہیں آنا چاہیے۔ علاوہ ازیں جب کسی لفظ کے آخر میں ہاے مختفی آئے اور وہ لفظ کسی دوسرے لفظ سے مل کر مرکب بنا رہا ہو تو ہاے مختفی پر ہمزہ لانا چاہیے نہ کہ کسرہ جیسے مثلاً درجۂ عالی، تودۂ خاک وغیرہ۔</p> <p>رشید حسن خاں نے اپنی کتاب اُردو املا میں جابجا عبدالستار صدیقی کی لسانی بالغ نظری اور اُردو املا کے باب میں ان کے مجتہدانہ مگر متوازن نقطۂ نظر کی توصیف کی ہے۔ ان کی اُردو املا پر جگہ جگہ صدیقی صاحب کا فیضان کارفرما نظر آتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے اس کتاب کا انتساب بھی صدیقی صاحب ہی کے نام کیا۔ اُنھوں نے اس کتاب میں کئی مقامات پر عبدالستار صدیقی کی اُردو املا کی معیار بندی کے سلسلے کی خدمات کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>اس زمانے میں ڈاکٹر عبدالستار صدیقی مرحوم واحد شخص تھے جنھوں نے اس موضوع کا مستقل موضوع کی حیثیت سے مطالعہ کیا اور بار بار لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی۔ رسالہ ہندستانی، رسالہ اردو، رسالہ معیار میں ان کے نہایت اہم مضامین محفوظ ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف کتابوں کے تبصروں اور مقدموں میں بھی وہ ان مسائل کا بار بار ذکرکرتے رہے۔ ان میں مقدمۂ کلیاتِ ولیؔ، مقدمۂ خطوطِ غالبؔ (مرتّبہ منشی مہیش پرشاد) تبصرۂ مکاتیبِ غالبؔ (مرتّبہ عرشی۔۔۔) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے خطوں میں انھوں نے املا کے مسائل و اغلاط کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا۲۷۔۔۔ انجمن ترقیِ اُردو نے اصلاح املا کی تجاویز کو جس انداز سے مرتب کیا تھا۔۔۔ اور جس طرح اس موضوع کو اہمیت دی تھی، اس میں ڈاکٹر صاحب مرحوم کی کاوشوں کو بہت زیادہ دخل تھا۔</p> </blockquote> <p>یہ وہ زمانہ تھا جب اردو املا کے سلسلے میں بعض نہایت مضحکہ خیز تجاویز (مثلاً یہ کہ اردو میں ایک آواز کے لیے ایک ہی حرف ہونا چاہیے، س، ث، ص ان تین حرفوں میں سے س کو باقی رکھا جائے وغیرہ وغیرہ) انقلابی تجاویز کے طور پر سامنے لائی جارہی تھیں۔ رشید حسن خاں اعتراف کرتے ہیں ایک زمانے میں وہ خود ان تجاویز کے پھیر میں آچکے تھے مگر ڈاکٹر عبدالستار صدیقی کی ”فہمائش اور تعلیم نے اُس ’جہادِ کم نظری‘ کے پیچ و خم سے نجات دلائی“ (اردو ملا، ص۲۹)۔ خان صاحب نے صدیقی صاحب کو املا کے موضوع پر ”استادِ کل“ قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو املا کے سلسلے میں ڈاکٹر عبدالستار صدیقی اور ان سے کچھ پہلے احسنؔ مارہروی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ البتہ اُردُو دنیا کی بدقسمتی ہے کہ املا کے سلسلے میں وہ اب تک دوعملی کا شکار ہے۔</p> <p>یہ بات معلوم ہے کہ ڈاکٹر صدیقی بنیادی طور پر عربی زبان و ادب کے آدمی تھے۔ عربی زبان و لسانیات سے انسلاک کے باوجود وہ اردو زبان و ادب سے بھی اٹوٹ وابستگی رکھتے تھے اور اردو زبان کے الگ اور منفرد تشخص کے نہ صرف قائل تھے بلکہ اس پر اصرار بھی کرتے تھے۔ اس ضمن میں منجملہ اور موارد کے وحید الدین سلیم کی وضعِ اصطلاحات پر ان کا نہایت مفصل ریویو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں وہ اردو کو ترقی دینے کے لیے جو تجاویز دیتے ہیں ان میں کتابوں کے ناموں، بابوں اور فصلوں کے عنوانوں کے لیے اردو تراکیب کے استعمال کی ترغیب دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کتاب کے ابواب کی گنتی بابِ دوم بابِ سوم وغیرہ کے بجائے دوسرا باب تیسرا باب کی صورت میں ہونی چاہیے تاکہ اُردو کے اُردو پن کو نہ صرف برقرار رکھا جا سکے بلکہ اسے تسلسل دیا جا سکے۔ ”بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق“ کے زیرعنوان اپنے معروف مضمون کے آخر میں زیرِسطح وہ ان حضرات سے ناخوش نظر آتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ اُردو الفاظ و تراکیب استعمال نہیں کرتے بلکہ ایسے الفاظ و محاورات کی تعریب بھی کرڈالتے ہیں۔ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>بنگال کے بعض مسلمان بزرگوں کو میں نے ’غول مال‘ بولتے سنا ہے۔ گول مال کی شاید تعریب فرمائی ہے۔ دور کیوں جائیے خود ہمارے ہاں ایسے لوگ ابھی موجود ہیں جو ’بیگم‘ کو ’بیغم‘ اور ’کاغذ‘ کو ’قاغذ‘ بولتے ہیں۔</p> </blockquote> <p>اُردو کے اردو پن پر اسی اصرار کے باعث وہ مکتوب الیہم کو ”مکتوب الیہوں“ (”مکتوب الیہوں کے حالات جمع کر کے شائع کیے جائیں“۔ تحقیق شمارہ ۱۲،۱۳: ص۳۳۷) لکھتے ہیں اور فارسی اور عربی کے ان لفظوں کو جو سہ حرفی ہیں اور درمیان کے حرف کے سکون کے ساتھ ہیں مثلاً فِکۡر، شَمۡع، تحۡت، شہر وغیرہ، ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ لفظ بچلے حرف کی حرکت کے ساتھ فصیحوں کی زبان پر جاری ہیں اور یہی صحیح ہیں۔ یوں کہہ کر وہ ولی کے اس طرح کے تلفظ کردہ لفظوں کا دفاع کرتے ہیں اور اس ضمن میں ناصرؔ علی سرہندی کا ایک مصرع بطور حوالہ درج فرماتے ہیں:</p> <blockquote> <verse> بتِ فرنگی بہ قتلِ ہمنا رکھے جو پُر چیں جبیں دمادم </verse> </blockquote> <p>اور عربی لفظ کی ہندی لفظ سے ترکیب دینے پر مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہاں دو امور کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ زبان کے تشکیلی دور کے شعرا، آج جب اردو زبان بہت منجھ چکی ہے، ہمارے لیے سند نہیں بن سکتے۔ دوسرے یہ کہ سہ حرفی لفظوں مثلاً عقل، شہر، تحت وغیرہ کا درمیانی حرف کی حرکت کے ساتھ فصحا کی زبانوں پرجاری ہونے کا دعویٰ بھی محل نظر ہے اور اگر ایساہے بھی تو یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ ان الفاظ کو حرکت کے ساتھ ہی قبول کر لیا جائے۔ تقریر کی زبان اور تحریر کی زبان میں یوں بھی فرق ہوتا ہے اور ہمیشہ رہا ہے۔ اگر ولیؔ دکنی، ناصرؔ علی سرہندی یا تشکیلی دور کے دیگر شعرا کے نظائر ہمارے لیے سند ہو سکتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ممتاز لغت نگاروں (مثلاً سید احمد دہلوی، نورالحسن نیّر کاکوروی یا صاحبِ فرہنگِ شفق) نے انھیں بطور مثبت امثال و نظائر کے برتا ہے؟ میرے خیال میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ اگر برتا بھی ہو تو یہ لکھ دینے کا اہتمام ضرور موجود ہے کہ اب یہ لفظ یا ترکیب متروک ہے یا قوسین میں وضاحت موجود ہے کہ غلط العوام ہے جیسا مثلاً فوق البھڑک وغیرہ۔</p> <p>ڈاکٹر صدیقی کو اردو زبان اور اس کے لسانی مسائل و معاملات کے ساتھ ساتھ اس کے ادبیات سے جو غیرمعمولی ربط و تعلق تھا، امتیاز علی عرشی کے نام ان کے بعض مکاتیب اس پر شاہد ہیں مثلاً ایک خط میں خواجہ احسن اللہ دہلوی بیانؔ (یا بہ روایت دیگر خواجہ احسن الدین خان بیانؔ)کے مختصر دیوان کا ذکر کرتے ہیں جس میں شامل دو مثنویاں ”چپک نامہ“ اور ”تعریف چاہِ مومن خاں“ کلیاتِ سوداؔ کے نولکشوری ایڈیشن میں بھی الحاقی طور پر شامل ہیں۔ صدیقی صاحب کے پاس مذکورہ دیوان کا وہ نسخہ تھا جو خود شاعر کا اصلاح کردہ تھا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ نسخہ کس قدر اہم تھا۔ افسوس صدیقی صاحب اس کی تدوین نہ کر سکے۔</p> <p>اردو ادب ہی کے ایک زندہ اسم اسد اللہ خاں غالبؔ سے بھی صدیقی صاحب کو گہرا لگاؤ تھا۔ انھوں نے غالب کی بعض نایاب تحریریں اپنے مقالے ”کچھ بکھرے ہوئے ورق“ میں شائع کی تھیں۔ اس مقالے میں منجملہ اور تحریروں کے غالب کے بعض اہم خط اور فسانۂ عجائب پر ان کی تقریظ شامل تھی۔ صدیقی صاحب نے ان تحریروں پر بہت عمدہ حواشی بھی لکھے تھے۔ انھوں نے خطوطِ غالبؔ مرتّبہ مہیش پرشاد کی جلد اول پر نظر ثانی بھی کی تھی اور اس پر مقدمہ بھی لکھا تھا۔ علاوہ ازیںانشاے غالبؔ پر اُن کے مفصل اور مفید حواشی ”کچھ اور بکھرے ورق“، ”غالبؔ کے خطوں کے لفافے“ مکاتیبِ غالبؔ (مرتبہ امتیاز علی عرشی) پر مفصل تجزیاتی مقالہ، ”دہلی سوسائٹی اور مرزا غالبؔ“ ___ یہ سب غالبیات میں نادر اضافوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور غالب کی شخصیت و فکر کے تہہ رس مطالعات کی برہان مہیا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے کچھ مکاتیب میں بھی صدیقی صاحب نے غالب کے بعض لسانی معتقدات کے باب میں اپنا زاویۂ نگاہ بڑی صراحت سے بہ دلائل بیان کیا ہے۔ غالبؔ پر ان تحریروں کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ صدیقی صاحب نے اُن کے باب میں کیسے کیسے اہم جزئیوں کو اِن تحریروں میں محفوظ کر لیا ہے مثلاً ”کچھ اور بکھرے ورق“ میں غالب کے ایسے مکاتیب شائع کیے گئے جو اب تک غیر مطبوعہ تھے۔ ان مکاتیب کے اصل متن خود غالبؔ کے اتھ کے لکھے ہوئے تھے جو صدیقی صاحب کے ہاتھ آئے۔ ”غالبؔ کے خطوں کے لفافے“ بظاہر ایک غیر اہم موضوع ہے لیکن اس سے بھی صدیقی صاحب نے کتنے اہم نکتے نکالے ہیں مثلاً یہی کہ ان لفافوں کو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ غالبؔ نے جس طرح اپنی مکتوباتی تحریروں میں زوائد کو ترک کر دیا تھا، لفافوں پر پتے کی عبارت میں بھی رفتہ رفتہ اختصار پیدا کر لیا تھا۔ پھر اپنے زمانے کے عام دستور کے خلاف غالبؔ بعض اوقات بجاے فارسی کے اردو میں پتے لکھا کرتے تھے وغیرہ۔ مکاتیبِ غالبؔ پر صدیقی صاحب کا مفصل ریویو پڑھنے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاصرین کی تحریروں کو بھی کیسی عمیق تنقیدی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کے محاسن کے دوش بدوش ان کی خامیوں اور کوتاہیوں سے بھی صرفِ نظر نہیں کرتے تھے۔ یہ مفصل تبصرہ بتاتا ہے کہ معیاری تدوین کے تقاضے کیا ہوتے ہیں، املا میں کن اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے، واقعاتی غلطیوں سے کیسے بچا جاسکتا ہے، حواشی کی طوالت کتنی ہونی چاہیے، بعض خاص اسما (معرفہ) کے سابقے کے سلسلے میں کیا احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے۔ صدیقی صاحب نے اپنے بڑے دلچسپ اور نہایت معلومات افزا مضمون ”دہلی سوسائٹی اور مرزا غالبؔ“ میں بتایا ہے کہ اُنیسویں صدی کے دوسرے نصف میں سانحۂ ستاون کے چند برس بعد جو بہت سی علمی انجمنیں وجود میں آئی تھیں ان میں ایک دہلی سوسائٹی بھی تھی۔ اس کے بارے میں معلومات کا واحد ماخذگار سیں دتاسی کی تحریریں تھیں مگر ان میں سوسائٹی کے بارے میں معلومات بیشتر تشنہ اور کہیں کہیں غلط تھیں۔ خوش قسمتی سے پنڈت کیفی کے توسط سے صدیقی صاحب کو سوسائٹی کے شائع کردہ چار شمارے دیکھنے کو مل گئے جن میں سوسائٹی کی سرگرمیوں کی تفصیلات اور بعض تحریریں چھپی تھیں جو اس سوسائٹی میں پڑھی گئی تھیں۔ سوسائٹی کی بنیاد اس زمانے کے دلی کے کمشنر کرنل ہملٹن کی تحریک سے پڑی اور اس کے ارکان میں ایک غالبؔ بھی تھے۔ انھوں نے سوسائٹی کے ایک جلسے منعقدہ ۱۱ اگست ۱۸۶۵ئ میں ایک مضمون پڑھا تھا جو سوسائٹی کے پہلے شمارے میں شائع ہوا۔ صدیقی صاحب نے اس کا متن رسالے سے نقل کر کے اپنے مقالے میں شائع کیا۔ اس مضمون کے علاوہ غالب سے متعلق کئی اہم معلومات اس مقالے میں یکجا کر دی گئی ہیں جو حیاتِ غالبؔ کے ضمن میں بنیادی مآخذ کا درجہ رکھتی ہیں۔</p> <p>مطالعاتِ غالبؔ کے ضمن میں ایک مبحث ’ز‘ اور ’ذ‘ کا بھی ہے۔ مراد یہ ہے کہ آیاگذشتن، پذیرفتن کو ’ذ‘ سے لکھنا چاہیے یا ’ز‘ سے۔ اس بحث کا آغاز غالبؔ کے اس مؤقف سے ہوا کہ فارسی زبان میں ذالِ معجمہ نہیں دادمہملہ ہے۔ صدیقی صاحب نے ”ذال معجمہ فارسی میں“ کے عنوان سے غالبؔ کے مؤقف کے برخلاف کثیر و قوی دلائل سے ثابت کیا کہ فارسی میں ذال معجمہ موجود رہی ہے۔ صدیقی صاحب غالبؔ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ موصوف کہتے تھے کہ ”ذ“ کا فارسی نہ ہونا ان کا اپنا نہیں ان کے نام نہاد آموز گار ”ہرمزد پارسی نژاد“ کا قول ہے جبکہ قصہ یہ ہے کہ غالبؔ کے اصل مآخذ فرہنگِ جہانگیری و رشیدی ہیں (مقالاتِ صدیقی، ص۸۸)۔ یہی بات صدیقی صاحب نے عرشی کے نام ایک مکتوب میں بھی لکھی: ”غالبؔ علیہ رحمہ نے یہ خیال رشید ٹھٹھوی سے اخذ کیا ہے کہ ذال معجمہ فارسی میں نہیں ہے لیکن خان آرزوؔ نے ٹھٹھوی کے اس خیال پر اعتراض کیا ہے“ (نقوش بحوالۂ سابقہ:ص۷۱)۔ فارسی ادبیات و لسانیات کے نامور عالم ڈاکٹر نذیر احمد کو بھی صدیقی صاحب کے موقف سے کامل اتفاق تھا۔ نقدِ قاطعِ برہان میں لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>غالبؔ ذال فارسی کے منکر تھے حال آں کہ اس کے وجود سے انکار گویا بدیہیات سے انکار کے مترادف ہے۔ متعدد فاضلوں نے اس ضمن میں تفصیل سے مضامین لکھے ہیں۔ ہندوستان کے دو اہم دانش مندوں نے بھی اس موضوع پر مفصل گفتگو کی ہے۔ میری مراد ڈاکٹر عبدالستار صدیقی صاحب مرحوم اور قاضی عبدالودود صاحب سے ہے۔ </p> </blockquote> <p>تاہم ڈاکٹر نذیر احمد کو صدیقی صاحب سے اس امر میں اختلاف تھا کہ آٹھویں صدی عیسوی کے ختم ہونے تک ’د‘ نے ’ذ‘ کو پوری طرح بے دخل کر دیا تھا۔ انھوں نے عبدالوہاب قزوینی کے ایک قول سے استشہاد کرتے ہوئے لکھا کہ آٹھویں صدی کے بعد بھی ذالِ معجمہ ملتی ہے گو آہستہ آہستہ اس کا استعمال کم ہوتا گیا۔ نذیر احمد کے خیال میں نویں صدی کے وسط کے بعد تک ایسے نسخے ملتے ہیں جن میں ذال کا استعمال برابر نظر آتا ہے۔</p> <p>صدیقی صاحب کا غالبؔ سے ربط و تعلق ایک مقلّد کا نہیں مجتہدانہ نظر رکھنے والے عالم کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں غالبؔ سے اتفاق و اختلاف کی متعدد صورتیں نظر آتی ہیں۔ عبدالصمد پارسی والے قصے کو وہ غالب کی گھڑنت سمجھتے تھے اور برہانِ قاطع والے مباحث کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ ان سب کو یکجا شائع ہونا چاہیے۔ انھیں غالبؔ کے اس خیال سے شدید اختلاف تھا کہ ہندستان کے فضلا خان آرزوؔ، غیاث الدین رامپوری (صاحب غیاث اللغات) اور رشید تتوی (صاحبِ فرہنگ رشیدی و معرّبات) تو منہ لگانے کے قابل نہیں مگر ”فضلاے کلکتہ“ (جنھوں نے برہان کی لغزشوں کو مانا تھا) بقول صدیقی ”گویا سیدھے ایران سے تشریف لائے تھے“ (نقوش بحوالۂ سابقہ: ص۲۸) میرا خیال ہے کہ اس باب میں غالبؔ شدید دو عملی کا شکار رہے۔ معاملہ صرف یہیں تک نہیں۔ وہ غنیمتؔ کنجاہی کا ذکر بھی جابجا حقارت سے کرتے ہیں مگر اپنی مثنوی ”چراغِ دَیر“ میں کئی مصرعے اور ترکیبیں غنیمتؔ کی مثنوی نیرنگِ عشق سے اڑا لیتے ہیں۔ ایک زمانے میں صدیقی تیغِ تیز اوربرہانِ قاطع کے مباحث کو خود مرتب کر کے شائع کرنا چاہتے تھے مگر اے بسا آرزو۔۔۔ ان کی اس آرزو کو ڈاکٹر نذیر احمد اور قاضی عبدالودود نے عملی جامہ پہنایا۔</p> <p>چونکہ صدیقی صاحب بنیادی طور پر لسانی تحقیق کے آدمی تھے، ان کی عملی تنقید بھی لسانیات کی چاردیواری ہی میں اپنا روپ رس دکھاتی ہے۔ ان کی عملی تنقید کا ایک نمونہ تومکاتیبِ غالبؔ پر مفصل محاکمے کی صورت میں قبل ازیں زیربحث آچکا ہے۔ دیگر دو قابلِ توجہ اور دیر تک یاد رکھے جانے والے تنقیدی، لسانی مقالات وضعِ اصطلاحات (وحید الدین سلیم) اور المبین (سید سلیمان اشرف) پر مفصل تجزیوں کی صورت میں لکھے گئے۔ مؤخّرالذکر مقالہ معلوم نہیں کیوںمقالاتِ صدیقی میں جگہ نہ پاسکا۔ پہلے ہم وضعِ اصطلاحات پر ان کے افادات کا اجمالی ذکر کرتے ہیں۔</p> <p>ڈاکٹر صدیقی نے وحید الدین سلیم کی وضع اصطلاحات پر تبصرہ خود سلیم کی دعوت پر ۱۹۲۶ئ میں لکھا۔ وحید الدین سلیم نے اس تبصرے کو بہت سراہا۔ صدیقی صاحب نے اس تبصرے میں چند بڑی قابلِ بحث اور توجہ طلب باتیں لکھی ہیں۔ دیگر بہت سارے جدید ماہرین لسانیات کی طرح صدیقی صاحب بھی اس نظریے کے مؤیّد تھے کہ زبان انسان کے ساتھ ہی وجود میں آئی۔ گو کہ ان ابتدائی مدارج میں ذخیرۂ الفاظ بہت کم تھا۔ انھوں نے لفظ آسمان کے بارے میں لکھا کہ انسان کی ابتدائی تاریخ اس قیاس کو جنم دیتی ہے کہ اسے پہلے آسمان نظر آیا۔ چکی (آسیا) بنانے کی نوبت تو بہت بعد میں آئی ہوگی سو ایسا نہیں کہ آسیا سے لفظ آسمان بنا ہو۔ پھر یہ بھی کہ قدیم فارسی میں آسمان دراصل اَسۡمَن تھا، پہلوی میں آکر آسمان بنا۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ مان (جو حقیقت میں من تھا) مانند کے معنی نہیں رکھتا۔ آس مخفف ہے آسیا یا آسیاو کا۔ صدیقی صاحب کے نزدیک ”آسیاو“ صرف پہلوی میں ملتا ہے۔ اسی طرح انھوں نے سلیم کے اس خیال سے بھی اتفاق نہیں کیا کہ ”خر“ والے مرکبات میں خر ”بزرگ“ کے معنی میں آتا ہے۔ ان کے خیال میں ”خر“ خُرّہ یا خَرَہ کی ایک صورت تھی جس کے معنی جاہ و جلال اور شان و شوکت کے ہیں لہٰذا خرگاہ سے مراد بڑا خیمہ نہیں، شان و شوکت والی جگہ ہے۔ انھوں نے اس وسیع طور پر پھیلے ہوئے خیال کی بھی تغلیط کی کہ ”زند“ کوئی زبان ہے۔ ”زند“ دراصل ”اوستا“ کے متن کا کئی صدی بعد ترجمہ ہے۔۔۔ لوگ غلطی سے زند اور پازند دونوں کو زبانیں سمجھ بیٹھے (مقالات صدیقی، ص۲۶۳)۔ ان کے نزدیک یہ غلط فہمی سب سے پہلے یورپی محققوں نے پھیلائی۔ انھوں نے شہاب الدین احمد خفاجی کے حوالے سے اس قیاس آرائی کی بھی تردید کی کہ ”ہیولیٰ“ ”ہیئتِ اُولیٰ“ کا مخفّف ہے۔</p> <p>۱۹۲۹ئ میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ممتاز استاد سید سلیمان اشرف نے المبینکے نام سے ایک عمدہ اور مباحث خیز کتاب لکھی۔ اس کی تسوید کا بڑا محرک یہودی مستشرق جرجی زیدان کی کتاب فلسفۃ اللغۃ العربیہ بنی جس میں اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عربی زبان مختلف زبانوں سے مستعار الفاظ کا ملغوبہ ہے۔ عربی میں مادہ ثنائی ہے ثلاثی نہیں اور تیسرا حرف جو زائد ہوتا ہے اس کا مقام متعین نہیں وہ اول، آخر، اوسط کہیں کا بھی ہو سکتا ہے۔ نیز عربوں نے ایک لفظ کہیں سے پاکر اس کے معنی سیکھ لیے اور پھر اسی ایک لفظ کو الٹ پلٹ کرتے چلے گئے تاآنکہ عربی زبان میں الفاظ کی کثرت نظر آنے لگی۔ سلیمان اشرف صاحب نے جرجی زیدان کے ان خیالات کی تردید کی اور عربی زبان کے فضائل، عربی زبان کا حیرت انگیز کمال گویائی، فلسفۂ ارتقائے زبان اور فلسفۂ اشتقاق جیسے موضوعات پر لکھ کر یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ ”عربی زبان میں جب کوئی لفظ موضوع قرار پاتا ہے تو اس کا بامعنی ہونا ایسا مستحکم و مضبوط ہوتا ہے کہ جس پہلو سے اس کو لوٹا پھیرا جائے وہ موضوع ہی رہتا ہے (یعنی مہمل نہیں ہوتا)۔ ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہونے پر بھی معنی کا ساتھ نہیں چھوٹتا۔“ (المبین، ص۴۷) گویا جب کسی موضوع لفظ کو اس کی ساری ممکنہ ہئیتوں (جو چھے سے زیادہ نہیں ہوسکتیں) کی طرف تبدیل کرتے جائیں اور ہر تبدیلی میں وہ لفظ بامعنی رہے تو اسے اشتقاقِ کبیر کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد صاحبِ المبین نے ق م ر (قمر) سے اشتقاقِ کبیر کی مثالیں دی ہیں جو نظر بہ ظاہر بہت حیران کن لسانی صورتِ حال کا باعث بنتی ہیں۔ مصنف نے اسی عمل کو اشکالِ ستّہ کے ذریعے بتیس مثالوںتک پھیلا دیا ہے!</p> <p>ڈاکٹر صدیقی نے اس کتاب پر ”المبین پر تعقب و تبصرہ“ کے زیر عنوان معارف کے ۲۵ صفحات پر مشتمل ایک مفصل تجزیاتی مقالہ لکھا اور مصنف کے بعض دعاوی کو دلائل اور متانت سے ردّ کیا۔ ان کے خیال میں عربی زبان کے محققوں میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ عربی اور عجمی میں وہی نسبت ہے جو عجمی زبانوں اور جانوروں کی آوازوں میں ہے۔ ان کے مقالے کے دیگر اہم نکات کچھ یوں تھے:</p> <list> <li>روف تہجّی کے مخرج کا تعین کرنا صوتیات کے ماہروں کا کام ہے نہ کہ خود زبان کا۔</li> <li>ایسی زبان کا وجود محال ہے جس میں یہ آزادی ہو کہ بولنے والا کسی آواز کو جہاں سے اس کا جی چاہے ادا کرے۔</li> <li>مصنف کی ساری کوشش عربی زبان کو افضل ترین زبان ثابت کرنا ہے مگر یہ راہ تو سیدھی ترکستان کو گئی ہے۔</li> <li>مصنف المبین نے نہ صرف تاریخی ملاحظات کو بالاے طاق رکھا بلکہ السنہ کے اثریات اور تاریخی مواد کا مطالعہ کرنے والوں کی تضحیک کی۔</li> <li>جب کسی لفظ کی اصل کی تحقیق کی جاتی ہے تو اس کے ابتدائی مفہوم سے بحث کی جاتی ہے اور مرادی یا تشبیہی معنی یا وہ معنی جو بعد کو پیدا ہوئے، بحث سے قطعاً خارج کر دیے جاتے ہیں۔</li> <li>مصنف نے بعض لفظوں کے معانی نکالنے میں بہت کھینچ تان کی ہے۔</li> <li>مستشرقین کا ماخذ جرجی زیدان یا فون ڈائک کی تصانیف نہیں، ان کا ماخذ انھی بزرگوں کی تصانیف ہیں جنھوں نے اسلام کے عہدِ زرّیں میں علومِ عرب کی بنیاد رکھی تھی۔</li> <li>عربی کے اندر مادّہ بلاشبہہ سہ حرفی ہے، اس کے دو حرفی ہونے کی بحث محض عربی سے متعلق نہیں بلکہ اس قدیم سامی زبان سے متعلق ہے جس سے تمام سامی زبانیں (عربی، آرامی، عبرانی وغیرہ) نکلی ہیں۔ یہ بات صاحبِ المبین کی نظر میں اس لیے نہیں آسکی کہ وہ تاریخ سے بحث کرنا جائز نہیں سمجھتے۔</li> <li>المبینکی بنیاد فلسفۂ اشتقاق پر رکھی گئی ہے مگر اہلِ لغت ”اشتقاقِ کبیر“ کو تسلیم نہیں کرتے۔</li> <li>سیوطی کے نزدیک صرف ”اشتقاقِ اصغر“ مستند ہے۔ ”اشتقاقِ اکبر“ محققوں کی نگاہ میں کوئی چیز نہیں۔ یہ زبان میں موجبِ فساد ہے۔ </li> <li>لسانیات کا غیر جانبدار فن ایک زبان کی دوسری زبان پر برتری ثابت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔</li> <li>مصنف کا یہ خیال کہ یورپ کے علما کی رائے میں عربی کوئی مستقل زبان نہیں، سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے مستشرق یا غیر مستشرق کسی نے یہ خیال ظاہر نہیں کیا۔</li> </list> <p>ڈاکٹر صدیقی کے اس تجزیے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ المبین پر بڑی حد تک ایک عالمانہ تبصرہ ہے اور ہر عہد کے مستند مصنفین اور ماہرین السنہ کے دلائل سے پوری طرح لَیس۔ اس تبصرے کے جواب میں مولانا اکرام اللہ خان ندوی اور مفتی عبداللطیف صاحب پروفیسر جامعہ عثمانیہ کے استدراک معارف ہی کے بعد کے شماروں میں شائع ہوئے۔ ان میں اول الذکر کا جواب زیادہ قابلِ توجہ ہے کیونکہ اس میں صدیقی صاحب کے بعض نکات کا رد اس بنیاد پر کیا ہے کہ انھوں نے المبین کے بعض مباحث کا غور سے مطالعہ نہیں کیا۔ اکرام اللہ صاحب نے بعض بہت عمدہ لُغوی بحثیں کی ہیں مگر اوراق کی تنگ دامانی ان کے ذکر سے مانع ہے۔ لازم ہے کہ ان مباحث کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تاکہ اور کئی علمی نکات سامنے آسکیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر صاحبِ المبین اپنے مباحث کو محض مادّے کے ثنائی ہونے کے رد تک محدود رکھتے اور ”اشتقاق کبیر“ کے پھیر میں نہ آتے تو ان کی کتاب زیادہ مؤثر اور بامعنی ہوتی۔</p> <p>ڈاکٹر صدیقی صاحب کی، لسانی مباحث کی حامل تحریروں سے ہٹ کر بھی کچھ ایسے مضامین ہیں جو لائقِ توجہ ہیں جیسے مثلاً حافظ محمود شیرانی کی وفات پر ان کا مضمون جس میں انھوں نے حضور اکرمؐ پر ڈاکٹر ہنری سٹب Stubbe کی پردۂ خفا میں کئی صدیوں سے مستور کتاب کو منظرِ عام پر لا کر اس کی حیاتِ نو کا اہتمام کرنے پرشیرانی کو داد دی اور اسے ان کا پہلا شان دار علمی کام قرار دیا۔ اسی طرح وحید الدین سلیم پانی پتی اور ڈاکٹر اشپرنگر پر ان کے مضامین بھی بہت سے شخصی اور علمی نکات کو آئینہ کرتے ہیں۔ مؤخرالذکر شخصیت پر ان کا مقالہ خاص طور پر چشم کشا اور انکشاف خیز ہے خصوصاً اس کے وہ اقتباسات جو صدیقی صاحب نے اشپرنگر کی حضور اکرمؐ پر جرمن کتاب سے براہ راست ترجمہ کر کے شاملِ مضمون کیے۔ اسی طرح صدیقی صاحب کے مقالے ”معائبِ سخن کلامِ حافظؔ کے آئینے میں“ اور ”شاہجہان کی ایک منبّت کار تصویر“ (مطبوعہ آج کل، دہلی، ستمبر ۱۹۵۰ئ) بھی دامنِ دل کھینچتے ہیں۔</p> <p>وسعت مطالعہ، عمق نگاہی اور آرائش و زیبائش سے پاک علمی اسلوب کی حامل ڈاکٹر صدیقی کی تحریریں ایک مستقل حوالے کی چیز ہیں۔ وہ علم و لسان کو آب بند خانوں میں اسیر کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ بہت کم مقامات ہیں جہاں ان کی تحریروں سے اختلاف کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مگر بہرحال ایسے مقامات ہیں ضرور۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر شوکت سبزواری نے ”عبدالستار صدیقی مرحوم اور ان کی لسانی تحقیقات“ میں بعض لسانی امور پر ڈاکٹر صدیقی سے جائز اختلاف کیا ہے مثلاً لفظ ”کھیدا“ ہاتھی کو پکڑنے کا گڑھا نہیں، ہاتھی کو گھیر کر (یعنی ہانکا کر کے) قید کرنے کے معنوں میں ہے۔ انھیں اس سے بھی اتفاق نہیں کہ ”سِکرّر“ ”مکرر“ کا تابع مہمل ہے۔ خود شوکت سبزواری سے بھی اس مضمون میں ایک سہو ہوا ہے جہاں انھوں نے صدیقی صاحب کی علمی تحصیلات کے ضمن میں لکھا ہے کہ انھوں نے سیبویہ کی الکتاب پر تحقیقی کام کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی تھی، درآں حالیکہ صدیقی صاحب کا پی ایچ ڈی کا موضوع تھا:کلاسیکی عربی میں فارسی کے مستعار الفاظ۔ مقالہ جرمن زبان میں لکھا گیا تھا۔</p> <p>ابنِ درید پر انگریزی میں لکھے گئے عالمانہ مقالے کے آخر میں صدیقی صاحب نے جمھرۃ اللغہ کا مستعار الفاظ والا باب درج کیا ہے۔ اس میں ایک مقام پر ابنِ درید نے لفظِ ”برجیس“ کی تشریح میں لکھا ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="ar">والبِرجیس ویقال البِرجیس نجم من نجوم السمآئ و یقال ہو بہرام</annotation></p> </blockquote> <p>ابن درید کا یہ کہنا کہ ”برجیس“ کو ”بہرام“ بھی کہا جاتا ہے درست نہیں۔ برجیس فلکِ ششم کا سیّارہ ہے اور سعد ہے جبکہ بہرام فلکِ پنجم کا سیّارہ ہے اور مِرّیخ کہلاتا ہے۔ اس کا رنگ سرخ ہے سو اسی نسبت سے اسے جلّادِ فلک بھی کہتے ہیں۔ یہ نحۡس ہے، چنانچہ مِرّیخ (بہرام) و زُحَل ایک برج میں آئیں تو اسے ”قِران النَحۡسَین“ کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ابنِ دُرَید کے اس سہو پر ڈاکٹر صدیقی کو حاشیہ لکھنا چاہیے تھا۔</p> <p>اِسی طرح اپنے مقالے ”اُردو املا“ میں ایک جگہ صدیقی ذرّہ اور ذرا کو زیر بحث لا کر لکھتے ہیں کہ ذرّہ تشدید کے ساتھ ”کسی چیز کا بہت چھوٹا ٹکڑا“ کے معنوں میں آتا ہے جبکہ ذرا معنوی طور پرذرّہ سے مختلف ہے لہٰذا اسے ذرا کے بجاے زرا لکھنا چاہیے۔ قیاس چاہتا ہے کہ ذرا کے پیدا ہونے کا باعث ذرّہ ہی ہے تو پھر اس کو ذال کے بجاے ز سے لکھنے پر اصرار کیوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لفظ فارسی میں انھی معنوں میں آتا ہے جیسے اردو میں یعنی بہت کم۔ تھوڑا۔ ایرانی کہے گا: معنیِ رحم ذرّہ ای دردل اونیست یا ذرہ ای سود نہ بخشید (یعنی ذرا بھی فائدہ نہ ہوا)۔ فارسی میں یہ ذرا کے معنی ہی میں مستعمل ہے اور ذال ہی سے لکھا جاتا ہے۔ خود اردو میں اس کا املا ذال ہی سے رہا ہے اور ہے۔ جب مستند اہلِ علم تک اسے ذال سے لکھتے ہیں تو پھر اسی املا کو فصیح اور معتبر سمجھنا چاہیے۔ علاوہ ازیں اردو شعرا میں بھی خال خال ذرّہ بمعنی ذرا استعمال ہوا ہے۔ صبا کا شعر ہے:</p> <blockquote> <verse> ذرّہ بھی نہیں ہے زرِ قاروں کی یہاں قدر دنیا کو سمجھتے ہیں ترے در کی گدا خاک </verse> </blockquote> <p>ڈاکٹر صدیقی کی گہری، ہمہ گیر اور وسعتِ نظر کی حامل لسانی اور دیگر تحریریں اس کی متقاضی تھیں کہ ان پر تفصیل سے لکھا جاتا مگر افسوس ہے کہ ان کی عظمت کا بہت کم اعتراف کیا گیا۔ عبدالستّار دلوی کا مقالہ ”اردو میں لسانی تحقیق کی اہمیت“ تحقیق پر شائع ہونے والے کئی منتخبات کا حصہ بنا مگر مرتبین میں سے کسی نے پلٹ کر نہ پوچھا کہ اس میں عبدالستار صدیقی کے عدم شمول کا سبب کیا ہے؟</p> <p>اہلِ علم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تاریخی لسانیات بنیادی طور پر حرکی مزاج کی حامل ہے۔ یہ زبان کا مطالعہ اس میں ہونے والے تغیرات کے حوالے سے کرتی ہے۔ ایسے تغیرات جو زبان میں زمان و مکان دونوں حوالوں سے آتے ہیں۔ ان تغیرات کا تعلق تاریخی عناصر سے ہوتا ہے۔ تاریخی لسانیات سے کام لینے والے، کتبوں اور قدیم و عہدِ وسطیٰ کی تحریروں اور آثار سے مدد لیتے ہیں۔ تاریخی لسانیات اپنی بنیاد تحریری شہادتوں پر رکھتی ہے۔ پھر یہ بھی دیکھتی ہے کہ خاص زبانوں کے مابین تاریخی رشتے کیا ہیں۔ یوں اس کے ڈانڈے تقابلی لسانیات سے جا ملتے ہیں۔ پھر کوئی زبان یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس میں مستعار الفاظ کا ذخیرہ نہیں۔ لسانیات کے محققوں مثلاً ماریوپائی وغیرہ کا خیال ہے کہ انگریزی زبان کا اپنا اینگلوسیکسن ذخیرہ ۲۵ فیصد سے زیادہ نہیں۔ پچھتّرفی صد ذخیرۂ الفاظ مستعار ہے۔ مستعار لینے والی زبان یا تو اُس لفظ کو اپنے صوتی و صورتی نظم پر ڈھال لیتی ہے جیسے پرانی فرانسیسی کا لفظ <annotation lang="en">”Verai“</annotation> انگریزی کے <annotation lang="en">”Very“</annotation> میں ڈھل گیا یا پھر یہ کہ مستعار لینے والی زبان اُس لفظ کو اپنی زبان میں ترجمہ کرلیتی ہے۔ یہ اور اس طرح کے متعدد لسانی حقائق تھے جن سے ڈاکٹر عبدالستار صدیقی اپنی انگلیوں کی آخری پوروں تک آگاہ تھے۔ یہ درست ہے کہ انھوں نے اپنی تحقیقی تگ و دو کے لیے جو میدان چنا وہ عام لوگوں کی دلچسپی سے کوسوں دور ہی نہ تھا، اپنے مخصوص دائرے میں محدود بھی تھا۔ شاید ان کی عدم مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی رہا ہوگا مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عبدالستّار صدیقی جیسے بے مثال ماہر السنہ کو بھول جانا اپنی تہذیبی بے مایگی اور لسانی بے چہرگی کے اعلان کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود اور ان کے رفقاے کار لائقِ مبارک باد ہیں کہ ان کے توسّط سے ایک مدّت کے بعد ایک خصوصی اشاعت کے ذریعے ڈاکٹر عبدالستار صدیقی کے علمی و لسانی افادات کی بازیافت اور بازتحقیق کا اہتمام کیا جارہا ہے۔</p> </section> </body> "
"0027.xml"
"<meta> <title>میراجی اور جدید نظم کی تفہیم کا فریم ورک</title> <author> <name>تبسم کاشمیری</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/9_tabassum_kashmiri_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>4611</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"میراجی اور جدید نظم کی تفہیم کا فریم ورک"
4,611
"Yes"
"<body> <section> <p>میراجی نے جب مشرقی اور مغربی شعرا پر لکھنا شروع کیا تو اس کی عمر اکیس برس کے لگ بھگ تھی۔ جب اس کے پہلے مضمون کا مسودہ مولانا صلاح الدین احمد کے پاس پہنچا تو اس مضمون کو پڑھتے ہوئے ان کے ہاتھ شدتِ حیرت سے کانپنے لگے۔ مولانا نے سامنے بیٹھے ہوئے میراجی سے پوچھا ”ثنا! کیا یہ مضمون تم نے لکھا ہے“ میراجی نے صرف اتنا کہا ”جی“۔</p> <p>میں اس بارے میں بات نہیں کروں گا کہ میراجی کی نظم کی تحسین اور تنقید اب تک ہو سکی ہے یا نہیں۔ یا اگریہ کام ہوا ہے تو کس حد تک ہو سکا ہے۔ یہاں میری گفتگو ”میراجی اورجدید نظم کی تفہیم کا فریم ورک“ اور میراجی کی تنقید سے ہے۔ میراجی کی تنقید آہستہ آہستہ طاقِ نسیاں کی چیز بنتی جا رہی ہے اور اردو ادب میراجی کے گراں قدر تنقیدی کام کو فراموش کرتا جارہا ہے۔ آخر کیوں؟ کچھ سبب ہوگا یا کچھ اسباب تو ہوں گے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ تنقید اس کی نظم کی طرح سے تفہیم کے ایک نظام کی طلب گار تو نہیں۔ میرے خیال میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میراجی کی نثر ابلاغ کا کوئی مسئلہ نہیں رکھتی۔ اس کا سو فیصد ابلاغ موجود ہے اور پھر اس نثر کا پیرایۂ اظہار اوراسلوب بھی تو دلکش ہے۔ لہٰذا پھر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے ادب کی روایت میں میراجی کی تنقید کو کما حقہ درجہ نہیں مل سکا اور اس کے ذکر اذکار بھی کم ہی ہوتے ہیں۔ اور اگر اس مقام پر میں ان کی شاعری کے بارے میں بھی ایک دو ایسی باتیں کہتا چلوں کہ جن پر غوروفکر کی ضرورت مجھے محسوس ہوتی ہے تو آپ محسوس نہ کریں۔</p> <p>راشد صدی سے بہت پہلے ۱۹۹۵ئ میں جب میں نے راشد پر اپنی کتاب لا=راشد شائع کی تھی تو اس وقت مجھے یہ محسوس ہوا تھا کہ پاکستان میں فارسی روایت کے زوال کے بعد راشد کی شاعری کا کیا بنے گا۔ سکول، کالج اور یونی ورسٹی کی سطح پر فارسی پڑھنے والے طلبہ کی تعداد ازبس کم ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی میں بہت ہی کم طالب علم فارسی کے آتے ہیں۔ زوال کی یہ حالت سن ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد یہ عمل تیز تر ہوتا گیا۔ مثال کے لیے میں غالب کا ذکر کروں کہ اس کے دور میں کمپنی کی پالیسی کے سبب فارسی تیزی سے اپنے مقام سے محروم ہوتی گئی تھی اور غالب اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہا تھا۔ چناں چہ انجام کار ہوا یہ کہ وہ فارسی شاعری جسے وہ اپنے شعری نقش میں ”رنگ رنگ“ کہتا تھا آج اس کے پڑھنے والے موجود نہیں ہیں۔ اور جس مجموعۂ اردو کو اس نے ’بے رنگ‘ قرار دیا تھا آج اسے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ راشد صدی کے موقع پر دو سال قبل راشد سے جس دلچسپی کا اظہار کیا گیا وہ حیرت انگیز تھی۔ راشد کے بارے میں سیمی نار ہوئے، کتابیں لکھی گئیں، مضامین چھپے اور ان کے بارے میں مجھ سمیت دیگر لکھنے والوں کا خیال غلط ثابت ہوا۔ میراجی پر طبع شدہ مواد اور تسلسل سے کیے جانے والے کام کو دیکھ کر کچھ مدت پہلے تک یہ لگتا تھا کہ میراجی صدی پر بہت کام ہو سکے گا۔ بہت سے پروگرام ہوں گے مگر ابھی تک جو کچھ ہوا ہے وہ ناکافی ہے۔ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ایسا ہوگا۔ میں سوچتا ہوں اور آپ بھی سوچیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیا میراجی کے لیے نئی نسل میں دلچسپی کم یا بہت کم ہو چکی ہے؟ جس طرح ہم سمجھتے تھے کہ راشد کی نظر میں شاعری میں نئی نسل کی دلچسپی کم ہوتی جائے گی کیا میراجی کے متعلق یہ کہنا درست ہوگا کہ میراجی کے ہندی اسلوب میں لکھی گئی نظموں اور گیتوں کے سبب میراجی کی مقبولیت کم ہو گئی ہے؟ اگر ایسا ہے یا نہیں ہے تو اس کے متعلق ہمیں سوچنا ہوگا۔</p> <p>اب اس بحث سے گریز کرتے ہوئے میں جدید اردو نظم اور میراجی کے تنقیدی مباحث کی طرف رجوع کرتا ہوں۔</p> <p>۱۹۳۶ئ کے لگ بھگ اردو تنقید کے افق کو دیکھیے۔ آپ کو کیا نظر آتا ہے؟ روایتی تنقید کا نیم جاں سا افق___اور اس کے بعد ترقی پسند تنقید کی اکتا دینے والی میکانکی سی تکرار۔ اور یہ سب کچھ ابتدائی سٹیج پر تھا۔ کوئی بڑا نقاد اس دور تک نظر نہیں آتا۔</p> <p>اس دور تک تو تنقید کے اسالیب اور اصطلاحات بھی ٹھیک طو رپر وجود میں نہ آئی تھیں۔ جدید اردو تنقید ابھی چلنا سیکھ رہی تھی۔ جدید شاعری تو موجود تھی مگر جدید شاعری کی تفہیم کے لیے جدید تنقید ابھی پیدا ہونے والی تھی۔ میراجی اور راشد کی شاعری نے تو آغاز ہی سے جدید شاعری کے ایک نئے نقاد کی ضرورت کا احساس شدت سے دلا دیا تھا۔ ابہام کا شور مچ رہا تھا۔ یو پی کے شاعروں اور نقادوں نے تصدق حسین خالد، میراجی، راشد، تاثیر، قیوم نظر، یوسف ظفر، فیض اور مختار صدیقی کے خلاف ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔ اردو کے ادبی حلقے جدید شاعری کا شعور نہیں رکھتے تھے اس لیے اس شاعری کے خلاف ردعمل بہت شدید تھا۔ ۱۹۴۰ئ کے لگ بھگ میراجی نے فیصلہ کیا کہ وہ جدید شاعری کی تفہیم کے لیے ہر ماہ نئی نظموں پر تبصرے چھاپا کریں گے۔ چناں چہ جوں جوں یہ تبصرے شائع ہوتے گئے جدید نظم کی تفہیم کا راستہ کھلتا گیا اور قاری کی تربیت کا سامان بھی فراہم ہوتا گیا۔</p> <p>جدید شاعری کی تنقید کا فریم ورک بنانے والا کون تھا؟ یہ میراجی ہی تھا۔ مشرق و مغرب کے نغمے کے مشاہدات اور ذاتی شعری تجربات نے میراجی کے لیے جدید شعری تنقید کا فریم ورک فراہم کیا تھا اور یہ میر اجی کا کارنامۂ خاص کہا جاتا ہے۔</p> <p>میراجی اور ان کی نسل کے شعرا نے موہوم احساسات اور زندگی کے ایسے موضوعات کو اپنے شعری تجربے کا حصہ بنایا تھا کہ جو بظاہر نظم میں ڈھل نہ سکے تھے۔ یہ دھندلے دھندلے موضوعات شعر کا قالب اختیار نہ کر سکتے تھے مگر ان لوگوں کی تخلیقی قوت نے ان کو تجربے کی گرفت میں لے کر اظہار کی منزل سے گزار دیاتھا۔ اس لیے ایسے اظہار میں نظم کی معروف شفافیت نہ تھی اور قاری ابہام کی رو میں بہنے لگتا تھا۔ اس قسم کے تجربے سے متعارف اور مانوس نہ ہونے والے قاری کو لامحالہ معنویت کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور وہ اسے ابہام کا عذاب تصور کرنے لگتا تھا۔ میراجی کی شعری تنقید کا کمال یہ تھا کہ تفہیم شعر کی جو تھیوری اور تھیوری کا جو پراسس اس نے تشکیل کیا تھا اس نے روایتی فہم کے قارئین کے لیے نظم کی عملی تنقید پیش کر کے اسے تفہیم کی جہات کے قریب تر کر دیا تھا اور یہ ایک کامیاب سعی تھی۔ اس کے اثرات کا نتیجہ یہ تھا کہ بعدازاں وزیر آغا مدتوں تک اس نظم میں کی روایت پراوراق میں نئی نظم پر توضیحی نوٹ لکھوا کر شائع کرتے رہے اور یہ روایت ہمارے اس دور تک چلی آئی ہے۔ راشد، میراجی اور فیض صدی کے دوران میں بے شمار نظموں پر نئے نقادوں کے تجزیاتی نوٹ شائع ہوتے رہے ہیں۔</p> <p>میراجی جب میلارمے والا مضمون لکھ رہا تھا تو اس نے یہ کہا تھا کہ میلارمے جیسے مشکل شاعر کی تفہیم کے لیے صبروتحمل کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ صبروتحمل لاحاصل نہیں ہوتا۔ میراجی نے جب یہ سطور قلم بند کی ہوں گی تو اس کے سامنے اس کی معاصر جدید شاعری موجود تھی جس میں وہ خود بھی ایک شاعر تھا اور وہ یہ بات سمجھنے میں حق بجانب تھا کہ معنی کی تلاش کا سفر لاحاصل نہیں ہوا۔ بالآخر یہ سفر قاری کو معنویت کے ثمر سے شاداب کر دیتا ہے۔ دراصل میراجی میلارمے کے اس بیان سے متفق تھا کہ ”کسی چیز کو واضح طور پر بیان کر دینے سے اس لطف کا تین چوتھائی حصہ زائل ہو جاتا ہے جو رفتہ رفتہ کسی بات کے معلوم کرنے میں ہمیں حاصل ہوتا ہے۔“</p> <p>میراجی جس شعری روایت سے تعلق رکھتا تھا اس میں شعر کا مغلق ہونا یا اس میں ابہام کا پایا جانا معنوی حسن سمجھا جاتا تھا۔ اسی روایت کا ایک بڑا شاعر اور نقاد پال ویلری <annotation lang="en">(Paul Valery)</annotation> میلارمے کی شاعری میں ابہام اور اغلاق کے متعلق بات کرتے ہوئے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ لوگ شاعری میں آسانیوں کو تلاش کرتے ہیں۔ وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ شعر پر غور کر کے لطف اٹھائیں۔ ویلری کے خیال میں جب تک کسی ادبی تخلیق میں قاری کی کوشش تفہیم کے مقابل قوتِ مدافعت نہ رکھتی ہو وہ تخلیق دلکش نہیں ہوتی۔</p> <p>جدید نظم میں جس مسئلے نے میراجی کو تفہیم کا فریم ورک تلاش کرنے کی طرف مائل کیا تھا وہ جدید شاعری میں افہام اور ابہام کا مسئلہ تھا۔ اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے میر اجی یہ کہتے ہیں:</p> <blockquote> <p>اب شاعری پہلے کی بہ نسبت بہت زیادہ ذاتی اور انفرادی ہوتی جا رہی ہے۔ شاعر کے ذہن میں ایک خیال یا ایک تصور پیدا ہوتا ہے، اور وہ اس کے اظہار کے لیے عام زبان سے ہٹ کر خاص اور مناسب الفاظ کی تلاش کرتا ہے جو اس کے خیال یا تصورات سے پورے طور پر ہم آہنگ ہوں۔ اور اس اجنبیت کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی شاعر کے نقطۂ خیال سے اپنے ذہن کی حرکت کو شروع کریں، ورنہ ہمیں اس کی تخلیق میں ابہام اور اغلاق نظر آئے گا؛ اور اگر چہ وہ ابہام ہمارے سمجھنے میں ہوگا، یعنی ہماری ذات میں، لیکن ہم اسے اپنی بے صبری میں شاعر کے سرمنڈھ دیں گے۔</p> </blockquote> <p>جدید اردو نظم کی تفہیم کا فریم ورک بنانے میں میر اجی نے اول اول متن خوانی پر خصوصی توجہ صرف کی۔ متن خوانی پر گہری توجہ صرف کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تفہیم شعر تک ممکن حد تک رسائی حاصل ہو جائے۔ اس کی دو صورتیں تھیں اول یہ کہ متن میں نظر آنے والی ظاہری معنویت و مفہوم کو دریافت کر لیا جائے۔ یا متن میں موجود علامتوں، استعاروں اور تلازموں کے روایتی مفاہیم کے ساتھ ساتھ متن کے حوالے سے بننے والے باطنی معنوں تک بھی پہنچا جائے اور میراجی جیسا بے حد زیرک نقاد باطنی معنوں کی گہرائیوں تک فی الفور پہنچ سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میراجی نے نظموں کے تجزیوں سے جو نتائج برآمد کیے ہیں وہ بہت <annotation lang="en">convincing</annotation> معلوم ہوتے ہیں۔</p> <p>متن خوانی کی ایک اور سطح بھی یہاں قابل ذکر ہے اور وہ ہے کسی نظم کے متن کی زیرسطحی کیفیات اور اس کی روح۔ یہ وہی طریق کار ہے جسے ہسرل <annotation lang="en">(Husserl)</annotation> نے مظہریات کی شکل میں پیش کیا تھا اور یہ تنقید کسی فن پارے میں موجود مگر زیر سطح چھپی ہوئی کیفیات کی معنویت کو قاری کے سامنے پیش کر دیتی ہے اور یہ کسی متن کی نفسی تعبیر کا بہترین کردار ادا کرتی ہے۔ اس تعبیر کا منبع و سرچشمہ نقاد یا قاری کا منفرد ذہن ہوتا ہے یعنی متن کی موضوعی تعبیر کا اس میں گہرا دخل ہوتا ہے۔</p> <p>جدید نظم کے تفہیمی فریم ورک میں یہ مظہریاتی طریق کار بھی میراجی کے ہاں موجود ہے۔</p> <p>میراجی نے جدید نظم کے لیے تفہیم کا جو فریم ورک بنایا تھا وہ کسی شاعر کے شعور تک رسائی حاصل کرنے کا تقاضا کرتا تھا۔ شعور تک رسائی کا مطلب یہ تھا کہ شاعر کے تخلیقی منابع تک پہنچا جائے۔ اس کی سوچ کے سرچشموں کو دریافت کیا جائے اور کسی مخصوص فن پارے میں اس کے شعور کی کارروائی کو سمجھا جائے تاکہ متن کی شرح اور تعبیر تک پہنچا جائے۔</p> <p>متن میں مصرعوں کی لفظی ترتیب ان کے لیے خیال افروزی کا سامان مہیا کرتی تھی۔ ان کی بہت گہری نظر بعض اوقات صرف ایک معمولی سے مصرع کو معنویت سے بھر دیتی تھی اور ان کی مخصوص قصہ سازی کا کام شروع ہو جاتا تھا۔ یہ ان کی ادبی بصیرت کا ایک ادنیٰ سا اظہار ہوتا تھا مگر جدید اردو نظم میں تفہیم کے فریم ورک کی نادر مثالیں ان کے ہاں پیدا ہو جاتی تھیں۔ میں یہاں اختر شیرانی کی مشہور نظم ”یہی وادی ہے وہ ہمدم“ کے ایک مصرع کی مثال پیش کروں گا:</p> <blockquote> <verse> یہی وادی ہے وہ ہمدم جہاں ریحانہ رہتی تھی </verse> </blockquote> <p>اس مصرع کی توضیح میں میراجی نے ساختیاتی تنقید جیسا تنقیدی قرینہ استعمال کیا ہے حیرت اس بات پر ہے کہ اس دور میں ساختیاتی تنقید کا ادبی تنقید میں نام و نشان بھی نہ بن سکا تھا۔ اس مصرع سے میراجی نے کس انداز سے معنوی تشکیل کی ہے وہ دیکھنے کی چیز ہے۔ دیکھیے میرا جی کا تجزیہ:</p> <blockquote> <p>ظاہر ہے کہ کل مصرع کسی کی زبان سے کہا ہوا کلمہ ہے۔ گویا ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ”یہی وادی ہے“۔ اتنا سن کر ہمیں ایک تعجب یا تجسس کا احساس ہوتا ہے اور ہمارا ذہن سوچتاہے کہ یہ وادی تو ہے لیکن یہاں کیا ہوا؟ اس میں کون سی خصوصیت ہے؟ آگے ”ہمدم“ کا لفظ آتا ہے اور ہمارے ذہن میں ایک تصویر مکمل ہو جاتی ہے۔ تصویر یہ ہے: دو انسان(مرد) ایک وادی میں کھڑے ہیں اور ایک کہتا ہے ”یہی وادی ہے اے ہمدم…“ اب ہمارا تجسس بڑھتا ہے کہ یہ شخص اپنے ساتھی کو کون سی بات بتانے کو ہے، اس وادی میں پہنچ کر اس کے ذہن میں کون سی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ اگلا ٹکڑا وضاحت کرتا ہے: ”جہاں ریحانہ رہتی تھی“، اور بات پوری ہو جاتی ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شاعر کی محبوبہ اسی وادی میں رہا کرتی تھی۔ وہ اب یہاں نہیں رہتی۔ شاعر آج کسی طرح اپنے رفیق کے ساتھ آن پہنچا ہے اور اسے بتا رہا ہے کہ اسی وادی میں ریحانہ رہا کرتی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کا ساتھی جانتا ہے کہ ریحانہ کون تھی۔ ہم بھی جانتے ہیں کہ وہ کون تھی اور اس لیے مصرع کے اختتام پر دو مردوں اور اس وادی کی جس میں ریحانہ رہتی تھی جو ایک تصویر پیدا ہوئی تھی اس میں حزن و ملال کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ اگر اسی مصرع کو بدل کر ہم یوں لکھیں:</p> <verse> جہاں ریحانہ رہتی تھی یہی وادی ہے وہ ہمدم! </verse> <p>تو وادی کی اہمیت جاتی رہتی ہے اور حزن و ملال کی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی کیوں کہ اس صورت میں ہمیں وادی کی اہمیت بڑھانے والی ریحانہ کے متعلق باقاعدہ اطلاع مل جاتی ہے کہ یہاں وہ رہتی تھی اور دوسرا ٹکڑا ایک طرح سے فالتو اور پھیکا معلوم ہوتا ہے لیکن پہلی صورت میں ہمارے تجسس کی رگ کو اکسانے کے بعد ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس وادی میں کیا خصوصیت ہے۔</p> </blockquote> <p>اس مثال سے ظاہر ہوا کہ کس طرح الفاظ رفتہ رفتہ نئے سے نیا تصور لا سکتے ہیں اور ان کی نشست کا مقام کس قدر معین ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی سمجھنا چاہیے کہ لفظی تصورات کی پوری اہمیت کو ان کے اضافی رتبے کے ذریعے نمایاں کرنے کا یہ طریقہ ذہانت و تفکر اور بذلہ سنجی سے تعلق رکھتا ہے۔</p> <p>جدید نظم کی تفہیم کے فریم ورک میں میراجی قاری کو ایک ایسی منزل پر بھی لا کر چھوڑ دیتے ہیں جہاں مناسب تجزیے اور توضیح کے بعد معنویت کی مزید تفہیم کاکام قاری/نقاد کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ میراجی قاری کی انگلی پکڑ کر اسے اپنے ساتھ ساتھ افہام کے گوشوں سے گزارتا ہے۔ نظم کے دروبست میں موجود رموز کی اس کے سامنے تعبیر و تشریح کرتا ہے۔ جمالیاتی تجربوں سے روشناس کراتا ہے اور اس تخلیقی عمل کو متخیلہ میں بیدار کرتا ہے جس سے شاعر نے گزر کر نظم لکھی تھی۔ بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ نظم کی تفہیم کے سب باب روشن ہو گئے ہیں۔ مطالب واضح ہو گئے ہیں مگر اس منزل پر میراجی قاری کی انگلی چھوڑ دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ متن میں مزید معنویت موجود ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے قاری کو خود سعی کرنی ہو گی۔ جدید تھیوری اس عمل کو <annotation lang="en">sub-text</annotation> کا نام دیتی ہے۔ سب ٹیکسٹ <annotation lang="en">sub-text</annotation> کا یہ قرینہ ناول، افسانے اور شاعری میں دیکھا جا سکتا ہے۔</p> <p>میراجی نے تخلیقی عمل کی باز آفرینی کی سعی کی ہے۔ یہ ایک طرح کی اکتشافی تنقید ہے جس میں نقاد شاعر کے تخلیقی عمل کو منکشف کرتا ہے اور ممکن حد تک معنویت کے قریب قریب پہنچ جاتا ہے۔ میراجی نے مواد، موضوع کی قدروقیمت بیان کرنے میں بہت کم توجہ دی ہے۔ وہ نظم کے ماحول اور تخلیقی واردات پر توجہ دیتے ہیں۔ گویا وہ قاری کو نظم کے دروازے اندر داخل کر دیتے ہیں اورکچھ کام اس کے سپرد کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی مزید سعی سے نظم کے قابل بیان پہلوئوں کو بیان کرے۔</p> <p>اس نظم میں ذات اور معروضات کا امتزاج ہے۔ نظم تخلیق کی معروضی صورت ہے۔ میراجی کا عمل اس معروضی صورت کو بار بار دیکھنے اور اسے <annotation lang="en">conceive</annotation> کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ جوں ہی وہ نظم کو <annotation lang="en">conceive</annotation> کرتا ہے اس کی ذات متحرک ہونے لگتی ہے۔ متخیلہ نظم کے اندر باہر، ارد گرد جھانکنے لگتا ہے۔ اور میراجی وہ نقطہ وہ مقام تلاش کر لیتا ہے جہاں سے نظم کا <annotation lang="en">origin</annotation> ہوا تھا۔ یہ ذات کے متخیلہ کا عمل ہے جو نقاد کو اس مقام پر بالآخر پہنچا دیتا ہے اور یہاں سے نظم کی قدرتی ساخت کا نقشہ ہمارے سامنے واضح ہو جاتا ہے۔</p> <p>جدید اردو نظم کے فریم ورک میں میراجی نظم کے حقیقی وجود کی تلاش میں سرگرداں ملتا ہے۔ وہ نظم کے وجود میں فلسفہ، فکر، تفکر اور سوچ و فکر کے موضوعات کی تلاش میں نہیں نکلتا ہے۔ اسے تلاش ہوتی ہے خیال کی، جذبے کی احساس کی او رجمالیاتی رویوں کی۔ اس کی نگاہ نظم کے وجود کے مرکز کی متلاشی ہوتی ہے۔ اِدھر اُدھر دیکھتے دیکھتے اس کی نگاہ مرکز تک جا پہنچتی ہے۔ اس جگہ سے نظم کا وجود اس کے سامنے اپنی شکل بنانے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے وجود کے سارے رموز، سارے نقاط اور سارے زاویے مکمل ہو جاتے ہیں۔ میراجی کے تنقیدی کرافٹ میں یہ عمل بے حد متاثر کرنے والا ہے۔ میراجی سے پیشتر کسی اردو نقاد نے نظم کو اس طرح سے اپنے حصار میں لینے کے لیے سوچا تک نہ تھا۔ اس تنقیدی قرینہ سے میر اجی اس وقت واقف ہوا تھا جب وہ میلارمے پر مضمون لکھنے کے دوران میں چارلس موراں <annotation lang="en">(Charles Mauron)</annotation> کے ان تجزیوں سے روشناس ہوا تھا جو اس نے میلارمے کی نظموں کی توضیح کے لیے قلم بند کیے تھے۔ اس سے میراجی اتنا متاثر ہوا تھا کہ اس نے ادبی دنیا کے اوراق پرجدید نظموں کے تجزیے شروع کر دیے تھے۔ بعدازاں یہ کام ۱۹۴۴ئ میںاس نظم میں کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔</p> <p>میراجی کے ہاں نظم کی تفہیم کی بنیاد <annotation lang="en">subjective theory</annotation> پر استوار نظر آتی ہے۔ قاری نظم کو اپنی موضوعی فہم کے مطابق گرفت میں لیتا ہے۔ اس میں اس کے ذہنی پس منظر کا حصہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اس کے فہم کو اس کی ادبی پرداخت، روایت، نظریات، شعری اصول، شاعری کی فنی تفاسیر اور اس کے عمل او رنظریات کے ردعمل سے تیار ہونے والی ادبی شخصیت نظم کی تفہیم میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ہر قاری اپنے پس منظر کے حوالے سے ایک مختلف ادبی شخصیت کا حامل ہوتا ہے اور یہ ادبی شخصیت ہی ہے جو شعر کی تفہیم کو متعین کرتی ہے۔ اس لیے ہر تفہیم حتمی اور قطعی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم دیوان غالب کا جائزہ لیتے ہیں تو مختلف شارحین کے ہاں ہمیں کسی شعر کی مختلف شرحیں ملتی ہیں۔</p> <p>میراجی کے ہاں نظم کی جو بھی تفہیم ہے وہ اس کی ادبی شخصیت کاکام ہے۔ کیا ہم اس کے کام کو حتمی کہہ سکتے ہیں؟ کیا اس سے اتفاق کر سکتے ہیں؟ یا ہم اس سے مختلف تفہیم دے سکتے ہیں۔ ان باتوں کا تعین قاری کی ادبی شخصیت ہی کر سکتی ہے۔ لیکن میراجی کی تفہیم <annotation lang="en">subjective theory</annotation> پر ہے۔ اس کی موضوعیت نظم کی تفہیم میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ میں نے اس مسئلہ کو یہاں اس لیے پیش کیا ہے کہ عام قارئین یا نقادوں کے مقابلے میں اس نے اس نظم میںکی تفہیم میں موضوعیت کے نتائج پر زیادہ انحصار کیا ہے۔</p> <p>ہمیں یہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ہے کہ میراجی نے نظموں کی تفہیم کے لیے کون سی اصطلاحیں استعمال کی تھیں۔ کیا وہ اپنے کام کو نظم کی شرح کہتے تھے یا تفسیر، تعبیر یا تجزیہ کا نام دیتے تھے یا تنقید کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ کیوں کہ تفہیم کی ان اصطلاحات سے میراجی کے کام کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔ اس مقصد کے لیے میں نے اس نظم میں کے پیش لفظ سے رجوع کیا۔ میراجی کہتے ہیں کہ ادبی دنیا میں میں نے ہر ماہ کی نظموں کا جائزہ لینا شروع کیا تھا۔ ذہن میں چارلس موراں کا اندازِ تشریح تو آسودہ تھا ہی۔ کچھ شعوری اور کچھ غیر شعوری طور پر میں نے بھی وہی طرز اختیار کی جو آگے چل کر انفرادی رنگ نمایاں کرتی گئی۔</p> <p>میراجی نے اپنے بیان میں ہر ماہ کی نظموں کے جائزے کا ذکر کیا ہے۔ اب جائزہ شرح ہے نہ تفسیر اور نہ ہی تعبیر یا تجزیہ۔ جائزے میں کئی باتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ البتہ میلارمے کی نظموں کے شارح چالس موراں کا ذکر کرتے ہوئے میراجی نے یہ کہا تھا کہ اس نے ہر نظم کو سمجھنے کے لیے جس انداز سے شرح لکھی تھی وہ انداز مجھے بہت پسند آیا۔ یہاں میراجی نے شرح کی بات کی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ میراجی نے شرح کا راستہ اپنایا ہے۔ مگر یہ شرح وہ نہیں ہے جو دیوان غالب کے شارحین نے کی ہے۔ یہ لوگ حد سے زیادہ شعری متن کے وفادارہوتے ہیں اس سے ہٹ کر اِدھر اُدھر کی کوئی بات نہیں کرتے۔ ناک کی سیدھ میں چلے جاتے ہیں۔ مگر میراجی متن کے اتنے وفادار نہیں ہیں۔ وہ متن سے زیادہ اپنی شعری موضوعیت کے وفادار نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ان کے شعری موضوعات کی بنیاد متن ہی پر ہے مگر وہ متن سے ہٹ کر متن کی تحریک سے جو متنی منظرنامہ بناتے ہیں وہ میراجی کی موضوعیت کی تخلیق ہوتا ہے۔ گویا میراجی ایک سطح پر قاری ہیں اور دوسری سطح پر قاری سے بلند ہو کر خالق نو کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ اس مقام پر اگر میں یہ کہوں کہ نئی تھیوری کی قاری متنی تنقید <annotation lang="en">(Reader-Oriented Criticism)</annotation> کے تصورات سے بہت پہلے میرا جی متن کی تنقید کا یہ قرینہ پیش کر چکے تھے تو بالکل صحیح ہوگا۔</p> <p>میراجی کے ہاں نظم میں تفہیم کے اس فریم ورک کو واضح کرنے کے لیے میں جوش کی ایک نظم ”دیدنی ہے آج“ کی مثال پیش کرتا ہوں۔ میراجی اس نظم کی تفہیم سے پہلے اپنے اس طریق کار کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جس سے وہ نظم کے منظرنامہ کو تخلیق کرتے ہیں:</p> <blockquote> <p>نظموں سے لطف اٹھانے اور ان کو صحیح طور پر سراہنے کے لیے میں نے آج تک یہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ ایک بار پڑھ لینے کے بعد میں اس جگہ جا کھڑا ہوتا ہوں جہاں ایستادہ ہو کر شاعر نے اپنا کام ظاہر کیا ہے اور پھر آغاز سے لے کر نظم کو دوبارہ پڑھنا شروع کرتا ہوں یوں مرا ذہن اس کیفیت سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے جس میں اس نے شعر کہا تھا۔</p> <p>جوش کی نظم یہ ہے:</p> <heading>دیدنی ہے آج</heading> <verse> پہلو میں تابِ حسنِ جہاں دیدنی ہے آج نورِ چراغِ خلوتیاں دیدنی ہے آج کشتی رواں ہے نغمۂ ساقی کی لے کے ساتھ موجِ خرامِ آبِ رواں دیدنی ہے آج دم سازِ ابروباد ہے رندانہ بانکپن طرفِ کلاہِ پیرِ مغاں دیدنی ہے آج آرائشوں کی فکر نہ زیبائشوں کا ہوش وارفتگیِ لالہ رخاں دیدنی ہے آج حسنِ جواں، شرابِ کہن، سازِ برشگال عشرت سراے بادہ کشاں دیدنی ہے آج </verse> </blockquote> <p>میراجی نے اس نظم کے <annotation lang="en">unstated</annotation> منظرنامے، ماحول، فضا اور کیفیات کو کس طور پر اپنے متخیلہ میں دیکھا ہے وہ میراجی کے بیان میں موجود ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس حوالے سے وہ نظم کو ازسرنو تخلیق کر دیتے ہیں۔ اور زیادہ پرمعنی انداز میں کرتے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو جوش کی نظم جو اس کی <annotation lang="en">personal</annotation> تخلیق ہے۔ میراجی کے ازسرنو تخلیقی عمل سے شعری تفہیم میں آ کر <annotation lang="en">impersonal</annotation> ہو جاتی ہے۔ ہوا یہ ہے کہ میراجی کا اپنا <annotation lang="en">person</annotation> نظم کی تخلیق وتفہیم کا حصہ بن گیا ہے۔ گویا میراجی ایک ہی وقت میں نظم کا قاری ہے، شارح ہے اور ایک حد تک خالق بھی ہے۔ اس پورے عمل کو دیکھنے کے لیے میر اجی کے بیان کو دیکھیے، جس میں مختلف کڑیاں مل کر ایک مجموعی تاثر قائم کرتی ہیں:</p> <blockquote> <p>جوش کی اس نظم سے لطف اندوز ہونے کے لیے میں سب سے پہلے ذہنی طور پر کسی دریا کے کنارے جا پہنچتا ہوں۔ کنارے پر پیڑ ہیں، سبزہ ہے، آبادی کا دور دور تک نام و نشان نہیں، پیڑوں سے پرے دھرتی پھیلی ہوئی ہے، اور اس دھرتی پر کھیتوں کا جال بچھا ہے، لیکن وہ میری ذہنی گرفت کے افق کی چیزیں ہیں۔ میں دریا کے کنارے پر کھڑا ہوں، سامنے دریا وادی کی سلوٹوں میں بِس گھول رہا ہے۔ ہر طرف ایک چپ چاپ سی پھیلی ہوئی ہے مگر خاموشی اور سکون مکمل نہیں۔ کبھی کبھی کسی طائرکی آواز کان تک نہیں پہنچتی ہے۔ اوپر نگاہ کرتا ہوں تو آسمان پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن موسم ساون کا ہے، پھیلے ہوئے آسمان پر بادلوں کے جھرمٹ چھائے ہوئے ہیں اور ان کی کاجل ایسی سیاہی آنے والی بوندوں کا پیغام دے رہی ہے۔ اب بہت سی باتیں یکبارگی ہو جاتی ہیں۔ بوندا باندی شروع ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ ایک پھوار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ نہ جانے کہاں سے سطح آب پر ایک بڑی سی کشتی نمودار ہو جاتی ہے۔ اس کشتی پر بہت سے لوگ ہیں، مرد بھی اور عورتیں بھی۔ اور پھر میرے ذہن کی قلابازی مجھے بھی ان کا ہم جلیس بنا دیتی ہے۔ اب مجھے صرف اس کشتی اور اس کے مسافروں کے ساتھ کا ہی احساس رہ جاتا ہے۔ دریا کا کنارا دور ہے، قریب صرف دریا کی لہریں ہیں۔ ”موجِ خرامِ آبِ رواں“ ہے جس کے ساتھ ہی ساتھ ”ساقی کے نغمے کی لے“ بھی جاری ہے، بھیگی ہوا چل رہی ہے، اور پل بھر کو اوپر نظر اٹھاتا ہوں تو آسمان پر ابر پارے لڑکھڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔</p> </blockquote> <p>جدید نظم کے لیے میراجی نے تفہیم کا جو فریم ورک مرتب کیا تھا اس میں ایک بہت اہم پہلو متن کی ذیلی ادائیگی <annotation lang="en">extra textual performances</annotation> کا ہے۔ میراجی نظم کے متن پر گہرا غوروفکر کرتے ہیں۔ ان کو گہری قدرت حاصل تھی کہ وہ متن کے اندر آسانی سے اتر جاتے تھے اور متن کے مطالب ان کے سامنے تیزی سے روشن ہوتے جاتے تھے۔ وہ متن کے اندر باہر دیکھنے کے بعد متن سے ہٹ کر کچھ سوچنے لگتے تھے۔ اور جب ان کی سوچ اور متخیلہ اوراق پر منتقل ہوتے تھے تو متن پیچھے رہ جاتا تھا اور جو کچھ دیکھنے کو ملتا <annotation lang="en">extra textual performance</annotation> کا عمل کہا جا سکتا ہے۔ میراجی متن کی <annotation lang="en">enlargement</annotation> بنا دیتے تھے۔ وہ بہت کچھ جو ہم کو متن میں نظر نہ آتا تھا اب میراجی کی ذیلی/اضافی کارگزاری سے نظر آنے لگتا تھا۔ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ دراصل ان پر نظم اترتی تھی۔ نظم کو سمجھنا اور چیز ہے اور نظم کا اترنا دوسری چیز ہے۔ نظم کا سمجھنا ایک تنقیدی کارروائی ہے اور نظم کااترنا تخلیقی عمل ہے۔ میراجی کی گہری <annotation lang="en">involvement</annotation> کے باعث وہ نظم کو ترتے ہوئے دیکھتے تھے اس لیے ان کا تجربہ تنقیدی سطح سے بڑھ کر تخلیقی سطح کا تجربہ ہو جاتا تھا۔</p> <p>آیئے ہم قیوم نظر کی ایک نظم دیکھتے ہیں:</p> <blockquote> <heading>خیالات پریشاں</heading> <verse> دیوداروں کے ترش رو پتے جھڑ کے پیوند خاک ہو بھی چکے جھیل کی لٹ چکی ہے شادابی کب سے میداں میں پہنچی مرغابی ہر طرف نرم برف جمنے لگی سربرآوردہ ندی تھمنے لگی چیختی ہے ہوا گذرتے ہوئے کوہساروں کے پار اترتے ہوئے میں ہوں اور اک بسیط تنہائی بے کراں، لامحیط تنہائی راہ بھولا ہوا ہوں منزل کی کیا کہوں، کیا ہے کیفیت دل کی اشک آنکھوں سے بہتے جاتے ہیں کتنے افسانے کہتے جاتے ہیں سانس رکتا ہے لڑکھڑاتا ہوں ذرے ذرے سے خوف کھاتا ہوں ایک شفاف ٹکڑا بادل کا یا کوئی پرزہ نوری آنچل کا دور افق کے قریب لہرایا آرزوئوں نے دام پھیلایا میں نے چاہا کہ اپنی بات کہوں ہو سکے گر تو اس کے ساتھ چلوں میری رفتار برق وار نہ تھی اور اسے تابِ انتظار نہ تھی برف کے اک وسیع میداں پر اب کھڑا ہوں شکستہ حال و جگر راستہ ہے نہ رہنما کوئی میرے پہلو سے گم ہے سایہ بھی شام کی زردی آئی جاتی ہے مردنی بن کے چھائی جاتی ہے دم بخود ہے ہوا سرکتی ہوئی روح ہے یا بہار رفتہ کی </verse> </blockquote> <p>میراجی نے <annotation lang="en">extra textual performance</annotation> میں اس نظم کی ساخت کو آریائوں کی تاریخ اور تہذیب کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تخلیقی تنقید کا عمل ہے۔ نظم کا متن مناظر دکھاتا ہے یا پھر شاعر کے احساسات اور اس پر گزرنے والی تنہائی کا قصہ سناتا ہے۔ قصہ میں نے اس لیے کہا ہے کہ میراجی نظم کی ساخت کو بطور ایک قصہ کے بیان کرتے تھے۔ وہ نظم کے انسانی ڈرامے کو قصہ بنا کر سناتے تھے۔ اس کے بعد وہ نظم کے دوسرے پہلوئوں کا رخ کیا کرتے تھے۔ “خیالاتِ پریشاں“ میں پس منظر کی شکل میں انہوں نے آریائی تہذیب و تمدن کی قصہ آرائی کی ہے۔ نظم کی ظاہری صورت اس قسم کے کسی حوالے کا تقاضا نہیں کرتی ہے مگر میراجی کا لاشعور انہیں کشاں کشاں ایک قدیم دور میں لے گیا اور ماضی کے ایک جدید شاعر کی نظم کو انہوں نے قدیم تہذیبی حوالوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہی <annotation lang="en">extra textual performance</annotation> ہے۔ وہ سب کچھ جو متن کے ڈھانچہ میں نہیں تھا۔ نقاد کے وژن نے اسے متن کا تخلیقی ضمیمہ بنا دیا ہے۔ یہ نظم کی باز آفرینی ہی نہیںہے بلکہ اس سے کچھ زیادہ عمل کا قصہ ہے:</p> <blockquote> <p>آریہ جب پہلے پہل ہندوستان میں پہنچے تو انہیں دو چیزوں سے سابقہ پڑا: جنگل اور جنگلی۔ جنگلیوں کو تو انہوں نے مار بھگایا، اور وہ ملک کے دورافتادہ حصوں میں پہنچے، لیکن جنگل کے جادو سے بچ نکلنا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ چناں چہ نہ صرف ان کی تہذیب کا گہوارہ جنگل ہی بنے، بلکہ ان کے تمام بنیادی خیالات کی نشوونما جنگلوں کی تنہائی اور گہرائی میں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خیالات میں کسی جنگل کے اتھاہ ساگر کے ایسا عمق پایا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ زندگی کا ڈھب بدلا، گائوں بنے۔ انہی گائوں میں سے کچھ بڑھ کر قصبے بنے۔ قصبے پھلے پھولے اور شہروں کے آثار نظر آنے لگے اور پھر تہذیب کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے یہ دور دراز سے آئے ہوئے باشندے مناظرِ فطرت سے دور ہوتے گئے، لیکن نسلی تجربے کے لحاظ سے اب بھی وہ تاثرات جو انہیں جنگلوں میں حاصل ہوئے ان کے نفسِ لاشعور میںموجود ہیں، اور اکثر یہ نسلی تجربات ادب کے ذریعے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ قیوم نظر کی یہ نظم شاید ایک ایسا ہی نسلی تجربہ ہے۔</p> <p>آریائوں کو جنگل کے مختلف جلووں میں جو ہم آہنگی انسانی احساسات سے محسوس ہوئی ہو گی اس کا عکس بھی اس نظم میں موجود ہے۔ بظاہر اس میں ہر مظہرِ فطرت محض بیانیہ معلوم ہوتا ہے، لیکن ہر خارجی چیز کی کچھ نہ کچھ داخلی اہمیت بھی ہے۔ ”بادل کا شفاف ٹکڑا“ صرف بادل کا ٹکڑا ہی نہیں ہے اور یہی حال غیر شاداب جھیل، چیختے ہوئے گزرتی ہوئی ہوا(آخر میں سرکتی ہوئی دم بخود ہوا) سربرآوردہ ندی، میدان میں پہنچی ہوئی مرغابی، دیودار اور ترش روپتوں کا ہے۔ یہ سب کسی ناٹک کے کردار ہیں۔ اور ان کے ساتھ، خوف دلاتے ہوئے ذرے، شام کی زردی، نرم برف اور بسیط تنہائی، یہ سب کچھ ان کرداروں کے (یا شاعر کے) دل کی کیفیت کی ترجمانی کو موجود ہیں۔</p> </blockquote> <p>جدید نظم کے فریم ورک میں ایک نظم ایسی بھی ملتی ہے جس کے شعری سٹرکچر سے میراجی مطمئن نہیں تھے۔ وہ اس سٹرکچر کو معنوی ترسیل کے رستے کی رکاوٹ بھی قرار دیتے تھے۔ راشدؔ کی نظم ”زنجیر“ اس نوعیت کی مثال ہے۔ اس نظم کا دقتِ نظر سے جائزہ لیتے ہوئے میراجی نے نظم کی معنوی ساخت پر کچھ باتیں کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا:</p> <blockquote> <p>راشد کی اس نظم میں ایک ایسے ملک کا نقشہ نہایت نفیس کنایوں اور استعاروں سے بیان کیا گیا ہے جو سالہا سال سے غلامی کی بے بسی اور مشق میں زندگی بسر کر رہا ہو۔ نظم کے دوسرے اور تیسرے بند کا مفہوم نسبتاً آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے، لیکن پہلا بند ذرا الجھن میں ڈالنے والا ہے۔ دوسرے بند میں پیلۂ ریشم اور تیسرے بند میں اس ہنگامِ باد آورد کے معنی جلد ہی متعین ہو جاتے ہیں، لیکن پہلے بند میں سنگِ خارا، خارِ مغیلاں، دوست وغیرہ کے استعارے ذرا مبہم دکھائی دیتے ہیں۔ اگر مفہوم کا تسلسل قائم کرنا چاہیں تو دوسرے بند کو پہلا اور پہلے کو دوسرا بند سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ یوں صرف دو تصور قائم ہو سکیں گے۔</p> </blockquote> <p>نظم کی معنوی ساخت کے الجھائو کو دور کرنے کے لیے انہوں نے نظم کی <annotation lang="en">restructuring</annotation> کی تھی۔ اور یہ بتایا تھا کہ نظم کے تسلسل کو آسان شکل میں رکھنے کے لیے مصرعوں کی ترتیب بدلنی ہو گی۔</p> <p>راشد کے ہاں نظم کی ترتیب یوں تھی:</p> <p>میراجی نے نظم کی ساخت کو پرمعنی بنانے کے لیے جوترتیب دی تھی وہ یہ ہے:</p> <table> <tr> <td>مصرعوں کا مجوزہ شمار</td> <td>موجودہ شمار</td> </tr> <tr> <td>۱</td> <td>۸</td> </tr> <tr> <td>۲</td> <td>۹</td> </tr> <tr> <td>۳</td> <td>۱۰</td> </tr> <tr> <td>۴ تا ۸</td> <td>۳ تا ۷</td> </tr> <tr> <td>۹ تا ۱۳</td> <td>۱۱ تا ۱۵</td> </tr> <tr> <td>۱۴ تا ۱۵</td> <td>۱ تا ۲</td> </tr> </table> <p>نظم ”زنجیر“ کی ساخت میں مصرعوں کی ترتیب بدل دیے جانے سے نظم معنویت کی نئی طاقت حاصل کرتی ہے۔ نظم پہلی ساخت کے مقابلے میں زیادہ رواں اور نسبتاً سلیس ہو جاتی ہے۔</p> <p>اپنی معروضات بیان کرنے کے بعد میں دوچار اور باتیں کہنے کی اجازت چاہوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرؔاجی کی تنقید اور جدید نظم پر اس کے تخلیق کردہ فریم ورک کو اردو کے نقادوں نے مناسب اہمیت نہیں دی ہے۔ کسی نے میراجی کے بنائے ہوئے شاعری کے تنقیدی نظام کو پرکھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔</p> <p>کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ کیا میراجی نے جدید شاعری کے تصورات کی کوئی فارمولیشن <annotation lang="en">(formulation)</annotation> کی ہے؟ وہ شاعری کو کیا سمجھتا تھا؟ اس کی شعری تھیوری کیا تھی؟ اس کے نزدیک شاعری کو شاعری بنانے والے اوصاف کیا تھے؟ میں مختصراً یہ کہوں گا کہ میراجی ایک <annotation lang="en">visionary</annotation> نقاد تھا۔ اس کے وژن نے جدید شاعری کے کڑے وقت میں جدید نظم کی تنقید کا فریم ورک بنایا۔ ان کے شعری جائزوں پر مشتمل اس نظم میں جیسی وقیع کتاب کو جدید شعری تنقید کی بوطیقاقرار دیا جا سکتا ہے۔</p> </section> </body> "
"0028.xml"
"<meta> <title>میرا جی کی فکری جہتیں</title> <author> <name>سعادت سعید</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/10_sadat_saeed_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>6399</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"میرا جی کی فکری جہتیں"
6,399
"Yes"
"<body> <section> <p>میرا جی کی نظمیں کائنات کے ازلی و ابدی سلاسل کی علامتی تعبیرو تظہیر میں یکتا و نادر طرز بیان کی حامل ہیں۔ انھوں نے روشنی کی تلاش میں ان اندھیروں کا سفر بھی کیا ہے جنھیں عام طور پر اخفائے حال کی مہر ثبت کرنے یا بالائے طاق رکھنے میں عافیت جانی جاتی ہے۔ ستر پوش تہذیب کا ننگا پن کاروباری مصلحتوں کے لیے تو جائز قرار پا چکا ہے لیکن عام انسان کو سرعام اپنے اندر کے تعفن کو باہر نکالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ میرا جی نے مصلحت آمیز خیر کے مقابلے میں شر انگیز راستی کو اپنانے کا اعلان کیا۔ یہ شر انگیز راستی کیا ہے۔ خودمیرا جی کی زبان میں ملاحظہ ہو:</p> <blockquote> <p>بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ زندگی کا جنسی پہلو ہی میری توجہ کا واحد مرکز ہے۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ جنسی فعل اور اس کے متعلقات کو میںقدرت کی بڑی نعمت اور زندگی کی سب سے بڑی راحت اور برکت سمجھتا ہوں۔ اور جنس کے گرد جو آلودگی تہذیب و تمدن نے جمع کر رکھی ہے وہ مجھے ناگوار گزرتی ہے، اس لیے رد عمل کے طور پر میں دنیا کی ہر بات کو جنس کے اس تصور کے آئینے میں دیکھتا ہوں جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جو۔۔۔۔ میرا آدرش ہے۔</p> </blockquote> <p>روسو <annotation lang="en">(Jean-Jacques Rousseau)</annotation> کے معاہدہ عمرانی میں موجود فطری زندگی کے تصور کو یاد کیجیے کہ جس میں اس حقیقت کے رخ سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن تہذیب و تمدن نے اسے پا بہ زنجیر کر دیا ہے۔ اور پھر ہیولاک ایلس <annotation lang="en">(Henry Havelock Ellis)</annotation> کی تحقیقات اور فرائڈ <annotation lang="en">(Sigmund Freud)</annotation> کی انٹر پریٹیشن آف ڈریمز <annotation lang="en">(The Interpretation of Dreams)</annotation> کو یاد کیجیے، بقیہ ڈھکا چھپا سچ بھی طشت از بام ہو جائے گا۔ دیوی اتھینہ <annotation lang="en">(Athena)</annotation> کے مندر میںمیڈوسا <annotation lang="en">(Medusa)</annotation> کا ریپ، ہیلن <annotation lang="en">(Helen)</annotation> کی حکایات، الف لیلیٰ میں بادشاہوں کی بدکار منکوحائیں، یوسف سوداگر کی داشتہ شہزادی، مادام بواری <annotation lang="en">(Madame Bovary)</annotation>، گستاوفلابیئر <annotation lang="en">(Gustave Flaubert)</annotation>، لیڈی برڈ <annotation lang="en">(Ladybird)</annotation>، لارنس <annotation lang="en">(D.H.Lawrence)</annotation>، لیڈی چیٹرلیز لور <annotation lang="en">(Lady Chatterley's Lover)</annotation>، سعادت حسن منٹو کے تلخ انکشافات، خان فضل الرحمن کے مسلک لذتیہ کے تحت لکھے گئے حقائق اور اپنے مفتی جی کے مفتیانے میں ہونے والی مفتو مفت جسمانی کار گزاریاں اور پھر علی پور کا ایلی، واجدہ تبسم کا ”شہر ممنوع“ اور عصمت چغتائی کا ”لحاف“!</p> <p>اے ”طلاموس کبیر“ ہمارے علم میں مزیداضافہ فرما اور ن۔ م۔ راشد کو کمسن جہاں زاد کے عذاب سے بچا۔ ان کی شاعری میں سفید فام عورت سے لیا جانے ولا انتقام مسز سلامانکا کی آنکھوں میں دھول بن کر جا گھسا ہے۔ وارث شاہ نے ہیر رانجھا میں موج میلہ لگایا۔ اگر اس امر کو تحقیقی غلطی نہ جانا جائے تو میر اثرؔ نے خواب و خیال میں میرا جی کے آدرشوں ہی کو ثابت کیا ہے اور ”سحرالبیان“ (تعشق کی آپس میں باتیں کریں)، ”گلزار نسیم“ میں ”ہے ہے مرا پھول لے گیا کون۔ ہے ہے مجھے خار دے گیا کون“۔ یعنی ہے ہے مرا گل لے گیا کون۔ ہے ہے مجھے جل دے گیا کون! اور روایتی شاعروںکے تصوف میں یہ بھی جائز تھا ”گھر آ یا تو آج ہمارے کیا ہے یاں جو نثار کریں۔ الا کھینچ بغل میں تجھ کو دیر تلک ہم پیار کریں“ اور اپنے چچا غالب کیا کسی ڈومنی سے ہمکلام ہو رہے ہیں اللہ اللہ! ”غنچہ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں۔ بوسے کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کے یوں“ الاماں الحفیظ کچھ فلمیں یاد آگئیں ’لولیتا‘ <annotation lang="en">(Lolita)</annotation>، ’فینی ہل‘ <annotation lang="en">(Fanny Hill)</annotation>، ’اٹ سٹارٹڈ ود اے کس‘ <annotation lang="en">(It Started with a Kiss)</annotation> ’ارمالا ڈوس‘ <annotation lang="en">Irma la Douce</annotation>، کہاں سے آئے یہ جھمکے؟، کس نے دیے یہ جھمکے ؟اس کے بدلے میں کیا کوئی من مرضی سے امرائو جان اد انہیں بن سکتی؟، غلام عباس کی ”آنندی“ نے سب کچھ کھول کے رکھ دیا۔ نظیر اکبر آبادی کی پکار سنیے، ”دل میں کسی کے ہرگز نے شرم نہ حیا ہے۔ آگا بھی کھل رہا ہے پیچھا بھی کھل رہا ہے“ تو صاحبو پردہ نہ جانے کس کی عقل پر پڑا ہے؟ اور میں نے زیادہ تر اس سیناریو پر توجہ دی ہے کہ جس میں ابھی ہماری لڑکیوں نے انگریزی پڑھنے کے بغیر ہی بہت سے سین دکھادیے ہیں۔ عینی آپا کچھ چاندنی بیگم کے بارے میں بھی ارشاد ہو جائے۔ اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا۔</p> <p>اے ”طلاموس کبیر“ میرا جی کی خطائیں بھی بخش کہ انھوں نے اگر ڈھول کا پول کھولا ہے تو ہمیں پول کا ڈھول کھولنے کی تو اجازت ہونی چاہیے یعنی ”عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے میرا کام۔ مجنوں کو بر اکہتی ہے لیلیٰ مرے آگے“ اور یہ شکر ہے کہ لیلیٰ مجنوں کی منکوحہ نہیں تھی ورنہ تو یہ شاعر بھی حدود کی زد میں آتے آتے بچے ہیں۔ بایں ہمہ صرف میرا جی کو کارنر نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا ایک بڑا حمام ہے جس میں ہر شخص کو یہ لگتا ہے کہ دوسرے ننگے ہیں اور اس نے طالبانی برقعہ اوڑھ رکھا ہے یعنی نہ اس کا پتہ چلتا ہے کہ وہ مرد ہے کہ عورت!انتظار حسین صاحب اپنی نانی اماں سے کہانیاں سنتے رہے اور ہم اپنی نانی کے افغانی برقعے میں گھسے دم دبائے دم سادھے بیٹھے رہے۔ کچھ کرنے کی ہمت نہ ہوئی، تو اتنا ضرور سمجھا کہ دنیا کے حمام میں دوسرے لوگ مساج کروا رہے ہیں۔ میرا جی کی نظم ”برقع“ اس ضمن میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہے:</p> <blockquote> <verse> آنکھ کے دشمنِ جاں پیراہن آنکھ میں شعلے لپکتے ہیں، جلا سکتے نہیں ہیں ان کو آنکھ اب چھپ کے ہی بدلہ لے گی نئی صورت میں بدل جائے گی! </verse> </blockquote> <p>تو جناب تہذیب و تمدن کے برقعے کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے؟ چوری چھپے کی وارداتیں !کالج نامے سیڑھی نامے اور پھر نامے ہی نامے۔ میرا جی کہتے ہیں:</p> <blockquote> <verse> آنکھ اب چھپ کے ہی بدلہ لے گی، جھلملاتے ہوئے پتے تو لرزتی ہوئی کرنوں کی طرح سایوں میں کھو جائیں گے اور بھڑکتے ہوئے شعلے بھی لپکتے ہوئے سو جائیں گے، دل میں سوئی ہوئی نفرت سگِ آوارہ کی ماننداندھیرے میں پکار اٹھے گی ہم نہ اب آپ کو سونے دیں گے۔ اور چپکے سے یہ آسودہ خیال آئے گا آج تو بدلہ لیا ہم نے نگاہوں سے چھپے رہنے کا۔ لیکن اب آنکھ بھی بدلہ لے گی۔ نئی صورت میں بدل جائے گی! </verse> </blockquote> <p>میرا جی نے کہا سب کچھ جنس تو نہیں ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار نہیں ہے لیکن زمین، انسان، زندگی اور کائنات کے اور بھی بہت سے مظاہر ہیں ان کا کھوج بھی تو لگانا ہے سو ازلی و ابدی اندھیروں، تنہائیوں، خلوتوں اور جدائیوں کا حساب کتاب بھی تو رکھنا ہے۔ ڈارون سے کیا گلا، میرا جی کہتے ہیں ”میں کہتا ہوں اجالے کو کون پسند نہیں کرتا۔ جب سے یہ دنیا بنی ہے۔ جب سے آدم کی اولاد اپنے جد امجد کے گناہ کی پاداش میں کرہ ارضی پر رہنے لگی ہے۔ جب سے بندر پیڑ کی ٹہنیوں سے اتر کر زمین پر چلنے پھرنے لگا ہے۔ اجالے اور اندھیرے کی کشمکش جاری ہے۔“ میرا جی نے اس خیال کی شرح میں کئی نظمیں لکھی ہیں۔ ان کی شاعری میں اندھیروں، اجالوں اور سایوں کے مظاہر اپنے عروج پر نظر آتے ہیں۔ بقول ن۔ م۔ راشد:</p> <blockquote> <verse> میر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو میر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو نارسا ہاتھ کی نمناکی ہے ایک ہی چیخ ہے فرقت کے بیابانوں میں ایک ہی طول المناکی ہے ایک ہی روح جو بے حال ہے زندانوں میں ایک ہی قید تمنا کی ہے عہد رفتہ کے بہت خواب تمنا میں ہیں اور کچھ واہمے آئندہ کے پھر بھی اندیشہ وہ آئینہ ہے جس میں گویا میر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو کچھ نہیں دیکھتے ہیں محور عشق کی خود مست حقیقت کے سوا اپنے ہی بیم و رجا، اپنی ہی صورت کے سوا اپنے رنگ، اپنے بدن، اپنے ہی قامت کے سوا اپنی تنہائی جانکاہ کی دہشت کے سوا دل خراشی و جگر چاکی و خوں افشانی ”ہوں تو ناکام پہ ہوتے ہیں مجھے کام بہت“ ”مدعا محو تماشائے شکست دل ہے“ ”آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے“ ”رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہ تھا“ چاند کے آنے پہ سائے آئے سائے ہلتے ہوئے، گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیں (میر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو اپنی ہی ذات کی غربال میں چھن جاتے ہیں) دل خراشیدہ ہو خوں دادہ رہے آئنہ خانے کے ریزوں پہ ہم استادہ رہے چاند کے آنے پہ سائے بہت آئے بھی ہم بہت سایوں سے گھبرائے بھی میر ہو، مرزا ہو، میرا جی ہو آج جاں اک نئے ہنگامے میں در آئی ہے ماہ بے سایہ کی دارائی ہے یاد وہ عشرت خونناب کسے؟ فرصت خواب کسے </verse> </blockquote> <p>ن۔ م۔ راشد کو فرصت خواب تھی یا نہیں؟ اس بات کو سر دست ادھورا چھوڑتے ہیں لیکن میرا جی نے اپنے عہد کے علمی، ادبی، سیاسی اور تہذیبی منظر نامے پر گہری نظر ڈالی ہے۔ یہ منظر نامہ ان کے لہو کی گردشوں میں شامل ہو کر صفحہ قرطاس پر نقش ہو جاتا ہے۔ اور وہ کہتے ہیں: ”میں اپنے ملک کے موجودہ سماج کا ایک جیتا جاگتا فرد بھی ہوں۔ میری خواہشات اسی سماج کی تابع ہیں۔ میرا دل پرانی فضا میں سانس لیتا ہے مگر میری آنکھیں اپنے آس پاس اپنے سامنے دیکھتی ہیں۔ اور اس مشاہدے کا نقش میری نظموں میں ہر جگہ موجود ہے۔“ </p> <heading>استعارے کا جادو اور میرا جی کے سماجی معنی</heading> <p>ممتازحسین نے اپنے مضمون ”رسالہ در معرفت استعارہ“ میں مابعد الطبیعیاتی منطق کی احتجاجی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔</p> <blockquote> <p>اگر آج آرٹ عہد عتیق کے طلسمات اور اساطیر اور قرون وسطی کی اخلاقیات سے آزاد ہے تو کل وہ باقیات قرون وسطی اور طبقات نظام کی سیاسیات سے بھی آزاد ہو گا۔ یہ ایک عجیب کشمکش ہے لیکن اس کشمکش سے وہ سحر اور وہ آرٹ پیدا ہوں گے جس کا خواب یورپ کے رومانی شعرا نے اپنی تحریک کے عروج کے زمانے میں دیکھا تھا۔ رومانی شعرا نے سرمایہ دارانہ رشتوں کی مخالفت میں ہی شاعری کی ہے۔ انھوں نے اپنے احساسات اور ندائے تخیل سے اس بات کی تصدیق کی کہ انسان ایک ہے، وہ ناقابل تقسیم ہے۔ وہ انسان ہے نہ کہ آقا اور غلام، زمیندار اور کسان، کام دار اور سرمایہ دار، منشی اور کوتوال۔ اس میں شبہ نہیں کہ انھوں نے اس بغاوت کو بہ قوت جذبہ پروان چڑھایا اور عقل کی مخالفت کی۔ لیکن جو چیز سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ انھوں نے سرمایہ دارانہ طبقے کی عقل کے خلاف بغاوت کی، نہ کہ انسانی عقل کے خلاف ورنہ ورڈز ورتھ اپنے تخیل کو عقل مرتفع کا نام کیوں دیتا۔ انھوں نے اس عقل کے خلاف بغاوت کی جو اسیر سود و زیاں تھی۔ جو انفرادی تگ و دو کی بہیمانہ قدر کو عام کیے ہوئے تھی اور جو احساسات و جذبات کی اطلاعات سے اس لیے کنارہ کش تھی کہ ان کا فیصلہ تاجر کے استحصال کے خلاف تھا۔</p> </blockquote> <p>میرا جی نے اپنے دور کی نیم صنعتی اور نیم جاگیردارانہ زندگی کے تناظر میں جو شاعری کی ہے وہ بھی بہ اعتبار جوہر احتجاج اور بغاوت کے آثار سمیٹے ہوئے ہے۔ انھوں نے خواب غیر معمولی جذبات اور حقیقت کے عناصر سے اپنی نظموں کا فیبرک تیار کیا۔</p> <p>ممتاز حسین کے اس بیان کی روشنی میںمعاملہ یوں ہے کہ استعارے کی دنیا میں جو مستعار منہ کے اوصاف کو مستعارلہ کے اوصاف میں جمع کر دیا جاتا ہے اور مستعارلہ کا ذکر گرا دیا جاتا ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ مستعارلہ مستعارمنہ سے اوصاف حقیقی یا اپنی معنویت میں متحد ہو جاتا ہے۔ لیکن استعارہ مستعار جو ٹھہرا اس میں یہ اتحاد جزوی ہوتا ہے نہ کہ کلی، کیونکہ مستعار منہ مستعارلہ سے مماثل ہوتے ہوئے بھی متغائر ہوتا ہے۔ اس لیے اس اتحاد کے باوصف ان میں تخالف بھی موجود رہتا ہے۔ مستعارمنہ کے حقیقی معنی کی تردید مستعارلہ کا حقیقی معنی کرتا ہے۔ اور یہ ان کے اسی اتحاد اور تخالف کا نتیجہ ہے کہ اصل معنی مستعار منہ سے تجاوز کرتا ہے یا جست کرتا ہے، جو ایک ترکیبی معنی ہوتا ہے۔ یہ معنی جو حقیقت اور مجاز کے اتحاد و تخالف سے پیدا ہوتا ہے، اصل حقیقت کو توسیع دیتا ہے نہ کہ اسے قطعیت کے ساتھ محدود کرتا ہے۔ حقیقت خواہ کسی ذرے کی ہو یا انسان کی، اپنے حجابات میں لامحدود ہے کیونکہ وہ کائنات کی حقیقت سے بے شمار رشتوں میں مربوط ہے۔ کسی بھی حقیقی تجربے کی حرف بہ حرف سچائی کو صرف استعارے ہی کے ذریعے پیش کیا جا سکتا ہے جو اس کو قطعیت کے ساتھ محدود نہیں کرتا بلکہ اس کی لامحدودیت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اشارے کو یقینا تابناک ہونا چاہئے۔ لیکن اس میں وہ ابہام بقول غالبؔ تو رہے گا جس پر تشریح قربان ہوتی ہے۔ کیونکہ حقیقت کا لامحدود پہلو ہمیشہ مبہم ہوتا ہے۔ یہاں مسئلہ حسن معنی کے امکانات پر مر مٹنے کا ہے نہ کہ متعین تصورات میں گھر کے رہ جانے کا۔ استعارہ حقیقت کا آئینہ ہوتا ہے، نہ کہ اس کا پردہ حجاب۔ اس کی رمزیت حقیقت کی طرف ایک جنبش نگاہ کے کرنے میں ہے نہ کہ اس کے پردہ خفا کے بننے میں۔ حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھانے ہی کا نام استعارہ ہے۔ جہان معانی کو براہ راست منکشف کرنے کے لیے ذہن آدم نے اگر اسباب نطق سے کوئی آلہ کار وضع کیا ہے تو وہ استعارہ ہی ہے۔ ممتاز حسین کی ان معروضات کی روشنی میں میرا جی کی نظموں میں استعمال ہونے والے استعاروں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حقیقت کو پیش کرنے کے استعاراتی طریقے کو توسیعی انداز سے استعمال کیا ہے اور اردو نظم کو جدید علامتی شعری مزاج کے خمیر میں خوش اسلوبی سے گوندھا ہے اس ضمن میںاگر کسی قاری کو ابہام یا الجھائو کی شکایت پیدا ہوتی ہے تو اسے پرانے تشبیہی اور استعاراتی طریق کار کے تالاب سے باہر آ کر میرا جی کی شاعری کا مطالعہ کرنا ہو گا۔</p> <blockquote> <verse> کیسے تلوار چلی، کیسے زمیں کا سینہ ایک لمحے کے لیے چشمے کی مانند بنا پیچ کھاتے ہوئے یہ لہر اٹھی دل میں مرے کاش! یہ جھاڑیاں اک سلسلۂ کوہ بنیں دامنِ کوہ میں میں جا کے ستادہ ہو جائوں ایسی انہونی جو ہو جائے تو کیوں یہ بھی نہ ہو خشک پتوں کا زمیں پر جو بچھائے بستر وہ بھی اک ساز بنے ساز تو ہے، ساز تو ہے نغمہ بیدار ہوا تھا جو ابھی، کان ترے کیوں اسے سن نہ سکے سننے سے مجبور رہے پردۂ چشم نے صرف ایک نشستہ بت کو ذہن کے دائرۂ خاص میں مرکوز کیا یاد آتا ہے مجھے کان ہوئے تھے بیدار خشک پتوں سے جب آئی تھی تڑپنے کی صدا اور دامن کی ہر اک لہر چمک اٹھی تھی پڑ رہا تھا کسی تلوار کا سایہ شاید جو نکل آئی تھی اک پل میں نہاں خانے سے جیسے بے ساختہ انداز سے بجلی چمکے </verse> </blockquote> <p>اس نظم میں آگے چل کر میرا جی نے جل پری، دامن، آلودہ، روپوشی، جھاڑیاں، دلھن، دولھا، نہاں خانہ، گرم بوندیں، آبی، پائوں، دھارا گھٹا، شق ہونا، برق رفتاری، کرمک بے نام، بنسری، گوالا، دھندلی نظر، نمناکی اور بہت سے دوسرے الفاظ کے توسیعی معانی سے زندگی کے بے فیض اور بے مصرف ہونے کا جو نقشہ کھینچا ہے اسے استعارے کے محدود اور حقیقی معانی کے رسیا نقاد استمنا بالید تک محدود کر کے میرا جی کی جنسی بے راہ روی پر اپنی جاگیردارانہ اخلاقیات کی مہر ثبت کرنے کا جتن کرتے ہیں۔ جب خواب میں خیال کو کسی سے معاملہ ہو جاتا ہے اور موجہ گل کو نقش بوریا پایا جاتا ہے تو استعارے کے توسیعی معانی اسے لاف دانش غلط و نفع عبادت معلوم یا ہرزہ ہے نغمہ زیر و بم ہستی و عدم کے خیالات سے ملا دیتے ہیں یوں انفرادی عمل اپنے توسیعی معنی کے حوالے سے کائناتی ہو جاتا ہے۔ اور میرا جی کی یہ نظم ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے کے ورائ الحقیقت معانی کا ابلاغ کرتی نظر آتی ہے۔</p> <p>میراجی کی شاعری اردو نظم کے ارتقائی سفر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی نظمیں راشد کی نظموں کی طرح اردو شاعری کی روایت سے دوہرے انحراف کی حامل ہیں، یعنی انھوں نے ایک تو غزل اور اس کے لوازمات سے پورے طور پر گریز کیا ہے اور دوسرے حالی کے بعد بننے والی اردو نظم کی روایت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ میراجی نے اردو نظم کے فکری اور احساساتی انجماد کو دور کرنے کے لیے اپنی نظموں میں انکشاف ذات کے انفرادی اظہار اور خارجی ماحول کے حسیاتی موادکی ترسیل کی۔ یوں اردو نظم ایک نئے لہجے سے آشنا ہوئی۔ انھوں نے آزاد نظم کے تجربوں کے ساتھ ساتھ پابند نظم کے نئے امکانات کی دریافت بھی کی۔ ان نئے تجربوں کا بنیادی مقصد احساسات و جذبات کی معنوی وسعتوں کو نظم کی پوشاک بخشنا تھا۔ ان کی نظموں میں سادہ معنوی فکری اور جذباتی رشتوں کے سماجی عمل کی بجائے تجربات و کوائف کی پیچیدہ الجھی ہوئی اور علامتی شکلیں ملتی ہیں۔ ان کے عہد کے مروجہ شعری تجزیوں کے اصول ان کی نظموں کی تشریح و توضیح سے قاصر تھے۔ ان نظموں کی تفہیم کے لیے نئے طریق کار کی تشکیل کی ضرورت تھی اس عہد میں ان کی نظموں کو مبہم، پیچیدہ اور الجھی ہوئی کہا گیا۔ آنے والے عہد نے ان کی تفہیم کے لیے تنقیدی اصول وضع کیے۔ عوام کے لیے ہیئت کے تجربے نامانوس تھے۔ میراجی کے تجربوں کے انوکھے پن نے قاری کے لیے مشکل کے اور سامان پیدا کیے۔ میراجی فرانسیسی علامت پرستوں، سرریلزم، یونگ کے اجتماعی لاشعور، فرائیڈ کی جنس اور لا شعور کی تحریکات کا مطالعہ کر چکے تھے۔ انھوں نے ہندی دیو مالا اور ہندی فلسفے سے بھی گہرا استفادہ کیا تھا۔ فرانسیسی علامت پسندوں نے انہیں ذاتی اور انفرادی ذات کی شناخت کا جوہر عطا کیا۔ سرریلزم کی تحریک نے انہیں آزاد تلازمات <annotation lang="en">(Free Association)</annotation> سے روشناس کرایا۔ فرائیڈ اور یونگ نے ان کے ذہن کے نفسیاتی سانچے کی تعمیر کی۔</p> <p>میراجی نے اپنی ذاتی شناخت کے حوالے سے معروضی اشیا کا مطالعہ کیا۔ ان کی ذاتی زندگی ادب میں ایک اسطورکی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس بات سے کسی کو بھی مفر نہیں ہے کہ ادب میں سب سے زیادہ قابل توجہ شخصیتیں وہ ہوتی ہیں جن کے گرد جھوٹ اور الزامات کے جال بنے جاتے ہیں۔ ایسے فن کار نیم اساطیری ہوتے ہیں، جن کے حقیقی کردار ہمیشہ کے لیے بے سروپائی کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں۔ میراجی کی شعری شخصیت کے بارے میں یہ بات بڑے ہی پتے کی ہے میراجی کے ہاں رویے کے غیر معتدل اور پراسرار ہونے کے رجحانات ملتے ہیں۔ ان کی ذہنی الجھنوں نے اصل مسرت اور اصل حقیقت کے باہمی تصادم ہی سے جنم لیا تھا۔ تمدنی انا ان کی فطری انا سے متصادم ہوتی ہے۔ ان کی اندھی خواہشوں اور فرد کی جبلی زندگی پر سماجی دبائو نے انہیں ذہنی انتشار کا شکار بنایا۔ اس قسم کا انتشار فرد میں اذیت پسندی کے رجحانات پیدا کرتا ہے اور یہ کیفیت میراجی کی شاعری میں عمومی ہے۔ میراجی اپنی زندگی میں باپ کے مشفقانہ رویے سے محروم رہے۔ ماں نے انہیں محبت دی۔ ان کے ہاں ماں کی یہ محبت نفسیاتی الجھنوں کے کئی در وا کرتی ہے اور وہ روح کی ان گہرائیوں تک جا پہنچتے ہیں جہاں تہذیب اور جنگل کے قوانین کا تصادم عمومی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔</p> <p>میراجی نے تجزیے، تفتیش اور جستجو کے میلانات سے استفادہ کرتے ہوئے نامعلوم کی اتھاہ گہرائیوں کو معلوم کی پوشاک بخشنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے شعور و لا شعور کے میدانوں اور دلدلوں میں بسی کائنات کی نقاب کشائی کا فریضہ سر انجام دیا۔ وہ عدم کو وجود میں لانے اور غیب کو پردہ شہود پر لانے کے عمل میں مصروف رہے اور اپنے جذبات کی بعض فکری بنیادوں کو بڑی عمدگی سے شعر کا لباس عطا کیا۔</p> <p>میرا جی کی نظم، ”ارتقا“، ”انجام“ اور ”خدا“ میں اپنے عہد کے معاشرتی مسائل، ارد گرد پھیلی زندگی کے انحطاطی پہلو اور ذاتی دکھ ہم آہنگ ہو کر ابھرتے ہیں۔ ان کی نظم عہد کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی نا آسودگی کی صورت حال کی وضاحت بھی کرتی ہے۔ اس نظم میں نظم کی تین ہیئتیں (معریٰ، پابند اور آزاد) استعمال ہوئی ہیں۔ پابند حصہ یاد کے عمل کی پیش بندی کرتا ہے۔ معریٰ حصے میں خیال دھیرے دھیرے پھیلتا ہے۔ تیسرا حصہ آزاد ہے، جس میں یاد کا مرکز گم ہو جاتا ہے۔ خیال ہمہ گیری اور ہمہ جہتی کے پہلوئوں سے ہمکنار ہوتا ہے۔ چناںچہ موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے ان کی یہ نظم بڑی کامیاب ہے۔ ان کے مجموعے تین رنگ میں نظم ”سمندر کا بلاوا“ بڑی عمدہ نظم ہے۔ سمندر اشیا کا مامن ہے۔ ہر شے اس میں سے نمودار ہوتی ہے اور آخر الامر اسے اسی میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ صحرا کی لامحدود وسعتیں پہاڑوں کی قوتیں اور گلستان کے ذخیرے سمندر کے بلاوے کے منتظر ہیں۔ جب سمندر کا بلاوا آتا ہے وہ اس میں جا ملتے ہیں۔ سمندر کی علامت بیک وقت خالق کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ موت کی علامت بھی ہے۔ وہ اشیا کو جنم بخشتا ہے اور زوال کا پیغام بھی سناتا ہے۔ سمندر انسانی لاشعور کی طرح تاریک، ہمہ گیر، وسیع اور پھیلا ہوا ہے۔ میراجی کے ہاں استعارہ علامت کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اگرچہ تمام شاعرانہ علامات بجائے خود استعارے ہوتی ہیں یا استعاروں سے پیدا ہوتی ہیں لیکن علامت کو بہر طور استعارے پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ استعارہ صرف اس وقت علامت کا روپ اختیار کرتا ہے جب شاعر اس کے ذریعے کوئی ایسا مثالی مضمون جو اور وسیلوں سے ادا نہ کیا جا سکے، بیان کرے۔ استعارہ اس وقت علامت بنتا ہے جب وہ اظہار کا واحد ذریعہ ہو۔ استعارہ جب علامت کی حدود میں آتا ہے تو اسے تفاعلی استعارہ کہا جاتا ہے۔</p> <p>میراجی کے ہاں علامت کے استعمال کی بہترین مثال ان کی نظم ”ابولہول“ ہے جس میں ابولہول کو ماضی کی علامت قرار دے کر اسے حال کے لمحوں کی دہشت اور خوف سے آزاد بتایا گیا ہے۔ پرانی قدروں سے چمٹے ہوئے لوگ نئے زمانے کے احساس سے بے خبر، اب بھی بے جان ابولہول کی طرح زندگی کے صحرا میں ایستادہ ہیں۔</p> <p>بیسویں صدی کے انسان کا آشوب جس صورت حال کی پیداوار تھا اس سے میراجی کو شدید اکتاہٹ ہوتی تھی۔ سائنسی و صنعتی ایجادات، نئے نئے فکری انکشافات، جنگی تباہ کاریاں اور بین الاقوامی سیاست کی ریشہ دوانیاں یہ سب کچھ نئے عہد کے انسان کو فکری و جذباتی آشوب میں مبتلا کر رہا تھا۔ اخلاقی و نظریاتی انحطاط و زوال انسانی معاشروں کے سکون اور اطمینان میں تعطل پیدا کر رہا تھا۔ میراجی شاعر تھے۔ شاعر جو خالق کا درجہ رکھتا ہے اور جس کے حواس خمسہ ہر تبدیلی کو باریک بینی سے اخذ کرتے ہیں۔ چناںچہ انہیں محض داخلی اور باطنی حوالوں کا شاعر کہنا ان کی شاعری کے ایک بڑے حصے سے زیادتی کا مرتکب ہونا ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کی سماجی صورتحال کا گہرا ادراک رکھتے تھے۔ اس کا ثبوت ان کے نثری مضامین سے بھی دستیاب ہوتا ہے۔ انھوں نے بسنت سہائے کے فرضی نام پر بعض سیاسی و سماجی مضامین لکھے جن کے موضوعات ملکی اقتصادی مسائل، غیر ملکی سیاسی مسائل، عام سیاسی مسائل، غیر ملکی شخصیات اور دنیا بھر کے معاشرتی حالات سے متعلق تھے۔ انھوں نے اپنے عہد کے مسائل کا جس گہری بصیرت سے جائزہ لیا تھا یہ مضامین اس کی واضح مثال ہیں۔ ان مضامین کے عنوانات تھے ”ہندوستانی تحریک کا مسئلہ“، ”جاپان میں مزدوروں کی حالت“، ”بحرالکاہل کا سیاسی مدوجزر“، ”مشرق و مغرب کی جمہوریت کا نازک دور“، ”ہٹلر اور مسولینی جدید روشنی میں“، ”چین کا مکتی داتا“۔ یہ سب مضامین ادبی دنیا کے مختلف شماروں میں چھپے تھے۔ ان کی شدید داخلی کیفیات پر بھی ان کے خارجی مشاہدے تجزیے اور مطالعے کی گہری چھاپ ہے۔ وہ نامعلوم کو معلوم کا درجہ خلا میں معلق ہو کر نہیں دیتے۔ بلکہ ان کے لیے نئی احساساتی و جذباتی دریافتوں کے لیے ماحول کی خبر ضروری تھی۔</p> <blockquote> <verse> بے شمار آنکھوں کو چہرے میں لگائے ہوئے استادہ ہے تعمیر کا اک نقشِ عجیب، اے تمدن کے نقیب! تیری صورت ہے مہیب، ذہنِ انسانی کا طوفان کھڑا ہے گویا؛ ڈھل کے لہروں میں کئی گیت سنائی مجھے دیتے ہیں، مگر ان میں ایک جوش ہے بیداد کا، فریاد کا ایک عکسِ دراز، اور الفاظ میں افسانے ہیں بے خوابی کے۔ کیا کوئی روحِ حزیں تیرے سینے میں بھی بے تاب ہے تہذیب کے رخشندہ نگیں؟ </verse> <p>(اونچا مکان)</p> <verse> رستے میں شہر کی رونق ہے، اک تانگہ ہے، دو کاریں ہیں، بچے مکتب کو جاتے ہیں، اور تانگوں کی کیا بات کہوں ؟ کاریں تو چچھلتی بجلی ہیں تانگوں کے تیروں کو کیسے سہوں ! یہ مانا ان میںشریفوں کے گھر کی دھن دولت ہے، مایا ہے، کچھ شوخ بھی ہیں، معصوم بھی ہیں، لیکن رستے پر پیدل مجھ سے بد قسمت، مغموم بھی ہیں، </verse> <p>(کلرک کا نغمۂ محبت)</p> </blockquote> <p>میراجی فرانس کے علامت پسند شاعروں کی طرح حسن کو کسی قسم کی معاشرتی یا تہذیبی یا مذہبی آلودگی میں چھپا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ حسن کو محض حسن سمجھتے تھے اور جمالی پہلو ان کے سامنے تھا۔ چنانچہ انھوں نے معاشرتی و سیاسی ماحول کی جزئیات و تفصیلات کے مطالعے کو اپنے ذہن پر مسلط نہیں کیا بلکہ ان کے ہاں یہ ساری معاشرتی قدریں نا معلوم کی تلاش کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ نا معلوم جو اپنے اندر حسن رکھتا ہے، جس میں جمالیاتی احساس بڑا نمایاں ہوتا ہے۔ حسن عسکری اپنے افسانوں کے مجموعے جزیرے کے اختتامیہ میں لکھتے ہیں کہ ”حقیقت یہ ہے کہ حسنِ معنوی ہو یا حسنِ صوری سب روح کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ کسی لکھنے والے میں سب سے بڑی چیز دیکھنے کی یہ ہوتی ہے کہ وہ کتنی گہرائی سے بول رہا ہے۔“ کئی دانشوروں نے اپنے ذمہ یہ کام لیا تھا کہ جو دنیا ابھی تک نا معلوم ہے انھیں وہاں جا کر انسانوں کی بستیاں بسانی ہیں۔ میراجی فن برائے فن کے مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ اس نظرے کے علمبرداروں کو قنوطیت، فرار اور رجعت پسندی کا نعرہ بلند کرنے والے کہا گیا ہے اور ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ یہ فن کار سیاسی و سماجی شعور سے نا بلد ہیں۔ حسن عسکری کا خیال ہے کہ اس قسم کے اعتراضات درست نہیں ہوتے۔ ان لوگوں نے اگرچہ کسی خاص جماعت کے سیاسی نظریات یا نشرواشاعت کا کام نہیں کیا۔ لیکن یہ سماجی صورتِ حال سے بے بہرہ نہیں تھے۔ فرانس میں بادلیر، ران بو اور ورلین وغیرہ نے انقلاب میں باقاعدہ حصہ لیا تھا اور اپنے عہد کی سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور سماجی کارکنوں کی ذہنی جہتوں کا بغور جائزہ لیا تھا۔</p> <p>میراجی نے آزاد نظم میں روایتی عروض کے الگ بنے بنائے سانچوں سے الگ ہو کر عروضی اجتہادات کرنے کی کوشش کی۔ نظم کے ایک مصرعے کو توڑ کر مختلف مصرعے بنانے کا عمل ان کے ہاں کمیاب ہے۔ ان کے کسی بھی دو مصرعوں کو ملا کر ارکان کی ابتدائی تعداد حاصل نہیں ہو سکتی اور آزاد نظم کی باقی اصناف کے مقابلے میں یہی سب سے بڑی امتیازی خصوصیت ہے۔ میراجی نے آزاد نظم میں زبان کے استعمال کے سلسلے میں جدید شاعری کی تحریک کی پیروی کرنے کی کوشش کی۔ اس تحریک کے علمبرداروں نے آزاد نظم کو اپنا وسیلہ اظہار قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ نظم میں آرائشی الفاظ اور پر شکوہ لفظیات کی بجائے عام بول چال کی زبان کو استعمال کیا جائے۔ میراجی کی نظمیں اپنے دیگر معاصرین راشد وغیرہ سے اپنی زبان کی خصوصیات کی بنا پر بھی مختلف ہیں۔</p> <blockquote> <verse> اپنے اک دوست سے ملنے کے لیے آیا ہوں، ایک دو بار تو زنجیر ہلائی میں نے لیکن آواز کوئی آئی نہیں؛ گھر پہ موجود نہیں؟ سویا ہوا ہے، دن میں؟ </verse> <p>(افتاد)</p> </blockquote> <p>ان کی نظموں میں خیال کی پیچیدگی اور تہہ در تہہ کیفیت سے ابہام اور اہمال کے عناصر کا شبہ ہو سکتا ہے مگر زبان کے اعتبار سے وہ عام فہم، سادہ اور آسان لفظوں سے نظم کا تانا بانا بناتے ہیں۔ کہیں کہیں زبان کے اسی استعمال کی بدولت ان کے ہاں مکالمے کا اندازہ بھی ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ میراجی اپنی نظموں میں ہندی اور بھاشا کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے ان کی نظم میں گیت کی سی گھلاوٹ لوچ اور مانوسیت پیدا ہو جاتی ہے۔ انھوں نے پابند نظموں میں ہندی الفاظ کثرت سے استعمال کیے ہیں۔ جہاں تک ان کی آزاد نظم کا معاملہ ہے ان نظموں میں ہندی الفاظ کی بہتات نہیں ہے۔ کئی پابند نظموں میں انھوں نے خالص ہندی ماحول اور گیت کی فضا تیار کی ہے۔ میرا جی کی کئی آزاد نظموں میں ہندی اور اردو الفاظ کا توازن اور امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کی نظموں میں فارسی الفاظ کا استعمال ثقالت پیدا نہیں کرتا بلکہ بہت حد تک اردو محاورے کی اعانت کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔</p> <blockquote> <verse> کیوں خوابِ فسوں گر کی قبا چاک نہیں ہے؟ کیوں گیسوئے پیچیدہ و رقصاں نمناک نہیں ہے </verse> <p>(دھوبی کا گھاٹ)</p> </blockquote> <p>میراجی کی نظموں میں قافیے کا استعمال کسی خاص تاثر یا موضوع کی پیچیدگی یا تشہیر کے مظہر کے طور پر اجاگر ہوا ہے۔ ان کے ہاں قافیہ نظم کے آہنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ خیال کا بہائو اور صوت کی روانی بدستور قائم رہتی ہے۔ کسی قسم کے ذہنی جھٹکے یا کھردراہٹ کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے ہاں عروضی قواعد کے ذریعے قافیے کی شناخت نہیں ہے بلکہ وہ قافیے کو الفاظ کی صوتی ہم آہنگی و مماثلت کی بنا پر وجود بخشتے ہیں۔</p> <p>میراجی نے اپنی نظموں میں ثقیل اور پیچیدہ بحروں کی بجائے سادہ اور سیدھی بحریں استعمال کی ہیں۔ میراجی چونکہ آزاد نظم کے ایک خاص آہنگ اور صوتی ڈھانچے پر یقین رکھتے تھے اس لیے ان کا خیال تھا کہ بحروں کی پیچیدگی اور ثقالت آزاد نظم کے لہجے کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی رہتی ہے۔ یہ مثال ان کی کئی نظموں میں موجود ہے۔ ”جاتری“ میں انھوں نے خیال کے بہائو کو چھوٹی چھوٹی مصنوعی اکائیوں میں تقسیم کر کے ایک مصرعے کی صورت دے دی ہے۔</p> <blockquote> <verse> ایک آیا گیا، دوسرا آئے گا، دیر سے دیکھتا ہوں، یونہی رات اس کی گذر جائے گی میں کھڑا ہوں یہاں کس لیے، مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں </verse> </blockquote> <p>آزاد نظم میں مصرعے کا انقطاع اس وقت عمل میں آتا ہے جب یا تو کسی خیال کی تشریح و توضیح یا پھر خیال کی کسی نئی کڑی کو نظم میں لانے کی کوشش مقصود ہوتی ہے۔ میراجی کے ہاں مصرعوں میں انقطاع خیال کے بہائو کے حوالے سے وجود میں آتا ہے۔ میراجی کی آزاد نظموں میں اجتہاد برائے اجتہاد کا معاملہ نہیں بلکہ انھوں نے قدیم عروضی جہتوں میں تصرف کر کے اردو نظم نگاروں کو ہیئت کا نیا شعور دیا۔ راشد نے ماورا کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ”اردو میں آزاد شاعری کی تحریک محض ذہنی شعبدہ بازی نہیں، محض جدت اور قدیم راہوں سے انحراف کی کوشش نہیں کیونکہ اجتہاد کا جواز صرف یہ نہیں کہ اس سے کسی حد تک قدیم اصولوں کی تہذیب عمل میں آئے بلکہ یہ کہ آیا تعمیری ادب اس میں کسی نئی صبح کی طرح نمودار ہوتا ہے یا نہیں۔“</p> <p>انگریزی آزاد نظم ترنم کے دو بنیادی عناصر کی حامل ہے۔ خارجی عنصر، داخلی عنصر۔ خارجی ترنم کی بنیاد ان کے تصور پر ہے جو اردو میں عروض سے مختلف ہے۔ ان کے خارجی آہنگ کی بنیاد آواز کے زیر و بم پر ہوتی ہے۔ داخلی آہنگ خیال اور جذبے کے داخلی پہلوئوں سے متعلق ہوتا ہے۔ یہ نظم کے صحیح اور مناسب ترنم کے لیے ناگزیر ہے۔ انگریزی عروض پیمانے اردو عروض سے مماثلت نہیں رکھتے اور نہ ہی اردو زبان کا مزاج اس بات کا متحمل ہے کہ وہ انگریزی عروض کو پورے طور پر قبول کر سکے۔ میراجی کی کئی نظموں میں ترنم اور موسیقی کا خارجی عنصر انگریزی نظم کی داخلی تنظیم کے اعتبار سے خود رو آہنگ کی بدولت ہے۔</p> <p>میرا جی کی آزاد نظمیں پرانے شعری عہد کے طلسمات اور تلمیحات اور جاگیردارانہ اخلاقیات سے آزاد ہیں۔ ان کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ یہ ثابت کرنے کا امکان رکھتا ہے کہ ان کے احساسات و جذبات اور خیالات و افکار عہد قدیم کی شعری باقیات سے آزاد ہیں اور یوں ان کی شاعری جنس، تصوف اور معاشرت کے پرانے احساسات سے نجات پا چکی ہے۔ یہ عمل طبقاتی نظام کی سیاسیات سے بھی آزاد ہو گا۔ یہ ایک عجیب کشمکش ہے لیکن اس کشمکش سے وہ سحر اور وہ آرٹ پیدا ہوں گے جس کا خواب یورپ کے رومانی شعرا نے اپنی تحریک کے عروج کے زمانے میں دیکھا تھا۔ رومانی شعرا نے سرمایہ دارانہ رشتوں کی مخالفت میں ہی شاعری کی ہے۔ انھوں نے اپنے احساسات اور ندائے تخیل سے اس بات کی تصدیق کی کہ انسان ایک ہے وہ ناقابل تقسیم ہے۔ وہ انسان ہے نہ کہ آقا اور غلام زمیندار اور کسان، کامگار اور سرمایہ دار منشی اور کوتوال اس میں شبہ نہیں کہ انھوں نے اس بغاوت کو بہ قوت جذبہ پروان چڑھایا اور عقل کی مخالفت کی۔ لیکن جو چیز سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ انھوں نے سرمایہ دارانہ طبقے کی عقل کے خلاف بغاوت کی۔ نہ کہ انسانی عقل کے خلاف۔ ورنہ ورڈز ورتھ اپنے تخیل کو عقل مرتفع کا نام کیوں دیتا۔ انھوں نے اس عقل کے خلاف بغاوت کی جو اسیر سود و زیاں تھی۔ جو انفرادی تگ و دو کی بہیمانہ قدر کو عام کیے ہوئے تھی اور جو احساسات و جذبات کی اطلاعات سے اس لیے کنارہ کش تھی کہ ان کا فیصلہ تاجر کے استحصال کے خلاف تھا۔</p> <p>نئے شاعر کی نظمیں اسلوب، تمثال نگاری اور لسانی پیراے کے اعتبار سے گذشتہ عہد کے شعرا سے مختلف ہیں۔ یہ شاعر اپنے مافیہ کے اظہار کے لیے رنگا رنگ اور متنوع طریق اظہار استعمال میں لائے ہیں۔ اگرچہ سب نئے شاعر منفرد پیرایۂ اظہار کے حامل ہیں اور اپنے اپنے اسالیب کے اعتبار سے اپنے معاصرین سے الگ ہیں۔ تاہم نئی آگہی، نیا شعور اور نئے احساساتی اور جذباتی تصورات ان میں مشترک ہیں۔ افتخار جالب نئی شاعری کے بانیوں میں سے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہم بے جان کائنات کو بدلتے ہیں۔ خود بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور بدلی ہوئی بدلتی کائنات سے نباہ کرتے ہیں۔۱۲ میرا جی کی نظمیں، میرا جی کے گیت، گیت ہی گیت، پابند نظمیں، تین رنگ میں موجود شعری تخلیقات عصر حاضر میں موجود بیگانگی کے وسیع و عریض صحرا میں انسانی تنہائی، خوف، انتشار اور بے دلی کے کوائف کا بھرپور احاطہ کرتی ہیں۔ میراجی نے جس ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں وہ کمزور ممالک پر براہ راست سامراجی قبضوں کا دور تھا۔ میرا جی کی شاعری ترقی پسند شعرا کی شاعری کی مانند براہ راست سیاسی شعور کی شاعری تو نہیں تھی البتہ ان میں موجود علامتی یا استعاراتی حسیت کئی سطحوں پر ان کے سیاسی شعور کا اظہار کرتی ہے۔ یہ رویے صنعتی تہذیب کی مادی خوشحالی اور روحانی دیوالیہ پن کا عطیہ ہیں۔ یہ اخلاقی دیوالیہ پن طلاموس کبیر( کہ جو شیطان کبیر بھی ہے) کی عطا ہے۔ اس کے بارے میں راشد صاحب کا کہنا ہے:</p> <blockquote> <verse> اے طلاموس کبیر ایک نا فہمی کے پتھر پر یہ کیوں خوابیدہ ہیں ایک پیرہ زال سے چسپیدہ ہیں دیکھنے والوں میں کیوں اتنے ادا ناآشنا؟ اس فسون و خواب کی تصویر آرائی کریں جو پیر ہے پارینہ ہے؟ یا سبک پا روز و شب کے عشق سے سینوں کو تابندہ کریں؟ اے اداکارو نہیں جیسے ہی پھر پردہ گرا گونج بن کر ان کے ذہنوں میں دمک اٹھے گا کھیل (ان کی نظریں دیکھیے) ان کو بچوں کی محبت، گھر کی راحت اور زمیں کا عشق سب یاد آئے گا ان کے صحرا جسم و جاں میں فہم کی شبنم سے پھر اٹھے گا جس دریا کا شور خود اداکاروں سے یہ بھی کم نہیں یہ اداکاروں کی آوازوں پہ کچھ جھولے سہی لفظوں کو بھی تولا کیے، قدموں کو بھی گنتے رہے ۔۔۔۔ ان کے چہرے زرد رخسارے اداس۔۔۔۔ درد کی تہذیب کے پیرو ہزاروں سال کی مبہم پرستش یہ مگر کیا پا سکے؟ آہ کے پیاسے کبھی اشکوں کے مستانے رہے اپنے بے بس عشق کو عشقِ رسا جانے رہے ہر نئی تمثیل کے معنی سے بیگانے رہے جب اداکاروں کی رخصت کی گھڑی آئی تو جاگیںگے تو یاد آئے گا ہم میں اور اداکاروں میں نا فہمی کے تار۔۔۔۔ اور کوئی فاصلہ حائل نہ تھا اے طلاموس کبیر تیرا پیغمبر ہوں میں تو نے بخشا ہے مجھے کچھ فیصلوں کا اختیار ان اداکاروں سے ان کے دیکھنے والوں کا عقدِ نو۔۔۔۔ یہ میرا فیصلہ تم میاں ہو اور تم بیوی ہو تم ملک ہو تم ہو شہر یار تم بندر ہو تم بندریا ہم کہ سب تیرے پرستاروں میں ہیں اے طلاموس کبیر </verse> <p>(نئی تمثیل)</p> </blockquote> <p>میرا جی نے اس طلاموس کبیر یعنی سرمایے کے مختار کل کے اثرات کو اپنے دور کے انسانوں کے باطن میں جاگزیں پا کر ان کے خلاف بھر پور صداہائے احتجاج بلندکیں۔ اور اس کے پرستاروں کو بیچ چوراہے ننگا کیا۔ سرمایہ داری نے جس ”طلاموس کبیر“ کی شکل ابھاری ہے اسے دنیا بھر کے لوگ اپنا دستگیر سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ نئی طاقت ساکن اور محدود تصورات میں گم رہتی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ تمام دنیا خام مال کی صورت اس کی بے پایاں مٹھی میںبند رہے۔ وہ لوگ کہ جو اس دور میں راہ گم کر چکے ہیں ناشکیبوں کی طرح کسی بے پایاں کی تلاش کرنا چاہتے ہیں مگر جب وہ اس نئی طاقت کو اپنا ملجا و ماویٰ قرار دے دیتے ہیں تو وہ انھیںجس سمت قدم بڑھانے کو کہتا ہے وہ انہیںسنگ میل ہست کی جانب لے جا سکتی ہے یا ”ماجرا“ کے سامنے آنکھیں بچھانے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ سرمایے کی نئی تمثیل کی داستان کھیل کھلنے کے ساتھ کھلتی ہے۔ ان لوگوں کے اشارے، حرف، آوازیں، ادائیں نئی صورتوں میںڈھلتی جاتی ہیں۔ اس تمثیل کے اداکاروں کا باطن داستاں در داستاں آگے بڑھتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کے متحرک قدم بھی نظر آتے ہیں اور ان کے سائے بھی۔ تماشائی اس تمثیل میں اس قدر منہمک ہیں کہ وہ پکار رہے ہیں ”چپ رہو“۔ یہ داستان پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے ”چپ رہو ہم کچھ سمجھ سکتے نہیں، مبتذل آوارہ بس مت کچھ کہو، شرمناک اب کچھ نہ گائو، دیکھنے والوں کا ہنگامہ کہ بام و فرش ایک!“ سرمایے کی نئی طاقت ایک نئے ڈرامے کا پردہ اٹھا چکی ہے۔ اس میں مادیت کی جانب اٹھنے والا ہر قدم انسانوں کو روحانی طور پر دیوالیہ کر رہا ہے۔ اس میں کردار خود بخود داستان کو ارتقا کی جانب لیے چلے جا رہے ہیں۔ طلاموس کبیر کا یہ کھیل سرگرمی سے جاری ہے۔ اس کھیل میں میرا جی کے حصے میں لاحاصلی آئی ہے۔ انسانوں کو خام مال کی طرح استعمال کرتے نظام میں نچلے طبقے کے انسانوں کے حصے میں بس یہی کچھ ہی آ سکتا تھا۔ اپنے خالص جوہر تخلیق کی بربادی! میرا جی نے تو اس کے عملی مظاہرے سے بھی گریز نہیں کیا!</p> <p>میرا جی مشرق و مغرب کے نغمیمیںکہتے ہیں:</p> <blockquote> <p>فن کار کی ذہنی کیفیت کے اظہار میں ابہام نہ صرف ایک قدرتی بات ہے بلکہ حقیقت پرستی کا تقاضا ہے کہ اسے جوں کا توں بیان کیا جائے جہاں آپ نے کسی ہلکے سے اشارے یا گونج کو واضح کرنے کی کوشش کی، وہ ہلکا اشارہ یا گونج نہ رہے۔۔۔ فن کار جس بات کو وضاحت کے ساتھ نہیں بلکہ اشارے کنایے سے بیان کرتا ہے وہی بات اس کی تخلیق میں ایک عمق پیدا کرتی ہے۔</p> </blockquote> <p>زمانہ ہوا، افتخار جالب نے ایک نظم ”یَدُاللہ فوق اید یہم“ حلقہ ارباب ذوق کے یوم میرا جی کی مناسبت سے پڑھی تھی</p> <blockquote> <verse> ”میرا جی تجھے کیسے یاد کریں؟“ تجھے چوروں نے گھیر لیا تیرا سب کچھ لوٹ لیا نیت اپنی بھی کچھ ٹھیک نہیں تجھے کیسے یاد کروں وہ جو، خوابوں کے اندر، خواب ہے تجھے کیسا لگا تھا؟ کیسے کہوں، مجھے کچھ بھی خبر نہیں ہاں اتنا ضرور ہے، تُو نے خواب یقیناٌ دیکھا تھا وہ جو ہاتھوں سے چھن چھن جاتا تھا، وہی خواب، مِرے ہاتھوں میں ہاتھ دیے، مِرے ساتھ چلے وہ جو ہاتھ ہے محنتی، برکتوں والا، جسے وقت کا ظلم اُجاڑتا ہے مِرے ہاتھ میں ہے، مِرے ساتھ بھی ہے تِرے پاس تو خواب ہی تھا، مِرے ہاتھ میں ہاتھ نہ تھا تِرے ساتھ خدائی کا ہاتھ نہ تھا مِرے خواب کا ہاتھ کدھر گیا؟ مِرے خواب کا ہاتھ جہان میں ہے یہ جہاں جہان کا راہ نُما یہ جہاں جہان کے محنتی ہاتھوں کا راہ نُما مِرے پاس تو ہے، ترے ساتھ نہ تھا جوں ہی صبر کو ٹوٹ بکھرنا ہو جوں ہی ظلم کو حد سے گزرنا ہو تِرے دکھ کو یاد کروں! تجھے ایسے، ہاں، تجھے ایسے یاد کروں!! میرا جی تجھے کیسے یاد کروں! </verse> </blockquote> </section> </body> "
"0029.xml"
"<meta> <title>میرا جی اور مغالطے</title> <author> <name>نجیب جمال</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/11_najeeb_jamal_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>2406</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"میرا جی اور مغالطے"
2,406
"Yes"
"<body> <section> <p>ماضی کی گپھائوں اور بھورے لمبے بالوں کی جٹائوں کا نام ہم سب نے مل کر میرا جی رکھا ہے۔ اب یہی ان کا نام، یہی ان کا کام اور یہی ان کی پہچان ہے۔ اس پہچان کو بنانے میں خود انھوں نے بہت محنت، بہت تردّد اور بہت کاوش کی تھی، یہاں تک کہ مرتے سمے تک وہ پھر کبھی ماں باپ کے دیے ہوئے نام اور پہچان کو اپنانے پر آمادہ نہ ہو سکے اور کہتے رہے کہ:</p> <blockquote> <p>لوگ مجھ سے میرا جی کو نکالنا چاہتے ہیں مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ یہ نکل گیا تو میں کیسے لکھوں گا، کیا لکھوں گا؟ یہ کمپلیکس ہی تو میری تحریریں ہیں۔</p> </blockquote> <p>گویا میرا جی محض ایک شخصیت، ایک شاعر یا فن کار کا نام نہیں تھا، یہ بقول میرا جی ایک کمپلیکس تھا اور ان کی تحریروں کا باعث بھی۔ میرا جی کے اس پرسونا <annotation lang="en">(persona)</annotation> کا بہت ذکر رہا، یہی وجہ ہے کہ ان کی ظاہری ہیئت کذائی، ان کا حلیہ، ان کا لباس (جس میں منٹو کی دی ہوئی برساتی بھی شامل ہے) ان کے ہاتھوں میں لوہے کے تین چھوٹے بڑے گولوں کی مسلسل حرکت، بغیر جیب کی پتلون، میلی کچیلی دہری تہری جرابیں، جوتوں کے پھٹے ہوئے تلوے اور اُدھڑی ہوئی سلائیاں، گلے میں دو گز لمبی مالا، شیروانی کی پھٹی ہوئی کہنیاںاور جیبوں میں سگریٹ کی ڈبیوں کی پنیاں، چیتھڑے، پان کی ڈبیا، پائپ، تمباکو، ہومیوپیتھک دوائیں اور سب سے سِوا میرا سین نامی بنگالی لڑکی سے ان کا افلاطونی عشق جسے وہ عشق نہیں سروس سمجھتے رہے … یہ سب ان کی پہلی اور آخری پہچان ٹھہرا۔ انھیں دھرتی پوجا کا شاعر بھی کہا گیا، اس کی وجہ اپنے بچپن میں ان کا جنوبی ہندوستان میں قیام بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی نظموں میں جنس کا اور خاص طور پر خود نفسی یاخود لذتی کا بھی، جسے استمنا بالید کا نام دیا گیا، بہت تذکرہ رہا اور یوں میرا جی کو ان کے خود ساختہ کمپلیکسزہی کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش ہوتی رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی طرح کا شخصی اُلجھائو پورے تخلیقی عمل کی قوت متحرکہ بن سکتا ہے؟ کیا شخصی پرسونا اور تخلیقی پرسونا اصل میں دونوں ایک ہیں؟ یا پھر ان میں ذات کے برتائو اور تخلیق کے سبھائو کا فرق موجود ہے اور اپنے پھیلائو، جزئیات، تخیلات اور تصورات میں یہ دونوں الگ الگ کائناتی وجود رکھتے ہیں؟ میرا سین سے میرا جی کا عشق اس کی ایک مثال ہے۔ وہ میرا سین کی پرچھائیں کا پیچھا کرتے نظر آتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ خود میرا سین کا اپنا وجود ایک حقیقت تھا یا پرچھائیں، اور ابھی تو اس پرفریب حقیقت کا تعین ہونا باقی ہے کہ سارا معاملہ خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا۔ ایک بات مگر طے ہے کہ اچھے بھلے ثنائ اللہ ڈار نے میرا جی بن کر میراسین کے تصور کو اپنی ذات ہی کا ایک حصہ بنا لیا تھا۔ میراسین اب خارج کا مجسم پیکر نہیں تھی خود ان کا وجود تھی یوں ان کے اندر کی دنیا میں ایک روشنی، ایک رونق اور ایک ہجوم موجود تھا اور شاید وہ اکیلے نہیں تھے جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی ظاہری حالت، ملبوس کی دھجیاں اور ایک بیراگی کا بہروپ مغالطے میں مبتلا ضرور کرتا رہا اور شاید کچھ عرصہ تک مزید ایسا ہوتا رہے مگر بالآخر میرا جی کے تخلیقی پرسونا کو ان کے ذاتی اور شخصی اُلجھائو، بے ترتیبی اور بد ہیئتی سے الگ ہونا ہے اور ایساآج نہیں تو کل ہونا ہے۔ میرا جی کو اب کسی دیو مالائی اسطورہ کا کردار بنا کر محدود نہیں رکھا جاسکتا اس کے تخلیقی عمل کو محض اس کے بیراگ کی شکل قرار نہیں دیا جاسکتا نہ ہی اس کے بہروپ کو چند نظموں کا حوالہ دے کر اس کی پہچان سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کی خودمرکزیت اس کی ذاتی خود فریبی تو ہو سکتی ہے مگر اُسے بھی اس کے تخلیقی عمل کا لازمہ سمجھنا ایک غلطی ہوگا۔</p> <p>اب سوال یہ ہے کہ کیا غیر ذمہ دارانہ شخصی روپ یا نیم دیوانگی جیسی بے ترتیبی، تخلیقی عمل کے توازن کے مساوی قرار دی جاسکتی ہے؟ اور کیا کلیاتِ میرا جیکے ۱۰۸۰ صفحات کو ان کی دیوانگی کی عطا سمجھا جائے گا؟ شاید ایسا نہیں ہے، آج میرا جی کی پیدائش کے سو سال بعد بہت کچھ بدل چکاہے۔ میرا جی کے تخلیقی عمل کے حوالے سے معروضی نظر پیدا ہو چکی ہے۔ نقد و نظر کے معیارات بدل چکے ہیں۔ اب تخلیقی شخصیت کی ذات، ماحول، عہد، حالات، سیرت اور برتائو صرف ایک حد تک ہی ضروری سمجھے گئے ہیں۔ یہ بہت دیر اور دور تک اگر تخلیقی عمل کا حصہ سمجھے جائیں تو یقینی طور پر ذاتی مغالطے پیدا کریں گے اور پھر شاید کوئی یہ نہ کہہ سکے ”میرا جی از سرتاپا تخلیق تھے۔“</p> <p>ہاں یہ بھی صحیح ہے کہ یہ سوال ضرور پریشان کر سکتا ہے کہ ”آخر اس ساری تخلیقی سنجیدگی اور گہرے تخلیقی انہماک کے باوجود انھوں نے یہ حُلیہ کیوں بنایا اور ساری عمر اپنی زندگی اس طور سے کیوں گزاری۔“ اس سوال کا جواب بھی دیا جاتا رہے گا کہ یہ سوال میرا جیؔ کی شخصیت کے رومانس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اپنی انفرادیت کو راسخ کرنا، اپنے آپ کو قابلِ توجہ بنانا اور اس کے لیے دھرتی کے پجاری کا روپ دھارنا، اپنی ذاتی ناآسودگیوں کے مداوے کے لیے اپنے وجود سے کیف اور لذت کو اخذ کرنا اور پھر اس تجربے کے بعد کی ہاتھوں کی آلودگی اور نم ناکی کو کچھ نظموں کا حصہ بنا دینا بھی دراصل اپنی ذات کے لیے کچھ نظمیں لکھنے کی کاوش ہے۔ میرا جی نے بودلیر کے بارے میں لکھا تھا کہ ”اس نے کچھ نظمیں صرف اپنے لیے لکھی تھیں۔“ ڈاکٹر جمیل جالبی نے میراجی کی اس بات کو لے کر کہ یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ”میرا جی نے بھی ابتدائی دور کی شاعری اپنی ذات کے لیے کی۔“</p> <p>میراجی نے ایڈگر ایلن پو کے بارے میں جو لکھا ہے اس کا اطلاق خود اس کی ذات پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>کوئی اسے شرابی کہتا ہے، کوئی اعصابی مریض، کوئی اذیت پرست اور کوئی جنسی لحاظ سے ناکارہ ثابت کرتا ہے اور ان رنگا رنگ خیال آرائیوں کی وجہ سے اصلیت پر ایسے پردے پڑ گئے ہیں کہ اٹھائے نہیں بنتا ہے۔</p> </blockquote> <p>واضح رہے کہ پو کے بارے میں جب میرا جی یہ لکھ رہے تھے اس وقت میرا سین سے ان کی تصوراتی محبت کو شروع ہوئے دو تین سال ہی گزرے تھے اور اس کے بعد میراجی خود بھی اسی ابنار ملٹی کی طرف لپکتے نظر آتے ہیں۔ پو کی بیوی کے بارے میں میرا جی کا لکھنا کہ ”اس کی بیوی ایک ایسا سایہ بن جاتی تھی جسے حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔“ اور یہ کہ ”ایڈگر ایلن پو عورت کے بجائے عورت کے تصور کی پوجا کرتا تھا۔“</p> <p>گویا پو کے بارے میں میراجی کے یہ بیانات خود ان کے اپنے اندرون کا اظہار بھی ہیں۔ عورت جو میراسین کا یک تخیلاتی روپ ہے یا پھر ان تمام عورتوں کا جو میراسین کے تصور ہی کی توسیع سمجھی جاسکتی ہیں میراجی کی نظموں کا موضوع بنیں، کبھی طوائف، کبھی عام سی عورت، کبھی محبوبہ اور کبھی دلھن کی صورت میں۔ ہاں اس کے ساتھ یہ ضرور ہوا کہ میراجی نے تخیلاتی اور تصوراتی یا کسی حد تک نیو راتی عاشق کا روپ دھارتے ہوئے اپنے تصورات کو خوب صورت شاعرانہ امیجز کی شکل میں ڈھال دیا یہی ان کے تخلیقی عمل کا وہ مثبت پہلو ہے جس کی وجہ سے میرا جی جدید اُردو نظم کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی ان نظموں میں امیجز کا جو خزانہ ملتا ہے وہ نئی اُردو شاعری کوان کی دین ہے۔ ان کی گیت نگاری، ان کی غزل گوئی یا قدیم اسطوروں کی طرف ان کی رغبت محض کچھ قدیم ہیئتوں اور کچھ تہذیبی روایات کی پاسداری میںتو ہو سکتی ہے مگر میراجی کی پوری تخلیقی شخصیت ان کی نظموں ہی میں ظاہر ہوتی ہے اور ان نظموں میں کچھ اثرات یقینا بودلیر، ایڈگرایلن پو، میلارمے کی نظموں کی بُنت کاری کے بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے امیجز کا ابہام بھی اسی وجہ سے ہو سکتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میراجی کی لفظیات، علامات اور امیجز کا ابہام اب ابہام معلوم نہیں ہوتا، گو انھوں نے نہ صرف نئی نظم کے امکانات کو واضح تر کیا بلکہ جدید اُردو نظم کا لہجہ اور زبان بھی مرتب کی مگر کیا یہ تشکیلی لہجہ اور تخلیقی ارتقا کانامیاتی عمل تھا یا پھر یہ سنجیدگی اور تخلیقی انہماک صرف ان کی بے ترتیبی، پریشان خیالی اور خود مرکزیت کے سبب سے تھا؟ کیا مستقبل سے ان کا تعلق بے نام سا ہے؟ کیا وہ صرف ماضی اور حال کے انسان تھے اوربس؟ کیا ان کی نظمیں مستقبل کی اُردو نظم کا ایک خاکہ تشکیل نہیں دیتیں؟ کیا وہ مروّجہ تہذیبی پابندیوں کو قبول کرتے ہیں؟کیا وہ رسمی اخلاقیات کے پابند ہیں اور کیا انھوں نے جسمانی زندگی کی قید کو اپنا مقدر سمجھ لیا تھا یا پھر جو کچھ وہ خود کہتے ہیںان میں سے بہت سی باتوں کی چھان پھٹک کی ضرورت ہے؟ مثلاًان کا یہ کہنا:</p> <blockquote> <p>سچ ہے سماج کے فرائض جس طرح دنیا انھیں سمجھتی ہے میں نے، جس طرح میں انھیں سمجھتا ہوں، پورے نہیں کیے لیکن میں نے اپنی جسمانی زندگی سے زیادہ جس قدر ذہنی زندگی بسر کی ہے اس کا لحاظ کسے ہوگا۔</p> </blockquote> <p>اب یہاں ہمارے سامنے دو سوال سر اُٹھاتے ہیں ایک تو ان کا اور ان کی شاعری کا مستقبل میں کردار اور دوسرا ان کی ذہنی زندگی اور اس کی فعالیت۔ جہاں تک نئی نظم کے امکانات کو واضح تر کرنے اور مستقبل میں کوئی مقام پیدا کرنے میں میراجی کی نظموں کا کوئی کردار ہے تو اس کے بارے میں منٹو نے بڑے پتے کی بات لکھی ہے:</p> <blockquote> <p>بحیثیت شاعر کے اس کی حیثیت وہی ہے جو گلے سڑے پتوں کی ہوتی ہے جسے کھاد کے طور پر استعمال کیا جاسکتاہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کا کلام بڑی عمدہ کھاد ہے جس کی افادیت ایک نہ ایک دن ضرور ظاہر ہو کر رہے گی۔</p> </blockquote> <p>جہاں تک ان کی ذہنی زندگی اور اس کی فعالیت کا تعلق ہے تو میرا جی کو شخصیت اور اُن کے تخلیقی اظہار کے درمیان کچھ مغالطوں کو دورکرنا ہوگا۔ ان میں سے کچھ مغالطے میراجی کے اپنے پیدا کردہ ہیں مثلاً ان کا یہ کہنا کہ ”لوگ مجھ سے میرا جی کو نکالنا چاہتے ہیں مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔“ ان کا یہ رویہ بھی ایک مغالطے کو پیدا کرتا ہے۔ ان کا یہ رویہ انفرادیت کی دھار کو تو تیز کرتا ہے اور شاید میراجی بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کی ہیئت کذائی، ان کا بہروپ اور ان کا شخصی برتائو ان کے فن کی تفہیم کا ایک موزوں ذریعہ ہوسکتاہے حالانکہ اس کے برعکس ان کی غزلیں، گیت، نظمیں، تراجم، تنقید…، ادبی دنیا اور خیال جیسے ادبی رسالوں کی تدوین، حلقہ اربابِ ذوق سے متعلق ان کی سنجیدگی سب ان کے مرتب ذہن کی تصویر بناتے ہیں۔ خصوصاً ان کی تنقید کی وجہ سے انھیں بالاتفاق اُردو کا پہلا نفسیاتی نقاد کہا جاتا ہے۔ منٹو نے اس حوالے سے میرا جی سے اپنی ایک ملاقات کا تذکرہ کیا ہے جس میں میراجی منٹو کے افسانوں سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے۔ منٹو لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>میراجی کے دماغ میں مکڑی کے جالے نہیں۔ اس کی باتوں میں اُلجھائو نہیں تھا اور یہ چیز میرے لیے باعث حیرت تھی اس لیے کہ اس کی اکثر نظمیں ابہام اور اُلجھائو کی وجہ سے ہمیشہ میری فہم سے بالا تر رہی تھیں لیکن شکل و صورت اور وضع قطع کے اعتبار سے وہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا اس کا بے قافیہ مبہم کلام۔ اس کو دیکھ کر اس کی شاعری میرے لیے اور بھی پیچیدہ ہو گئی۔</p> </blockquote> <p>ان جملوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ منٹو جیسا تخلیقی فن کار بھی میرا جی کے بے قافیہ اور مبہم کلام کو میراجی کی شکل و صورت اور وضع قطع کے تعلق سے جانتا ہے۔ وہ میراجی کی کسی اُلجھائو کے بغیر گفتگو کا تو قائل ہے اور ذہن کی صفائی، گفتگوکی روانی یہاں تک کہ اس کی خطاطی سے بھی متاثر ہے مگر اس کی شاعری کو مبہم اس لیے جانتا ہے کہ میراجی کی وضع قطع منٹو کو اُن کے بے قافیہ اور مبہم کلام جیسی معلوم ہوئی تھی اور شاید یہی میراجی کا مقصد بھی تھا، مگر اب میراجی کی شاعری کے <annotation lang="en">potential</annotation> کے حوالے سے ایسے کسی مغالطے کی گنجائش نہیں۔ انوار انجم نے میراجی کی شخصیت اور تخلیقی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے درست لکھا ہے:</p> <blockquote> <p>میراجی فطری اعتبار سے پراچین اور ہندوستان کے بھکشو تھے مگر بعض اوقات زمانہ حاضر کے عقلیت پرست انسان کی جھلکیاں بھی ان میں دکھائی دینے لگی تھیں۔ ان کا انداز فکر اور انداز نظر ایسے مغربی فن کاروں اور فلسفیوں کا سا تھا جنھوں نے آج یا کل کے نہیں صدیوں بعد کے بہت ہی متمدن انسان کے لیے سوچ بچار کی ہے۔</p> </blockquote> <p>میراجی کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے تخلیقی عمل کے ارتقائی مراحل کو پیش نظر رکھا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی مختصر سی زندگی میں مختلف اوقات میں مختلف حالات و واقعات کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی ایک بھگت، کبھی ایک ملامتی، کبھی نراجیت پسند، کبھی بیراگی، کبھی جنس پرست، کبھی باطنیت کے قائل، کبھی ہند آریائی فضا کے پجاری، کبھی عجمی فضا کی طرف مراجعت کے تمنائی، کبھی جنس اور نفسیات کے شیدائی تو کبھی مابعد الطبیعیاتی مسائل سے نبرد آزما، کبھی موسیقی سے لگائو تو کبھی دوران رقص لوچ، لچک اور بھائو کے قتیل … یہ تھے میراجی جوایک زندہ، متحرک اور توانا ذہن رکھتے تھے۔</p> <p>میراجی کی تفہیم کے لیے پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے میں مغربی استعمار کے جبر، نوآبادیوںکے ہونے والے استحصال اور عالمی سامراج کے توسیع پسندانہ عزائم کے مقابل شورِ سلاسل، روزنِ زنداں سے آزادی کے سویرے کا نظارہ، محکوموں کے جسموں سے ٹپکنے والے لہو کا جم جانا اور خون کی سرخی سے رگِ برگِ گلاب کا نکھر جانا، جیسے عوامل بنیادی حوالہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مغربی مفکرین کے نظریات اور خاص طور پر فرانسیسی علامت پسندوں، تحلیلِ نفسی، جنسی نفسیات اور شعور ولاشعور جیسے رجحانات کے حامل نفسیات دانوں کے اثرات، ترقی پسندوں کے مقابل متوازن نفسی دروں بینی کا رویہ بھی میراجیؔ کے فنی ارتقا کے عوامل ہیں۔ گویا جس قدر انسانی ذات گہری، پیچیدہ اور متنوع الصفات ہے میراجیؔ کے موضوعات بھی گہرے اور متنوع ہیں۔</p> <p>میراجی کو عمومی طور پر فراریت پسند، گریز پا اور شکست خوردہ سمجھا جاتارہاہے۔ یہ مغالطہ بھی غالباً ان کے دل غم دیدہ کے آسودہ نہاں خانے میں سوئی ہوئی آرزوئوں، خواہشوں اور تمنائوں کے سبب سے ہے جس کا علاج انھوں نے خود لذتی میں ڈھونڈرکھا تھا۔ اس مغالطے کو دور کرنے کے لیے ان کی نظم ”شام کو راستے پر“ کی مثال دی جاسکتی ہے جس میں ان کا عکسِ تخیل بھی متحرک نظر آرہا ہے:</p> <blockquote> <verse> رات کے عکسِ تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصود کبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سے، اور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہے۔ اس کو اِک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں۔ وہ تصور میں مرے عکس ہے ہر شخص کا، ہر انساں کا۔ کبھی بھر لیتا ہے اک بھولی سی محبوبۂ نادان کا بہروپ، کبھی ایک چالاک، جہاں دیدہ و بے باک ستم گربن کر دھوکا دینے کے لیے آتا ہے، بہکاتا ہے، اور جب وقت گذر جائے تو چھپ جاتا ہے۔ مری آنکھوں میں مگر چھایا ہے بادل بن کر ایک دیوار کا روزن، اسی روزن سے نکل کر کرنیں مری آنکھوں سے لپٹتی ہیں، مچل اُٹھتی ہیں آرزوئیں دلِ غم دیدہ کے آسودہ نہاں خانے سے؛ </verse> </blockquote> <p>اسی نظم کا یہ آخری حصہ بھی ملاحظہ ہو جس میں عشق کا طائر آوارہ بہروپ بھر کے ایک نہ ختم ہونے والی تلاش کے سفر میں ہے اور یہی میراجی کی فکر کا اثباتی، متحرک اور توانا پہلو ہے:</p> <blockquote> <verse> میں تو اک دھیان کی کروٹ لے کر عشق کے طائرِ آوارہ کا بہروپ بھروں گاپل میں اور چلا جائوں گا اس جنگل میں جس میں تُو، چھوڑ کے اِک قلبِ افسردہ کو اکیلے، چل دی، راستہ مجھ کو نظر آئے نہ آئے، پھر کیا اَن گنت پیڑوں کے میناروں کو میں تو چھوتا ہی چلا جائوں گا، اور پھر ختم نہ ہوگی یہ تلاش، جستجو روزنِ دیوار کی مرہون نہیں ہو سکتی، میں ہوں آزاد… مجھے فکر نہیں ہے کوئی، ایک گھنگھور سکوں، ایک کڑی تنہائی مرا اندوختہ ہے۔ </verse> </blockquote> <p>یوں ایسی کئی نظموں کی موجودگی میں یہ کہنا بھی شاید ایک اور مغالطے کو جنم دینے کا باعث ہو سکتا ہے کہ:</p> <blockquote> <p>میراجیؔ ماضی پرست انسان ہیں، وہ ٹھوس حقائق سے آنکھیں بند کر کے دیو مالائی عہد میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔</p> </blockquote> <p>میراجی کے سلسلے میں مغالطے کا ایک اور پہلو انھیں اُردو کا سب سے زیادہ داخلیت زدہ شاعر قرار دینا ہے جس کا مؤثر جواب وارث علوی نے دیا ہے۔ دیکھیے:</p> <blockquote> <p>میراجی کی پوری شاعری سمندر، پہاڑ، نیلا گہر آسمان، بل کھاتی ندیوں، تالابوں، جنگلوں، چاند، سورج اور ستاروں، ماتھے کی بندی، کاجل کی لکیر، پھولوں کی سیج، سرسراتے ملبوس اور بدن کے لہو کی آگ کی شاعری ہے جو شاعر من کا بھید اور رات کی بات کہنے کے لیے پوری کائنات اور مظاہر فطرت اور اساطیر کی دنیا پر اپنے تخیل کا جال پھینکتا ہو وہ بھلا داخلی شاعر کیسے ہو سکتا ہے۔</p> </blockquote> <p>یوں اب ہمیں میراجی کے حوالے سے فراریت پسندی، داخلیت زدگی اور بیمار ومجہول ذہنیت جیسے الزامات واپس لینے کی ضرورت ہے۔ ان کے یہاں موضوعاتی، تجرباتی اور لسانی وسعت کا یہ عالم ہے کہ دل اور دنیا، انفس و آفاق اور طبیعیات و مابعد الطبیعیات جیسے عناصر کسی ایسی ظاہری ہیئت کذائی کے محتاج نہیں رہتے جس کے نتیجے میں محض اعصاب زدہ شاعری ہی پیدا ہو سکتی ہے۔</p> </section> </body> "
"0030.xml"
"<meta> <title>میرا جی کے تراجم</title> <author> <name>ناصر عباس نیر</name> <gender>Male</gender> </author> <publication> <name>Bunyad, Volume 4</name> <year>2013</year> <city>Lahore</city> <link>https://gcll.lums.edu.pk/sites/default/files/12_nasir_abbas_nayyar_bunyad_2013.pdf</link> <copyright-holder>Gurmani Centre for Languages and Literature, Lahore University of Management Sciences</copyright-holder> </publication> <num-words>6627</num-words> <contains-non-urdu-languages>Yes</contains-non-urdu-languages> </meta> "
"میرا جی کے تراجم"
6,627
"Yes"
"<body> <section> <p>ترجمہ، ایک تہذیب کا دوسری تہذیب سے مکالمہ ہے۔ مترجم، دو تہذیبوں کے درمیان ’ترجمان‘ کا کردار ادا کرتا اور دونوں کے درمیان اس مغائرت کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے جو زبان اور دوسری ثقافتی اوضاع کی وجہ سے موجود ہوتی ہے۔ مثالی طور پر یہ ترجمان اپنی یا دوسری تہذیب کے ان بہترین حاصلات کا انتخاب کرتا ہے، جن کے بارے میں وہ یقین رکھتا ہے کہ انھیں انسانی تہذیب کا مشترکہ ورثہ بنایا جا سکتا ہے۔ مشترکہ انسانی تہذیب کا خواب اگر کسی طور پورا ہو سکتا ہے تو فقط ترجمے کے ذریعے۔ مگر یہ مثالی صورت ہر جگہ موجود نہیں ہوتی، خاص طور پران ملکوں میں جہاں ترجمے کی روایت اپنا آغاز ہی ان قوتوں کے زیر اثر کرے جو نئے خیالات کے ذریعے اجارہ و اقتدار چاہتی ہوں۔ اس صورت میں ایک تہذیب دوسری تہذیب سے مکالمہ نہیں کرتی، اس پر نافذ ہوتی ہے۔ اردو میں انگریزی شاعری کے ترجمے کی روایت اپنے آغاز کے سلسلے میںکچھ ایسی ہی کہانی سناتی ہے۔ اس کہانی کا ایک اہم واقعہ میرا جی کے تراجم ہیں جواس میں ایک نیا موڑ لاتے ہیں۔</p> <p>اردو میں انگریزی شاعری کے ترجموں کا آغاز ۱۸۶۰ئ کی دہائی میںہوا۔ غلام مولیٰ قلق میرٹھی (۱۸۳۳ئ-۱۸۸۰ئ) نے جواہر منظوم کے نام سے اردو میں انگریزی شاعری کے تراجم کی پہلی کتاب شائع کی۔ ”انھیں انگریزی نظموں کے ترجموں کا پروجیکٹ ملا، جو ۱۸۶۴ئ میں مکمل ہو کر گورنمنٹ پریس الہٰ آباد سے طبع ہوا۔“ پندرہ نظموں پر مشتمل اس کتاب کی خاص بات یہ تھی کہ اس پر مرزاغالب نے نظرِ ثانی کی تھی۔ سرکاری سرپرستی میں انگریزی ادب کی اردو میں ترویج کی اگلی کوشش بھی الہٰ آباد میں ہوئی۔ ۲۰ گست ۱۸۶۸ئ کو الٰہ آباد حکومت نے انعامی ادب کا اعلان نامہ شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اردو یا ہندی میں نثر یا نظم میں طبع زاد یا ترجمہ شدہ ’مفید‘ کتاب انعام کے لیے پیش کی جا سکتی ہے۔ انعامی ادب کے اس اعلان سے بقول سی۔ ایم۔ نعیم ”یہ امر طے ہوا کہ حکومتِ ہند کو نہ صرف یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انعام کے ذریعے کچھ خیالات کو عمدہ اور موزوں قرار دے سکتی ہے اور بعض خیالات کو نظر انداز کر کے اپنی رضامندی سے محروم کر سکتی ہے، بلکہ عمدہ خیالات کو تعلیمی نظام کے ذریعے نشرو اشاعت بھی کر سکتی ہے۔“ انگریزی ادب کے تراجم کو سرکاری سرپرستی میں جاری رکھنے کا عمل انجمنِ پنجاب (۱۸۶۵ئ) نے آگے بڑھایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر لائٹنر اور کرنل ہالرائیڈ کی راہنمائی میں آزاد نے، حالی کی مدد سے نیچرل شاعری کے نمونے پیش کرنے کا آغاز کیا تو جواہر منظوم کے چار ایڈیشن چھپ چکے تھے۔ تراجم کی اس روایت کو رسالہ دلگداز اور مخزن نے خاص طور پر آگے بڑھایا۔</p> <p>یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اردو میں انگریزی شاعری کے تراجم کی روایت، برطانوی ہند کے محکمہ تعلیم نے شروع کی اور اس کے پیش کردہ اصولِ ترجمہ ہی آگے چل کر معیاربنے۔ تعلیماتِ عامہ پنجاب کے ناظم کرنل ہا لرائیڈ نے انگریزی شاعری کا جواز اور انجمنِ پنجاب کے صدر ڈاکٹر لائٹنر نے ترجمے کے اصول وضع کیے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے ربع اوّل کے ہندوستان میں اردو شاعری پر انگریزی ادب کے اثر کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ان دونوں صاحبان کے خیالات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔</p> <p>کرنل ہالرائیڈ نے اردو شاعری کی اصلاحی تحریک کے سلسلے میں ۱۸۷۴ئ میںایک تقریر رقم فرمائی، جسے مولانا محمد حسین آزاد نے موضوعاتی مشاعروں کے آغاز کے وقت اردو میں ڈھال کر پیش کیا۔ اس تقریر میں ہالرائیڈ نے جو کچھ کہا اس کا بڑا حصہ آزاد کے ذریعے ہم تک پہنچ چکا اور بیسیوں مرتبہ دہرایا جا چکا ہے۔ تاہم ترجمے کی بابت دو ایک باتوںکا ذکر ضروری ہے۔ ہالرائیڈکی تقریرکا بنیادی مؤقف وہی ہے جوولیم میورنے انعامی ادب کے اعلان نامے میں اختیار کیا تھا۔ ہالرائیڈ فرماتے ہیں کہ اردو میں مغربی دنیا کے انتہائی باکمال ذہنوں کے خورسند خیالات میں سے روشن، واضح اور مستحکم خیالات کو صرف ترجمے کے ذریعے ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔ وہ ترجمے کے ایک بنیادی مسئلے کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ایک زبان کا جینئس دوسری زبان کے جینئس سے مختلف ہوتا ہے اور اس بات کا احساس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب انگریزی کے یونانی و لاطینی اساطیر سے مملو ہونے کا علم ہوتا ہے۔ ہالرائیڈ اس مشکل کے ضمن میں یہ کہہ کے رہ جاتے ہیں کہ اس طور محض ترجمہ ہندوستان میں کام یاب نہیں ہو سکتا۔ دوسرے لفظوں میں انگریزی اور اردو میں ایک ایسی مغائرت موجود ہے جسے محض ترجمہ یعنی حقیقی لفظی ترجمہ نہیں پاٹ سکتا۔</p> <p>ائٹنر کے خیالات بھی کچھ اسی قسم کے ہیں۔ وہ بھی مغائرت کی موجودگی میں یقین رکھتے ہیں مگر مغائرت کی جڑیں تہذیب میں یعنی زیادہ گہری سطح پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مشرق و مغرب طرزِ فکر کی سطح پر ایک دوسرے سے قطبین پر واقع ہیں۔ فرماتے ہیں:یورپی مصنف ’تجریدی اور غیر شخصی‘ انداز کے حامل ہوتے ہیں جب کہ مشرقی مصنف ’شخصی، مخصوص، مجسم اور ڈرامائی‘ انداز رکھتے ہیں۔ لہٰذا لفظی ترجمہ نہیں <annotation lang="en">adaptation</annotation> ہونی چاہیے۔۴ لیجیے انھوں نے مغائرت دور کرنے کی سبیل نکال لی۔ مگر ٹھہریے پہلے یہ دیکھتے چلیے کہ لائٹنرنے مشرق و مغرب کے جس فرق کی نشان دہی کی ہے، اس میں کتنی صداقت ہے۔ کیا تجریدی اورتجسیمی اندازانسانی فکرو تخیل سے متعلق ہیں یا ان میں سے ایک یا دوسرے پر کسی تہذیب کا اجارہ ہے؟ قصہ یہ ہے کہ دنیا کے ہر ادب میں شخصی اور تجریدی اسالیب ہوتے ہیں۔ نثر کاعموی انداز تجریدی ہوتا ہے اور اگر موضوع فلسفہ یا کوئی سماجی علم ہو تو اسلوب تجریدی ہو گا جب کہ شاعری عمومی طور پر حسی تمثالوں پر مبنی ہوتی ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ اردو میں انگریزی سے ترجمے کی تھیوری وضع کرنے والے حضرات دونوں زبانوں میں مغائرت اورفاصلے کو شدت سے باور کرانا چاہتے تھے۔ اس ’فاصلے‘ کی وجہ سے ایک بات کو ممکن بنایا جا سکتا تھا: انگریزی خیالات کی <annotation lang="en">adaptation</annotation>۔ یعنی انگریزی خیالات کو اپنی زبان کے محاورے میں ڈھال لیا جائے۔ ترجمے کا یہ طریقہ صرف خیال اور اس کے نفوذ کو اہمیت دیتا ہے۔ کسی متن کی پوری کیفیت، اس کے سیاق و سباق کو نہیں۔ چناں چہ کوئی تنقیدی رویہ پیدا نہیں ہوتا، صرف قبولیت اور انجذاب کی حریصانہ خواہش جنم لیتی ہے۔ بہر کیف لائٹنر کی یہ رائے عام طور پر قبول کر لی گئی کہ انگریزی مافیہ کو اردو محاورے میں ڈھال لیا جائے۔ مثلاً۱۸۹۹ئ میں نظم طباطبا ئی نے انگریزی شاعرطامس گرے کی <annotation lang="en">Elegy Written in a Country Churchyard</annotation> (۱۷۵۱ئ) کا ترجمہ ’گورِ غریباں‘ کے نام سے کیا۔ گرے کی نظم میں جہاں بھی یورپی اسمائے معرفہ آئے، انھیں ایرانی اور ہندوستانی اسمائے معرفہ سے بدل دیا گیا۔ کرامویل اور ملٹن کو رستم اور فردوسی سے بدل دیا گیا۔ </p> <p>اس مختصر تاریخی روداد سے ہم چند نکات اخذ کر سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ شعری تراجم کا سارا سلسلہ جس رخ پر چلا، وہ نئی اردو شاعری کے لیے کینن سازی کا رخ تھا۔ نوآبادیاتی سرکار ہی ترجمے کے لیے انگریزی متون کا انتخاب کرتی تھی۔ قلق میرٹھی کومیرٹھ کے انسپکٹر مدراس ٹی جے کین نے انگریزی نظموں کا ایک منتخب مجموعہ ترجمے کی غرض سے دیا۔ آگے اسمٰعیل میرٹھی اور دوسرے لوگوں نے جو ترجمے کیے، سب نصابی ضرورت کے تحت کیے۔ جہاں نظمیں نہ فراہم کی گئیں، وہاں انگریزی طرز کی نیچرل شاعری کا تصور ’فراہم‘ کیا گیا جسے انجمنِ پنجاب نے وضع کیا تھا۔ انجمنِ ِپنجاب کی نئی شاعری کی تحریک جسے لائٹنر ’اردو شاعری کی اصلاحی تحریک‘ کا نام دیتے ہیں، پنجاب کے سکولی نصاب کے لیے نئی اردو نظمیں مہیا کرنے کی خاطر برپا کی گئی۔ اس طرح مخصوص قسم کی انگریزی نظمیں ہی نئی اردو شاعری کے لیے کینن بنیں۔ علاوہ ازیںانگریزی عہد ہی میں پہلی مرتبہ ادب کی زمرہ سازی بھی ہوئی:اخلاقی ادب، اصلاحی ادب، بچوں کا ادب، عورتوں کا ادب۔ ان سب کے لیے انگریزی ادب معیار اور کینن تھا۔ ہر چند خود انگریزی ایک کینن تھی، تاہم اس زبان میں لکھا گیا ساراادب کینن نہیں تھا۔ انگریزی ادب کا وہ حصہ جونئے اردو ادب کے زمروں میںموزوں بیٹھتا تھا، وہی کینن تھا۔</p> <p>اگلے ستر برسوں میں زیادہ تر انگریزی رومانی شعرا کے متون ترجمہ ہوئے اور انھیں نئے اردو ادب کے لیے کینن بنایا گیا۔ ۱۹۳۰ئ کے اوائل میں جب میرا جی نے تراجم کا آغاز کیا تو ورڈزورتھ، شیلے، لانگ فیلو، آڈن، ٹینی سن، ایمر سن، ولیم کو پر، سیمو ئیل راجرزبراوئننگ، طامس روکی نظموں ہی کے تراجم کا رواج تھا۔ اقبال نے بھی انگریزی شاعری کے ضمن میں اسی روایت کی پابستگی اختیار کی، یعنی زیادہ تر اخلاقی نظموں کے ترجمے کیے، تاہم انھوں نے جرمن شاعر گوئٹے کی طرف توجہ دلائی اور پہلی مرتبہ اردو شاعری کی انگریزی اساس کینن سازی میں ’مداخلت‘ کی۔ اردو میں گوئٹے کے شعری اسرار کی آمد، ایک واقعہ تھی، مگرگوئٹے بھی ایک رومانوی شاعر تھا۔ یہ ضرور ہے کہ اس کی رومانویت انگریزی رومانویت سے مختلف تھی اور اس میں ایک خاص قسم کی ’مشرقیت‘ تھی۔ دوسری طرف میرا جی نے جرمنی سے ہائنے (۱۷۹۹ئ-۱۸۵۶ئ) کا انتخاب کیا۔ گوئٹے، اپنی علوِ فکر کے لیے ممتاز ہے اور ہانئے کا معاملہ یہ ہے کہ تھاتو وہ بھی رومانوی مگر اس کی ذات و عمل میںعبرانیت اور یونانیت شامل تھیں اور انھی کی بنا پر اس نے جرمنی سے رومانویت کا خاتمہ بھی کیا۔ ”اس کا دکھ درد کو دیکھنے کا اندازِنظر مادی تھا، لیکن اس کا دکھ درد کو جھیلنے میں صبر واستقلال مذہبی۔ وہ ایک رومانوی شاعر تھا جو قدیم اصنافِ شعری میں ایک جدید روح کا اظہار کرتا تھا۔ وہ ایک غریب بے چارہ یہودی تھا“۔ میرا جی کو ایسے ہی غریب، بے چارے شاعروں سے دلچسپی تھی جو ایک سے زیادہ اور اکثر متناقض شناختیں رکھتے تھے اور اس سے پیدا ہونے والی کش مکش سے شاعری کشید کرتے تھے۔</p> <p>میرا جی کی زندگی کا اہم واقعہ یہ تھا کہ انھوں نے میٹرک کے دوران ہی میں تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ یہ میرا جی اور اردو شاعری کے حق میں بہتر ہوا۔ اگر میرا جی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے تو اس بات کا امکان تھا کہ وہ بھی نصابی نوعیت کے چند یورپی شعری متون تک محدود رہتے اور ان کا شعری تخیل اسی معیار بندی میں قید ہو کر رہ جاتا، جس کے اسیر ان کے معاصرین تھے، جن میں فیض، راشد اور مجید امجد بھی شامل ہیں۔ میرا جی نے مغربی شعرامیںوالٹ وٹمین، ایڈگرایلن پو (امریکی)، پشکن (روسی)، فرانساولاں، چارلسبودلیر، سٹیفانے ملارمے (فرانسیسی)، جان مینسفیلڈ، ڈی ایچ لارنس، ایملی برونٹے (برطانوی)، سیفو (یونان)، ہائنے (جرمن)، کیٹولس (اطالوی) اور مشرقی شعرا میں میرا بائی، چنڈی داس، امرو، ودیا پتی، دمودر گپت، عمر خیام نیز کوریائی، چینی، جاپانی گیتوں کے ترجمے کیے اور ان پر تفصیلی نوٹ تحریر کیے۔</p> <p>میرا جی کے ضمن میں گیتا پٹیل نے لکھا ہے کہ ”علامت پسند ملارمے، بادلیئر، رمباد، پو جیسے شعرا کو قابلِ نظیر بنا کر پیش کرنے سے، میرا جی نے کینن سازی کی سیاست کا تجزیہ کیا۔“ حقیقت یہ ہے کہ میرا جی نے شاعری سے بڑھ کر اپنے تراجم میں اپنے عہد کی کینن سازی کی سیاست کا نہ صرف جائزہ لیا بلکہ اس میں دخیل بھی ہوئے۔ اس ضمن میں کچھ باتیں تو بالکل سامنے کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ میرا جی نے قدیم، کلاسیکی اور جدید عہد کے اور مغرب و ایشیا کے مختلف ملکوں کے شعرا کو منتخب کیا۔ یہ عمل ایک خاص عہد (زیادہ تر رومانویت) کے چند شعری متون (زیادہ تر انگریزی) سے مستحکم ہونے والے معیارِ شعر سے واضح انحراف تھا۔ انیسویں صدی کے نصف سے بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک انگریزی شاعری ہی کینن تھی۔(تسلیم کرنا چاہیے کہ ترقی پسند تحریک نے بھی روسی ادب کے تعارف سے انگریزی کینن کو چوٹ پہنچائی )۔ دوسرا یہ کہ میرا جی نے ان تراجم کے ذریعے اردو شاعری میں پہلی مرتبہ ہمہ دیسی نقطۂ نظر اختیار کیا۔ انھوں نے ایک ایسے شاعر کی نظر سے دیس دیس کی شاعری کو دیکھا، جس پر کسی واحد نظریے کی شدت کا بوجھ نہیں تھا، مگر وہ اپنے عہد کی بری طرح سیاست زدہ فضا میں اپنی معنویت باور کرانے کی جرأت سے لیس تھا۔</p> <p>یہاں آگے بڑھنے سے پہلے ہمہ دیسی نقطۂ نظر سے متعلق دو ایک باتیں کہنے کی ضرورت ہے۔ ہمہ دیسی یا <annotation lang="en">cosmopolitan</annotation> نقطۂ نظر ’دیسی مقامیت‘ سے متعلق رہتے ہوئے بدیسی دنیائوں سے بھی ربط و ضبط رکھنے سے عبارت ہے۔ ادب میںہمہ دیسی کا آغاز اس احساس سے ہوتا ہے کہ ہمیں بطور ایک متجسس تخلیق کار کے، اپنے تمام سوالوں کے جواب اپنے دیس کے معاصر ادب میں نہیں ملتے۔ آپ اس بات کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری پیاسی روح کی سیرابی کے لیے ہمارے اپنے سرچشمے کافی نہیں، اس لیے ہمیں نئے سرچشموں کی تلاش کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ اس میں اپنا انکار نہیں ہوتا، اپنی جمالیاتی اور ثقافتی حسیت کے دریائوں کے پاٹ کو مزید کشادہ کرنے کی تمنا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمہ دیسیت میں بدیسیت کا تصور بھی دیس کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ہمہ دیسیت، دوسری دنیائوں کی ادبی روایتوں کو مختلف و منفرد تو دیکھتی ہے، انھیں خود سے متضاد و متصادم نہیں دیکھتی۔ چناں چہ یہاں اجنبیت کا خوف نہیں، نئی اور انوکھی دنیائوں کو حیرت و تجسس سے دیکھنے اور اس سے اخذ و استفادہ کرنے کا میلان ہوتا ہے۔ ہمہ دیسیت، مشترکہ انسانی تہذیب کے اس خواب سے سرشار ہوتی ہے جو ترجمے کی مثالی صورت کا محرک ہوتا ہے۔ میرا جی کے تراجم اسی ہمہ دیسی نقطۂ نظر کی روشنی میں بدیسی ادب کو پیش کرتے ہیں۔ </p> <p>ئ اور ۱۹۴۰ئ کی دہائیوں میں اردو دنیا کئی متصادم نظریات اور بیانیوں سے بوجھل تھی۔ ان میں سب سے اہم بیانیہ قومیت پرستی کا تھا جو لسانی، مذہبی، سیاسی، علاقائی محوروں پر تشکیل پاتا تھا اور فرقہ وارانہ اسلوب میں ظاہر ہوتا تھا۔ ایک سطح پر یہ بیانیہ متحد تھا اور دوسری سطح پر تقسیم در رتقسیم کی کیفیت رکھتا تھا۔ انگریزی استعمار کو اپنا مشترکہ حریف سمجھنے میں متحد تھا، مگر اس سے آگے خود اپنے اندر سے اپنے کئی حریفوں کو جنم دیتا تھا۔ میرا جی کی شاعری اور تراجم اس متصادم فضا میں ظاہر ہوئے۔ اس فضا میں کوئی متن اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر الگ تھلگ نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ سوچنا خام خیالی ہے کہ میرا جی کی شاعری فرار اختیار کرتی ہے اور ان کے تراجم ایک رجعت پسند کے شوقِ فراواں کی مثال ہیں۔ راقم کی تو یہ بھی رائے ہے کہ رجعت پسندی میںبھی کوئی حرج نہیں، اگر وہ کسی لکھنے والے کو اس کی ذات کے کسی گہرے سوال کا جواب مہیا کرتی ہو۔ اگر ادب کی کوئی تہذیب ہے تو اس میں ایک ادیب کی آزادی کے احترام کو مقدم رکھ کر ہی اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ بہر کیف، میرا جی کے تراجم قومیت پرستی کے باہم دست و گریباں بیانیوں کے متوازی اپنے لیے جگہ خلق کرتے ہیں۔ یہ تراجم ان بیانیوں پر راست کوئی سوال نہیں اٹھاتے ؛یعنی نہ تو وہ ہندو قوم پرستی کی حمایت پر کمر بستہ ہوتے ہیں، نہ مسلم قوم پرستی کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ ہندوستانی قومیت کی تائید میں سرگرم ہوتے ہیں۔ میرا جی کی شاعری اور تراجم کی حقیقی جہت کو حمایت و مخالفت کے محاورے میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ ثقافتی فضا جب متصادم بیانیوں سے بوجھل ہو تو اکثر لکھنے والے، کسی ایک بیانیے کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت کا انداز اپناتے ہیں، مگر کچھ سعید روحیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو تصادم اور ایک دوسرے کی نفی کرنے والی فضا سے باہر، مگر اس کے متوازی ایک نئی فضا قائم کرتی ہیں۔ میرا جی انھیں میں شامل ہیں۔ میرا جی کے تراجم کی فضا کثیرالثقافتی پس منظر اور ہمہ دیسی زاویۂ نظر سے عبارت ہے۔ یہ قومیت پرستی کے متوازی ’ایک اور دنیا ہے‘: یہی اس دنیا کی معنویت ہے۔ یہ دنیا مختلف زمانوں، مختلف تخیلات اور مختلف اسالیب اور اکثر تضادات کی دنیا ہے جسے اگر کسی شے نے باہم باندھ رکھا ہے تو وہ ادبیت کا دھاگا ہے ؛ایک ایسی ’روح جمال‘ جو مختلف زمانوں میں مختلف رنگوں انگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں ازمنہ وسطیٰ کے یورپ کے جہاں گرد طلبا کے گیت بھی ہیں جو علم کی تلاش میں یورپ کی مختلف یونی ورسٹیوں کی خاک چھانتے پھرتے تھے اور ’بغیر دولت کے، بغیر فکر وتردد کے، بے پروا عشرت پسند، وہ ایک آزاد زندگی بسر کرتے تھے اور منطق و دینیات کے کسی مسئلے پر بحث کرنے کی بجائے، شراب و شعر و نغمہ اور عورت ان کے دل پسند موضوعِ ِسخن ہوا کرتے تھے۔‘ یہاں بیسویں صدی کا پشکن جیسا شاعر بھی ہے جو کسی بڑے شاعر کو نہیں، اپنی انا کو اپنا سب سے بڑا معلم سمجھتا تھا اور جو نہ باغی تھا، نہ مصلح، نہ آزاد خیال اور نہ قدامت پسند۔ وہ بس ایک جمہوریت پسند انسان تھا۔(وہ بھی میرا جی کی طرح سینتیس برس اور چند ماہ جیا)۔ اسی طرح فرانس کے پندرھویں صدی کے فرانساں ولاں اور انیسویں صدی کے بادلیئر جیسے آوارہ شاعر بھی ہیں۔ ولاں کی شخصیت اور شاعری اجتماع ضدین تھی اور بادلیئربھی کچھ ایسا تھا: اسے بس ایک آرزو تھی، کسبِ کمال کی؛بقول میرا جی ’وہ ایک گناہ گار ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک قاضی کی ہے؛وہ ایک معلم اخلاق ہے لیکن اسے بدی کی خوش کن کیفیات کا ایک گہرا، تیز اور شدید احساس ہے‘۔ نیز انیسویں صدی کا ملارمے بھی ہے جو مشکل پسند ہے مگر جس کے کلام سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ خالص شاعری کیا ہے۔ یہیں پانچویں صدی قبل مسیح کا سنسکرت شاعر امارو بھی ہے جس نے سنسکرت ادب میں پہلی بار اس حقیقت کو منوایا کہ صرف محبت ہی کو شاعری کا بنیادی موضوع بنا کرگونا گوں نغمے چھیڑے جا سکتے ہیں اور یہیں پندرھویں صدی کا بنگالی شاعر چنڈی داس بھی ہے، جو ایک برہمن تھا، مگر رامی دھوبن کے عشق میںگرفتار ہو کرذات باہر اور وطن باہر ہوا، نیز جس کا عقیدہ تھا کہ جنسی محبت ہی سے خدا کی طرف دھیان لگایا جا سکتا ہے۔ یہیں چھٹی صدی قبل مسیح کے یونان کی سیفو بھی ہے جس کے متعلق افلاطون نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ سروشِ غیبی نو ہیں، مگر وہ بھولتے ہیں، لیسبوس کی سیفو بھی ہے جو دسواں سروشِ ِغیبی ہے۔ اصل یہ ہے کہ میرا جی ان متضاد، متنوع خصوصیات کے حامل شعرا کے ترجموں سے یہ باور کراتے ہیں کہ ہر شاعرانہ آواز اور ہر انسانی جذبے کو اظہار کی آزادی ہے۔ اظہار کی اس آزادی کا مفہوم اپنی اس معاصر شاعری کے سیاق میں پُرنور ہو کر سامنے آتا ہے جو قومی، اخلاقی، سیاسی جذبات سے سرشار تھی۔ بغاوت، اصلاح، آزادی کے بڑے خواب دکھانے کو اپنا ایمان بنائے ہوئے تھی۔ میرا جی بڑے، عظیم الشان خوابوں میں نہیں چھوٹے چھوٹے ان انسانی خوابوں میں یقین رکھتے ہیں جن سے مختلف زمانوں اور ثقافتوں کے لوگوں نے اپنی روح کے چراغ جلائے اور جن کی لو آج بھی ہمیں اپنے اندر اترتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ شاعری کی لا زمانی شعریت ؍ادبیت پر اصرار کا رویہ تھا۔ دیکھیے میرا جی کس قسم کی نظمیں بذریعہ ترجمہ سامنے لاتے ہیں؛</p> <blockquote> <verse> مست عشرت کا کوئی مول نہیں میرے قریں نفس کی بہجت مستانہ، غضب، سر جوشی ان کی قیمت ہی نہیں بازوئوں میں مرے اک سانپ کی مانند کوئی جسم حسیں </verse> <p>(سنجوگ، پشکن)</p> <p>وہ ایک مہرِ آبنوسی ہے، ایک نجمِ سیاہ اور اس کے باوجود نورو مسرت کی کرنیں اس میں سے پھوٹ رہی ہیں۔ بلکہ وہ ایک ایسے چاند کی طرح ہے جس نے اسے اپنا لیا ہے۔ وہ چاند، گیتوں کا دھندلا، پژمردہ ستارہ نہیںجو کسی کٹھور دلھن کی طرح ہو، بلکہ وحشی، سرگرداںاور مدہوش چاندجو کسی طوفانی رات کے آسمان میں ہو۔ وہ سیمیں سیارہ نہیں جو لوگوں کے مطمئن خوابوں میں مسکراتا ہو، بلکہ ایک سانولی غضب ناک دیوی جسے جادو کے اثر سے آسمانوں سے نکال دیا گیا ہو، جسے ساحروں نے ڈری ہوئی دھرتی پر پرانے زمانوں سے آج تک ناچنے پر مجبور رکھا ہو </p> <p>(سانولا گیت، چارلس بادلیئر)</p> <verse> وہ سامنے دورپہاڑی ہے اور اس پر کہرا چھایا ہے اور بہتی ہوائوں نے اپنے ہونٹوں پر قفل لگایا ہے یہ کہرا دھندلا دھندلا ہے ذرے ذرے میں سمایا ہے ان مٹ ہے لافانی، جیسے لوہے سے کسی نے بنایا ہے یہ کہرا ایک اشارہ ہے پیڑوں کے سروں سے چھلکا ہے بھیدوں کے بھید نہاں اس میں، یہ تو بھیدوں کا دھندلکا ہے </verse> <p>(مرے ہوئے کی روحیں، ایڈگر ایلن پو)</p> <verse> اے دریا میں نے تجھے منبع پر بھی دیکھا ہے ایک بچہ بھی تجھے پھلانگ سکتا ہے پھولوں کی ٹہنی سے بھی تیرا راستہ بدلا جا سکتا ہے لیکن اب تو ایک پھیلا ہو اطوفان ہے اور اچھی سے اچھی کشتی کو بھنور میں گھیر سکتا ہے افسوس، دیا متی!دیا متی کی محبت! </verse> <p>(مرد، امارو)</p> <verse> وہ مرچکی ہے، لیکن پھول اب بھی مسکراتے ہیں اے موت! اس لڑکی کو حاصل کرنے کے بعد تجھے مارنے کی فرصت کیسے ملتی ہے؟ </verse> <p>(مرد، امارو)</p> <verse> کان میں آئی تان سریلی، ایک پپیہا بول اٹھا میرے من کی بات ہی کیا ہے، سارا بن ہی ڈول اٹھا میں نے جان لیا ہے پنچھی!دکھ کی تیری کہانی ہے تیرے منھ پر بس لے دے کے اک پی پی کی بانی ہے </verse> <p>(آمدِ ِبہار، ہائنے)</p> </blockquote> <p>میرا جی نے طامس مور کی نظموں کے ترجمے کرتے ہوئے، ان پر جو نوٹ لکھا ہے، وہ ہماری معروضات کی مزید تصدیق کرتا ہے۔ بر سبیلِ تذکرہ، میرا جی سے پہلے طامس مور کی کچھ نظموں کے تراجم ہو چکے تھے۔ مخزن کے نومبر ۱۹۰۹ئ کے شمارے میں عزیز لکھنوی نے ’ٹی کا جواں چاند‘ کے عنوان سے اور مخزن ہی کے فروری ۱۹۱۰ئ کے شمارے میں نادر کا کوری نے ’گزرے زمانے کی یاد‘ کے عنوان سے مور کی ایک میلوڈی کا ترجمہ کیا۔ کاکوروی کا ترجمہ مغربی نظموں کے چند عمدہ اردو تراجم میں سے ایک ہے۔ شاید اسی لیے میرا جی نے اسے دوبارہ ترجمہ کرنے کے بجائے مور پر اپنے مضمون میں شامل کر لیا۔</p> <p>میرا جی نے طامس مور (۱۷۷۹ئ-۱۸۵۲ئ) کو ’مغرب کا ایک مشرقی شاعر‘ قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں میرا جی نے ہندوستان اور آئرستان کی بعض مماثلتیں واضح کی ہیں، مگر ایک دوسری اور بڑی وجہ ہے جس کی طرف میرا جی نے توجہ دلائی ہے۔ یہ کہ طامس مور نے لالہ رخ (۱۸۱۷ئ) کے نام سے ایک مثنوی لکھی، جواگرچہ ایک امریکی پبلشر کی فرمائش پر لکھی گئی مگر مشرق سے کسبِ ِفیضان کے اسی جذبے کے تحت لکھی گئی جو نشاۃ ثانیہ سے انیسویں صدی تک مغرب کے دل میںموجزن رہا ہے۔ میرا جی کی ہمہ دیسیت کو سمجھنے کے لیے طامس مور کی مثال کافی اہم ہے۔ طامس مورنے لالہ رخمیں اورنگ زیب عالم گیر کی بیٹی اور باختر کے نوجوان شاہ کی شادی کا شعری بیانیہ لکھا ہے جس میں اہم واقعہ لالہ رخ کا ایک شاعر فرامرز کی محبت میں گرفتار ہونا ہے۔ یاد کیجیے: ۱۹۳۰ئ کی دہائی میں مشرق پر مغرب کے سیاسی، علمی، تہذیبی غلبے نے دونوں میں کش مکش کی کیا صورت پیدا کر دی تھی؟ اسی کش مکش سے مشرق کے دل میں اپنی عظمتِ رفتہ کی مدح خوانی کا جوش پیدا ہوا تھا (جو اب تک ٹھندا نہیں پڑا)۔ استعماری مغرب کے تصور سے پیدا ہونے والے نفسیاتی دبائو سے آزاد ہونے کی یہ ایک معروف صورت تھی کہ مغرب پر مشرق کے علمی و تہذیبی احسانات کا ذکر کیا جائے۔ میرا جی لالہ رخ کو مشرق کی عظمتِ رفتہ کا قصیدہ لکھنے کا بہانہ نہیں بناتے؛اسے بس ایک تاریخی صداقت کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ اصل میںوہ اس سارے سلسلے کو اپنی ہمہ دیسی فکر کی روشنی میں دیکھتے ہیں:یعنی تمام دیس ایک دوسرے سے فیض اٹھاتے ہیں اور ہر دیس میں دوسرے دیس کو کچھ نیا دینے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ دیکھیے وہ طامس مور کے شاعرانہ امتیاز سے متعلق کیا لکھتے ہیں:</p> <blockquote> <p>مور کی پیدائش اس وقت ہوئی جب آئرستان میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو رہا تھا اور حُب الوطنی کا جوش رگوں میں جاری تھا، لیکن اس سلسلے میں اس نے کبھی عملی حصہ لے کر اپنی زندگی کی عام روش اور بہائو میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ مور فطری طور پر محض ایک شاعر تھاکوئی پیغام بر یا باغی نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی انتخاب کا موقع آیااس نے انقلاب پسندی پر میانہ روی کو ترجیح دی، لیکن قومی حیثیت سے آئرستان کے لیے اس کے دل میں تخیل پرستی کا ایک احساس ضرور تھا۔ وہ اپنے ملک میں خوش حالی اور آزادی کا خواہاں تھا۔</p> </blockquote> <p>یوں لگتا ہے جیسے میرا جی نے مور میں خود کو دریافت کیا ہے۔ ٹھیک یہی بات ہم میرا جی کی شاعری اور تراجم کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔ میرا جی محض ایک شاعر ہیں، پیغام بر یا باغی نہیں۔ میرا جی کے زمانے میں پیغام بر اور باغی دونوں قسم کے شاعر موجود تھے، مگر میرا جی نے ان کا نہیں، ایک اپنا راستہ اختیار کیا۔ یہ ایک شاعرِ محض کا راستہ تھا۔ ان کے پاس دنیا کو سمجھنے کا ذریعہ شاعری تھی۔ انھوں نے جتنے شعرا کے ترجمے کیے، وہ انقلابی یا باغی نہیں، مگر اپنے زمانے کی صورتِ حال کا شاعرانہ ادراک رکھتے ہیں۔ اسی طرح میرا جی کے یہاں بھی ہندوستان کا ایک تخیل موجود تھا۔ چوں کہ یہ ایک ایسے شاعر کا تخیل تھا جوگھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے لیے سرگرداں تھا، اس لیے یہ تخیل ہندوستان کی عظمتِ رفتہ کی یادوں کا جشن نہیں مناتا تھا۔ ہمارے یہاں جن شعرا نے عظمتِ رفتہ کا قصیدہ لکھا، انھوں نے مغرب اور معاصر صورتِ حال پر بس چوٹیں کی ہیں۔ میرا جی کا قدیم ہندوستان کے ادب کی طرف وہی رویہ ہے جو مغرب کے شعرا کی طرف ہے اور اس سب کو وہ معاصر صورتِ ِحال میں بامعنی بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ میرا جی کے تراجم اور شاعری تفریق و تقسیم کو معنی کی تخلیق کا ذریعہ نہیں بناتے، مماثلت و قربت کے ذریعے معنی وجود میں لاتے ہیں۔ یہ عمل اردو میں انگریزی شاعری کے ترجمے کی روایت کا آغاز کرنے والوں کی فکر سے کھلا انحراف تھا۔</p> <p>میرا جی نے ترجمے کے ذریعے اس ثقافتی فضا میں ’خاموش مگر خاصی مؤثرمداخلت‘ کی جو کئی متصادم نظریات اور بیانیوں سے بوجھل تھی۔ اس کی اہم مثال نگار خانہ ہے۔</p> <p>پہلے اس کتاب سے متعلق کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے۔</p> <p>ڈاکٹر رشید امجد نے لکھا ہے کہ ”یہ طویل نظم دوسری بہت سی مشرقی کہانیوں کے ساتھ ایک انگریزی انتھالوجی <annotation lang="en">(Romances of the East)</annotation> میں شامل تھی (اس پر مرتب کا نام درج نہیں تھا)۔ ”انھوں نے اشفاق احمد کے ۲۸ نومبر ۱۹۹۰ئ کو اپنے نام لکھے گئے ایک خط کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں نگار خانہ کو ایک نامکمل کتاب کہا گیا ہے۔ نیز یہ خبر بھی دی گئی ہے کہ اس کا دوسرا حصہ میرا جی نے ترجمہ کر دیا تھا جسے اشفاق احمدنے محفوظ کر لیا تھا۔ ان دونوں باتوں کے سلسلے میں عرض ہے کہ میرا جی نے نگار خانہ کا ترجمہ مشرق کے رومان نامی انگریزی کتاب سے نہیں، بلکہ ایک دوسری کتاب سے کیا تھا۔ اس کتاب کا پورا نام یہ ہے:</p> <blockquote> <p><annotation lang="en">Eastern Love, Vol 1 ٴ&amp; 2 The Lessons of a Bawd and Harlot's Breviary English Versions of the KUTTNIMATAM of Damodargupta and SAMAYAMATRIKA of Kshemendra</annotation></p> </blockquote> <p>یہ کتاب پہلی بار لندن سے ۱۹۲۷ئ میں جون روڈکر کے زیر اہتمام شائع ہوئی تھی۔ <annotation lang="en">E. Powys Mathers</annotation> (۱۸۹۲ئ-۱۹۳۹ئ) نے اسے ترجمہ کیا تھا (جس کی کچھ تفصیل مبشر احمد میر نے جدید ادب کے میرا جی نمبر میں دی ہے)۔ نگار خانہ کی ماخذ کتاب کو دیکھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ میرا جی نے دمودر گپت کی کٹنی متم کا تقریباًمکمل ترجمہ کیا۔ ای پی ماتھرس کا ترجمہ دس ابواب اور ۹۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ میرا جی نے چوتھے باب کا ترجمہ نہیں کیا جو ماتھرس کی کتاب میں <annotation lang="en">Preludes</annotation> کے نام سے شامل ہے۔ تاہم باقی نو ابواب کا مکمل ترجمہ کیا ہے۔ اشفاق احمد نگار خانہ کے جس دوسرے حصے کی خبر دیتے ہیں، وہ اگر موجود تھا تو وہ کشمندر کی کتاب کا ترجمہ ہے جو ای پی ماتھرس کی مذکورہ بالا کتاب کی دوسری جلد ہے۔ چوں کہ کشمندر کی سمیام ترک کا موضوع بھی کنچنیوں کی روزمرہ زندگی کی تعلیم سے متعلق ہے، اس لیے اشفاق احمد کو غلط فہمی ہوئی کہ یہ دمودر گپت کی کتاب کا دوسرا حصہ ہے۔</p> <p>اسی ضمن میں ایک دلچسپ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ای پی ماتھرس نے دمودر گپت اور کشمندر کی کتابوں کے تراجم سنسکرت سے نہیں، لوئی لا نگلے <annotation lang="en">(Louis de Langle)</annotation> کے فرانسیسی ترجمے سے کیے۔ لہٰذا میرا جی کا ترجمہ اصل کتاب سے ’دودرجے دور‘ ہے۔</p> <p>میرا جی کے ترجمے پر گفتگو سے پہلے، ماتھرس کے پیش لفظ سے کچھ حصوںکو پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ حصے ہمیں ایک طرف کٹنی متم کے بارے میں کچھ اہم باتوں سے آگاہ کرتے ہیں اور دوسری طرف مشرقی ادب کی طرف یورپی ذہنی رویے کی خبر بھی دیتے ہیں۔</p> <blockquote> <p>دونوں میں سے] کوئی مصنف طرف داری نہیں کرتا، نہ ہی کوئی نظم پوری طرح نصیحت آموز یا طنزیہ ہے۔ دونوں نظموں کو ایک کھیل کا راہنما کتابچہ سمجھا جا سکتا ہے جس میں اصولوں کو امیر نوجوانوں اور بیسوائوں کے لیے تحریری طور پر واضح کر دیا جاتا ہے اور جس میں بہتر کھلاڑی کو جیت کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔۔۔۔[ہندوستان میں، جب یہ کتابیں تصنیف ہوئیں]بیسوائیںہمدردانہ تعظیم پاتی تھیں اور انھیں شہر کی شان اور زینت سمجھا جاتا تھا۔ وہ تمام عوامی میلوں ٹھیلوں، مذہبی جلوسوں، گھڑ دوڑوں، مرغ، بٹیر اور دنبوں کی لڑائیوں کے مقابلوںمیں دیکھی جاتی تھیں اور ہر تھیٹر کے ناظرین میں نمایاں ہوتی تھیں۔ بادشاہ ان پر مہربان ہوتے اور ان سے مشورہ کرتے تھے۔ ہم ان سے ڈراموں اور عشقیہ قصوں کی ہیروئنوں کے طور پر واقف ہیں۔۔۔۔ جاتک میں ہم پڑھتے ہیں کہ انھیں ایک رات کے لیے ہزراوں سونے کے ٹکڑے دے دیے گئے اور ترنگ کی کتھا میں ایک بیسوا نے ایک گھنٹے کے لیے پانچ سو ہاتھی طلب کیے۔ بعد کی کتابوں میں ایک طوائف کو اس قدر دولت مند دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک معزول بادشاہ کی بحالی کے لیے ایک پورا لشکرخرید سکتی ہے۔ ان نوازشاتِ بے جا کی تہہ میں چھپی حقیقت کو سمجھنا مشکل نہیں۔[ہندوستان کی عورتوں میں] ایک طرف مجبور اور کثیر الاعیال عورتیں شامل ہیںجو گھراور نسل کی خدمت پر مامور ہیں اور دوسری طرف وہ عورتیں ہیںجو آزاد ہیں اور اپنے حسن کو قائم رکھنے کے لیے بے اولاد رہنے کا عہد کیے ہوئے ہیں۔ عورتوں کی یہ طبقاتی تقسیم، جس میں دوسرے سماجی گروہ بھی شامل ہیں، ہند میں، برہمنی اقتدار اور ذات پات کے نظام کی وجہ سے بہت گہری ہے۔ ”کٹنی کے پاٹھ“ اس وقت لکھی گئی، جب بیوی کی حالت اور ادھیکار براے نام رہ گیا تھا۔ وہ ناخواندہ تھی اور آزادنہ سوچ سے واقف نہیں تھی۔ وہ کم عمری ہی میں اپنی ماں کے اختیار سے ساس کے اختیار میں چلی جاتی تھی۔ اس کے شوہر پرد وسروں کا بھی حق ہوتا اور وہ اس کے ساتھ ذہنی رفاقت نہیں رکھتی تھی۔ اسے فقط گمان کی بنیاد پر پرے کر دیا جاتا اور اگر بے اولاد رہتی تو نفرت کا نشانہ بنتی۔ اگر وہ بیوہ ہو جاتی تو اپنی بیوگی میں زندہ رہنے جوگی نہ ہوتی۔ بلاشبہ بیوی کی اس حیثیت کا سب سے زیادہ فائدہ بیسوا اٹھاتی۔ بیسوا کی آزادی کی حفاظت قانون کرتا اور وہ تسلیم و انکار کی مجاز تھی۔ اسے صرف دولت ہی سے زیر کیا جاسکتا تھا اور وہ واحد ایسی مخلوق تھی جومردوں کی رقابت کا بھی فائدہ اٹھاتی۔ اس کے بنائو ٹھنائو کا ایک جز اس کی مکمل تعلیم تھی اور اس کی تعلیم نہ صرف موہ لینے والی ہوتی بلکہ اس کا تحفظ بھی کیا جاتا۔</p> <p>اس طرح جیس