text
stringlengths
240
131k
دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو بھی ضرب عضب کے نشانہ پر رکھا جائے، علامہ ساجد نقوی - شیعت نیوز نیٹ ورک دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو بھی ضرب عضب کے نشانہ پر رکھا جائے، علامہ ساجد نقوی شیعت نیوز (اسلام آباد) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کوئٹہ علی آباد ہزارہ ٹاؤن اور کوہاٹ میں دہشتگردانہ دھماکے میں خواتین، بچوں سمیت 11 افراد کی شہادت جبکہ 25 مومنین کے زخمی ہونے پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ ٹاؤن چاروں اطراف سے ایف سی بلوچستان کے حصار میں تھا، علاقے میں اتنی بھاری سکیورٹی ہونے کے باوجود دہشتگردی کے اس واقعے کا رونما ہونا، ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر پچھلے سانحات کی تحقیقات کرکے رپورٹ کو منظر عام پر لایا جاتا اور خونی دہشتگردوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا آج ملک بھی میں اس قسم کے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن افسوس سے دیکھ رہے ہیں کہ انتظامیہ دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی جگہ دباو میں آکر قاتلوں کو رہا کر کے مقتولین پر ہی ہاتھ ڈال رہی ہے جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی اور ناانصافی ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ملک کی داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ سزائے موت کے قانون جاری کرکے دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے اس لئے کہ گذشتہ کافی عرصے سے سزائے موت پر عملدرآمد کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے قاتلوں اور دہشت گردوں کو شہہ مل رہی ہے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو بھی ضرب عضب کے نشانہ پر رکھا جائے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کا ہم سختی سے نوٹس لے رہے ہیں کہ سزائے موت کیوں نہیں دی جارہی، ٹارگٹ کلنگ مسلسل جاری ہے لوگ مارے جارہے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کرکے ان خاتمہ کیا جانا چاہیئے، آخر میں سربراہ ایس یو سی نے شہداء کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے ورثا اور لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔ agencies Ahmadinejad Allama ALlama Sajid Naqvi Ambassador arif hussaini arrested attacks azb babulilm babulilm library Bahrain Balochistan blast bomb celebrated death declared Eid alAdha enemy Families FC flooding gaza Hazara Town Hezbollah High Courts Holy Land horrors Hussain injured involved Iran Iran News Iraq ismael israel Jafariya News Jafariyanews jaffaria Jafferia jafferia news jafferya justice Karachi khabarnama khabrain khamenei killers killings lebonan martyr martyrdom Martyred Middle East millat multiplied murderer MWM nasebi nasrallah News Pakistan Pakistan News pakshia palestine parachanar parachinar protest quaid Quetta rehbar Saudi Arab shia killing shia news Shia Ulema Council shiakilling shiapost Shiite shiite news shiitenews Solidarity Syria Tehran terror terrorists Tragedy US victims wahabi wilaya wilayat Yemen
کے پی حکومت کا ضم شدہ علاقوں میں بلاسود قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ - ڈیلی منافع صفحہ اول تازہ ترین کے پی حکومت کا ضم شدہ علاقوں میں بلاسود قرضے فراہم کرنے... کے پی حکومت کا ضم شدہ علاقوں میں بلاسود قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ پشاور: خیبرپختونخوا حکومت اور اخوت فاﺅنڈیشن کے مابین ضم شدہ اضلاع میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور کاٹیج انڈسٹری کے فروغ کے سلسلے میں بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے مائیکرو فنانس اسکیم کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ بلاسود مائیکرو فنانس اسکیم ایک ارب روپے کے گردشی فنڈ پر مشتمل ہو گی جس کے تحت ضم اضلاع کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کو 75 ہزار روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ اسکیم کے تحت خواتین کیلئے 25 فیصد، خصوصی افراد کیلئے پانچ فیصد اور خواجہ سراﺅں کیلئے دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں ایک مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم، سیکرٹری صنعت جاوید مروت، سی ای او اخوت فاﺅنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب اور دیگر متعلقہ حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ محکمہ صنعت خیبرپختونخوا اور اخوت فاﺅنڈیشن کے متعلقہ حکام نے معاہدے پر دستخط کئے۔ بلاسود قرضوں کی یہ اسکیم اخوت اسلامک مائیکرو فنانس کے ذریعے شروع کی جا رہی ہے جو پہلے سے ضم اضلاع میں پانچ سو ملین روپے کی لاگت سے بلاسود قرضوں کی ایک اسکیم چلا رہی ہے۔ اس طرح یہ دوسری اہم اسکیم ہے جو ضم شدہ اضلاع میں اخوت کے ذریعے شروع کی جا رہی ہے، اسکیم کے تحت اگلے 13 سال کے عرصہ میں ضم اضلاع کے تقریباََ دو لاکھ 19 ہزار افراد مستفید ہوں گے اور یہ قرضے میرٹ کی بنیاد پر دئیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ اسکیم کو ضم شدہ اضلاع میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ اور عوام کی معاشی خوشحالی کے لئے صوبائی حکومت کا ایک اور اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمال اینڈ میڈیم انٹر پرینورشپ اور کاٹیج انڈسٹری قومی معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ شعبہ ماضی میں یکسر نظر انداز کیا گیا تاہم صوبائی حکومت اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے معاشی ترقی اور روزگار کی تخلیق کے عنوان سے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت مذکورہ مقصد کے لئے چار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیراعلی نے ضم اضلاع کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے لوگوں خصوصا نوجوانوں کو معاشی لحاظ سے ان کے پاں پر کھڑا کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام نے ماضی میں بہت بڑا نقصان اٹھایا ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت قبائلی عوام کی ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کرنے اور انہیں فوری ریلیف کی فراہمی کے لئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔
وزارت خزانہ کا پیٹرول اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ | Urdu News – اردو نیوز وزیر تجارت کا عازمین حج کو فراہم سہولتوں کا جائزہ جمعرات 26 مئی 2022 7:47 پریس ریلیز کے مطابق 'حکومت 2023 میں بجٹ خسارے کو کم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔' (فوٹو: اے ایف پی) پاکستان کی وزارت خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جمعرات کو فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پیٹرول، بجلی اور دیگر معاملات میں سبسڈی دینے سے کرنٹ اور فسکل اکاؤنٹ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ 'اس ملاقات میں کرنٹ اور فسکل اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایم ایف ٹیم نے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی کو ختم کرنے پر زور دیا جو گذشتہ حکومت نے دی تھی۔' پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کم کرنے کے لیے تیار ہیں: وزیر خزانہ Node ID: 663736 'پٹرول پر سبسڈی ختم نہ بھی ہو تو مہنگائی سے بچنا مشکل' Node ID: 668761 Node ID: 671796 پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ 'حکومت 2023 میں بجٹ خسارے کو کم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔' اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کے تمام شہریوں کے فائدے کے لیے معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب مفتاح اسماعیل نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ 'آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد دوحہ سے واپس آیا ہوں۔ ہمارے وفد نے گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ بہت مفید اور تعمیری بات چیت کی۔' The IMF team emphasised the importance of rolling back fuel & power subsidies, which were given by the previous administration in contravention of its own agreement with the Fund. Govt is committed to reviving the IMF programme & put Pakistan back on a sustainable growth path./ انہوں نے لکھا کہ 'ہم نے مالی سال 23 کے اہداف پر تبادلہ خیال کیا جس کے لیے بلند افراط زر، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بڑے خسارے کی روشنی میں ہمیں ایک سخت مالیاتی پالیسی اور اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح حکومت مالی سال 23 میں بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مفتاح اسماعیل کے بقول 'آئی ایم ایف کی ٹیم نے ایندھن اور بجلی کی سبسڈی کو واپس لینے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے اور پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔' مفتاح اسماعیل کی ٹویٹ پر ردعمل دینے والے متعدد صارفین نے خدشہ ظاہر کیا اب حکومت بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دے گی نتیجتا ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، جو پہلے سے مشکلات کا شکار عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کرے گا۔ منظر الہی ترک نے لکھا کہ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس سے مہنگائی بڑھے گی اور صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو گا نتیجتا برآمدات بھی کم ہو جائیں گی۔ حکومت مخالف ٹویپس نے مفتاح اسماعیل کو ان کی ماضی کی ٹویٹس کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ آپ پی ٹی آئی حکومت پر فیول پرائس میں اضافہ پر تنقید کرتے تھے، اب خود آئی ایم ایف کے کہنے پر یہ کام کرنا کیسے ٹھیک ہو گا۔ کچھ صارفین نے انہیں تجویز دی کہ پیٹرول و بجلی پر سبسڈی کا فوری خاتمہ کریں تاکہ ملکی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ سکے۔ گفتگو میں شریک کئی افراد نے وزیر خزانہ کو سبسڈی کے بجائے دیگر ذرائع اپنا کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی تجویز بھی دی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف نے پاکستان سے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے بجلی اور پیڑولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ ٹیم نے پروگرام کے اہداف کے حصول کے لیے ایندھن اور بجلی کی سبسڈیز اور مالی سال 2023-2022 کے بجٹ سمیت پالیسی ایکشن کی ہنگامی ضرورت پر زور دیا۔
حضرت آدم علیہ السلام ، سیدنا علی اور صحابہ اکرام رض کی شان میں بدترین گستاخی (شیعہ ذاکر ناصر عباس) - Sunni Library جولائ 12, 2020 July 12, 2020 0 تبصرے 3550 مناظر اللہ پاک نے فرشتوں اور ابلیس کوحکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں۔ قرآن میں یہ واقعہ مختلف مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم قرآن سے اس واقعہ کو سمجھیں پہلے شیعہ ذاکرناصر عباس کی طرف سے غلو محبت علی میں حضرت آدم کی توہین دکھاتے ہیں پھر یہ بھی بیان کیا کرتے ہیں کہ جس بنیاد پر سیدنا علی کی شان بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ بنیاد ہی غلط ہے کیونکہ اس بنا پر تو سیدنا علی بھی حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنے پر مردود و ملعون ہوجاتے ہیں!! معاذاللہ ثم معاذاللہ اس شیعہ ذاکر کی بکواسات کو سنیں قرآن میں حضرت آدم اور ابلیس کا قصہ ١۔ اللہ تعالی نے فرمایا: وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (11) قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (12) الاعراف: ١١ – ١٢ اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے ہی تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہاکہ آدم کو سجدہ کرو، سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے، وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ حق تعالی نے فرمایا: تو جو سجدہ نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے، جب کہ میں تجھ کو حکم دے چکا، کہنے لگا: میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (29) فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (30) إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى أَنْ يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (31) قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (32) قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (33) الحجر: ٢٨ – ٣٣ اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، تو جب میں اسے پورا بناچکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لئے سجدہ میں گرپڑنا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کرلیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟ وہ بولا کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجدہ کروں جسے تونے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا (61) قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا (62) الاسراء: ٦١ – ٦٢ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے اپنے بس میں کرلوں گا۔ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ (71) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (72) فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (73) إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (74) قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ (75) قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (76) ص: ٧١ – ٧٦ جب آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں۔ سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) اس نے تکبر کیا اور وہ تھا کافروں میں سے۔ (اﷲتعالی نے) فرمایا: اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔ شیعہ ذاکر نے اس کلپ میں نہ صرف حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کی ہے بلکہ قرآن کی معنی تبدیل کر کے سیدنا علی کی بھی گستاخی کردی ہے۔ قرآن میں کہیں بھی یہ بیان نہیں ہوا کہ اللہ عزوجل نے سیدنا علی کو بھی سجدے کا حکم دیا تھا!! سب سے اہم بات اگر اس جاہل ملعون شیعہ کی بات درست بھی مان لی جائے تو اس سے سیدنا علی پر بھی الزام آتا ہے کہ باوجود حکم الہی کے سیدنا علی منکر خدا بن گئے اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا!! اب ان جاہل شیعوں سے کون پوچھے کہ جس حکم عدولی پر ابلیس ملعون راندہ بارگاہ الہی ہوگیا ، من و عن اسی حکم عدولی پر سیدنا علی کی فضیلت کیسے ہوگئی جسے یہ ذاکر عباس اچھل اچھل کر بیان کر رہا ہے اور نیچے بیٹھے ہوئے اندھے، گونگے اور بہرے لوگ بغیر سوچے سمجھے واہ واہ بھی کر رہے ہیں!!
مرکزی صفحہ/ کالم/کافر مچھلیاں اور بابا نانک کا کنواں / مستنصر حسین تارڑ کرتار پور کی جانب سفر کرتے ہم نارووال سے کچھ فاصلے پر واقع جسڑ کے مقام پر شاہراہ سے جدا ہو کر دریائے راوی تک پہنچے تھے' صرف وہ پل دیکھنے کی خاطر جو کئی سو برس پرانا تھا اور بتایا گیا کہ یہ صرف ایک پل نہیں' ڈبل پل ہے یعنی دو منزلہ ہے۔ اوپر کی منزل سے ٹریفک گزرتی ہے اور نچلی منزل پر ٹرین جھک جھک کرتی کبھی ڈیرہ بابا نانک جایا کرتی تھی لیکن ہم قدرے مایوس ہوئے کہ اتنی مصیبت سے یہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ پل غالباً 71ء کی جنگ کے دوران بموں سے اڑا دیا گیا تھا تاکہ ہندوستانی حضرات یونہی وہ پل پار کر کے ہماری گلی میں نہ آ نکلیں۔ یہ وہ راوی تو نہ تھا جسے کبھی پاروشنی اور کبھی ایراوتی کے نام سے یاد کیا گیا۔ دریا تو نہ تھا' ندی بھی نہ تھی کہ ندیاں تو تیز بہتی ہیں' کچھ پانی پھیلے ہوئے تھے جن میں سے آپ شلوار اڑس کرآسانی سے چلتے ہوئے پار جا سکتے تھے۔ البتہ ان پانیوں میں مچھلی بہت تھی۔ لائسنس یافتہ مچھیروں کے جال مچھلیوں کی کثرت سے تڑپتے تھے۔ تب ایک مچھیرے نے جال میں سے ایک مونچھوں والی کھگا مچھلی دبوچی اور کہنے لگا ''حضور یہ ابھی زندہ ہے'' اور مچھلی واقعی آنکھیں مٹکا رہی تھی۔ یہاں دریائے راوی کبھی بل کھاتا ہندوستان چلا جاتا اور کبھی وہاں سے بور ہو کر پاکستان پلٹ آتا ہے تو میں نے مچھیرے سے کہا ''بھائی جان یہ راوی تو ابھی ابھی ہندوستان سے واپس آ رہا ہے تو کیا یہ ایک ہندو مچھلی ہے؟ تو مچھیرے بھائی جان نے کہا' آئی تو ادھر سے ہے، پر پاکستان میں داخل ہوتے ہی مسلمان ہو گئی ہے۔ حلال ہے۔ یعنی ہندو مچھلی حرام ہے اور ہاں یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ہرا سمندر گوپی چندر والی ہری ہری مچھلیاں کسی مذہب کی پیروکار ہوتی ہیں۔ ویسے اگر ہری ہری تھیں' سبز تھیں تو ان کے مسلمان ہونے میں کچھ شک نہیں۔ اچھا اب میں آپ کو مچھلیوں کے بارے ایک نہایت نایاب خبر سنانا چاہتا ہوں اور ایسی خبریں صرف مجھ ایسے خبطی بابا جات کی گڈری میں ہی ہوتی ہیں۔ بہت مدت ہو گئی کہ میں اپنے بال بچوں کے ہمراہ کاغان گیا۔ ٹراؤٹ مچھلی کے شکار کے لیے نہ صرف پرمٹ حاصل کیا بلکہ ایک تجربہ کار شکاری بھی کرائے پر حاصل کیا۔ ناران سے کچھ دور سوچ کے مقام پر دریائے کنہار میں ہم اور شکاری کنڈیاں پھینکتے پھنیکتے نڈھال ہو گئے۔ بازو شل ہو گئے اور جب ہم مایوس ہو چکے تھے اور سورج ڈھل رہا تھا تو ہماری کنڈی میں پروئی ہوئی ایک سلور ٹراؤٹ آخری کرنوں کی زردی میں بھی۔ چاندی رنگ میں پھڑپھڑاتی تھی۔ ہم سب نے باری باری اس سلور ٹراؤٹ کے ساتھ نہایت پر فخر تصویریں اتروائیں۔ تصویروں کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا جیسے ہم نے صرف ایک نہیں کئی مچھلیاں شکار کرلی ہیں۔ جیسے پرانے زمانوں میں جب ایک شیر مار لیا جاتا تھا تو مرکزی شکاری کے علاوہ درجنوں حضرات ان کی کھال تھپکتے تصویریں اترواتے تھے اور یوں ایک سے درجنوں شیر ہو جاتے تھے اور ہاں یہ رائے ونڈ کے محلات کے دروازوں پر تعینات بھس بھرے شیر نہ ہوتے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ سیاست کے معاملات میں میری ترجیح صرف پاکستان ہے نہ زرداری، نیازی ہے اور نہ ہی میاں میاؤں ہے لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر دو میاں برادران اگر مکے لہرا رہے ہوں اور مریم بی بی روک سکو تو روک لو کی گردان کر رہی ہوں اور یکدم سچ مچ کا ایک شیر دھاڑنے لگے تو ان پر کیا گزرے گی۔ جیسے ایک بچے سے کہا گیا کہ ''پو پھٹنا'' کو محاورے میں استعمال کرو تو اس نے کچھ غور کیا اور کہنے لگا۔ ایک دیہاتی جنگل میں جارہا تھا تو یکدم ایک شیر اس کے سامنے آ گیا تو دیہاتی کی پو پھٹ گئی۔ میں کچھ بھٹک سا گیا ہوں' یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں نہیں بڑھاپے میں ہوں، تو جب وہ سلور ٹراؤٹ ہم نے شکار کرلی تو میں نے کرائے کے شکاری سے استفسار کیا کہ خان صاحب۔۔۔ اتنی خوبصورت شے کہو آپ دریا کی دنیا سے دبوچ کر مردہ کردیتے ہیں تو آپ کو ترس نہیں آتا؟ اور مجھے اب تک یاد ہے کہ اس شکاری خان صاحب نے نہایت سنجیدگی سے کہا تھا کہ صاحب یہ مچھلی کافر ہے اس کا شکار کرنے سے ثواب ہوتا ہے تو ظاہر ہے مجھے کچھ حیرت ہوئی کہ کیا مچھلیاں بھی مسلمان یا کافر ہوا کرتی ہیں تو وہ کہنے لگا' صاحب سب مچھلیاں مسلمان ہوتی ہیں اور ان میں سے جو بدبخت کافر ہو جاتی ہیں صرف وہی شکار ہو جاتی ہیں تو غم نہ کرو۔ اور یہ جو دریا ہوتے ہیں' دنیا بھر کے دریا ہوتے ہیں' وہ صرف تب نامور ہوتے ہیں جب وہ کسی قدیم شہر یا بستی کے کناروں کو سیراب کرتے ہیں تو راوی صرف لاہور سے لگ کر بہتا تھا تو جانا گیا۔ دریائے نیل قاہرہ کی قربت سے پہچانا گیا۔ گنگا کے پانی بنارس تک گمنام رہا آئے۔ دجلہ اور فرات' شہر بغداد کے مرہون منت ہیں۔ دریائے تھیمز کو لنڈن نے نامور کیا۔ دریائے والگا کو ماسکو نے گلے لگایا۔ البتہ ان سب میں صرف ایک دریا ہے جسے کسی بھی بستی یا شہر کی قربت کی حاجت ناموری کے لیے نہ ہوئی۔ بلکہ جن شہروں اور آبادیوں میں سے وہ گزرا' اس کے پانیوں نے ان کو سربلند کیا اور وہ دریائے سندھ ہے۔ جس دریا کے نام نے ایک پورے برصغیر کو اپنا نام دیا۔ انڈس سے انڈیا ہوا۔ ہم نے جسڑ کے مقام پر دھیرے سے سرکتے اجنبی راوی سے معذرت کی کہ یہاں تم اچھے نہیں لگتے۔ لاہور میں کامران کی بارہ دیواری کے ساتھ بہتے اچھے لگتے ہو۔ وہیں پھر ملیں گے ایک بریک کے بعد۔ اگرچہ لاہور سے جب آج سویر نکلے تو وہاں کا راوی بھی رواں نہ تھا۔ تھم تھم کر بہتا تھا کہ اس کے پانیوں میں شہر لاہور کی آلودگی اور گندگی گھنی ہو چکی تھی۔ راوی نہ تھا ایک غلاظت بھرا گندا نالا تھا۔ مجھے گمان ہوا کہ میری پیش گوئی شاید درست ثابت ہونے کو ہے۔ جیسے ''بہاؤ'' میں سرسوتی سوکھ گیا' ایسے ہی راوی بھی خشک ہورہا ہے اور آئندہ زمانوں میں لوگ ایک دریا کی خشک ہو چکی گزرگاہ کے کناروں پر کسی کھنڈر ہو چکے شہر کی مٹی کریدیں گے اور اس میں سے ٹھیکریاں برآمد ہوں گی اور کسی ایک ٹھیکری پر نقش ہوگا۔ لاہور' لاہور ہے۔ ہم راوی سے بچھڑ کر واپس شاہراہ پر آئے۔ کچھ مسافت اختیار کی اور کچھ دیر بعد دائیں ہاتھ پر ایک پیلے رنگ کا بورڈ آویزاں نظر آیا۔ اس بورڈ کے ماتھے پر گور مکھی میں کچھ درج تھا۔ دونوں جانب سکھ مذہب کے امتیازی نشان تھے۔ انگریزی میں بھی اعلان تھا اور اردو میں تحریر تھا۔ گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور صاحب 2.5 کلومیٹر۔ ایک بہت ہریاول بھری وسعت تھی' نہ کوئی گاؤں تھا نہ کسی آبادی کے آثار اور اس ہری ہری وسعت کے درمیان میں ایک سفید رنگ کی گیندوں اور محرابوں والی عمارت یوں ابھر رہی تھی جیسے وہ ان کھیتوں کی ہریاول کی بیٹی ہو۔ داخلے پر کچھ مناسب پچھ پڑتیت ہوئی کہ سکیورٹی کے معاملات تھے۔ ہم اس عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے تو بائیں جانب محفوظ کیا جا چکا ایک کنواں تھا۔ اس کے گرد محراب نما دیواریں تھیں۔ کنواں قید میں تھا اور یہ وہی کنواں تھا قدیم طرز کا جس کی ماہل پر کبھی کوزے پروئے ہوتے تھے' ٹنڈیں نصب ہوتی تھیں' بیل گیڑے لگاتے تھے تو کوزے ہولے ہولے نیچے اتر کر پانیوں میں غرق ہوتے تھے اور پھر لبریز ہو کر ابھرتے تھے اور کھیتوں کو سیراب کرتے تھے۔ یہ تو وہی میرے دادا امیر بخش کا کنواں تھا اور یہاں کہتے ہیں کہ یہ بابا گورونانک کا کنواں ہے۔ میں نے اس بے وجہ عطا کردہ نسبتاً طویل حیات میں اپنے دادا کے علاوہ اور بہت اور بے شمار کنویں دیکھے ہیں' سب کا تذکرہ کہاں ہوسکتا ہے' مختصراً اندلس کے ویرانوں میں عرب زمانوں کا ایک کنواں' قبا اور مدینے کے راستے میں غرص نام کا۔ قربان قربان وہ کنواں جہاں مسافت کے دوران قصویٰ کا سوار دم لیتا تھا۔ دو گھونٹ پانی پیتا تھا اور اکثر اس کی منڈیر پر بیٹھ کر اپنی ٹانگیں کنویں کے پانیوں سے خنک کرتا تھا۔ یہاں تک کہ روایت ہے کہ میرے رسولؐ نے رخصت ہوتے ہوئے وصیت کی تھی کہ مجھے غرص کے پانیوں سے غسل دیا جائے اور حضرت علیؓ کوزے بھر بھر کے اس کے پانیوں کے لیے لے گئے تھے اور پھر سلمان فارسیؓ کا کنواں تھا' جسے میں نہ دیکھا جو نابود ہونے کو تھا۔ اور سب سے اعلیٰ اور مسلمانوں کی پیاس بجھانے والا عثمان غنیؓ کا خرید کردہ وہ کنواں، جس پر آج ایک بھدی سی موٹر لگی ہوئی ہے اور جس کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ان میں پورن بھگت کے کنویں کو بھی شامل کرلیجئے جہاں آج بھی بے اولاد عورتیں حاضری دیتی ہیں اور اس کے پانیوں سے غسل کرتی ہیں کہ شاید پورن کی طفیل اولاد نصیب ہو جائے۔ ان سب کنوؤں میں ایک احساس مشترک ہوتا ہے۔ ان میں جھانکئے تو پاتال میں سے ایک مہک اٹھتی ہے۔ نسل انسانی سے ذات پات کی تخصیص کے بغیر محبت کی۔ ایک کائناتی سچائی اور وحدانیت کی۔ گورونانک کے اس کنویں کی گہرائیوں میں سے بھی وہی مہک اٹھتی تھی۔
کسی بھی ڈیوائس پر آن لائن ریڈیو سننے کا طریقہ | گیجٹ کی خبریں کسی بھی ڈیوائس پر آن لائن ریڈیو سننے کا طریقہ Ignacio سالا | | کھلاڑی, اسٹریمنگ فی الحال انٹرنیٹ پر ہر چیز یا تقریبا everything سب کچھ ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت ہم جو بھی گانا چاہتے ہیں ان کو سن سکتے ہیں ، اپنی پسندیدہ سیریز کا تازہ ترین قسط یا مووی کے جدید پریمیئر دیکھ سکتے ہیں۔ ہم روایتی پریس ، رسالوں اور تک بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں یہاں تک کہ زندگی بھر کے ریڈیو تک۔ کی آمد کے ساتھ موسیقی کی محرومی خدمات، ریڈیووں نے دیکھا کہ کیسے ان کا بنیادی کاروبار آہستہ آہستہ گر رہا ہے۔ لوگ اپنے پسندیدہ گانوں کو ، بغیر اشتہارات کے اور پیش کش کے بغیر سننا چاہتے ہیں parype ڈالنے سے پہلے ریڈیو سے وابستہ انٹرنیٹ کے ایک فوائد میں یہ ہے کہ اس سے ہمیں ہمارے کمپیوٹر سے اپنے پسندیدہ اسٹیشنوں کو سننے کی اجازت ملتی ہے ، بغیر ہمارے زندگی بھر کے ریڈیو ، ریڈیو جیسے استعمال ہوتے ہیں صرف وہ پکڑتے ہیں 40 یا ریڈیو 3۔ نیز ، جو لوگ خوش قسمت یا بدقسمتی سے بیرون ملک مقیم ہیں یا طویل عرصے تک گزارتے ہیں ، ان کے لئے بغیر اپنے ملک کی خبروں سے تازہ دم رہنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کا رخ کریں۔ ہمارے پسندیدہ اسٹیشنوں تک رسائی کا تیز ترین راستہ براہ راست ان کی ویب سائٹ کے ذریعے ہے۔ لیکن زندگی بھر کے اسٹیشنوں سے آگے زندگی ہے۔ انٹرنیٹ کا شکریہ ، ہم کر سکتے ہیں دوسرے علاقوں یا ممالک سے اسٹیشن تلاش کریں جو ہمارے ذوق ، ضروریات یا ترجیحات کے مطابق ہے۔ پہلے اسمارٹ فونز جو مارکیٹ پر لانچ ہوئے تھے ، ایک ایف ایم چپ ضم، ایک چپ جس نے روایتی ریڈیو سننے کی اجازت دی (وہ اینٹینا کے طور پر ہیڈ فون استعمال کرتے تھے)۔ بدقسمتی سے ، ایسا لگتا ہے کہ جب قدرتی آفات آتی ہیں اور مواصلاتی اہم چینلز نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے تو بہت کارآمد ہونے کے باوجود مینوفیکچررز اس فنکشن کے لئے کم سے کم پرعزم ہیں۔ 1 ریڈیو گارڈن 2 میں دھن 3 ریڈیوفائی 4 ریڈیوویبائٹس 6 انٹرنیٹ ریڈیو 7 متبادل ریڈیو گارڈن ریڈیو گارڈن دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشنوں کو سننے کے لئے ایک مقبول اور جامع ویب خدمات میں سے ایک ہے۔ اگر ہمارا براؤزر ویب صفحات کو ہمارے مقام تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے تو ، یہ ہمیں قریب ترین اسٹیشن دکھائے گا ہماری حیثیت ، جو اگرچہ یہ پاگل لگتا ہے ، ایسا نہیں ہے۔ ہمارے مقام پر منحصر ہے ، یہ قریب ترین علاقوں کی تجویز کرے گا جہاں اسٹیشن دستیاب ہیں ، حالانکہ یہ صوبوں اور دیگر ممالک میں بھی تلاشی لے گا۔ اگر ہم جس اسٹیشن کی تلاش کر رہے ہیں وہ دستیاب نہیں ہے تو ، ہم کر سکتے ہیں اس خدمت میں شامل ہونے کے لئے ایک فارم پُر کریں۔ اگر ہم اس اسٹیشن کا نام جانتے ہیں جس کے بارے میں ہم سننا چاہتے ہیں تو ، ہم براہ راست اسٹیشن جانے کے لئے اس میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ معاملہ نہیں ہے ، اور ہم سننا چاہتے ہیں ، مثال کے طور پر ، وینزویلا کا کوئی بھی اسٹیشن ، ہم کر سکتے ہیں دنیا بھر میں ملک میں منتقل اور مختلف سبز نقطوں پر کلک کریں جو ملک کے ریڈیو اسٹیشنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ریڈیو گارڈن کی شکل میں بھی دستیاب ہے iOS اور Android دونوں کے لئے درخواست، ایک ایسی ایپلیکیشن جسے ہم درج ذیل لنکس کے ذریعے مفت ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ڈیولپر: ریڈیو گارڈن BV میں دھن میں دھن کے لئے ایک اور مقبول خدمات ہے کسی بھی ملک سے انٹرنیٹ ریڈیو سنیں. اس سے ہمیں اشتہارات کے ساتھ دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ ریڈیو اسٹیشنوں تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے ، حالانکہ ہم اشتہارات سے بچنے کے لئے ماہانہ فیس ادا کرسکتے ہیں اور ، اتفاق سے ، این ایف ایل ، ایم ایل بی ، این بی اے اور این ایچ ایل گیمز سے لطف اندوز ہونے کے اہل ہوجاتے ہیں۔ اس میں اسپین اور لاطینی امریکہ دونوں میں ہسپانوی زبان کے اسٹیشنز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ، حالانکہ اس کا مرکزی ناظرین ریاستہائے متحدہ میں ہے ، جہاں سے ہم پورے ملک میں بڑی تعداد میں اسٹیشن سن سکتے ہیں۔ ہم بھی کرسکتے ہیں اسی پوڈ کاسٹ کو سنیں کہ ہم کسی دوسرے پلیٹ فارم پر تلاش کرسکتے ہیں۔ یہ دونوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ایمیزون بازگشت کے طور پر Google ہوم گوگل کی طرف سے مینوفیکچررز کے اسپیکر پر دستیاب ہونے کے علاوہ سونوس. یہ آئی او ایس اور اینڈروئیڈ ، ایپلی کیشنز دونوں کے لئے بھی دستیاب ہے جو آپ درج ذیل لنکس کے ذریعے مفت ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ TuneIn ریڈیو: خبریں ، کھیل اور AM FM موسیقی سٹیشن۔ ڈیولپر: TuneIn انکارپوریٹڈ قیمت سے: مفت+ ریڈیوفائی سی بسکٹ اسٹیشن جو اسپین میں ہیں, ریڈیوفائی وہ خدمت ہے جس کی آپ تلاش کر رہے ہیں۔ ریڈیو فائی ہمیں ایک بہت سادہ انٹرفیس پیش کرتا ہے جہاں ہمیں اسٹیشن کا نام لکھنا ہوتا ہے یا ہم اس صفحے پر اسکرول کرنا چاہتے ہیں جب تک کہ ہمیں اس اسٹیشن کی تلاش نہ کریں جہاں تک ہم سننا نہیں چاہتے ہیں ، جہاں انتہائی مقبول دکھائے جاتے ہیں۔ ریڈیوویبائٹس ریڈیوویبائٹس ہمیں ان ممالک کا ایک انڈیکس دکھاتا ہے جہاں ہم ریڈیو اسٹیشن سن سکتے ہیں ، لہذا اس کو مدنظر رکھنا ایک بہترین آپشن ہے اگر آپ مخصوص ممالک سے اسٹیشن ڈھونڈ رہے ہیں. ہر ملک پر کلک کرکے ، ہم کسی ملک کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں جہاں سے ہم اس مخصوص ملک میں دستیاب اسٹیشنوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ میرا ٹورنr ویب صفحات میں سے ایک اور ہے جو ہمیں اجازت دیتا ہے عملی طور پر دنیا کے ہر ملک سے ریڈیو اسٹیشنوں تک رسائی حاصل کریں. جیسے ہی آپ اپنی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کریں گے ، اس ملک کے ریڈیو اسٹیشنوں کو دکھایا جائے گا جہاں ہم ہیں۔ بائیں طرف ، ہم منتخب کرسکتے ہیں اگر ہم اپنی برادری یا علاقے میں صرف اسٹیشنز دکھانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ پوڈکاسٹس کو بھی پسند کرتے ہیں تو ، مائی ٹرنر پر بھی آپ کو ایک وسیع قسم مل جائے گی، عملی طور پر وہی جو ہم کسی دوسرے پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم میں تلاش کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایپلی کیشن کی شکل میں موبائل آلات کے لئے بھی دستیاب ہے ، لہذا اگر ہمارے پاس کمپیوٹر موجود نہیں ہے تو ہم اپنا اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ استعمال کرسکتے ہیں۔ myTuner ریڈیو آن لائن اور ریڈیو ایف ایم ڈیولپر: Appgeneration - ریڈیو، پوڈکاسٹ، کھیل انٹرنیٹ ریڈیو لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے اسٹیشنوں کو سنیں ، نئے گانے تلاش کریں ، موسیقی کی دوسری صنف کو سنیںمندرجہ بالا میں سے کوئی بھی ہمارے (نسبتا)) خدمت نہیں کرتا ہے جیسا کہ انٹرنیٹ ریڈیو کرتا ہے۔ کے ذریعے انٹرنیٹ ریڈیو ہم ریڈیو اسٹیشنوں کو ان کی قسم کی موسیقی کے مطابق سن سکتے ہیں ، نہ کہ اسٹیشن کے نام سے یا اس کے مقام سے۔ جیسے ہی آپ ویب تک رسائی حاصل کرتے ہیں ، سب سے زیادہ مشہور انواع دکھائے جاتے ہیں۔ ان صنفوں پر کلک کرکے ، انہیں دکھایا جائے گا تمام اسٹیشن جو اس نوع کی پیش کش کرتے ہیںچاہے پولکا ، فنک ، روح ، تیجانو ، موبائل فونز ، رومانٹک ، ٹھنڈا ، ٹرینس ، محیط ، رقص ، جاز ، بلوز ، کلاسک راک ، ملک ، دھات ، سالسا ، ہپ ہاپ ... جیسا کہ ہم انٹرنیٹ ریڈیو کے پیش کردہ نئے گانے تلاش کرنے کے آپشن دیکھ سکتے ہیں ، ہم انہیں کسی بھی ملک کے روایتی اسٹیشنوں میں نہیں مل پائیں گے۔ اگر ہمیں کوئی اسٹیشن ملے جو ہم پسند کرتے ہیں تو ، ہم کر سکتے ہیں .m3u کی فہرست ڈاؤن لوڈ کریں ویب سائٹ کو استعمال کیے بغیر کسی بھی قابل اطلاق اطلاق میں اس کو دوبارہ پیش کرنا۔ انٹرنیٹ ایسی خدمات سے بھرا ہوا ہے جو ہمیں اپنے پسندیدہ اسٹیشنوں کو سننے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر ان مختلف اختیارات میں جو میں نے اس مضمون میں آپ کو دکھایا ہے ، آپ کو وہ اسٹیشن نہیں مل پائے گا جس کی آپ تلاش کر رہے ہیں ، یہ شاید موجود نہیں ہے. اس کی مزید تلاش نہ کریں کیونکہ یہ خدمات سب سے زیادہ دستیاب ہیں۔ مضمون کے لئے مکمل راستہ: گیجٹ کی خبریں » تصویر اور آواز » کھلاڑی » کسی بھی ڈیوائس پر آن لائن ریڈیو سننے کا طریقہ
انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے | Geo Urdu انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے Crackdown on Human Smugglers ہماری خوش قسمتی اللہ پاک نے " پاکستان " جیسی انمول نعمت سے سرفراز کیا۔ جس کا جتنا بھی شکر اد کیا جائے کم ہے۔ پاکستان بھی صحت جیسی ایک عظیم نعمت ہے۔ جس طرح صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو صحت بگڑ کر " موزی لاعلاج اور سرطان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ، انسانی صحت کی طرح آزادی بھی قدر کا انمول تحفہ ہوتا ہے۔ آزادی کی قدر غلام کی جانتے ہیں ، ہماری بدبختی کہ ہم جسمانی طور پر تو آزاد ہوئے مگر دماغی طور پر غلام ہی رہے، جس کی بہت سی وجوہات میں دو کو خاص اہمیت حاصل ہیں، ایک جاگیردار یا سرمایہ دارانہ نظام جبکہ دوسرا حکمران اور انتظامیہ کا عام عوام کو " دوسری مخلوق تصور کرنا"یعنی عام عوام کو غلام رکھ کر حکمرانی کرنا، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی 70% آبادی دیہاتوں میں ہیں ، آزادی کے ساتھ ہی زمیندار طبقے نے غیر زمیداروں کو " غلام " تصور کر کے خود کو اعلیٰ سمجھ لیا۔ غیر زمیندار لوگ ہنرمند اور محنتی تھے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی مرحوم زوالفقار علی بھٹو نے عام پاکستانیوں کے لئے " بیرون ممالک روزگار " کے مواقعے پیدا کئے تو " وطن عزیز میں پیسے کی آمد " بڑھ گی۔ جس سے معیار زندگی بلند سے بلند ہونے لگا۔ لوگوں کا رجحان ملازمتوں سے ہٹ کر بیرون ممالک کی طرف بڑھتا گیا،بس دیکھا دیکھی بیرون ممالک جانے اور بجھوانے والوں کی ایک فوج تیار ہونے لگی۔ ایجنٹ سسٹم متعارف ہونے لگا ۔ لوگوں کو جوق در جوق " قانونی اور غیر قانونی " طریقے سے بھجوانے لگے ، گنتی کے دو چار نہیں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ غیر قانونی طریقوں سے مختلف ممالک میں داخل ہوئے اور کچھ راہوں میں ہی نا کام ہوئے اور کچھ سردی و گرمی کی تپش برداشت کر کے کامیاب ہوئے اور کچھ بہتہی کامیاب ٹھہرے یہاں تک کہ بیرون ممالک تجارت، اور سیاست میں ملک وقوم کا نام روشن کر گئے۔ دنیا جانتی ہیں کہ کراچی سے بنکاک اور بنکاک سے سمندری راستے سے فرانس جعلی دستاویزات سے انسانوں کو سمگل کیا جاتا ہے۔کراچی سے ایران، کوئٹہ سے ایران پھر وہاں سے ترکی کے شہر استنبول جہاں سے ایجنٹوں کی زبان میں ڈینکی یعنی غیر قانونی طریقے سے یونان جانا جس میں کئی میل راتوں کو پیدل چلنے کے علاوہ کشتیوں، لانچوں سے یونان داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں کافی افراد ڈوب کر بھی مر جاتے ہیں کچھ بارڈر سیکورٹی کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ زندہ بچ جائیں تو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے جرم میں حوالات میں بے یارو مددگار بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اگر کو ئی قسمت سے منزل تک پہنچ بھی جائے تو ایک دوسرے درجے کے شہری یا معزز غلام کی زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔نیروبی سے قاہرہ پھر وہاں سے پیدل یونان کا سفر بھی انسانی سمگلروں نے کافی دیر سے دریافت کر رکھا ہے۔ روٹس اور طریقہ کار کمپیوٹر کی ونڈوکی طرح نئے سے نئے متعارف کیے جاتے ہیں۔ بیرون ممالک میں لاکھوں ایسے افراد بھی مقیم ہیں جن کا اندراج اس ملک میں سرے سے نہیں۔ کام کا جھانسہ دے کر ان کو بیرون ممالک لایا جاتا ہے پھر ان کو غلام بنا کر مقید کر لیا جاتا ہے۔ عورتوں کو جسم فروشی میں لگا دیا جاتا ہے، بچوں سے بھی مشقت لی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں حج اور عمرے کے نام پر بھی عورتوں کو جسم فروشی کے لیے بھیجے جانے کا انکشاف ہوا۔ برطانیہ میں امیگریشن کا ادارہ اتنا فعال نہیں اور کام کے مواقع یورپ کے ممالک سے زیادہ ہیں اور سہولیات بھی کافی ہیں جس کی وجہ سے یورپ کے راستے غیر قانونی طور پربرطانیہ داخل ہونے کا رجحان بھی عام ہے۔ اس کام میں اکثر کنٹینر یا ٹرک ڈرائیور انسانی سمگلنگ کرتے ہیں۔ موجودہ وقت میں 1500پونڈز فی کس کے حساب سے بارڈر کراس کرنے کا ریٹ ہے۔ کچھ برس قبل ہالینڈ سے ٹماٹر لانے والا کنٹینر ڈوور DOWERکی بندرگاہ پر روکا گیا۔ جب ٹرک کا عقبی دروازہ کھولا گیا تو ٹماٹروں کی پیٹیوں کے ساتھ 60چائنیز بھی موجود تھے بدقسمتی سے ان میں سے 58افراد آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے مر چکے تھے صرف 2افراد کو نیم بے ہوشی کی حالت میں ملے۔لانچوں اور کشتیوں کے ذریعے بارڈر کراس کروانے میں اکثر اوور لوڈنگ کی وجہ سے حادثات پیش آئے ہیں۔ یورپی یونین میں مشرقی یورپ کے ممالک شامل ہونے سے قبل مشرقی یورپ سے بھی ٹرک اور ٹرالوں میں انسانی سمگلنگ عروج پر رہی۔ 2سے 3دن ٹرکوں کے خفیہ خانوں میں چھپ کر صرف چنوں اور پانی کی ایک چھوٹی بوتل کے سہارے سفر کروایا جاتا، رفع حاجت کے لیے بھی باہر نہیں نکالا جاتا تھا بلکہ اس مقصد کے لیے بھی مخصوص برتن دیا جاتا تھا۔ بلوچستان کے سرحدی علاقے انسانی سمگلنگ کی ایسی گزر گاہ ہیں جہاں سے ماہانہ دس ہزار افراد ایران اور ترکی کے راستے یورپ جانے کے خواب آنکھوں میں سجائے اس گھناؤنے کاروبار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سمگلرز کا ایجنڈا معصوم افراد کو ورغلا کر 1 سے پانچ لاکھ روپے کے عوض ان کی جانوں کو ایسے خطرے میں دھکیلنا ہوتا ہے کہ جہاں سے واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ستمبر 2016ء میں 3 ہزار 7 سو 76 جبکہ اکتوبر میں 4 ہزار 4 سو 72 اور نومبر میں 2 ہزار 3 سو 39 افراد انسانی سمگلرز کے شکار بن کر سرحد پار پہنچے مگر ایران اور ترکی کی جانب سے ڈی پورٹ کر دیئے گئے۔ مگر ان افراد میں سے اکثر تفتان بارڈر پر ہی معمولی جرمانے دے کر پھر سے ایجنوں سے رابطہ کر لیتے ہیں۔ اکتوبر اور نومبر 2016ء میں سکیورٹی اداروں نے 15 سو افراد کو گرفتار کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے دن کے ساتھ رات ، اچھائی کے ساتھ برائی، قانونی کے ساتھ غیر قانونی قانون قدرت ہیں ، پاکستان کی بقا سلامی اور عزت کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح معالجین کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے ان کی تعلیم ، طریقہ علاج کے تحت، مساجد کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہیں ان کے مسالک کے تحت ، دودھ دھی ، بیکری ، کریانہ ، میڈیکل سٹورز ، اور وکلائکو رجسٹریشن کے بغیر کام نہیں کرنے دیا جاتا اسی طرح ایجنٹوں اور ان کے سب ایجنٹوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے، اور ایجنٹوں کا مکمل ڈیٹا کی چھان بین کو یقینی بنایا جائے، اور عام لوگوں کو آگاہی دی جائے تا کہ لوگ " زندگی بھر کی جمع پونجی "لوٹانے سے بچ سکیں اور اگر کسی کو کوئی " نوسرباز " لوٹنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو اس سے واپسی ممکن ہو سکے۔ ایجنٹ اور سب ایجنٹ غیر قانونی کام کرنے والے بھی " قانونی چھتری" کا استعمال کرتے ہیں تا کہ اپنا شکار محفوظ بنایا جا سکے، ہماری سادہ ، ان پڑھ قوم پر رحم کھایا جائے اور غیر قانونی ایجنٹ مافیا کے خلاف جعلی پیروں کی طرح کریک ڈاؤن کیا جائے ۔ تا کہ ملک عزیز کا وقار اور بلند ہو سکے،پڑھے لکھے نوجوان سہانے مستقبل کے لئے دوسرے ممالک کے غیر قانونی بارڈر کراس کرتے ہوئے " بے موت " مر نہ سکیں۔
پاکستان سے موٹر سائیکل سوار ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی اور سیاحت کے فروغ کے لئے ایران کا سفر کریں گے - وفاق ٹائمز wifaqtimes.com | وفاق ٹائمز wifaqtimes.com خانه خبر 2 News cod : 26182 موٹر سائیکل سواروں کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے مکرم خان ترین نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے مابین تاریخ،ثقافت، زبان اور فن میں بہت کچھ مشترک ہے،سیاحت کے میدان میں بہت زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں،لہٰذا ان مشترکات کی نشاندہی اور ان کا بہترین استعمال کیا جانا چاہئے۔ وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی"روٹ کراس"کلب کے اراکین نے ایران کے اپنے 26 روزہ دورے کا آغاز جمعرات 2 دسمبر کو لاہور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خانہ فرہنگ میں دونوں مسلمان اور پڑوسی ممالک کے درمیان دوستی اور سیاحت کے فروغ کے نعرے کے ساتھ کیا ہے۔ لاہور میں"کراس روٹ" کلب کے تیرہ موٹر سائیکل سواروں نے ایرانی خانہ فرہنگ میں منعقدہ ایک پروگرام میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعلان کیا۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف کئے جانے والے 2019ءکورونا سے پہلے کے اپنے سابقہ ​​سفر کی یادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے راستے میں اور چھوٹے اور بڑے شہروں میں اس قدر گرمجوشی اور مہمان نوازی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا کہ ہم نے ایک بار پھر بہترین ثقافت اور قدیم تاریخ کے حامل اس خوبصورت ملک کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستانی موٹرسائیکل سواروں نے ایرانی اور پاکستانی اقوام کی مشترکہ اور قدیم روایت "قرآن مجید کے نیچے سے گزر کر"موسم سرما کے دوران اپنے طویل اور مشکل سفر کا آغاز کیا۔ لاہور میں ایرانی خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر جعفر روناس نے پاکستان کلچرل سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے سیاحت کے فروغ کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تاریخ،رسم و رواج،زندگی کی روایات اور زبان کے اعتبار سے دنیا میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی میڈیا نے ہمیشہ ایران اور پاکستان کے مشترکہ ثقافتی تعلقات کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔آپ کی کوششوں سے دونوں ممالک کی ثقافت اور لوگوں کے مابین رابطوں کی شناخت ہو سکتی ہے۔ جعفر روناس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران میں شہید قاسم سلیمانی جیسے بہت سے ہیروز گزرے ہیں،کہا کہ حالیہ برسوں،امریکی دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے اسلام کے اس عظیم شہید کی قبر آپ کے سفر کے راستے شہر کرمان میں واقع ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 26 روزہ دورے کے دوران پاکستانی موٹر سائیکل سوار لاہور سے 6500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ایرانی بارڈر تفتان سے ایران کے اندر داخل ہوں گے اور وہاں سے زاہدان،بم،کرمان،یزد،اصفہان، کاشان،قم اور تہران کا سفر کریں گے۔ موٹر سائیکل سوار گروپ ملتان اور کوئٹہ میں بھی ایرانی خانہ فرہنگ کا دورہ کرے گا۔ مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=26182 پاکستان سیاحت موٹر سائیکل سوار ایران رشین مسلم کونسل کے سربراہ کی ایران کے صدر سے ملاقات 20 ژانویه 2022 - 17:33 طلاب اور حوزہ ہائے علمیہ کی خدمت صرف خدا کی رضامندی کے لئے ہو، آیۃ اللہ العظمی حافظ بشیر نجفی 20 ژانویه 2022 - 12:03
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے! وہ روسی لڑکی جس نے فلائی دبئی کے تباہ ہونے والے طیارے کی ٹکٹ خرید رکھی تھی لیکن جہاز پر سوار ہوتے ہوتے کیسے رہ گئی؟انتہائی حیران کن کہانی آپ بھی جانئے 25 مارچ 2016 (20:36) ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) موت کا ایک وقت معین ہے، نا یہ اس وقت سے ایک لمحہ قبل آ سکتی ہے اور نہ ہی ایک لمحے کی تاخیر کر سکتی ہے۔ قدرت ہماری آنکھوں کے سامنے بار بار ایسے مناظر لاتی ہے کہ جو اس حقیقت کی کھلی گواہی ہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ فلائی دبئی ائیرلائن کے روس میں ہونے والے تباہ کن حادثے کے موقع پر پیش آیا۔ نیوز سائٹس ایمریٹس 247 کے مطابق روسی خاتون الویرا ایسائیوا متحدہ عرب امارات میں چھٹیاں گزارنے کے لئے آئی تھیں اور اسی پرواز کے ذریعے واپسی کے لئے بکنگ کروارکھی تھی کہ جو خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ الویرا نے روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وطن واپسی سے قبل رات دیر تک ایک سالگرہ پارٹی میں شریک رہیں اور صبح ان کی آنکھ نہیں کھل سکی، جس کی وجہ سے وہ ائرپورٹ نہ پہنچ سکیں۔انہیں بکنگ ایجنٹ کی طرف سے فون آیا تو آنکھ کھلی۔ پہلے تو پرواز نکل جانے کا سو چ کر شدید متفکر ہوئیں، لیکن پھر یہ جان کر ساکت رہ گئیں کہ جس پرواز کے ذریعے انہیں واپس جانا تھا وہ روس میں گر کر تباہ ہوچکی تھی۔ وہ خوش قسمت ترین انسان جو بوسٹن میرا تھن اور پیرس بم دھماکوں میں زندہ بچ نکلا ،برسلز حملوں کی جگہ پر بھی تھا ،زخمی ہوگیا الویرا کا کہنا ہے کہ رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے وہ سوتی رہ گئیں، لیکن اگر بروقت جاگ جاتیں تو ہمیشہ کے لئے سو جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ ان کی ماں کی دعائیں تھیں جو ان کا تحفظ کررہی تھیں اور وہ اس دن بروقت جاگ نہیں پائیں۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں اور خصوصاً بچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں اور کہا کہ اگرچہ وہ زندہ بچ جانے پر خوش ہیں لیکن حادثے میں 62 افراد کی موت نے ان کے دل کو غم سے بھر دیا ہے۔
غیرملکی سے تکرار یا پھر کچھ اور؟ سعودی سیکیورٹی اہلکار مشکل میں پڑگیا ریاض: سعودی عرب میں نجی کمپنی کے اعلیٰ عہدے پر فائز غیرملکی سے مبینہ طور پر توکلنا ایپ دکھانے کے مطالبے پر سعودی سیکیورٹی اہلکار کو نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مملکت کے نجی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر تعینات غیر ملکی سے مبینہ طور پر توکلنا دکھانے کے مطالبے پر سعودی سیکیورٹی اہلکار کو ملازمت سے نکال دیا گیا ہے، مذکورہ سیکیورٹی اہلکار اسی کمپنی میں ہی گزشتہ 5 سال سے ملازم تھا۔ ملازمت سے نکالے جانے والے سیکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز غیرملکی مجھے نشانے پر رکھا ہوا تھا، وہ مجھے برا بھلا بھی کہتا تھا، کئی مرتبہ صفائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ برطرف سیکیورٹی اہلکار نے بتایا ایک دن قوائد وضوابط کے تحت کمپنی میں داخلے کے لیے توکلنا ایپ دکھانے کا مطالبہ کیا جس پر وہ مشتعل ہوگیا اور دھمکایا کہ آج تمہارے خلاف کارروائی ہوگی اور کچھ دیر بعد مجھے نکال دیا گیا۔ اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ مجھے میرا قصور بتایا گیا نہ مجھے میرے حقوق دیئے گئے، میری عمر 35 سال ہے، میں کام کر کے اپنا گھر بار چلاتا ہوں، مجھے حکومت سے ہدایت ہے کہ ہر شخص سے توکلنا دکھانے کا مطالبہ کروں۔
انگلش ٹیم کی بھارت واپسی کا فیصلہ آج ہو گا | کھیل | DW | 02.12.2008 انگلش ٹیم کی بھارت واپسی کا فیصلہ آج ہو گا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلش کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز کے لئے دوبارہ بھارت بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ آج سیکورٹی ایڈوائزر کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ سات ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھارت نے پانچ میچ جیت لئے تھے تاہم دو میچ نہیں کھیلے جا سکے بھارتی بورڈ کے مطابق ای سی بی نے احمد آباد اور ممبئی کے بجائے چنائی اور موہالی میں ٹیسٹ میچز کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے لیکن دورے کا حتمی فیصلہ سیکورٹی ایڈوائز Reg Dickason کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ Reg Dickason سیکورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے اور بھارتی حکام سے بات چیت کیلئے چنائی میں ہیں۔ انگلینڈ پلیئرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین Sean Morris کا کہنا ہے کہ وہ آج منگل کے روزانگلش کھلاڑیوں سے ملاقات کررہے ہیں اور امید ہے کہ اس وقت تک ای سی بی کو رگ ڈکسن کی رپورٹ بھی موصول ہوجائے گی۔ مورس کا کہنا ہے : ''ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ بھارتی کرکٹ بورڈز نے ٹیسٹ میچز کے وینیوز کے حوالے سے ای سی بی کے خدشات دور کرنے کے لئے اقدامات کئے لیکن پھر بھی ٹیم کے بھارت جانے کا دارومدار سیکورٹی رپورٹ پر ہے۔'' ممبئی حملوں کے بعد انگلش ٹیم نے بقیہ دو ایک روزہ میچ منسوخ کردئیے تھے اس حوالے سے ذرائع کے مطابق ای سی بی کی جانب سے دورہ بھارت میں انگلش کھلاڑیوں کے لئے سخت سیکورٹی اور خصوصی کمانڈو دستہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے کسی بھی واقعہ کی صورت میں کھلاڑیوں کو بحفاظت نکالنے کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ انگلینڈ نے بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لئے رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔بھارتی بورڈ کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 11 سے 15 دسمبر تک چنائی میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا میچ 19سے 23 دسمبر تک موہالی میں ہو گا۔ واضح رہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد انگلینڈ اور بھارت کے درمیان ہونے والے آخری 2 ایک روزہ انٹرنیشنل میچ منسوخ کر دیئے گئے تھے اور انگلینڈ ٹیم وطن واپس چلی گئی تھی۔
نوروز دلمغانی مہسا 2020/11/20 فوریکس ایکسچینج احتیاط : اگر آر ٹی ایس کا استعمال نہ کیا گیا تو تجارت خطرے سے پاک سیکھیں ٹر اسٹار ایم پی پی ٹی 150 وی درجہ حرارت چارجنگ پیرامیٹرز کی تلافی نہیں کرے گا۔ قسط یا ایمورٹائزیشن کی اصطلاح کا حساب کتاب کرنے کے لئے ، درج ذیل فارمولے کا استعمال کیا گیا ہے: اگر آپ مسابقت کاروں کو بہتر چیزوں ، جیسے بہتر کسٹمر سپورٹ ، اعلی معیار کی مصنوعات ، بہتر واپسی کی پالیسیاں ، وغیرہ سے ہٹاتے ہیں تو آپ کو یہ پتہ چل جائے گا کہ لوگ کسی مصنوع کے لئے سرگرمی سے زیادہ قیمت ادا کریں گے۔ - رائس ڈیوس ، کامرسول ڈاٹ کام. اس پر آپ کو کتنا خرچ آئے گا؟ بالإضافة إلى ذلك، قد تنشأ متطلبات زيادة الهامش في الأسواق الخاضعة للتنظيم أو خارج البورصة (OTC). وبائی کوویڈ 19 ویکسین منظور ہیں ، جس میں ایک تہائی کسی بھی دن منظور ہونے کے قابل دکھائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ ان سفروں کی پوری جانفشانی سے منصوبہ بندی کریں ، اور اگر آپ زمین سے اترنے کے لئے تلاش کر رہے ہیں تو ، شروع کرنے کے لئے بہترین جگہ ہوائی اڈے کے کریڈٹ کارڈ کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ مارکیٹ آرڈرز بمقابلہ حد احکامات جاری Olymp Trade :تجارت خطرے سے پاک سیکھیں اکاؤنٹنگ مساوات جس کے ذریعہ: اثاثوں = واجبات + اسٹاک ہولڈرز کی ایکویٹی کا حساب درج ذیل ہے: کیونکہ تاجر نے پانچ معیاری لاٹ خریدے ، لہذا ہر ایک پپ حرکت میں $ 50 کی لاگت آئے گی ($ 10 کی تبدیلی / معیاری بہت X 5 معیاری لاٹ)۔ اگر تجارت 50 پپس کے ذریعہ سرمایہ کار کے خلاف ہوجاتی ہے تو ، سرمایہ کار کو 50 پپس ایکس $ 50 = $ 2500 سے محروم ہوجائیں گے۔ یہ کل $ 10،000 کے تجارتی اکاؤنٹ کا 25٪ ہے۔ 4. اپنے موجودہ مصنوعات کو متنوع بنائیں. اس مضمون کے دوران متعدد نمبر سسٹمز کے حوالہ جات ہیں. یعنی ریاضی کی چیزوں (اعداد) کا مجموعہ جو ریاضی کے کچھ یا تمام معیاری کاموں کے ذریعہ چلایا جاسکتا ہے: اس کے علاوہ ، ضرب ، گھٹاؤ اور تقسیم۔ اس طرح کے سسٹم میں طرح طرح کے تکنیکی نام ہوتے ہیں (جیسے گروپ ، رنگ ، فیلڈ) جو یہاں کام نہیں کرتے ہیں۔ تاہم ، یہ مضمون اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ دلچسپی کے بنیادی سسٹم میں کون سے آپریشن لاگو ہیں۔ یہ مرکزی نمبر نظام ہیں: ایف کیو ایل پروجیکٹ کا آغاز محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے ان فیملیز کے معیار زندگی پر مرکوز کرنے کے ایک طریقہ تجارت خطرے سے پاک سیکھیں کے طور پر کیا تھا جن کے ذہنی یا ترقیاتی معذوری کے ساتھ ایک یا زیادہ ممبر ہیں۔ یہ اس ڈگری کی نشاندہی کرنے کا ایک طریقہ ہے جس میں خاندانی معیار زندگی سے لطف اندوز ، معنی خیز ہے ، اور ان وسائل کی اقسام کی تائید کرتا ہے جو کنبہ کے ممبروں کے لئے اہم ہیں ، نیز اہل خانہ کو درپیش جدوجہد کا بھی۔ . ریشمی اور چمکدار بالوں کا حصول ، خشکی کو کم کرنا یا بالوں کے پتیوں کی حفاظت کرنا کچھ ایسے مثبت اثرات ہیں جو اسٹرابیری کے استعمال سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ رشتہ داری منیجر۔ آزمائش کی مدت روزانہ مرکزی تجارت - آزمائشی مدت تجارت کے مرکزی پریمیم سگنل - آزمائشی مدت ایک تجارتی اکیڈمی پر نجی 1 کا XNUMX سیشن تجارتی کمیشن کا معیار. سبز بڑھتی ہوئی - ترقی سگنل؛ زرد فلیٹ - شروع؛ ریڈ گرنے - ڈراپ. يورو ننORيون YEN ننORڙا پائونڊ ننORا ٻين ننORن EUR / CHF EUR / JPY GBP / CHF AUD / CHF EUR / GBP GBP / JPY GBP / AUD AUD / CAD EUR / CAD CHF / JPY GBP / CAD AUD / NZD EUR / AUD CAD / JPY GBP / NZD CAD / CHF EUR / NZD AUD / JPY اين اي ڊي ڊي / سي ايف NZD / JPY NZD / CAD. بینوومو پلیٹ فارم پر اپ ٹرینڈ کے دوران ٹرینڈ لائن کے ساتھ تجارت کیسے کریں. محفوظ انٹرنیٹ ڈے: ہم ، ہمارے تجارت خطرے سے پاک سیکھیں بچے اور نئی ٹیکنالوجیز. تعلیم کے اعدادوشمار کے قومی مرکز سے نجی اور سرکاری کالجوں کے اوسط اخراجات کا ریاستی بہ ریاست مقابلہ ایک کالج کی بچت کیلکولیٹر جس کا استعمال آپ آگے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور کالج کے اخراجات کو بچانے کے ل. جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا مطالعہ مختلف کالج کے اہم کمپنیوں کی قدر کا موازنہ کرتا ہے وہاں سے کچھ بہترین قیمت والے کالجوں کی جائزہ. یاد دہانیاں ترتیب دینے کیلئے ، جیسے ایک ترتیب جو iOS کے یاد دہندگان کے ایپ میں ایک نیا ٹاسک پیدا کرتی ہے جب کسی نامزد ای میل ایڈریس سے IFTTT کو ای میل بھیجا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ مارکیٹ کے محقق یہ طے کرسکیں کہ تحقیق کے کون سے آلات استعمال کیے جائیں ، اعداد و شمار کے ذرائع کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ مارکیٹ کا محقق بنیادی ڈیٹا ، ثانوی ڈیٹا ، یا دونوں طرح کی معلومات جمع کرنے کا انتخاب کرسکتا ہے۔ کسی خاص منصوبے یا کسی خاص مقصد کے لئے پہلی بار بنیادی اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں۔ ثانوی اعداد و شمار ایک نئے مقصد کے لئے جمع کیے جانے والے کسی نئے تحقیقی منصوبے کے آغاز سے پہلے موجود ہیں۔ فنانس میں ، کمپنیاں متعدد عوامل پر قبضہ کرکے اپنے کاروبار کے خطرے کا اندازہ لگاتی ہیں جس کے نتیجے میں متوقع منافع یا نقصانات کم ہوسکتے ہیں۔ کمپنی کے کاروبار کے خطرے کو متاثر کرنے والے ایک سب سے اہم عامل کا فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی کمپنی کو اپنے سامان اور خدمات کی پیداوار کے دوران مقررہ اخراجات اٹھانا ہوں گے۔ پیداوار کے عمل میں مقررہ اخراجات کا ایک اعلی تناسب کا مطلب یہ ہے کہ آپریٹنگ بیعانہ زیادہ ہے اور کمپنی کو کاروبار میں زیادہ خطرہ ہے۔ . تاہم ، اس گائیڈ کا مقصد یہ ہے کہ آپکو IQ Option فوریکس بامقابلہ IQ Option آپشنز منڈیوں کی ایک واضح تصویر پیش کرے۔ یہ دونوں منڈیوں کا مقابلہ چند متعین نقطوں پر کرے گی جو آپ کے دیرینہ منافع کا تعین کریں۔ ایک منظم مالی مالیاتی منڈی کا بنیادی مقصد پروٹوکول کے مطلوبہ سیٹ کو نافذ کرکے عام سرمایہ کار کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ امریکہ میں اختیارات کے ریگولیٹرز ، ریاستہائے مت inحدہ میں اختیارات کی تجارت کے لئے قواعد قائم ، رجسٹر ، معیاری ، ترمیم ، یا نظر ثانی (بشمول): شفاف قیمتوں کا تعین ہر ایک مؤکل کو ایک ہی اعداد و شمار کے فیڈ کے ذریعے مساوی قیمتوں پر ایک جیسی لیکویڈیٹی تک رسائی حاصل ہے۔
"آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے "آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ۔۔۔" حامد میر نے وہ بات کہہ دی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، جان کر تحریک انصاف والے حیران پریشان رہ جائیں گے "آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ۔۔۔" حامد میر نے وہ بات ... Dec 16, 2017 | 12:08:PM 12:08 PM, December 16, 2017 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہیں کیونکہ نیب ریڈ وارنٹ کے ذریعے اسحاق ڈار کو لندن سے واپس لے آئی تو لوگ پرویز مشرف کے بارے میں پوچھیں گے جس کے بارے میں پاکستانی عدالتیں خاموش ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جلسے کرتی رہ جائیں گی جبکہ نواز شریف کا موقف اتنا مشہور ہو جائے گا کہ جو بھی حکومت 2018ءمیں آئے گی وہ حکومت نہیں کر سکے گی اور اس کا کریڈٹ پرویز مشرف کو جائے گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران حامد میر سے سوال پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے سے متعلق فیصلے کا سیاسی فائدہ کسے ہو گا۔ حامد میر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو بہت نقصان ہوا ہے کیونکہ جہانگیر ترین لودھراں سے بہت بڑا ضمنی الیکشن جیت کر آئے تھے اور آج بھی عمران خان نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان اپنے حق میں آنے والے فیصلے کو تو بہت اچھا قرار دے رہے ہیں مگر اسی سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کیخلاف جو فیصلہ دیا اس پر انہیں تحفظات ہیں، تو یہ بہت بڑا تضاد ہے۔ ایک بات ایمانداری کیساتھ ہمیں کرنی بھی چاہئے، سوچنی بھی چاہئے، کہنی بھی چاہئے اور اس پر سب کو غور بھی کرنا چاہئے۔ ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ شہباز شریف کے حق میں دیا اور دوسرا عمران خان کے حق میں دیا اور اس طرح معاملہ بیلنس ہو گیا، لیکن آنے والے دنوں میں جو پیش رفت ہونے والی ہے اور اس میں عدالتوں کا جو کردار ہو گا، وہ پوری پاکستانی قوم بڑے غور سے دیکھ رہی ہے۔ ایک تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کئے جائیں اور انہیں گھسیٹ کر لندن سے پاکستان واپس لایا جائے۔ آپ انہیں بالکل لے کر آئیں اور اگر انہوں نے قانونی کی خلاف ورزی کی ہے تو پاکستان لائیں، لیکن آپ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے موقف کا کیا کریں گے، آپ انہیں روک نہیں سکیں گے۔ اسحاق ڈار کے خلاف ریڈ وارنٹ لانے ہیں، لے آئیں، لیکن ایک اور بھی آدمی ہے جس کا نام پرویز مشرف ہے اور عدالتیں ان کے بارے میں خاموش ہیں۔ پاکستان کے طاقتور ترین لوگ جو کہتے ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں نے کیسا زبردست فیصلہ کیا ہے اور نواز شریف کو نااہل قرار دیدیا ہے۔ اب نیب ریڈ وارنٹ کے ذریعے اسحاق ڈار کو واپس لائے گی جیسا کہ عزیر بلوچ کو بھی لایا گیا تو لوگ پوچھیں گے کہ پرویز مشرف جو قتل کے مقدمات میں، آئین سے غداری کے مقدمے میں مطلوب ہے اور خود اعتراف کر چکا ہے کہ غیر ملکی طاقتوں سے پیسے لے کر لندن اور دبئی میں فلیٹ خریدے ہیں، اس کا کسی نے احتساب نہیں کرنا۔ یہ بھی پڑھیں۔۔۔پاکستان کا وہ لڑکا جس نے قائداعظم جیسا نظر آنے کیلئے 50 سرجریاں کرا ڈالیں، انٹرنیٹ پر شیئر ہونے والی تصویر نے دھوم مچا دی، ہنسی کا طوفان آ گیا کیونکہ۔۔۔ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ عمران خان اور پیپلز پارٹی جلسے کرتے رہ جائیں گے اور نواز شریف کا موقف اتنی شہرت حاصل کر لے گا، کہ بھلے ہی انتخابات میں انہیں فائدہ ہو نہ ہو، لیکن جو بھی حکومت 2018ءمیں آئے گی، وہ حکومت نہیں کر سکے گی۔ اور اس کا کریڈٹ جائے گا پرویز مشرف کو، آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے۔"
پورٹریٹ .از۔ اقبال حسن آزاد ۔ انڈیا | Aalmi Akhbar Home ادبیات پورٹریٹ .از۔ اقبال حسن آزاد ۔ انڈیا سکھو! اب گھر چلو۔" سکھو کو اس کی گھبراہٹ پر ہنسی آجاتی۔ وہ اور اندر جانا چاہتا مگر صاحب کے ڈر سے لو ٹ جاتا۔ گذرتے وقت کی دھند ہر شے پر چھاتی جا رہی تھی ۔یادیں مٹ میلی ہو گئی تھیں۔اسے لگتا جیسے درخت بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے تنے کھوکھلے ہو گئے ہیں اور وہ کسی تیز آندھی کے منتظر ہیں۔ وہ بہت ساری باتوں کو بھول چکا تھا اور بہت ساری جگہیں اور شکلیں بھی اس کے حافظے سے نکل چکی تھیں حتیٰ کہ اسے اپنے باپ کی شکل بھی بالکل یاد نہ رہی تھی کہ اسے گذرے ہوئے چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا تھا۔ اس کا بڑا لڑکا اس سانحے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ ان دنوں وہ اپنی پہلی پوسٹنگ پر اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ کسی دور دراز کے شہر میں مقیم تھا۔ اس زمانے میں ٹیلی فون کی سہولت عام نہیں ہوئی تھی اور کسی کی پیدایش یا موت کی خبر دینے کے لئے ٹیلی گرام مقبول عام ذریعہ تھا۔ لیکن کبھی کبھی ٹیلی گرام بھی دیر سے پہنچتا۔ چنانچہ اس خبر کے ملنے کے بعد جب وہ گھر گیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے باپ کو سپرد خا ک کیا جا چکا ہے اور اس طرح وہ اس کے آخری دیدار سے محروم رہا تھا جس کا قلق اسے اب تک تھا۔ البتہ اس کی بڑی بہن جو قریب کے شہر میں بیاہی گئی تھی اپنے شوہر کے ہمراہ وقت پر پہنچ گئی تھی۔ چہلم کے بعد اس کی بہن اپنے شوہر کے ساتھ چلی گئی تھی اور وہ ماں کو اپنے ساتھ شہر لے آےا تھا۔ قصبے کے مکان میں تالا پڑ گیا۔۔ کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا کہ اس کے دماغ میں کوئی جنگل اُگ آیاہے جہاں اونچے گھنے پیڑ آپس میں جڑے کھڑے ہیں اور سورج کی روشنی ان کے بڑے بڑے پتوں سے ٹکراکر وہیں رک جاتی ہے۔ نیچے گہرا اندھیرا ہے۔ وہ سوتے میں چونک اٹھتا۔ اسے اپنی پیشانی پر پسینے کے قطرے محسوس ہوتے۔ وہ سات بار لاحول پڑھ کر دوبارا سونے کی کوشش کرتا۔ عموماًاسے نیند آ جاتی مگر تھوڑی ہی دیر بعد پھر اچٹ جاتی۔ بڑھاپے کی نیند کچے گھڑے کی مانند ہوتی ہے۔ اسے اپنی عمر بھی ٹھیک ٹھاک یاد نہیں رہی تھی۔ کبھی اسے لگتا کہ وہ ستر کا ہو چکا ہے مگر واقعات کے جوڑ گھٹاؤ میں اسے اپنی عمر پچھتر کی معلوم ہوتی۔ بالکنی میں آرام کرسی پر بوڑھی ہڈیوں کو دھوپ دکھلاتے وقت جب وہ انگلیوں پر حساب لگا رہا ہوتا تو اس کی بیوی کو شک ہوتا کہ اس کے حواس اس کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔ وہ اس کی جانب سے فکر مند رہنے لگی تھی۔ مگر درحقیقت ایسی بات نہیں تھی۔ وہ پابندی سے اخبار پڑھتا اور ٹی۔وی پر خبر یں سنتا۔ اسے لگتا جیسے دنیا بہت بدل گئی ہے۔ پچھلی دفعہ جب اس کا لڑکا اس سے ملنے آیا تھا تو وہ اس کے لئے ایک موبائل لیتا آیا تھا۔ کبھی کبھی وہ اس بدلی ہوئی دنیا کا موازنہ اپنی دنیا سے کرتا تو اسے عجیب سا محسوس ہوتا۔ اسے اس بات کا اطمینان تھا کہ اس کے انتقال کی خبر اس کے بیٹے کو چند منٹوں میں ہو جائے گی۔ ایک چھوٹے سے قصبے میں اس کا بڑا سا آبائی مکان تھا۔ سڑک کی جانب گول ستونوں سے گھرا ایک طویل برآمدہ۔ اس کے بعد کشادہ ڈرائنگ روم ۔اندر تین طرف دالان، درمیان میں آنگن اور آنگن سے ایک دروازہ گلی میں کھلتا ہوا۔ دالان سے ملحق چھ رہائشی کمرے اور سب سے آخر میں اسٹور روم۔ اس کے باپ کو پرانی چیزیں ترتیب اور قرینے سے رکھنے کا شوق تھا۔ اکثر اس کی ماں کسی بیکار شے کو پھینکنا چاہتی تو اس کا باپ اسے اسٹور روم میں رکھنے کا مشورہ دیتا اور کہتا کہ داشتہ آید بکار۔ اس کی ماں اس محاورے سے چڑ جاتی حالانکہ اس کا باپ نہاےت شریف آدمی تھا اور کسی نامحرم کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔ اس آبائی مکان میں اس کا باپ اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد آ کر رہا تھا۔ زندگی کے بیشتر ایام کو ارٹروں میں گذرے تھے۔ اس کا باپ بیک وقت شفیق بھی تھا اور سخت گیر بھی۔ اسے یاد تھا کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھایا کرتا تھا اور اس کا باپ اپنی پلیٹ سے کوئی چیز مثلاً گوشت کی کوئی اچھی بوٹی یا کوئی میٹھی شے اس کی پلیٹ میں ڈال دیا کرتا تھا۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ اس کا باپ ہی اسے نہلاتا تھا اور اگر نہانے کے دوران وہ کوئی شرارت کرتا تو اس کے باپ کا بے رحم طمانچہ اس کے گال پر پڑتا۔ اس نے جب اسکول جانا شروع کیا تو اس کا باپ اسے خود سے پڑھانے لگا اور پڑھاتے وقت ایک لمبی چھڑی اپنے پاس رکھتا ۔ "سب لوگ چلے جا رہے ہیں۔ آپ کے بڑے بھیا بھی بیوی بچوں کو لے کر چلے گئے۔ کیوں نہ ہم لوگ بھی" اور پھر پتہ نہیں کہاں سے آدمیوں کا جنگل امڈ آیا تھا۔ روتے بلکتے، ننگے بھوکے لوگ پوری کچہری اور پورے میدان میں بھر گئے تھے۔ لاریاں بھر بھر کر آتیں اور آدمیوں کا جنگل گھنا ہوتا جاتا۔ وہ لوگ اپنے کوارٹر تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ پھر جیسے کئی دنوں تک چھائے رہنے کے بعد جب بادل اور کہاسا ختم ہوکر سورج نظر آنے لگتا ہے اورمنجمد زندگی میں حرارت پیدا ہونے لگتی ہے اسی طرح دھیرے دھیرے وہ سارے لوگ ان کے سازوسامان ، لاریاں اور خاکی وردیاں سب دھیرے دھیرے غائب ہو گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ سرخ پھندنے والی گول ٹوپی اور بغیر چھت کی کار بھی۔ اور یونین جیک کی جگہ ترنگا لہرانے لگا تھا۔ ان دنوں اس کی عمر تیرہ سال کی تھی۔ اس کے ایک سال بعد کی سردیوں میں اس کا باپ ریٹائر ہو گیا۔ اس بڑے میدان میں ایک گروپ فوٹو گرافی ہوئی تھی۔ اس کا باپ سوٹ پہنے درمیان کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ دائیں بائیں آفس کے دوسرے لوگ ۔ پچھلی صف میں ڈرائیور، خاکروب، مالی، چپراسی اور اور آس پاس کے لوگ۔۔ بقیہ کرسیوں پر کچہری کے اسٹاف اور زمین پر ان کے افراد خانہ۔ اپنے باپ کے قریب وہ اور اس کی بڑی بہن بیٹھے تھے۔ اس کے باپ کے گلے میں گیندے کے پھولوں کا ہار ڈالا گیا تھاجسے اس کے با پ نے اس کے گلے میں ڈال دیا تھا۔ ایک بڑے اسٹینڈ پر کیمرہ رکھا ہوا تھا اور فوٹو گرافر نے اپنے سر پر کالی چادر ڈال کر تصویر اتاری تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب اس کا باپ اپنے آبائی مکان لوٹا تو اس تصویر کو فریم کروا کے ڈرائنگ روم میں لگا دیا گیا۔ عرصے تک وہ تصویر ڈرائنگ روم میں لگی رہی تھی۔ پھر پتہ نہیں کیسے وہ تصویر ڈرائنگ روم سے ہٹ گئی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ جس وقت اس کی بڑی بہن کی شادی ہو رہی تھی اور گھر میں سفیدی پھیری جا رہی تھی اس وقت وہ تصویر اسٹور روم میں رکھ دی گئی ہو۔ اس کے باپ کی پنشن قلیل تھی اور اس مکان کے علاوہ اس کے پاس کوئی جائداد بھی نہ تھی۔ جب وہ پہلی بار میٹرک میں فیل ہو گیا تو اس کے باپ نے اسے مارا تو نہیں مگر غصے میں تھرتھراتے ہوئے یہ ضرور کہا تھا کہ اگر اگلے سال بھی وہ فیل ہو گیا تو وہ اسے ننگا کرکے گھر سے باہر نکال دے گا مگر اس کی نوبت نہیں آئی تھی کہ اس نے وہ سارا سال پڑھنے میں گذار دیا تھا۔ اگلے سال وہ پاس ہو گیا اور آگے کی تعلیم کے لئے اس کا داخلہ شہر کے کالج میں کروا دیا گیا۔ کبھی کبھی کسی نیوز چینل کی تلاش میں ریموٹ کنٹرول کا بٹن دباتے وقت اسے عجیب بے ہنگم کپڑوں میں ملبوس اچھلتے کودتے طالب علم نظر آتے تو اسے لگتا جیسے واقعی بہت کچھ بدل گیا ہے ۔لیکن جب اسے خبروں کے درمیان خون کے دھبے اور دھوئیں کے بادل دکھائی دیتے تو محسوس ہوتا کہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ وہ اکتا کر ٹی وی آف کر دیتا اور کتابوں سے دل بہلانے لگتا۔۔ ایک دن کی کتابوں کی الماری سے ایک ناول نکل آیا۔اے پورٹریٹ آف اے لیڈی۔یہ ناول وہ کی بار پڑھ چکا تھا۔ تھامگر آج اس کے عنوان کو دیکھ کر ایک بھولی بسری یاد اس کے ذہن کے نہاں خانوں میں روشن ہو گئی۔ جن دنوں وہ بی اے کا امتحان دے کر گھر آیا تھا ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ جس شہر سے اس کا باپ ریٹائر ہوا تھا وہاں ایک شخص کے گھر میں آگ لگ گئی اور دوسری اشیا کے ساتھ مالک مکان رام اودھیش سنگھ کے ضروری کاغذات بھی جل گئے۔ ان کاغذات میں اس کے مکان کا قبالہ بھی تھا۔ اس کی رجسٹری اس کے باپ ہی نے کی تھی۔ وہ پریشان حال اس کے باپ کے پاس آیا۔ اس کا باپ فوراً اس کی مدد کو تیار ہو گیا۔ دونوں اس رجسٹری آفس میں گئے اور وہاں اس کے باپ نے اپنے اثر و رسوخ کی بدولت قبالے کی نقل بہت جلد اسے دلوادی۔ رام اودھیش سنگھ اس مہربانی سے اس قدر خوش ہوا کہ اس نے بہت سارے تحفے تحائف دینے کے ساتھ یہ بھی کیا کہ اپنے بیٹے سے جو کہ ایک پینٹر تھا اس کے باپ کا ایک قدآدم پورٹریٹ بنوا دیا اور پھر وہ پورٹریٹ گھر کے ڈرائنگ روم کی زینت بن گیا تھا۔ باپ کے انتقال کے بعد وہ اپنی ماں کو شہر لے آیا تھا اور قصبے کے مکان میں تالا پڑ گیا تھا۔ اس کی ماں کو جب کبھی اپنے گھر کی یاد ستاتی وہ اسے لے کر چند دنوں کے لئے وہاں چلا جاتا۔ اس طرح کئی سال گذر گئے۔ اس دوران بہت سی اچھی اور بری باتیں ہوئیں۔ اس کی ماں اور بڑی بہن کا انتقال ہو گیا اور اس کی بیوی نے تین بچوں کو جنم دیا۔ ایک لڑکا اور دو لڑکیاں۔ اس کی ترقی ہوئی اور وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہو ا۔ بیوی کہتی کہ قصبے کا مکان فروخت کر دیا جائے۔ اس کا بھی یہی ارادہ تھا مگر پیشے کی ذمہ داریاں اسے مہلت نہ دیتی تھیں۔ پھر بھی سال دو سال پر وہ گھر چلا جاتا اور ہر بار گھر کا کوئی نہ کوئی حصہ مخدوش پاتا۔ وہ اس کی مرمت کرواکر واپس چلا آتا۔ اس نے یہ بھی چاہا کہ کوئی کرایہ دار مل جائے تاکہ مکان کی دیکھ بھال ہوتی رہے مگر اس چھوٹے سے قصبے میں جہاں زندگی جوہڑ کے پانی کی طرح ٹھہری ہوئی تھی اسے اس مقصد کےلئے کوئی نہ مل سکا۔ تب اس نے یہ چاہا کہ کوئی یونہی رہنے کو تیار ہو جائے اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب رہا۔ قصبے کا ایک شخص اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اس مکان میں رہنے کو تیار ہو گیا۔ اب وہ اس جانب سے بالکل بے فکر ہو گیا تھا اور کئی کئی برسوں تک وہاں جانے کی ضرورت محسوس نہ کرتا مگر مکان کی دیکھ بھال اور مرمت کے لئے ہر سال ایک معقول رقم اس شخص کو بھیج دیا کرتا۔ ان دنوں وہ سرحدی علاقے میں تعینات تھا جہاں چاروں اطراف گھنے جنگل تھے اور پھر ان جنگلوں سے چھن کر آتی ہوئی خون اور بارود کی بو نے اسے اپنے باپ کی یاد دلا دی تھی۔ایک بار پھر آدمیوں کا جنگل اُگ آیا تھا۔روتے بلکتے ننگے بھوکے لوگ ۔۔۔۔۔چھولداریا ں۔۔۔۔۔ لاریاں۔۔۔۔۔ بوٹوں کی دھمک ۔۔۔۔۔آنے والوں میں سے کسی نے بتایا کہ اس کے چچا مع اہل وعیال شہید کر دئے گئے۔اس نے یہ خبر صبر و سکون کے ساتھ سنی لیکن کئی دنوں تک اسے ٹھیک طور پر نیند نہ آ سکی تھی۔ پھر جب اس کی نوکری اسے شہر در شہر گھماتی اس شہر میں لے آئی تھی جہاں سے اسے سبکدوش ہونا تھا تو اس نے وہاں ایک بڑا سا فلیٹ خرید لیا تھا۔ لڑکا تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک سے باہر چلا گیا تھا اور لڑکیوں کی شادی ہو چکی تھی۔ شام کے وقت ہر روز تو نہیں مگر اکثر وہ سامنے والے پارک میں ٹہلنے کے لئے چلا جاتا۔ جہاں اسے چند اور بوڑھے مل جاتے۔ وہ لوگ کسی بنچ پر بیٹھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ زیادہ نہیں ہوتا چنانچہ ان کے منہ سے الفاظ کم نکلتے اور خاموشی کا جنگل پھیلتا جاتا۔ ایک دن اسے ایک بوڑھا جس کا نام اسے معلوم نہ تھا بہت خوش نظر آ رہا تھا اور خلاف معمول لگاتار بولتا جا رہا تھا۔ اس کی گفتگو سے اندازہ لگانا دشوار نہ تھا کہ وہ اپنے آبائی مکان میں چند روز گذار کر آیا ہے جس کی وجہ سے اس کی طبیعت میں بشا شت آگئی ہے۔ پارک سے لوٹنے کے بعد اسے بھی اپنے آبائی مکان کے یاد بری طرح ستانے لگی۔ساتھ ہی ساتھ اسے اپنے باپ کی یاد بھی آنے لگی مگر عجیب بات تھی کہ اسے اپنے باپ کی شکل اب بھی یاد نہیں آ رہی تھی۔ اس کے دل میں گھر جانے کی شدید خواہش پیدا ہوئی مگر وہاں جانے کا کوئی بہانہ نہ سوجھتا تھا۔ دل کے بہلانے کو اس نے پرانے البم تلاش کئے اور ایک ایک البم کو دیکھ لیا مگر کسی میں بھی اس کے باپ کی تصویر نہ تھی۔ نہ ریٹائرمنٹ سے پہلے کی نہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی۔ اس کی بیوی نے دریافت بھی کیا کہ آخر اسے کس چیز کی تلاش ہے مگر وہ ٹال گیا۔ ایک دن حسب معمول دن کے دو بجے وہ کھانا کھانے کے بعد آرام کر رہا تھا کہ اطلاعی گھنٹی بجی۔ اس نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے ایک ادھیڑ عمر کے اجنبی کو پایا۔ اس نے بتایا کہ وہ قصبے سے آرہاہے۔ اب وہ قصبہ دھیرے دھیرے شہر میں تبدیل ہو رہا ہے اور ایک نئی فیکٹری کے سنگ بنیاد کے ساتھ ہی زمین کی قیمت بڑھنے لگی ہے اور نئےنئے لوگ وہاں بسنے کے لئے آ رہے ہیں۔اس دوران اس کی بیوی بھی وہاں آکھڑی ہوئی تھی۔ اس نے نووارد سے کہا کہ اس کا آفر انہیں قبول ہے اور وہ لوگ جلد ہی اس مکان کو فروخت کرنا چاہیں گے۔ مکان کے تذکرے کے ساتھ ہی اسے اپنے باپ کا پورٹریٹ یاد آگیا اور اس نے دل میں تہیہ کر لیا کہ وہ اسے لیتا آئے گا اور یہاں ڈرائنگ روم میں آویزاں کردے گا۔ دس روز بعد وہاں جانے کا پروگرام بنا جس کی اطلاع اس نے نووارد کے ذریعہ نگراں کو بھیج دی۔ اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئی کہ اگر کوئی کام کی چیز بچی ہو تو اسے اپنے ساتھ لے آئے۔ اس نے اپنے بہنوئی کو فون کرکے صورت حال بتائی۔ اس کے بہنوئی نے کہا کہ وہ جو منا سب سمجھے کرے۔ جس روز وہ گھر کے لئے روانہ ہوا اسے راستے بھر اپنے باپ کی یاد آتی رہی۔ گاڑی جب اس کے شہر پہنچی تو شام ہو رہی تھی اور آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے جس سے فضا نیم تاریک ہو گئی تھی۔ گھر کا نگراں ان لوگوں کا منتظر تھا۔ اس کی بیوی مر چکی تھی اور بچے اب اس کے پاس نہیں رہتے تھے۔ اس نے ڈرائنگ روم کو صاف ستھرا پایا۔ نگراں نے بتایا کہ وہ اسی کمرے میں رہتا ہے۔ بقیہ کمرے بند رہتے ہیں مگر ان لوگوں کی آمد پر اس نے بیڈروم صاف کروا دیا ہے۔ وہ اس کی باتیں بے دھیانی کے ساتھ سن رہا تھا اور اس کی نگا ہیں دیواروں کا طواف کر رہی تھیں۔ پھر وہ بیڈروم میں گیا۔ وہاں مسہری پر دھلی ہوئی چادر بچھی تھی اور تکئے لگے تھے۔اس اثنا میں رات گھر آئی۔اس کی بیوی نے اسے مشورہ دیا کہ چونکہ وہ لوگ سفر کے تھکے ماندے ہیں لہذا انہیں رات کا کھانا کھا کر جلد سو جانا چاہئے۔جگہ اجنبی تو نہیں تھی مگر اسے دیر رات گئے تک نیند نہیں آئی۔رات کے پچھلے پہر زوروں کی بارش ہوئی اور وہ اندھیرے کمرے میں آنکھیں پھاڑے بجلی کی چمک اور گرج سنتا رہا تھا۔ اس کی بیوی گہری نیند سوئی تھی۔ دوسری صبح دونوں نے پورے گھر کا جائزہ لیا۔ عقبی حصے میں جہاں اس کے باپ کے وقتوں میں سبزیاں اُگا ئی جاتی تھیں،وہاں ایک بے ترتیب جنگل اُگ آیا تھا۔نگراں نے بتایا کہ چونکہ وہ اکیلا ہے اور اس عمر میں جسمانی مشقت سے گریزاں ہے اس لئے اس نے سبزیاں اُگانی چھوڑ دی ہیں۔ اس کی بیوی نگراں سے باتوں میں مشغول ہو گئی ۔اسے ان دنوں کی گفتگو سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے وہ اسٹور روم کی جانب بڑھ گیا۔ حالانکہ اسے ایسی کوئی جلدی نہیں تھی مگر وہ اس پورٹریٹ کو ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ صحیح سلامت ہے کہ نہیں۔ اسٹور روم کا دروازہ بند تھا مگر اس میں تالا نہیں تھا۔ اس نے کواڑوں کو دھکا دیا تو وہ ایک دھیمی کراہ کے ساتھ کھل گئے۔ اندر اندھیرا تھا اور سارے میں ایک ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر ناک پر رکھ لیا اور اندھیرے کمرے میں آنکھیں جمانے کی کوشش کرنے لگا۔ جب اس کی آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو گئیں تو اس نے اسٹور روم کا جائزہ لیا۔ وہاں ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، ٹیبل، مٹی کے گھڑ ے، لوہے کے بکسے، لکڑی کی ایک بڑی الماری اور جانے کیا کیا بھرا تھا۔ آخر اس کی متلا شی نگاہوں کو ایک کونے میں رکھا وہ آدم قدپورٹریٹ نظر آہی گیا۔ پورٹریٹ پر گرد جمی تھی اور اس کے خد و خال نظر نہیں آرہے تھے۔ اس نے بدقت تمام کمرے کی کھڑکی کھولی جو عام روشن دان سے ذرا سی بڑی تھی اور قدرے اونچائی پر تھی۔ کمرہ کچھ روشن ہوا۔ پورٹریٹ دیوار کے سہارے زمین پر کھڑا تھا۔ وہ ا س کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔تو ایسا تھا اس کا باپ۔ سر پر ہلکے سفید بال،چوڑی پیشانی، گھنی گھنی بھنویں، بھاری پپوٹے، ستواں ناک، پتلے ہونٹ اور دوہرے جبڑے۔ وہ کافی دیر تک بغیر پلک جھپکائے اسے دیکھتا رہا۔ اچانک کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی۔ وہ چونک کر مڑا۔ دروازے پر اس کی بیوی کھڑی حیرت سے اسے تکے جا رہی تھی۔ جب اس نے اپنی بیوی کی جانب نگاہ اٹھائی تو اس نے پوچھا۔
اسد عمر کو اسپیکر قومی اسمبلی بنائے جانے کی اطلاعات - ہم سب اسد عمر کو اسپیکر قومی اسمبلی بنائے جانے کی اطلاعات 08/05/2019 ہم سب نیوز 1,218 Views برطرف سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات کی جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی ہیں کہ اگر وہ وفاقی کابینہ میں کوئی قلمدان حاصل کرنے پر راضی نہیں ہوتے تو انہیں اسپیکر قومی اسمبلی لگایا جا سکتا ہے۔ باضابطہ طور پر اس ملاقات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ جس انداز سے اسد عمر کو وفاقی کابینہ سے ہٹایا گیا تھا وہ اس پر اب بھی ناخوش ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام سے مذاکرات اور وطن واپسی پر وہ وزیراعظم کے پاس انہیں بریفنگ دینے گئے تھے لیکن انہیں بتایا گیا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمر کابینہ سے ہٹائے جانے کے اقدام پر اس قدر دلبرداشتہ تھے کہ ان کے قریبی حلقے اشارتاً کہہ رہے تھے کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے والے تھے، تاہم وزیراعظم کی جانب سے بھجوائے جانے والے پیغام پر انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا ہے۔
فِحش یا فحش؟ - وجود فِحش یا فحش؟ لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ''خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ''اوپر سے'' سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی اور۔ (25 سال پرانا پیڈ سنبھال کر رکھنا بھی کمال ہے)۔ جنوری 16 کے دوسرے شمارے میں بھی دو باتوں کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔ اولاً۔ اَہم اور اَحمد کے درست تلفظ کے سلسلے میں یہ بات تو آپ نے درست لکھی ہے۔ تلفظ زبر اور زیر کے درمیان کیا جاتا ہے۔ لیکن ''لین'' کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ درست نہیں کیونکہ لین تو 'و' اور 'ی' کی قسم ہے۔ صحیح صورت یہ ہے کہ اردو میں ہائے ہوز ہو یا حطی (ہ، ح) دونوں سے ماقبل حرف کی زبر آدھی پڑھی جاتی ہے۔ جیسے Men, Pen اور Hen وغیرہ الفاظ میں 'e' کی آواز ۔ اسے آپ کلیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً رَحمت کو عربی میں/ قرآن میں پڑھیں گے تو زبر پوری پڑھی جائے گی، مگر اردو میں یہی زبر آدھی پڑھی جائے گی۔ رحمت، زحمت، شہر، نہر، محض، بحث، اہم، رہ وغیرہ۔ ثانیاً دو رویہ کی بحث کے دوران میں آپ نے درست نشان دہی کی ہے کہ ''رو'' فارسی مصدر رفتن سے امر کا صیغہ ہے اور دوسرے مصدر روئیدن سے بھی امر ہی کا صیغہ ہے۔ مگر دونوں کے تلفظ کے فرق کو واضح نہیں کیا۔ یہ تو خیر چینل والے بھولے ہیں جن کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ غلط تلفظ کو رواج دیا جائے۔ لیکن جہاں تک فحش کا تعلق ہے تو بہت سوں سے غلط ہی سنا جب کہ اس کا تلفظ فُحَش (ف پر پیش، ح پر زبر) ہے جو ''رو'' رفتن سے امر ہے اس کی 'ز' پر زبر ہے اور اس 'ز' کو واولین کہتے ہیں۔ جب کہ روئیدن سے بننے والے ''رو'' میں واؤ مجہول ہے اور اس کا تلفظ ہے جیسے، تو، کو، سو، ہو، جو وغیرہ۔ ان الفاظ میں بھی ماقبل 'و' حرف پر ضمّہ ہے مگر پوری طرح پڑھا نہیں جاتا۔ مزید مثالیں گوشت، دوست، پوست وغیرہ۔ بھائی محمد انور علوی، بہت شکریہ۔ آپ کی بات درست ہے کہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کر سکتے ہیں نہ کوئی اور۔ اپنے بارے میں تو یہ بات ہم شروع سے کہہ رہے ہیں۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ پچھلے کالم (داروگیر پر پکڑ) میں کمپوزنگ کے سہو سے ''روبکار'' روپکار ہو گیا۔ کچھ قارئین سمجھے کہ یہ بھی کوئی لفظ ہے چنانچہ کئی فون آئے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ مطلب تو روپکار کا بھی نکالا جا سکتا ہے۔ مثلا پکار کرنے والے چہرہ۔ لیکن کچھ حق کمپوزر کا بھی ہے اور ہم نے تین غلطیوں تک کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ امید ہے کہ اَہم کے تلفظ کے حوالے سے لاہورہی کے جناب افتخار مجاز کی تسلی (بلکہ تسلاّ) ہو گئی ہو گی۔ دراصل ہمارے مخاطب ماہرین لسانیات نہیں، ہم جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو بڑی معصومیت سے پوچھتے کہ یہ جو آپ 'برو۔زَن' (بروزن) لکھتے ہیں اس کا مطلب اور تلفظ کیا ہے۔ ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ ہمیں دور دور تک پڑھا جارہا ہے اور اس کے سہارے ہمارا بھی نام ہو رہا ہے۔ اب دیکھیے، وہاڑی، پنجاب سے جناب اللہ داد نظامی نے ٹیلی فون کر کے داد دی ہے۔ لتمبر، خیبر پختون خوا کے عدنان صاحب کچھ عرصے سے خاموش ہیں۔ لاہور سے رضا کارانہ طور پر مخبری کرنے والے جناب افتخار مجاز نے ایک بار پھر مخبری کی ہے کہ چینل 24 پر ایک پروگرام چل رہا ہے جس میں بار بار ''فِحش'' کہا جارہا ہے۔ کسی سینئر پروڈیوسر نے بھی تصحیح نہیں کی اور یہی تلفظ دہرایا جارہا ہے۔ یہ تو خیر چینل والے بھولے ہیں جن کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ غلط تلفظ کو رواج دیا جائے۔ لیکن جہاں تک فحش کا تعلق ہے تو بہت سوں سے غلط ہی سنا جب کہ اس کا تلفظ فُحَش (ف پر پیش، ح پر زبر) ہے۔ ٹی وی پر ہم نے ایک اورلفظ سنا ''بل بَوتے پر'' یعنی ب بالفتح۔ آپ میں بُوتا'' ہو تو تصحیح کر دیجیے۔ بُوتا یعنی زور، طاقت، بل وغیرہ۔ اسی ہجے کے ساتھ ایک اور لفظ ''بَوتا'' بہ وائے مجہول ہے جس کا مطلب ہے درخت کا تنا، حقے کی نال، اور بوتہ کہتے ہیں دھات گلانے کی کٹھالی (فارسی)۔ فارسی میں بَوتہ چھوٹے درخت کو بھی کہتے ہیں۔ ممکن ہے بُوٹا اسی بوتے سے پھوٹا ہو۔ اس حوالے سے فارسی ہی کی ترکیب ہے بوتۂ خار اور بوتۂ خاک۔ یعنی کانٹوں بھرا درخت اور آدمی کا بدن جو خاک کا بوٹا ہے اور خاک ہی میں مل جائے گا۔ اور بوتہ اونٹ کے بچے کو بھی کہتے ہیں، مونث اس کا ''بوتی'' ہے۔ اس حوالے سے مزید لکھنے کا بُوتا نہیں ہے۔ آئیے، اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ہم نے اصرار کیا تھا کہ قصائی صحیح نہیں بلکہ قسائی ہے اور اسی سے عربی میں اسم کیفیت قساوت ہے۔ جسارت کے اداریے میں قصاب بھی قساب بن گیا۔ اب یہ واضح نہیں کہ یہ چھوٹے گوشت کا ہے یا بڑے گوشت کا۔ ویسے تو وطن عزیز میں گدھوں کے قصاب بھی موجود ہیں جو صحیح معنوں میں قسائی ہیں، قساوت سے بھرے ہوئے۔ سنڈے میگزین (بقول کسے اتواری مجلہ) میں جناب نجیب ایوبی 1857ء کی جنگ آزادی کا احوال لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ''اکبر کے بعد مغل شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر تخت نشین ہوا۔'' ممکن ہے کہ اکبر کے بعد جہانگیر اور شاہجہاں کو ''نشینی'' کے لیے تخت ہی نہ مل سکا ہو۔ نجیب ایوبی تو کمال کے مورخ ہیں لیکن کسی ادیب شہیر (ایک شمارے میں جو ادیب شہر ہو گیا تھا) نے پڑھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کی ورنہ جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کو ''باغی فوج'' نہ لکھا جاتا جب کہ خود ہی اسے جنگ آزادی قرار دے رہے ہیں۔ باغی قرار دے کر تو انگریزوں کے موقف کی تائید ہو رہی ہے کہ یہ بغاوت تھی۔ چلتے چلتے ایک بات ماہنامہ قومی زبان بڑا معتبر رسالہ ہے۔ اس میں پروف ریڈنگ بھی زیادہ احتیاط سے ہونی چاہیے ورنہ غلطی سند بن جائے گی۔ بیکل اتساہی کے شعری مجموعے پُروائیاں پر تبصرے میں ان کا ایک مصرع یوں ہے ''کیا جانے کب ناگن بن کر ڈس لے گا کوئی لکیر رے جوگی''۔ کیا پتا کل کو کوئی لکیر کے مذکر ہونے کی سند میں یہ مصرع پیش کر دے۔ بہتر تھا کہ مصرعے میں سے 'گا' نکال دیا جاتا تو بے وزنی بھی دور ہو جاتی۔ قومی زبان کے مدیر یہ بھی طے کر لیں کہ ذرائع کا املاکیا ہے، کیا یہ ذرائع ہے یا ذرایع۔ (صفحہ 84)۔ مبصر معصومہ شیرازی کا یہ جملہ بھی دلچسپ ہے ''پانی…… جس کی جلترنگ……'' ہم نے سنا تھا کہ جل پانی ہی کو کہتے ہیں۔
ذاکر نائک: جتنے منہ، اتنی باتیں! - مضامین ڈاٹ کام منگل، ستمبر 22، 2020 ذاکر نائک: جتنے منہ، اتنی باتیں! ندیم احمد انصاری مطبوعہ جولائی 15، 2016 میڈیا میں یہ خبروایرل ہوتے ہی کہ۔۔ ڈھاکہ میں ایک ہندوستانی خاتون سمیت22 لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے والے6 جنگ جوؤں میں سے ایک ذاکر نائک سے متاثر تھا، تب سے وہ انٹلیجنس ایجنسیوں کی نظر میں ہیں۔۔ایک ہنگامہ بپا ہے۔ اس خبر کے آنے کے بعد جتنے منہ اتنی باتیں سننے میں آرہی ہیں،تقریباً ہر روز ایک سے زائد خبریں اس سے متعلق اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اور سوشل میڈیا میں تو ہر کس و ناکس اسی موضوع پر بحث کرتا نظر آرہا ہے۔ جہاں ہندو اپنے کمنٹ میں لکھ رہے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائک وہ آدمی ہے، جس نے ہندوؤں کو ان کی مذہبی کتابوں کی طرف متوجہ کیا، ورنہ پنڈت صرف بچے کی ولادت، نام اور شادی بیاہ کی رسموں تک مذہب کو محدود کیے ہوئے تھے، وہیں مسلمانوں میں اس بات کو لے کر بحث ہو رہی ہے کہ ذاکر نائک پر یہ الزام تراشیاں درست ہیں یا نہیں۔ ایسے میں کچھ نام نہاد مسلمان ایسے بھی نظر آرہے ہیں جو اس موقع پر موصوف سے پرانی خصومت نکالنے کی فراق میں ہیں، ویسے کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ یہ تماشا 45000کے ٹیلی گھوٹالے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو عین ممکن ہے۔آئیے ڈاکٹر ذاکر نائک سے متعلق اہم باتوں کا سرسری جائزہ لیں: بے جاالزامات *ذرائع کے مطابق سابق وزیر عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک کی تقریریں اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں،وہ دوسرے مذاہب کو مذموم قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ قرآن مجید کی روح کے بالکل خلاف ہے۔ اس الزام کے دو جزو ہیں؛ پہلا ان کی تقریروں کا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہونا، جو بہ طور کلیہ کسی طرح درست نہیں اور خود ہم ڈاکٹر ذاکر نائک سے متعدد مسائل میں نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود یہ بات ماننے سے قاصر ہیں۔ دوسر ا جزو ہے دیگر مذاہب کو مذموم قرار دینا، یہ بھی محض افترا ہے۔ ہم نے انھیں جتنا دیکھا اور سنا ہے، وہ تقابل کے ذریعے علمی اور سنجیدہ گفتگو کرتے نظر آئے۔ *ایک خبر یہ ہے کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں منگل (12۔07۔2016)کو مسلم راشٹریہ منچ کے بینر تلے منچ کے نوجوانوں نے اسمبلی کے سامنے ڈاکٹر ذاکر نائک کا پتلا پھونکا، جس کے سماجی رابطہ سربراہ شفاعت حسین کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک مسلم نوجوانوں کو گمراہ کر کے اسلام کی شبیہ خراب کر رہے ہیں، وہ قرآن کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو دہشت گرد بننے کی ترغیب دیتے ہیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایتوں سے گمراہ کر کے جنت کے بجائے دوزخ کے راستے پر جانے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس کا جواب بھی اوپر گزر چکا، پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہے تو کیا آج تک آپ سرکاری طور پر ڈاکٹر ذاکر نائک کی مخالفت ہونے کا انتظار کر رہے تھے، اس سے قبل آپ نے اس جانب پیش رفت آخر کیوں نہیں کی، آج کیا بات ہے کہ اچانک آپ کے لہو میں اسلام کی غلط تعلیمات پیش کرنے والے پر یوں گرمی پیدا ہو گئی؟خدارا جو کہنا اور کرنا ہو، د س بار سوچ لیں! حالات کا فایدہ اٹھاتے ہوئے بعض ہندو انتہا پسندوں نے بھی اپنی زبانیں کھولی ہیں اور زبانیں کیا کھولیں،یوں زہر افشانی کی ہے؛ *شیوسینا نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو سعودی عرب سے ہندوستان لوٹتے ہی گرفتار کیے جانے اور ان کے پیس ٹی وی نیٹ ورک کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور شیوسینا کے ترجمان 'سامنا' نے اپنے اداریے میں لکھا کہ نائک کو اسی کوٹھری میں رکھا جانا چاہیے جہاں پہلے ممبئی حملے کے مجرم اجمل قصاب کو رکھا گیا تھا اور اس کا مطالبہ ہے کہ مودی حکومت اور مہاراشٹر کی دیویندر فڈنویس حکومت کو ہمت دکھانا چاہیے اور اس پیس ٹی وی چینل کی تمام مشینری کو تباہ کر دینا چاہیے۔ 'پیس' یعنی امن و شانتی کے پیغام کی مخالفت کرنا اور اس کو تباہ کرنے کا مطالبہ کرناتو خود امن مخالف ہے، اس پر کیا تبصرہ کیا کہا جائے، اس لیے اس مسئلے کو ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ *مخالفت کا سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ اپنے متنازعہ بیانات سے خبروں میں رہنے والی وشو ہندو پریشد کی سادھوی پراچی نے بھی جلتی آگ میں گھی ڈالتے ہوئے اعلان کر دیا کہ جو کوئی بھی سعودی عرب جاکر ذاکر نائک کا سر کاٹ کر لے آئے گا اسے 50 لاکھ کا انعام دیا جائے گا۔ سادھوی پراچی کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک ہندستان کا سب سے بڑا دشمن ہے، وہ مذہبی رہنما بن کر دہشت گردی کا پلانٹ تیار کر رہا ہے۔ اس مذہبی رہنما اور دیگر مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانچ ہونی چاہیے۔ ویسے تو اب ملک کے سیکولر ہندو بھی ان جیسے لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرتے پھر بھی جب بات مذہبی رہنماؤں کی جانچ چل نکلی ہے تو ہم کہنا چاہیں گے کہ کم از کم اس معاملے میں تو ہندو مسلم تفریق نہ کی جائے، تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ کون کتنے پانی میں ہے! عجب مخالفت *واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کو ان حالات میں ایک الگ نوعیت کی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس طرح کہ انھیں پریس کانفرنس کے لیے ممبئی کاکوئی ہوٹل جگہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے،جیسا کہ ان کے ترجمان عارف ملک نے بتایا کہ ممبئی میں ہوٹلوں کو کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نائک کی پریس کانفرنس کے لیے جگہ نہ دی جائے۔ کم از کم 4 ہوٹل ہیں جنھوں نے پہلے جگہ دینے کی بات کہی تھی، اب وہ اپنی بات سے مکر گئے ہیں، یہاں تک کہ کچھ نے تو پیشگی رقم لے کر بھی اب بکنگ کینسل کر دی ہے۔قارئین کے علم میں ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف اب تک کوئی گرفتاری وارنٹ جاری نہیں ہوا ہے اور نہ ان پر لگائے گئے الزام کا کوئی ثبوت ہی ملا ہے، اس کے باوجود جب ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو جن پر جھوٹے الزامات لگا کر جھوٹے ثبوت گڑھ لیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا آسان ہے۔ کلین چٹ یہ سب باتیں چل ہی رہی تھیں کہ انگریزی اخبار 'دی ہندو' نے یہ خبر شایع کر دی کہ مہاراشٹر انٹلیجنس ڈپارٹمنٹ (ایس آئی ڈی) نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو کلین چٹ دے دی ہے۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ نائک کے یوٹیوب پر موجود سیکڑوں ویڈیو کی جانچ کرنے کے بعد ایجنسی نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، نیز ایجنسی کے سینئر آفسر نے کہاکہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا مقدمہ درج ہوا ہے لیکن اب تک اس سلسلے میں بھی کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا ہے۔ اسامہ بن لادن کی حمایت والے بیان میں بھی دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے، اس لیے اس ویڈیو کو بھی ان پر کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ ویسے اس خبر پر بعض حلقوں سے اس تشویش کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں یہ خبر دامِ فریب نہ ثابت ہو کہ اس بہانے وہ بے فکر ہوکر ملک میں داخل ہوں اور پھر آتے ہی ان پر شکنجہ کس لیا جائے۔ بدخواہوں کے پیٹ میں درد کلین چٹ والی خبر نے ویسے بد خواہوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور اب وہ دیگر الزامات تراش کر ذاکر نائک کو نالائق اور کھلنائک ثابت کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں اور اسی درد سے کراہتے ہوئے بعض نے حکومت کو بلاوجہ انھیں ہیرو بنانے سے محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک کو گرفتار کرنے سے ان کی مقبولیت اور اثر آفرینی میں مزید اضافہ ہوگا۔یعنی انھیں اس سے سروکار نہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر لگے الزامات درست ہیں یا غیر درست، بس انھیں فکر اس بات کی ہے کہ کہیں اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہو۔ ان حالات میں ضرورت تھی کہ حق کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھائی جائے اور خدا کا شکر ہے اس بار حالات نے مختلف مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر جمع کر دیا اور ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف' جو کہ اصلاً اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہے، ہندستان کے اکثر مسلمان متحد ہو کر سامنے آئے۔ *دارالعلوم وقف دیوبندکے صدرمہتمم مولانا محمد سالم قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹرذاکرنائک سے کسی کو بھی ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن ہندستانی میڈیا نے انکے حوالے سے قبل از تحقیق جو منفی رخ اختیار کیا ہے وہ افسوسناک ہی نہیں بلکہ ہندستان کے سیکولر آئین کی اہانت وتوہین کے مترادف ہے۔ *جمعیۃ العلماء ، ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو نشانہ بنائے جانے اور انھیں دہشت گردی سے جوڑنے کی غیر ضروری کوشش کرنے پر افسو س کا اظہار کیا اور کہا کہ نظریانی اعتبارسے میں ان کی تائید نہیں کرتا،لیکن میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا یا سنا کہ وہ کسی کو تشدد یا دہشت گردی کی کوئی ترغیب دیتے ہوں یا کہ مختلف مذاہب کے درمیان کسی طرح کی نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوں۔ اب اگر ان کے بیان سے متاثر ہوکرکوئی شخص یا ان کا کوئی پیرو کار اپنے طور پر کوئی غلط قدم اٹھا تا ہے تو اس کے لیے انھیں کیسے ذمّے دار قرار دیا جا سکتا ہے؟ *جمعیۃ العلماء، ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی نے ذاکر نائک کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کو غلط بتاتے ہوئے منصفانہ رویہ اپنانے کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ذاکر نائک کی بہت سی باتو ں سے مختلف مسالک کے اہلِ علم کو شدید اختلاف ہے اور بعض ان کے اندازِ بیان کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں ، لیکن یہ معاملہ دہشت گردی سے بالکل الگ ہے۔ *جماعتِ اسلامی کے نائب امیرِ جماعت نصرت علی نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ملک کے دیگر مذاہب کی سیکڑوں معروف شخصیات کی طرح اس دور کے تمام ممکن ذرائعِ ابلاغ کے توسط سے ملکی اور عالمی سطح پر دستورِ ہند کے حدود کی پاسداری کرتے ہوئے شائستہ ، مہذب اور علمی انداز میں اسلام کے پیغامِ توحید، رسالت اور آخرت کو انتہائی خوش گوار ماحول میں پیش کرتے رہے ہیں، جس کو ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے کروڑوں افراد برسوں سے توجہ اور دل چسپی سے سنتے رہے ہیں اور ان میں کبھی دستور و اخلاقیات کے خلاف کوئی بات محسوس نہیں کی گئی۔ حیرت ہے کہ اب اچانک ان کی انسانی خدمات کے تجزیے کی ضرورت کا ذکر کرکے اور اسے ایک خاص رنگ دے کرملک میں پہلے سے کشیدہ فرقہ وارانہ ماحول کو مزید خراب کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی ہے۔ *راشٹریہ علماء کاؤنسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر ہندستانی میڈیا کا حملہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں بلکہ یہ ڈاکٹر ذاکر نائک کی اسلامی شناخت پر حملہ ہے۔ان کے بیان کو دہشت گردی سے جوڑنا اور انھیں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والا بتانا غلط ہوگا اور اس کی سخت سے سخت مذمت ہونی چاہیے۔ ان تمام باتوں اور حالات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف جو محاذ آرائی کی جا رہی ہے، وہ دراصل شخصِ واحد کے خلاف نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے، اس لیے ایسے میں اپنے نظریاتی اختلافات کو باقی رکھتے ہوئے ہمیں ان کے ساتھ کھڑ اہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں نظریاتی اختلافات کو اسلام و کفر کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا دوراندیشی سے دور ہوگا۔ نیز جو لوگ ان حالات میں بھی مصلحت و حکمت کو پسِ پشت رکھ کر اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، یا ذاکر نائک کے حوالے سے ہوئے اس اتحاد کو نہیں دیکھ پارہے ہیں، وہ خیال رکھیں کہ انگلیوں کا الگ ہونا جس طرح بعض کاموں کے لیے ضروری ہے، اسی طرح ان کا مجتمع ہو کرمٹھی بن جانا بھی بعض حالات میں ناگزیر ہے، ورنہ ان کا جو انجام ہو سکتا ہے، وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں!
شہبازشریف کی جے آئی ٹی میں پیشی | News and Views شہبازشریف کی جے آئی ٹی میں پیشی وزیراعلی پنجاب شہباز شریف آج پاناما لیکس معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے ہیں میاں شہباز شریف بغیر کسی پروٹوکول کے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے. چودھری نثار علی خان شہبازشریف شریف کی گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے.جبکہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ موجود تھے. جے آئی ٹی نے شہباز شریف سے چوہدری شوگر ملز اور حدیبیہ پیپر ملز کیسز سے متعلقہ ریکارڈ طلب کررکھا تھا۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے حوالے سے بھی وزیراعلی سے پو چھ گچھ کرے گی اور ذرائع کے مطابق شہباز شریف سے میاں محمد شریف کے بیرون ملک کاروبار سے متعلق معلومات لئے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعلی پنجاب کو جے آئی ٹی کی جانب سے سمن میں صبح 11 بجے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، اس موقع پر جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس، اسپشل برانچ، ایف سی اور رینجرز کے 2500 جوان سیکیورٹی پر مامور ہیں جب کہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص یا گاڑی جوڈیشل اکیڈمی میں داخل نہیں ہو سکتی. جے آئی ٹی نے وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن صفدر کو 24جون کو طلب کیا تھا تاہم انہوں نے عمرے کی ادائیگی کے باعث پہلے پیش ہونے کیلئے جے آئی ٹی کو خط لکھا ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمن ملک کو بھی 23جون کو طلب کررکھا ہے ۔ واضح رہے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے صاحبزادے حسین اور حسن نواز جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔
خواتین کے لیٹ کر بچوں کوجنم دینے کے پیچھے چھپی انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی - Pakistan 247 News Home اہم خبر خواتین کے لیٹ کر بچوں کوجنم دینے کے پیچھے چھپی انتہائی شرمناک... خواتین کے لیٹ کر بچوں کوجنم دینے کے پیچھے چھپی انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی لندن(پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز)دوزانو بیٹھنے، دونوں پیروں پر بیٹھنے یا دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں پر جھکنے یعنی گھوڑی بننے سے زچگی کا مرحلہ انتہائی آسان ہو جاتا ہے اور درد زہ بھی کم ہوتا ہے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر خواتین صرف لیٹ کر ہی بچوں کو جنم کیوں دیتی ہیں؟ توزیادہ ذہن پر زور مت دیں ، اب برطانوی میڈیا نے یہ معمہ بھی حل کردیا ہے اور اس کے پیچھے بھی ایک بادشاہ کی عیاشی کارفرما قرارپائی۔ برطانوی جریدے ڈیلی سٹار کے مطابق فرانس کابادشاہ لوئس چہار دہم جنسی بے راہ روی، عیاشی اور بے شرمی میں شہرت رکھتا تھا۔اس نے کئی شادیاں کیں اور اس کی 22اولادیں ہوئیں۔ لوئس چہاردہم نہ صرف خواتین کے ساتھ جنسی تعلق سے تسکین حاصل کرتا تھا بلکہ انہیں بچہ پیداکرتے ہوئے بھی دیکھتا اور اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔اس شرمناک منظر کو اچھی طرح دیکھنے کے لیے بادشاہ بیوی یا لونڈی، جو بھی زچگی کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی کو حکم دیتا کہ سیدھی لیٹ کر بچے کو جنم دے تاکہ وہ بچے کی پیدائش کو پوری طرح دیکھ سکے۔ اس بادشاہ کی یہی بے شرمی ایک روایت بن گئی اور خواتین نے سیدھے لیٹ کر بچوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔ Previous articleپاکستان میں شریعت کا نفاذ، سپریم کورٹ نے لال مسجد کے سابق خطیب کی درخواست پر فیصلہ سنادیا Next articleجمعہ کو بھی چھٹی کااعلان ، سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب حکومت نے عوام پر بجلی بم گرنے کی تیاری کرلی چین بازی لے گیا، پاکستان کو ایسا جدیدترین میزائل ٹریکنگ سسٹم دیدیا کہ دشمن کی نیندیں اڑگئیں، پاکستانی خوش
آصف زرداری کو ضمانت ملنا نیک شگون نہیں، شیخ رشید – ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar سرگودھا: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ضمانت ملنا نیگ شگون نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ریلوے کو ٹریک پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرگودھا ریلوے کی اپ گریڈیشن کے لیے ڈیڑھ کروڑ کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ سے متعلق قانون ساز ی مکمل فیصلہ دیکھنے کے بعد کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری کو ضمانت ملنا نیگ شگون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور فریال تالپورکو باہر جاتا نہیں دیکھ رہا، ان کا این او سی لینا اور کابینہ سے منظوری لینا مشکل کام ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جو کچھ لاہورمیں ہوا وہ قابل مذمت ہے، قائداعظم کے پیشے پردھبہ لگایا گیا، قوم واقعے پرغمگین ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے سرگودھا روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سے 16 گریڈ ملازمین کی مراعات کے لیے وزیراعظم عمران خان سے بات کروں گا۔ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ریلوے کا خسارہ 3 سال میں پورا کریں گے، حکومت گرانے کے لیےغیرجمہوری زبانیں استعمال کی جا رہی ہیں، ملک اب بہتری کی طرف جائے گا اور 3 ماہ میں مہنگائی کم ہوگی، بجلی، گیس کے بل ٹھیک ہو جائیں گے۔
دنیا کی امیر ترین شخصیات اور ارب پتی افراد کے نام، ہر سال ان کے اثاثوں کی مالیت، ان کے کاروبار اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات .رپورٹ۔یوسف تبسم – Ahem News International یک طرفہ عشق ؛؛ شادی شدہ خاتون سے یکطرفہ محبت کرنے والے عاشق جب خاتون سے ملنے گیا تو ایسا کام ہو گیا کہ ملک میں کہرام مچ گیا وہ پھل جس کو نبی آخر زماں سیدنا حضرت محمد (ص) نے 70 بیماریوں کا علاج قرار دیا بڑی خبر ؛؛ چوہدری نثار جاتی امرا پہنچ گئے ؛؛ میاں شہباز شریف سے ملاقات ؛؛ تفصیل جانئے مائیکل جیکسن نے 4 خواہشات کیں ؛؛ تین پوری ہو گئیں ؛؛ چوتھی خواہش کیوں ادھوری رہ گئی تحریر مکمل پڑھیں؛؛ تحریر و تحقیق۔۔چوہدری محمد ریحان فاروقی دنیا کی امیر ترین شخصیات اور ارب پتی افراد کے نام، ہر سال ان کے اثاثوں کی مالیت، ان کے کاروبار اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات .رپورٹ۔یوسف تبسم نومبر 10, 2019 November 10, 2019 0 تبصرے 544 مناظر دنیا کی امیر ترین شخصیات اور ارب پتی افراد کے نام، ہر سال ان کے اثاثوں کی مالیت، ان کے کاروبار اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات عالمی زرایع ابلاغ میں نمایاں جگہ پاتی ہے۔ یہ فہرست ہر خاص و عام کو متوجہ کرتی ہے اور ایسی رپورٹیں سب کی دل چسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ تاہم ایک حالیہ رپورٹ نے نہ صرف عام لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے بلکہ ارب پتی افراد اور مختلف کاروباری شخصیات کے لیے پریشان کُن بھی ہے۔ جرمن میڈیا نے مختلف نیوز ایجنیسوں کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی دولت میں مجموعی طور پر کمی ہوئی ہے جس کا سبب امريکا اور چين کے مابین کشيدگی، غیر یقینی سیاسی صورت حال اور بازار حصص ميں بے قاعدگياں بنیں۔ چین کے بعد امریکی ارب پتی اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پچھلے ايک سال ميں دنيا کے امير ترین افراد کی مجموعی دولت ميں کمی کا انکشاف ''يو بی ايس'' اور ''پی ڈبليو سی'' نامی اداروں نے اپنی مشترکہ رپورٹ ميں کيا ہے۔ ارب پتی افراد کی مجموعی دولت ميں ايک سال ميں 388 بلين ڈالر کی کمی نوٹ کی گئی اور ان کی ملکیت میں مجموعی رقوم 8,539 بلين ڈالر بنتی ہيں۔ اس حوالے سے رپورٹ کے مطابق مختلف خطوں کے لحاظ سے سب سے زيادہ کمی چين کے ارب پتی افراد کی دولت ميں نوٹ کی گئی ہے۔ دوسرے نمبر پر امريکی ارب پتيوں کی دولت ميں اور تيسرے نمبر پر ايشيا پيسيفک خطے ميں بسنے والے ارب پتی افراد کی مجموعی دولت ميں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس رپورٹ ميں يو بی ايس کے سربراہ جوزف اسٹيڈلر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2008 کے بعد يہ پہلا موقع ہے جب جيو پاليٹکس کے سبب ارب پتی افراد کی دولت ميں کمی واقع ہوئی ہے۔ چين سب سے زيادہ متاثرہ ملک ثابت ہوا۔ ڈالر کی قدر کے حوالے سے ديکھا جائے تو چين کے امير ترين افراد کی مجموعی دولت ميں 12.8 فی صد کمی ہوئی۔ اس کے باوجود جوزف اسٹيڈلر کا کہنا ہے کہ چين ميں ہر دو سے ڈھائی دن ميں ايک نيا شخص ارب پتی افراد کی فہرست ميں شامل ہوجاتا ہے۔
پاکستان : 'پیغمبر' ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو'پھانسی'کا حکم ہندوستان افغان باشندوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ جے شنکر خون ،ہندونہ مسلمان ہے بی جے پی قومی مجلس عاملہ کی مٹینگ،وزیراعظم بھی شریک اومیکرون ڈیرھ سے تین میں ہو رہا ہےدوگنا : ڈبلیو ایچ او خصوصی صد سالہ شمارہ کا اجراء Published: 11-07-2021 08:55:00 AM علی گڑھ،: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گزٹ کے خصوصی صد سالہ شمارہ کا وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے جمعہ کو اجراء کیا۔یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات کی یادگار کے طور پر اے ایم یو گزٹ کا خصوصی شمارہ سرسید اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر طارق منصور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "اے ایم یو گزٹ کے صد سالہ شمارے میں صد سالہ تقریبات کے حصے کے طور پر منعقدہ ممتاز شخصیات کے مختلف پروگراموں اور لیکچروں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ شمارہ مستقبل کے لئے ایک ریکارڈ کے طور پر کام کرے گا اور حوالہ جات کے لئے کارآمد ہوگا۔ صد سالہ گزٹ کی اشاعت کے لئے ادارتی کمیٹی نے اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کیا جس کی میں ستائش کرتا ہوں"۔ رجسٹرار، مسٹر عبدالحمید، آئی پی ایس نے بھی صد سالہ گزٹ کو ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے ادارتی کمیٹی کی کاوشوں کی تعریف کی۔ اے ایم یو گزٹ کے خصوصی صد سالہ شمارے میں ان شخصیات کے لیکچرز اور تقریریں شامل ہیں جن کا اہتمام سرسید میموریل لیکچر سیریز کے ایک حصے کے طور پر کی گیا۔ اس میں یونیورسٹی کی اہم عمارتوں اور دیگر یادگاروں کی جھلکیاں بھی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گزٹ کے خصوصی صد سالہ شمارے کی ادارتی کمیٹی میں پروفیسر علی محمد نقوی (ڈائریکٹر، سر سید اکیڈمی)، پروفیسر شافع قدوائی، مسٹر محمد ناصر، مسٹر محمد فیصل فرید اور سمرین احمد شامل تھے۔ یہ خصوصی شمارہ جلد ہی یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ گزٹ کا اجراء بانی درسگاہ سرسید احمد خاں نے 1866ء میں کیا تھا جس میں ادارے سے متعلق اہم دستاویزات شائع ہوئے۔
اللہ کے حضور بیٹھیں تو مجسم کاسہ بن جائیں جمعرات, 24 اگست 2017 18:26 اگر آپ کے ہاتھ میں کاسہ یا کشکول ہے، بھلے آپ نے اسے آگے نہیں پھیلایا ہوا، خواہ وہ آپ کے ساتھ میں پڑا ہے یا آپ کی گردن میں جھول رہا ہے۔ یہ نشانی ہے کہ آپ سِکّہ بند فقیر ہیں۔ آپ اپنا کاسہ کسی اور کے ہاتھ میں پکڑا دیں وہ شخص پلک جھپکنے میں فقیر ہوگیا۔ اِس کاسہ پر غور کرنا چاہئیے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ مٹی سے بنا ہے۔ جو چیز بھی مٹی سے بنی ہو اسے غرور نہیں کرنا چاہیئے۔ کاسہ بھی دیکھنے میں مٹی اور حقیر ہی لگتا ہے۔ دوسری بات اِس کا منہ ہمیشہ کُھلا ہوتا ہے۔ کوئی ڈھکن نہیں ہوتا کہ حسبِ ضرورت کھول لیا اور بند کردیا۔ پھر یہ ہمیشہ خالی ہوتا ہے۔ اِس کے منہ کا رخ آسمان کی جانب ہوتا ہے۔ اِس میں صرف ایک سوراخ یا خلاء ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی نیچے سے یا سائیڈ سے کچھ ڈال دے۔ اِس میں کوئی گندگی نہیں ہوتی۔ کہ کوئی آٹا ڈالے تو کیچڑ میں مل جائے اور کسی کام کا نہ رہے۔ اِس کے پیندے میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا کہ ملنے والی نعمتیں چھن چھن کر گرنے لگیں۔ جہاں سے پیسہ آتا ہے وہیں سے ہاتھ ڈال کر نکالا جاتا ہے۔ کہیں اور سے نہیں۔ اِس کے علاوہ جو کاسہ بنا رہا ہوتا ہے اسے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ کاسہ بنا رہا ہے کسی کے ماتھے کا جھومر نہیں۔ کاسے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بن رہا ہے اور کس کام آئے گا۔ اب اگر وہ بڑی بڑی ہانکنے لگے کہ میں بڑا ہو کر لوگوں کو کھلاؤں گا، دیگ بنوں گا وغیرہ وغیرہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔ اور کاسہ کوئی حادثاتی طور پر بھی نہیں بنتا کہ مٹکا تھا، ٹوٹا اور کاسہ بن گیا۔ ایک دفعہ کاسہ بن جائے بس پھر وہ خالی نہیں رہ پاتا۔ خودبخود مال و اشیاءِ ضرورت اُس میں کھینچتا رہتا ہے۔ اصول کی بات ہے کہ دینے والا کبھی نہیں تھکتا، لینے والا تھک جاتا ہے۔ ہمیں بھی سوچنا چاہئیے کہ انسان بھی مٹی سے بنا ہے۔ اسے غرور زیب نہیں دیتا۔ کاسے کی طرح اسے بھی ایک طرف منہ کر کے مانگنا چاہئیے، جگہ جگہ سوراخ نہیں ہونے چاہئیں۔ اِسے بھی اپنے اندر سے خالی ہونا پڑے گا تمام روحانی بیماریوں سے بغض، ظلم، کینہ، جھوٹ، حسد، لالچ، بےایمانی اور بےحیائی سے۔ خالی نہیں ہوگا تو کچھ آئے گا ہی نہیں اور اگر آ بھی گیا تو آٹا کیچڑ میں مل جائے گا اور اُس نعمت کی برکت و استعمال جاتا رہے گا۔ انسان کے دل میں بھی شرک کا سوراخ نہیں ہونا چاہئیے ورنہ توحید کا نور چھن چھن کر گر جاتا ہے۔ اِسے بھی نکالتے ہوئے سوچنا ہی چاہئیے کہ دئیے ہوئے میں سے دے رہا ہے اپنا کچھ نہیں۔ اُس کے منہ پر بھی کوئی ڈھکن نہیں ہونا چاہئیے کہ مصیبت میں اللہ یاد آئے اور خوشی میں ڈھکن لگ جائے۔ اسے بھی ہر وقت ہر لمحہ مانگتے رہنا چاہئیے۔ انسان کو یاد رہنا چاہئیے کہ وہ کاسہ ہے کسی کے ماتھے کا جھومر نہیں۔ اِس کا تو ڈیزائن ہی کاسے والا ہے، مانگے بغیر چارہ کوئی نہیں۔ اپنے مالک سے نہیں مانگے گا تو کس سے مانگے گا؟ اور انسان کو بھی اپنے اساتذہ و مشائخ کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے جنہوں نے گِھس گِھس کر زندگی بھر کا میل نکال دیا اور کاسے کی شکل واپس لے آئے۔ کاسے کی طرح آپ بھی نشانی بن جائیں کہ جو دیکھے وہ کہہ دے مانگنے والا جارہا ہے۔ جب نماز پڑھیں، جب ہاتھ اُٹھائیں، جب اللہ اور اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا ذکر کریں، جب کسی محفل میں جائیں، جب خاندان میں بات کریں، جب رات کو اللہ کے حضور بیٹھیں تو مجسم کاسہ بن جائیں۔ باہر سے بھی خالی اور اندر سے بھی خالی۔ آئیے عہد کریں کہ اگلے 20 برس صرف اپنے کاسے کو خالی کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ یہ خالی ہوگیا تو سمجھیں بڑا کام ہوا۔ جب آپ کاسہ بن جائیں گے تو دینے والا نہیں تھکتا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ 5100 ارب روپے کے محصولات کا بجٹ تخمینہ طے کر لیا گیا اسلام آباد (92 نیوز) آئی ایم ایف کے ساتھ 5100 ارب روپے کے محصولات کا بجٹ تخمینہ طے کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بجٹ تخمینہ رواں مالی سال کے ابتدائی ٹارگٹ سے 400 ارب روپے کم رکھا گیا ہے۔ مالی سال 2020 اور اکیس میں 5100 ارب روپے محصولات اکھٹی کرنا ہونگی تاہم حکومت ایف بی آر سے ناامید ہے اور ٹارگٹ پورا کرنا ناممکن نظر آنے لگا۔ رواں مالی سال میں بھی محصولاتی شارٹ فال 1200 ارب روپے ہونے کا اندیشہ ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے کاروبار کو مزید نقصان پہنچا تو آئندہ مالی سال میں مشکلات بڑھیں گی۔ لارج اسکیل انڈسٹری اور خدمات کے شعبے سے محصولات 2000 ارب روپے سے زیادہ ملنے کی توقع نہیں جبکہ کسٹم اور انکم ٹیکس کے ذریعے 1200 ارب روپے اکھٹے کیے جاسکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عید سے قبل حکومت نے محصولات کے ٹارگٹ میں مذید کمی کیلئے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ مذاکرات میں بجٹ لے آؤٹ، سالانہ ترقیاتی پروگرام پر نظر ثانی کیلئے بھی بات ہو گی۔
مسلم لیگ ن - Urdu News نواز شریف کا علاج پاکستان میں ہو گا یا لندن میں ،کیا فیصلہ کیا جانے والا ہے؟ بڑی خبر آ گئی اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے نواز شریف کے ذاتی معالج اور دیگرڈاکٹر طےکریں گےکہ علاج کیسے ہوناچاہیے۔ ہوسکتا ہے انگلینڈ میں موجود معالج کو بھی پاکستان بلایا جائے۔ تفصیلات کے مزید پڑھیں لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک دیا ہے،عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے،عدالت نے حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید پڑھیں 24 مارچ , 2019 27 March, 2019 نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے نعیم رشید شہید مسلم لیگ (ن) کی کس سابق خاتون رکن اسمبلی کے بھائی ہیں ؟ مزید تفصیلات سامنے آگئیں ایبٹ آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والی دہشت گردی کی اندوہناک واردات میں جانبازی اور جرات کی تاریخی مثال پیش کرنے والے پاکستانی سپوت نعیم رشید پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا مزید پڑھیں مسلم لیگ ن کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں!!۔۔پنجاب میں پرویز الٰہی کی اصل گیم شروع ۔۔حکومت سے اب کیا چاہتے ہیں،جانیں لاہور (ویب ڈیسک) معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اب اصل گیم شروع ہو گئی ہے۔ن لیگ کے کچھ لوگوں نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ سے ملاقات کی ہے اور ملاقات میں کہا کہ مزید پڑھیں نواز شریف نے سعودی ولی عہد کی طرف سے ملنے والے پیکج کا کریڈٹ اپنے ذمے لے لیا لاہور (اُردو نیوز) سابق وزیراعظم نواز شریف سے آج کوٹ لکھپت جیل میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں کارکنان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا مزید پڑھیں اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے بڑے نواز شریف کو ایک اور جھٹکا دے دیا گیا ہے ، قومی احتساب بیورو(نیب)نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا گیا ہے مزید پڑھیں
تنظیمی ڈھانچہ - Results from #13664 انٹیلیجنس حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے پاکستان میں موجود مختلف مراکز میں تربیت حاصل کی تھی۔ ہفتہ کو کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے پانچ انسپیکٹرز نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمان کے سامنے اپنے بیان ریکارڈ کرائے ہیں۔ اپنے بیانات میں انہوں نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے ذکی الرحمان لکھوی اور ان کے ساتھیوں عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد اور یونس انجم کی تربیت اور صلاحتیوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ یہ پانچوں انسپیکٹرز اوکاڑہ، بہاولپور، رحیم یار خان، منڈی بہاؤالدین اور شیخوپورہ میں سی آئی ڈی اسٹیشنز کے انچارج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث افراد کو لشکر طیبہ کے کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ، مانسہرہ کے علاقے بٹل، ٹھٹہ کے علاقے میر پور ساکرو اور مظفر آباد میں تربیت فراہم کی گئی۔ اوکاڑہ میں تعینات سی آئی ڈی افسر کے مطابق لکھوی لشکر طیبہ کا ' آپریشنل کمانڈر' تھا اور اس نے دوسرے عسکریت پسندوں کو تربیت دی۔ بیان کے مطابق، اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد کا رہائشی لکھوی آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز آلات میں مہارت رکھتے ہیں۔ 'لکھوی آزاد کشمیر میں لشکر طیبہ کا ' کمانڈر' بھی رہ چکے ہیں'۔ فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسپیشل پروسیکیوٹر چوہدری ذوالفقارعلی نے جج کو بتایا کہ عدالت میں پیش ہونے والے انسپیکٹرز انتہائی ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے بیان جمع کرائے ہیں۔ لکھوی کے وکیل خواجہ محمد حارث نے گواہوں سے استفسار کیا کہ آیا انہوں نے ملزمان کو لشکر طیبہ کے مراکز میں تربیت لیتے دیکھا تھا؟ اس موقع پر حارث نے کہا کہ گواہوں کو ان کے موکل کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی کوئی براہ راست معلومات نہیں اور یہ کہ انہوں نے کبھی بھی متعلقہ پولیس افسران کو اپنی خفیہ معلومات سے آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف فرضی کہانی گھڑی ہے اور پانچوں افسران کے بیانات اسی کہانی کا حصہ ہیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ کراچی کو عملاً دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا ہے، گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں 5شیعہ افراد کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ شہر کراچی میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی اور دیگر جماعتوں کی حکومت نہیں بلکہ کالعدم جماعتوں کے دہشت گردوں کی حکومت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا محمد حسین کریمی سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ علامہ مختار امامی نے کہا کہ شہر کراچی میں علامہ آفتاب حیدر جعفری، سید سعید حیدر زیدی کی شہادت کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اورنگی ٹاؤن اور ایف سی ایریا کے علاقے میں 6 شیعہ افراد کی شہادت سندھ پر حاکم تمام اتحادی جماعتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ علامہ مختار احمد امامی نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے جرم میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو فی الفور برطرف کیا جائے اور کالعدم جماعتوں کی تمام تر سرگرمیوں کو روکا جائے ورنہ محرم الحرام میں ان جماعتوں کی شرانگیزی شیعہ قوم میں مزید اشتعال کا باعث بنے گی اور پھر بات علماء کے بس سے باہر ہوگی۔
فاریکس بروکر کا انتخاب کیسے کریں - کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ مسٹر پوریا کریمی 2020/01/16 مددگار اشارے مضمون کے لئے مکمل راستہ: لینکس سے » ایپلی کیشنز » گرین ویتھ اینویڈیا کارڈز کو چکانے کے ل a ایک ٹول. بھارت کا سب سے قدیم کرپٹو تبادلہ OTC اور SBP کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ خصوصیات USDT فکسڈ ڈپازٹ کے مقابلہ میں سود حاصل کریں فوری INR جمع اور واپسی کے اختیارات. میں اپنی مصنوع اپنے گاہکوں تک کیسے پہنچاٶں گا ؟ مزدوری کی پیداوری میں کتنا اضافہ ہوا ہے یا کم ہوا ہے۔ کسی خاص مصنوع کی تیاری کے لئے اشیائے ضروریہ کی مقدار میں کتنا اضافہ یا کمی واقع ہوئی ہے۔ اجرت میں بدلاؤ. دی گارڈین ، 10 اکتوبر ، 2008: لندن کو '' 2008 کے بڑے حادثے '' میں تیسری سب سے بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ سراسر خوف و ہراس اور خوف کے امتزاج کی وجہ سے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر فروخت ہورہی ہے جس کے ساتھ ساتھ دنیا کی بڑی معیشتوں کے مستقبل پر مکمل غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ سرمایہ کار عالمی دباؤ کے امکان کو مؤثر انداز میں قیمتوں کا تعین کررہے ہیں۔ پاک سوزوکی موٹر کمپنی کا 46 فیصد معاہدہ. میڈین وینٹینج وےج: $ 15.12 (2017) ملازمت آؤٹ لک: اوسط سے سست. لیبر کے اعداد و شمار کے بیورو 2026 کے ذریعہ روزگار میں 4 فیصد اضافہ کی توقع رکھتی ہے. اگر کوئی کسی مشکل میں پھنس جائے یا پولیس ناجائز طریقے سے گرفتار کرلے یا غلط الزام لگ جائے تو اس کی رہائی کے لیے سفارش کرنا، اس کو سزا سے بچانے کے لیے سفارش کرنا یا کسی بے روزگار کو روزگار دلانے کے لیے اس کی سفارش کرنا بھی باعثِ ثواب ہے بشرطیکہ اس سفارش سے کسی حق دار کی حق تلفی نہ ہورہی ہو۔ نبی کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم نے اکاؤنٹ میں اس تجویز Ozerov استعمال کیا ہے جو لوگوں کی اصل تشخیص لے تو - صورت حال پر ایک ہی ہو جائے گا. غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹوں میں تاجروں اور نوسکھئیے کے تاجروں کو ایک لیک ان ڈپازٹ کہ بیان کیا گیا ہے، وادم Ozerov مشورہ کیا مندرجہ ذیل. جائزے، وقفے بھی تجارت، نہیں بلکہ بے شمار کے تصور کو تباہ. اس کے علاوہ، ننگی آنکھ وہ حقیقی ہیں کہ، انہوں نے وسائل کی ایک قسم پر واقع ہیں اور آپس میں بہت متنوع بعد سے دیکھ سکتے ہیں. قَاتِلُوْہُمْ يُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِہِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْہِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۝۱۴(التوبۃ ۹: ۱۴) ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمھاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے پر توجہ نہ دینے کے باعث کورونا کی وبا ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، ویکسین بننے کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ تک ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا،کورونا وائرس کا حقیقی حل ویکسین ہی ہے، صحت کے . تفصیل. پے کار شیڈولنگ کی خصوصیات. اپوٹ نے جدید نیٹ ورک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ اس سے قطع نظر اس کا اطلاق کیسے ہوتا ہے - پسند ، ٹویٹ ، پوسٹس یا ریبلوگس - یہ سب ایک ہی تصور پر مبنی ہیں: معاشرتی منظوری۔ لیکن کتنا آن لائن بات چیتپریشان ، این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟" بہترین چارٹ سافٹ ویئر کے پروگراموں کو دستاویز میں استعمال کے لئے یا آن لائن مشترکہ طور پر ایک مثال کے طور پر، مثال کے طور پر ایک infographic یا تصویر، کی طرف سے کاروباری بصیرت کو سمجھنے کے لئے خام ڈیٹا کو آسان بنانے میں آسان بناتا ہے. ہم نے سب سے زیادہ مقبول چارٹ سافٹ ویئر پروگراموں کو دیکھا جس میں چھوٹے کاروباری اداروں کے استعمال کے اختیارات اور دستیاب خصوصیات، جیسے ترمیم کے اوزار اور ٹیمپلیٹس کے لحاظ سے اختیارات کے سلسلے کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ کے سلسلے کو ڈھونڈ لیا. منفی فینکس آرتھو جائزہ کا خلاصہ. یہ پورے دھوپ میں ، یا ایک بہت ہی روشن کمرے میں واقع ہونا چاہئے . ایک رہنما خطوط کے طور پر ، ہر دو یا تین دن بعد اگر یہ زمین میں ہے یا ہر ہفتہ اگر وہ کسی برتن میں ہے تو اس کو سیراب کرنا ضروری ہے۔ مٹی یا سبسٹراٹ کو نم رکھنا چاہئے ، لیکن سیلاب نہیں۔ آبپاشی کی فریکوئنسی علاقے کی آب و ہوا کے مطابق مختلف ہوگی۔ ایک اور مفت ٹول جو گوگل ہمیں پیش کرتا ہے جو ہماری مارکیٹ اسٹڈی میں ہماری مدد کرتا ہے۔ گوگل کے تجزیات ہمیں دیتا ہے صارفین کیا کر رہے ہیں اس کا تعین کرنے کیلئے بہت سارے اعداد و شمار ہماری ویب سائٹ پر جانئے کہ وہ کون سے صفحات پر کثرت سے تشریف لاتے ہیں ، جس وقت وہ ان پر قائم رہتے ہیں ، اگر وہ اچھncingا رہے ہیں تو ، وہ جگہ جہاں سے زائرین آتے ہیں ، تبادلوں کو حاصل کیا، اشتہاری مہموں کی کارکردگی . ایک لازمی آلہ ، جو گم نہیں ہونا چاہئے۔ کارل سیلین اکہن ایک امریکی تاجر اور نیویارک شہر میں آئیکن انٹرپرائزز کے بانی ہیں۔ یہ متنوع اجتماعی ہولڈنگ کمپنی ہے جو پہلے امریکی رئیل اسٹیٹ پارٹنرز کے نام سے مشہور تھی۔ مسٹر اکہن فیڈرل موگول کے چیئرمین بھی ہیں جو پاور ٹرین کے اجزاء اور گاڑیوں کی حفاظت سے متعلق مصنوعات تیار اور فراہم کرتے ہیں۔ .فاریکس بروکر کا انتخاب کیسے کریں اس کے بجائے ، ایکسل کھولنے کے ساتھ ، کھولیں پیوٹ ٹیبل داخل کریں اور اختیار منتخب کریں بیرونی ڈیٹا سورس کا استعمال کریں . پر کلک کریں یا ٹیپ کریں کنکشن منتخب کریں . ، پھر منتخب کریں مزید، ATOMSVC فائل ڈھونڈنے کے ل then اور پھر فیصلہ کریں کہ ٹیبل کو کسی نئی شیٹ میں ڈالنا ہے یا کسی موجودہ میں۔ جبری موٹر 600 حجم کے حجم کے ساتھ۔ تقویت یافتہ فریم۔ بکتر بند سامنے اور سائیڈ پلیٹیں۔ براؤننگ مشین گن کے ساتھ بکتر بند گاڑی لے جانے کا امکان۔ جیسا کہ آپ یہاں اس اسکرین شاٹ میں دیکھ سکتے ہیں کہ ہالووین ٹریفک کا موازنہ 2018 اور اس کے بعد 2019 میں ہوگا۔ ہالووین 2020 کے اس پوسٹ کو لکھنے کے وقت سے ابھی بہت لمبا فاصلہ طے ہے ، لیکن مجھے اپنے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ میں اس کو دوبارہ کروں گا۔ ہالووین پر پن ٹورسٹ ٹریفک بڑھتا جارہا ہے۔ امریکی گاہکوں کے پاس 83 غیر ملکی کرنسی کے جوڑے کے ساتھ ساتھ غیر محتاط سونے اور چاندی کی رسائی ہے۔ امریکہ سے باہر کے کلائنٹس کے پاس تمام غیر ملکی کرنسی کے جوڑے ، نیز اسٹاک ، اجناس ، اشاریہ جات پر CFDs تک رسائی حاصل ہے۔ کریپٹوکرنسی ٹریڈنگ امریکہ میں دستیاب ہے۔ .فاریکس بروکر کا انتخاب کیسے کریں لہذا ، جب آپ ابھی بھی سیکھ رہے ہو تو ، قلیل مدتی تجارت کو اپنی پسند کا منافع مقدار کے حساب سے لیں ، نہ کہ آرڈر کی مقدار سے۔ مثال کے طور پر ، ایک حکمت عملی کے طور پر اسکیلپنگ بڑے پیمانے پر ابتدائی تاجروں اور پیشہ وروں دونوں کے ذریعہ استعمال ہوتا ہے اور بنیادی طور پر واقعی چھوٹے کاروباروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ عام طور پر ، XX صدی میں چند منٹ پہلے اور اب سیکنڈ سیکنڈ تک آرڈر بہت ہی مختصر عرصے میں بند ہوتا ہے۔ ایک آزاد تشخیص کار کی خدمات حاصل کریں جسے انشورنس کمپنیوں نے انشورنس تشخیص کے لئے قبول کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ یہ کریں ، یقینی بنائیں کہ آپ کی انشورنس کمپنی اس رپورٹ کو قبول کرے گی جو آپ کا تخمینہ فراہم کرے گا۔ اگر آپ انشورنس کمپنی اسے قبول نہیں کرتی ہے تو آپ اس پر پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ اندازہ دینے والا لازمی طور پر ٹولز اور طریقے استعمال کرے گا جو انشورنس کمپنی کے منظور شدہ ہیں۔ دونوں تناسب ہمارے لئے سولیسی کی سطح کو ظاہر کرنے کے ذمہ دار ہیں جو کسی کمپنی کو اپنے قرض ادا کرنا پڑتا ہے ، اسے سیدھے الفاظ میں بتانا۔ کمپنی کے لئے یہ بہت آسان ہے کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر ادائیگی کرے اور اس طرح ایک چھوٹی مدت کی مدت میں سود پیدا نہ کرے۔ یہ سمجھنے میں ایک بنیادی فرق ہے کہ دونوں ایک ہی طرح کے فنکشن کو پورا کرتے ہیں ، لیکن ایک مختلف انداز میں۔ "خزانے کا تناسب" کے معنی کے بارے میں ، صرف قلیل مدتی قرضوں (ایک سال سے کم) پر غور کیا جاتا ہے ، اس کا موازنہ ان وسائل سے کیا جاتا ہے جو کمپنی کے پاس موجود ہیں ، مائع وسائل ، یا یہ بھی مختصر مدت میں ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خزانے کا تناسب کمپنی کے قرض کی ادائیگی کے لئے کمپنی کی سالانسی کی پیمائش کرنے کے لئے ذمہ دار ہے۔
پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر مہنگا لیکن سٹاک مارکیٹ میں اتنا زیادہ اضافہ کہ کاروباری افراد بھی دنگ رہ گئے حکومت نے ابھی ڈھنگ سے کوئی اعلان بھی نہیں کیا تھا کہ عوامی تاثر سامنے آگیا کہ پنڈورا پیپرز کے معاملے پر کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یہ تاثر بلاوجہ ہرگز نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد بہت سنگین نوعیت کے معاملات پر آٹھ، دس کے قریب تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے مگر سب سے ایک ہی نتیجہ برآمد ہوا" ٹائیں ٹائیں فش"۔ پاکستانی عوام طویل عرصے سے دیکھتے آرہے ہیں کہ حکمران اشرافیہ کے نزدیک کرپشن سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔بدعنوانی اور لوٹ مار کی وارداتوں کو صرف سیاسی یا انتقامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ احتساب کا عمل اس حد تک بھونڈا اور یکطرفہ ہے کہ بچے بچے کو پتہ چل چکا کہ کس کے خلاف کارروائی کیوں کی جاتی ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب پانامہ لیکس کے نام پر طوفان کھڑا کیا گیا اور پھر فیصلہ اس شخص کے خلاف آیا جس کا نام لسٹ میں موجود ہی نہ تھا - نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے اقامہ کو جواز بنانا پڑا۔اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں چار سو کے قریب پاکستانیوں کے نام تھے مگر کسی اور کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا کہ ہمارے ہاں احتساب کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اس حوالے سے کئی بار ریمارکس دے چکے ہیں۔ میڈیا نے بھی باربار یہ مسئلہ اٹھایا مگر اصل حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ حکمران اشرافیہ کا اپنا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر سب کے یکساں احتساب کا رواج پڑ گیا تووہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ اس لئے وہ امتیازی احتساب کے لئے نہ صرف منصوبہ بندی کرتی ہے بلکہ دیگر اداروں کو بھی بے دردی سے اس مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ شرمناک سلسلہ اب سے نہیں بلکہ بہت واضح طور پر جنرل ایوب خان کے دور سے جاری ہے۔ سزائیں لاوارث اور بے وسیلہ لوگوں کے لئے ہیں یا پھر ایسی شخصیات کے لئے جن کو مخصوص مقاصد کے لئے نشان عبرت بنانا ہو۔ پنڈورا پیپرز میں پانامہ کے برعکس کوئی ایک بھی ایسا ٹارگٹ نظر نہیں آرہا سو کہا جاسکتا ہے کہ ان کا انجام ردی کی ٹوکری کے سوا کچھ نہیں۔ 700 پاکستانیوں کی اس لسٹ میں اب تک جو نمایاں نام سامنے آچکے ان میں وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کے خاندان کے تین افراد، وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی عمر شہریار سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور ان کے خاندان کے دو افراد،وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی، سینئر صوبائی وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے خزانہ مالیات وقار مسعود خان کا بیٹا، اسحق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار،نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی اور نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی، وزیراعظم کے گشتی سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری علی جہانگیر صدیقی، ابراج کے بانی عارف مسعود نقوی، بڑی کاروباری شخصیت طارق شفیع شامل ہیں۔ آف شور کمپنیوں اور جائیدادوں کے مالکان میں سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شفاعت علی شاہ کی اہلیہ اور بیٹا، جنرل (ر) محمد افضل مظفر کا بیٹا، جنرل (ر) نصرت نعیم، جنرل (ر) خالد مقبول کا داماد، جنرل (ر) تنویر طاہر کی اہلیہ، جنرل (ر) علی قلی خان کی بہن، ایئر مارشل عباس خٹک کے بیٹے اور ریٹائرڈ آرمی آفیسر اور سیاستدان راجہ نادر پرویز شامل ہیں۔جونہی یہ لسٹ سامنے آئی اس میں شامل افراد نے خود ہی اپنی صفائی پیش کرکے خود کو بری کرا لیا۔ سب سے دلچسپ ردعمل سابق کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ر شفاعت علی شاہ کی جانب سے سامنے آیا۔ لندن کے پوش ایریا میں بیش قیمت فلیٹ کا مالک نکل آنے پر انہوں جہاں یہ دعویٰ کیا کہ مذکورہ فلیٹ خریدنے کے لئے رقم لاہور میں پلاٹ فروخت کرکے حاصل کی گئی تھی۔ ساتھ انہوں نے یہ الزام بھی لگا دیا کہ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں شامل ایک صحافی کا بھارت سے کنکشن ہے اور یہ رپورٹ پاک فوج کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ یاد رہے کہ جنرل(ر) شفاعت شاہ سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کو لتاڑنے اور کرپٹ قرار دینے کے لئے اکثر متحرک رہتے ہیں۔ یہ قول و فعل کا تضاد ہی ہے کہ جس کے سبب آج پورا معاشرہ طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہے۔ یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے پنڈوار لیکس کی تحقیقات اپنی ٹیم سے کرانے کا اعلان کیا ہے۔چند ماہ قبل جب لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی فیملی کے بیرون ملک بھاری اثاثے سامنے آئے تو ایک موقع پر بظاہر وہ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی حیثیت سے استعفا دینے پر تیار ہو گئے تھے۔ جب وہ اپنے اس ارادے پر عمل کرنے کے لئے وزیر اعظم کے پاس پہنچے تو انہوں نے بغیر دیکھے ہی تمام کاغذات درست قرار دے کر کام جاری رکھنے کی فرمائش کردی۔ وہ تو حالات کا جبر تھا کہ جنرل (ر) عاصم باجوہ کو جانا پڑا ورنہ یہ حکومت آج بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہوتی۔ ہائبرڈ نظام تو چلتا ہی طاقتوروں کے اشارہ ابرو پر ہے۔ افسوس کی بات تو ہے کہ مارشل لا سے لے کر ان ڈائریکٹ غیر جمہوری نظام کے ذریعے تمام تر اختیارات اور وسائل کنٹرول کرنے کے چکر میں تمام ریاستی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا، اپوزیشن کی جماعتیں کھلے عام عسکری قیادت کے نام لے کر مختلف واقعات پر ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کا یہ حال ہے کہ وکلا کنونشن میں ہزاروں قانون دانوں کے مجمع میں جج حضرات کے نام لے کر کہا جارہا کہ وہ قانون پر عمل نہیں کر رہے۔ باقی اداروں کی پہلے ہی کچھ خاص حیثیت نہیں۔ تنازعات کا ایک جھکڑ چل رہا ہے جو کسی بھی وقت تباہ کن طوفان کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔چیئرمین نیب کے معاملے کو ہی لے لیں۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال کی جگہ کوئی اور آجاتا تو وہ بھی کیا کرلیتا؟ لیکن حکمران اشرافیہ کا خوف ملاحظہ فرمائیں کہ پورا ملک اور ادارے آہنی گرفت میں لینے کے باوجود کسی قسم کا چانس لینے کے لئے تیار نہیں۔ شاید کچھ تلخ تجربات ہیں۔ جنرل کیانی کے دور کا ایک بہت مشہور واقعہ تو سب کو یاد ہے جب اربوں کی کرپشن میں ملوث سابق جنرلوں کو صاف بچا لیا گیا تھا۔جنرل مشرف دور کے اس سکینڈل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رپورٹ کیا تھا۔ پی اے سی نے تین انکوائری کمیٹیاں بنائیں اور جنرل سکینڈل میں ملوث پائے گئے۔ کیس بہت ٹھوس اور واضح تھا حتیٰ کہ خود فوج کی انکوائری میں بھی یہی رپورٹ آئی۔ اس وقت چودھری نثار علی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین تھے۔کہا جاتا وہ کسی طرح کارروائی نہیں چاہتے تھے۔ مگر بات ایک دفعہ پھر سے گرم ہوتی نظر آئی تو معاملے کو مکمل طور پر دبانے کے لئے جنرل کیانی نے وقتی طور پر اعلان کر دیا کہ ان فوجی افسروں کو دوبارہ نوکری پر بحال کیا جاتا ہے اور ان کا کورٹ مارشل ہوگا۔ وہ دن اور آج کا دن راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ اب تو آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی کہ پنڈورا پیپرز کا پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند کردیا گیا ہے۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ نے کیا خوب کہا ہے
صدف طاہرین 2020/12/11 مطالعہ کے اوزار آن-بیلنس حجم (OBV) جمع-تقسیم اشارے نے حیرت انگیز طور پر کمزور نمونہ تیار کیا ہے جو حصص یافتگان کے لئے پریشانی کا اشارہ کرسکتا ہے۔ او بی وی نے جون 2018 میں ایک ہمہ وقت اعلی عہدے پر پوسٹ کیا اور فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں تقسیم کی لہر میں داخل ہوا جو دسمبر میں 11 ماہ کی کم ترین سطح پر ختم ہوا۔ اسٹاک نے متعدد مزاحمت کی سطح کو توڑ کر ہر وقت کی اونچ نیچ تک پہنچنے پر ، اپریل 2020 میں اس کے بعد جمع ہونے والی قیمت کی قیمت سے مقابلہ کیا۔ اس مدت کے دوران اشارے صرف وہاں بیٹھے تھے ، جس سے خریداری میں بہت کم دلچسپی کی جا رہی تھی۔ زازل۔ ریڈبل اور سوسائٹی 6 کی طرح ہی ہے ، اس میں آپ اپنے کام کے ساتھ صرف ڈیزائن اپ لوڈ اور مصنوعات بیچ سکتے ہیں۔ اس یونٹ پر کبھی الکحل یا دیگر سالوینٹس استعمال نہ کریں۔ ایک cryptocurrency پرس کیا ہے - فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں اگر آپ ایسا بیگ چاہتے ہیں جو ہر ایک کی آنکھوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے ، تو یہ اصلی چمڑے کا آپشن بڑی حفاظت فراہم کرتا ہے اور اس میں لوازمات یا پردیی آلات کے لئے کافی جگہ موجود ہے۔ واضح رہے کہ 18-2017 میں مجموعی بجٹ 51 کھرب روپے تجویز کیا گیا تھا جبکہ مالی سال 17-2016 کے بجٹ میں دفاع کے لیے مختص بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں ہوا تھا، 860 ارب میں سے 841 ارب روپے کا بجٹ خرچ کیا گیا تھا۔ ایمان سلیمی ، مدافع فصل پیش تراکتور و از گزینه های فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں مدنظر پرسپولیس برای خط دفاع ، یک استوری معنادار را در اینستاگرام منتشر کرد. کوڈ ایبل ہے a آئی پیڈ کے لئے پروگرامنگ ایپ استعمال کرنے کے لئے آزاد ہے . ٹیگ لائن ، پڑھنا سیکھنے سے پہلے کوڈ کرنا سیکھیں تفریحی کھیل کے ذریعہ پروگرامنگ سیکھنے کے ان کے طریق کار سے مستعمل فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں ہے۔ کوڈ ایبل ہے خاص طور پر 5 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لئے ڈیزائن کیا گیا ، تاکہ وہ چھوٹی ہدایات کے ساتھ گیم کھیل کر پروگرامنگ سیکھ سکیں۔ کوڈایبل کے پاس پروگرامنگ کی 3 سطحیں ہیں جن میں کے -2 گریڈ ، تیسری - 5 ویں جماعت اور چھٹی - 12 ویں جماعت شامل ہیں۔ [سائٹ دیکھیں] ii۔ 500،000کی حد صرف صارف کے لیے ہے بینک کے اندرونی ٹرانسپکشن پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی، نہ ہی اس پر کسی قسم کے اخراجات لگیں گے۔ دیگر اعلی معیار والے لکڑی کی طرح، اگر مناسب طریقے سے دیکھ بھال کی جاتی ہے تو ایک اچھی طرح سے تشکیل شدہ اونک ٹکڑا زندگی بھر میں ہوسکتا ہے. لیکن آپ کے اگلے اوک کی خریداری میں سے زیادہ تر حاصل کرنے کے لئے، کچھ چیزیں موجود ہیں جو آپ کو سامنے جاننے کی ضرورت ہوگی. مندرجہ ذیل تجاویز فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں کے ساتھ، اوک فرنیچر خریدنے کے لۓ آپ کے کمرے کا انتظار ہوا ہے. بدقسمتی سے ، آپ کی آنکھیں ابھی تک کیسے چلتی ہیں شاید ایسا ہی نہیں ہے۔ بٹ کوائن میں بڑھتی دلچسپی فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت رہی ہے۔ 2017 کی پہلی ششماہی کا زیادہ تر حصول $ 1000 کے قریب منڈلانے کے بعد ، اس نے اکتوبر میں 5000 $ کو مارا اور نومبر کے شروع میں in 7،000 کی خلاف ورزی کی۔ اب ، دسمبر 2017 تک ، اس نے ایک نیا ریکارڈ بلند کیا ، جس میں ایک بٹ کوائن کی مالیت، 17،450.01 (14 دسمبر ، 2017 تک) ہے۔ (ویسے ، آپ کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس کریپٹو کرینسی میں سرمایہ کاری کرنے کے ل you آپ کو پورے بٹکوئنز کی ملکیت نہیں ہے۔ آپ بٹ کوائن کا فریکشن یا فیصد خرید سکتے ہیں۔) ڈمی کے لئے آفس 365 ، دوسرا ایڈیشن مجھے یہ ثابت کرنے کا ایک بہت بڑا کام کیا کہ سبسکرپشن سافٹ ویئر کے خلاف میرا تعصب بے بنیاد ہے۔ اب میں دیکھ سکتا ہوں کہ خریداری کے ماڈل میں کاروباری صارفین کے لئے واضح فوائد ہیں۔ کتاب واقعی گھریلو صارفین کے فوائد میں نہیں گزری ، اسی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ عنوان سے یہ واضح ہوجانا چاہئے تھا کہ اس کی توجہ کیا ہے۔ مندرجہ ذیل چارٹ کا استعمال کرتے ہوئے کریڈٹ انفارمیشن اسکور کا تعین کیا جاتا ہے: اور ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو آپ کے ذہن میں پیش کر کے ، حقیقی اشیاء کے ساتھ انجام دینے کے بغیر ان کا انجام دے سکے گا۔ طوفان سے پہلے اپنے گراہکوں کو پاپ ٹارٹس اور بیئر کے شوق فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں کو پہچانتے ہوئے ، وال مارٹ اسٹور کے مینیجر طوفان کی راہ میں دونوں اشیاء کی مقدار میں اضافہ کا حکم دیتے۔ نوزائیدہ بچوں کو کمیونٹی فورم کس طرح کا جواب دیتا ہے؟
مریم اپیک 2020/10/20 فاریکس انڈیکیٹرز آزمودہ نسخہ ہے کہ سڑک کنارے جس ہوٹل پر سب سے زیادہ ٹرک کھڑے نظر آئیں، آنکھ بند کر کے وہیں رُک جائیں کیونکہ ڈرائیور حضرات اچھے کھانے کے معاملے میں ذرا بھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ فراموش کردن استفاده از توقف ضرر یکی از بزرگترین اشتباهاتی است که می توانید به عنوان تاجر فارکس مرتکب شوید! در حالت ایده آل ، باید آن را در حدود 10-15 پیپ زیر جایی که وارد کرده اید قرار دهید . مثال کے طور پر ، آپ اپنے تمام عہدوں پر 2٪ 2021 کے بہترین SEBI ریگولیٹڈ بروکرز کی حد مقرر کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے 2٪ سے زیادہ تجارتی فنڈز پر خطرہ مول نہیں لیں گے ایک cryptocurrency تجارت. اس سے قطع نظر کہ کتنا ہی ذہانت والا بازار ظاہر ہوسکتا ہے ، آپ ہمیشہ اس 2٪ پر قائم رہیں گے۔ اگر جی ٹی آئی کے اشارے درست ہیں اور بٹ کوائن کا زوال جاری ہے تو ، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تاجروں نے جو شرط لگا رکھی ہے کہ کریپٹو کرینسی to 50،000 تک جاسکتی ہے ، اس سے بڑی حد تک غلط حساب کتاب ہوگا۔ کرپٹو میگا بیلوں نے 2019 کے پہلے نصف حصے میں بٹ کوائن کی قیمتوں میں اضافے کو اس علامت کے طور پر دیکھا تھا کہ کرنسی میں واپسی ہو رہی ہے۔ نیو یارک کے بٹ کوائن سے ماخوذ مارکیٹ ، لیجر ایکس نے اطلاع دی کہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ، نامعلوم تاجر نے بٹ کوائن کے لئے ہر ایک ،000 50،000 کی قیمت والے ٹیگ پر اختیارات خریدے ، جو 23 مئی سے 2020 کے درمیان جائز ہے۔ ایک اور آسان خصوصیت ہاٹکیز ہے۔ ہاٹکی ایک مخصوص فنکشن کو شارٹ کٹ فراہم کرتی ہے۔ ایک فنکشن جو مجھے آسان لگتا ہے وہ ہے ہر چیز کو پڑھے ہوئے نشان زد کریں سی ٹی آر ایل-اے۔ CTRL-A دبانے سے تمام مضامین کو ایک مخصوص فولڈر میں پڑھے ہوئے نشان کے طور پر نشان زد کیا جائے گا۔ یہ خاص طور پر بہت سارے شائع شدہ مواد کے ساتھ کم افادیت والے فیڈز کے ل for مفید ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر سیلاب کے بھاری نقصان کی وجہ سے مکان مالک مکان چھوڑ دیتا ہے تو ، مالک انشورنس کمپنی کو جان بوجھ کر گھر چھوڑنے کا تحریری نوٹس فراہم کرتا ہے۔ انشورنس کمپنی گھر پر دعویٰ کرتی ہے اور اسے دوبارہ بیچنے کی کوشش کرتی ہے۔ چونکہ نجات دہندہ کے لئے ترک اور نجات منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے ، لہذا متعدد جماعتیں ایک لاوارث اثاثہ یا جائیداد پر دعویٰ کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ Exness کے ساتھ گرتے اور بڑھتے ہوئے پچر چارٹ کے نمونے: Forex ٹریڈنگ کے لئے مکمل رہنما. ریگولیٹرز غیر ملکی کرنسی کی صنعت میں دھوکہ دہی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک سے زیادہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔ باقاعدہ ادارہ متعدد مختلف پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرتا ہے اور متعدد ممالک میں اس کی موجودگی ہوتی ہے۔ وہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں بھی کام کرتے ہیں۔ کموڈٹی فیوچر ٹریڈنگ کمیشن (سی ایف ٹی سی) ریاستہائے متحدہ امریکہ میں حکومت کا غیر ملکی کرنسی کا ضابطہ کار ہے ، جبکہ نیشنل فیوچر ایسوسی ایشن (این ایف اے) ریگولیشن کے معیارات طے کرتا ہے ، اور نجی شعبے سے غیر ملکی کرنسی کے ڈیلر ممبروں کو اسکرین کرتا ہے۔ یہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ اس کا ایک نظریہ ایک عین سائنس نہیں ہے ، اور شاید یہ سچ نہیں ہے۔ پھر بھی ، یہ ایک نظریہ بہت حد تک بااثر ہے ، اور بہت سے تاجر اور سرمایہ کار اسے اپنے طریقہ کار کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔ اوورٹائم ، بچوں کی مشقت ، آرام سے وقفے ، اور دیگر سے متعلق ، ریاستہائے متحدہ میں ہر ریاست کے دوسرے ریاستوں کے مختلف قوانین موجود ہیں۔ امریکی محکمہ محنت کی ایک ویب سائٹ ہے جس میں گھنٹہ ملازمین سے متعلق ریاستی قوانین سے متعلق لنک شامل ہیں۔ اس کے بعد سورۃ صف ہے۔ اللہ پاک ارشاد ہے کہ اے ایمان والو وہ کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں، یعنی قول و فعل کا تضاد بہت بری بات 2021 کے بہترین SEBI ریگولیٹڈ بروکرز ہے۔ اللہ پاک ان لوگوں سے محبت کر تے ہیں جو اللہ کے راستے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں۔ اس کے بعد جناب عیسیٰ کی نبی اکرم کے بارے پیشین گوئی کا ذکر ہے۔ کچھ قیمتوں پر عمل کرنے والے تاجر اکثر روزانہ یا ہفتہ وار ٹائم فریم استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ، ان کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کہ ایک یومیہ بار میں 5 منٹ کی بار سے زیادہ اہم اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس جتنا زیادہ ڈیٹا ہے ، بار کے ذریعہ زیادہ قابل اعتماد سگنل تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ اشارے کامیاب تجارت کرنے میں معاون ہیں۔ فروخت کردہ سامان (COGS) نمبر کی قیمت میں شاید انوینٹری آئٹمز شامل ہیں جو آپ فروخت کرتے ہیں (اگر آپ کسی ایسے کاروبار میں ہیں جس میں آپ انوینٹری کو دوبارہ فروخت کرتے ہیں) اور دیگر اشیاء ، جیسے فریٹ اینڈ سیل کمیشنز۔ لہذا ، آپ کوئک بوکس انکم اسٹیٹمنٹ سے زیادہ سے زیادہ یا تمام متغیر لاگت کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ کنورٹر گروپ ہیرا پھیری کے لئے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر متعدد فائلوں کو جے پی ای جی فارمیٹ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہو تو ان سب کو منتخب کریں اور ان میں سے کسی پر بھی دائیں کلک کریں۔ مزید اقدامات واضح ہیں ، لیکن اگر بہت ساری فائلیں معمول کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہیں تو ، تبادلوں میں کافی وقت لگے گا۔ آپ کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ پروگرام منجمد ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے - اس میں ابھی بہت کام ہے ، آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ فرنیچر: فرنیچر کا رنگ اس نظر سے ملتا ہے جس کو آپ حاصل 2021 کے بہترین SEBI ریگولیٹڈ بروکرز کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ سبز پہاڑوں کو رنگنے کے لئے تلاش کر رہے ہیں تو ، لکڑی یا سرمئی رنگ کا فرنیچر مناسب ہوگا۔ اور اگر آپ نیلے اور جامنی رنگ کے پہاڑوں کے ساتھ جارہے ہیں تو ، پھر سفید یا سفید فام فرنیچر کے ساتھ جائیں۔ قائدین کا یہ خود غرضانہ رویہ افریقہ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک اس کے نتیجے کے بغیر نہیں ہے. آخر کار ، یہ عام آدمی ہی بھگت رہا ہے۔ ماحولاتی شکایات یا اندیشے ملازمین کے مسائل یا اختلافات بزنس شراکت داروں کے ساتھ اختلافات بزنس کو بند کرنا ذہنی املاک یا اثاثوں (اِنٹیلیکچوئل پراپرٹی) کا تحفظ کرنا. اعداد و شمار 4 (نیچے) میں 15 منٹ کا جی بی پی / سی ایچ ایف چارٹ قیمتوں کی ایک مثال کو ظاہر کرتا ہے کہ محور لائن کو اطاعت کرتے ہیں۔ زیادہ تر حصے کے لئے ، قیمتوں کو پہلے مڈ پوائنٹ اور محور کی سطح کے اندر ہی محدود کردیا گیا تھا۔ یورپی کھلی (2 AM EDT) میں ، جی بی پی / سی ایچ ایف نے ریلی نکالی اور محور کی سطح سے بالاتر ہوگئے۔ پھر قیمتیں محور کی سطح پر پیچھے ہٹ گئیں ، اسے تھام لیں اور ایک بار پھر ریلی نکالی۔ امریکی مارکیٹ کے اوپن (7 AM EDT) سے پہلے اس سطح کا ایک بار پھر تجربہ کیا گیا تھا ، جس مقام پر تاجروں کو GBP / CHF کے لئے خریداری کا آرڈر دینا چاہئے تھا کیونکہ محور سطح پہلے ہی ایک اہم سپورٹ لیول ثابت ہوئی تھی۔ ان تاجروں کے لئے جنہوں نے اس حکمت عملی کو استعمال کیا ، GBP / CHF سطح سے اچھال کر ایک بار پھر ریلی نکالی۔ ۳۰ . انہوں نے پاکستان کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے انسٹی ٹیوٹ میں بیسک اکاؤنٹنسی کورس کے لئے بھی داخلہ لیا ہوا ہے. آزمائش کی لمبائی پر 2021 کے بہترین SEBI ریگولیٹڈ بروکرز منحصر ہے ، آپ $ 5 اور $ 10 کے درمیان کما سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مشتق خریدنے کے لئے ادائیگی بھیجنا چاہئے اور ہیجنگ کی حکمت عملی کو ایک ساتھ رکھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر ، خریداری کے اختیارات میں ادائیگیوں کو پریمیم کہا جاتا ہے۔ جب یہ اختیارات استعمال نہیں کیے جاتے ہیں تو یہ ادائیگی نقصان میں پڑ جاتی ہے۔ تاثرات کیا صارفین کی تعداد میں کتنے زمرے کے فیڈ ، تلاش کے نتائج اور اپنی فیڈ دیکھتے ہیں؟ دیکھو کہ کون سے مطلوبہ الفاظ اور زمرے سب سے زیادہ نقوش پاتے ہیں۔ کیا چرس کی عادت پڑ جاتی ہے؟ پیروکاروں کو پلیٹ فارم پر 30 فیصد منافع بخش فیس ادا کرنا ہوگی جو پھر اس کی درجہ بندی کے مطابق ٹائکون 2021 کے بہترین SEBI ریگولیٹڈ بروکرز اور تاجر کے مابین تقسیم کی جائے گی۔ جتنے زیادہ پیروکار ہوں ، اتنے ہی بڑے فوائد۔ ''یااللہ! میری رہنمائی کر۔ یااللہ! میری رہنمائی کر''۔ ایکس ایم آر مائنر ایک بدمعاشی ایپلی کیشن ہے جس کو کان میں لینے کے لئے سسٹم کے وسائل کا غلط استعمال کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے کرنسی کریپٹوکرنسی . ڈویلپرز مختلف ایسوسی ایٹ ویب سائٹس (RIG Exploit Kit) کا استعمال کرتے ہوئے اس ایپ کو پھیلاتے ہیں۔ لہذا ، ایکس ایم آر مائنر اکثر صارفین کی رضامندی کے بغیر سسٹم میں دراندازی کرتا ہے۔ ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سارے صارفین نادانستہ طور پر ان سائٹس کا دورہ کرتے ہیں - انہیں ممکنہ طور پر ناپسندیدہ پروگراموں (PUPs) اور دوسری بدمعاش سائٹس کے ذریعہ دیئے جانے والے دخل اندازی والے اشتہارات کے ذریعہ ری ڈائریکٹ کیا جاتا ہے۔ ری ڈائریکٹس کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ ، PUPs کے حساس معلومات اکٹھا کرنے اور دخل اندازی کرنے والے اشتہارات فراہم کرنے کا امکان ہے۔ ہر ایک جو کام پر اچھا کام کیا سورج ، ساحل سمندر ، پہاڑوں . اچھی طرح سے ، بنیادی طور پر ایک بار میں ایک بار معیاری تعطیلات سے لطف اندوز ہونے کے مستحق ہیں۔ اس کے علاوہ ، تعطیلات کا ایک اچھا وقت پیداوری کو بہتر بنا سکتا ہے اور آپ کو حوصلہ افزائی کی تازہ خوراک دے اپنے کام کی طرف. اپنے پہلے تیر کی شوٹنگ شروع کرنے کے ل equipment آلات کے دائیں ٹکڑوں کو لینے کے ل To ، تھوڑی بہت تحقیق 2021 کے بہترین SEBI ریگولیٹڈ بروکرز کی ضرورت ہے تاکہ آپ اپنی دلچسپیوں اور ضروریات کے مطابق مناسب میچ کا تعین کرسکیں۔
عمان ، گھریلو ملازمینکرکٹڈاکٹر عبدالمالک بلوچکوثر نیازیحریت پسندعرفان صدیقیماروی میمن آگ، دبئیحمید جتوئیسٹیل ملمعین خانذکا اشرفانور سیف اللہ خانگورنرنجی ٹی وی چینلدانیال عزیزآئی سی سیمتحدہ قومی موومنٹشہباز شریفملک محمد رفیق رجوانہ سرینگر(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18جنوری 2014ء)مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر مسلم لیگ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔مسلم لیگ کی طرف سے سرینگر میں جاری ایک بیان میںآ رمڈفورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کی منسوخی، بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر سے فوجی انخلا کا مطالبہ کیاگیا۔ دریں اثناء جموں و کشمیر مسلم لیگ نے پارٹی کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کی جلد صحت یابی کیلئے مقبوضہ وادی کے مختلف مقامات پر خصوصی دعائیہ مجالس منعقد کیں۔ ڈاکٹر قاسم فکتو پولیس کی حراست میں سرینگر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
مکئی کی فصل – Future of Agriculture in Pakistan, Information about Agriculture, Pakistan Agriculture, Agriculture in Pakistan, Role of Agriculture, Agriculture in Pakistan Urdu, Pakistan Agricultural Research, Agriculture Statistics, Agriculture Constitutes, Agriculture News, Videos, Weather, Farming, Biotechnology, Livstock, Jobs & Scholarships, Agriculture Universities لاہور :20 اگست 2013: کاشتکار مکئی کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی سے پیداوار میں45فیصد تک اضافہ کر سکتے ہیں ۔نظامت زرعی اطلاعات پنجاب کے ترجمان کے مطابق مکئی کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی زیادہ تعداد پیداوار میں کمی اور فصل کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ مکئی کی فصل کی اہم جڑی بوٹیوں میں اِ ٹ سٹ، تاندلہ، باتھو، کرنڈ ، لیہلی، جنگلی ہالوں ، جنگلی پالک ، چبڑ ، بھکھڑا ، ڈیلا ، کھل گھاس ، مدھانہ ، سوانکی اور بَرو وغیرہ شامل ہیں۔ ان جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے ڈرل سے کاشت کی گئی فصل میں پہلی سے تیسری آبپاشی تک ہر آبپاشی کے بعد زمین کی وتر حالت میں گوڈی کریں جبکہ ٹریکٹر کی صورت میں پھالوں کا فاصلہ مکئی کی لائنوں کے مطابق مقررکر کے گوڈی کی جاسکتی ہے۔آخری گوڈ ی کے وقت فصل کو مٹی چڑھا دیں جس سے نہ صرف جڑی بوٹیاں مٹی کے نیچے دب کر ختم ہو جاتی ہیں بلکہ فصل گرنے سے بھی محفوظ رہتی ہے ۔زرعی ماہرین کے مطابق کھیلیوں پر کاشت کی گئی مکئی میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال انتہائی مفید ہے ۔ان زہروں کے استعمال سے جڑی بوٹیاں 30سے 40دن تک اُگنے میں کامیاب نہیں ہو تیں ۔ مناسب زہروں کا استعمال زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔
ججوں جرنیلوں سمیت تمام ملازمین اثاثے ظاہر کریں - BBC News اردو https://www.bbc.com/urdu/pakistan/2012/01/120104_cabinet_assests_sa پاکستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ججوں اور جرنیلوں سمیت جو بھی ملازمین سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں وہ اپنے سالانہ اثاثے عوام کے سامنے ظاہر کریں اور اس بارے میں متعلقہ قانون میں ترمیم کی جائے گی۔ یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا اور کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ کے دوران وزیِر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ یہ فیصلہ کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ سیاستدانوں کے ساتھ سب کا یکساں احتساب کرنے کی خاطر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کی رکن ڈاکٹر دونیہ عزیز نے قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کے دن 'سوّل سرونٹس ایکٹ' میں ترمیم کے لیے دو تجاویز دی تھیں جس پر یہ بل کابینہ کو بھیجا گیا اور کابینہ نے غور کے بعد ان کی ایک تجویز مسترد کردی اور ایک منظور کر لی ہے۔ وزیرِ اطلاعات کے مطابق بل کی جو تجویز مسترد کی گئی وہ گریڈ سولہ سے اوپر کے ملازین کی ترقیوں کے معاملات میں پارلیمان کے کردار کے بارے میں تھا۔ جس پرکابینہ نے کہا کہ کہ ترقیوں کے لیے قوانین کے مطابق سلیکشن بورڈ بنتے ہیں اور وزیراعظم کا یہ انتظامی اختیار ہوتا ہے لیکن ان کے بقول سیاستدانوں کی طرح سرکاری خزانے سے تنخواہ لینے والے تمام افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند بنانے کی تجویز منظور کرلی گئی۔ اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ بظاہر تو حکومت کہتی ہے کہ یہ فیصلہ کسی کے خلاف نہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ متنازعہ میمو کے معاملے پر حکومت کے فوجی قیادت اور عدلیہ سے اختلافِ رائے کے بعد سامنے آیا ہے۔ خود وزیراعظم کہتے رہے ہیں کہ سیاستدانوں کو کرپٹ کہا جاتا ہے مگر کیا فوجی آمر کرپٹ نہیں ہوتے؟ اطلاعات کی وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں گیس کی قلت دور کرنے کی خاطر جو عالمی منصوبے ہیں، ان پر فوری عمل کیا جائے۔ انہوں نے ایران کا ذکر تو نہیں کیا لیکن وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ایران سے گیس خریدنے پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا کیونکہ جو یورپی یونین کی ایران کے بارے میں پابندیاں ہیں یہ منصوبہ ان کے دائرے میں نہیں آتا۔ واضح رہے کہ ستائیس دسمبر کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان جنگ کا تھیٹر نہیں بن سکتا اور ایران سے اپنی قوم کی خاطر وہ ضرور گیس خریدیں گے جس کے بعد وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا تھا کہ ایران پر امریکی اور عالمی پابندیوں کے بعد پاکستان ایسا نہیں کرسکتا۔ وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ پاکستان میں (عدالتی فیصلوں کے بعد ) یہ طے ہے کہ جس صوبے سے گیس نکلتی ہے پہلے اُس پر اس کا حق ہوتا ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی نسبت دیگر صوبوں میں گیس کی قلت کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گیس کی کل ملکی پیداوار میں سندھ کا حصہ انہتر فیصد ہے جبکہ ان کی ضرورت اکتالیس فیصد ہے۔ بلوچستان سے سترہ فیصد گیس ملتی ہے اور ان کی ضرورت سات فیصد ہے۔ خیبر پختونخوا سے نو فیصد گیس ملتی ہے اور ان کی ضرورت سات فیصد ہے۔ جبکہ پنجاب سے صرف پانچ فیصد گیس نکلتی ہے اور کھپت پینتالیس فیصد ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کابینہ میں فیصلہ ہوا ہے کہ گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیاد پر گیس فراہم کی جائے گی۔ ان کے بقول پاکستان میں گھریلوں صارفین کی ضرورت سترہ فیصد ہے، بجلی گھروں کی ستائیس فیصد، فرٹیلائیزر صنعت پچیس فیصد، گیس سٹیشنز دس فیصد اور باقی صنعتی اور دیگر شعبوں کے لیے گیس استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے گیس کی قلت پر سیاست کر رہے ہیں حالانکہ صنعتی کنیکشن منظور ہی اس شرط پر کیا جاتا ہے کہ دسمبر سے فروری تک تین ماہ انہیں گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تمام صوبوں اور 'سٹیک ہولڈرز' سے وزیرِ پیٹرولیم کی سربراہی میں قائم کمیٹی بات کر کے ایک ہفتے میں کابینہ کو رپورٹ کرے گی کہ کوئی حل نکالا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر کی نسبت رواں سال دسمبر میں مہنگائی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چینی کی مصنوعی قلت کو روکنے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی خاطر سوا چھیالیس روپے فی کلو چینی شگر ملز سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہیڈ اور دماغ کے ایم آر آئی میں کیا امید ہے نیند کی خرابی تشخیص دماغ کے خرابیوں کی تشخیص کرنے کے سربراہ کے ایم آر آئی میں کیا امید ہے by بورڈ کے سرٹیفکیٹ ڈاکٹر ایم ڈی، برینڈن پیٹرس اسٹروک، پرندوں کے لئے اندازہ کرنے کے لئے استعمال ہونے والی امیجنگ ٹیسٹ سیکھنے کے لۓ آپ کو مقناطیسی گونج امیجنگ (ایم آر آئی) کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے. اگرچہ نیند کی خرابیوں کا اندازہ کرنے میں کم از کم ضرورت ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں ( مرکزی نیند اپینی کا ایک ممکنہ سبب) کا تعین کرنے کے لئے یا اس سے بھی مرگی (جو غیر معمولی تباہی کا سبب بن سکتا ہے ) کا تعین کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے. اگرچہ یمآرآئ کا تجربہ کسی حد تک مختلف ہوسکتا ہے، آپ کچھ عام توقعات کا سامنا کرسکتے ہیں اور ان کے بارے میں کچھ پڑھ سکتے ہیں آپ کی تشویشات کو آرام دہ رکھنا پڑ سکتی ہے. دماغ کی خرابیوں کی تشخیص کے لئے سر کے ایم ایم آئی میں کیا امید ہے کہ جانیں. مقناطیسی گونج امیجنگ (ایم آر آئی) اسکین کیا ہے؟ مقناطیسی گونج امیجنگ (ایم آر آئی) طبی مسائل کی تشخیص کرنے کے لئے استعمال ہونے والی غیر غیر منفی ریگولیجک مطالعہ ہے. ایک ایکس رے کی طرح، اس ٹیکنالوجی کی ساخت کی ساخت کی اجازت دیتا ہے جو دوسری صورت میں سرجری کے بغیر ممکن نہ ہو. یہ ایکس رے تابکاری کے بجائے بڑے بڑے مقناطیس کے استعمال سے پورا ہوتا ہے، جبکہ مریض میز پر ہوتا ہے. مقناطیس کا نبض جسم کے پانی کی انوولوں پر اثر انداز کرتا ہے اور نتیجے میں تبدیلیاں تصاویر پیدا کرسکتی ہیں. دماغ سمیت MRI خاص طور پر جسم کے مخصوص علاقوں میں مددگار ثابت ہوتا ہے. ایک ایم آر آئی کو یہ حکم دیا جا سکتا ہے کہ اگر آپ کے ڈاکٹر کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہاں ساختمانی غیر معمولی ہو تو آپکے علامات کی وجہ سے ہوسکتی ہے . مثال کے طور پر، کسی شخص کے پاس ایک اسٹروک کی وجہ سے بعض افراد کو نیند نیند کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بدقسمتی سے، نیند کے دوران واقع ہونے والے جھگڑے مریضوں کی ایک وجہ کی تحقیقات کے لئے دماغ کے ایم آرآئ کو فوری طور پر پیش کرسکتے ہیں. ایم آر آئی کے لئے تیاری ایم آر آئی سے پہلے، زیادہ سے زیادہ افراد ٹیسٹ کے سبب پر بحث کرنے کے لئے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ گفتگو کریں گے. اس کے ایک حصے کے طور پر، آپ کی تاریخ کا ایک محتاط تشخیص ہوتا ہے. یہ عام طور پر ایک چیک لسٹ شامل ہے اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ ایم ایم آئی کو محفوظ طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے. جیسا کہ ایم ڈی آئی سکین ایک بڑے مقناطیس کے ساتھ کیا جاتا ہے، یہ آپ کے جسم میں موجود کسی بھی دھات کی شناخت کے لئے اہم ہو گا. آپ کے جسم کے اندر کچھ دھاتیں آپ کو ایم ایم آئی حاصل کرنے سے روک سکتی ہیں، اور آپ کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے: دھاتی امپینٹوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ پہلے سے سرجری (مصنوعی دھاتی کے پٹھوں، پنوں، پیچ، پلیٹیں، سٹینٹ، کلپس، یا اسٹیل سمیت) پرورش شدہ آلات (پائیمیمرز سمیت، کوکلیبل امپلانٹس، منشیات کے ادویات بندرگاہوں، مصنوعی دل والوز، اور اعصابی محرکوں) ٹیٹو (جو 20 سال سے زائد سے زائد عمرے میں سیاہی پر مشتمل ہوسکتی ہے وہ جلدی کا سبب بن سکتی ہے اگرچہ اس کا ثبوت یہ محدود نہیں ہے) ویلڈر کے طور پر کام برقرار دھاتی schrapnel (گولی ٹکڑے ٹکڑے) ان خیالات کے علاوہ، دیگر دھاتی چیزوں جیسے زیورات، جسم چھیدنے، سماعت ایڈز، ہٹنے کے دانتوں کا کام، وغیرہ کو ختم کرنا ضروری ہے. ایم ایم آئی سکین کے دوران کیا ہوتا ہے زیادہ تر مقدمات میں، ایم ایم آئی کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ آپ کو ایک موثر امتحان کی میز پر آپ کی پیٹھ پر فلیٹ جھوٹ ہے. آپ کو پوزیشن میں رکھا جائے گا کہ جسم کے علاقے کو اسکین ہونے کی ضرورت MRI مشین تک رسائی حاصل ہے. آپ گردن اور سر کڑا، بھرتی، یا شیٹ سے جھوٹ بول سکتے ہیں. آپ کو جگہ میں رہنے میں مدد کرنے کے لئے کچھ بیلٹ ڈالیں. اگر آپ کو آپ کے مطالعہ کے ساتھ برعکس مواد ملنا پڑے تو، ٹیسٹ کے آغاز سے پہلے ایک متضاد (IV) لائن رکھا جائے گا. جیسا کہ ٹیسٹ شور ہو سکتا ہے، earplugs، ہیڈ فون، یا دیگر سماعت کے تحفظ کے آلات استعمال کیا جا سکتا ہے. مطالعہ کے دوران ایک بڑی ٹیوب میں امتحان ٹیبل میں اور باہر نکل جائے گا. اس طرح، آپ کو اپنی آنکھوں کے اوپر ایک آئینے لگایا جا سکتا ہے تاکہ آپ مشین سے باہر دیکھ سکیں. ایک بار آپ کو ابتدائی طور پر پوزیشن میں ڈال دیا جائے گا، ٹیکنولوجسٹ کمرے سے نکل جائے گا. آپ مطالعہ کے دوران ان کے ساتھ گفتگو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. وہ قریبی سے آپ کی نگرانی کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور فوری طور پر ضرورت ہوسکتی ہے. ایم ایم آئی خود کو عموما امیجنگ کے سلسلے کی ایک سیریز پر مشتمل ہوگا. اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ آپ ابھی بھی سیکنڈ یا منٹ کے لئے جھوٹ بولیں. ٹیکسٹولوجسٹ آپ کو ایک دو طرفہ انٹرمیکک پر ٹیسٹ کی آمدنی کے طور پر فوری طور پر پیش کرے گا. کیا جا رہا ہے اس پر منحصر ہے، ایم ایم آئی کے تمام ٹیسٹ تقریبا ایک گھنٹے تک تقریبا 45 منٹ تک ہوسکتا ہے. ایم ایم آئی کے تجربے سے نمٹنے کے لئے کس طرح ایم آر آئی ہونے سے متعلق کچھ عام خدشات ہیں. امتحان عام طور پر محفوظ اور دردناک ہے، پیچیدگی کے لئے بہت کم خطرہ ہے، لیکن چند عناصر ہیں جو تکلیف اور مصیبت کا سبب بن سکتی ہیں. سب سے بڑی تشویش زیادہ تر لوگ کلسٹروفوبک محسوس کرتے ہیں. ایسا ہوتا ہے جب کسی کو محدود جگہ میں رکھا جاتا ہے، جیسے ایم آر آئی ٹیوب، اور نتیجے کے طور پر پریشان محسوس ہوتا ہے. اگرچہ آئینے کے استعمال میں مدد ہوسکتی ہے، اگرچہ کچھ لوگوں کو اس سے زیادہ آرام دہ محسوس کرنے میں مدد مل سکتی ہے. اگر آپ فکر مند ہیں کہ آپ کلاسٹروفوب بن جائیں گے، تو آپ کو اپنی ضروریات کو ٹیسٹ سے قبل جانا ہوگا. کھلی ہوئی یمآرآئ مشینیں کا استعمال یہ احساس بھی کم کر سکتا ہے. اگر آپ نمایاں طور پر موٹے ہیں تو، ایم آر آئی مشین آپ کے اندر فٹ ہونے کے لئے بہت چھوٹا ہوسکتا ہے. سائز کی پابندی مشین کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہے، اور متبادل عام طور پر پایا جا سکتا ہے. ایم آر آئی اسکین کے بعد کیا ہوتا ہے ایم ڈی آئی مکمل ہونے کے بعد، اگر آپ کو زیادہ آرام دہ محسوس کرنے کے لئے آپ کو ادویات دیا گیا ہے تو وہاں ایک مختصر وصولی کی مدت ہوسکتی ہے. دوسری صورت میں عام طور پر وہاں سے آپ کی معمولی سرگرمیاں واپس آنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوتی ہے، ان جانچوں کو آؤٹ پٹیننٹ کے طور پر کیا جا سکتا ہے. ٹیسٹ کے نتائج دستیاب ہونے کے بعد دستیاب ہوتے ہیں جو ریڈیولوجسٹ کے ذریعہ نظر ثانی کی جاتی ہیں اور اکثر ڈاکٹر کے ذریعہ اس بات کا اظہار کیا جا سکتا ہے جو ایم آر آئی کا حکم دیتا تھا. "جسم کے ایم ڈی آئی." امریکی کالج آف ریڈیولوجی اور شمالی امریکہ کے تابکاری سوسائٹی . 29 اگست، 2010 تک رسائی حاصل
یورپی ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا آغاز - Mehr News Agency https://ur.mehrnews.com/news/1903400/ 12 اکتوبر، 2020 6:06 PM News Code 1903400 مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یورپی ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران یورپ کے 16 ممالک میں سے بیلجیئم دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کے مطابق بیلجیئم جوکہ گذشتہ ہفتے کے دوران عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لحاظ سے 5 ویں نمبر پر تھا وہ اب 364 مریض فی ایک لاکھ آبادی کے ساتھ فہرست میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ یورپ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لحاظ سے یورپین سینئر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے جو فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق ترتیب کے لحاظ سے 1 سے16 تک ممالک میں چیک ریپبلک، بیلجیئم، نیدرلینڈز، سپین، فرانس، برطانیہ، آئس لینڈ، سلواکیہ، لکسمبرگ، رومانیہ، مالٹا، سلوینیہ، آئر لینڈ، آسٹریا، ہنگری اور پرتگال شامل ہیں ۔
ایک عزت دار لڑکی فاحشہ بننے پر کیوں مجبور ہوتی ہے ؟ معاشرے کی ایک تلخ حقیقت - Urdu Stories/ Urdu Kahanian مگر جیسے اس کے لبوں کو کسی نے جکڑ رکھا ہو ۔۔۔ اس لگ رہا تھا شاید وقت اس کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور ابھی تک ایک بھی شخص ایسا نہیں ملا جسے وہ روک کر اپنی بات کہ سکے ۔۔۔ ‎میں بس اسٹینڈ پر بس کے انتظار میں کھڑا تھا۔۔۔ بھیڑ میں نظر آنے والا ہر دوسرا چہرہ معمولی تاثرات کا حامل لگ رہا تھا مگر ان سب سے ہٹ کر اس کی گھبراہٹ کے آثار بخوبی دیکھے جا سکتے تھے۔۔۔۔ میں اپنے آپ میں اندازے لگانے لگا ۔۔۔۔ شاید جس کے ساتھ آئی ہو وہ اسے اکیلا چھوڑ گیا ہوگا‎اس کی امید بھری نگاہیں آتے جاتے لوگوں کو دیکھتیں مگر کوئی جواب نا پا کر مایوس ہو جاتیں۔۔۔ اچانک اسکی نگاہ مجھ پر پڑی۔۔۔ لمحہ بھر کیلئے میں نے محتاط ہو کر نظریں پھیر لیں ۔۔ مجھے دیکھتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ قدموں سے میری طرف آئی اور ہلکی آواز میں کچھ کہا۔جاری ہے۔
اپنی آواز کھوئے نہیں | Martech Zone اتوار، فروری 10، 2013 اتوار، مارچ 24، 2013 Douglas Karr مجھے کچھ لوگوں کے ذریعہ رائے ملی کہ ہماری حالیہ پوسٹیں تھیں خشک. میں اس کے ساتھ بحث نہیں کروں گا - ہم دیر سے ٹولز اور خصوصیات پر بہت گہری تحقیق کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی تحقیق جتنی گہری کرتے ہیں ، ایک جامع پوسٹ لکھنا مشکل ہوتا ہے جو پلیٹ فارم کو انصاف فراہم کرتا ہے لیکن پھر بھی یہ یقینی بناتا ہے کہ آپ کی آواز سنی جائے۔ میرا یہ دوست بلاگ کا ایک شوقین قاری ہے ، اور اس پر لکھتا بھی ہے ، لہذا میں سن رہا ہوں اور میں کچھ تبدیلیاں کرنے جا رہا ہوں۔ ہر پوسٹ کے ساتھ ، میں آپ کے ساتھ گفتگو میں مزید رنگ شامل کرنے جا رہا ہوں۔ Martech Zone ٹیکنالوجی کس طرح مارکیٹرز کی مدد کر سکتی ہے اس کے بارے میں ایک بہت پر امید نظریہ لیتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ میں اتنا پر امید نہیں ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ٹولز کا میدان ہماری مدد کے لیے وسیع اور پتلا ہے-کراس چینل مارکیٹنگ سسٹم کے لیے بہت زیادہ مواقع کے ساتھ جو ہمارے مواصلات کو جمع کرنے ، پیمائش کرنے اور بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ ہم مزید آوازیں شامل کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ Martech Zone. میرے خیال میں ایک بہترین مارکیٹنگ یا ٹکنالوجی ذہن کو شامل کرنے کا موقع ہے جو نیو یارک ، بوسٹن یا سان فرانسسکو کے بڑے مارکیٹنگ مراکز کے آس پاس ہو۔ اگر آپ ٹیکنالوجی کے مصنف ہیں… خاص طور پر مزاح کے احساس کے ساتھ ، ہم آپ کے ساتھ بات کرنا پسند کریں گے۔ ابھی تک ہماری تلاش کے نتیجے میں بہت ساری لیڈز نہیں آئیں۔ ٹریک پر واپس… مواد صرف مواد لکھنے کے لیے نہیں لکھا جانا چاہیے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارا مواد بہتا اور بہتا ہے۔ اس میں سے کچھ ہمارے کام کے بوجھ کی وجہ سے ہے ، لیکن اکثر نہیں ، یہ صرف ہمارے لیے کوئی اہم بات نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر بلاگ پوسٹ مارکیٹرز کی مدد کرے۔ ہر پوسٹ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، ہم نے اپنے پوڈ کاسٹ ، ای میل پروگرام اور ویڈیوز سے اپنی آواز کو بڑھایا ہے۔ ہم نے ٹیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ویب ریڈیو کا ایج ایک پیشہ ور ریڈیو شو تیار کرنے کے لئے (مقامی طور پر نشر کیا گیا) کچھ عمدہ ویڈیو کے ساتھ۔ اس کو یقینی بنائیں - آپ ہمارے ذریعہ ہم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں آئی فون اے پی پی, آئی ٹیونز, Stitcher اور یو ٹیوب. مجھے یقین نہیں ہے کہ "سوشل میڈیا" کی اصطلاح کس نے لکھی ہے ، لیکن وہ شاندار تھے۔ مواد میڈیا ہے… لیکن آواز کے بغیر مواد سماجی نہیں ہے ، یہ صرف ہے۔ اوسط. اپنی آواز سے محروم نہ ہوں۔ اسے سماجی رکھیں۔
مردانہ کمزوری کا سستا ترین علاج بس یہ ایک چیز کھانے کی عادت بنا لیں - Wazifa Online Official Home/Urdu Tips/مردانہ کمزوری کا سستا ترین علاج بس یہ ایک چیز کھانے کی عادت بنا لیں مردانہ کمزوری کاعلاج ہرگھرمیں موجود ایک عام سی ٹیبلیٹ میں چھپا ہے، جس کا نام جان کر آپ کو بہت زیادہ حیرت ہوگی .مردوں میں مخصوص کمزوری کے مسئلے کی سب سے بڑی وجہ دوران خون کی خرابی ہوتی ہے اور یہ مسئلہ اکثر مہنگے ترین علاج سے بھی رفع نہیں ہوتا. تاہم اب ترک سائنسدانوں نے ہر گھر میں پائی جانےوالی ایک عام سی ٹیبلیٹ کے ذریعے اس کا انتہائی آسان علاج بتا دیا ہے۔ خبر کے مطابق یہ ٹیبلیٹ "اسپرین" ہےجس کے متعلق استنبول کی میڈی پول یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ریسرچ کے مطابق اگر مردانہ کمزوری کے مسئلے سے دوچار مرد حضرات اسپرین کی روزانہ ایک ٹیبلیٹ مسلسل6ہفتے تک کھائیں تو انہیں اس مسئلے سے نجات مل جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 184ایسے مردوں پر تجربات کیے جن کی عمراوسطاً48سال تھی اور وہ اس مرض کا شکار تھے۔ انہیں دو گروپوں میں تقسیم کرکے سائنسدانوں نے ایک گروپ کو 6ہفتے تک روزانہ اسپرین کی ایک ٹیبلیٹ کھلائی جبکہ دوسرے گروپ کو نقلی ٹیبلیٹ دی جاتی رہی ۔ اس سے دوسرے گروپ کے لوگوں کو بھی یہ احساس رہتا ہے کہ وہ بھی ٹیبلیٹ کھا رہے ہیں لیکن ٹیبلیٹ کا کوئی منفی یا مثبت اثر نہیں ہوتا۔ تقریباً چھ ہفتے بعد ماہرین نے دوبارہ ان کے مرض کے تجزیات کیے تو حیران کن نتائج سامنے آئے۔نقلی ٹیبلیٹ کھانے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا جبکہ جو لوگ روزانہ اسپرین کی ٹیبلیٹ کھا رہے تھے ان کا 50سے 88.3فیصد تک مرض ختم ہو گیا تھا۔ تقویت کی ٹیبلیٹ 'ویاگرا' کھانے سے یہ شرح 48سے 81فیصد ہوتی ہے۔ چنانچہ اس تحقیق میں اسپرین کے نتائج ویاگرا سے بھی بہترسامنے آئے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ذکی بائراکتر کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کے خون میں موجود پلیٹ لیٹس بہت بڑے ہوتے ہیں جو دوران خون میں رکاوٹ بنتے ہیں۔اسپرین کی ٹیبلیٹ ان سمیت دوران خون میں رکاوٹ کی دیگر وجوہات کو دور کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں مردوں کا یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے featured mardana kamzori ka gharelu ilaj in urdu mardana kamzori ka ilaj mardana kamzori ka nuskha mardana kamzori ka wazifa Wazifa Online Official
پہلے فیز سے دوسرے فیز تک کا سفر • Daily Mashriq Quetta Newspaper پہلے فیز سے دوسرے فیز تک کا سفر سر! نمبرز گیم کی حتمی پوزیشن کیا ہے؟آپ مجھے زیادہ باخبر نہیں لگتے کیونکہ جو سوال آپ پوچھ رہے ہیں اس کا تعلق تو پہلے "فیز" سے تھا اور اب تو دوسرے فیز پر سوچنے کا وقت ہے۔ دوسرا فیز؟جی ہاں۔ کیونکہ الجھاﺅ اور سرکشی کے بعد نکالے گئے عوامی تائید رکھنے والے کسی وزیراعظم کو اپنے گھر لوٹتے ہوئے بہت کم دیکھا گیا۔حد درجہ محتاط گفتگو کے باوجود بھی یہ مختصر سا جواب بہت سی گرہیں کھولنے اور نتائج تک پہنچنے کے لئے کافی تھا۔اب میں اچھی طرح سے "دوسرے فیز" کو بھی سمجھ گیا تھا اور عمران خان کی "بضاعت" کے ساتھ ساتھ اپنی غفلت آمیز بلکہ احمقانہ سوال کو بھی۔دوسرے فیز کا وقت چونکہ ابھی آیا بھی نہیں بلکہ اس کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ عمران خان کی عوامی تائید حوصلے صلاحیت اور تنظیمی طاقت کو دیکھتے ہوئے ان سے ہرگز بھٹو اور نواز شریف جیسی دلیر مزاحمت اور سیاست کی توقع نہیں کی جا سکتی اسی لئے سامنے کے منظر نامے یعنی فیز ون کو ہی سوچتا اور تجزیہ کرتا رہا۔تھوڑی دیر بعد شاہراہ دستور پر ایستادہ پارلیمان اور سپریم کورٹ کی عمارتوں پر نظر پڑی تو دل ہی دل میں کہا کہ پہلے فیز کا تعلق اول الذکر عمارت یعنی پارلیمنٹ تک محدود ہےاور تمام معاملات ایک خاص منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ "تمام معاملات" مختلف اجزاءسے بتدریج یوں ترتیب پا رہے ہیں کہ چند ہفتے پہلے وہ کچھ جو نا ممکنات میں سے تھے اب عملی صورت میں دکھائی دینے لگے ہیں۔مثلاً اسی پارلیمان (سینیٹ ) میں چونسٹھ نشستوں والی اپوزیشن پینتیس سیٹوں والی حکومت سے چیئرمین سینٹ سے سٹیٹ بینک بل تک مسلسل ہار رہی تھی لیکن آج اپوزیشن اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومتی جماعت یعنی پی ٹی آئی صرف پنجاب کی حد تک بھی چار واضح دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔پھر اسے سنبھالنے کوئی کیوں نہیں آتا؟فرض کریں کہ آج حکومت سینیٹ میں کوئی بل پیش کرے تو کیا نتائج پہلے جیسے ہوں گے؟آگر جواب نہیں میں ہے تو پھر یہ بات بھی واضح ہے کہ نہ ہی عمران خان حکومت چلا رہا تھا اور نہ ہی اپنی پارٹی پر انہیں گرفت حاصل ہے۔سو پہلے فیز کے بطن سے پھوٹتا ہوا یہ سوال بہت اہم ہے کہ اگلے منظر نامے یعنی حکومت سے ہاتھ دھونے کے بعد عمران خان کس سیاسی حیثیت اور مرتبے کے حامل ہوں گے۔ اور کیا پی ٹی آئی کی پارلیمانی اور تنظیمی پوزیشن اتنی توانا ہوگی کہ عمران خان اپنا سیاسی قد کاٹھ برقرار رکھ پائیں گے؟گویا سرپرستی سے محرومی کے بعد پہلا سوال عمران خان اور ان کی جماعت کی سیاسی بقا کے حوالے سے اٹھا ہے۔ تا ہم اس کا انحصار مستقبل پر ہے جس کے بارے سر دست کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بہرحال پہلے فیز کے "فیوض و برکات" میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فی الحال پارلیمنٹ میں عددی اکثریت ہی اہمیت کا پیمانہ ہے۔ تبھی تو جہانگیر ترین محمود خان اچکزئی سے زیادہ اہم ہو گئے ہیںجبکہ پی ڈی ایم کو خیرباد کہنے والا آصف علی زرداری صبح و شام شہباز شریف اور مولانا کی بلائیں لینے لگا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومت کی رخصتی مستقبل قریب میں کم از کم اسمبلیوں پر اثر انداز نہیں ہوگی۔لیکن پس منظر کی خبر رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ نواز شریف بہرصورت ستمبر سے پہلے پہلے نئے انتخابات اور حکومت کے قیام سے پیچھے نہیں ہٹے اور یہ ان تین نکات میں سے ایک ہے جن پر سارے سلسلے کا دار و مدار ہے۔اب موجودہ منظر نامے اور رونما پوتی تبدیلیوں کی طرف بڑھتے ہیں پہلے فیز میں اپوزیشن کو لیول پلینگ فیلڈ فراہم کر دیا گیا جس کی بنیاد پر "بغیر کسی مدد" کے اپوزیشن نے نہ صرف جارحانہ رویہ اختیار کیا بلکہ پی ٹی آئی کے اندر توڑ پھوڑ اور افراتفری کو اپنی طاقت بھی بنا لیا۔ رہی سہی کسر عمران خان کی سراسیمگی اور گالی گلوچ نے پوری کر دی۔یہی وجہ ہے کہ نمبرز گیم کا بہاﺅ اب بہت حد تک یک طرفہ اور واضح ہو چکا۔ جبکہ ایم کیو ایم باپ اور سندھ ڈیموکریٹک الائنس جیسی پارٹیاں بھی حکومت سے فاصلے کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔پہلے فیز میں میڈیا کو محدود آزادی دینے کے منصوبے پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا گیا۔ جس کی بنیاد پر حامد میر سے پابندی اٹھا لی گئی لیکن اس اقدام کا ردعمل عمران خان کی اس سراسیمگی سے عیاں ہے جو دلیل اور وڑن سے محروم یوٹیوبرز کے ساتھ میٹنگ اور جلسوں میں استعمال کی گئی زبان کی صورت میں سامنے آئی۔ اگرچہ یہ میڈیائی آزادی ابھی صرف "آزمودہ" صحافیوں ہی کو میسر ہے جبکہ "خطرناک" صحافیوں پر پابندی تاحال برقرار ہے۔ لیکن حکومت کی ناتوانی ملاحظہ ہو کہ اس "کمزور اور مصلحت پسند" صحافت کے سامنے بھی ابھی سے گھٹنے ٹیکنے لگی۔پہلے فیز میں فون کالز کی بندش وہ فیصلہ تھا جس نے پی ٹی آئی کے اندر قدم قدم پر نہ صرف "نور عالم خان" کھڑے کر دیے بلکہ جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے بارسوخ لوگوں کو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے اظہار کا موقع بھی فراہم کر دیا۔جس کی وجہ سے حکومتی جماعت یعنی پی ٹی آئی میں توڑ پھوڑ اور افراتفری کھل کر سامنے آئے اور یہی وہ موقع تھا جب عمران خان کی حکومت اور پارٹی بقا کے مسئلے سے دوچار ہوئے جس میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ان تمام حقائق اور نئے منظر نامے کی تشکیل کے باوجود کسی ادارے کے خلاف ایسی کوئی شہادت دستیاب نہیں جسے عمران حکومت کے خلاف سازش کا نام دیا جائے۔ لیکن کم از کم یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ تمام قومی ادارے کسی بھی غیر آئینی اقدام سے نہ صرف خود کو بہت فاصلے پر لے گئے ہیں بلکہ سیاسی میدان سیاسی کھلاڑیوں پر چھوڑ بھی چکے ہیں۔ (گویا عارضی طور پر ہی سہی لیکن فی الحال ہم قدرے جمہوری ملک ضرور ہیں۔)یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ آمرانہ قوتوں کی سرپرستی میں سیاست کرنے والے عمران خان اب خالص سیاسی میدان میں نواز شریف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مسلسل پٹتے نظر آرہے ہیں کیونکہ یہ جہاندیدہ لوگ ایک عمر سیاسی رزم گاہوں میں گزار چکے ہیں، قید و بند کاٹ چکے ہیں اور آمریتوں کے مقابل بھی آ چکے ہیں جبکہ عمران خان نے تو صرف اسلام آباد میں کنٹینر اور اقتدار ہی دیکھے ہیں اور وہ بھی دوسروں کی مدد سے!تاہم اگر مشکل وقت (خدانخواستہ) عمران خان کی زندگی میں آیا تو اب کی بار گالی گلوچ کی بجائے تدبر کو اپناتے ہوئے مشکل وقت کو اپنی لیڈر شپ اور مقبولیت کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے لیکن اس کے لئے حوصلہ اور تدبر ہی شرط ہے اور یہ شرط بہت بڑی ہے۔
مہمان کا اکرام یا تکلفات ~ Dawat-E-Deen مہمان کا اکرام یا تکلفات اس میں کوئی شک نہیں کہ مہمان کا اکرام کرنا آچھے اعمال میں سے ایک ھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بہت تاکید فرمائی ھے مہمان نوازی ایمان کی علامت اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کی سنت ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کا تذکرہ فرمایا ہے،حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت احادیث میں مہمان نواز ہونے کی بیان کی گئی ہے۔ وَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍO (ھود) ترجمہ:اور البتہ آچکے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر ،بولے سلام ،وہ بولا سلام ہے ،پھر دیر نہ کی لے آیا ایک بچھڑا تلا ہوا "حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے وہ انسان ہیں جنہوں نے دنیا میں مہان نوازی کی رسم جاری فرمائی ( قرطبی )۔ ان کا معمول یہ تھا کہ کبھی تنہا کھانا نہ کھاتے، بلکہ ہر کھانے کے وقت تلاش کرتے تھے کہ کوئی مہمان آجائے تو اس کے ساتھ کھائیں ۔ قرطبی نے بعض اسرائیلی روایات سے یہ نقل کیا ہے کہ ایک روز کھانے کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمان کی تلاش شروع کی تو ایک اجنبی آدمی ملا جب وہ کھانے پر بیٹھا تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ بسم اللہ کہو، اس نے کہا کہ میں جانتا نہیں اللہ کون اور کیا ہے ؟ ابراہیم علیہ السلام نے اس کو دسترخوان سے اٹھا دیا، جب وہ باہر چلا گیا تو جبریل امین آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو اس کو کفر کے باوجود ساری عمر رزق دیا اور آپ نے ایک لقمہ دینے میں بھی بخل کیا، یہ سنتے ہی ابراہیم علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے اور اس کو واپس بلایا، اس نے کہا کہ جب تک آپ اس کی وجہ نہ بتلائیں گے کہ پہلے کیوں مجھے نکالا تھا اور اب پھر کیوں بلا رہے ہیں، میں اس وقت تک آپ کے ساتھ نہ جاؤں گا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے واقعہ بتلا دیا تو یہی واقعہ اس کے مسلمان ہونے کا سبب بن گیا، اس نے کہا کہ وہ رب جس نے یہ حکم بھیجا ہے بڑا کریم ہے، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ گیا اور مؤ من ہو کر باقاعدہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی عادت مہمان نوازی کے مطابق بشکل انسان آنے والے فرشتوں کو انسان اور مہمان سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی اور فوراً ہی ایک تلا ہوا بچھڑا سامنے لا کر رکھ دیا ...اس سے معلوم ہوا کہ آنے والوں کی مہمانی کرنا آداب اسلام اور مکارم اخلاق میں سے ہے، انبیاء و صلحاء کی عادت ہے، اس میں علماء کا اختلا ف ہے کہ مہمانی کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ جمہور علماء اس پر متفق ہیں کہ واجب نہیں بلکہ سنت اور مستحسن ہے۔ بعض نے فرمایا کہ گاؤں والوں پر یہ واجب ہے کہ جو شخص ان کے گاؤں میں ٹھہرے اس کی مہمانی کریں؛ کیوں کہ وہاں کھانے کا کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوسکتا اور شہر میں ہوٹل وغیرہ سے اس کا انتظام ہوسکتا ہے، اس لیے شہر والوں پر واجب نہیں۔ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس بارے مختلف اقوال نقل کیے ہیں ۔" فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجف فؤاده، فدخل على خديجة بنت خويلد رضي الله عنها، فقال: "زملوني زملوني" فزملوه حتى ذهب عنه الروع، فقال لخديجة وأخبرها الخبر: "لقد خشيت على نفسي" فقالت خديجة: كلا و الله ما يخزيك الله أبدًا، إنك لتصل الرحم، و تحمل الكل، و تكسب المعدوم، و تقري الضيف، و تعين على نوائب الحق. عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلايؤذ جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت. "و عن أبي شريح الكعبي أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته يوم و ليلة، و الضيافة ثلاثة أيام، فما بعد ذلك فهو صدقة، و لايحلّ له أن يثوي عنده حتى يحرجه."(مشكاة المصابيح) مہمان نوازی کے فضائل اپنی جگہ لیکن مہمان کے لیے اکرام کے نام پر تکلف کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کے ساتهہ منع فرمایا ہے- چنانچہ حضرت سلمان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے هم کو اس بات سے منع فرمایا کہ مہمان" کے لیے تکلف کریں-(الجامع الصغیر) اسی طرح، ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور میری امت کے متقی لوگ تکلف سے بہت زیاده دور رہنے والے ہیں-( کشف الحنفاء،جلد 1،صفحہ 236) نفسیاتی اعتبار سے یہ کہنا صحیح هو گا کہ مہمان کی آمد پر جو تکلف کیا جاتا ہے، وه حقیقتاً لوگوں کے نزدیک، خود اپنے اکرام کی ایک صورت هوتی ہے، نہ کہ مہمان کے اکرام کی صورت- حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر تقوی کی صفت موجود هو، وه کبهی تکلف جیسی نمائشی چیز کا تحمل نہیں کر سکتا کیونکہ نمود ونمائش اسلام کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ عمل ھے
رمضان میں پیغمبر اسلام کا چوغہ دیکھنے والے سیاحوں کی بھیٹر | معاشرہ | DW | 14.06.2017 رمضان میں پیغمبر اسلام کا چوغہ دیکھنے والے سیاحوں کی بھیٹر استنبول کی ایک مسجد میں پیغمبر اسلام کا صدیوں پرانا جبہ (چوغہ) دیکھنے کے لیے آنے والے خواتین و حضرات کی علیحدہ علیحدہ طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ شیشے کے ایک کیس میں رکھا گیا یہ مقدس چوغہ کپاس اور ریشم سے بنا ہوا ہے۔ ترک زبان میں اسے ہیرکائے شریف ( مقدس چوغہ) کہا جاتا ہے اور اسے سترہویں صدی میں استنبول میں لایا گیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب سمیت اسلامی دنیا کے زیادہ تر حصوں پر سلطنت عثمانیہ کی حکومت تھی۔ ہر سال رمضان کے مہینے میں پیغمبر اسلام کا یہ چوغہ خاص طور پر نمائش کے لیے استنبول کی ہیرکائے شریف مسجد میں رکھ دیا جاتا ہے، جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ وہاں پر موجود ایک 78 سالہ خاتون نعمت شاہین کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''میں یہاں گزشتہ برس بھی آئی تھی اور اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہی تو آئندہ برس بھی آؤں گی۔'' وہاں پر موجود 76 سالہ عمر رسیدہ خاتون نازیہ پولات کا آنسو بہاتے ہوئےکہنا تھا کہ ان کے اس مقام پر آ کر جذبات ایسے ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کی مکہ جا کر ہو جاتے ہیں، ''میں یہاں ہر سال آتی ہوں اور میری ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ خدا کرے میرے دل کی یہ کیفیت برقرار رہے۔'' یہ چوغہ ساتویں صدی میں اویس قرنی کے سُپرد کیا گیا تھا، جو پیغمبر اسلام سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن یمن میں اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے تھے۔ پیغمبر اسلام نے اویس قرنی کی کہانی سے متاثر ہو کر یہ چوغہ اپنے صحابہ کے ہاتھوں یمن میں بطور تحفہ انہیں بجھوایا تھا۔ استنبول کے مفتی حسن کامل یلماز کا مزید کہنا تھا کہ اویس قرنی کے بچے نہیں تھے اور پھر یہ مقدس چوغہ ان کے رشتہ داروں نے محفوظ کیا تھا۔ سن 1611ء میں پہلے عثمانی سلطان احمد اس مقدس چوغے کو کوشاداسی سے استنبول لے آئے تھے۔ کوشاداسی ترکی کے مغرب میں واقع ایک علاقہ ہے، جہاں اویس قرنی کے رشتہ دار آباد تھے۔ مفتی حسن کے مطابق، ''تب سے یہ ہیرکائے شریف (مقدس چوغہ) استنبول میں ہے۔'' سن 1851ء میں سلطان عبدالمجید نے استنبول کے فاتح نامی علاقے میں ہیرکائے شریف مسجد تعمیر کی تاکہ اس مقدس چوغے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ مفتی حسن کا کہنا تھا کہ اس کی صرف دو چابیاں ہیں، ایک فاؤنڈیشن کے پاس ہے اور دوسری اویس قرنی کے خاندان کے پاس۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدس لباس ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کر دیا جاتا ہے اور موجودہ نسل کے سربراہ بارس سمیر ہیں اور یہ اویس قرنی کے اس رشتہ دار کی 59ویں نسل ہے، جسے یہ مقدس چوغہ پہلی مرتبہ دیا گیا تھا۔ بارس سمیر کا اس حوالے سے کہنا تھا، ''یہ ہمارے لیے ایک بہت ہی قابل احترام فریضہ ہے اور ہم اسے ادا کر کے بہت خوش بھی ہیں کہ ہمارے پاس ایسی ذمہ داری ہے۔'' ان کا مزید کہنا تھا، ''یہ ایک مشکل کام بھی ہے، یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے، اخلاقی طور پر بھی اور معاشی طور پر بھی۔'' یہ مقدس چوغہ دیکھنے کے لیے وہاں لائن میں کھڑے اور روایتی اسلامی ٹوپی پہنے ہوئے ایک بوڑھے شخص کا کہنا تھا، ''میری زندگی میں اس سے قیمتی چیز کیا ہو سکتی ہے کہ میں مرنے سے پہلے یہ مقدس چوغہ دیکھ رہا ہوں۔'' وہاں موجود ایک اڑتالیس سالہ خاتون ظہرا کا کہنا تھا کہ اس پر ایک نظر ڈال لینے سے ہی مسلمان کا دل خوشی سے باغ باغ ہو جاتا ہے، ''میرے خیال سے یہ ہمیں پیغمبر اسلام سے مزید قریب کر دیتا ہے۔'' ہر سال دنیا بھر سے دس لاکھ سے زائد مسلمان سیاح اس مقدس چوغے کو دیکھنے کے لیے استنبول آتے ہیں۔ سمیر بتاتے ہیں، ''لوگ افریقہ، امریکا، مشرق بعید اور سائبیریا سے اس مقدس چوغے کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ سیاحوں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ لیلہ القدر میں لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اسے اس رات کی صبح تک ہی نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے۔'' وہاں ملائیشیا سے آئے ہوئے 49 سالہ لقمان حکیم بھی اپنے بیس ساتھیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ مسجد سے باہر لقمان حکیم کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''یقیناﹰ اس سے آپ پیغمبر اسلام سے مزید قریب ہو جاتے ہیں، ہم خوش ہو جاتے ہیں، یہ احساس پیدا ہوتا کہ ہمیں کچھ کرنا ہے، ہمیں محبت کو پھیلانا ہے، ان تمام تعلیمات اور اچھائیوں کو فروغ دینا ہے، جو پیغمبر اسلام اس انسانیت کے لیے لائے ہیں۔''
سیمالٹ ماہر نے ایک سپر ویب سکریپنگ ٹول کی نقاب کشائی کی پارس ہب ایک بہترین اور مشہور ویب اسکریپنگ ٹول ہے۔ اس جدید اور جدید ویب کھرچنے کی مدد سے ، آپ آسانی سے ڈیٹا نکال سکتے ہیں اور مکمل یا جزوی طور پر نکالنے کے ل the مطلوبہ ویب سائٹ یا بلاگ پر کلک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بتانا محفوظ ہے کہ پارس ہب بدیہی اور استعمال میں آسان ڈیٹا سکریپنگ پروگرام ہے۔ ہمیں اس پروگرام کی بنیادی باتوں کو شروع کرنے کے لئے بہت سارے سبق موجود ہیں۔ اس کے بعد ہم بغیر کسی دقت کے جدید ویب نکالنے کے منصوبوں کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ آزادانہ منصوبہ بندی کرنا اور اپنی ضروریات کے مطابق معیاری یا پیشہ ورانہ ورژن میں ہجرت کرنا آسان ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس ٹول کی کسٹمر سپورٹ بقایا ہے اور اس کی سفارش بڑی تعداد میں تاجروں نے کی ہے۔ ویب سے کوئی بھی ڈیٹا نکالیں ہم جانتے ہیں کہ ورلڈ وائڈ ویب میں بہت ساری معلومات اور اعداد و شمار موجود ہیں جن میں سے ہر ایک صرف چند کلکس کے ذریعے رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں کسٹم ویب سکریپروں کو لکھتے ، برقرار رکھنے اور ہوسٹنگ کرتے وقت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پارس ہب کے ذریعہ ، آپ مستقبل کا تصور کرسکتے ہیں جہاں ہر شخص سوالات پوچھ سکتا ہے کہ بغیر کسی مسئلے کے دنیا کے کوائف کو ترتیب دینے یا اس کے ڈھانچے کا طریقہ کیسے بنایا جائے۔ پارس ہب سیکھنے میں ایک آسان سپورٹ سسٹم کے ساتھ آیا ہے اور اعداد و شمار کو نکالنے کا ایک جامع پروگرام ہے جو آسان اور صارف دوست ہے۔ مزید یہ کہ یہ لچکدار ، طاقتور اور استعمال میں آسان ہے۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی بڑی رکاوٹوں یا پریشانیوں کو ختم یا حذف کرکے ، آپ ویب ڈیٹا کو نکالنے کے بجائے مفید بصیرت ، خوبصورت تصور اور ڈیٹا آرگنائزیشن پر زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔ آپ آسانی سے اس پروگرام کے ساتھ کلیدی کاروباری فیصلے بھی کرسکتے ہیں۔ پارس ہب کے فوائد مقصد یہ ہے کہ استعمال میں آسان آلے کے صحیح توازن کو نشانہ بنایا جا user جو صارف دوست اور آزاد دونوں ہو اور کسی بھی سائٹ یا بلاگ سے بھاری مقدار میں معلومات نکال سکے۔ روایتی طور پر ، اعداد و شمار کو نکالنے کے پروگرام محدود تعداد میں خصوصیات کو سنبھالنے کے ل handle یا تو بہت آسان ہیں یا غیر تکنیکی افراد کے لئے کافی تکلیف دہ ہیں۔ لیکن پارس ہب انٹرایکٹو ہے اور جدید اور پرانی دونوں ویب سائٹوں کے ڈیٹا کو پیچیدہ نہیں کرتا ہے۔ اگر آپ کو ایک ایک ٹول ٹول کی ضرورت ہے جو ہر ایک کو اپیل کرتا ہے اور اس کے خراب ڈیزائن سے شکست نہیں کھاتا ہے تو ، پارس ہب آپ کا انتخاب ہونا چاہئے۔ یہ آسانی سے جاوا اسکرپٹ اور پی ایچ پی کوڈ کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے. ڈویلپرز کے لئے پارس ہب: تکنیکی ڈیزائن رکھنے والے افراد جیسے ویب ڈیزائنرز ، ڈویلپرز ، اور پروگرامرز کے لئے ، پارس ہب مختلف عناصر کو کس طرح تبدیل ، تشکیل اور منتخب کرنے کا مکمل کنٹرول فراہم کرتا ہے تاکہ انہیں بار بار ویب سکریپنگ کوڈ کو پیچیدہ نہ لکھنا پڑے۔ آپ آسانی سے اس پروگرام کو استعمال کرسکتے ہیں اور اپنے تمام انٹرایکٹو نقشوں ، توثیق شدہ ویب سائٹس ، ڈراپ ڈاؤن ، لامحدود اسکرول اور آن لائن فارموں کو سنبھال سکتے ہیں۔ آپ کو صرف اس ویب صفحہ پر نشاندہی کرنا ہوگی اور آپ ڈیٹا نکالنا چاہتے ہیں اور پارس ہب کو باقی کام کرنے دیں گے۔ یہ پروگرام انٹرنیٹ پر آسانی سے اسی طرح کے ڈیٹا اور عناصر کا اندازہ لگائے گا اور آپ کے ل them ان کو منظم اور تشکیل دے گا۔ اگر آپ باقاعدہ اظہار کے استعمال سے عبارتوں میں ہیرا پھیری کرنا چاہتے ہیں تو پارس ہب آپ کو اس کے CSS سلیکٹر تک رسائی فراہم کرنے دے گا تاکہ آپ کسی بھی پریشانی کے عنصر کی خصوصیات میں ترمیم کرسکیں۔ سینکڑوں سے لے کر ہزاروں صفحات تک آسانی سے ڈیٹا حاصل کریں۔ صرف ویب سائٹ کے یو آر ایل اور مطلوبہ الفاظ درج کریں ، اور پارس ہب خود بخود اپنا کام سرانجام دے گا۔
جنوبی افریقہ | کرک نامہ - حصہ 37 عالمی کپ 2011ء: جنوبی افریقی اسکواڈ کا اعلان، عمران طاہر شامل فہد کیہر 21 جنوری 2011 0 عالمی کپ کے لیے ہمیشہ فیورٹ قرار دی جانے والی ٹیم جنوبی افریقہ نے اپنے حتمی 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے عمران طاہر بھی شامل ہیں۔ عمران طاہر قانونی پیچیدگیوں و شرائط کے باعث اب تک جنوبی افریقہ کی بین… عمران طاہر خوابوں کی تعبیر: گریم اسمتھ جنوبی افریقہ کے کپتان گریم اسمتھ نے پاکستانی نژاد عمران طاہر کی جنوبی افریقی اسکواڈ میں شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور کپتان انہیں ایک جارحانہ اسپنر کی کمی ہمیشہ محسوس ہوئی، اور بالآخر ٹیم میں بہترین اسپنر کی شمولیت کا یہ… فہد کیہر 10 جنوری 2011 0 بھارت نے آل راؤنڈ کھیل پیش کرتے ہوئے واحد ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ کو 21 رنز سے شکست دے دی۔ یوں جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر مکھایا این تینی کا الوداعی میچ یادگار نہ ہو سکا۔ جنوبی افریقی اوپنر مورنی وان وائیک کے شعلہ فشاں اننگ بھی جنوبی…
بے اولاد ۔۔۔ عارف حسین – اظہار 19/03/2021 عارف چنگیزی 0 Comments گوجرانوالہ کے کسی پہلوان کا انتقال ہوگیا۔ جنازے میں شریک ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا: "کیا پہلوان جی، صاحب اولاد تھے یا بے اولاد؟" دوسرے نے افسوس سے گردن ہلائی اور تاسف سے جواب دیا: "بیچارہ بے اولاد ہی چلا گیا۔" وہاں تیسرا شخص یہ سن کر فورا بولا: "جھوٹ کیوں بول رہے ہو؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے؟" یہ تیسرا شخص اکھاڑے کی روایت سے واقف نہیں تھا۔ پنجاب میں جب کوئی پہلوان چمپئن بن جاتا ہے، تو وہ اپنا ذاتی اکھاڑا بنالیتا ہے اور پھر اس میں نوجوانوں کو کشتی لڑنے کی تربیت دینے میں جت جاتا ہے۔ ان میں سے اگر کوئی نوجوان استاد کے پائے کا؛ یا اس سے بہتر کشتی لڑے، تو استاد اسے اپنا جانشین مقرر کرتا ہے اور وہ نوجوان اس کا "بیٹا" کہلاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر کسی کا جانشین ہوتا ہے، چاہے وہ مصور ہو یا گلوکار، شاعر ہو یا ریاضی کا استاد، بیوٹیشن ہو یا مستری، الیکٹریشن ہو یا میکینک؛ ہر کوئی اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بے اولاد نہ رہے۔ اسی وجہ سے ہر کسی نے اپنی اپنی تربیت گاہیں کھول رکھی ہیں اور اگر کسی کی اپنی تربیت گاہ نہ ہو، تو وہ کسی اور ادارے میں اپنی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ ان میں سے خاص طور پر اساتذہ ہیں، جن کی اپنی کوئی درسگاہ نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ دوسروں کے کھولے ہوئے اداروں میں درس تدریس کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ اس نہج پر مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے، کہ زندگی کے سب سے اہم شعبے میں سب بے اولاد اور بن باپ کے ہوتے ہیں اور اس شعبے کا نام ہے……سیاست! کیونکہ نوے فیصد(90%) سیاستدانوں کی کوئی اولاد نہیں ہوتی اور نوے فیصد(90%) سیاستدان بغیر باپ کے سیاسی میدان میں اترتے ہیں۔ اس پر سونے پہ سہاگہ یہ: کہ نوے فیصد(90%) عوام بھی سیاسیات میں سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ یہی ہے وہ نادیدہ عوامل، کہ ایک انگلش ٹیچر(جس کا آدھا دن کھیلوں کے سامان کی دکان میں بسر ہوتا تھا اور آدھا دن انگلش لینگوئج سینٹر میں) وہ بھی وزیر بن گیا اور اس کے نقش قدم پر چل کر آئندہ الیکشن میں ایک اور انگلش لینگوئج سینٹر کا استاد وزیر بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔(میری دعا ہے کہ اسے اس کے خوابوں کی تعبیر مل جائے) مگر اسے اس بات کا ادراک ہونا چاہیے، کہ اسٹیج پر ایک آدھ مرتبہ تقریر کرنے سے کوئی سیاستدان نہیں بنتا اور نہ ہی اسٹیج کی سیاست اور بلوچستان کی سیاست ایک جیسی ہیں۔ سوسائٹی کے تمام سیاست مداروں سے میری دست بستہ درخواست ہے، کہ وہ بھی معاشرے کے باقی قابل قدر ہنرمند آرٹسٹوں کی طرح اپنی تربیت گاہیں کھولیں، تاکہ وہ بھی بے اولاد نہ رہیں اور مستقبل کے سیاستدان بھی بغیر باپ کے اس میدان میں نہ اتریں۔ بلکہ اس کے سر پر کسی کہنہ مشق سیاست مدار کی دست شفقت کا ہونا لازمی ہے، تاکہ عام عوام میں بھی سیاسی شعور بیدار ہو اور آنے والی ہماری نئی نسلیں بھی اس "اکھاڑے" کی اونچ نیچ سے نابلد نہ ہوں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل عارف چنگیزی گزشتہ کئی سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔
فاریکس مارکیٹ کو سمجھنا :اسٹاک بروکر کو کیسے چنیں؟ شریفی رینی فرزانہ 2018/09/26 فاریکس کرنسی کے جوڑے - ڈائیٹ اسموتھیس (@ ڈائیٹ اسموتھیس) 2 دسمبر ، 2016. اسی اسٹاک بروکر کو کیسے چنیں؟ وقت ، نچلی رحجان کی لائن ایک سیدھی لائن تیار کرکے قائم کی جاتی ہے جو ایک رجحان کے کم سے کم دو نچلے حص .وں کو جوڑتا ہے۔ نچلے رجحان کی لائن یا تو اخترن یا افقی ہوسکتی ہے۔ جيتوڻيڪ ، هن وقت - پليٽ فارم ETHLend سڏيو ويندو هو ، LEND سان هن جو اصلي اسٹاک بروکر کو کیسے چنیں؟ ٽوڪن هوندو هو. اهو بنيادي طور تي قرض ڏيندڙ ۽ قرض ڏيندڙن کي ڳن toڻ لاءِ هڪ ميچ ٺاهڻ واري نظام طور ڪم ڪيو. 2018 ۾ ، ڊي فائي پليٽ فارم جو نالو تبديل ڪيو ويو - نئين قرض ڏيڻ واري ڪارڪردگي تي شامل ڪيو ويو. مرحلہ 3: ورڈپریس چارٹ میں ڈیٹا درآمد کریں. تاہم، وہ اکاؤنٹس جو 12 سال سے زائد عرصے سے غیر فعال رہتے ہیں، فی ماہ GBP 2 چارج کریں گے. یہ بالکل ایسا ہی لگتا ہے جیسے آپ کچھ کرنا چاہیں گے اگر آپ کو یہ ساری تفصیلات فراہم کی جائیں کہ کیسے شروع کرنا ہے ، کہاں سے تلاش کرنا ہے ، آپ کو کتنا سرمایہ کی ضرورت ہے اور کاروبار کتنا منافع بخش ہے۔ سچ ہے یا سچ؟ اپنے بٹوے پر کرپٹو کارنسیس بھیجنے کے ل "، واپسی نام کے ساتھ لنک یا بٹن تلاش کریں۔ اسٹاک بروکر کو کیسے چنیں؟ پرس کا پتہ درج کریں اور منتقلی کا انتظار کریں۔ آپریشن کی تصدیق میں کچھ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ کچھ تبادلے ایک سافٹ ویئر پورٹ فولیو پیش کرتے ہیں جو آپریشن کو تھوڑا سا تیز کرتے ہیں۔ مگر شبہ کیا جاتا ہے کہ ایران اس پروگرام کی آڑ میں خفیہ طور پر جوہری ہتھیار اسٹاک بروکر کو کیسے چنیں؟ بنا رہا ہے جس کی وجہ سے 2010 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل، امریکہ اور یورپی یونین نے ملک پر کمر توڑ پابندیاں عائد کر دیں۔
اقتدار کے دکھ!! – News Nama اقتدار کے دکھ!! تحریر:آئمہ محمود۔۔۔لفظ پاور سے ذہن میں سیاستدانوں یا امریکہ کا خیال آتا ہے لیکن زندگی کے کھیل میں اعلی سطح سے لے کر خاندان کی سطح تک شعوری اور لا شعوری طور پر ہر کوئی اس کے حصول کے لیے سرکرداں ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ دولت کی طرح پاور بھی کبھی کا فی نہیں ہوتی ، زیادہ سے زیادہ کی تمنا لگی رہتی ہے ۔ تاہم عام لوگوں کی زندگی جینے کی جدوجہد کبھی بھی طاقت کے زمرے میں نہیں آتی ۔ ہاں انکی جہد مشقت دوسروں کی تن آواری کی وجہ ضرور بنتی ہے کسی بھی معاشرتی ڈھانچے میں اہل اقتدار کو اپنے اختیارات کے استعمال کا قا نو نی حق حاصل ہوتا ہے جس کو پولیٹکل پاور کہہ سکتے ہیں ۔ سوشل سائنس کے مطابق لوگوں کے رویوں پر اثرانداز ہو کر نہ صرف انھیں کنٹرول کرنا بلکہ انھیں جزوی یا مکمل طور پر تبدیل کر دینے کی صلاحیت پولیٹکل پاور کہلاتی ہے یہ لازمی نہیں کہ حکومتوں کے پاس مکمل طاقت ہو معاشرے کے مختلف سکیٹرز کسی نہ کسی حد تک اپنی پاور کا استعمال کرتے ہیں ۔سیاسی و غیر سیاسی گروہ ، سرکاری و غیرسرکاری ادارے ، دینی جماعتیں اور میڈیا سب کے وجود کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگوں پر وہ کسقدر اثرانداز ہو کر اپنی اپنی طاقت و اہمیت کامظاہرہ کر سکتے ہیں اس دوڑ میں زیادہ کا میاب وہ رہتے ہیں جن کے پاس وسائل و زر کی فراوانی ہو تی ہے ۔ عوام کے خیالات ، پسند و نا پسند ، اچھے برے اورصحیح و غلط کے معیار بنانے اور بدلنے کیلئے کئی ہتکنھڈے استعمال کئے جاتے ہیں میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال جسمیں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔لوگوں کو Manipulate کرنا اور حقائق کو لٹو کی طرح گھما کر پیش کرنا پاور گیم میں کا میابی کی کنجی ہے۔ پاکستان میں طاقت کے حصول کی جاری جنگ میں عام لوگوں کی حیثیت شطرنج کے مہروں سے زیادہ نہیں لیکن چونکہ Manipulation کا زمانہ ہے اسی لیے جو زیادہ مہارت سے لوگوں کو یقین دلا دے کہ ان کی ترقی و کامرانی سے بڑھ کر ان کا کو ئی مطمع نظر نہیں ،اسکی واہ واہ ہے۔ یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں ؟ ان کے پاس کوئی عملی منصوبہ ہے ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کا یا نہیں؟ پاکستانی سیاست میں لوگوں کے جذبات کو ابھار کر ، انھیںڈرا کر اور سبز باغ دکھا کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی کو شش کی جا تی ہے ۔ آمرانہ حکومت ہو تو سیاستدانوں کو نااہل اور کرپٹ قرار دے کر ملک اور اس کے لوگوں کو جمہوریت کے قابل بنانے کی کوشیشیںشروع ہو جا تی ہیں اور جب آمر صاحب کے زیر سایہ سیاستدان جمہوریت کا سبق پڑھ کر اس قابل ہو جاتے ہیں کہ جمہوریت کو گراس روٹ تک لے جائیں تو پھر چاروں طرف جمہوریت کا حسن اپنے جلولے دیکھانا شروع کر دیتا ہے۔ دھاندلی کا رونا، پنکچروں کے انکشاف، دھرنوں ، احتجاجوں ،جلسے جلوسوں کا تماشہ شروع ہوتاہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی! لگتا ہے کہ حکومت تب گئی کہ اب گئی۔ جب اس سے بات بنتی نظر نہیں آتی اور کوئی ہلچل نہیں ہو تی تو پھر کرپشن کا واویلا مچایا جاتا ۔ حکومت میں ہر کو ئی بدعنوان اور شیطان ، حکومت سے باہر ہر کوئی فرشتہ۔ انسان کہیں نہیں ۔ آخر کار خدا خدا کر تقریبا ساڑھے چار سال بعد نااہلی کی خبر سے مرجھائے چہروں پر رونق واپس آتی ہے تو پھر ایک اور احتجاجی صدا گونج اٹھتی ہے عوام کے مینڈیٹ کو رد کرنے کی۔ پھر عہدوں سے ہٹائے جانے والوں کو اچانک احساس ہوتا ہے ملک میں بہت کچھ آئین کے خلاف ہو رہاہے بہت سارئے فیکٹرز ریاست کے کنٹرول میں نہیں۔ ملک میں دہشت گردی کی وجہ بیرونی نہیں اندورنی ہے۔ ان کا کہنا بجا لیکن یہ کیا کہ چار سال سے زیادہ عرصہ حکومت میں سب سے اعلی منصب پر فائز رہنے کے دوران انھوں نے یہ سوال نہیں اٹھائے ۔کیا اس وقت یہ سب کچھ نہیں ہو رہا تھا اگر ہو رہا تھا تو وہ چپ کیوں رہے؟ اقتدار میں رہتے ہوئے جو سچ ہوتا ہے وہ اقتدار سے نکلتے ہی جھوٹ کیوں بن جاتا ہے؟ طاقت اور وہ بھی لامحدود طاقت پانے کی خواہش معاشرے میں مسلسل چپقلش اور محاصمت کی وجہ بنی رہتی ہے جسکا خمیازہ بالا آخر عوام کو ہی چکانا پڑتا ہے ایک بار کسی نے پنجاب کے سابقہ وزیر اعلی غلام حیدر وائیں صاحب سے پو چھا کہ وزارت اعلی تو آپکے پاس ہے لیکن فیصلے کو ئی اور کرتا ہے تو ایسی وزارت کا کیا فائدہ؟ وائیں صاحب نے سادگی سے جواب دیا کہ فیصلے چاہے کو ئی بھی کرئے ہوٹر تو میری گاڑی پر لگا ہے ۔ وائیں صاحب قناعت پسند آدمی تھے جو ہوٹر اور اس سے ملنے والے پروٹوکول پر مطمین ہو گئے اختیار کے اگلے درجوں تک پہنچنے کا حیلہ نہیں کیا ویسے بھی حکومتی رشتوں میں ایک پارٹنر زیادہ طاقت ور ہو تو دوسرے پارٹنر کی بہتر ی اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے اندر رہ کر کام کرئے۔ پاور گیم میں طے شدہ سے زیادہ وسائل یا اختیار کا مطالبہ گیم سے باہر کر دئیے جانے کا بھی سبب بن جاتا ہے تب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار میں آنا بھی آپکے کسی کام نہیں آتا۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ حکمران اپنی ناکامیوں کے جواز میں کام نہ کرنے دئے جانے اور محدود اختیارات کا رونا روتے ہیں اور الزام نادیدہ قوتوں کو دیا جاتا ہے جو ملک میں جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیتی ۔ حکومت کا موقف درست بھی مان لیا جائے تو سوال یہ ہے اگر آپ اس قدر بے بس اور مجبور ہیں تو پھر ان نمائشی عہدوں سے کیوں چپکے ہوئے ہیں؟ حکومت کا حصول کیا صرف ذاتی جاہ وجلال کے لیے ہوتا ہے یا عوامی فلاح و بہبود اور جمہوریت کی مضبوطی بھی پیش نظر ہے؟ اگر عوام کا درد اور ملک کی ترقی مقصود ہے تو پھر ایسے بے اختیار عہدوں کو ٹھکرا کیوں نہیں دیا جاتا ۔ ایسے بے اختیار منصب سے فارغ ہونے پر اتنا دکھ اور احتجاج کس لیے؟ جواب ملتا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور ترقی کے لیے۔ لیکن اگر جمہوریت چند نمائشی عوامی نمائندوں کا نام ہے تو ایسی جمہوریت سو سال کے تسلسل کے بعد بھی مستحکم اور پائیدار نہ ہو گی عوام کی حکومت اورحکمرانی تب ہی ممکن ہو گی جب پاور گیم میں صرف گاڑیوں پر ہوٹر اورپرٹوکول کی خواہش سے آگے نکل کر لوگوں کی خوشحالی اور ترقی ہی حقیقی منزل ہو گی ۔ جب سیاسی جماعتیں کٹھ پتلیوں کی بجائے اصولی سیاست کو اپنائیں گی۔ تمام طبقات کو نمائندگی دی جائے گی ۔ قانون سب کے لیے اور سب پر نافذ ہو گا ۔ کرپشن پر سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہوگا ورنہ کیوں نکالا سے شروع ہونے والا سوالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو گا اور جواب میں صرف نااہلی اور غداری کا طعنہ ملے گا۔ جالب کی ایک پرانی نظم ہے جو بالکل پرانی نہیں لگتی۔
عوامی اجتماعات میں 3 سو سے زائد افراد اکٹھے کرنے کی پابندی ہے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا:وفاقی وزیر - Ejaz News عوامی اجتماعات میں 3 سو سے زائد افراد اکٹھے کرنے کی پابندی ہے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا:وفاقی وزیر وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے این سی او سی میں ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ ہم پیچھے کی طرف دیکھیں کہ کیا ہو چکا ہے، ہماری اولین ذمے داری یہ ہے کہ ہم آگے دیکھیں۔ قوم کی صحت اور روزگار کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے این سی او سی کو جس کے لیے ہم تمام ڈیٹا سائنس کا استعمال کرتی ہے اور ماہرین صحت ان کی رائے کو اہمیت دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کسی بھی طرح سے دیکھ لیں کیسز میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، یہ صرف دو ماہ میں ہوا ہے اور یہ اس کے باوجود ہوا کہ ہم نے جو کچھ فیصلے کیے تھے ان پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے لیکن بدقسمتی عملدرآمد اس طریقے سے نظر نہیں آ رہا جس طریقے سے پہلی لہر میں نظر آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اندر جو شادیاں ہو رہی تھیں ان پر پابندی لگا دی گئی، باہر کی شادیوں میں 300 کی حد رکھ دی گئی، اسی طرح ریسٹورنٹ میں بند کمروں میں کھانا کھانے پر پابندی لگا دی گئی اور یہ سارے تکلیف دہ فیصلے ہیں۔ اسی طرح میرج ہالز، ریسٹورنٹس اور ہزاروں لوگ ہیں جن کی نوکریاں ان سے جڑی ہوئی ہیں، ان سب کو بھی معاشی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہمیں یہ مجبوری میں اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کہ اگر ہم ایک آدمی کی معاشی بندش کی وجہ سے 100 آدمیوں کی معاشی بندش کو روک سکیں تو یہ منطقی بات ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں۔ یہ بھی پڑھیں: ریکوڈیک کیس میں وزیر اعظم نے ذاتی دلچسپی لی:وزیر قانون ان کا کہنا تھا ہمیں پاکستان کے بچوں کی تعلیم کی بھی فکر ہے، ہمیں پتہ ہے کہ بہت سارے تعلیمی ادارے کم قیمت اور کم فیس چارج کر کے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور ان بندشوں سے ایسے تعلیمی اداروں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اگر ایک جگہ پر 10 یا 20 ہزار لوگ جمع ہوں گے تو وبا کا پھیلاو بڑھے گا لیکن اس سے زیادہ خطرناک چیز یہ ہو رہی ہے کہ جب ملک کے لوگ اپنے لیڈرز کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ جلسہ کرنے سے کرونا بھاگ جائے گا، وبا کے پھیلاو کا اس سے کوئی تعلق نہیں، یہ تو سیاسی بات کی جا رہی ہے کہ وبا پھیل رہی ہے اور اس کے نتیجے میں لوگ اپنی حفاظتی پر عمل کرنا کم کردیں تو یہ کہیں زیادہ بڑا نقصان ہے۔
نصرت کریمی 2020/12/11 فاریکس مارکیٹ کو سمجھنا اسلام آباد۔ 16مارچ2021: پاکستان میں 24 گھنٹے کے دوران کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 7 فیصد تک جا پہنچی۔ کورونا وائرس سےمزید 58 افراد جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ 70 سال سےزائد عمر کے بزرگوں کو آج سے ملک بھر میں واک ان کورونا ویکسی نیشن کی سہولت دستیاب ہوگی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 2 ہزار511 کیسز سامنے آئے ہیں۔ مزید 58 افراد تکنیکی بمقابلہ بنیادی تجزیہ eToro اس موذی وباء کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے۔ جبکہ اس بیماری سے1 ہزار136مریض شفایاب ہو گئے۔ آپ کیوں زیادہ گھڑی کرنا چاہتے ہیں. نہ صرف فائدہ اٹھانے والے نقصانات کو بڑھاتا ہے ، بلکہ اس سے اکاؤنٹ کی قیمت کے ایک فیصد کے حساب سے لین دین کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر 500 ڈالر کے چھوٹے اکاؤنٹ والا تاجر پانچ: پائپ پھیلاؤ کے ساتھ کرنسی کے جوڑے کے پانچ منی لاٹ ($ 10،000) خرید کر 100: 1 بیعانہ استعمال کرتا ہے تو ، تاجر کو بھی لین دین کے اخراجات میں $ 25 کی لاگت آتی ہے: (1 / pip x 5 پائپ پھیلائیں) ایکس 5 لاٹ۔ تجارت شروع ہونے سے پہلے ہی ، اس نے اس کو پکڑنا ہوگا ، کیونکہ لین دین کے اخراجات میں $ 25 اکاؤنٹ کی قیمت کا 5٪ کی نمائندگی کرتا ہے۔ جتنا زیادہ فائدہ اٹھانا ہوتا ہے ، اس اکاؤنٹ کی قیمت کے فیصد کے حساب سے ٹرانزیکشن کی لاگت زیادہ ہوتی ہے ، اور جب لاگت کی قیمت میں کمی آتی ہے تو یہ اخراجات بڑھتے ہیں۔ عام SBA 7 (a) قرض کی شرائط یہ ہیں: لشکر جھنگوی نے ابتداء میں شیعہ کمیونٹی کے اندر حملے کئے اور 1997ء میں کراچی میں امریکی انجینئروں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کو 1999ء میں قتل کرنے کی کوشش بھی لشکر جھنگوی نے کی جبکہ خود ریاض بسرا 2002ء میں اس وقت مارا گیا جبکہ وہ ملتان میں شیعہ فرقہ پر حملہ پلان کر رہا تھا۔ اس دوران وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ دیگر کارروائیوں میں 2002ء میں لشکر جھنگوی نے 11 فرانسیسی ٹیکنیشن کی ایک بس پر بم کا حملہ کیا اور پندرہ افراد کو ہلاک کردیا جبکہ 17 مارچ 2002ء کو اسلام آباد کے ایک چرچ پر بھی بم کا حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے اور پولیس نے چرچ سانحے کی ذمہ دار جھنگوی ارکان کو گرفتار کرلیا اور لشکر جھنگوی نے بیان دیا کہ چرچ پر حملہ امریکہ کا افغانستان پر حملے کا جواب ہے۔ 1929 میں انہوں نے اشاعت کے بعد میونسپلٹی کے شعری مقابلے میں دوسرا مقام حاصل کیا سان مارٹن نوٹ بک. کوپر کنیت کے ساتھ مشہور لوگ. یہ جسم میں بہت سے کرداروں کے ساتھ تمام تجارت کا ایک جیک ہے۔ پروٹین توانائی کا ایک ذریعہ ہے ، خراب ٹشو کی مرمت میں مدد کرسکتا ہے ، ترقی کے لئے ضروری ہے اور انفیکشن اور بیماری کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے (1 ، 2) الانا بادام 16 اکتوبر ، 2017: آپ فاریکس گرو ہوسکتے ہیں ، لیکن بعض اوقات آپ کو صحیح وقت پر سب کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بازار خود سے حرکت نہیں کرتا ، اسے لوگوں اور اداروں کے ذریعہ منتقل کیا جاتا ہے جو اس پر چلتے ہیں اور ان میں طرز عمل تکنیکی بمقابلہ بنیادی تجزیہ eToro اور عادات ہیں۔ . لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا ، وَلَوْ اَنْ تُعْطِیَ صِلَۃَ الْحَبْلِ ، وَلَوْ اَنْ تُعْطِیَ شِسْعَ النَّعْلِ ، وَلَوْ اَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ اِنَاءِ الْمُسْتَسْقِیْ ، وَلَوْ اَنْ تُنَحِّیَ الشَّیْءَ مِنْ طَرِیْقِ النَّاسِ یُؤُ؎ذِیْھِمْ ، وَلَوْ اَنْ تَلْقَی اَخَاکَ وَوَجْھُکَ اِلَیْہِ مُنْطَلِقٌ ، وَلَوْ اَنْ تَلْقَی أَخَاکَ فَتَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، وَلَوْ اَنْ تُؤْنِسَ الْوَحْشَانَ فِیْ الْاَرْضِ. سیاست، معاشرتی مسائل یا عوامی تشویش سے متعلق معاملات کے متعلقہ زیرِ اثر میڈیا کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دیتا ہے۔ ناپاک نظر آنے کے لئے علاقے کو سیلاب سے بچنے کے لئے نکاسی آب کے مناسب پانی پر بھی کام کریں۔ اس سے میرے ہوم ورک کی آخری تاریخوں کا خیال رہتا ہے ، لیکن کیمپس کے آس پاس بہت سی دوسری چیزیں چل رہی ہیں جن کا مجھے خیال رکھنا ضروری ہے۔ ان کے ل I ، میں ایپل کے تکنیکی بمقابلہ بنیادی تجزیہ eToro iCal کے ساتھ پھنس گیا۔ آئی کیال کو مرئی رکھنے کے لئے ، میں نے ہش بینگ انڈسٹریز کا $ 12.99 iDeskCal ڈاؤن لوڈ کیا ، جو میرے ڈیسک ٹاپ پر iCal کے ایونٹس اور ٹو ڈاس کو ظاہر کرتا ہے۔ MetaTrader 5 کے بارے میں :فاریکس فرہنگ اس بار ہم جاب بورڈ ، کار ڈیلرشپ ، رئیل اسٹیٹ ، ویب سائٹ ، کاروبار ، خدمات اور دیگر براہ راست فہرست رکھنے والی ویب سائٹوں کے لئے بہترین ڈائریکٹری تھیمز دکھانا چاہیں گے۔ہم نے 20 سے زیادہ انتہائی حسب ضرو. ہوشیار سرمایہ کار کبھی بھی ایسی رقم کی سرمایہ کاری نہیں کرے گا جو وہ کھونے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس اہم اخراجات جیسے آپ کے رہن کی ادائیگی یا بچے کے کالج کی تعلیم کے لئے وقف کردہ فنڈز ہونا چاہئے۔ اگر آپ کو اچانک بغیر کسی آمدنی کے مل جائے تو کم سے کم کئی مہینوں کے قابل اخراجات پورے کرنے کے ل You آپ کے پاس ہنگامی فنڈ بھی ہونا چاہئے۔ گذشتہ پستیوں سے ڈالر کی بازیافت ہوئی ہے. فن ڈی کلیئر تھوڑا سا نمکین نفیس نسخہ کے ساتھ چربی والا۔ خبروں پر سٹاپ ٹریڈنگ پشت بندی. آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کاروبار کس طرح شروع اور چلایا جاسکتا ہے ، کتنے تکنیکی بمقابلہ بنیادی تجزیہ eToro بڑے سرمایے کی ضرورت ہے ، کہاں کا مقام مناسب ہے اور کاروبار کتنا منافع بخش ہوسکتا ہے ، دیگر اہم امور میں۔ پانچ دن میں ، آر او کے ، جس میں 25 جون کو 95،000 مرد تھے ، کم ہوکر 22،000 مردوں پر آ گئے تھے۔ جولائی کے اوائل میں ، جب امریکی فوجیں پہنچیں ، آر او کے کے پاس جو کچھ باقی تھا وہ اقوام متحدہ کی کمان کے امریکی آپریشنل کمانڈ کے تحت رکھا گیا۔ اگر آپ کے پاس ایک ہی قسم کے متعدد مواقع ہیں، تو پھر آپ کے لیے ایک ہی وقت میں ان مواقع پر کام کرنا زیادہ آسان بنانے کے لئے انہیں ایک تفصیلاتی صفحہ میں یکجا کر دیا جائے گا۔
ہوائی میں نصب دنیا کی سب سے بڑی دوربین سے سورج کی تازہ تصویر جس میں تقریباً 30 کلو میٹر کا ٹکڑا دکھایا گیا ہے۔ روشن حصے آگ کو ظاہر کرتے ہیں۔ 30 جنوری 2020 ہوائی میں نصب کی جانے والی دنیا کی سب سے طاقت ور دوربین سے سورج کی تصاویر حاصل کئی گئیں ہیں، جن میں اس کی سطح پر گیسیں جلنے، شعلے بلند ہونے اور پگھلنے والے مواد کو وضاحت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ نصب کی جانے والی اس جدید دوربین کے مرکزی عدسے کا قُطر چار میٹر ہے جو کہ دنیا میں نصب کی جانے والی تمام شمسی دوربینوں میں سب سے بڑا ہے​۔ اس کی مدد سے سورج کے تقریباً 30 کلومیٹر حصے کی تفصیلات بھی معلوم کی جا سکیں گی جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سورج کے چھوٹے حصوں کی تصویریں اتاری گئیں ہیں۔ تاہم، یہ چھوٹے حصے بھی رقبے میں امریکی ریاست ٹیکساس کے برابر ہیں۔ تصویر میں سورج کے اندرونی حصے سے حرارت باہر نکل رہی ہے۔ ان تصویروں میں آگ اور گیسوں کے اوپر اٹھنے کے مقام زیادہ روشن ہیں، جب کہ اس کے اردگرد ہلکے رنگ کی لکیریں وہ ہیں جہاں یہ پلازما ٹھنڈا ہو کر نیچے گر رہا ہے۔ زمین سے سورج کا فاصلہ نو کروڑ 30 لاکھ میل ہے اور اس سے خارج ہونے والی روشنی اور حرارت کی لہریں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میں فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی تقریباً آٹھ منٹ میں زمین تک پہنچتی ہیں۔ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کی جانے والی تصویروں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ان تصویروں سے 30 مربع کلومیٹر کے علاقے کی تفصیلات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ سائنس دان طویل عرصے سے نظام شمسی کے اس سب سے اہم ستارے کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی دوربینیں بنائی جا رہی ہیں جو سورج کی زیادہ واضح تصویریں اتار سکیں، جس سے انہیں سورج کی سطح پر آنے والے طوفانوں کی شدت، دورانیے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مقناطیسی لہروں اور تابکاری کی پیمائش کرنے میں مدد مل سکے۔ سورج اپنے مدار میں گردش کرنے والے سیاروں کو روشنی اور حرارت فراہم کرتا ہے۔ ہماری زمین میں زندگی کی نمو اور افزائش سورج ہی کی وجہ سے ہے۔ سورج کی روشنی اور حرارت بلا روک ٹوک زمین پر پہنچ جاتی ہے مگر اس سے خارج ہونے والی تابکاری کے زیادہ تر حصے کو زمین کے گرد موجود فضائی غلاف روک لیتا ہے۔ اور زمین اس کے مضر اثرات سے زیادہ تر محفوظ رہتی ہے۔ تاہم، سورج کی سطح پر جنم لینے والے طوفان کسی حد تک زمین پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ مقناطیسی طوفان ہمارے ریڈیائی رابطوں میں خلل ڈالتے ہیں اور بجلی کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ اب چونکہ انسان کا عمل دخل خلا میں بڑھ رہا ہے اور نہ صرف زمین کے مدار میں ان گنت راکٹ اور سیارچے گردش کر رہے ہیں جو کئی شعبوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں، بلکہ اب انسان دوسرے اجرام فلکی پر جانا اور وہاں اپنی کالونیاں قائم کی کوشش کر رہا ہ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے سورج میں اٹھنے والے طوفانوں کی پیشگی اطلاع ہو، تاکہ وہ اس سے بچاؤ کی تدابیر کر سکے، کیونکہ خلا میں سورج سے نکلنے والی مقناطیسی اور تابکار شعاعیں بلا روک ٹوک سفر کرتی ہیں۔ سورج اور اس کے طوفانوں کے متعلق زیادہ ڈیٹا اکھٹا ہونے کے بعد سائنس دانوں کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ سورج کے طوفانوں کے بارے میں بھی اسی صحت سے پیش گوئیاں کر سکیں، جیسے اب وہ موسم اور سمندری طوفان کے متعلق دنوں پہلے خبردار کر دیتے ہیں۔
ہو جائیے تیار، یکم اگست سے شروع ہونے والا ہے ٹیسٹ کرکٹ کا ورلڈ کپ یکم اگست سے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کی شروعات ہو جائے گی۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا ایشزسیریز کا پہلا میچ ٹیسٹ چمپئن شپ کا پہلا میچ ہوگا۔ Published: 29 Jul 2019, 8:10 PM یکم اگست سے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کی شروعات ہو جائے گی۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا ایشز کا پہلا میچ ٹیسٹ چمپئن شپ کا بھی پہلا میچ ہوگا۔ اس کے ساتھ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کی شروعات بھی ہو جائے گی۔ اس چمپئن شپ کے ذریعہ ٹیسٹ میچوں کو بھی دلچسپ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آئی سی سی ٹیسٹ چمپئن شپ کا پہلا ایڈیشن جون 2021 تک چلے گا جب کہ اس کا فائنل جون 2021 میں لارڈس کے تاریخی میدان پر کھیلا جائے گا۔ اس ایڈیشن کے ختم ہونے کے بعد دوسرے ایڈیشن کی شروعات ہوگی جو اپریل 2023 تک چلے گا۔ ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لیے آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کرانے کا اعلان کیا تھا۔ آئی سی سی کو اس چمپئن شپ کا خیال 2009 میں آیا تھا۔ 2010 میں اسے منظوری دے دی گئی تھی۔ آئی سی سی چاہتی تھی کہ 2013 میں اس کی شروعات ہو جائے، لیکن کچھ اسباب کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکا تھا اور اب اس کی شروعات یکم اگست سے انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا میچ سے ہوگی۔ آئی سی سی ٹیسٹ چمپئن شپ رینکنگ میں قابض سرکردہ 9 ممالک کے درمیان دو سال تک کھیلا جائے گا۔ اس دوران سبھی ٹیمیں 6-6 ٹیسٹ سیریز کھیلیں گی۔ اس میں تین سیریز وہ گھر میں اور تین بیرون ممالک میں کھیلیں گی۔ حالانکہ یہ چمپئن شپ راؤنڈ رابن کی بنیاد پر نہیں ہوگا جس میں سبھی ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف کھیلنا ضروری ہو۔ آخر میں جن دو ٹیموں کے سب سے زیادہ پوائنٹ ہوں گے، ان کے درمیان انگلینڈ میں جون 2021 میں فائنل کھیلا جائے گا۔ ہر سیریز کے کل 120 پوائنٹس ہوں گے، جو ہر سیریز میں میچوں کی بنیاد پر طے ہوں گے۔ ایک دو ٹیسٹ میچ کی سیریز میں زیادہ سے زیادہ 60 پوائنٹ حاصل کیے جا سکیں گے جب کہ پانچ میچوں کی سیریز میں ہر میچ سے زیادہ سے زیادہ 24 پوائنٹ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ٹائی میچوں میں جیت کے مقابلے نصف پوائنٹ ملیں گے۔ وہیں ڈرا ہونے پر جیت کے ایک تہائی پوائنٹ ملیں گے۔
ٹورچلائٹ: باہمی تعاون سے متعلق معیشت کے حل کے ساتھ ڈیجیٹل مارکیٹنگ | Martech Zone ٹورچلائٹ: باہمی تعاون سے متعلق معیشت کے حل کے ساتھ ڈیجیٹل مارکیٹنگ جمعرات، نومبر 5، 2015 جمعرات، نومبر 5، 2015 Douglas Karr ابھی تک ، آپ شاید اس حوالہ سے آگئے ہوں گے ٹام گائیوان، حواس میڈیا میں حکمت عملی اور جدت کے سینئر نائب صدر: دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی اوبر کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے۔ دنیا کا سب سے مقبول میڈیا مالک ، فیس بک کوئی مواد تیار نہیں کرتا ہے۔ سب سے قیمتی خوردہ فروش علی بابا کی کوئی فہرست نہیں ہے۔ اور دنیا کا سب سے بڑا رہائش فراہم کرنے والا ایئربنب غیر منقولہ جائداد کا مالک نہیں ہے۔ اب موجود ہے 17 ارب ڈالر کی کمپنیاں نام نہاد میں باہمی معاشی معیشت. ان کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر کامیابی کا تجربہ کیا ہے نہ کہ کسی نئی مصنوع کی ایجاد کرکے ، بلکہ اس سے ان کے نقطہ نظر کو دوبارہ جاننے سے جو لوگوں کو ملاپ کے ذریعہ قیمت پیدا کرتا ہے جو ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے پاس پیش کردہ چیزیں ہوں۔ اگر یہ آسان لگتا ہے ، ٹھیک ہے ، کیونکہ یہ ہے۔ بعض اوقات ذہانت کا سیدھا مطلب واضح کو سمجھنا۔ سوزن مارشل ، ایک تجربہ کار مارکیٹر کے نزدیک ، یہ واضح ہو گیا کہ اس طرح کی سوچ - بالکل مماثل رابطے پیدا کرنا marketing صرف مارکیٹنگ کی صنعت میں کارآمد نہیں ہوگی ، یہ ضروری ہوگا۔ مارکیٹرز یہ کہنے کی عادت ڈال چکے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے کھیل کے میدان کو برابر کردیا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے پاس اب تجارتی سامان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے ل tools ٹولز موجود ہیں۔ عملی طور پر ، یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اگرچہ پہلے سے کہیں زیادہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ٹولز بہتر اور وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں ، لیکن پھر بھی کمپنیوں کو ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو بہتر نتائج حاصل کرنے کے ل those ان اوزاروں کا استعمال کس طرح جانتے ہیں۔ ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مارکیٹنگ کے عمومی ماہر اب بدلتے ڈیجیٹل زمین کی تزئین کے ساتھ پیش قدمی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس میں ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے ، اور زیادہ تر کاروباری اداروں کے لئے ، ان ماہرین کو ڈھونڈنا ناممکن ہوسکتا ہے۔ مارکیٹنگ کی مہارت حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کو بہتر ماہر بنانے کے ل they ، جو ان کی ضرورت ہے ، مارشل نے تشکیل دیا مشعل - ایک باہمی تعاون کے ساتھ معیشت کا حل جو کسی بھی کاروبار کو خصوصی مارکیٹنگ ٹیم بنانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اینٹی ایجنسی کے اس نقطہ نظر میں ، ٹورچلائٹ کاروباریوں کو ایک مطالبہ پر منڈی فراہم کرتی ہے جس سے وہ ڈیجیٹل مہمات کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لئے انفرادی مارکیٹنگ کے ماہرین کے وسیع نیٹ ورک کو ٹیپ کرسکتے ہیں۔ ہر ایک ماہر ، یا مشعل راہ، کا انتخاب بزنس کی مخصوص ضروریات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر مزید ٹریفک چلانے کے لئے تلاش کر رہے ہیں؟ ٹورچلائٹ آپ کو ایک SEO کے ماہر کے ساتھ آپ کی صنعت کے تجربے سے ملائے گی تاکہ آپ کی سائٹ کو بہتر بنایا جاسکے اور آپ کے گاہک آپ کو تلاش کرسکیں۔ ٹورچلائٹ کاروباروں کو گھر میں اضافی عملہ یا بیرونی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا متبادل پیش کرتی ہے۔ ان کی قیمتوں کا موازنہ کسی ایجنسی کے فی گھنٹہ کی شرح یا گھر میں ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی لاگت (سوشل میڈیا منیجر کے لئے $ 50,000،85,000 ، ایک ای میل مارکیٹر کے لئے $ 65,000،XNUMX ، SEO / ویب ماہر کے لئے ،XNUMX XNUMX،XNUMX) سے کریں ، اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں کیسے ہوسکتا ہے مالی فوائد مشعل کاروباری اداروں کو اپنی موجودہ مارکیٹنگ ٹکنالوجی کا اسٹیک رکھنے کے قابل بھی بناتا ہے۔ عملی طور پر ہر ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے آلے کو استعمال کرنے میں مہارت رکھنے والے ماہرین کے پورے بازار تک رسائی حاصل کرنے کا مطلب ہے کہ کاروبار کو اپنی موجودہ ٹیکنالوجی کو چیرنا اور تبدیل نہیں کرنا ہوتا ہے۔ ٹورچلائٹ استعمال کرنے والے کاروبار میں بھی یہ اختیار ہے آن کر دو, اپ کی باری ہے or بند کر دیں کسی بھی وقت مخصوص آن لائن مارکیٹنگ کی تدبیریں یا پروگرام۔ مثال کے طور پر ، اگر ای میل مارکیٹنگ ، تبدیلی کے ل driving ڈرائیونگ کے تبادلوں کے ل the بہترین ثابت ہوتی ہے جبکہ دیگر تدبیریں کم موثر ہوتی ہیں تو ، کاروبار اپنی توجہ کو تبدیل کرنے اور آسانی سے اپنے وسائل کو دوبارہ آباد کرنے میں آزاد ہیں۔ ٹورچلائٹ شروع سے ختم ہونے تک اس سارے عمل کا انتظام کرتی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ کاروباری مالکان کو اضافی صلاحیتوں کی خدمات حاصل کرنے ، اس کے انتظام یا آؤٹ سورس کرنے کے بارے میں کبھی بھی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ کاروباری مالکان کو ان کے مشعل راز رکھنے والے کام پر نظر رکھنے میں مدد کرنے کے ل Tor ، ٹورچلائٹ ہر گاہک کو ایک سرشار اکاؤنٹ منیجر کے ساتھ ساتھ آن لائن ڈیش بورڈ تک رسائی بھی فراہم کرتی ہے۔ ٹورلائٹ ڈیش بورڈ کے توسط سے ، مؤکلوں کے پاس پیشرفت کی نگرانی کرنے ، طے شدہ کاموں کو دیکھنے ، مواد کی منظوری دینے اور اپنے مارکیٹنگ کے اہداف تک پہنچنے کے ل how کتنے قریب ہیں اس کی مکمل نظر رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ٹیم میں کپتان کیخلاف سازشیں کس طرح کی جاتی ہیں؟ سعید ٹیم میں کپتان کیخلاف سازشیں کس طرح کی جاتی ہیں؟ سعید اجمل کی زبانی جانئے Jun 17, 2019 | 18:44:PM 6:44 PM, June 17, 2019 کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جادوگر سپنر سعید اجمل نے انکشاف کیا ہے کہ 2009 میں چیمپیئنز ٹرافی کے دوران کپتان یونس خان کے خلاف لڑکوں نے قرآن پاک پر حلف لے کر گروپ بندی کی، یونس خان کو پوری ٹیم یعنی زیادہ تر کھلاڑی پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ تھوڑے غصے والے تھے ، یونس خان کیخلاف طبقے میں شاہد آفریدی بھی شامل تھے ، مرحوم منیجر یاور سعید کے پاس بھی یہ رپورٹ گئی تھی ۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ 2009 میں یونس خان کپتان تھے لیکن کھلاڑی انہیں پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ ان میں غصہ زیادہ تھا۔ جنوبی افریقہ میں چیمپیئنز ٹرافی کے دوران کھلاڑیوں نے کپتان یونس خان کے خلاف قرآن پاک پر حلف دے کر گروپ بندی کی،انہوں نے کہا میں سب سے جونیئر تھا ، یونس خان نے مجھے کمرے میں بلایا اور گروپ بندی کے حوالے سے پوچھا۔ 'میں نے قرآن پاک پر حلف دیا ہے کہ میں کسی کو نہیں بتاﺅں گا، اس گرو پ میں ایک میں تھا، اور نہیں بتا سکتا کہ کتنے بندے تھے، حلف دے چکا ہوں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ بات تین منٹ کے بعد میڈیا پر کیسے چل گئی؟ کسی نے تو حلف کی خلاف ورزی کی'۔ شاہد آفریدی کی اس کمرے میں موجودگی کے بارے میں سوال کے جوا ب میں سعید اجمل نے کہا کہ کپتان کے خلاف گروپ بندی کے موقع پر اس کمرے میں 10 سے زیادہ بندے تھے، یونس خان کے خلاف اس وجہ سے تھے کہ کھلاڑیوں کیساتھ رویہ ٹھیک تھا لیکن گراؤنڈ میں ایگریسو تھے ، وہ محنتی تھے اور میں سب سے جونیئر تھا جہاں آٹھ سینئرز بیٹھے ہوں اور مجھے ڈرا یادھمکایاجائے ، مجھے کہا گیا کہ اگر تم ہمارے گروپ کا حصہ نہیں بنتے تو تمہیں ٹیم سے باہر نکال دیں گے، اگر میری جگہ کوئی اور جونیئرہوتا تو وہ کیا کرتااور یہی بات میں نے یونس خان کے سامنے بھی رکھی ؟ ۔سعید اجمل نے کہاکہ یہی بات یونس خان سے بھی پوچھی کہ آپ اگر میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟انہوں نے کہا کہ آپ نے جو کچھ کیا ، ٹھیک کیا، آپ جاسکتے ہیں۔ویڈیو دیکھئے
داعش میں شمولیت کے بعد اپنی برطانوی شہریت کھو دینے والی خاتون شمیمہ بیگم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے واپس برطانیہ جانے کو تیار ہیں۔شمیمہ بیگم 15 سال کی تھیں جب وہ 2015 میں لندن میں سکول کے اپنے دو دوستوں کے ساتھ شام پہنچ گئیں جہاں انہوں نے داعش کے ایک جنگجو سے شادی کر لی تھی۔ اب ان کے تین بچے بھی ہیں۔ 'داعش کی دلہن' کے نام سے مشہور شمیمہ کی برطانوی شہریت اس وقت منسوخ کر دی گئی تھی جب صحافیوں نے 2019 میں ان کا ایک کیمپ میں سراغ لگا لیا تھا۔ عسکریت پسندوں کا دفاع کرنے پر مغربی میڈیا ان کے خلاف بھڑک اٹھا تھا۔رواں سال کے آغاز میں برطانوی سپریم کورٹ نے عوامی تحفظ کی بنیاد پر ان کی برطانیہ واپسی کی اجازت مسترد کر دی تھی۔ شمیمہ برطانیہ واپس آ کر ان کی شہریت کی منسوخی کے فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتی تھیں۔ شمیمہ کا موقف ہے کہ وہ کبھی بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا تیاری میں براہ راست ملوث نہیں رہیں۔آئی ٹی وی کو انٹرویو میں شمیمہ نے بتایا: 'میں عدالت جانے اور ان لوگوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں جنہوں نے یہ دعوے کیے لیکن میں ان دعوؤں کی تردید کرتی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میں نے داعش کے لیے کچھ نہیں کیا۔ میں محض ایک ماں اور بیوی ہوں۔'ان کا مزید کہنا تھا: 'یہ دعوے مجھے مزید برا دکھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کیونکہ حکومت کے پاس میرے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کیونکہ میں نے کبھی کچھ کیا ہی نہیں۔' شمیمہ جن کی عمر اب 22 سال ہے، نے مزید کہا کہ 'ان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ داعش میں شمولیت کے الزامات پر خاموش رہیں اور ان تمام لوگوں سے معافی مانگی جو شدت پسندوں کے ہاتھوں اپنے پیاروں کو کھو چکے تھے۔'عرب نیوز کے مطابق شام سے دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا: 'یہاں آنے سے اگر کسی کو کوئی تکلیف ہوئی تو مجھے بہت افسوس ہے۔'بنگلہ دیشی نژاد شمیمہ کے وکیل نے برطانوی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ان کی موکلا کے ساتھ نسل پرستانہ سلوک روا رکھ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر انہیں قربانی کا بکرا بنانے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا ہے کہ شمیمہ 'جنسی استحصال اور جبری شادی کے مقاصد کے لیے شام میں سمگل کی جانے والی ایک برطانوی بچی تھی لیکن حکومت کے اقدامات نے ان سے ان کا وطن ہی چھین لیا۔'بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ شمیمہ کو شہریت دینے پر غور نہیں کریں گے۔ایک اندازے کے مطابق تقریباً 900 افراد نے برطانیہ سے شام اور عراق کا سفر کرتے ہوئے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے جو برطانیہ کے حکام کے لیے قانونی درد سر بنے ہوئے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ شام اور عراق کا سفر کرنے والے تقریباً 150 افراد کی شہریت منسوخ کر دی گئی ہے۔
گزشتہ 28 مارچ کو وزارت صحت کے تحت سرکاری کمپنی ایچ ایل ایل لائف کیئر نے جنوب مغربی ریلوے کے چیف میڈیکل ڈائریکٹر کو بھیجے ایک ای میل میں کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے حفاظتی آلات پہنچنے میں 25 سے 30 دن کا وقت لگ سکتا ہے۔ نئی دہلی: کورونا وائرس وبا سے لڑنے میں اہم کردار نبھا رہے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر میڈیکل پیشہ وروں تک حفاظتی آلات پہنچنے میں قریب ایک مہینے تک کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ این ڈی ٹی وی کو حاصل ہوئے ایک ای میل میں سرکاری ایجنسی نے یہ قبول کیا ہے۔گزشتہ 28 مارچ کو وزارت صحت کے تحت ایک سرکاری کمپنی' ایچ ایل ایل لائف کیئر 'نے جنوب مغربی ریلوے کے چیف میڈیکل ڈائریکٹر کو بھیجے ایک ای میل میں پی پی ای کے پہنچنے میں تاخیر کی بات قبول کی ہے۔ جنوب مغربی ریلوے نے ریلوے ہاسپٹل کے لئے ایچ ایل ایل سے 18000 حفاظتی آلات مانگے تھے۔ اس میں باڈی کور، ماسک، دستانے اور چشمے شامل ہیں۔ اس کے جواب میں ایچ ایل ایل نے کہا کہ اس وقت بازار میں اس کی بھاری کمی ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ چیزیں ان تک پہنچنے میں 25 سے 30 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ معلوم ہو کہ یہ صرف ریلوے کا ہی معاملہ نہیں ہے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ اسپتالوں میں حفاظتی آلات کی کمی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر جان خطرے میں ڈال‌کر علاج کر رہے ہیں۔وزارت صحت نے گزشتہ سوموار کو ایک بیان جاری کرکے حفاظتی آلات کی خرید کو لےکر اپنی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ حالانکہ حکومت کے بیان میں ہی ان کی کوششوں میں کمی صاف دکھائی دیتی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ انہوں نے صرف 60000 پی پی ای ابھی تک خریدا ہے اور تقریباً 60 لاکھ پی پی ای کا آرڈر دیا گیا ہے، جس میں سے آدھے پی پی ای گھریلو مینوفیکچررز سے خریدے جائیں‌گے۔ باقی کے سامان سنگاپور اور جنوبی کوریا سے آئیں‌گے۔ پورے ہندوستان میں تقریباً چار لاکھ پی پی ای اسٹاک میں رکھے گئے ہیں۔ حالانکہ وزارت نے یہ واضح طور پرنہیں بتایا کہ کب تک غیر ممالک سے مال آ جائے‌گا۔ ایچ ایل ایل کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کئے گئے گلوبل اور گھریلو ٹینڈر کے مطابق ہندوستان نے 20 لاکھ باڈی کور، 20 لاکھ چشمے، 50 لاکھ این-95 ماسک، چار کروڑ سرجیکل ماسک، 40 لاکھ دستانے اور 10 لاکھ ہینڈ سینٹائزر بوتل کی مانگ کی ہے۔ حفاظتی آلات کی کمی کو لےکرمختلف ریاستوں کے ڈاکٹروں سے بات چیت بے حد تشویش ناک داستاں بیاں کرتی ہے۔ دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق،مغربی بنگال کے کولکاتہ میں کلکتہ میڈیکل کالج کو پوری طرح سے کووڈ-19 ہیلتھ کیئر سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کو لےکر یہاں کے ڈاکٹروں، نرسوں سمیت دیگر میڈیکل پیشہ وروں کو ٹریننگ دی گئی تھی جس میں ان کو دکھایا گیا کہ ان کو کس طرح کے پی پی ای دیے جائیں‌گے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کو جو باڈی کور دکھایا گیا اس پر 'رین ویئر '، مطلب برساتی کپڑا، لکھا ہوا تھا۔ ہاسپٹل کے ایک ڈاکٹر نے بتایا، ' ہم ہاسپٹل انتظامیہ کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا یہ رین کوٹ ہمیں دئے جائیں‌گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف دکھانے کے لئے دکھایا گیا تھا، اصلی کٹ ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق ہیں۔ ' حالانکہ جب گزشتہ سوموار سے یہاں پر کووڈ-19 کی تفتیش شروع کی گئی تو ایسا کوئی حفاظتی آلات نہیں آیا تھا۔ ڈاکٹر نے دی وائر کو بتایا، ' اب ہمارے سامنے مظاہرہ کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ پلیز اس کے بارے میں لکھیے، یہاں پر خودکشی جیسی حالت ہے۔ ' اس کے علاوہ ممبئی کے کستوربا ہاسپٹل میں کووڈ-19 مریضوں کی جانچ‌کر رہے ایک میڈیکل افسر نے کہا ان کو جو حفاظتی آلات دیے گئے ہیں وہ حقیقت میں ایچ آئی وی حفاظتی آلات ہیں۔ انہوں نے ایک فیس بک ویڈیو میں کہا، 'اس سے کورونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے میں کوئی خاص اثر نہیں پڑے‌گا۔ ' دی وائر کے ذریعے میڈیکل پیشہ وروں کے مختلف طبقوں سے کی گئی بات چیت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جہاں ایک طرف ایسی وبا میں بھی ڈاکٹر، نرس ہر پل کام کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف انتظامیہ حفاظتی آلات پہنچانے کی ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اس وبا کو روکنے میں رکاوٹ آئے‌گی بلکہ یہ میڈیکل پیشہ وروں کی جان کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ بہار میں پٹنہ کے نالندہ میڈیکل کالج اور ہاسپٹل میں کووڈ-19 کے مریضوں کا علاج کر رہے ڈاکٹروں کو ضروری سہولیات نہیں مل پا رہی ہیں۔ یہاں کے ایک ڈاکٹر نے کہا، 'میں عمر دراز ہوں اور میری بیوی بھی ڈاکٹر ہیں لیکن ہمیں آئسولیشن وارڈ میں صرف سرجیکل ماسک دیا گیا ہے۔ 'جب یہاں کے دو ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے انتظامیہ سے اس کی شکایت کی اور کہا کہ پی پی ای کے بغیر علاج کرنا خودکشی کے برابر ہے، تو انتظامیہ نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی۔ اتنا ہی نہیں ہاسپٹل کے 83 جونیئرڈاکٹروں نے کوروناوائرس سے خود کے متاثر ہونے کو لے کر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر خود کو15 دن کے لیے کوارنٹائن کرنے کی اپیل کی ہے۔ نارتھ بنگال میڈکل کالج اور ہاسپٹل میں ڈاکٹروں کو رین کوٹ، کپڑے کا ماسک اور بغیر سینٹائزر کے کام کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ سوموار کو یہاں پر ایک مریض کی موت ہو گئی جس کے بعد ڈاکٹروں نے پی پی ای نہ ہونے کو لےکر ناراضگی ظاہر کی۔ حالانکہ انتظامیہ نے کہا کہ اگر ان کو کوئی مسئلہ ہے تو کام چھوڑ دیں۔
بوئنگ نے فجی ایر ویز کا پہلا 737 میکس جیٹ پہنچایا ایئر لائن نیوز ایئر لائن نیوز • ہوائی اڈے کی خبر • سفر کی خبریں • فجی ٹریول نیوز • بین الاقوامی زائرین کی خبریں • ٹرانسپورٹیشن کی خبریں • سفر کی خبریں • ریاستہائے متحدہ امریکہ بوئنگ نے فجی ایر ویز کا پہلا 737 میکس جیٹ فراہم کیا 0a1a-2۔ ہوم پیج (-) » خطوط » ایئر لائن نیوز » بوئنگ نے فجی ایر ویز کا پہلا 737 میکس جیٹ فراہم کیا بوئنگ نے فیجی ایئرویز کے لئے پہلا 737 میکس کی فراہمی کی ، جو اپنے 737 جیٹ کے مشہور ایندھن سے چلنے والے طویل طوالت والے ورژن کو اپنے سنگل گلیارے کے بیڑے کو وسعت اور جدید بنانے کے لئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ فجی ائیرویز کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او آندرے ولجین نے کہا ، "ہمیں اپنے پہلے 737 میکس 8 کی ترسیل کرنے پر بہت خوشی ہے ، جس کا نام جزیرہ کڈاو ہے۔ "737 میکس کا تعارف فجی ایئر ویز کے لئے ایک نئے باب کا آغاز ہے اور ہم ہوائی جہاز کی اعلی کارکردگی اور معاشیات سے فائدہ اٹھانے کے منتظر ہیں۔ یہ نئے ہوائی جہاز ہمیں بوئنگ اسکائی داخلہ کے نئے کیبنوں کے ذریعے تمام مہمانوں کے لئے اندرون نشست تفریح ​​کے ساتھ عالمی معیار کے کسٹمر کا تجربہ پیش کرنے کے اہل بنائیں گے۔ فجی ایئرویز نے پانچ میکس 8 ہوائی جہازوں کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے ، جو اگلی نسل کے 737s کے اپنے بیڑے کی کامیابی کو تقویت بخشے گا۔ میکس نے کارکردگی کو بہتر بنانے اور آپریٹنگ اخراجات کو کم کرنے کے لئے جدید ترین ٹکنالوجی سی ایف ایم انٹرنیشنل ایل ای اے پی -1 بی انجن ، ایڈوانسڈ ٹکنالوجی ونگلیٹ اور ایئر فریم میں اضافہ کیا ہے۔ پچھلے 737 ماڈل کے مقابلے میں ، میکس 8 600 سمندری میل دور اڑ سکتا ہے ، جبکہ ایندھن کی 14 فیصد کارکردگی مہیا کرتا ہے۔ میکس 8 ایک معیاری دو درجے کی ترتیب میں 178 مسافروں کو بٹھا سکتا ہے اور 3,550،6,570 سمندری میل (XNUMX،XNUMX کلومیٹر) کی پرواز کرسکتا ہے۔ بوئنگ کمپنی کے کمرشل سیل اینڈ مارکیٹنگ کے سینئر نائب صدر احسان موئنر نے کہا ، "ہم آپریٹرز کے میکس فیملی میں فجی ایئر ویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوش ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ وہ بحر الکاہل میں 737 میکس آپریٹر ہوں گے۔" "بوئنگ مصنوعات میں ان کی مستقل شراکت داری اور اعتماد سے ہمیں اعزاز حاصل ہے۔ میکس کی مارکیٹ میں نمایاں کارکردگی فجی ایئر ویز کے لئے فوری طور پر منافع ادا کرے گی اور ان کے کام اور روٹ نیٹ ورک کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔ نادی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مبنی ، فجی ایئرویز 13 ممالک اور 31 مقامات / شہروں میں کام کرتا ہے جن میں فجی ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، سموعہ ، ٹونگا ، تووالو ، کیریباتی ، وانواتو اور سولومن جزیرے (اوقیانوسیہ) ، ریاستہائے متحدہ ، ہانگ کانگ ، جاپان اور سنگاپور شامل ہیں۔ . اس میں اپنے کوڈ شیئر شراکت داروں کے ذریعہ 108 بین الاقوامی مقامات کا توسیع نیٹ ورک بھی ہے۔ اپنے بیڑے کو جدید بنانے کے علاوہ ، فجی ایئر ویز بوئنگ گلوبل سروسز کو اپنے کاموں کو بڑھانے کے ل. استعمال کرے گی۔ ان خدمات میں ایئرپلین ہیلتھ مینجمنٹ شامل ہے ، جو ریئل ٹائم ، پیش گوئی کرنے والی سروس الرٹس ، اور سافٹ ویئر ڈسٹری بیوشن ٹولس تیار کرتی ہے ، جو ایئر لائنز کو ڈیجیٹل گراؤنڈ بیسڈ ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے انتظام کرنے اور سافٹ ویئر کے پرزوں کو موثر طریقے سے انتظام کرنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ 737 میکس فیملی بوئنگ کی تاریخ کا سب سے تیزی سے فروخت ہونے والا ہوائی جہاز ہے ، جس نے دنیا بھر میں 4,800 سے زیادہ صارفین سے لگ بھگ 100،200 آرڈر جمع کیے ہیں۔ بوئنگ نے مئی 737 سے 2017 XNUMX سے زیادہ میکس ہوائی جہاز فراہم کیے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان: سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جب کہ پنجاب رینجرز کا کرنل یعقوب اور سپاہی ریحان زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں دہشت گردوں نے رینجرز کی ٹیم پر فائرنگ کی، فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کا کرنل یعقوب اور سپاہی ریحان زخمی ہوگئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رینجرز کی ٹیم معمول کے گشت پر تھی کہ دہشت گردوں نے رینجرز کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کر گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کردیا گیا۔ The post ڈی جی خان میں دہشت گردوں کی رینجرز ٹیم پر فائرنگ، کرنل اور سپاہی زخمی appeared first on ایکسپریس اردو.
امر دوبے شادی کے سات دن بعد ہی بکرو واقعہ میں مارا گیا تھا، اس کے بعد خوشی دوبے کی گرفتاری اور لگاتار جیل میں بند ہونے سے برہمنوں میں برسراقتدار بی جے پی کے خلاف زبردست ناراضگی ہے۔ گایتری تیواری، تصویر آئی اے این ایس Published: 25 Jan 2022, 7:11 PM سماجوادی پارٹی نے خوشی دوبے کی ماں گایتری تیواری کو الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ کی پیشکش کی ہے۔ خوشی دوبے بکرو واقعہ میں ہلاک گینگسٹر وکاس دوبے کے قریبی امر دوبے کی بیوہ ہیں اور فی الحال جیل میں بند ہیں۔ خوشی دوبے کی ماں گایتری دیوی نے بھی کہا ہے کہ اگر اس سے انھیں اپنی بیٹی کو جیل سے باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے تو وہ الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ بکرو واقعہ میں مارے گئے گینگسٹر وکاس دوبے کے قریبی امر دوبے کی ساس گایتری تیواری سے پیر کے روز سماجوادی پارٹی کے منیجر آشیش چترویدی نے رابطہ کیا اور انھیں کانپور میں گووند نگر سے ٹکٹ کی پیشکش کی۔ گایتری تیواری نے نامہ نگاروں سے کہا کہ اگر اس سے انھیں اپنی بیٹی کو جیل سے باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے تو وہ انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ گایتری تیواری نے کہا کہ ''میں نے اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے ڈیڑھ سال تک جدوجہد کی، لیکن ناکام رہی۔ اس کی شادی کو صرف تین دن ہوئے تھے جب بکرو قتل عام ہوا تھا اور پولیس نے اسے نابالغ ہونے کے باوجود گرفتار کر لیا تھا۔'' انھوں نے کہا کہ انھیں اکھلیش یادو کی قیادت پر پورا بھروسہ ہے اور پارٹی نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ خوشی کو ان کی حکومت بننے کے ایک مہینے کے اندر رِہا کر دیا جائے گا۔ دراصل امر دوبے شادی کے سات دن بعد ہی بکرو واقعہ سے متعلق انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا۔ اس کے بعد خوشی دوبے کی گرفتاری اور لگاتار جیل میں بند ہونے سے ریاست کے برہمنوں میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کے خلاف غصہ دیکھا گیا۔ برہمن طبقہ کو لگتا ہے کہ واقعہ کے وقت لڑکی کو غلط طریقے سے پھنسا گیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں : سی اے اے مخالف احتجاج: دہلی کی عدالت نے شرجیل امام کے خلاف بغاوت کے الزامات طے کئے ایسے میں گایتری تیواری کو سماجوادی پارٹی کی طرف سے ٹکٹ کی پیشکش برہمنوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی سمت میں ایک قدم کے طور پر مانا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی لکھنؤ کے پاس بھگوان پرشورام کی مورتی قائم کر چکی ہے اور بڑے پیمانے پر برہمنوں کو لبھا رہی ہے۔
اگر انسان عزم اور حوصلہ کرلے ! in مضامین و مقالات Comments Off on اگر انسان عزم اور حوصلہ کرلے ! میرے قارئین باتمکین! واقف ہیں کہ میرا وطن دگھی مہگاواں ضلع گڈا جھارکھنڈ* ہے (قدیم صوبہ بہار) آج کے پیغام میں، میں اپنے علاقہ کے ایک عظیم ملی سماجی اور سیاسی شخصیت *سعید احمد* ( ایم ایل اے ولادت ۱۹۳۳ ء(سابق ریاستی وزیر ) کا تعارف کراوں گا اور ان کے عزم و حوصلے کا ذکر کروں گا ۔ ابھی دو تین سال پہلے ان کا انتقال ہوا ہے ۔ دوران طالب علمی ندوہ میں دینی تعلیمی کونسل کے ایک دو پروگرام میں ان سے ملاقات اور گفتگو کا موقع خاکسار کو ملا ہے ۔ ان کو حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی ذات سے بڑی عقیدت و محبت تھی اور ان کی تصانیف کو اہتمام سے پڑھتے تھے ۔ *جناب وزیر سعید احمد صاحب مرحوم* ہمارے علاقہ کے واحد شخص ہیں جھنوں اپنی ذاتی محنت اور جدوجہد سے سیاست کے اوج فلک تک رسائ حاصل کی وہ دو بار *مہگاواں اسمبلی* حلقہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور 1977ء میں بہار اسمبلی میں ایم ایل اے منتخب ہونے کے بعد ڈھائ سال تک جنتا پارٹی حکومت میں منصب وزارت اوقاف کو زینت بخشی اور اس دور وزارت میں انہوں نے بڑی دریا دلی سے مساجد و مقابر کی حفاظت کی اور بہار اسمبلی سے ایک خطیر رقم مساجد و مقابر کو دلوایا ۔ آپ کا کاروان زندگی بہت ہی نشیب و فراز اور زیر و بم سے گزرا اور اس راہ میں بہت سے تجربات سے ہمکنار ہوا ہے ،آپ نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اپنی آپ بیتی *کاروان حیات* میں پیش کیا ہے ۔ اس کتاب میں آپ نے حقائق و واقعات اور زندگی کے تجربات کا نچوڑ اور خلاصہ بھی بیان کیا ہے ۔ آگے بھی وہ اس راہ اور منصب سے قوم کی خدمت کر سکتے تھے اور اس کے لئے انہوں نے پوری کوشش بھی کی، لیکن وہ بھی مولانا ابو الکلام آزاد رح کے اس تاثر ، صداقت اور سچائ کے شکار ہوگئے *کہ دو چیزیں ہندوستان سے کبھی ختم نہیں ہو سکتں ایک ہندوں کا تعصب اور دوسری مسلم قوم کا اپنے قائدین پر سے بے اعتمادی* استاد محترم *حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب رح* (بانی و سابق ناظم اعلی دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد ) نے ایک جگہ شک۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ تذبذب ناکامی کا نقیب ،شکست کا پیامبر اس عنوان کے تحت لکھا ہے : *خواہ خواہش کا کوئ بھی دائرہ ہو یا کسی قسم کی بڑی سے بڑی چاہت کیوں نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ اگر انسان اپنی زندگی کے مقصد اور پھر مقصد کے حصول کے لئے کمر باندھ کر تیار ہوجائے اور عمل پیہم جاری کر دے تو بہت جلد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا ۔لیکن شرط ہے انسان ہمت،صبر و ضبط اور تحمل کا دامن پکڑے ہوئے لگن ،جوش اور ولولے کے ساتھ کوشش و محنت شروع کر دے ،اس میں ذرا بھی تاخیر نہ کرے اور ہرگز شک و شبہ میں نہ پڑے۔ کہ خدا جانے اپنی منزل پر پہنچ جاوں گا یا نہیں، ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی تذبذب یا شک ہے، ناکامی کا وہم انسانی ترقی اور مقصد کے حصول کے راستے میں نہ صرف روڑے اٹکاتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو مقصد ہی کو دل سے نکال باہر کرتا ہے ،اس لئے کہ اول تو وہم اس کی انفرادی خوبیوں اور قابلیت پر پردہ ڈال دیتا ہے اور پھر اسے کام کرنے کا نا اہل بنا دیتا ہے ،ایسے لوگ ہر روز اپنا ارادہ بدلتے رہتے ہیں،پلان میں ترمیم کرتے رہتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا کوئ بھی کام بنتا نہیں بلکہ ہر روز نیا مقصد جنم لیتا ہے پھر پانی کے بلبلے کی طرح فنا ہوجا ہے اور انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ لہذا اپنی اہلیت اور قابلیت پر بھروسہ رکھ کر ہمت اور لگن کے ساتھ ایک خاص مقصد کی خاطر جٹ جانا بھی کامیابی کی کنجی ہے حالانکہ حصول مقصد کی راہ میں بہت ساری دشواریاں سامنے آتی ہیں اور آتی ہی رہیں گی لیکن یہ دشواریاں مقصد کو ختم نہیں کرسکتیں اگر راہ میں شباب کا طوفان اور محنت میں پسینہ کا جزو زیادہ سے زیادہ ہو* ۔( چراغ راہ صفحہ ۳۸۳)
۱۸۵۷ء میں جب ہندوستان سے مسلمانوں کی حکومت کا چراغ گل ہوگیا، اور سیاسی اقتدار پر مسلمانوں کے بجائے انگریزوں کا قبضہ ہوگیا تو یہاں کے عام باشندے اور بطور خاص مسلمان "اِنَّ الْمُلُوْکَ اذَا دَخَلُوا قَرْیَةً أفْسَدُوْہَا وَجَعَلُوْا أعِزَّةَ أہْلِہَا أذِلَّة"([1])کے فطری اصول کا تختہٴ مشق بن گئے۔ "فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا، نیچرل سائنس بائیں ہاتھ میں اور لا الٰہ الا اللّٰہ محمدرسول اللّٰہکاتاج سرپر۔"
حج ہاوز یا سیاسی پارٹیوں کا ہیڈکوارٹر ؟ - The Siasat Daily حج ہاوز یا سیاسی پارٹیوں کا ہیڈکوارٹر ؟ August 12, 2018 اے پی ڈائری Leave a comment صحافت کی آزادی کو سلب کرنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے حکومت پر شدید تنقیدیں کی ہیں ۔ تلنگانہ میں صحافت کا مقام ہو یا ہندوستان کے کسی بھی علاقہ کی صحافت ، مرکز و ریاستی حکومتوں کی تنگ نظری کا شکار ہورہی ہے ۔ بکاؤ میڈیا نے حکمرانوں کا مزاج ہی بدل دیا ہے ۔ اے بی پی ٹی وی چیانل کے 3 صحافیوں کو سیاسی دباؤ کے بعد استعفیٰ دینا پڑا ۔ یہ واقعہ ہندوستانی صحافت ، سیاسی طاقتوں کے شکنجہ میں چلے جانے کا افسوسناک المیہ ہے ۔ قومی سطح کی قیادت ہو یا ریاستی سطح کی حکمرانی نے صحافت کو اپنے تابع کرنے کے ہتھکنڈے اختیار کرلئیے ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ پر الزام ہے کہ وہ صحافت کے راستے تلنگانہ کے حصول میں کامیاب ہونے کے بعد گذشتہ چار سال سے علاقائی صحافت کو بری نگاہ سے دیکھتے آرہے ہیں ۔ لفافہ بردار صحافت نے حکومت کی خرابیوں کو اچھائی کی آنکھ سے دیکھ کر گمراہ کن خبریں پھیلانے میں مصروف ہے ۔ صحافیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ایک سمینار ہورہا تھا ۔ مختلف ملکوں سے آئے صحافیوں نے اپنے ملک اور حکومت کی اچھائیوں اور خرابیوں کو بیان کررہے تھے ۔ ایک فوجی اکثریت والی حکمرانی کے ملک سے تعلق رکھنے والے صحافی نے کہا کہ ان کے ملک میں میڈیا سے زیادہ آزادی اظہار کی اہمیت کوئی نہیں جانتا ۔ اس ڈکٹیٹر شپ والی حکمرانی کے ملک کے صحافی کا دعویٰ سن کر سب لوگ مرعوب ہوگئے ۔ یہ صحافی صحافت کی آزادی کے موضوع پر سمینار سے خطاب کررہا تھا ۔ مغربی ملک کے صحافیوں نے اپنا احوال بیان کیا ۔ برصغیر کے صحافی نے اپنے علاقہ کی اطمینان بخش صورتحال سے آگاہ کیا لیکن ڈکٹیٹرشپ والے ملک کے صحافی کا خطاب متاثر کن تھا ۔ اس نے کہا کہ ' میں کئی سال تک آمر حکومت کے خلاف تقریریں کرتا رہا کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔ سب نے تالیاں بجائیں ۔ یہ سن کر سمینار میں شریک سامعین نے پوچھا کہ آپ وہ تقریریں کہاں کرتے تھے ؟ اس صحافی نے کہا کہ ' جیل میں ' ۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کو صحافیوں سے چڑ ہے وہ کسی کو خاطر میں لانا نہیں چاہتے ۔ اپنی چار دیواری کی حکومت کو ہی کسی بڑی سلطنت کا قلعہ سمجھ رکھا ہے ۔ اس سے باہر ہی نہیں نکل رہے ہیں ۔ کے سی آر واحد چیف منسٹر ہیں جو چار سال کے دوران سکریٹریٹ کی صورت نہیں دیکھی ۔ ریاست کے عازمین حج کو وداع کرنے کے لیے حج ہاوز آنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی ۔ ان کی اس بے اعتنائی سے ان کا غرور آشکار ہوتا ہے ۔ حج ہاوز پہونچکر انہوں نے ریاستی عازمین حج کو وداع نہیں کیا ۔ اس پر لوگوں کا تاثر بھی طنزیہ تھا ۔ ان کے غیاب میں ٹی آر ایس اور دیگر پارٹیوں کے قائدین نے حج ہاوز کو سیاسی پارٹی آفس بنانے کی کوشش کرتے ہوئے جگہ جگہ اپنی تصاویر کے ساتھ بیانرس آوایزں کرلیئے تھے ۔ اس سال حج ہاوز ، کسی سیاسی پارٹی کے ہیڈکوارٹر کا منظر پیش کررہا تھا ۔ عازمین حج کے ساتھ اپنے خلوص و محبت کا سیاسی مظاہرہ کرنے والے نے خود نمائی اور سستی شہرت حاصل کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ سیاسی لیڈروں کی اس حرکت کو عازمین حج اور انہیں وداع کرنے کے لیے آنے والے رشتہ داروں نے پسند نہیں کیا ۔ مقدس فریضہ حج کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو سیاسی رنگ دیا جانا افسوسناک حرکت ہے ۔ حج ہاوز میں منعقدہ حج کیمپ کو سیاسی قائدین کا اڈہ بنانے کی اجازت دینے والی تلنگانہ حج کمیٹی کے سامنے بھی کئی سوال اٹھائے گئے ہیں ۔ ریاستی حج کمیٹی کی کارکردگی پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں ۔ عازمین حج کے لیے خصوصی انتظامات اور سفر حج کو آسان بنانے کی ذمہ داری ادا کرنا ایک مستحسن کام ہے ۔ حج گناہوں کا کفارہ اور خطاؤں کا مداوا ہے ۔ حضور ﷺ نے حج کے بارے میں فرمایا کہ جس شخص نے اس بیت اللہ کا حج کیا اور اس دوران میں کوئی شہوانی فعل اور کوئی بدعملی نہ کی تو وہ اس پاک صاف حالت میں واپس آئے گا جیسے اس دن اس نے ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہو ۔ فریضہ حج کے لئے جانے والے خوش نصیب ریاستی باشندوں کو حج ہاوز میں سہولتیں راحتیں فراہم کرنے کے بہانے حج کمیٹی نے انہیں مشکلات اور تکالیف سے گذارتے ہوئے سفر حج پر روانہ کیا ہے ۔ حج ٹرمنل شمس آباد ایرپورٹ پر عازمین کو ہونے والی مشکلات کی کسی نے خبر نہیں لی ۔ عازمین حج کے تقویٰ کو ٹھیس پہونچانے والی حرکتوں سے باز آنا چاہئے ۔ حج ہاوز کو پاکیزہ ماحول سے معطر کرنے کے بجائے سیاسی اودھم مچانے کا مقام بنایا جانا غلط ہے ۔ تقویٰ سے بہتر کوئی سامان سفر نہیں ۔ تقویٰ کے معنی رب کی نافرمانیوں سے اجتناب ہے ۔ معاصی سے دور رہنا ہے ، محرمات و لغویات سے بہر صورت اجتناب کرنا ہے ۔ لیکن حج ہاوز پہونچکر اپنا سفر حج شروع کرنے والے عازمین کو ذہنی و جسمانی طور پر تکلیف دیتے ہوئے ان کے تقویٰ میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کو نہ صرف عازمین نے پسند نہیں کیا بلکہ حج ہاوز آنے والے رشتہ داروں نے بھی حج کمیٹی کے ذمہ داروں کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ۔ عازمین حج کی حرمت کی تعظیم کرنا ہر ذمہ دار شخص کا فرض ہے ۔ مسافر حج جب کعبہ کی حرمت کو تصور میں لاکر سفر پر روانہ ہوتا ہے تو اس کے مسلمان بھائی کی حرمت فوراً اس کے حیط خیال میں ابھر کر سامنے آجاتی ہے ۔ اسے یاد آجاتا ہے کہ مسلمان کی عزت و آبرو اور اس کا خون اور مال سب محرمات الہٰی ہیں ۔ حج اور اس کی حرمت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع آج کی مہذب و ترقی یافتہ انسانیت کے لیے حیات آفریں ہے ۔ حرمتوں کی پاسداری کے بارے میں جو گوشہ پایا جاتا ہے وہ بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں اور ان کے دینی فریضہ کی حرمت کو پامال کرنے والے سیاستدان حج ہاوز کو سیاسی شہرت کا مرکز بنا لیتے ہیں تو ان میں اور دنیا کے دیگر ان سیاستدانوں کی حرکتوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ آج مشرق سے لے کر مغرب اور شمال سے لے کر جنوب تک مسلمانوں کی جانی مالی اور عزت و آبرو کے ساتھ دین کی حرمتوں کو جس بری طرح پامال کیا جارہا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے ۔ آج کوئی حرمت تقدس کی حامل نہیں رہی ۔ ہر حرمت کو بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے پامال کیا جارہا ہے ۔ عازمین حج کے سفر کو آسان بنانے پر دھیان دینے کے بجائے انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سفر میں ہونے والی دشواری اور تکلیف کا کسی سے شکوہ نہ کریں ۔ حج کمیٹی کے لوگ یہ بتانا چارہے ہیں کہ عازمین کو اگر حج ہاوز اور سفر حج میں حج کمیٹی کے ذمہ داروں کی وجہ سے کوئی دشواری ہو تو اس کا شکوہ نہ کریں ۔ دراصل عازمین کی دشواری اور تکلیف کا حوالہ میدان عرفات اور مناسک حج کی تکمیل کے دوران ہونے والی تکالیف کے تعلق سے ہے ۔ حج ہاوز میں بدنظمی اور بدانتظامی کے ساتھ گلی کے سیاسی لیڈروں کا اڈہ بناکر دشواریاں پیدا کردی جائیں تو اس کا نہ صرف شکوہ کیا جائے گا بلکہ آئندہ عازمین حج کو از خود رمی جمار میں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے عمل کی طرح حج ہاوز سے سیاستدانوں کو دھتکار کر باہر کردینے کی ضرورت پڑے گی ۔ Need to integrate film production and tourism: FICCI-EY report https://t.co/RVR4PpkX4z https://t.co/nDTr36szmW14 mins ago Finger-spinners still have a role to play, says Harbhajan Singh https://t.co/jaju4vAbBX https://t.co/lxGtLCJB5D17 mins ago
عافیہ صدیقیوقار یونسپروین شاکربابر اعوانتوہین عدالتعمران فاروقروس ترکی کشیدگیپانیجمیعت علماء اسلامنور الامینڈاکٹر عاصمماروی مظہرحمید گلعمان ، گھریلو ملازمینلو لو ہائپر مارکیٹمشتاق احمد گرمانیعالمی بینکسعودی عربعاصم کرد گیلوروبوٹ یروشلم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 اگست ۔2016ء)اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے اہلکار کو گرفتار کر لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کو حماس کی مادی مدد کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔ انجینیئر وحید بورش 2003 سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی ) کے لیے کام کر رہا تھا۔ اسرئیلی حکومت کے ایک بیان کے مطابق انہیں 16 جولائی کو گرفتار کیا گیا جبکہ آج منگل نو اگست کو ایک اسرائیلی سول کورٹ میں پیش کیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بورش اقوام متحدہ کے ایسے دوسرے اہلکار ہیں جنہیں گزشتہ ہفتے کے دوران حماس کی مدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
بالی ووڈکے کئی ستارے دیکھے گئے جنہوں نے آغاز تو بہت بالی ووڈکے کئی ستارے دیکھے گئے جنہوں نے آغاز تو بہت کامیاب کیا, بہت جلد ہی کہیں گم ہوگئے با لی وڈ کی دنیا ایک خواب سی ہے جہاں ہر روز اداکاروں کی قسمت کا فیصلہ کیا جاتا ہے 07:33 PM, 27 Jan, 2017 با لی وڈ کی دنیا ایک خواب سی ہے جہاں ہر روز اداکاروں کی قسمت کا فیصلہ کیا جاتا ہے، کوئی اس امتحان میں کامیابی کی سیڑھی چڑھتا چلا جاتا ہے تو کوئی بھیڑ میں کہیں گم ہی ہوجاتا ہے۔ویسے تو ایسا مانا جاتا ہے کہ بولی وڈ میں کامیاب ڈیبیو کرنے والے اداکار لمبی ریس کے گھوڑے کی طرح ہوتے ہیں، جو طویل عرصے تک کامیاب فلموں میں کام کرکے مداحوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔تاہم ہر کسی کا مقدر دپیکا پڈوکون جیسا نہیں، جنہیں بولی وڈ کے کنگ شاہ رخ خان کے ہمراہ فلم 'اوم شانتی اوم' سے بولی وڈ میں انٹری دینے کا موقع ملا اور آج ان کا شمار دنیا کی کامیاب اور امیر ترین اداکاراوں میں کیا جارہا ہے۔ لیکن بولی وڈ کی تاریخ میں ایسے بھی کئی ستارے دیکھے گئے جنہوں نے آغاز تو بہت کامیاب کیا، جس کے بعد ان کے مداح ان کی فلمیں دیکھنے کو بے تاب رہے، تاہم وہ بہت جلد ہی کہیں گم ہوگئے اور اپنے مداحوں کی امیدوں کو توڑ دیا۔ایسے ہی بولی وڈ کے چند 'گمشدہ' ستارے آج بھی یاد کیے جا سکتے ہیں۔ گریسی سنگھ: راہول روئے: بولی وڈ فلم 'عاشقی' کے ساتھ زبردست آغاز کرنے والے اداکار راہول روئے، اس کامیابی کو دوبارہ دھرانے میں ناکام رہے اور جلد ہی فلمی دنیا سے باہر ہوگئے۔ عائشہ جھلکا: بولی وڈ اداکارہ عائشہ جھلکا نے کامیاب فلم 'جو جیتا وہی سکندر' میں عامر خان کے ہمراہ کام کیا، انہوں نے اکشے کمار کے ساتھ بھی فلم 'کھلاڑی' میں کام کیا تھا، بہترین اداکار اور خوبصورتی کے ساتھ اداکارہ نے بولی وڈ میں خود کو منوا لیا تھا تاہم سمیر وسائی نامی شخص سے شادی کے بعد انہوں نے بولی وڈ کو خیرباد کہہ دیا۔ ممتا کلکرنی: بولی وڈ کی ایک دور میں کامیاب اداکارہ سمجھی جانے والی ممتا کلکرنی نے کم عمری سے ہی بولی وڈ فلموں میں کام کا آغاز کردیا، 90 کی دہائی میں انہوں نے کئی کامیاب اداکاروں کے ساتھ کام کیا جن میں عامر خان، شاہ رخ خان اور سلمان خان شامل ہیں، تاہم بعد ازاں انڈر ورلڈ کے ساتھ منسلک ہونے کی خبروں نے ممتا کا کیریئر ختم کردیا اور وہ بھارت چھوڑ کر چلی گئیں۔
مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے- بشریٰ نسیم - Daleel.Pk وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایاتھا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنایا جائے گا لیکن یہ کیا ہوا وزیراعظم یو ٹرن کے ماہر تو ویسے بھی ہیں انہوں نے اس بار شاید تاریخ کا بڑ ا یوٹرن لے لیا اور ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا خواب دیکھنے والی قوم کو قبر تک پہنچا دیا اور بھوک ، افلاس ،مہنگائی ، بے روزگاری کے عفریت میں پھنسی ہوئی قوم کو یہ مشورہ دیدیا کہ سکون تو صرف قبر میں ہی ملتا ہے ۔ اب وزیر اعظم کو کون سمجھائے کہ قبر میں بھی انہی کو راحت نصیب ہو گی جن کے اعمال اچھے ہو نگے ۔اس سے تو یہی مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں وطن عزیز میں ٹھٹرتی و جان لیوا سردی میں اپنے بچوں کو گرم کپڑے نہ دلوانے پر خودسوزی کرنے والے لااچار ، غریب باپ کو قبر میں سکون مل گیا ہو گا ۔ تو کیا اب اس کے پانچ بچے بھی سکون کے لئے اپنی جانیں لے لیں ۔ کیونکہ ریاست مدینہ کی طرز پر ملک میں حکومت بنانے والے وزیر اعظم کا یہ قیمتی مشورہ ہے کہ وہ تنگدستی و عسرت اور بھوک سے بلکتے اور گرم کپڑوں کے لئے ترستے بچوں کے رونے سے نہ گھبرائیں بلکہ انہی سمیت سکون کے لئے قبر میں اتر جائیں ۔ وزیراعظم سے ہی مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اشرافیہ کو چھوڑ کروڑ غریب عوام کے لئے مفت قبریں بنوا دیں کیونکہ آپ کی ریاست مدینہ میں جینا تو مشکل تھا ہی مرنا بھی دشوار ہو چکا ہے ۔ قبرستان ٹیکس ، قبر بنوانے کی فیس میں اضافے نے 80 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستانیوں سے باعزت موت کو گلے لگانے اور بعدازاں وقار سے دفن ہونے کی استطاعت بھی چھین لی ہے ۔ موجودہ حالات میں ایک عام پاکستانی اس مشہور شعر کی صورت بن چکا ہے ۔ یہ بھی بہت بڑی تلخ حقیقت ہے کہ غربت انسان کوگمراہ کردیتی ہے ۔غربت سے تو نبیوںنے بھی اللہ کی پناہ مانگی تھی لہٰذامشکل ترین دور میں زندگی کیلئے جدوجہدکرتے لوگوں میں مایوسی پھیلانے والے عمل یاگفتگوسے گریز کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ قبر میں سکون کی زندگی میسرآئے گی یا عذاب ملے گا اس کا فیصلہ کرناہمارے اختیار میں نہیں۔ یہ فیصلہ تواعمال کے مطابق عادل حقیقی اللہ رب العزت فرمائے گا۔ بطور مسلمان یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کے مرنے کے بعد کیا ہو گیا وزیر اعظم کیسے کہہ سکتے ہیں سکون قبر میں ہی ملتا ہے کیا انہیں یہ کہنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ مرنے کے بعد جب گھروالے قبر میں اتارکرچلے جاتے ہیں اور فرشتے انسان سے قبر میں سوال وجواب سے فارغ ہو جاتے ہیں تب نیک وپرہیزگار اور گناہ گار قبر میں قیامت تک ایک جیسی پرسکون زندگی گزاریں گے یا پھربرابرعذاب میں مبتلا رہیں گے۔ وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ سکون قبر میں ملے گا میں لیکن اپنے ملک کی اشرافیہ ، امیر و دولتمند طبقے اور قومی وسائل کی بندر بانٹ میں ملوث بااثر خاندانوں کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سکون دنیا میں بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اشرافیہ کے بیوی بچوں کے عیش و آرام اور بیگمات کی لاکھوں نہیں کروڑوں روپوں کی شاپنگ ، ان کے برانڈڈ پہناووٗں سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کیا ان کے لئے تو یہ عارضی زند گی بھی جنت ہے اور ہمارے ملک کے غریبوں کے لئے تو یہ دنیا بھی کسی جہنم سے کم نہیں وہ روز اپنی جائز ضرورتوں کی عدم تکمیل پر مرتے اور جیتے ہیں اب وزیر اعظم کے مشورے نے انہیں حوصلہ دیدیا ہے کہ کوئی غم نہیں اگر انہیں اس دنیا میں سکون نہیں تو مر جائیں! قبر میں سکون میسر ہو گا۔وزیر اعظم صاحب! آپ 22کروڑ لوگوں کی امید ہے آپ کو تبدیلی ، انصاف ، ترقی کے نام اور وعدے پرمنتخب کیا تو اس نئے پاکستان میں ان کے حصے میں کیا آیا اور اس ڈیڑھ سال میں آپ کی حکومت نے کیا دیا سوائے مایوسی اور صبر کی تلقین کے ۔ ٹیکسوں کی بھرمار ، بجلی گیس مہنگی ، پٹرول پہنچ سے باہر ، آٹا ، گھی ،دالیں ، چینی اور سبزیوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ایسے میں سکون تو قبر میں ملے گا مگر کیسے ۔ مرنے کے بعد کفن دفن کا انتظام ، میت پر رونوں والوں کے لئے کھانے کا بندوبست ، قل خوانی پر دیگیں یہ سب کون کرے گا َ؟ آپ سوچیئے کہ اس کے مرنے پر ریاست مدینہ کی ماڈل حکو مت میں اس کی مہنگائی کی چکی میں پستی ہو ئی اولاد کیا کرے گی کیسے سارا اہتمام و بندو بست کر ے گی ؟۔ میرا تو وزیر اعظم سے ایک ہی بلکہ آخری مطالبہ ہے کہ ہمارے لئے مفت قبریں ہی بنوا دیں تاکہ ہم لوگ آسانی سے انہی میں زندہ دفن ہو جائیں تا کہ ہمیں سکون مل سکے ۔ آفٹر آل ہمارے وزیر اعظم نئے پاکستان کے حکمران کا نیک مشورہ ہے ۔فرمان مصطفی ؐہے کہ یہ دنیا کی زندگی مومن کے لئے ایک آزمائش ہے ایک قید خانہ ہے(دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے) اور وہ اس میں سزا کاٹ رہا ہے جس کے بعد اس کی ابدی جزا کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے..۔زندگی آسانی کا نام نہیں مشکلات سے عبارت ہے۔ویسے بھی انسان کسی حال میں خوش نہیں۔ہم نے خود اپنی زندگیوں کو مشکل میں ڈالے رکھنے میں کردار ادا کیا۔خود کو مشکلات میں مبتلا ہم نے خود کئے رکھا۔ہمیں سکون تب ہی ملے گا جب ہماری آخری سانس نکل جائے گی۔خوشی تو اس بات کی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کو یہ الہام ہوچکا ہے کہ پاکستان کی غریب ،بے بس ،لا چار عوام کو قبریں نصیب ہو جائیں گی اور ان کو قبروں میں سکون مل سکے گا ۔بہت شکریہ حاکم وقت حشر میں پھر ملیں گے۔ مجھے خوف کہاں موت کا میں تو زندگی سے ڈر گئی ہوں ٹیگزبشریٰ نسیم ریاست مدینہ سکون قبر میں مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے وزیر اعظم عمران خان وزیراعظم یو ٹرن
باران کوساری 2018/06/4 ویڈیو سبق بذریعہ RelRR - 8 اکتوبر ، 2017. یہ تاؤ رسی کی نقل و حرکت اور سمت کی تبدیلی کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ رسی ایک پہیے کے گرد لپیٹتی ہے۔ پہیے کے موڑتے ہی ، رسی کسی بھی سمت بڑھتی ہے۔ بہترین کرنسی ٹریڈنگ جوڑیوں کا تجزیہ کرنے سے پہلےبہتر یہ ہے کہ فاریکس یا فارن ایکسچینج کرنسی کی تجارت میں دنیا میں پائی جانے والی مقبول ترین کرنسیوں کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کیا اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ جائے۔ ان میں شامل ہیں: صارفین کے ذریعہ متعلقہ مضمون کا خیال. اگر آپ کے پاس کبھی بھی ایپل ڈیوائس کی ملکیت نہیں ہے تو ، آپ کو ایپل آئی ڈی بنانے اور کچھ اضافی اقدامات اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ پر عمل کرنے کی ضرورت ہوگی ، لیکن فون آپ کو مرحلہ وار ہدایات دکھائے گا۔ 1.2- روایتی لاگت اکاؤنٹنگ اور انتظامی لاگت اکاؤنٹنگ کا رشتہ۔ نیکولیس رینج سلاخوں کو 1990 کی دہائی کے وسط میں برازیل کے ایک تاجر و بروکینٹ ویکینٹ نیکولیس نے تیار کیا تھا ، جس نے ساؤ پولو میں ایک تجارتی ڈیسک چلانے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گذارا تھا۔ اس وقت کی مقامی منڈیوں میں بہت اتار چڑھاؤ تھا ، اور نیکولس اپنے مفاد میں اتار چڑھاؤ کو استعمال کرنے کا طریقہ تیار اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ کرنے میں دلچسپی لیتے گئے۔ ان کا خیال تھا کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عدم استحکام کو سمجھنے (اور منافع کمانا) کے نزدیک ہے۔ لہذا ، نیکولس نے رینج بارز کا خیال تیار کیا ، جو صرف قیمت پر غور کرتے ہیں ، اس طرح مساوات سے وقت ختم کرتے ہیں۔ لمبی پوزیشن: اثاثوں کی اکائیوں اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ * خرید قیمت * (6.4٪ + 1 مہینہ LIBOR) / 365 دن. بیڈوائے جیسے ٹول کا استعمال کریں جو ای بے پر ، مصنوعات کی فروخت کی اصل قیمتوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ انگوٹھے کی حکمرانی کے طور پر ، ایک سال بعد جب نیا ماڈل سامنے آتا ہے تو ایک آئی فون اپنی قیمت کا 40 فیصد برقرار اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ رکھتا ہے۔ وکیف میتھڈ ایک وسیع تجارتی اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی ہے جسے چارلس ویکف نے 1930 میں تیار کیا تھا۔ اس کے کام کو متعدد مالیاتی منڈیوں میں جدید تکنیکی تجزیہ کی تکنیک کا سنگ بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ ہیجنگ کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ انشورنس کی ایک شکل کے طور پر سوچیں۔ جب لوگ ہیج کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ، وہ اپنے مالی معاملات پر ہونے والے منفی واقعات کے اثرات کے خلاف خود انشورنس کر رہے ہیں۔ یہ تمام منفی واقعات کو ہونے سے نہیں روکتا ہے۔ تاہم ، اگر کوئی منفی واقعہ پیش آتا ہے اور آپ کو صحیح طریقے سے ہیج دیا جاتا ہے تو ، واقعے کے اثرات کم ہوجاتے ہیں۔ - آلٹن میک ڈویل ، ٹیکنالوجی اور خلل ڈالنے والے کامرس کے شریک سربراہ ، جے پی مورگن مڈل مارکیٹ بینکنگ. یہ اختیارات صرف مثالوں کی ہیں نہ کہ سفارشات۔ آپ ان کی خصوصیات ، شہرت اور استعمال میں آسانی اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ کے بارے میں آن لائن جائزے پڑھ کر بہترین سافٹ ویئر کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ یہ مارکیٹ تیار ہورہی ہے ، اور بہترین آپشنز کی تلاش کے ل your اپنے راستے پر چلنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ذاتی طور پر ، میں بہت سارے وسائل ڈھونڈنے کے لئے اپنے سرچ انجن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہوں ، اور پھر میں ان نتائج کا موازنہ کرتا ہوں جس کا انتخاب کرنے میں مجھے زیادہ سے زیادہ راحت ہو۔ انسٹاگرام اور ٹویٹر:celiasandaniels. یاد رہے کہ مالی سال 2020 کے دوران حکومت پاکستان کے اندازوں کے مطابق ملک کی مجموعی قومی پیداوار منفی 0.4 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی۔ جو ملکی تاریخ کے 68 سال بعد اس قدر کم رہی۔ فارم ایریا وہ جغرافیائی علاقہ ہے جس کو آپ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹ اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ کی حیثیت سے پریکٹس کرنے کے لئے منتخب کیا ہے ، اور اسے دانشمندی سے منتخب کرنے سے آپ کے ابتدائی کیریئر کو خراب یا توڑ سکتا ہے۔ کچھ ریاستیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مواقع کی پیش کش کرتی ہیں ، لہذا ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ ایجنٹ خریداروں اور فروخت کنندگان کی آبادیاتی آبادی اور طرز عمل پر تحقیق کرنا یقینی بناتا ہے تاکہ وہ استرا پر مرکوز اور انتہائی ہدف بنائے ہوئے مارکیٹنگ کی حکمت عملی تشکیل دے سکیں۔ یقینا ، یہ کیو 2 کی تمام کمزوریوں کو مسترد نہیں کرسکتا ہے ، لیکن پوزیشننگ ایک بار پھر مختصر ہوگئی ہے ، حقیقی شرحیں کم ہوسکتی ہیں اور مجموعی طور پر نمو وقفے کی علامت ظاہر کرتی ہے۔ گرمی کے مہینوں میں داخل ہونے کے ساتھ ہی تمام نشانیاں امریکی ڈالر میں کچھ استحکام کی توقع کرتی ہیں۔ اپنے یا اپنے ایک دوست کی تصویر رکھنے کا تصور کریں جو آپ واقعی پسند کرتے ہیں ، لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ فوٹوشاپ کے جادو سے تھوڑا تھوڑا سا استعمال کرسکتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ آپ فوٹو ریچنگ کے بارے میں واق. دوسری طرف ، جب ٹیرف متعارف کرایا گیا تھا اور قومی مارکیٹ میں قیمت میں اضافہ ہوا تھا ، کچھ ایسی کمپنیاں جو پہلے پیدا نہیں کرتی تھیں کیونکہ ان کی فروخت کی قیمت سے معمولی لاگت زیادہ ہوتی تھی ، اب مارکیٹ میں داخل ہوجائیں۔ ان کمپنیوں کے اعلی معمولی اخراجات کے ساتھ پیداوار میں داخلے کی وجہ سے ناکارہ ہونا پڑتا ہے ، یعنی معاشی اخراجات کی وجہ سے معاشرے کو لاگت آتی ہے۔ ٹیرف کے قیام کے دوران عام طور پر صارفین اور معاشرے کو ضائع کرنا پڑتا ہے ، چونکہ محصولات کے ذریعہ محفوظ صنعت سے حاصل ہونے والے وسائل کو دوسرے شعبوں میں موثر طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ بنیادی انڈیکیٹرز ہیں جو بلاواسطہ یا بالواسطہ اسٹاک ٹریڈنگ بمقابلہ اسٹاک CFD ٹریڈنگ کسی کمزور یا مضبوط معیشت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
فاریکس ٹریڈنگ حلال ،Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں جہانگیرفوروہار 2019/06/21 فاریکس بروکر کا انتخاب کیسے کریں Metales : وہ عام طور پر مختلف اقسام کے فولاد ، تانبے کے مرکب ، ایلومینیم مرکب ، کاسٹ آئرن یا گرے کاسٹ آئرن ، میگنیشیم مرکب دھات وغیرہ سے بنا ہوتے ہیں۔ پلاسٹک : وہ الیکٹرانکس ، کھلونے وغیرہ میں استعمال ہوتے ہیں۔ وہ پولی کاربونیٹ ، پولیامائڈ یا پیویسی گیئرز ، ایسیٹل رال ، پیئیک پولیٹیرتھیرکٹون ، پولیٹیٹرا فلوروائیتھیلین (پی ٹی ایف ای) ، اور مائع کرسٹل پولیمر (ایل سی پی) ہیں۔ لکڑی : یہ عام نہیں ہیں ، صرف پرانے میکانزم میں یا کچھ کھلونوں Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں میں۔ دوسروں : امکان ہے کہ بہت ہی خاص معاملات کے ل other دوسرے ریشے یا مخصوص مواد استعمال ہوں۔ ٹک ٹوک براہ راست آپ کو کسی بھی چیز کی ادائیگی نہیں کررہا ہے ، لیکن آپ کا کاروبار اب حوالہ جات اور نئے صارفین پر ہزاروں ڈالر کما رہا ہے جسے آپ اپنے ویڈیوز کے ساتھ راغب کررہے ہیں۔ (اور ظاہر ہے ، آپ ویڈیوز کو اپنے فیس بک پیج ، اپنے یوٹیوب چینل وغیرہ پر بھی ڈال سکتے ہیں)۔ فاریکس (FX) سے مراد بین الاقوامی کرنسیوں اور کرنسی سے ماخوذ تجارت کے لئے عالمی الیکٹرانک مارکیٹ ہے۔ اس کا کوئی مرکزی جسمانی مقام نہیں ہے ، پھر بھی غیر ملکی کرنسی مارکیٹ تجارتی حجم کے ذریعہ دنیا کی سب سے بڑی ، سب سے زیادہ مائع مارکیٹ ہے ، جس میں ہر روز کھربوں ڈالر کا ہاتھ بدلا جاتا ہے۔ بیشتر ٹریڈنگ بینکوں ، دلالوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ آئیے یہ بیان کرنے کے لئے بی این بی (بی ای پی 2) استعمال کریں کہ آپ کے بائننس اکاؤنٹ سے کریپٹو کو بیرونی پلیٹ فارم یا بٹوے میں کیسے منتقل کرنا ہے۔ اگر ایسی شرط پوری ہوجاتی ہے ، تو آپ کے پاس سگنل ہے اور حد احکامات ترتیب دینے کے لئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ که تاسو بیرته هغه ته لاړ شئ او دا مسله ده؛ تاسو کولی شئ د یوګانډا اسعارو بیرته وپلورئ (په خورا ګران بیه) د ګټې ترلاسه کولو لپاره. فاریکس ٹریڈنگ حلال :Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں ملائشیا میں پیسہ Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں تبدیل کرنے کے خواہشمند افراد کو مناسب نرخ ملیں گے جو گھر میں واپس آنے سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ مختلف فرقوں ، جیسے $ 100 اور $ 10 کے لئے مختلف شرحیں لاگو ہوتی ہیں۔ زیادہ تر تبادلہ کے دفتر چھوٹے نوٹ یا سکے قبول نہیں کریں گے۔ جوڑے کے معاملات میں کرنسیوں کو درج کرنے کا طریقہ کرنسی کے جوڑے میں درج پہلی کرنسی بیس کرنسی ہے۔ دوسرے کو قیمت کرنسی کہا جاتا ہے۔ کرنسیوں کو دنیا بھر کی منڈیوں میں مستعمل مختص مختصر الفاظ کے ذریعہ درج کیا گیا ہے۔ میں واپس لائے۔ اس کردار کو ٹائم لائن میں پہلے نقطہ پر دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر آن لائن بروکریج کی اپنی طاقتیں اور کمزوری ہوتی ہیں۔ آپ کون ہیں اور جس کی آپ قدر کرتے ہیں وہ آپ کو اس کی طرف لے جائے گا جو آپ کے لئے بہترین ہے۔ مثال کے طور پر ، کچھ لوگ اپنے تمام مالی اکاؤنٹس ایک ہی چھت کے نیچے رکھنے کی سہولت کی قدر کرسکتے ہیں۔ دوسروں کو انٹرایکٹو چارٹنگ کی قدر ہوسکتی ہے۔ پھر بھی ، دوسرے لوگ آئی پی اوز تک رسائی کی قدر Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں کرسکتے ہیں۔ اس ماڈیول کی مدد سے ، اب آپ کسی کو اپنی گیلری میں سیلفی کی بے دین رقم ، یا کام کے لئے محفوظ نہ ہونے والے ٹیکسٹ میسجز دیکھے بغیر کسی کو اپنا قرض دے سکیں گے۔ پہلا آپشن - اور ممکنہ طور پر سب سے آسان کیونکہ یہ بہت لچکدار ہے اور اسے روز مرہ کی زندگی میں ڈھالا جاسکتا ہے - گھر سے تجارت کر رہا ہے۔ تاہم ، گھر سے دن کا تجارتی اسٹاک بھی سب سے زیادہ سرمایے والے اکھاڑے میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاجر کے لئے جو کم سے کم ایکوئٹی کی ضرورت ہوتی ہے جسے پیٹرن ڈے تاجر کے طور پر نامزد کیا جاتا ہے $ 25،000 ہے ، اور اس رقم کو ہر وقت برقرار رکھنا چاہئے۔ اگر تاجر کا اکاؤنٹ اس کم سے کم سے کم ہوجاتا ہے تو ، انہیں اس وقت تک تجارت کی اجازت نہیں ہوگی جب تک کہ کم سے کم ایکوئٹی لیول بحال نہ ہو (یا تو نقد رقم جمع کروا کر یا سیکیورٹیز)۔ اگر آپ نے کبھی پچر کی تشکیل کے ساتھ تجارت کی ہے تو ذیل کے تبصرے کے سیکشن میں ہمیں بتائیں۔ مجھے آپ کی بات سن کر خوشی ہوگی۔ بہت سے معاملات میں ، تجارت کرنے کی اہمیت گاہک کو نفسیاتی طور پر ہیرا پھیری کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ آخر کار ، کھانے ، پانی اور لباس سے پرے ، کسی دکان میں ملنے والا سامان کا کوئی ٹکڑا گاہک کی ضرورت کا نہیں بنتا ہے۔ خریداری کے لئے کسی صارف کو قائل کرنے کے لئے قائل کرنے یا کم سے کم کسی خاص مصنوعات کو خریدنے پر غور کرنے کے ل Mer مرچائزائزنگ بصری اشارے جیسے رنگ ، شکل اور تصو .رات کے ذریعے تخلیق شدہ انجمنوں کا استعمال کرتا ہے۔ جب کامیاب ہوجاتا ہے تو ، تجارت کرنے کے نفسیاتی اثرات فروخت کو بڑھاتے ہیں ، مصنوعات سے آگاہی پیدا کرتے ہیں ، کسٹمر کے لئے آرام دہ اور پرسکون بصری ماحول پیدا کرتے ہیں اور خوردہ دکان میں پیسہ پمپ کرتے Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں ہیں۔ اس سے لوگوں کو کچھ مخصوص مصنوعات دیکھنے کے انداز پر بھی اثر پڑ سکتا ہے ، اس طرح مستقبل میں خریداری کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کاروبار بعض اوقات اپنے آپ کو مالیات سے زیادہ سرمایہ کاری کے مواقع مل سکتے ہیں۔ اگرچہ ایک اچھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس کے بارے میں فیصلے کرنے ہوں گے کہ کون سے مواقع کو تلاش کرنا ہے اور کون سا رد کرنا ہے۔ کیپٹل بجٹ میں داخلے کی شرح اور ریٹرننگ کی اکاؤنٹنگ ریٹ جیسے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے امکانی منصوبوں کے تجزیہ سے متعلق ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری ETFs کے ذریعے سونے میں سرمایہ کاری کرنے کا ایک بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ سرمایہ کاری کرنے کا سوچ رہے ہیں تو ، کسی کو بنیادی انتخاب کرنا چاہئےگولڈ کے بہترین ای ٹی ایف سونے کے تمام ETFs کی کارکردگی کو بغور دیکھ کر انویسٹمنٹ کرنے اور پھر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا۔ بائنانس دو تجارتی پلیٹ فارم انٹرفیس ، "بنیادی" اور "اعلی درجے کی" پیش کرتا ہے۔ بنیادی فرق ظاہری شکل ہے ، اور اعلی درجے کی ورژن میں زیادہ بہتر چارٹنگ ویژلائزیشن۔ بائننس ٹریڈنگ پلیٹ فارم میں سے نہ ہی تکرار کرنا نئے صارفین کے لئے واقعی بدیہی ہے ، لیکن دونوں بالکل ٹھیک کام کرتے ہیں۔ پلیٹ فارم کے دونوں ورژن پر صارفین حد ، منڈی اور اسٹاپ لیمٹ آرڈر کی اقسام بناسکتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ، ہم نہیں سوچتے کہ پلیٹ فارم کے دونوں ورژن کا استعمال دوسرے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے ، لیکن صارف کا ہمیشہ ہی ترجیح ہوتا ہے۔ اگرچہ ڈیسک ٹاپ ایپس کسی پی سی پر فلو چارٹس بنانے کے لئے مثالی ہیں ، لیکن وہ زیادہ سفری دوست نہیں ہیں۔ اگر پورٹیبلٹی ایک کلیدی مسئلہ ہے تو ، آپ ان میں Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں سے ایک موبائل فلو چارٹ ایپس کے ذریعہ بہتر ہوں گے جو چلتے پھرتے چارٹ بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ ٹیوٹوریل کا احاطہ کرنے والے باقی مراحل میں درخواست دہندگی کے اختیارات کو آب و ہوا گراف میں لے جانے کے Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں لۓ یہ قدم قدم میں دکھایا گیا گراف کی طرح ہے. تجارتی اختیارات کی خرابیاں. اگر حاملہ عورت کو زیکا کا سامنا کرنا پڑا تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت کار واش کاروبار درحقیقت کینیا میں سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار ہے؟ جہاں کے ای ایکویٹی سرمایہ کی قیمت ہے۔ یو ایس ٹریژری بل کی شرح کو اکثر خطرہ سے پاک ریٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بہترین: وہ ٹیمیں جو اپنی ویب سائٹ میں چیٹ بوٹ کی فعالیت کو شامل کرنا چاہتی ہیں قیمتوں کا تعین: 100 تک کے ایجنٹوں کے لئے مفت؛ ادا کردہ منصوبے سالانہ بل آنے پر ، ہر مہینے agent 15 سے شروع ہوتا ہے مفت جانچ: 21 دن. ایک بار میں ایم ٹی 4 اور ایم ٹی 5 چلانا ممکن ہے۔ بس ان دونوں کو کھول دو۔ صرف پابندی یہ ہے کہ تجارتی اکاؤنٹس کا مناسب استعمال پر انتظام کیا جائے۔ MT4 پر MT4 پر مبنی تجارتی اکاؤنٹس اور MT5 پر MT5 پر مبنی تجارتی اکاؤنٹس۔ اگر فنڈز کافی عرصے سے اسٹیک ہوجاتے ہیں ، تو پھر فارمڈ ٹوکن کی قیمت اور لین دین کی فیس مشترکہ طور پر نقصان کو پورا کرنے کے ل. آؤٹ لک میں ای میلز کو کیسے روکا جائے آؤٹ لک میں پڑھنے کی رسیدیں کیسے بند کردیں آپ کے بھیجے جانے کے بعد آؤٹ لک میں ای میل کو کیسے یاد کریں مائیکروسافٹ آؤٹ لک میں پوشیدہ Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں خصوصیات جو آپ کو نظرانداز کرسکتی ہیں. طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم میں کامیابی کے لیے تیار کرنا۔ زیادہ تر ٹولز آپ کو مختلف رپورٹنگ ٹائم فریم ترتیب دینے کی اجازت دیتے ہیں۔ یانگ یونگمنگ: پچھلے دو سالوں میں متعدد دالیں ایم ایس پی ڈی ٹیسٹ کا معیار نافذ کیا گیا. اضافی طور پر ، یہ نہ بھولنا کہ بڑے اکاؤنٹ راتوں رات نہیں بنتے ہیں۔ اس میں بڑے خطرات لینے کے بجائے مستقل مزاجی اور طویل مدتی نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ فاریکس ٹریڈنگ میں "بڑی مچھلی" کی تجارتی جیت کی شرح 55 and سے 70 between کے درمیان ہے ، جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں ، یقینی طور پر یومیہ تجارتی تجربہ نہیں Olymp Trade فاریکس ٹریڈنگ کے لئے صحیح ٹول کا انتخاب کیسے کریں ہے۔ فی الحال ، فاریکس الگورتھمک تجارتی حکمت عملی کے قیام کے ل the سب سے موثر کوڈنگ زبان میٹا کوٹیز لینگوئج 4 (ایم کیو ایل 4) ہے۔ ایف ایکس کرنسی مختصر مدت کے اثاثے ہیں جو تجارت کے ل. ہیں ، طویل عرصے تک اس کی ملکیت نہیں ہے۔ آخر میں ، واٹر مارک جو استعمال میں آسان ہے!
کرونا وائرس : فوڈ اینڈ ہیلتھ سیکیورٹی Apr 15, 2020 9:24 AM, April 15, 2020 چین سے شروع ہونے والا کرونا وائرس کسی عذاب کی طرح پوری دنیا پر مسلط ہو گیا ہے۔ پوری دنیا کا اقتصادی نظام بُری طرح دباؤ کا شکار ہوا کہ معیشت ہی نہیں معاشرت بھی زیر نگیں آ گئی۔ سرطان، فلو اور چیچک کے بعد اب کرونا وائرس نے پوری دنیا کو ایک بار پھر گویا مفلوج کرکے رکھ دیاہے۔ چین میں کرونا وائرس کے حملے کے بعد مغربی دنیا نے اسے سنجیدہ نہ لیا اور اپنے شہریوں کو چائنا سے واپس آنے کی تلقین کی۔ انہیں اپنے نظامِ صحت پر بڑا ناز تھا۔ کرونا وائرس سے آلودہ ان شہریوں نے اپنی معاشی و معاشرتی سرگرمیاں جاری رکھیں تو یہ متعدی وائرس بڑی تیزی سے بڑھا۔ اس کا اندازہ تب ہوا جب بڑی تعداد میں اس مرض کے شکار ہسپتال جانے پر مجبور ہوئے لیکن پانی سر سے گزر چکا تھا۔ کرونا نے اپنا شکار شروع کر دیا اور پھر بہترین صحت عامہ کا نظام رکھنے والے اور دنیا کی معیشت پر راج کرنے والے G-8 ممالک بھی بے بس ہو گئے۔ چین کے ہمسایہ ممالک سنگاپور، ملائشیا، جاپان اور روس وغیرہ نے نے اس وائرس کو سنجیدگی سے لیا اور معاشی سرگرمیوں کے باوجود اس وائرس کا زیادہ پھیلاؤ نہ ہونے دیا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے۔ چین نے دو طرفہ برادرانہ تعلقات کے تحت پاکستانیوں کو روک لیا۔ 15 جنوری کو وزیر اعظم عمران خان نے بھی کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات کو محسوس کرتے ہوئے نوٹس لیا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ انتظامات قطعاً نہ کئے گئے جن کے ذریعے کرونا کو محدود کیا جا سکتا تھا۔ 15 جنوری کے بعد جس طرح ایران سے آئے زائرین کا مسئلہ درپیش ہوا اور نہ ہی دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کی گئی۔ کرونا کے بڑھنے کے باوجود تبلیغی اجتماع کو نہ روکا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کرونا پورے ملک میں پھیل گیا۔ اس کے نتیجے میں پہلے صوبہ سندھ اور پھر پاکستان کے دیگر صوبوں اور علاقوں میں لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان میں ڈیزاسٹر سروسز کی انتہائی کمی محسوس کی گئی چنانچہ 2007 میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا قیام عمل میں آیا لیکن محض نوٹیفیکیشن کے اس اہم ادارہ کو وہ مروجہ سہولیات اور بجٹ ہی مہیا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ ادارہ پاکستان میں زلزلہ، سیلاب اور دیگر آفات کے بچاؤ کیلئے فوری اور قطعی اقدامات کر سکے۔ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے فیصلے لیتی ہیں جن میں پروفیشنل ازم کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ 15 جنوری کو وزیر اعظم کے نوٹس لینے کے فوراً بعد این ڈی ایم اے کو ضروری فنڈز مہیا کر دیئے جاتے تاکہ ابتدائی طور پر ٹیسٹنگ کٹس ، ماسک اور دیگر سامان مہیا کر دیا جاتا تاکہ کرونا جیسے موذی وائرس کے خلاف جنگ کرنے کیلئے پیرامیڈیکل فورس کی ٹریننگ مکمل ہو جاتی۔ اس کے ساتھ ہی تفتان یا بائی ایئر آنے والے مسافروں کی فوری ٹسٹنگ کرکے کرونا کے قطعی مریضوں کی نشاندہی کی جاتی اس طرح صرف چند سو کرونا مریض پاکستان کیلئے کسی خطرے کا باعث نہ بنتے۔ بہرحال جو ہوا، سو ہوا۔ اب ایسے صائب فیصلے لینے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہم نہ صرف اس موذی مرض کا مقابلہ کر سکیں بلکہ پہلے سے دباؤ میں آئی معیشت کو بھی سنبھال سکیں۔ اس کے لئے ہمیں صحت عامہ اور معیشت کی بنیاد کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ دنیا میں کرونا وائرس کے مسلسل حملوں کی وجہ سے نہ صرف ان کی معاشرت تباہ ہو کر رہ گئی ہے بلکہ صنعتی بحران کی وجہ سے بڑی تعداد میں بیروزگاری بھی بڑھی ہے۔الیکٹرانکس و دیگر سامانِ تعیش کی انڈسٹری کے ڈیمانڈ گر جائے گی۔ غذائی بحران کی شدت پوری دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک میں قحط کی صورتحال پیدا کرے گی۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی صنعتی پیداوار میں خسارے کی وجہ سے مالیاتی بحران کا شکار ہوں گے۔ خوش قسمتی سے پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت پر ہے۔ اگر معمولی سی توجہ دی جائے تو ہم اپنی زرعی معیشت کو سپیڈ دے سکتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان کے ادارے انتہائی مضبوط تھے۔ زرعی یونیورسٹیز بڑے منظم انداز میں نت نئے تجربات کر رہی تھیں چنانچہ فی ایکڑ پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج اور دیگر میڈیکل کی تعلیم دینے والے ادارے اور انجینئرنگ یونیورسٹیز کی تعلیم کا معیار بہترین تھا۔ لیکن پھر ان اداروں نے اپنی ساکھ کھو دی۔ اگر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد یا کسی بھی زرعی ریسرچ کے ادارے کا رقبہ ملاحظہ کیا جائے تو وہ سنگاپور کے کل زرعی رقبہ سے کہیں زیادہ ہے تو کیا ہمارے لئے شرم کا مقام نہیں ہے کہ ہائی برڈ سیڈ سنگاپور سے درآمد کیا جاتا ہے؟ جب اٹامک سنٹرز کیلئے تمام جدید مصنوعات لوکل انجینئرنگ اداروں میں تیار کی جاتی ہیں تو کیا وینٹی لیٹر اور دیگر آلات جراحی بنانا کوئی مشکل کام ہے؟ بات ہو رہی ہے کہ ان حالات میں کونسے اقدامات کئے جائیں جن کی وجہ سے ہم کرونا وائرس پر قابو پا سکیں بلکہ اپنی معیشت کو بھی سہارا دے سکیں۔ فی الوقت کرونا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے فوری طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ کئے گئے ٹسٹوں کی تعداد بہت کم ہے جس کی وجہ سے کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کا تعین نہیں ہو رہا۔ اس ماہ کے آخر تک 60/70 ہزار کرونا متاثرین کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیںمسلسل ڈبل مائنڈ ڈہیں کہ ان حالات میں کیا کیا جائے؟ صنعتی ادارے، فیکٹریاں اور کاروباری شخصیات پریشانی کے عالم میں رائے دے رہے ہیں۔ فیکٹریوں کی طویل تالہ بندی یقینا قومی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ اور اگر لاک ڈاؤن ختم کیا گیا تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا محال ہو جائے گا۔ صوبائی و وفاقی حکومتوںنے خلوص نیت سے اربوں روپے کرونا متاثرین کیلئے مہیا کئے ہیں جو یقینا قابل تحسین ہے لیکن مہیا کردہ یہ فنڈز متوسط اور غریب افراد کی ضرورت سے کہیں کم ہیں۔ نہ لاک ڈاؤن ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فیکٹریوں کو مسلسل بند رکھ کر کروڑوں عوام کو بھوکا رکھا جا سکتا ہے۔ صنعتی پہیہ رواں رکھنے کیلئے حکومت کو جزوی طور پر لاک ڈاؤن کی سہولت اپنانی ہوگی۔ ملک میں کئی صنعتی زون موجود ہیں۔ ان زونوں میں انڈسٹریز کو لوکلی لاک کرکے چالو کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے مجوزہ فیکٹریاں اپنی لیبر کیلئے قیام و طعام کا بندوبست کرنے کی پابند ہوں۔ مارکیٹوں کے سامان کی ترسیل کیلئے Ober / Cream کی سہولت حاصل کرکے مارکیٹنگ نظام کو شروع کیا جا سکتا ہے۔ تمام شہروں میں بے شمار آبادیاں بڑی منظم ہیں۔ انہیں لاک کرنے کے بعد کمیونٹی پلاننگ کے ذریعے کرونا کے مریضوں کی مکمل نشاندہی ہو سکتی ہے۔ اس طرح یہ آبادیاں اندرونی طور پر بحال کی جا سکتی ہیں اور پھر بعد ازاں پورے شہر اور ملک کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت دنیا میں کرونا وائرس نے جس طرح تباہی مچائی ہے۔ پوری دنیا خطرناک غذائی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں پاکستان ایک ایسا ملک ہو سکتا ہے جو اپنی بہترین زرعی پیداوار کے ذریعے دنیا میں اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں ہیلتھ سیکیورٹی، فوڈ سیکیورٹی اور فوڈ سیکیورٹی کیلئے واٹر سیکیورٹی کے اہم قومی ایشوز پر دلیرانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے حکومت سندھ اور شہری انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ کراچی میں صفائی ستھرائی کے انتظامات یقینی بنایا جائے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سندھ میں پانی کی ابتر صورتحال پر زیر سماعت کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پانی کے مسئلے پر قائم عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ واٹر کمیشن کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ وفاقی حکومت فنڈز بھی دے رہی ہے۔ لیکن صوبے میں پانی کی ابتر صورتحال میں بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطالعے کے بعد ہمارے سامنے بڑی بھیانک تصویر آرہی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے عدالت کو بتایا کہ مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سپریم کورٹ اور واٹر کمیشن کی کارروائی سے بہتری آرہی ہے۔ دوران سماعت بینچ نے مئیر کراچی وسیم اختر سے کراچی میں گندگی کے ڈھیر اور صفائی کی ناقص صورتحال کے بارے میں اسفتسار کیا، جس پروسیم اختر نے کہا کہ صفائی ستھرائی سے متعلق اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں۔ سپریم کورٹ صفائی کے لئے قائم سالڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو بلدیاتی اداروں کو دینے کا حکم دے چکی ہے لیکن صوبائی حکومت عمل نہیں کر رہی۔ دوران سماعت چیف سیکرٹری سندھ نے اعتراف کیا کہ شہر میں 4,5 ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہر میں کچرا اٹھانے کا کام بڑے پیمانے پر شروع کردیا گیا ہے, اور یہ نظام کمپیوٹرائزڈ بھی کردیا گیا ہے۔ نظام میں مزید بہتری کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی کے 6 اضلاع میں سے 4 اضلاع میں کچرا اٹھانے کا کام آوٹ سورس کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے حکم دیا کہ تمام ادارے اپنے وسائل سے کراچی کو صاف کرنے کے لئے انتطامات کریں، اور ایک ہفتے میں کراچی کو کچرے سے صاف کیا جائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ جس کی جو ذمہ داری ہے اسے ادا کرنا ہوگی۔ مشترکہ کاوشوں سے کراچی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی تحلیل کے حوالے سے کیس پانی سے متعلق عدالتی کمیشن کو بھیجنے کا حکم بھی دیا۔ کراچی میں روزانہ تقریبا 15 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن حکومتی ادارے اس کا صرف آدھا ہی اٹھا پاتے ہیں۔ باقی کچرا شہر کے گلی محلوں، چوراہوں اور ندی نالوں میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے شہر میں ماحولیاتی آلودگی کی شرح میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی کی حکومت اور متحدہ قومی مومنٹ سے تعلق رکھنے والے کراچی کے مئیر وسیم اختر کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی کے باعث شہر کا یہ اہم مسئلہ اب تک حل نہیں ہوپایا۔ جس کا خمیازہ شہری بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے صوبے بھر میں کچرا اٹھانے سے متعلق ایک کیس میں یہ آبزرویشن دے چکی ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو تحلیل کرکے بلدیاتی اداروں کو صفائی ستھرائی کے لئے اختیارات اور وسائل فراہم کرنے چائیے۔ اس آبزرویشن کی بنیاد پر ایم کیو ایم کی آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت بھی ہے۔ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ نے جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں سندھ میں پانی کی صورتحال پر قائم عدالتی کمیشن کو بھجوادیا ہے۔
پاکستان کی ایک ذیلی عدالت نے سزائے موت کے مبینہ ذہنی مریض قیدی کی سزا پر عمل درآمد کے لیے بلیک ورانٹ جاری کر دیے ہیں۔ 55 سالہ خضر حیات سابق پولیس اہلکار ہے جسے اپنے ایک ساتھی پولیس اہلکار کو گولی مار کر قتل کرنے کے جرم میں 2003 میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے لاہور کی سنٹرل جیل میں بند ہے۔ قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم "جسٹس پروجیکٹ پاکستان" کا کہنا ہے کہ خضر حیات کے وکیل نے اس کی ذہنی بیماری کی بنا پر سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے لیے 2015 میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی ترجمان رمل محی الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لاہور کی ایک ضلعی عدالت نے منگل کو خضر حیات کے بلیک وارنٹ جاری کیے ہیں اور ان کو پھانسی دینےکے لیے17 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ رمل نے کہا کہ "آج (بدھ) کو ہم نے (سزا رکوانے کے لیے) لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس کی سماعت جمعرات کو ہو گی۔" رمل محی الدین نے کہا کہ خضر حیات کو پھانسی دینا نا صرف بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ملکی قانون کے بھی خلاف ہو گا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ایک اور ایسے ہی قیدی کی سزائے موت کو رکوانے کا معاملہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ذہنی طور پر معذور سزائے موت کے قیدی امداد علی کی سزا پر گزشتہ سال عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ان کی ذہنی صحت کے جائزے لیے ایک طبی بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان کی مختلف جیلوں میں سزائے موت کے آٹھ ہزار سے زائد قیدی بند ہیں۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر مہلک حملے کے بعد ملک میں سزائے موت پر عائد عارضی پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک لگ بھگ 400 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں پاکستانی حکومت سے سزائے موت کو ختم کرنے اور پھانسیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتی رہیں ہیں تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد ضروری ہے۔
پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات اک نئے موڑ پر – Advance Pakistan Home / News / پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات اک نئے موڑ پر yasir March 17, 2018 News 1,697 Views روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات سردمہری کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے بچوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد پاکستان نے مشاورت کے لیے اپنے سفیر کو وطن واپس بلالیا اور اب اس معاملے میں خفیہ ایجنسیوں نے بھی اپناکام دکھانا شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک کے بگڑتے سفارتی تعلقات میں نیا موڑ آیا ہے اوردعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تعینات بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے دروازے کی گھنٹی رات تین بجے بجائی گئی جس کے چند دنوں بعد پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کے گھر کی گھنٹی بھی اسی وقت پر بجائی گئی ۔ اب دونوں ممالک نے الزام لگایا ہے کہ رات کے تین بجے سفراءکے گھروں کی گھنٹیاں بجائیں گئی اور پھر نامعلوم افراد موقع سے فرار ہوگئے ، جے پی سنگھ اور سید حیدرشاہ نے گھنٹیاں بجنے پر کوئی جواب نہیں دیاتاہم دونوں کا خیال ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ کارفرماہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کی گاڑیوں کو روکا گیا، ان کے بچوں کوہراساں کیاگیا جس کے بعد پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنے سفارتکاروں کی حفاظت یقینی بنائے گا اور اس ضمن میں مشاورت کیلئے بھارت میں تعینات اپنے سفیر کو بھی وطن واپس بلایا۔ ذرائع کے مطابق یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کی اسلام آباد کلب کی ممبرشپ رکی جبکہ کلب انتظامیہ نے موقف اپنایا کہ انہیں غیرملکی باشندے کو رکنیت دینے کے لیے وزارت داخلہ کی طرف سے نوآبجیکشن سرٹیفکیٹ چاہیے ہوتا ہے اور یہ معمول ہے ۔ اسلام آباد کلب انتظامیہ کی طرف سے سفارتکار کو جزوی انکار کا خمیازہ بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کو بھگتنا پڑا جنہوں نے بتایا کہ دہلی جمخانہ کلب اور گالف کلب ان سے زیادہ پیسے وصول کررہے ہیں۔ ٹائمز انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی سفارتکار تین سال کیلئے 1500 سے 1800ڈالر ادا کرتے ہیں جبکہ اتنے ہی عرصے کے لیے دہلی گالف کلب 15000 ڈالر وصول کررہا ہے ۔ اسی طرح پاکستان میں بھارتی سفارتکاروں کی پوری فیملیز کو جانے کی اجازت ہے لیکن بھارت بچوں کو جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔ ان انکشافات کے بعد بھارتی حکومت نے موقف اپنایا کہ گالف کلب اور جمخانہ کلب پرائیویٹ ہیں اور بھارتی حکومت انہیں کسی کیلئے بھی قیمتوں میں کمی کا نہیں کہہ سکتی ۔ بھارتی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب سفارتکار کیلئے اسلام آباد میں انہوں نے نئی تعمیرات شروع کیں تو اس پر چھاپہ مارا گیا اور بجلی و پانی منقطع کردیا گیا جبکہ پاکستانی حکام نے موقف اپنایا کہ وہاں کام کرنیوالے افراد کی مناسب سیکیورٹی کلیئرنس نہیں کروائی گئی تاہم یہ معاملہ حل کر لیا گیا۔
فروری 23, 2018 323 Views فروری کے مہینہ میں میونخ میں بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی میونخ کانفرنس دنیا کے سیاسی حالات اور منظر نامہ پر نئے نقش مرتب کر گئی ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک سے آئے ہوئے سرکاری اعلٰی عہدیداروں نے دنیا کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے مختلف قسم کی آراء پیش کیں اور خطوں میں رونما ہونے والے واقعات و سیاسی معاملات کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس کانفرنس میں فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے والی اور 1948ء میں قائم ہونے والی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی دنیا کی سکیورٹی سے متعلق تقریر کی، حیرت کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ اسرائیل ایک ایسی جعلی اور غاصب ریاست ہے کہ جس کا وجود ہی دہشت گردی پر مبنی ہے اور دنیا میں کون ایسا شخص ہے، جو یہ بات نہیں جانتا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل گذشتہ ستر سال سے کس طرح انسانیت کی دھجیاں اڑانے میں مصروف عمل ہے، فلسطین کی بات کریں یا پھر فلسطین سے باہر گرد و نواح کے ممالک کی تو ہر طرف اسرائیل ہی نظر آتا ہے کہ جس نے دیگر ممالک کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور خطے میں نت نئے انداز سے براہ راست اور دہشت گرد گروہوں بالخصوص داعش اور النصرۃ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کرتا ہے، تاکہ خطہ غیر مستحکم رہے اور معصوم انسانوں کا خون ضائع ہوتا رہے۔ اب بات کرتے ہیں میونخ کانفرنس کی، جہاں اسی جعلی اور ظالم ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے خطاب کیا۔ اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ سکیورٹی کے بغیر نہ تو امن ہے، نہ ہی خوشحالی، نہ ہی ہمدردی اور نہ ہی آزادی ہے۔ اب ذرا کوئی ان سے پوچھتا کہ جناب آپ تو خود دنیا کی سکیورٹی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، کیونکہ موساد نامی دہشت گرد قسم کی خفیہ ایجنسی تو آپ ہی کی ہے، جو نہ صرف فلسطین میں لوگوں کی قتل و غارت کرتی ہے بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک میں ان کے دہشت گرد جا جا کر دوسرے ممالک کی اہم شخصیات کو اغوا اور قتل کرتے پھرتے ہیں۔ حال ہی میں ترکی سے لبنان کے جنوبی علاقے میں پہنچنے والے اسرائیلی موساد ایجنٹوں نے حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جسے لبنانی سکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا تھا، تو آپ اب کس منہ سے یہ باتیں کرتے ہیں؟ جبکہ اسرائیل ہی ہے کہ جس نے نہ صرف فلسطینیوں کی سکیورٹی کو تہس نہس کیا ہے، بلکہ سکیورٹی سے مربوط وہ تمام موارد کہ جنہیں نیتن یاہو نے بیان کیا ہے، یعنی فلسطینیوں کی آزادی بھی سلب کی گئی، انہیں ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کیا گیا، ان کے ساتھ ہمدردی کرنے والوں کو بھی اسرائیل نے اپنا دشمن بنا کر ان کے خلاف محاذ کھول رکھے ہیں۔ اس طرح کے کئی ایک موارد ہیں، جو خود اسرائیل پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں، لیکن شرم کی بات ہے کہ یہان میونخ سکیورٹی کانفرنس میں آپ بھاشن دیتے نہیں تھک رہے۔؟ مزید بھاشن میں ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران ہمارے خطے یعنی مشرق وسطٰی میں اپنی بالادستی قائم کر رہا ہے، حیرت کی بات پھر یہ ہے کہ نیتن یاہو کو معلوم ہی نہیں کہ مشرق وسطٰی صیہونیوں کا خطہ ہونے سے پہلے عرب دنیا اور وہاں کے مقامی باشندوں کا خطہ ہے، جن کی نسل در نسل اس خطے میں چلی آرہی ہے تو یہ صیہونی جو دنیا کے دیگر علاقوں سے ہجرت کرکے 48ء سے قبل یہاں پر لائے گئے، تاکہ غاصب صیہونیوں کی سازش یعنی اسرائیل قائم ہوسکے تو آج یہ کس منہ سے اس خطہ کو اپنا کہتے ہیں؟ اور اگر مان لیجئے کہ اپنا خطہ ہے تو کیا کوئی اپنے خطے کے لوگوں کا قتل عام کرتا ہے۔؟ کیا اسرائیل نے 48ء کے بعد سے 67ء اور پھر متواتر 1975ء اور 1982ء اور 2006ء اور 2008ء سمیت مختلف مواقع پر اس خطے کے ممالک اور عوام پر جنگیں اور مظالم مسلط نہیں کئے؟ تو یہ خطہ کسیے نیتن یاہو کا ہوسکتا ہے۔؟ ماہرین سیاسیات کے مطابق جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعطم نیتن یاہو دراصل ایک عجیب سی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور بلکہ یہ کہا جائے کہ مسلسل سیاسی و جنگی میدانوں میں اسرائیل کے حصے میں آنے والی شکست نے تمام اسرائیلی عہدیداروں کی ذہنی حالت و کیفیت کو متاثر کیا ہے اور یہی اثر نیتن یاہو کی جانب سے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر ظاہر ہوتا ہے، جس میں وہ ہمیشہ دشمنوں کی فتح کا خود اعلان کرتے ہیں، یہاں میونخ کانفرنس میں بھی نیتن یاہو نے ایسا ہی کیا ہے۔ بہرحال یہ نیتن یاہو کی جانب سے دکھائے جانے والے ایرانی ساختہ ڈرون کے بعد دنیا کو یہ اندازہ بھی ہوچکا ہے کہ ایران فلسطین کے عوام کی کس حد تک مدد کرنے میں مصروف ہے، یعنی فلسطین کی عوام و مزاحمتی تحریکوں کو اسرائیل کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کے لئے نہ صرف ایران مالی مدد کر رہا ہے، بلکہ ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں بھی فلسطینیوں کو خود کفیل کر رہا ہے، جس کا ثبوت اس طرح کے متعدد ڈرون طیاروں کا غاصب اسرائیلی فضاؤں میں پرواز کرنا ہے۔ نہ صرف فلسطین و دیگر خطوں سے ڈرون بھیجے جاتے ہیں بلکہ فلسطینیوں نے اب اسرائیلی ڈرون طیاروں کو مار گرانا بھی شروع کر دیا ہے اور اس طرح کے چند ایک واقعات گذشتہ برس بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ ایسے ہی واقعات فلسطین کی سرحدوں پر واقع دیگر ممالک کی طرف سے بھی سامنے آئے ہیں، جب اسرائیل کی طرف سے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں اسرائیلی ڈرون طیاروں کو مار گرایا گیا، حال ہی میں شام کی فضائی حدود میں اسرائیلی ایف سولہ طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجہ میں ایک ایف سولہ طیارہ گر کر تباہ بھی ہوا، جس کا بھی شاید اسرائیل کو شدید رنج و الم بھی ہے اور دنیا پر آشکار ہوچکا ہے کہ اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے کھوکھلے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر جعلی ریاست اسرائیل فلسطین سمیت خطے کی دوسری اقوام کے خلاف جنگیں مسلط کرنے اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے سمیت ان ممالک کی حدود میں داخل ہونے سمیت دوسروں کی سکیورٹی کو چیلنج کرسکتا ہے تو پھر فلسطین و لبنان و شام و عراق مصر اور دیگر تمام ان اقوام کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے دفاع کو بہتر بنانے کے لئے اسرائیل کی سکیورٹی کو چیلنج کریں، نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی ساختہ ڈرون کے ٹکڑے دکھا کر سرکس کرنا ایک طرف ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی دشمن نے اپنے دشمن کی برتری کا خود اعلان کر دیا ہے، کیونکہ اگر وہ ڈرون کا ٹکڑا ایرانی ساختہ بھی تھا تو کیا وہ ایران سے چل کر اسرائیل کی حدود تک آیا؟ یقیناً ایسا نہیں ہوا ہوگا۔ کیونکہ اب خطے کی دیگر اقوام غیرت مندانہ اور شجاعت مندی کے ساتھ اپنی عزت و ناموس کے دفاع میں سرگرم عمل ہیں اور اس معاملے میں فلسطین کی شجاع و پائیدار قوم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر محاذ پر اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پس اسرائیل چونکہ ایک جعلی و غاصب ریاست ہے، تاہم خطے سمیت دنیا کا امن اب اسرائیل کی نابودی سے مشروط ہوچکا ہے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ظالموں کو نابود کرکے ہی رہے گا اور وہ لوگ جن کو مظلوم تر بنا دیا گیا ہے، ان کو اس زمین پر حاکم قرار دے گا۔
گلگت بلتستان کو بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں حقوق دیا جائے،گندم سبسڈی کو چھیڑنا تاریخی غلطی ہوگی۔اپوزیشن لیڈر – Gilgit-Baltistan's first online premier news network گلگت بلتستان کو بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں حقوق دیا جائے،گندم سبسڈی کو چھیڑنا تاریخی غلطی ہوگی۔اپوزیشن لیڈر in اہم خبریں October 1, 2018 1 تبصرہ 673 مناظر اسلام آباد (تحریر نیوز نیٹ ورک) گلگت بلتستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کیپٹن(ر) محمد شفیع نے تحریر نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ۔ ایک عجیب المیہ ہے کہ اس وقت دنیا بھرمیں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ لیکن تحریک گلگت بلتستان دنیا کی واحد تحریک ہے جو ریاست پاکستان میں ضم ہونے کیلئے پچھلے ستر سالوں سے منتظر ہیں۔انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام محب وطن پاکستانی ہے اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ لیکن ریاستی اداروں سے ہمارے عوام کا شکوہ ضرور ہے کیونکہ اداروں نے گلگت بلتستان کو آج تک عوامی اُمنگوں کے مطابق حقوق نہیں دیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے آذاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان ایک ہی ایشو کے تین اکائیاں ہیں لہذا تمام اکائیوں کی حیثیت ایک جیسا ہونا چاہئے۔لہذا گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ہمارے حقوقکیلئے ان میں سے کوئی ساماڈل مسلہ کشمیر کے حوالے سے خارجہ پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں پارلیمنٹ میں قانون سازی اور آئینی ترمیم کے ذریعے اختیار کر لیا جائے تو ہمیں قبول ہوگا کیونکہ گلگت بلتستان اب مزید کسی آرڈر یا پیکج کا متحمل نہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ گلگت بلتستان کی حکومت کرپشن میںبراہ راست ملوث ہیں۔وزیر اعلیٰ اربوں روپے کے فنڈ پارٹنروں میں تقسیم کیے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 475 کلو میٹر کا سی پیک گلگت بلتستان میں واقع ہے لیکن پورے سی پیک کاکوئی پراجیکٹ گلگت بلتستان میں نہیں، اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بے گناہ طالب علموں اور لوگوں کو شیڈول فور میں ڈالا ہوا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی طرح دیامرڈیم کے ساتھ بھاشا کا لفظ لگا کر گلگت بلتستان کے رائیلٹی کے حق کو پامال کیا گیا انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو آرڈروں سے چلانے کے بجائے مکمل پاکستانی شہری کے حقوق دیے جائیں۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ گندم سبسڈی گلگت بلتستان کے عوام کیلئے موت اور زندگی کا معاملہ ہے یہاں کے عوام سے اس حق کو چھینے کی کوشش کرنا گلگت بلتستان میں حالت خراب کرنے کے مترادف ہوگا لہذا وفاق کو چاہئے کہ اس معاملے میں جذبات کے بجائے گلگت بلتستان کی بین لاقوامی اہمیت اور حیثیت کا سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنکا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے اپنے وزیر اعظم سے ملاقات میں یقینا سبسڈی ہٹانے کی بات کریں گے کیونکہ اُنکی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام تحریک انصاف سے بدظن ہوجائے اور عوام تحریک انصاف کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے آئینی حقوق، گلگت،بلتستان،پاکستان تاریخ،کشمیر،پاکستان،اقوام متحدہ۔گلگت بلتستان،ڈوگرہ،بھارت،آزادی سٹیٹ سبجیکٹ،گلگت بلتستان،کشمیر،مہاراجہ،قانون،وفاق،پاکستان گندم،سبسڈی،خوراک 2018-10-01 Previous: محکمہ تعمیرات عامہ بلتستان ریجن چیف انجینئر کی من مان مانیاں عروج پر، نیب سے نوٹس کا مطالبہ۔ Next: بین الاقوامی شہرت یافتہ کوہ پیما مرحوم حسن سدپارہ کے بیٹے نے معاشی بدحالی سے تنگ آکر چیف جسٹس کو خط لکھ دیا۔ تبدیلی کا تحفہ گلگت بلتستان کےلے ایک کٹ پتلی گورنر اور سبسٹی کے خاتمے کی صورت میں ملی تمام کٹ پتلے کھلاڑیوں کو مبارک
ذاتی مصروفیات کی وجہ سےاجلاس میں شریک نہیں ہوا، فواد چودھری | Nation 92 | Pakistan, World, Business, Sports, Entertainment, Education, Health فاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہوا، ذاتی مصروفیات کی بناء پر لاہور میں ہوں، اس لیے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میںآ ج پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں جہانگیرترین، عمر ایوب، عبدالرزاق داؤد، پرویز خٹک، فیصل جاوید، فیصل واوڈا، شیخ رشید، فردوس عاشق اعوان، عثمان ڈار، خسروبختیار، ندیم افضل چن، شہزاد اکبر، افتخار درانی،حماد اظہر سمیت وفاقی وزراء ، مشیران ، معاونین خصوصی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان پارٹی ترجمانوں کو پارٹی کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔اسی طرح اجلاس میں پارٹی بیانیہ سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔ ملکی معیشت اور سیاسی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔معاشی استحکام سے متعلق اقدامات سے پارٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔قابل غور بات یہ ہے کہ چند ایسے وزراء جن کی وزارتیں تبدیل کردی گئیں یا پھر وزارت دی نہیں گئی، انہوں نے آج پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت نہیں کی،ان میں سابق وزیرخزانہ اسد عمر، فواد چودھری، شہر یار آفریدی اور عامر کیانی شامل ہیں۔ فواد چودھری سے وزارت اطلاعات کا قلمدان لیکر انہیں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی دے دی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں ہیں اور ذاتی مصروفیات کی بناء پر اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں سابق وزیرخزانہ اسد عمرشریک نہیں ہوئے، پی آئی آئی کے اہم اجلاس میں سینئر رہنماء اسد عمر کی عدم شرکت سے ناراضگی کھل کرسامنے آگئی،اسد عمر کا کہنا کہ وزیراعظم کے ساتھ کھڑا ہوں پھر نئے پاکستان کی تعمیرسے متعلق اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنا پارٹی قیادت سے ناراضگی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اسد عمر اگر کپتان کے ساتھ کھڑے ہیں توپھر انہیں وزارت کو نہیں کپتان کودیکھنا چاہیے تھا، اور پارٹی اجلاس میں شریک ہوکر پارٹی سے اپنی وابستگی کو ظاہر کرنا چاہیے تھا۔لیکن ان کے پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت کی بجائے ایک روز قبل اسلام آباد سے کراچی چلے جانا ناراضگی کو ظاہرکرتا ہے۔
بے خبر بانجھ پن: ایک Underactive تائرواڈ کا ممکنہ کردار - عصبی سائنس اہم زبان اور مواصلات معاشرتی شناخت علمی - طرز عمل نفسیاتی دیکھ بھال ایک مطالعے میں ایک ہلکے سے underactive تائرواڈ اور بانجھ پن کے درمیان تعلقات کو اجاگر کیا گیا ، دوسری وجوہات سے اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ جرنل آف کلینیکل اینڈو کرینولوجی اینڈ میٹابولزم میں ایک نئی تحقیق شائع ہوئی ہے جو ایک کے مابین تعلقات کو نمایاں کرتی ہے کنٹھ قدرے کم underactive (یہاں تک کہ اگر غدود کم حدوں پر کام کرتا ہے ، لیکن ایک عام حد کے اندر اندر) اور ممکن ہے بانجھ پن . ایوڈوپیتھک بانجھ پن اشتہار جب کوئی جوڑے حتمی وجہ کے بغیر حاملہ نہیں ہو سکتے تو اس کی تعریف کی جاتی ہے بیوقوف بانجھ پن یا ناقابل بیان . بانجھ پن ، یہ قابل فہم ہو یا idiopathic مضبوط وجہ ہے دباؤ اور جذباتی اور رشتہ دارانہ تکلیف حیاتیاتی والدین کی ناممکنات کسی شخص یا جوڑے کے معیار زندگی اور فلاح و بہبود کو متاثر کرسکتی ہے: ہر ماہواری کے ساتھ یا ہر نئی پیدائش کے ساتھ ، ایک سخت مصائب کا سامنا ہوتا ہے جو روزمرہ کی زندگی کو نشان زد کرسکتا ہے۔ تائرواڈ اور ٹی ایس ایچ ہارمونز ہارمون TSH پٹیوٹری غدود یا پٹیوٹری غدود کے ہارمون ہیں ، جو ، دوسرے افعال کے علاوہ ، حوصلہ افزائی کے لئے ذمہ دار ہیں کنٹھ . کی اعلی سطح ہارمون TSH ایک کی ایک اچھی علامت ہیں underactive تائرواڈ گلٹی (یہاں تک کہ ایک ہلکی یا ذیلی کلینک سطح پر بھی)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تائرواڈ ہارمونز کے سراو پر TSH کمزور ہے۔ تائیرائڈ گلٹی اور حاملہ ہونے میں دشواری کے مابین تعلق کا مطالعہ تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین پیش کررہی ہیں نامعلوم بانجھ پن جس کی اعلی سطح کے امکانات تقریبا دوگنا ہیں TSH ہارمون ، ان خواتین کے مقابلے میں جو پیش نہیں کرتے ہیں نامعلوم بانجھ پن . محققین نے 18 اور 39 سال کی عمر کی خواتین مریضوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ، جن کی تشخیص کی گئی تھی نامعلوم بانجھ پن بوسٹن ہیلتھ پارٹنرز ہیلتھ سسٹم ہسپتالوں میں۔ شامل کرنے کے عوامل باقاعدگی سے ماہواری تھے۔ محققین نے دیکھا اور اس کی سطح کا موازنہ کیا TSH ان 187 مریضوں میں سے 52 مریضوں کے ساتھ ، جن کے شراکت داروں میں شدید بیماری کی اطلاع ہے بانجھ پن مرد عنصر سے اداسی کا رنگ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کس طرح کی ہیں نامعلوم بانجھ پن ان کی سطح تھی TSH خون کی سطح خواتین کی سطح سے نمایاں طور پر زیادہ ہے بانجھ پن معلوم وجہ سے خاص طور پر ، کی قدر ہارمون ، کے ساتھ خواتین کے ڈبل میں نامعلوم بانجھ پن دوسروں کے مقابلے میں ، اس کی سطح 2.5 ملی لیٹر / ایل سے زیادہ تھی۔ مستقبل کی پیشرفت اشتہار محقق فضیلی پی کے نتائج کا خلاصہ کچھ یوں ہے:چونکہ اب ہم اپنے مطالعے سے جانتے ہیں کہ سطح کی سطح کے مابین ایک انجمن ہے TSH عام حد اور بالواسطہ بانجھ پن کے اوپری سرے پر ، یہ ممکن ہے کہ سطح کی ہو ہائی نارمل ٹی ایس ایچ حاملہ ہونے کی کوشش کرنے والی خواتین پر منفی اثر پڑ سکتا ہے'۔ اس کی بنا پر جو ممکن ہوا مستقبل کے علاج کے لئے نامعلوم بانجھ پن کی سطح کو کم کرنے پر غور کرسکتا ہے TSH . تحقیق کو پہلے یہ اندازہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اس کو کم کرنے کو فروغ دینے میں کتنا مفید ہوگا تصور .
کیپ ٹاوٴن میں فٹ بال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا ڈرا | کھیل | DW | 04.12.2009 کیپ ٹاوٴن میں فٹ بال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا ڈرا دُنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں فُٹ بال شائقین آئندہ سال کے عالمی کپ کے لئے ٹیموں کے ڈرا کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ فُٹ بال ٹورنامنٹ میں کُل 32 ٹیمیں شریک ہوں گی۔ ڈرا کے بعد ہی ان ٹیموں کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ کس گروپ میں ہیں، وہاں اُن کی حریف ٹیمیں کون کون سی ہیں اور کس دن اُن کا مقابلہ کون سی ٹیم کے ساتھ ہوگا۔ ورلڈ کپ 2010ء ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ گیارہ جون کو جبکہ فائنل میچ ایک ماہ بعد یعنی گیارہ جولائی کو کھیلا جائے گا۔ فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل جوہانسبرگ کے ساکر سٹی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے ڈرا کے سلسلے میں جمعہ، چار دسمبر کو کیپ ٹاوٴن میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہو رہی ہے۔ جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور نوبل امن انعام یافتہ نیلسن منڈیلا اپنے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے تقریب میں شریک افراد سے خطاب کریں گے۔ جنوبی افریقہ میں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے انعقاد کے حوالے سے 91 سالہ منڈیلا کے کردار کو اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ فیفا کے صدر Sepp Blatter جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما اور آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کے ہمراہ ڈرا کی تقریب کا افتتاح کریں گے۔ کیپ ٹاون میں اس خصوصی تقریب کے موقع پر انگلینڈ کے معروف فُٹ بال سٹار ڈیوڈ بیکھم اور جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام کرکٹر مکھایا اینٹینی بھی موجود رہیں گے۔ لیکن ارجنٹائن فٹ بال ٹیم کے کوچ اور سابق کپتان ڈیگو میراڈونا اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکیں گے کیونکہ ابھی حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں ''قابل اعتراض'' جملے کہنے پر اُن کے خلاف فٹ بال کی کسی بھی چھوٹی بڑی تقریب میں حصّہ لینے پر دو ماہ تک کی پابندی عائد ہے۔ تمام فٹ بال شائیقن کی نظریں فٹ بال ورلڈ کپ کی ٹرافی پر بھی مرکوز ہوں گی، جو 83 ہزار میل سے زائد کا عالمی سفر طے کر کے کیپ ٹاون پہنچی۔ کیپ ٹاوٴن پہنچنے سے قبل اس ٹرافی نے براعظم افریقہ کے تقریباً تمام ہی ممالک کا سفر کیا۔ دریں اثناء انگلینڈ کو ٹورنامنٹ کی آٹھ بڑی یعنی ٹاپ سیڈڈ ٹیموں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے گروپ اسٹیج میں اسپین، برازیل، ارجنٹائن، جرمنی، ہالینڈ، عالمی چیمپیئن اٹلی اور میزبان جنوبی افریقہ کا مقابلہ نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈرا کے ذریعے 32 ٹیموں کو آٹھ مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا، یعنی ہر گروپ میں چار ٹیمیں رکھی جائیں گی۔ ٹاپ سیڈڈ ٹیمیں پاٹ ون میں ہیں۔ ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں ہی ناک آوٴٹ اسٹیج کے لئے کوالیفائی کریں گی۔ ڈرا کی تقریب 90 منٹ تک جاری رہے گی اور اسے براہ راست ٹیلی وژن پر دکھایا جائے گا۔ ورلڈ کپ میں شامل بتیس ٹیمیں ہیں: جنوبی افریقہ، برازیل، اسپین، ہالینڈ، اٹلی، جرمنی، ارجنٹائن، انگلینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ، میکسیکو، ہونڈوراس، آئیوری کوسٹ، گھانا، کیمرون، نائیجیریا، الجزائر، پیراگوائے، چلی، یوروگوائے، فرانس، پرتگال، سلووینیا، سوئٹزرلینڈ، یونان، سیربیا، ڈنمارک اور سلوویکیا۔
عمران خان کی کراچی آمد کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پر تشدد کراچی(92نیوز)تحریک انصاف کے قائدعمران خان کی کراچی آمد کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنوں نے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس پر صحافیوں نے شدید احتجاج کیا ۔ تفصیلات کےمطابق عمران خان کی کراچی امد پر تبدیلی کے متوالوں کا جذبہ عروج پر تھا۔ حسب روایت پی ٹی آئی کے رہنما تو ائیر پورٹ چلے گئے اور اسٹار گیٹ استقبالیہ کیمپ میں بھپرے کارکنان رہ گئےجب کسی پر زور نہ چلا تو سونامی کے متوالے میڈیا پر چڑھ دوڑے ۔ میڈیا کے نمائندوں نےاحتجاج کیااور تحریک انصاف کی قیادت کی گاڑیوں کو روک لیا تو کچھ رہنماوں کو خیال آگیا اور میڈیا کو منانے چلے آئے ۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کے آزادی کے متوالے سونامی کارکنان نے میڈیا کو زدوکوب کیا ہو کراچی میں رہنماوں کی گروپ بندی سے ایسے مسائل جنم لیتے رہتے ہیں ۔
فیصل دیوجی تاریخ کے ایک مایہ ناز پروفیسر ہیں اور نوآبادیاتی نظام، ہندوستان کی تاریخ پر خصوصی طور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ذیل میں ان کا نیا دور کے چیف ایڈیٹر رضا رومی کے ساتھ ایک انٹرویو پیش کیا جا رہا ہے جس میں وہ علامہ اقبالؒ کے سیاسی نظریات پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اقبال سیکولر ازم کے خلاف ضرور ہیں لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ نظریہ دین سے دور ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ مسیحیت ہی کے ایک فرقے کی سوچ کے مطابق ہے، جس میں دین اور دنیا کو دو علیحدہ خانوں میں رکھا جاتا ہے۔ وہ اقبال کی شاعری، نثر اور فلسفے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس انٹرویو کو پڑھنے والے یقیناً ان کے خیالات سے متفق ہوں یا نہ ہوں، سیکھ بہت کچھ سکتے ہیں۔ اس انٹرویو کو انگریزی زبان میں اردو سب ٹائٹلز کے ساتھ نیا دور کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔ رضا رومی: آج ایک مرتبہ پھر میرے ساتھ ڈاکٹر فیصل دیوجی ہیں۔ ڈاکٹر دیوجی، جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا اور آپ انہیں اس پلیٹ فارم پر ماضی میں دیکھ چکے ہیں، یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور دنیا بھر میں مانے ہوئے محقق ہیں، خصوصاً پاک و ہند پر۔ اور آج میں ڈاکٹر فیصل دیوجی سے اقبال پر بات کرنا چاہوں گا، یا علامہ اقبال، جیسا کہ ان کو پاکستان میں کہا جاتا ہے۔ ان سے اقبال کی سیاسی اور سیکولر سوچ پر بھی بات کریں گے۔ ڈاکٹر دیوجی، سب سے پہلے تو خوش آمدید۔ آپ کے حالیہ مقالے نے مجھے سوچ میں مبتلا کر دیا جو کہ آپ نے کچھ دنوں پہلے مجھ سے شیئر کیا تھا جس میں آپ نے سیکولر اسلام پر بات کی ہے۔ یہ ایک خاصہ متنازع موضوع ہے، خصوصاً پاکستان میں جہاں لفظ 'سیکولر' ایک گالی سمجھا جاتا ہے، یا قومی ریاست کے لئے ایک خطرہ مانا جاتا ہے۔ آپ بتائیے کہ آپ کیسے اس نتیجے پر پہنچے کہ اقبال ایک سیکولر مفکر ہیں اور آپ اقبال کی سیاسی فکر کو اپنی تحقیق کی روشنی میں کس طرح دیکھتے ہیں؟ فیصل دیوجی: ایک لمحے کے لئے یہ ایک طرف رکھیے کہ وہ سیکولر مفکر تھے یا نہیں لیکن اپنے دور اور ہمارے دور کی طرح ان کو بھی سیکولر ازم سے بطور ایک نظریے کے جھوجنا پڑا۔ ان کے مشہور و معروف لیکچرز کا مجموعہ جو کہ Reconstruction of Religious Thought in Islam کے نام سے شائع ہوا، اس کے بالکل آغاز میں دیکھیں تو اقبال کہہ رہے ہیں کہ فلسفہ ہمیشہ آزاد ہونا چاہیے۔ یہ انسانی آزادی کی سیاست ہی کی طرح ہے اور اس آزادی کے ساتھ کوئی اگر مگر نہیں ہونی چاہیے۔ وہ مسئلہ جس کا اقبال کو سامنا ہے وہ یہ ہے کہ پھر اس آزادی کا اتنی ہی اہم معاشرتی استحکام کی خواہش کے ساتھ ملاپ کیسے ہو جس کی بنیاد ہی ادارہ جاتی روایت پسندی ہے، جس کے مطابق بہت سی چیزوں پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، مختلف قسم کی بااختیار قوتوں کا ہونا ضروری ہے، اور یہ کہ معاشرے میں عوامی سطح پر مقبول مذہبی خیالات ہمیشہ آزاد خیالی کی سیاست اور فلسفے کے تابع نہیں ہو سکتے؟ تو اقبال کے خیال میں ان دو چیزوں کا قریب لایا جانا ضروری ہے اور ان کے یہ مضامین انہی دو چیزوں کے ملاپ سے متعلق ہیں۔ اقبال دراصل ایک ایسی مختلف راہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے ذریعے وہ آزادی اور اختیار یا آزادی اور مروجہ خیالات کے درمیان جو بحث ہے، اس میں سے ایک درمیانی رستہ نکال سکیں اور یہ درمیانی رستہ نکالنے کا عمل ہمیشہ ہی مشکل ہوتا ہے۔ سیاست کی فطرت ہی ایسی ہے، معاشرے کا خمیر ہی یوں گندھا ہے۔ لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کوئی درمیانی رستہ ہے جو کہ اس سے مختلف ہے جو مغربی یورپ کے مفکرین سمجھتے آئے ہیں۔ لہٰذا ان کے سامنے سوال سیکولر ازم کی مخالفت یا حمایت کا نہیں ہے بلکہ اقبال آزادی اور اختیار یا آزادی اور مروجہ خیالات کے درمیان رشتے کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ دونوں ہی چیزیں کسی بھی معاشرے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ رضا رومی: درست۔ آپ نے ان کے مضامین کی بات کی اور مجھے ہمیشہ یہ مضامین کئی حوالوں سے کافی انقلابی لگے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں پاکستان میں پلا بڑھا ہوں اور وہاں جو مروجہ اصولِ قانون ہے، اسی کو حتمی سمجھا جاتا ہے آپ اس سے آگے کا نہیں سوچ سکتے، اس پر سوالات نہیں اٹھا سکتے اور اقبال، غالباً اپنے چھٹے مضمون میں کہتے ہیں کہ ہمیں ان فقہوں سے آگے کا سوچنا چاہیے اور ایک نئی راہ تلاش کرنی چاہیے۔ تو میں اپنے پہلے سوال کی طرف واپس جاؤں گا کہ پھر آپ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں اقبال کا کیا مقام دیکھتے ہیں، خصوصاً بیسویں صدی کے اوائل میں جب سیاسی ہلچل عروج پر تھی اور دنیا کو نئے سیاسی مباحث درپیش تھے، اقبال کا اس پر کیا اثر ہے؟ کیونکہ پاکستان میں بچوں کو بھی یہ پڑھایا جاتا ہے کہ اقبال ایک اسلامی ریاست پاکستانی مسلمانوں کی ایک مذہبی شناخت ہونے کے داعی تھے۔ تو آپ جنوبی ایشیا کے سیاق و سباق میں اقبال کو کہاں دیکھتے ہیں؟ فیصل دیوجی: کچھ حوالوں سے اقبال اکیلے نہیں ہیں اور میں، یہ میرا پسندیدہ حربہ ہے، کہ ان کا تقابل گاندھی سے کرتا ہوں۔ یہ دونوں سیاسی طور پر ایک دوسرے سے بہت سے اختلافات رکھتے تھے لیکن بطور دانشور کے یہ دونوں خاصے مماثل تھے۔ مثلاً گاندھی بھی ایک انتہائی مذہبی آدمی تھے اور مانتے تھے کہ مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بات سے ان کا، اور بلاشبہ اقبال کا بھی، جو مطلب تھا، وہ اس سے بہت مختلف ہے جو اقبال کے خود ساختہ پیروکاروں کا ہے۔ سیاست اور مذہب کے ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے کے حوالے سے اقبال اور گاندھی دونوں کا ماننا تھا کہ سیاسی زندگی کو مذہبی زندگی سے علیحدہ کر کے دیکھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ سیاست مکمل طور پر مادیت پرست اور متشدد ہو جائے کیونکہ مذہب کے بغیر یہ نظریات سے عاری ہوگی۔ کیونکہ نظریے کو آپ فرد کی انفرادی زندگی تک محدود کرنے کی بات کر رہے ہیں لہٰذا وہ بنیادی طور پر مذہب نہیں، مذہب کو نظریے کے اظہار کے ایک طریقے کے طور پر دیکھتے تھے، وہ اسے انسان کی معاشرتی زندگی میں ایک کامل تصور کے طور پر دیکھتے تھے۔ لہٰذا مغربی معاشروں نے جس طرح مذہب اور سیاست کو مکمل طور پر علیحدہ کیا، اسے اقبال اور گاندھی دونوں ہی انتہائی نقصان دہ سمجھتے تھے، کیونکہ اس نے سیاست یا معاشرتی زندگی کو مکمل طور پر مادیت پرست بنا دیا۔ اور اس کے نتیجے میں ان کے نزدیک تشدد جنم لیتا ہے تو یہ جو کامل تصورات ہیں، جو کہ مذہب فراہم کرتا ہے، یہ معاشرے میں کیسے رائج ہوں گے جو کہ ظاہر ہے کہ اُس دوسرے نظریے میں فرد کی معاشرتی زندگی سے بالکل غائب ہوگا۔ تو یہ وہ اصل مسئلہ ہے جو ان دونوں کو درپیش تھا لیکن یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ اقبال مغربی سیکولر خیالات پر اس لئے تنقید نہیں کر رہا کہ وہ مذہبی نہیں ہیں بلکہ وہ ان پر اس لئے تنقید کر رہا ہے کہ یہ بیحد مذہبی ہیں۔ یا جو اس کے نزدیک مکمل طور پر روحانی ہو چکے ہیں۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ فرد اور معاشرے کی ایک ایسی تقسیم کہ جس میں ہماری مادیت پرستی اور تشدد معاشرتی زندگی کا حصہ مد نظر رہے اور مذہب اور یہ بلند اخلاقیات ذاتی زندگی تک محدود ہیں، ایک تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ زندگی یوں تقسیم نہیں ہوتی اور دوسرا اس کے ساتھ اقبال کے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ یہ تقسیم دراصل ایک مذہبی تقسیم ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ مسیحیت میں موجود راہبانہ تصور کی بنیاد پر استوار ہے کہ جس کے مطابق روحانیت اور مادّیت میں پہلے ہی تقسیم ہے۔ راہبانہ مسیحیت میں مادی زندگی اور مذہبی زندگی کو الگ الگ ہی دیکھا جاتا تھا۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں، مگر Reformation کے دوران اقبال کے مطابق ان کو ایک دوسرے سے جدا دیکھا جانے لگا۔ پھر اس کا ماننا ہے کہ یہ مادیت پر مبنی معاشرتی زندگی پر سیاست بالخصوص وطن پرستی کی سیاست کی بنیاد اٹھائی گئی جو کہ معاشرے کو اس بنیاد پر تقسیم کرتی ہے کہ فرد کی حیثیت اس کی جائیداد کی ملکیت کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ قومی ریاست کا تصور ہی قوم کی مشترکہ ملکیت پر استوار ہے اور یہ نجی یا ذاتی ملکیت کے تحفظ کی ضمانت بھی دیتی ہے۔ جب کہ روحانیت ایسے میں صرف ایک ذہنی سکون کا ذریعہ بن جاتا ہے جو کہ آپ کو تنہائی میں میسر آتا ہے۔ اقبال اس کو ایک روحانی یا مذہبی تقسیم کے طور پر دیکھتا ہے۔ لہٰذا اسے مغربی سیکولر ازم سے مسئلہ یہ ہے کہ یہ مذہبی اور روحانی ہی ہے۔ تو جب آپ روحانیت پر ایک معاشرے کی بنیاد اٹھا رہے ہوں گے تو پھر آپ آزادی اور اختیار کے سوال کو مختلف انداز میں کیسے دیکھ سکیں گے؟ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا سامنا اقبال بھی کرتا ہے، اور کچھ طریقوں سے گاندھی بھی۔ اور میں آپ کے اگلے سوال کی طرف بڑھنے سے پہلے ایک بات اور کہنا چاہوں گا کہ اقبال اور گاندھی دونوں کے نزدیک یہ تقسیم اس لئے نہیں ہے کہ کسی شخص کو اچانک ایک بڑا اچھا خیال آیا کہ ہمیں دنیا کو یوں ترتیب دینا چاہیے بلکہ یہ ایسا اس لئے ہے کہ نوآبادیاتی ادارے دنیا کو لامحالہ ایسا بنا دیتے ہیں۔ لہٰذا گاندھی اور اقبال دونوں کا ماننا ہے کہ نوآبادیاتی ریاست جو کہ خود کو ایک غیر جانبدار تیسرے فریق کے طور پر پیش کرتی ہے، جو کہ بھارتی معاشرے کے مختلف اور باہم متصادم مفادات کے درمیان ایک منصف تقسیم کار ہے، یہ معاشرتی رشتوں کا ایک ایسا تصور پیش کرتی ہے جو خود معاشرے کو مذہبی گروہوں کی صورت تقسیم کرتی ہے، مثلاً ہندو اور مسلم، یا سکھ، مسیحی اور دیگر جو بھی گروہ ہیں، جو کہ صرف ریاست کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی نوآبادیاتی طاقت کا راز ہے کہ ریاست خود کو ناگزیر بنا لے تاکہ بھارت میں اس کے بغیر مختلف گروہوں کے آپسی تعلقات ممکن ہی نہ رہیں۔ اور یہ ایک طرح سے سیکولر ازم کی ہی ایک شکل تھا جو کہ انفرادی زندگی کو معاشرتی زندگی سے علیحدہ کر کے دیکھتا تھا اور ان گروہی اور شخصی مفادات کا تحفظ ریاست کے بغیر ناممکن بنا دیا گیا جو کہ پارلیمنٹ اور مختلف اداروں کی صورت میں موجود تھیْ ان دونوں افراد کے نزدیک یہ ایک انتہائی متشدد صورتحال تھی کیونکہ اس سے مذہب کے گروہی مفادات تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں جو کہ ان کے خیال میں نہیں ہونا چاہیے تھا اور دوسرے یہ مذاہب کا انحصار مکمل طور پر ریاست پر بنا دیتا ہے کہ جس میں یہ ایک دوسرے سے تعلق ہی صرف ریاستی سرپرستی میں رکھ سکتے ہیں اور وہ بھی متحارب انداز میں کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہ رہے۔ لہٰذا گاندھی نے تحریک خلافت، جو کہ ترکی میں خلافت کی حمایت میں عالمِ اسلام کا تصور ذہن میں رکھتے ہوئے چلائی گئی، کو ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھا کہ جس کے ذریعے ہندوستان کے مختلف مذاہب ایک دوسرے سے ریاست سے مبرا ہو کر تعلق پیدا کر سکیں۔ اس نے کہا کہ ہندو اور مسلمان کسی معاہدے کے تحت جڑے ہوئے نہیں۔ یہ تو ایک نوآبادیاتی نظام کرتا ہے، اس کا طریقہ واردات ہی یہ ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے دوران تعلق کسی معاہدے کے تحت نہیں کیونکہ معاہدہ کاروباری معاملات میں ہوتا ہے اور یہ عارضی ہوتا ہے کیونکہ جیسے ہی آپ کا ایک دوسرے سے مفاد ختم ہوتا ہے، تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتے ہیں، بغیر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے، مگر یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے سے بغیر ایک مذہب میں ایمان رکھے جڑے ہوئے ہیں۔ تو گاندھی کا کہنا ہے کہ تحریک خلافت بہت ضروری ہے کیونکہ وہ مسلمان جو اس کی حمایت کر رہے ہیں، وہ یہ دکھاتے ہیں کہ وہ ایک عظیم تصور کے حصول کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں۔ شاید تمام مسلمان ایک عظیم تصور کی خاطر نہ کر رہے ہوں لیکن یہ تحریک سیاسی طور پر تو کوئی عملی منطق نہیں رکھتی تھی۔ چونکہ یہ ایک عظیم تصور کی خاطر چلائی جا رہی ہے تو جو ہندو اس کی حمایت کر رہے ہیں، وہ بھی اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ وہ ایک عظیم تصور کے موجود ہونے کے تصور سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔ یہ خلافت کو بچانے میں تو ایمان نہیں رکھتے، یہ صرف اپنے ہمسایوں کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایک ایسے تصور کے لئے جس میں ان کے ہمسائے یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہمسائیگی، دوستی اور قربانی کے جذبے کے تحت ان کے ساتھ ہیں۔ اسی طرح مسلمان جو ہندوؤں کی دوستی چاہتے ہیں، وہ یہ قربانی دیں، اور بلاشبہ خلافت رہنماؤں نے گاندھی کو پیشکش بھی کی، کہ وہ گائے کی قربانی کو چھوڑ دیں گے کیونکہ یہ ہندوؤں کے لئے باعثِ اشتعال تھا۔ گاندھی نے ان کو جواب دیا کہ یہ کسی بھی طرح سے کوئی contract نہیں ہے۔ ہم گائے کے بدلے آپ کو خلیفہ نہیں دے رہے۔ اگر آپ ہندوؤں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے گائے کی قربانی چھوڑنا چاہتے ہیں تو آپ ایسا ضرور کریں۔ مگر گائے کی قربانی کرنا چھوڑنے کا بھی یہ مطلب نہیں کہ مسلمان بھی گائے کے مقدس ہونے میں ایمان رکھتے ہیں، لہٰذا دونوں معاملات میں ہندو خلافت میں یقین رکھے بغیر اس کی حمایت کر رہے ہیں جب کہ مسلمان گائے کو مقدس سمجھے بغیر اس کی قربانی چھوڑ رہے ہیں۔ یہ دونوں مختلف وجوہات کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں۔ گائے اور خلیفہ کا تبادلہ اس لئے ہو رہا ہے کہ یہ بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ یہ ایک زمرے میں نہیں آتیں لیکن یہ ایک زمرے میں آ جائیں گی اگر آپ اسے نوآبادیاتی نظام کے تحت ایک غیر جانبدار فریق کی بطور ریفری کے حیثیت تسلیم کر لیں کہ وہ سب فریقین کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ یہاں دو گروہ ہیں جو ایک دوسرے سے نظریات کی بنیاد پر تعاون کر رہے ہیں جو کہ ایک دوسرے کے مذاہب میں ایمان نہیں رکھتے اور ان کا تعلق کاروباری نوعیت کا نہیں ہے بلکہ یہ دوستی اور محبت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تو یوں آپ ایک غیر جانبدار تیسرے فریق کے طور پر نوآبادیاتی ریاست کے بغیر بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور کر سکتے ہیں جہاں یہ مذہبی گروہ صرف گروہی مفادات کے تحفظ کے لئے ایک دوسرے سے نہیں جڑے ہوئے۔ رضا رومی: صحیح کہا آپ نے، یہ ایک بہت دلچسپ نقطہ نظر ہے لیکن آپ نے ایک بہت اہم بات کہی ہے کہ کس طرح مذہبی گروہ مفادات کے گرد گھومنے لگتے ہیں اور ریاست پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ کیا یہی کچھ 1947 کے بعد والے برصغیر میں نہیں ہوا جہاں، خصوصاً پاکستان میں، ایسے مذہبی گروہ موجود ہیں جو ریاست کی چھتر چھایا میں پروان چڑھتے ہیں، اور ایسا بڑی حد تک بھارت میں بھی ہے۔ کیا یہ اقبال اور گاندھی کا خوف ہی حقیقت میں بدلتا دکھائی نہیں دے رہا؟ کیا آپ بھی ایسا سمجھتے ہیں؟ فیصل دیوجی: ہاں یہ درست ہے، بلکہ ان کی اپنی زندگیوں میں بھی یہ دونوں ہی سمجھتے تھے کہ ہندوستان کو بچانے کے لئے، اور جب میں ہندوستان کہتا ہوں، تو میں برطانوی ہندوستان کی بات کر رہا ہوں۔ جس میں آج کے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش تینوں شامل ہیں، کہ نوآبادیاتی ریاست کا کردار بہت محدود ہو، جو عوام کی زندگیوں پر اثر انداز نہ ہو اور مفادات پراپرٹی کی بنیاد پر طے ہوں، یعنی آپ کا مفاد اس چیز میں ہے جو آپ کی اپنی ہے، خواہ یہ آپ کا اپنا جسم یا شناخت ہی کیوں نہ ہو، جس میں آپ کا ذاتی مفاد ہو سکتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان، کسی حد تک غربت کے باعث، ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں تمام معاشرتی تعلقات ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھے جا سکتے تھے۔ اسی لئے گاندھی اور اقبال دونوں کے مطابق اس قدر قربانی کا جذبہ نظر آتا تھا جو کئی مرتبہ غیر معقول ہوتا تھا، جیسا کہ تحریکِ خلافت۔ اگر اس کو مفاداتی سیاست کی نظر سے دیکھا جائے، کیونکہ جدید ہندوستان میں سماجی تعلقات محض جنس کی ملکیت سے جانچے نہیں جا سکتے تھے لہٰذا مفاداتی گروہ اتنی آسانی سے اور اتنی مضبوطی سے قائم نہیں کیے جا سکتے تھے مگر یہ درست ہے، میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ آج کے حالات میں ایسے مذہبی گروہوں کا تصور بھی محال ہے جو کہ مفاداتی نہ ہوں۔ یہ ان کے سیاسی وجود کے لئے آج ناگزیر ہو چکا ہے۔ پھر بھی میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تمام سماجی تعلقات کو اسی نکتہ نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا، اور یہی وجہ ہے کہ ان کو اکثر قربانی کا جذبہ بھی ابھارنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار یہ مثالیت پسند عناصر بہت متشدد اور نقصان دہ بھی ہوتے ہیں۔ جب کہ یہ مثالیت پسند پھر بھی رہتے ہیں، اس کی ایک مثال خودکش حملہ آور ہیں۔ جو کہ مثالیت پسند رہتے ہوئے اپنی جان دے دیتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھرلنا چاہیے کہ یہ تمام اعمال خواہ کتنے ہی کراہیت آمیز ہوں، ان میں کہیں نہ کہیں ایک ابھار موجود رہتا ہے جو کہ منطقی اور گروہی مفادات پر مبنی سیاست بدل نہیں سکتی جن کا مقصد محض ہر حال میں اپنی ملکیتی جنس کو بڑھانا ہوتا ہے، چاہے وہ آپ کی اپنی ذات ہو، آپ کا مذہب یا نظریہ ہو یا آپ کی کوئی حقیقی جائیداد، یہ سب چیزیں انسان اپنی ملکیت کے زاویے سے دیکھ سکتا ہے۔ اقبال اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، ان کے نزدیک سامراجیت اور وطن پرستی کی بنیاد ہی مادّی شے کی ملکیت پر ہے بلکہ وطن پرستی شاید ملکیت کے قانون کو مزید جابرانہ بناتی ہے۔ کیونکہ قومی ریاست خود مشترکہ ملکیت کے تصور پر کھڑی ہے۔ رضا رومی: صحیح۔ اقبال کی مذہبی اور سیاسی سوچ کی طرف واپس آتے ہیں۔ فیصل، آپ نے انہی موضوعات کو ان کی شاعری میں بھی دیکھا ہے اور ان پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ اقبال نے بالکل متضاد باتیں کر رکھی ہیں یعنی ایک دن آپ لینن کی تعریف کر رہے ہیں، اگلے روز آپ مذہبی استعارے کی طرف واپس آتے ہوئے مغرب کا رد کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ان کی شاعری میں سے اپنی پسند کے موضوعات کو اٹھایا جاتا ہے جو کہ مغرب مخالف ہے، مغربی سیکولر سوچ کے خلاف ہے اور یہی اشعار سیکولر ازم کو رد کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ تو اس حساب سے آپ اقبال کی سوچ کیا دیکھتے ہیں اور آج کے پاکستان میں اس کی کیا جگہ دیکھتے ہیں، کیونکہ آپ پاکستان پر بھی تحقیق کر چکے ہیں تو میں آپ کی اس بارے میں رائے جاننا چاہوں گا۔ فیصل دیوجی: دیکھیے، میں نہیں سمجھتا کہ ان کی باتوں میں بہت زیادہ تضاد ہے۔ ان کی سوچ میں شروع سے ہی ایک تواتر ہے گو کہ وہ اپنے بیان اور الفاظ میں تبدیلی وقت کے ساتھ ساتھ ضرور لائے ہیں لیکن آپ ان کے ڈاکٹرل مقالے میں جو بھی موضوعات دیکھتے ہیں The Development of Metaphysics in Persia جو کہ انہوں نے 1908 میں لکھا اور اس کا تقابل جاوید نامہ سے کریں جو کہ ان کے آخری وقت کی تصنیف ہے اور فارسی شاعری کی کتاب ہے، یہ مختلف موضوعات پر بات مختلف زبانوں میں کرتے ہیں۔ فارسی میں لکھتے ہوئے ان کا موضوع ہندوستان ہے، وہ تاریخِ ہندوستان پر بات کرتے ہیں، مسلم بھی اور غیر مسلم بھی، مثلاً بدھا، ہندو مت، ویدک دور، سنسکرت عبارت کے موضوعات ان کی فارسی شاعری میں اردو شاعری کے مقابلے میں کہیں زیادہ آتے ہیں، جو کہ بہت دلچسپ ہے، لہٰذا میں کہوں گا کہ وہ ایک پیچیدہ شخصیت ہیں، لیکن ان کی سوچ میں تضاد نہیں ہے۔ گو کہ مختلف زبانوں میں ان کا کام ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جہاں تک سیکولر ازم کا تعلق ہے تو ہاں، وہ یورپی سیکولر ازم کے خلاف ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، لیکن وہ جزوی طور پر اس کے خلاف اس لئے بھی ہیں کہ یہ حد سے زیادہ مذہبی ہے اور ان کو لگتا ہے کہ مذہبی اور دنیاوی کے درمیان جو فرق یہ قائم کرتا ہے، اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔ اور یہ مسیحیت میں تاریخی سدھار کا ایک نتیجہ تھا، لہٰذا وہ آزادی اور محکومیت کے درمیان تعلق کو ایک الگ زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ ایک راستہ یہ بھی اختیار کرتے ہیں، کہ یورپی نظریہ سیکولر ازم انفرادی اور اجتماعی میں واضح طور پر فرق کرتا ہے لیکن اگر ہم انہی سماجی تعلقات کو مکانی کی جگہ زمانی زاویے سے دیکھیں اور اقبال کی شاعری میں زمانے سے متعلق بہت بات کی گئی ہے، لہٰذا وہ تجرباتی طور پر سمجھنے کے لئے دو مثالیں دیتا ہے۔ ایک مثال شیعہ کی اور ایک سنی کی ہے، وہ اس بنیاد پر کوئی فرق نہیں کر رہا۔ شیعہ مثال یہ ہے کہ بارہویں امام کے غائب ہونے کی صورت میں آپ ایک پرفیکٹ مذہبی سماج کو جنم نہیں دے سکتے۔ ایک کامل نظام ان کی غیر موجودگی میں تصور کرنا بھی ایک گناہ ہوگا کیونکہ صحیح اسلامی ریاست ایک امام ہی معاشرے کو بنا سکتا ہے۔ لہٰذا جب تک امام واپس نہیں آ جاتے، تب تک ہمارا معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو کہ مذہبی طور پر کامل نہیں لیکن یہ ساتھ ساتھ ایک ایسا معاشرہ بھی ہے جو کہ انسانی آزادی کا منظر پیش کرتا ہے، کیونکہ یہی چیز انسان کو آزاد کرتی ہے۔ لہٰذا یہ مذہب کے ہونے اور نہ ہونے کو مکان کی جگہ زمان میں تلاش کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ سنی نظریہ وہ کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ چونکہ پیغمبرِ اسلامؐ آخری پیغمبر ہیں، مسلم اعتقاد کے مطابق، براہ راست الوہی ابلاغ، جو دنیاوی معاملات پر وحی کی حیثیت سے ہو، پیغمبرِؐ اسلام کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبرِؐ اسلام کے بعد، ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جو کہ ایک طرف غیر کامل ہے کیونکہ پیغمبرؐ موجود نہیں لیکن یہ انسان کو آزادی بھی دیتا ہے اور اقبال ختمِ نبوتؐ کو اسلام کا بہترین تحفہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس کے ذریعے اسلام الوہی اختیار کو لمحہ موجود میں ختم کر دیتا ہے اور یوں یہ پہلی مرتبہ بنی نوعِ انسان کو ایک تاریخی کردار عطا کرتا ہے۔ لہٰذا شیعہ اور سنی دونوں ہی مذاہب میں غیر کاملیت آزادی کی ایک شرط ہے۔ دونوں ہی معاملات میں وقت یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس معاملے میں آزادی ہے اور کس میں نہیں یا کس معاملے میں اختیار حاکم کا ہے اور کس میں آزادی۔ اور آپ نے ان کی شاعری کی بات کی تو اس میں بھی غیر کاملیت اور نامکمل ہونے کے خیال پر جابجا بات دکھائی دیتی ہے (ترا سفینہ کہ ہے بحرِ بیکراں کے لئے)۔ حافظ کے ایک مشہور مصرعے سے اس کی شروعات ہوتی ہے۔ ستارے اور آسمان گھومتے ہیں لیکن کبھی ملتے نہیں، جیسے دو محبت کرنے والوں کے درمیان فراق ہو۔ اقبال کے نزدیک غیر کاملیت بیک وقت خوشی اور غم کا سامان لیے ہے لیکن یہ آزادی بھی عطا کرتی ہے کیونکہ آزادی ہوتی ہی غیر کامل ہے۔ آپ کبھی مکمل اختیار آزادی میں حاصل نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ایک طرف ختمِ نبوتؐ اور دوسری طرف بارہویں امام کے غائب ہونے سے انسان کو آزادی عطا کی گئی۔ اور ان کی شاعری میں اکثر ایسے کردار بھی آتے ہیں، مثلاً خود شیطان جو کہ اس آزادی کے نمائندے ہیں۔ Reconstruction of Religious Thought in Islam کے لیکچرز میں وہ آدمؑ کی کہانی بیان کرتے ہیں کہ جب شیطان نے آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا، اور ایسا کرنے میں وہ بیک وقت اللہ کا حد سے زیادہ وفادار بھی ہے، کیونکہ اللہ نے اس کو اپنے سوا کسی کے آگے سجدہ کرنے سے منع کر رکھا ہے اور ساتھ میں وہ خدا کے حکم کا انکار بھی کر رہا ہے۔ تو یہ آزادی کی ایک شکل ہے، اور دوسری شکل آدمؑ کی حکم عدولی ہے، کیونکہ انہوں نے بھی خدا کا حکم نہیں مانا، ایک ممنوعہ پھل کھایا، اور جنت سے نکالے گئے۔ اقبال کے نزدیک یہ بغاوت کی نہیں، انسانی آزادی کی علامت ہے کہ حکم کا انکار ہی آزادی کی ظاہری شکل ہے۔ وہ یہ سب کچھ بیان کرنے کے لئے اسلامی استعارے کا سہارا لیتے ہیں۔ نہ صرف اس لئے کہ یہ مسلمان پڑھنے والوں کے لئے قابلِ قبول بن جائے بلکہ وہ انہیں دکھانا چاہتے تھے کہ ایسی سوچ پہلے ہی موجود ہے۔ یہ ان کی اپنی اختراع نہیں ہیں۔ رضا رومی: اسلامی روایت کے اندر بھی، درست فیصل دیوجی: یہ نئی چیز نہیں تھی، خصوصاً تصوف اور شاعری میں یہ اختلافی خیالات بڑی حد تک رائج تھے۔ تو خدا ایک طرف تو محبوب ہے لیکن جیسا کہ اردو اور فارسی شاعری میں ہوتا ہے کہ آپ اپنے محبوب سے لڑتے جھگڑتے ہیں، اس کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں، تو یہ ایک بہت قربت کا، وفا کا اور جذباتی تعلق ہے لیکن یہ ساتھ ساتھ ایک ایسا تعلق بھی ہے جس میں غیر کاملیت، ناتابعداری اور آزادی لازم و ملزوم ہیں۔ یہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے لیکن یہ تکلیف بھی اپنے اندر خوبصورتی لیے ہے۔ اور اقبال کی نظر میں خوبصورتی غیر کامل ہوتی ہے۔ غیر کامل ہونے سے میری مراد یہ نہیں کہ خوبصورت چیز بدصورت ہے بلکہ غیر کامل ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ اس سطح پر نہیں پہنچے جہاں آپ مکمل ہو جائیں، آپ ابھی سفر میں ہیں، اور یہ سفر خوبصورت ہے۔ اور انسان اسی خوبصورتی کو پا سکتا ہے۔ تو اقبال اپنی فلسفیانہ اور سیاسی تحاریر اور شاعری دونوں میں آزادی کے مختلف تصورات سے جھوجھ رہا ہے۔ زمانی طور پر، مکانی طور پر نہیں۔ شاعری اور مذہب کے استعارے میں، نجی اور اجتماعی زندگی یا سیکولر اور گروہی پیرائے میں نہیں۔ یہ تمام چیزیں ان کی تمام تحاریر میں موجود ہیں۔ آپ کو بس دیکھنے کی ضرورت ہے۔ رضا رومی: یہ بہت دلچسپ ہے، اور اس لئے بھی کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی روایت کے اندر بھی نہ صرف سوچنے کی گنجائش موجود ہے بلکہ جیسا کہ اقبال اور دوسروں نے بھی بیان کیا ہے کہ خود شناسی اور انسان کے اس غیر کامل سفر کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی گنجائش ہے تو میرا آخری سوال یہ ہے کہ آپ اس اصطلاح 'سیکولر اسلام' کو کیسے دیکھتے ہیں کیونکہ یہ بھی ایک دلچسپ معاملہ ہے، خصوصاً لسانی اعتبار سے۔ میں اس کے بارے میں مزید جاننا چاہوں گا کیوںکہ ہمارے دیکھنے والے اس میں یقیناً بہت دلچسپی لیں گے کیونکہ اسلام کی پوری دنیا میں ایک ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ یہ منطق سے دور ہے اور یہ سیکولر ازم کے خلاف ہے، اور یہ خیالات عوام میں اس حد تک رائج ہو چکے ہیں کہ ان کا جواب دینا بھی مشکل ہے۔ تو یہی میرا یہاں پر آخری سوال ہوگا۔ فیصل دیوجی: میں اس پر بات نہرو رپورٹ سے شروع کروں گا۔ 1929 میں نہرو رپورٹ آئی جو کہ مستقبل کے بھارتی آئین کا ایک پلان ہے۔ اقبال اس پر تنقید کرتا ہے اور وہ جس زبان میں اس پر تنقید کرتا ہے، وہ بہت دلچسپ ہے کیونکہ وہ نہرو رپورٹ کی جس چیز سے اتفاق کر رہا ہے کہ وہ ایک حساب سے سیکولر ہے اور اس کے لکھنے والے اس چیز سے دور ہیں جسے وہ فرقہ واریت یا گروہی سیاست کہتے ہیں یعنی نہرو کی مذہبی وفاداری پر بات ہو رہی ہے، اس کی قومی پرستی کی نہیں لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ دیکھیں، ہم نہرو کے مذہبی رجحان کے خلاف ہیں، لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ قوم پرستی بھی اتنی ہی تنگ نظر ہوتی ہے، جتنی کہ بین الاقوامی وفاداریاں ہوتی ہیں۔ لہٰذا وہ ان سب چیزوں کو ایک دوسرے کے تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں، بجائے ان دونوں کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے کے اور اقبال اسے بالکل ٹھیک سمجھتا ہے، گروہی سیاست اور قوم پرستی ایک دوسرے کا تسلسل ہیں، ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ میں اس کا ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ آزادی کے وقت تک یہ لفظ 'سیکولر ازم' ہندوستان میں بہت زیادہ مقبول نہیں تھا۔ بحث دراصل قومی پرستی اور مذہب کے پیرائے میں کی گئی گروہی سیاست کے درمیان تھی۔ آزادی کے بعد سیکولر ازم ایک بڑے نظریے کے طور پر سامنے آیا۔ جب ہم آج اس بحث کو فرقہ واریت بمقابلہ سیکولر ازم کے طور پر دیکھتے ہیں جب آپ قوم پرستی اور مذہبی گروہی سیاست کو دیکھتے ہیں۔ تو وہ ایک دوسرے کا تسلسل ہیں، ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ یہاں معاملہ محض یہ تھا کہ کون کس پر مقدم ہے۔ تو ایک بات تو یہ ہے کہ ہمارے سیاسی مباحث کی زبان بدل چکی ہے۔ دوسری بات میں یہ کہنا چاہوں گا، اور اقبال یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ایک سیکولر ریاست کے بننے کے بعد ہی، اور یہ یاد رہے کہ نوآبادیاتی ہندوستان سیکولر تھا، وہ یوں کہ ریاست کہتی تھی کہ وہ مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرے گی اور ان سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرے گی۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو اس وقت برطانیہ میں نہیں تھی۔ تب کیا، برطانیہ میں تو آج بھی ایک ریاستی چرچ Anglican Church ہے اور ریاست کی سربراہ، یعنی ملکہ عالیہ، اس چرچ کی بھی سربراہ ہیں۔ اور یہ مسیحیوں کے ایمان کی محافظ ہیں، ہندوستان میں ایسا نہیں تھا۔ لہٰذا برطانویوں نے ہندوستان میں سیکولر ازم کو برطانیہ سے پہلے متعارف کروایا۔ یہ ریاست اس حساب سے بھی سیکولر تھی کہ تعزیراتِ ہندوستان جو کہ لارڈ میکالی نے لکھا تھا، اس میں توہینِ مذہب کا کوئی قانون نہیں تھا جو کہ برطانوی قانون کا حصہ تھا، بلکہ ماضی قریب تک رہا ہے۔ میرے خیال میں 1990 کی دہائی تک یہ موجود تھا اور اس قانون میں توہینِ مذہب کا قانون اس لئے نہیں تھا کیونکہ یہ ایک غیر مذہبی ریاست تھی جسے آپ سیکولر ریاست بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ سیکولر ریاست ہی تھی جس کی وجہ سے مذہب کی آزادی تھی کیونکہ اس نے مذہب اور سیاست کے درمیان تعلق ختم کر دیا تھا اور اس نے ایک طرح سے مذہب کو آزاد کر دیا۔ ایسا ہی امریکہ میں اٹھارہویں صدی میں اس کی آزادی کے وقت سے ہے۔ چونکہ وہاں مذہب آزاد ہے، اسی لئے یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایک انتہائی مذہبی معاشرہ ہے، اور برطانیہ نہیں۔ یہاں پر دوسرے ملکوں سے آئے مہاجرین مذہبی ہیں۔ جو یہاں کے رہنے والے انگریز ہیں، وہ اتنے مذہبی نہیں۔ تو ایسا مذہب جو خود کو سیکولر ازم کی ضد کے طور پر پیش کرتا ہےم وہ دراصل خود سیکولر ازم ہی کی پیداوار ہوتا ہے۔ یہ سیکولر ازم کی پیداوار یوں ہے کہ یہ سیاست سے علیحدہ ہے۔ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہتا اور گاندھی اور اقبال کے لئے یہ افسوسناک ہے لیکن وہ جس تعلق کی بات کر رہے ہیں، اس میں ایسا نہیں ہے کہ تمام سیاسی معاملات مذہبی قانون کے تابع ہوں گے۔ وہ مذہب کو محض اس حد تک ریاستی امور میں شامل کرنا چاہتے تھے کہ وہ اس کے مقدس اصول مستعار لے سکیں اور ان کے گرد ایک معاشرہ خود بخود تشکیل پائے۔ لہٰذا یہاں محض ہندو، یا چونکہ ہم پاکستان کی بات کر رہے ہیں، تو مسلمانوں کی حاکمیت کے ختم ہو جانے کا مسئلہ ہے۔ جب تک مسلمان بادشاہ، شہزادے یا شہنشاہ تھے، وہ مذہبی طبقے کو قابو میں رکھتے تھے یا کم از کم رکھنا چاہتے تھے۔ اور ان کی حکومتیں سیاسی منطق کی بنیاد پر ہی چلتی تھیں۔ وہ صرف مذہب کے تابع رہ کر نہیں چلائی جاتی تھیں، بلکہ اس کے تابع بالکل نہیں تھیں۔ شریعت اپنی جگہ تھی اور ساتھ ہی قانون بھی موجود تھا اور قانون سے یہاں ہماری مراد وہ قانون ہے جو مذہبی نہیں، شاہی ہے۔ کچھ معاملات میں شریعت سے مدد لی جاتی تھی لیکن شریعت کے تابع یہ حکومتیں نہیں تھیں۔ مثلاً مغلوں کی سیاسی تاریخ ایک منگول دیوی سے جا ملتی ہے۔ وہ مسلمان تھے لیکن وہ پھر بھی اس دیوی کا نام لیتے تھے اور چنگیز خان و دیگر حکمرانوں کے بھی، تو یہ ان کے اسلام قبول کرنے سے پہلے سے چلی آ رہی تھیں اور یہ جانتے بوجھتے کیا جاتا تھا کیونکہ وہ ریاست کو مذہبی قوانین کے تابع نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ یہ ایک ایسی دیوی تھی جس میں ان کا ایمان نہیں تھا جیسے مسلمان گائے کو مقدس نہیں سمجھتے لیکن اس کے ذبح کرنے سے خود کو روکنے پر تیار ہیں تو یہ جو نو آبادیاتی نظامی سے پہلے کی بادشاہتیں تھیں، خواہ دوسرے معاملات میں یہ کتنی ہی اچھی یا بری رہی ہوں۔ ان کے جانے سے ہی مذہب جنوبی ایشیا میں آزاد ہوا ہے۔ آج ہندو مت اور اسلام جس حالت میں ہیں، وہ ان کے جانے سے ہیں اور یوں یہ مذاہب سیکولر ازم کی پیداوار ہیں۔ اس سیکولر ازم کی پیداوار جس کے خلاف آج ان کے لیڈران صف آرا ہیں۔ اور یہ بہت عجیب بات ہے، اگر آپ غیر مذہبی اقتدار کی تشریح چاہتے ہیں تو آپ صرف نو آبادیاتی نظام سے پہلے موجود، ہمارے سیاق و سباق میں مسلم، بادشاہتوں کو دیکھ لیجئے، صرف جنوبی ایشیا میں نہیں، پوری دنیا میں جتنی بھی نئی تحقیق ان بادشاہتوں پر سامنے آ رہی ہے، یہی بتاتی ہے۔ مثلاً سلطنتِ عثمانیہ میں خلافت کی قانونی ساکھ اسلامی قانون سے نہیں بلکہ یہ تصوف اور فلسفے سے مستعار لی جا رہی ہے اور یہ سب باتیں اس موضوع پر تازہ ترین تحقیق سے ثابت ہیں۔ تو میرے خیال میں آج مذہب جس حالت میں ہے، اس کی ذمہ داری نو آبادیاتی نظام سے پہلے کی بادشاہتوں کے ختم ہونے پر ہے۔ اور اس پرانی بادشاہت میں ہمیں وہ سیاسی زبان ملتی ہے جو کہ سیاست قبل از جدیدیت میں استعمال ہوتی تھی اور اب ہم میں موجود نہیں۔ میں یہاں ان سلطنتوں یا ان شہزادوں کی شان بیان نہیں کر رہا۔ میں کہہ رہا ہوں کہ وہ ایک ایسی سیاسی زبان تھی جو اب متروک ہے۔ ان کے محض چند حصے ہمارے وقت تک برقرار رہ پائے ہیں۔ ہم آج بھی نظام، حکومت یا سلطنت، جو کہ اب پاکستان میں جمہوریت کے دور میں اتنا زیادہ استعمال نہیں ہوتا، لیکن یہ چند حصے ہیں اور اس زمانے کی سیاسی زبان کا مکمل احاطہ نہیں کرتے۔ ہمارے پاس اس زمانے کی سیاسی زبان موجود نہیں۔ اور مذہبی زبان جو کہ اس سیاسی زبان کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرتی ہے۔ وہ اصل میں ایسا کر نہیں سکتی، یہ کام انجام دینا اس کے بس میں نہیں۔ یہ اس زبان کی آزاد حیثیت تھی جو اقبال یا ان جیسے مفکرین کے لئے دلچسپی کا باعث تھی کیونکہ وہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف تھے اور وہ سیاست کو ایک آزادی کا رستہ سمجھتے تھے کیونکہ جدید دور میں سیاست ہی وہ ذریعہ ہے جس سے آپ اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتے ہیں اور فلسفہ بھی سیاست سے جڑا ہے کیونکہ یہ بھی انسان کی آزادی اور اس کی فکر کی آزادی کو موضوعِ بحث بناتا ہےْ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں، سیاست اور فلسفہ۔ اور اسی لئے اقبال بار بار ان کی طرف پلٹ کر آتا ہے۔ اور اس کے نزدیک شاید شاعری بھی، خصوصاً ان کے انداز کی شاعری جب کہ مذہبی اختیار اور عوامی رجحانات اس صورت میں جڑتے ہیں۔ جب آپ رجعت پسند سوچ کے حامل ہوں اور یقیناً سیاسی اختیار بھی موجود ہے، اور یہ سب چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔ لیکن اقبال کی خواہش تھی کہ یہ ایک دوسرے سے بالکل ایسے جدا نہ ہوں، جیسے یورپی سیکولر ازم نے کیا بلکہ ان سب کا تعلق برقرار رہے اور ان کے درمیان موجود فرق بھی ملحوظ رہے۔ ایک ایسا نظام جس میں ان کی بقائے باہمی ممکن ہو سکے۔ ایک ایسے انداز میں کہ یہ ایک دوسرے سے قانونی طور پر نہ جڑ جائیں۔ جواہر لعل نہرو کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے کہا کہ جیسے یورپی سیکولر ازم اپنی فطرت میں مابعد الطبیعیاتی ہے کیونکہ یہ مادّی اور روحانی کے درمیان تقسیم پر مبنی ہے۔ وہ صحیح بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب آپ تاریخ میں شیخ الاسلام کے عہدے کی مثال کو دیکھیں جو کہ وزیر کے عہدے سے الگ ہے، تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ قبل از جدیدیت مسلم بادشاہتوں میں فرائض کس طرح تقسیم کیے گئے۔ شیخ الاسلام اسلام کے لئے ذمہ دار ہے، وہ وزیر کے عہدے پر نہیں۔ وہ سلطان یا خلیفہ نہیں۔ اقبال نہرو کو کہتے ہیں کہ یہ ایک اختیارات کی تقسیم ہے۔ یہ مابعد الطبیعیاتی نہیں۔ وہ نہرو کو یہ کہہ رہے ہیں کہ قبل از جدیدیت مسلم ریاست میں یہ ایک صاف تقسیم ہے کہ کیا چیز اسلامی ہے اور کیا غیر اسلامی۔ یہ تقسیم ایسی ہے جسے آپ سیکولر کہہ سکتے ہیں۔ اور اس کے پیچھے چھپی منطق مغربی سیکولر ازم کی طرح مذہبی نہیں۔ یہ ان کا استدلال ہے، ہمیں اس کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ وہ سمجھانا کیا چاہ رہے تھے۔ وہ کچھ اور نہیں صرف آزادی کے معنی سمجھانا چاہ رہ تھے۔ سیاسی معاملات میں آزادی، سوچ کی آزادی، فلسفیانہ اور شاعرانہ آزادی۔ رضا رومی: بہت شکریہ، فیصل۔ یہ ایک مسحورکن گفتگو تھی۔ اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے دیکھنے والوں نے اس سے بہت لطف لیا ہوگا۔ یہاں بنیادی بات سوچ کی آزادی کی ہے، اور مجھے امید ہے کہ پاکستان اور پاکستانی ریاست کے کرتا دھرتا، ایسے لوگ جو اسے سنیں گے، اقبال کے بارے میں آپ کی کہی باتوں کو یاد رکھیں گے۔ اور ان پر عمل کرتے ہوئے ان کا اطلاق کرنے کی کوشش کریں گے۔
اللہ پاک لعنت بھیجتے ہیں ایسے مرد و عورت پر | Geo Urdu اللہ پاک لعنت بھیجتے ہیں ایسے مرد و عورت پر Posted on May 19, 2015 By Zulfiqar Ali تارکین وطن Sanan Ibny Majah موجودہ زمانے میں ایک نئی جہت سامنے آئی ہے جس میں کچھ مرد و حضرات اکٹھے ہو کر کسی کو بھی پریشان کرنے کیلیۓ سستے طریقے رواج دے رہے۔ جس میں خواتین کئی کئی ناموں سے جن میں مردانہ نام شامل ہیں استعمال کرتی ہیں۔ آئی ڈی بنا کر احمقانہ اور اپنی ذہنی سوچ کے مطابق خبریں بھیجتیں۔ افسوس نام کے ہی سہی ہم آج مسلمان تو ہیں کاش یہ جان سکتیں کہ ایسی عورتوں اور مردوں پر اللہ پاک کی لعنت ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی جسامت کو تشخیص کو محض چند خیالات کی وجہ سے تبدیل کر کے انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے۔ ایسے لوگ صحتمند مقابلہ کرنے سے گھبراتے بزدلانہ انداز استعمال کرتے ان کیلیۓ اجتماعی ہدایت کی دعا کی اشد جہاد بالقلم اور جہاد قرآن کے ساتھ اب یہی ہے کہ حق لکھنا ہے کہنا ہے اور انشاءاللہ اللہ پاک کی خاص مدد اور رحمت شامل حال ہے۔ دنیاوی فائدے کیلیۓ نہ کسی سے مرعوب ہونا ہے اور نہ کسی سے ڈرنا ہے کیونکہ یہ سب لوگ خود کچھ بھی نہیں نہ علم والے نہ عمل والے نہ قرآن والے تو ان کی جانب سے کسی بات کا کیا اثر؟ اس لئے آخرت برباد نہیں کرنی اللہ پاک اس دنیا کو نہیں قبر کی تاریکی اور حساب کتاب کی سوچ کو راسخ کر کے ہمیں درست انداز میں زندگی گزارنے اور قناعت پسندی کو اپنا کر اسلامی اطوار اپنانے والا بنائے آمین۔ رائیٹر، ڈائریکٹر، کے ایس کاظمی، موسیقار وجاہت اور فلمسٹار مدھو کا ایک خوبصورت انداز چوہدری اکرم منہاس، چوہدری ذوالفقار اور دیگر دوست ایک خوبصورت انداز میں
اہم ترین | Daily Aghaz - Part 5 ایف بی آر نے تحقیقات تیز کردیں، کرپشن میں ملوث 15 سیاستدانوں کے گرد گھیرا تنگ دو صوبوں میں سیاست دانوں نے ہزاروں کینال بے نامی زمین اور اثاثے اداروں کے نام رجسٹرڈ کرا رکھے ہیں ہائی پروفائل کیسز 15 لاہور میں ہیں کراچی اور حیدرآباد میں 5، 5 کیسز کی تحقیقات جاری ہیں اسلام آباد(آن لائن) وفاقی بورڈ آف ریونیو کے بے نامی زونز نے […] عمران خان کی پشت پر امریکا اور یورپ کھڑے ہیں، فضل الرحمن جعلی انتخابات سے ناجائز حکومت بنائی گئی، تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کیا لیکن کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا آسمان کو چھوتی مہنگائی نے عوام کو خودکشی پر مجبور کردیا ہے' سربراہ جے یو آئی(ف) کا چارسدہ میں خطاب لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل […] مولانا فضل الرحمن پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے کرپشن کرنیوالے فوج سے ڈرتے ہیں ٗ وزیراعظم February 15, 2020 12:48 pm0 comments میں کرپٹ نہیں ہوں ، فوج میرے ساتھ کھڑی ہے ، تحقیقات ہونی چاہئیں کہ مولانا فضل الرحمن کو آخرکس نے یقین دہانی کرائی ہے ؟ حکومت کہیں نہیں جارہی،اپوزیشن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی ،آٹا بحران کی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں اسلام […] طیب اردوان ترک صدر کی پارلیمنٹ میں ٹرمپ ' مودی کو للکار کشمیر ہمارے لئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے ٗ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ سے متعلق امن نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے،مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے لیبیا سے لے کر یمن تک ترکی کا اولین مقصد خون اور آنسو […] غداری کے مقدمے کی بات چھوٹا پن ہے ٗ بلاول بھٹو حکومت سیاسی قیادت کو غداری کی مد میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گی؟ یہاں احسان اللہ احسان اور راؤ انوار آزاد گھوم رہے ہیں سیاسی رہنماؤں کو پابند سلاسل رکھا گیا ہے، یہ غیر جمہوری سوچ اور ہتھکنڈے ہیں کہاں سے کہاں لے جائیں گے'نکتہ اعتراض پر گفتگو اسلام […] کراچی میں 313مزارات' درگاہوں پر صرف 58پولیس اہلکار تعینات بلدیہ شرقی میں 29، ملیرمیں 41، کورنگی میں 61مزارات ودرگاہیں ہیں ، جہاں کوئی پولیس اہلکاربھی تعینات نہیں ہے عدالت نے پولیس رپورٹ پر درخواست گزار سے جواب الجواب طلب کرتے ہوئے سماعت 18 مارچ تک ملتوی کردی کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کے313مزارات اور درگاہوں پر صرف 58 پولیس اہلکارتعینات ہونے […] پاکستان ہمیشہ ترکی کیساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہوگا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات، علاقائی سیکورٹی اور دو طرفہ دفاعی تعاون کے فروغ پرگفتگو ترک وزیر دفاع نے خطے میں تناؤ کو روکنے او رکشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی' آئی ایس پی آر راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف آرمی […] سہراب گوٹھ پولیس کی کارروائی، بدنام زمانہ لینڈ گریبر گرفتار اسلحہ برآمد' ملزمان نے ایس ایچ او سہراب گوٹھ غلام رسول سیال پر تشدد بھی کیا علی حسن بروہی سندھ کی اہم شخصیات کا دست راست سمجھا جاتا ہے' پولیس ذرائع کراچی (اسٹاف رپورٹر) سہراب گوٹھ پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے ہوئے بدنام زمانہ لینڈ گریبر علی حسن بروہی […] سانحہ ماڈل ٹاؤن: نیا بنچ تشکیل دے کر 3 ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم February 14, 2020 12:00 pm0 comments سانحہ میں لوگ جاں بحق ہوئے اور زخمی بھی، فیصلہ ہر صورت ہونا چاہیے' جسٹس گلزار احمد پولیس افسران نوٹس کے باوجود پیش ہوئے نہ جے آئی ٹی کی مخالفت کی'جسٹس اعجاز الاحسن اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت عظمیٰ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو […] سندھ حکومت ' سابق مشیران 'بیوروکریٹس 25 سرکاری گاڑیاںلے کر غائب عہدہ چھوڑنے کے بعدگاڑیاں واپس نہیں کیں اصغر علی جنید جونیجو سال 2013ء سے 2018ء تک صوبائی مشیر رہے اور 2 سال سے سرکاری گاڑی کے مزے لے رہے ہیں سابق ایم این اے شگفتہ جمانی کے پاس سرکاری گاڑی جی ایس 9547 موجود ہے اور وہ حکومت سندھ کی گاڑی استعمال کررہی ہیں کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت […] صبح سویرے ٗ فلیٹ میں آتشزدگی ٗ باپ بیٹے ٗ رشتہ دار جاں بحق سکھر ٗ غریب آباد میں 4منزلہ رہائشی عمارت کی پہلی منزل کے فلیٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ٗ کپڑے کی دکان پر لگنے والی آگ نے بالائی منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ٗ عینی شاہدین متوفین با پ بیٹو ں کی نماز جنازہ آج سکھر میں ادا […] ملاوٹ مافیاکیخلاف ایمرجنسی نافذ ٗ ذخیرہ اندوزوں 'منافع خوروں کیخلاف کریک ڈائون ٗوزیراعظم کی سندھ حکومت کو ہدایت وزیراعظم کا کراچی میں آٹے کی قیمت پر تحفظات کا اظہار ،صوبائی حکومتیں ملاوٹ کی روک تھام کیلئے ایک ہفتے میں حکمت عملی تیار کریں ملاوٹ کی روک تھام سے متعلق جامع اور موثر منصوبہ بندی کی جائے ، عمران خان کاذخیرہ اندوزی سے متعلق اجلاس سے خطاب اسلام آباد(مانیٹرنگ […] بلاول بھٹو نے منی لانڈرنگ کی رقوم سے جائیدادیں بنائیں شہزاد اکبر ٹنڈو الہ یار میں ان پیسوں سے زرعی زمین خریدی گئی، کلفٹن میں 5 پلاٹ خریدے گئے جن کو بلاول ہاؤس کا حصہ بنایا گیا، معاون خصوصی بلاول آپ اَن ٹچ نہیں ہیں کہ آپ سے کوئی ادارہ بھی سوال نہیں کرسکتا،یہ تو نیب کے سامنے جھوٹ بھی بول رہے […]
کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارم ،فاریکس لین دین کی مثال ڈیلاوئر-مہسا 2020/11/24 تجارتی پلیٹ فارم وہ عمل جو متحرک نہیں ہوتے ہیں. آڈیو کی نقل آن لائن گیگ کی قسم ہے جو اضافی نقد رقم کے ل فاریکس لین دین کی مثال for اچھی ہے لیکن پوری وقتی نوکری کے ل. بھی نہیں۔ تم سکتا ہے اسے پورے وقت پر کام کرنے پر مجبور کریں ، لیکن میں اس کی سفارش نہیں کروں گا جب تک کہ آپ خود ہی کوئی ایسا موکل تلاش نہ کریں جو اضافی رقم ادا کرنے کو تیار ہو۔ استعمال میں بہت آسان ہے۔ دھندلا ہونا اور دھندلا ہونا۔ آئی فون کے لئے MP3 یا M4R میں آؤٹ پٹ۔ ہینڈلز کو گھسیٹ کر یا وقت کے نشانات داخل کرکے منتخب کریں۔ اگر ملازمین زیادہ تخلیقی ہوجائیں تو ، یہ انھیں مزید دلچسپ خیالات کے ساتھ ان کی مجموعی پیداوار میں بہتری لانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ پڑھیں : بٹ کوائن بمقابلہ لٹیکائن بمقابلہ ڈوگوکوئن - موازنہ. مرحلہ 2 ایک ڈرل اور 3 "(75 ملی میٹر یا 76 ملی میٹر) کے سوراخ آری کا استعمال کرتے ہوئے ، قدم 1 سے سطح پر نشان پر مرکوز ایک سوراخ کاٹ دیں۔ حفاظتی شیشے پہننا مت بھولنا! بچوں کے لئے دوستانہ مواد کو ایک ساتھ بنڈل کرنے میں اسکائ ہمیشہ ہی اچھا رہا ہے۔ اسکائی Q کے ساتھ بچوں کے لئے ایک سرشار مینو ہے ، جو آپ کو سفارشات ، آن ڈیمانڈ پروگرامنگ اور 12 سال سے کم عمر کے افراد کے لئے موزوں ریکارڈنگز دکھاتا ہے۔ اگر cryptocurrency کان کنی کے پول کی قسم تبدیل کردی گئی ہے تو ، ادائیگی والے بٹوے کا پتہ بھی تبدیل کیا جانا چاہئے۔مثال کے طور پر ، اگر آپ لیٹیکائن کان کنی کے تالاب سے کان کنی کررہے ہیں تو ، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی ادائیگی والیٹ کا پتہ لیٹیکوئن پرس کے لئے ہے۔ غلط cryptocurrency والیٹ کے استعمال سے غلطی ہوگی اور آپ اپنی کمائی ختم کردیں گے۔ اس اصول میں کچھ مستثنیات ہوسکتی ہیں جہاں کان کنی کا ایک پول آپ کو اتھیرئم جیسے ایک کریپٹوکائن کی کان کھینچنے اور بٹ کوائن میں ادا کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ پول کی سرکاری ویب سائٹ یا مباحثے کے فورمز میں ذکر کیا جائے گا کہ اگر یہ دوائی ممکن ہے۔ آپ کو مختلف ٹائم فریموں کیلئے انحراف ایڈجسٹ کرنا چاہئے. HSA کی شراکت آجر ، ملازم یا دونوں فریقوں کے ذریعہ مشترکہ شراکت کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔ ملازم کی طرف سے تیسرا فریق بھی حصہ ڈال سکتا ہے۔ ملازمین اپنے IRA سے اپنے HSA میں ایک وقتی منتقلی بھی کرسکتے ہیں۔ کوئی بھی جو خود ملازمت ، شراکت دار یا ایس کارپوریشن کا حصہ ہے اسے کسی کمپنی کا فاریکس لین دین کی مثال ملازم نہیں سمجھا جاتا ہے اور وہ آجر کی شراکت وصول نہیں کرسکتا ہے۔ وہ HSA کھول سکتے ہیں ، لیکن اسے خود مالی اعانت فراہم کرنا ہوگی۔ ایک مختصر سرمایہ کاری کے لئے ، آپ کو عروج کی شرح کو پکڑنے اور منافع بخش ڈیجیٹل کرنسی فروخت کرنے کے ل high اعلی اتار چڑھاؤ والی کرنسیوں کی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ، کیا ہوگا اگر مارکیٹ کے بڑے آرڈر کو پورا کرنے کے لئے مطلوبہ قیمت کے ارد گرد اتنی لیکویڈیٹی نہ ہو؟ جس قیمت سے آپ اپنے آرڈر کو پُر کرنے کی توقع کرتے ہیں اور جس قیمت سے یہ پُر ہوتا ہے اس میں بڑا فرق ہوسکتا ہے۔ اس فرق کو پھسلنا کہتے ہیں۔ تو ، اہم غیر ملکیوں میں شامل ہیں: ForexTime کمپنی کی خبریں ،فاریکس لین دین کی مثال اس کی سمجھی گئی محبت کی دلچسپی کبھی نہیں پہنچی ، اور اس کے بجائے ، اس کی دوستی ایک اجنبی (اسکامر) نے کی جس نے اسے آسٹریلیا واپس بیگ لے جانے کے لئے راضی کیا۔ ماریہ کو منشیات کی اسمگلنگ کی ملائشیا کی عدالت نے سزا سنائی تھی اور مئی 2018 میں اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس کی سزا ختم ہونے سے قبل اسے فاریکس لین دین کی مثال پانچ سال جیل اور 18 ماہ موت کی سزا سنائی گئی تھی اور اسے رہا کردیا گیا تھا۔ دریں اثنا ، سونے کی قیمت چھ سالوں میں اپنی اعلی ترین سطح کے قریب ہے ، جزوی طور پر کیونکہ بانڈز پر کم آمدنی سونے کو سرمایہ کاروں کے لئے زیادہ مسابقتی متبادل بناتی ہے۔ اضافی طور پر ، مرکزی بینک شاید ڈالر کے علاوہ دیگر اثاثوں میں بھی ذخائر چاہتے ہیں ، ٹی ڈی سیکیورٹیز میں اجناس کی حکمت عملی کے سربراہ ، بارٹ میلک نے جرنل کو بتایا۔ انہوں نے مزید کہا ، انہیں امریکی بجٹ کے بڑے خسارے پر تشویش ہوسکتی ہے اور انہیں یقین ہے کہ فیڈ شرحوں میں کمی کرنے میں کافی حد تک جارحانہ ہوسکتا ہے۔ اپنے کیبل موڈیم راؤٹر کو اس علاقے کے مرکز کے قریب رکھیں جہاں آپ کے کمپیوٹر اور دیگر آلات کام کرتے ہیں ، اور آپ کے وائی فائی آلات پر نظر کی لائن میں رہتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کیبل موڈیم راؤٹر کسی AC پاور آؤٹ لیٹ کے قریب اور وائرڈ کمپیوٹرز کے لئے ایتھرنیٹ کیبلز کے قریب ہے۔ کیبل موڈیم راؤٹر کو بلند مقام پر رکھیں ، کیبل موڈیم راؤٹر اور اپنے دوسرے آلات کے مابین تعداد کی دیواروں اور چھت کو کم سے کم کریں۔ کیبل موڈیم روٹر کو برقی آلات جیسے دور رکھیں: - چھت پرستار - ہوم سیکیورٹی کے نظام - مائکروویو - کمپیوٹر - بے تار فون کی بنیاد - 2.4 گیگا ہرٹز کارڈلیس فون کیبل موڈیم راؤٹر کو بڑی دھات کی سطحوں ، شیشوں کی بڑی سطحوں اور موصل دیواروں سے اور اس طرح کی اشیاء سے دور رکھیں: - ٹھوس دھات کے دروازے - ایلومینیم کی جڑیں - مچھلی کے ٹینک. اگر ان میں سے کوئی انتباہی نشان موجود ہو تو ، آپ کا عمل قابو سے باہر ہوسکتا ہے یا قابو سے باہر ہوسکتا ہے۔ اگرچہ آپ کی پیمائش اب بھی قابل قبول حدود میں ہوسکتی ہے ، اگر آپ کا عمل قابو میں نہیں ہے تو ، کارروائی کرنے کا پہلے ہی وقت آگیا ہے کیونکہ آپ جلد ہی اس عمل کے ذریعہ تیار شدہ ناقص اکائیوں کو دیکھیں گے۔ ای بے ہمیشہ سستی شاپنگ سائٹ نہیں ہوتی ہے. .کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارم ایسا کسی انٹروورٹ کے ساتھ نہیں ہوتا ہے۔ کوئی نیا کام یا چیلینجنگ کرتے وقت وہ اسی طرح کے جوش کا تجربہ نہیں کرسکتے ہیں۔ ایک گہری سطح پر ، ایک انٹروورٹ کو تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، حالانکہ یہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا ہے۔ مسل پھر اگلے صفحہ میں آتا ہے اور آؤٹ پٹ سیٹنگیں بھی اثبات کریں کہ کہ بہترین منتخب کرنے کے لئے اپ لوڈ ہے: ایپ سے میری لوئی ، ہم ترتیبات اطلاعات اجازت اور ترجیحات تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور باکس کو غیر چیک کرتے ہیں «میں قبول نہیں کرتا ہوں کہ لوئی گمنامی ڈیٹا دیتا ہے .
ابلیس گھر کے اندر ہے - Dunya Pakistan قرآن ِ مجید میں شیطان کی نافرمانی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب فرشتوں سے کہا گیا کہ آدم کے سامنے جھک جاؤ توسب حکم ِ ربی کی تعمیل بجالائے سوائے شیطان کے۔ وہ جنات میں سے تھا اور اس نے تکبر کیااور پھر اُسے راندہ ِ درگاہ کردیا گیا۔ خدا نے اُسے انسانوں کا کھلا دشمن قرا ر دیا۔ افطار کا وقت ہے اور تمام اہل ِ خانہ ایک دوسرے سے بحث کررہے ہیں۔ خاتون ِ خانہ افطاری کے لیے تیارکی جانے والی اشیا کو حتمی شکل دینے کی کوشش میں ہے لیکن ہونے والی بحث اُس کی پریشانی میں اضافہ کررہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ سب خاموشی اختیار کریں اور خدا کے عاجز بندے بن کرافطاری کے وقت کا انتظا رکریں۔ آخر کار اُس نے کہا، "بچو، لگتا ہے گھر میں شیطان گھس آیا ہے۔"یہ سنتے ہی گھر میں خاموشی چھا گئی۔ پھر اُس خاتون نے اپنی بات کررکھتے ہوئے کہا کہ شیطان شور پسند کرتا ہے کیونکہ اُسے خاموشی راس نہیں آتی۔ اُس کا کام ہمیں بہکانا ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ شور شرابے کے عالم میں ہمارے ذہن ماؤف رہیں اور اُسے موقع مل جائے۔ یہ نصیحت سن کر بچوں نے خاموشی سے سرجھکا لیا۔ اُنہیں خوف تھا کہ کے ان رویے سے گھر میں شیطان داخل ہوکر اُن پر غلبہ پاسکتا ہے۔ اُنھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اُن کے گھر میں سکون نامی رحمت داخل ہوگئی۔ دراصل اہل ِ ایمان وہی ہیں جو شیطان سے دور رہتے ہوئے خدا کو خوش کرتے ہیں۔ اگر دنیا بھر کے مسلمان مرد و عورتیں ایسا کرپاتے تو اسلام میں نہ کوئی فرقہ واریت ہوتی اور نہ کوئی اختلافی نظریات اور نہ ہی ان اختلافات کی بنیاد پر قتل وغارت ہوتی اور نہ ہی مسلمان اتنے کمزور کہ تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود جرم ِ ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ دنیا میں کسی مذہب کے پیروکار مسلمانوں کی طرح ایک دوسرے کو اس طرح ہلاک نہیں کرتے۔ چلیں غزہ میں تو صیہونی افواج فلسطینیوں کا قتل ِ عام کررہی ہیں لیکن شام، مصر اور شمالی وزیرستان میں ایسا نہیں۔ یہاں مرنے والے اور مارنے والے، دونوں کا تعلق ایک ہی مذہب سے ہے۔ عرب دنیا میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کی خلیج خون سے بھرتی جارہی ہے۔ اس رمضان میں تمام عالم ِ اسلام ایک سنگین بحران میں گھر چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وارننگ کی مہلت تمام او ر بستیاں داغدار۔ آج عالم ِ اسلام میں ہونے والی قتل وغارت نائن الیون کے بعد سے کھیلی والی خون کی ہولی سے مختلف ہے۔ اُس وقت وائٹ ھاؤس جا رج ڈبلیو بش کے نیو کنزرویٹو جنگجووں سے بھرا ہوا تھا۔ اپنے ارد گرد سے امریکی صدر کے کانوں سے ایک صدا ہی ٹکرارہی تھی کہ عراق اور افغانستان پر چڑھائی کردو۔ نیو کنزرویٹوزاکثر زور دیتے ہیں کہ امریکی فوجی طاقت استعمال کرتے ہوئے نہ صرف دنیا میں جمہوری قدورں کو رائج کرے بلکہ امریکی مفادات کا تحفظ بھی کیا جائے، اور ان "نیک مقاصد"کے لیے بہائے جانے والے خون کی پروا نہ کی جائے۔ نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سنٹرز پر حملوں کے وقت میں امریکہ میں تھی اور میں جانتی ہوں کہ اُس وقت امریکی مسلمانوں کو کس طرح نشانہ بنایا گیا۔ مجھے ایک حدیث ِ مبارک کے الفاظ یاد آتے تھے..."ایک وقت آئے گا جب تمہارا دین تمہارے ہاتھوں میں جلتے ہوئے کوئلوں کی طرح بن جائے گا۔"ایسا لگتا تھا کہ امریکہ میں ہم پر وہ وقت آگیاہے۔ چہروں پر شیطانی مسکراہٹ سجائے جیری فلول(Jerry Falwell) اور بل گراہم(Billy Graham) اسلامی شعائر پر حملہ آور ہورہے تھے۔ ایک اسلامی سکالر اکبر احمد اس بے بسی کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ..."پچپن ممالک، جن میں ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، میں رہنے والے1.3 بلین مسلمانوں کے ساتھ کوئی سنگین مسلہ ضرور ہے ورنہ مسلمان اتنے بے بس کبھی بھی نہیں رہے۔"اکبر احمد، جو نائن الیون حملوں کے وقت واشنگٹن ڈی سی کی امریکن یونیورسٹی میں انٹر نیشنل ریلیشنز کے پروفسیر اور اسلامک سٹیڈیز کے شعبے کی "ابن ِ خلدون چیئر"رکھتے تھے، کامزید کہنا تھا..."آپ کیا کرسکتے ہیں جب مذہبی تعلیمی اداروں کے سربراہ آپ کے پیغمبر ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کریں اور "نیشنل رویو" کا ایڈیٹر مکہ پر ایٹم بم گرانے کا مشورہ دے۔ اس وقت شناخت کے بحران سے دوچار اسلامی دنیا اس طوفان ِ بدتمیز ی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے جو مغرب نے اسلام کے بارے میں اٹھا رکھا ہے۔ اس وقت (2002 میں) امریکی کانگرس میں ایک بھی مسلمان رکن نہیں اور نہ کوئی مسلمان میڈیا کی قدآور شخصیت کے طور پر دنیاکے سامنے موجود ہے اور نہ ہی کوئی اسلامی سکالرز ہیں جو مغرب کا جواب دے سکیں۔" مسلمان شیطان کا خصوصی ہدف تو ہیں ہی، اس راندہ ِ درگاہ کا ہاتھ بٹانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ اسلامی دنیا میں ہمہ وقت اتنا ہنگامہ مچا رہتا ہے، ایک دوسرے کو دائرہ ِ اسلام سے خارج کرنے کے لیے انوکھے انوکھے جواز گھڑے جاتے ہیں، ایک دوسرے کی گردن زنی کی جاتی ہے کہ اغیاروں کا ہاتھ روکنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ایسا لگتا ہے کہ فرقہ واریت(قطع ِ نظر اس سے کوئی درست ہے اور کون غلط) شیطان کا سب سے قوی ہتھیار ہے۔حکیم الاامت ؒ نے کہا تھا..."شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا، یہ وہ پھل ہے جو جنت سے نکلواتا ہے آدم کو"۔ آج جب حقیقت خرافات میں اور یہ امت روایات میں کھو چکی ہے تو سب سے ضروری بات ہے کہ گھر میں داخل ہو کر فرقوں میں بانٹنے والے شیطان کو گھر سے نکالا جائے۔ نائن الیون کے تیرہ سال بعد آج امریکی فورسز کے حملے ختم ہوچکے لیکن مسلمان ہی مسلمان کے قتل پر آمادہ ہے۔ ایک ترک اخبار کے مطابق روزانہ دنیا میں ایک ہزار کے قریب مسلمان ہلاک کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے نوے فیصد اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ہی جان کی بازی ہارتے ہیں۔ اس وقت حماس لڑ تو اسرائیل سے رہا ہے لیکن اس کی قیمت غزہ کے شہریوں کو اپنی خون سے چکانا پڑتی ہے۔ دراصل اس انسانی قیدخانے(غزہ) میں بھیانک ترین انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اُس سے کہیں زیادہ ہے جو میڈیا پر دکھائی جارہی ہے۔ دنیا یاد رکھے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ رہا ہے اور کوئی بھی اسے روکنے کا چارا نہیں کررہا۔اس پانی نے آخرکار سمندر تک پہنچ جانا ہے اور قطرہ قطرہ بہم دریا شود کی طرح یہ ایک جوئے خون کی صورت دھار لے گا۔ اُس وقت کوئی مت کہے کہ اسلام ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ غزہ اور دیگر دنیا میں ٹپکنے والا خون ہر گز رائیگاں نہیں جائے گا، صرف ایک سمندر تک اس کے ارتکاز کی ضرورت ہے۔ تاہم اُس وقت تک مسلم معاشروں نے ان شیاطین کو اپنے اپنے گھروں سے نکالنا ہے جنھوں نے اُنہیں فرقوں میں بانٹ کر دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رکھے ہیں۔رمضان کے اختتامی لمحات ہیں اور یہ بہت قیمتی دن ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر تمام دنیا کے مسلمان اس دنوں میں کم از کم ایک وعدہ کرلیں کہ کل سے شیطان کو شکست دینے کی کوشش کا آغاز اس طرح کیا جائے گا کہ ہر مسلمان خود کو کسی فرقے کی شناخت کے شیطانی طوق سے آزاد کرائے گا۔ یا د رکھیں، امت میں ڈالی جانے والی تمام تفاریق فتنہ ہیں، چاہے ان کے نام کتنے ہی نیک کیوں نہ دکھائی دیں۔ ان فتنوں نے آج ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ عرب دنیا سے لے کر پاکستان تک، فرقہ واریت کی جنگ سیاسی غلبے کی جنگ بن چکی ہے... اگر ہم نے خود کو جلد نہ سنبھالاتو ایک مرتبہ پھر ہلاکوخان کے ہاتھوں بغداد اجڑنے والا ہے۔
چیف سلیکٹر قومی کرکٹ ٹیم انضمام الحق مستعفی 03:15 PM | 17 Jul, 2019 لاہور(24نیوز)ورلڈ کپ میں شکست کے بعد پہلا استعفیٰ آگیا۔چیف سلیکٹر قومی کرکٹ ٹیم انضمام الحق مستعفی ہوگئے۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف سلیکٹر کےعہدےپرمزید کام نہ کرنے کا اعلان کردیا ،انہوں نے کہا کہ نئے لوگوں کو نئی سوچ کے ساتھ آگے آنا چاہیے، انگلینڈ سے واپسی پر چیئرمین اور ایم ڈی سے ملاقات ہوئی،30جولائی تک معاہدے کا وقت پورا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈمجھےسلیکشن کےعلاوہ کوئی آفرکرےگاتومیں حاضرہوں، جوکرسکتاتھاساڑھے3سال میں کردیا،کرکٹ میری محبت میراجنون ہے، شعیب ملک کواچھی کارکردگی پرسلیکٹ کیا، ورلڈکپ میں ٹیم کی کارکردگی بہت اچھی رہی،پاکستان کرکٹ کی مستقبل میں بہت سی مصروفیات ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ساتھی سلیکٹرزکابےحدمشکور ہوں جنہوں نےمیراساتھ دیا ، سلیکشن کمیٹی15رکنی ٹیم میں کوچ اورکپتان سےمشاورت کرسکتی ہے ، 11رکنی ٹیم کاانتخاب کرناکوچ اورکپتان کاکام ہوتاہے ،بورڈنےکسی قسم کی کوئی آفرنہیں کی، میں سمجھتاہوں ورلڈکپ میں ٹیم نےاچھاپرفارم کیا۔
شہناز شہبازی 2020/01/2 تکنیکی تجزیہ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (جے سی آئی) صحت کی دیکھ بھال فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے کی خدمات کے معیار اور حفاظت کو بہتر بنانے پر مرکوز ایک غیر منافع بخش صحت مشترکہ تنظیموں کے جوائنٹ کمیشن برائے جے ڈی سی کی بین الاقوامی منظوری خدمات کے لئے ہے۔ تخلیق شدہ یونٹ ہے۔ دوسری طرف ، اگر ولیمز٪ R منحنی خطہ ، رقبہ ، نقطہ یا ہسٹگرام نیچے -50 سے اوپر بڑھ جاتا ہے تو فروخت کی پوزیشن سے باہر نکلیں۔ ڈے ٹریڈنگ میں کیا مشکل ہے. جدید سائنسی علم کے محور اور اخلاقی مسائل. آپ گوگل یا کسی بھی دوسرے سرچ انجن سے کتنا ٹریفک وصول کرسکتے ہیں اس کا انحصار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے جو آپ کے قابو سے باہر ہیں۔ مقررہ سالانہ کے بارے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ آسان اور پیش قیاسی ہیں۔ آپ کو اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جاننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ اپنے معاہدے کی بنیاد پر کیا توقع رکھنا چاہتے ہیں۔ [1] فکسڈ سالوں کی ضمانت ہے۔ جب تک کمپنی ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہے اس وقت تک انہیں ادائیگی کی جاتی ہے۔ تصور کیجئے کہ قیمت اوپری بینڈ پر ہے تو آپ توقع کرینگے کہ آر ایس آئی قریب ہے یا ذیادہ خرید کی لائن سے گزر چکا ہے۔ تاہم، آر ایس آئی ڈائیورجنس ہائیر – ہائی(higher high) کی جگہ اس مقام پر وقوع میں آتی ہے جہاں لور – ہائی (lower high)دکھائی دے۔ دوسری طرف قیمت نچلے بینڈ پر ہو سکتی ہے ۔ لیکن آر ایس آئی لور لو (lower low)کی جگہ ہائیر لو (higher low)دکھائے گا۔ یہاں تک کہ اگر آپ خود گہرائی سے بنیادی تجزیہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں تو ، اہم تناسب اور شرائط کو سمجھنا آپ کو اسٹاک پر زیادہ قریب سے فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے اور درست طریقے سے عمل کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں ان تمام فرائض، سنتیں اور نوافل کو ادا کرنا چاہئے جنہیں ہم پہلی رمضان سے ہی کرتے آئیں ہیں یا جو ہماری ہمشہ کی معمولات میں شامل ہیں جیسے: اس اضافی میل پر جائیں اور معلوم کریں کہ آیا آپ کا مقامی بروکر اصل میں ہانگ کانگ اسٹاکس کو تجارت کی اجازت دیتا ہے۔ بہت زیادہ اعصاب رکھتے ہیں۔ ہر مطلوبہ الفاظ کے لئے کلکس ٹریفک کی صلاحیت کا ایک اہم اشارے ہیں۔ تمام تلاشیاں کلکس کے نتیجے میں نہیں ہوتی ہیں ، لہذا اپنے مطلوبہ مطلوبہ الفاظ کا انتخاب کرتے وقت اس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ موبائل ایپ کے ذریعہ ، آپ کو اپنے فون پر بصری پاپ اپ ، آڈیو سگنلز ، ویب ہیکس ، ای میل اطلاعات اور PUSH الرٹس ملتے ہیں۔ الرٹ کی 12 مختلف شرائط ہیں جن کا استعمال اشارے ، حکمت عملی ، یا ڈرائنگ ٹولز پر کیا جاسکتا ہے۔ تیل اور قدرتی گیس میں کمی جاری ہے. . تجارتی منزل سے مراد وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں مالی آلات جیسے تجارتی سرگرمیاں جیسے ایکوئٹی ، فکسڈ انکم ، فیوچر وغیرہ واقع ہوتے ہیں۔ ٹریڈنگ فلور مختلف ایکسچینج کی عمارتوں میں بیٹھتے ہیں ، جیسے نیو یارک اسٹاک ایکسچینج (این وائی ایس ای) اور شکاگو تجارت کا بورڈ (سی بی او ٹی) .اوپن چیخنا بنیادی تجارتی طریقہ تھا جو تجارتی فرش پر الیکٹرانک تجارت کے عروج سے پہلے استعمال ہوتا تھا۔ اپنے فاریکس بروکر کو کیسے ادائیگی کریں. تجارتی میدان میں آپ کو بہت کچھ کرنا چاہئے۔ اور بڑی خوشخبری یہ ہے کہ Binomo پر ایک مفت ڈیمو اکاؤنٹ ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی لتیں پائی جاتی ہیں۔ عام طور پر ہمیشہ کی طرح نشے میں شراب نوشی ، تمباکو نوشی ، منشیات کی لت ، جنسی تعلقات اور جوئے کی مختلف شکلیں رہی ہیں۔ تاہم ، جیسا کہ ہمارے معاشرے میں ہر روز عملی طور پر سب کچھ ہوا ہے ، نئی ٹکنالوجیوں نے نئی قسم کی لتوں کے ابھرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ، سب سے زیادہ جدید ہونے کی وجہ سے اور جس میں سے کرپٹو کارنسیوں کے ساتھ جوئے کے بارے میں بہت کم جانا جاتا ہے۔ باہمی فنڈز امریکی مالی منڈیوں کا ایک لازمی جزو ہیں۔ ایک اچھا باہمی فنڈ اس بات کی عکاسی فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے کرتا ہے کہ ایک صنعت یا دیگر شعبہ کیسی ہے۔ باہمی فنڈ کی اقدار روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں۔ جو فنڈ کے پورٹ فولیو میں اثاثوں کی قدر کو ظاہر کرتا ہے۔ معیشت بہت زیادہ آہستہ آہستہ چل رہی ہے لہذا فنڈ میں وسیع پیمانے پر تغیرات کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں رہتا ہے کہ سیکٹر جتنا زیادہ جارحیت کررہا ہے۔ لیکن اگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک میوچل فنڈ کی قیمت میں کمی واقع ہوجاتی ہے تو ، پھر یہ اچھی بات ہے کہ جس صنعت کو اس کی نظر میں ہے وہ بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ جب آپ کم سے کم $ 500 جمع کرتے ہیں تو آپ آسانی سے فیوچر اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اور ٹریڈنگ شروع کرسکتے ہیں. یہ آپ کو براہ راست ترتیب فراہم کرتا ہے جو آپ کو فوری طور پر ٹریڈنگ شروع کرنے کے قابل بناتا ہے. صرف ایسوسی ایشن اور اختیارات اکاؤنٹس، جب آپ اس اکاؤنٹ کو کھولتے ہیں تو آپ کاغذ ٹریڈنگ تک بھی رسائی حاصل کریں گے. اگر اپ کا کوئی سوال ھے تو اس کورس میں شامل موضوعات کے بارے میں ، براہ کرم بلا جھجک پوچھیں . ان میں سے کچھ اہم کرداروں کو قریب سے دیکھنے کے ل reading پڑھتے رہیں: متعارف کرانے والا بروکر (IB) ، اس سے وابستہ شخص (اے پی) ، کموڈٹی ٹریڈنگ ایڈوائزر (سی ٹی اے) ، اور کموڈٹی پول آپریٹر (سی پی او)۔ صرف آئی فون ایکس کے لئے ڈیزائن کیا گیا (ماڈل A1865 ، A1901 ، A1902)۔ 2716 ایم اے ایچ کی حامل اس کوالٹی کی بیٹری بالکل نیا 0 سائیکل ہے۔ نیز یہ 500-800 سائیکل یعنی زیادہ بیٹری کی زندگی تک چلنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ نیز ہر بیٹری ایس جی ایس / سی ای / یفسیسی / UL / RoHS / MSDS مصدقہ ہے۔ زیادہ استعمال سے زیادہ چارجنگ ، ضرورت سے زیادہ خارج ہونے والی مادہ ، اور زیادہ گرمی سے بچنے کے ل More زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مربوط سمارٹ چپ۔ اس کے علاوہ ، دستیاب تمام ٹولز اور ہدایات کے مطابق انسٹال کرنا بہت آسان ہے۔ وہ 30 دن کی غیر مشروط رقم کی واپسی ، معیار کے ل 18 24 ماہ کی گارنٹی اور XNUMX گھنٹے جواب فراہم کرتے ہیں۔ اس ریٹنگ کے تعین میں قرض کی واپسی سے جڑے خدشات کو بھی مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ نجی سرمایہ کاری کی شراکت سب کے ل are نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ جن کے پاس سرمایہ کاری کے لئے پیسہ ہے وہ اپنی رقم کم پابندی کے ساتھ سرمایہ کاری میں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کسی فنڈ میں ہونے والی سرمایہ کاری کے بارے میں سب جاننا چاہتے ہیں اور جب وہ فروخت کرنا چاہتے ہیں تو اسے فروخت کرنے کا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تمام نجی شراکتیں ان سرمایہ کاروں کو وہ سب کچھ نہیں بتاتی ہیں جن کو وہ جاننا چاہتے ہیں۔ میں کٹ اور پیسٹ کے ذریعہ واٹر مارک کے دستخط کے طور پر اس میں اعلی ریزولیوشن png حاصل کرنے کے قابل تھا۔ میں نے صفحات میں شروع کیا پھر اسے iWatermark میں کاٹ لیا۔ سال 1: - سال 2: 10.0٪ سال 3: 9.1٪ سال 4: -4.2٪ یورو / امریکی کرنسی کی جوڑی امریکی ڈالر کے مقابلے یورو کی نمائندگی کرتی ہے اور بیشتر دوسروں سے مختلف ہے کیونکہ ڈالر مالیت یا قیمت کرنسی ہے۔ امریکی ڈالر سے وابستہ دیگر کرنسی کے جوڑے میں عام طور پر ڈالر کو عددی یا بیس کرنسی شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، جب یورو کے مقابلے میں ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو ، یورو / امریکی ڈالر کم جاتے ہیں ، اور ڈالر کی کمزوری (بمقابلہ یورو) کے دوران ، جوڑی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ روایتی ہیڈلائٹس گاڑی کے سامنے ایک مقررہ علاقہ کو روشن کرتی ہیں۔زیادہ تر سسٹم میں دو سیٹنگیں ہوتی ہیں ، اور اونچی ترتیب رات کے وقت دیکھنے کے فاصلے کو بڑھانے کے لئے بنائی گئی ہے۔ تاہم ، اونچے بیم آنے والے ڈرائیوروں کے لئے مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ اهو چ knownي طرح thatاڻي ٿو ته اسلامي عقيدن جي پيروڪارن لاءِ جوا منع ٿيل آهي ، پر ڇا فاریکس جي تجارت به چانس جي راند آهي؟ خود ڈیٹا ، ایپ ، اور خود فون کی حفاظت کے ل Hu ، ہواوے لاک اسکرین پاس کوڈ تحفظ اور فیکٹری کو دوبارہ ترتیب دینے کی پیش کش کرتا ہے۔ ایف آر پی لاک ایک حفاظتی دیوار ہے جو فیکٹری ری سیٹ کرنے پر دوسرے لوگوں کو آپ کے اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کے استعمال سے روکنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اگر اب آپ اپنے گوگل اکاؤنٹ تک رسائی نہیں رکھتے ہیں تو آپ صرف گوگل اکاؤنٹ ریکوری سویٹ کی مدد حاصل کرسکتے ہیں ، لیکن ایسے معاملات ہوتے ہیں جب آپ کو اپنے گوگل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں ہوتی ہے ، آپ اکاؤنٹ کی بازیافت نہیں کرسکتے ہیں اور ایف آر پی نے مقفل ہواوے فون جیت لیا ہے ۔ t آپ کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اس مضمون میں ، میں آپ کو اس بارے میں ہدایت دینے جارہا ہوں کہ آپ اسے کیسے ختم کرسکتے ہیں ایف آر پی لاک ہواوے اسمارٹ فونز تفصیل سے. بہت سے سپلائرز کریڈٹ کارڈ یا C.O.D کے ذریعے ادائیگی کے لئے پہلے آرڈر کی ضرورت کرسکتے ہیں۔ (کیش / چیک آن ڈلیوری) جب تک کہ کاروبار کو قابل اعتبار نہ سمجھا جائے۔ ایک بار جب یہ قائم ہوجاتا ہے فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے کہ کوئی کاروبار اپنے بلوں کا بروقت ادائیگی کرسکتا ہے تو ، تجارتی کریڈٹ اور سپلائرز کے ساتھ شرائط پر بات چیت کرنا ممکن ہے۔ موکل کے ذریعہ ڈوکاسکوپی بینک SA خدمات پر انحصار کرتے ہوئے ، مختلف کمیشن درخواست دے سکتے ہیں۔ آخر میں ، قیمتیں آرڈر کی کافی مقدار کے ذریعہ کی جاتی ہیں ، جو لامحالہ بڑے کھلاڑیوں کی طرف سے آتی ہیں۔ واٹر فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے مارک کے آس پاس مربع پس منظر کے لئے رنگ اور دھندلاپن کو منتخب کریں۔ آن لائن خوردہ فروشوں کو ایسے تاجروں کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کو اچھ waysا کرنے کے ل smart ہوشیار طریقوں کے ساتھ آسکیں۔ ا) ویب سائٹ ملاحظہ کریں ، ب) کچھ خریدیں ، اور ج) دوبارہ یہ کام مکمل کریں۔ جب بات لوگوں کو دیکھنے کے ل getting آتی ہے ، تو آپ ایک علاقے میں ماہر یا بہت سے لوگوں میں جانکاری حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے تو ، 100 میں سے دو سے کم خواتین جو LAM استعمال کرتی ہیں وہ پہلے چھ ماہ میں حاملہ ہوجائیں گی۔ تاہم ، LAM ہر ایک کے لئے نہیں ہے کیونکہ اسے صرف دودھ پلانے والی خواتین ہی استعمال کرسکتی ہیں۔ لیکن یہ سب نہیں ہے: 1 XBet offre également l'option Multiplex grâce à laquelle vous pouvez suivre différentes réunions simultanément . کیا آپ اپنا فنڈ دینا چاہتے ہیں؟ Olymp Trade بٹ کوائن کا استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیسے کرنا ہے؟ تم نہیں کرتے؟ اسے وہاں رکھو۔ آج کی پوسٹ میں ، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ اپنے اولمپک کو فنڈ کیسے مہیا کریں . • در حسابداری نقدی صرفاً معاملاتی که در برگیرنده دریافت و پرداخت وجه نقد می‌باشند، در دفاتر منعکس می‌گردند بدون اینکه در طی دوره هیچگونه تلاشی برای ثبت صورتحساب‌ها یا مبالغ پرداخت نشده و مطالبات یا بدهی‌ها صورت پذیرد. در این روش هدف اولیه از تهیه صورت‌های مالی، ارائه اطلاعاتی درباره دریافت‌ها و پرداخت‌های وجه نقد سازمان طی دوره مالی مورد نظر می‌باشد . . آپ اپنے گندے سیل فون پر بات کر رہے ہیں. بسته شدن پوزیشن در فارکس چیست؟ . مثال کے طور پر ، ٹائر لگانے والے لیں۔ آپ میں سے کچھ لوگ ان سے پیار کرسکتے ہیں ، کیونکہ وہ یقینی طور پر کہتے ہیں کہ ملک - جو کہ کوئی بری چیز نہیں ہے - لیکن وہ اعلی درجے کا ملک نہیں کہتے ہیں۔ اگر آپ مضافاتی علاقوں میں رہتے ہیں اور اپنے تاثرات کی پرواہ کرتے ہیں تو آپ اپنے ٹائر پلانٹر کے پچھواڑے میں ایک جگہ بنائیں۔ اس کا تعلق آپ کے اگلے حصے کے ڈیزائن میں نہیں ہے ، چاہے وہ آپ کے ڈرائیو وے کی زمین کی تزئین کے دروازے پر ہو یا آپ کے میل باکس لگانے کے حصے کے طور پر۔ مزید یہ کہ ، اگر آپ اپنا گھر بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ، ہم مشورہ نہیں دیتے ہیں کہ اگلے صحن میں یا پیچھے والے ٹائر لگانے والوں کو استعمال کریں۔ سرمایہ کاری بینکاری میں کیریئر. خریدنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ان کی سرمایہ کاری کا استعمال کرنا ہے. وہ عموما تحلیل یا قیمت کا حوالہ دیتے ہیں جو بیچنے والے ادارے، جیسے سرمایہ کاری کے بینکوں، سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے کے لئے فراہم کیے گئے ہیں. اس کے علاوہ، وہ سرمایہ کاری فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے کی سرگرمیوں کے لئے ایک فنڈ برقرار رکھتے ہیں. کتنی دیر تک ایک کتاب فروخت کرنا چاہئے؟
انشاءاللہ میں کشمیر کو اپنی زندگی میں آزاد دیکھوں گا " پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی کشمیر پر ہے" 03:36 PM | 2 Feb, 2019 اسلام آباد(24نیوز)آصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان نےہرفورم پرمسئلہ کشمیرسےمتعلق آوازبلندکی،کشمیرکازپرتمام سیاسی جماعتوں کومل کرکام کرناہوگا،انشاءاللہ میں کشمیر کو اپنی زندگی میں آزاد دیکھوں گا۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کوکبھی بھول نہیں سکتے، پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی کشمیر پر ہے اور یہ ہمارے ڈی این اے میں شامل ہے، ہم کشمیر سے اور کشمیر ہم سے جدا نہیں ہوسکتا،بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کوسمجھنا چاہیے کہ کشمیر پر پاکستان کاموقف صرف حکومت کانہیں بلکہ پورے ملک اور عوام کا ہے۔ آصف علی زرداری کاکہناتھاکہ کشمیر کاز کو سب سے زیادہ نقصان آمریت کےدور میں پہنچا،ہم کشمیر کو کبھی نہیں بھولیں گے،کشمیریوں کی قربانیوں کوکبھی بھول نہیں سکتے،پاکستان نےہرفورم پرمسئلہ کشمیرسےمتعلق آوازبلندکی،کشمیرکازپرتمام سیاسی جماعتوں کومل کرکام کرناہوگا،انشاءاللہ میں کشمیر کو اپنی زندگی میں آزاد دیکھوں گا۔ سابق صدر کاکہناتھاکہ بھارت سے جب بھی مذاکرات ہوئے کشمیر پر بات ہوئی، بیظیر بھٹو نے راجیو گاندھی سے جب کشمیر کے معاملے پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے آج تک کبھی کسی نے اس پر بات ہی نہیں کی، انڈین آرمی کشمیریوں کو ذلیل وخوار کررہے ہیں، ہم کشمیرکو ہرگز نہیں چھوڑیں گے، میری نسل بھی اس کے حق میں بولے گی مسئلہ کشمیر پر ہم سب ایک ساتھ ہیں۔
اپنی قومی ایئر لائن پر دھبہ برداشت نہیں کریں گے، سردار اپنی قومی ایئر لائن پر دھبہ برداشت نہیں کریں گے، سردار مہتاب عباسی 05:04 PM, 17 May, 2017 اسلام آباد: مشیر ہوا بازی سردار مہتاب عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پی آئی اے کے جہاز سے منشیات برآمدگی کے معاملے پر تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائیں گے اور ہائی کمیشن کو براہ راست خط لکھا ہے۔ سیکریٹری ایوی ایشن کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطے کا بھی کہا ہے۔ سردار مہتاب نے کہا اپنی قومی ایئر لائن پر دھبہ برداشت نہیں کریں گے اور اگر کوئی مجرمانہ ذہن ایئر لائن کو استعمال کر رہا ہے توم عاف نہیں کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کسی ادارے کے ایجنٹ کے طور پر کام نہیں کر سکتی برطانیہ کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کے لیے بھی تیار ہیں۔ یاد رہے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے طیارے سے گذشتہ رات لندن ہیتھرو ہوائی اڈے پر ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔ ایجنسی نے بیان میں مزید دعویٰ کیا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور صرف تفتیش جاری ہے۔ قومی ایئر لائن کے ترجمان مشہود تاجور نے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد سے لندن جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے-785 پیر کی دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پر ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچی تھی۔ لینڈنگ پر مسافر طیارے سے اتر گئے تاہم انتظامیہ نے پی آئی اے کے عملے کو حراست میں لے لیا جبکہ طیارے کی بغور تلاشی لی۔ مشہود تاجور کے مطابق عملے میں شامل 14 ارکان کو برطانوی انتظامیہ نے 2 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔
مکرم آدم عابد الیگزینڈر صاحب کا احمدیت کی طرف سفر – خادم مسرور مکرم آدم عابد الیگزینڈر صاحب کا احمدیت کی طرف سفر تبصرہ بھیجیں اگست 23, 2019 August 23, 2019 64 مناظر 0 پسندیدہ ماہنامہ ''احمدیہ گزٹ'' کینیڈا جنوری فروری 2010ء میں مکرم آدم عابد الیگزینڈر صاحب نے احمدیت کی طرف اپنے سفر کو مختصراً بیان کیا ہے۔ مکرم آدم عابد صاحب رقمطراز ہیں کہ ابتدائی عمر سے ہی مَیں مذہب سے متأثر تھا کیونکہ میرے خاندان کا تعلق عیسائی فرقہ Jehovah's Witness سے تھا۔ لیکن میرے سوتیلے والد رومن کیتھولک تھے اور اسی طرح جب خاندان میں کچھ دوسرے فرقوں کے لوگ شامل ہوئے تو میرے سوتیلے دادا نے مجھے میری عمر کے چھٹے سال میں ہی یہ سمجھانا شروع کیا کہ مجھے اپنے فرقہ کے علاوہ دیگر فرقوں کی معلومات بھی حاصل کرنا چاہئیں تاکہ میرے ذہن میں وسعت پیدا ہو۔ وہ بھی مجھے عقائد کے اختلافات سے آگاہ کرتے۔ چنانچہ میں یہواوا وٹنس اور رومن کیتھولک کے عقائد کے ساتھ جوان ہوا اور بائبل کی تعلیمات کے ایک گروپ میں بھی شامل ہونے لگا جو ہر ہفتہ کے دوران تین بار منعقد ہوتا تھا۔ لیکن وہاں ہر بار اٹھنے والے سوالات مزید سوالات کو جنم دیتے تھے۔ بائبل میں انبیاء کرام کا تذکرہ پڑھتے ہوئے مَیں اُن سے ملاقات کرنے کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ 14 سال کی عمر میں ملنے والی ایک خبر نے میرے روحانی سفر کا رُخ موڑ دیا۔ میری والدہ نے مجھے بتایا کہ چونکہ میری اور میری بہن کی پیدائش شادی سے پہلے ہوئی تھی اس لئے آئندہ ہم یہواوا وٹنس کے چرچ میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔ میری والدہ نے ہمیں نصیحت کی کہ ہم خدا کو پانے کے لئے اپنی تحقیق جاری رکھیں اور جہاں سے بھی وہ ملے اُسے پائیں۔ چنانچہ مَیں نے مختلف مذاہب کے عقائد کا مطالعہ شروع کیا۔ پہلے بدھ ازم کی طرف مائل ہوا لیکن اندرونی اطمینان حاصل نہ ہوا۔ تب مَیں نے لمبی سیریں شروع کیں اور خدا کے بارہ میں سوچنے لگا کہ وہ کہاں رہتا ہے اور میرا اُس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کیا مجھے اکیلے دعا کرنی چاہئے یا کسی چرچ سے وابستہ ہوجانا چاہئے؟ اس دوران میری ملاقات کالج میں اپنے پہلے مسلمان دوست سے ہوئی۔ اُس سے خدا کے وجود کے متعلق میری باتیں ہونے لگیں۔ جس قدر ہم بات چیت کرتے اُسی قدر مجھے احساس ہوتا کہ خدا کے بارہ میں میرے خیالات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ چنانچہ اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کرنے کا مجھے شوق پیدا ہوا یہاں تک کہ مَیں 2007ء میں اپنی آنٹی کے پاس البرٹا چلا آیا۔ البرٹا میں مجھے خیال آیا کہ کسی مسجد میں جاکر اسلام کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کروں چنانچہ کسی سے مسجد کا پتہ پوچھ کر مَیں ایک جمعہ کے روز مسجد پہنچ گیا۔ وہاں ایک بوڑھے شخص سے ملاقات ہوئی جس کو انگریزی نہیں آتی تھی تاہم وہ میرے کہنے پر قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ لے آیا جس میں مختصر تفسیر بھی تھی۔ جوں جوں مَیں قرآن کا مطالعہ کرنے لگا میرے احساسات پر کوئی چیز غالب آنے لگی۔ چنانچہ مَیں نے آنکھیں موند لیں اور خدا سے باتیں کرنے لگا کہ اگر مَیں اُس کی تلاش میں کسی غلط راستہ پر چل نکلا ہوں تو وہ مجھے سیدھے راستہ پر ڈال دے۔ اس دوران مجھے کانوں میں کسی کے گانے کی آوازیں آنے لگیں۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ مسجد میں گانا گانا منع ہے۔ تاہم گانے کی آواز تیز تر ہونے لگی۔ یہ ایک مردانہ آواز تھی جو نہایت مسحورکُن تھی۔ مَیں نے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں۔ کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ مسجد لوگوں سے بھرنے لگی ہے اور وہ ایسی زبان بول رہے ہیں جو میری سمجھ سے بالا ہے۔ مَیں نے آنکھیں کھول دیں تو دیکھا کہ مَیں سب سے اگلی صف میں بیٹھا ہوں اور میرے دائیں بائیں اور پیچھے لوگ بیٹھے ہیں۔ اسی اثناء میں لوگ کھڑے ہوگئے تو مَیں بھی کھڑا ہوگیا۔ پھر ''اللہ اکبر'' کی صدا آئی اور نماز شروع ہوگئی۔ میرے لئے پچھلی صفیں توڑتے ہوئے باہر جانا ناممکن تھا اس لئے مَیں بھی وہی حرکات کرنے لگا جو دوسرے لوگ کررہے تھے۔ مَیں کَن انکھیوں سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے نقل کرتا رہا۔ جب سلام پھیرا گیا تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے لوگ مجھے دیکھ رہے تھے۔ یہ جمعہ کی میری پہلی نماز تھی۔ جب مَیں کھڑا ہوا تو بہت سے لوگ میرے گرد آگئے اور مجھ سے سوالات کرنے لگے۔ یہ صورتحال کسی حد تک پریشان کُن تھی۔ مَیں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ عاریۃً اپنے ساتھ گھر لے جانے کی اجازت اُن سے مانگی۔ لوگوں نے مجھے قرآن کریم اور رمضان کے بارہ میں بھی بتایا جو چند روز میں شروع ہونے والا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مَیں بھی اگر چاہوں تو بے شک روزے رکھ لوں۔مَیں نے گھر جاکر یہ سب کچھ اپنی آنٹی کو بتایا۔ میری آنٹی اور اُن کی فیملی اِن معاملات میں میرے معاون تھے۔ جب مَیں نے سارا قرآن پڑھا تو وہ مجھے سنتے تھے۔ میری آنٹی اس بات پر خوش تھی کہ اسلام مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا حکم دیتا ہے۔ حالانکہ ایک عرصہ سے وہ یہی سمجھتی آرہی تھی کہ اسلام میں مردوں کی طرف سے عورتوں کے حقوق نہیں دیئے جاتے۔ بہرحال رمضان کے اختتام تک مَیں بہت خوش تھا کیونکہ اس دوران مَیں نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ دسمبر 2007ء میں جب مَیں اپنی فیملی کو ملنے ہملٹن پہنچا تو اسلام کے بارہ میں ساری باتیں اُن کو بھی بتائیں۔ اپنے گھر میں بھی مجھے اپنے خدا کی عبادت کرنے کی آزادی تھی۔ مَیں نے اپنے کالج والے مسلمان دوست کو بھی مسلمان ہونے کے بارہ میں بتایا تو اُس نے مجھے کہا کہ البرٹا کی مسجد شیعوں کی ہے اس لئے مجھے اُس دوست کے ساتھ اُس کی مسجد میں جاکر سنّی اسلام قبول کرلینا چاہئے۔ مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں صرف مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور فرقے میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ سنّیوں کی مسجد میں بھی پہلے دن مجھ سے بیشمار سوالات کئے گئے۔ پھر مَیں تین ماہ تک ایک مصری شخص کے ساتھ رہا جو حج کرکے آیا تھا اور اس نے مجھے نماز سکھائی، قرآن پڑھنا سکھایا اور دیگر اسلامی معلومات سے روشناس کروایا۔ جب میں نے اپنے سوتیلے والد کے ساتھ اُن کے ریسٹورنٹ میں کام شروع کیا تو مجھے علم ہوا کہ وہاں سے کچھ ہی فاصلہ پر بھی ایک مسجد ہے۔ جب مَیں نے اپنے والد سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے نصف گھنٹہ کی اجازت طلب کی تو انہوں نے مجھے اس مقصد کے لئے چار گھنٹے کی رخصت دیدی۔ جب مَیں پہلی بار مسجد پہنچا تو مَیں نے کوشش کی کہ میری نظریں کسی سے نہ ملیں تاکہ پہلی دو مساجد کی طرح مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ نہ ہو۔ لیکن مجھے خوشگوار حیرت تھی کہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہ پوچھا۔ وہ صرف مجھے السلام علیکم کہتے اور پھر آگے بڑھ جاتے۔ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر مَیں نے خطبہ جمعہ بھی سنا اور بہت لطف اٹھایا۔ چنانچہ اب ہر جمعہ کے روز مَیں وہاں جانے لگا۔ چند ماہ بعد ایک جمعہ کے روز ایک شفیق شخصیت (رومی ساہی صاحب) نے مجھ سے پوچھا کہ یہ مسجد کس فرقہ کی ہے؟ مَیں نے جواب دیا کہ فرقہ بندی میرے لئے بے معنی بات ہے اور مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ یہ مسجد سنّیوں یا شیعوں کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسجد ایک مختلف فرقہ کی ہے جن کے پاس ایک خاص لیڈر ہے جن کا نام حضرت مرزا غلام احمد ہے۔ یہ وہ مسیح موعود ہیں جن کی آمد کی خبر تمام مذاہب میں دی جاچکی ہے۔ میرے لئے یہ خبر اتنی مسرّت انگیز تھی کہ مَیں نے اُن سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو اس کی اطلاع ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ یہ خبر دوسروں تک پہنچائے۔ انہوں نے مجھے بیعت سے متعلق بتایا تو مَیں اُسی وقت بیعت کرنے کے لئے تیار تھا۔ تاہم انہوں نے مجھے بیعت کرنے سے پہلے احمدیت کے بارہ میں مزید تعارف حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ احمدیت کے بارہ میں مزید جاننا میرے لئے اہمیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ مَیں خود کو ایمان لانے والوں میں ہی سمجھنے لگا تھا۔ تاہم مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا اور پھر دو احمدیوں (عطاء الواحد LaHaye صاحب اور انصر رضا صاحب) سے تفصیلی ملاقات بھی کی۔ انہوں نے مجھے کتاب ''احمدیت یعنی حقیقی اسلام'' پڑھنے کے لئے دی اور ایک ویڈیو دی ۔ چنانچہ 16 ستمبر 2008ء کی شب مَیں نے بیعت فارم پر دستخط کردیئے۔ اس وقت میرا زیادہ وقت اسلام احمدیت کی تعلیمات کے مطالعہ میں گزرتا ہے۔ ایک سو سے زیادہ کتب میرے پاس جمع ہوچکی ہیں۔ مَیں اپنی بیوی سے بھی اس بارہ میں گفتگو کرتا رہتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ آج کی دنیا کی روحانی قحط سالی کا مداوا صرف احمدیت کی تعلیمات ہی کرسکتی ہیں۔
2020 بہترین فاریکس کمپنی :ٹریڈز کی اقسام علی سدیگی 2020/12/19 فاریکس کے ساتھ آغاز کرنا 2002 میں چینل Dzhetiks قرار دیا تھا. اس میں تمام کارٹون کی فہرست تبدیل نہیں ہے. نئے مالکان پرانے ٹی وی سیریز، اسٹور میں نئے منصوبوں کے نہ ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے جاری ہے. وقت گزرنے کے ساتھ، ہوا وقت دیگر کارٹون کے ساتھ بھرا ہوا تھا. ان میں سے: ٹی رو قیمت کے ساتھ اکاؤنٹ ترتیب دینا سست ہے۔ انفرادی اسٹاک اور اختیارات کی تجارت کے ل a ، بروکریج اکاؤنٹ کی منظوری میں ایک دن یا زیادہ وقت لگتا ہے۔ اکاؤنٹ مینجمنٹ ، مشورتی تعلقات ، اور دلال ایک دوسرے سے منقطع ویب صفحات کی شکل و صورت ٹریڈز کی اقسام یکساں نہیں ہے۔ آپ شروع سے ایک اکاؤنٹ بنا سکتے ہیں یا اپنے گوگل یا فیس بک اکاؤنٹس استعمال کرسکتے ہیں۔ سائن اپ فوری اور سیدھا ہے ، اور یہاں تک کہ آپ کو 14 دن کی مفت آزمائش کی مدت بھی مل جاتی ہے ، یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا زپیئر واقعی آپ کے لئے کام کرتا ہے۔ پیداوار کے طریقہ کار کی اکائیوں کا مقصد اثاثہ کے اصل استعمال کو قیمت میں ہونے والے تخمینی نقصان سے جوڑ کر سیدھے راستے کی طریقہ کار کی حدود کو دور کرنا ہے۔ فرض کریں کہ ایک بوتلنگ مشین بنانے میں ،000 120،000 کی لاگت آتی ہے اور یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ 20 ملین بوتلیں سافٹ ڈرنک تیار کرنے سے پہلے اسے ،000 20،000 میں بچا سکے گی۔ 20 ٹریڈز کی اقسام ملین یونٹوں کے دوران مجموعی طور پر فرسودگی $ 100،000 ہے۔ لہذا ، مشین فرض کی جارہی ہے کہ فی بوتل تیار کردہ قیمت میں آدھے فیصد کی کمی ہوسکتی ہے۔ فائدہ فرسودگی کی لاگت کا کہیں زیادہ درست تخمینہ ہے ، جو نہ صرف حقیقی اخراجات کی ایک بہتر تصویر مہیا کرے گا بلکہ فرم کی ملکیت میں آنے والے ہر اثاثہ کی صحیح حالت کا اندازہ کرنے میں بھی مددگار ہوگا۔ 6) آپ کو واقعی ایک زبردست ویڈیو کی ضرورت ہے. معاشی تجزیہ انفرادی اشارے کے مطالعہ کے ذریعے انٹرپرائز ٹریڈز کی اقسام کی معاشی سرگرمی کا مطالعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ، یہ عناصر میں ایک پوری کی تقسیم ہے۔ ہر چیز کا مطالعہ کیا جاتا ہے: اس طرح کے اشارے میں تبدیلی کی وجوہات ، ان کے درمیان تعلقات اور دیگر مظاہر وغیرہ۔ آفسٹی YTD نمبروں کی گنتی کرنے یا فارمولے بنانے میں جو مفید ثابت ہوسکتا ہے جو قطار میں ڈیٹا لیتے ہیں اور کالموں میں استعمال کرتے ہیں۔ Vimeo پر ویڈیوز دیکھ رہا ہے. زیادہ تر لوگوں ٹریڈز کی اقسام کے آئی کیو اسکور کی نمائندگی گھنٹی کے وسط میں ہوتی ہے ، 85 اور 115 کے درمیان۔ مجموعی طور پر ، تقریبا 98 فیصد لوگوں کا اسکور 130 سے ​​کم ہے۔ اگر آپ 2 فیصد میں اعلی اسکور کے ساتھ ہیں تو ، آپ ایک ہیں آؤٹ لیٹر. ایک بار جب شخص آپ کے لنک (یعنی ، آپ کا اشتہار) پر کلیک کردے اور مصنوع خرید لیا تو ، ملحق ، مرچنٹ ، وابستہ اور نیٹ ورک سب پیسہ کماتے ہیں۔ غیر جمہوری معلومات کے بغیر سرمایہ کار. حیرت کی بات ہے ٹریڈز کی اقسام ، سب سے پہلے مسئلہ کے ماہانہ میگزین "دنیا کی سائنس فکشن" شائع کیا گیا تھا میں ، سوویں-نومبر میں.
قدرتی آفات کو برداشت کرنے کے لیے تعمیراتی کوڈز اور قوانین کا سختی سے اطلاق ناگزیر ہے، علی امین گنڈاپور - dailygulfnews قدرتی آفات کو برداشت کرنے کے لیے تعمیراتی کوڈز اور قوانین کا سختی سے اطلاق ناگزیر ہے، علی امین گنڈاپور admin اکتوبر 8, 2021 October 8, 2021 0 تبصرے 22 مناظر اسلام آباد (گلف آن لائن)وفاقی وزیر آمور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ قدرتی آفات کو برداشت کرنے کے لیے تعمیراتی کوڈز اور قوانین کا سختی سے اطلاق ناگزیر ہے۔ جمعہ کو وفاقی وزیر نے 8 اکتوبر 2005 کے المناک زلزلے کے 16 سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہاکہ 16 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرہ عوام کے دلوں میں اپنے پیاروں کی یادیں اور غم آج بھی زندہ ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ 2005 کے المناک زلزلے میں کشمیری عوام نے اپنی پوری ایک نسل کو کھو دیا۔ وفاقی وزیر نے بلوچستان میں زلزلے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پر بھی گہرے دکھ ورنج کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم نے اپنی نسلوں کو بڑھتی ہوئی قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے منظم منصوبہ بندی سے کام کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ماحولیاتی آلودگی اور گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پاکستان کو بے پناہ چیلنجز درپیش ہیں، وزیراعظم عمران خان موسمیاتی تبدیلیاں سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنا ایک وژن رکھتے ہیں ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے بلین ٹری منصوبے کو عالمی سطح پر سہرا جا رہا ہے ، تعمیرات کے شعبے کی ترقی کو جغرافیائی خدوخال کے مطابق بنانا ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ قدرتی آفات کو برداشت کرنے کے لیے تعمیراتی کوڈز اور قوانین کا سختی سے اطلاق ناگزیر ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہر شعبے میں مافیاز کے خاتمے کی جنگ لڑ رہی ہے، حکومت شفاف طرز حکومت سے ہر شعبے میں معیار اور میرٹ کو یقینی بنا رہی ہے
» سیکرٹری پرندہ (سانپوں کا سب سےبڑا شوقین) سیکرٹری پرندہ (سانپوں کا سب سےبڑا شوقین) منہ عقاب جیسا ، ٹانگیں بغلے جیسی جسم تقریباً 5 کلو وزنی اور قد انسانی بچے جتنا 4 فٹ اور کچھ انچ۔یہ پرندہ سو ڈان اور سائوتھ افریقہ کے درمیان گھاس اور بوٹیوں کے گرم میدانوں(Savanna) میں پایا جاتا ہے۔ اس پرندے کی پہچان کی خاص وجہ اسکی من پسند خوراک سانپ اور کوبرا ہیں اس کے علاوہ یہ چھپکلیوں، مینڈک، کیڑے، بھڑ، چوہے اور خرگوش کے بچے بھی کھا جاتا ہے۔یہ اس کام کے لئے اپنے پنجوں کا استعمال کرتا ہے۔ سانپ کے ساتھ سامنا ہوتے ہی یہ اپنے پر لمبے کرکے پھیلا لیتا ہے اور سر کو اٹھا کر اپنے سر کا کالے پروں کا تاج اٹھا لیتا ہے۔ سانپ چونکہ کمزور نظر رکھتے ہیں اور دشمن کی حرارت محسوس کرکے اسکی جسامت کا اندازہ لگاتے ہیں اس لئے یہ پرندہ سانپ کو ڈرانے میں کامیاب رہتا ہے ۔ اسکی نظر سانپ کے سر پر جمی رہتی ہے اور موقع پاتے ہی یہ اس کے سر پر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیتا ہے۔ سانپ اس پر جوابی کاروائی بمشکل ہی کرسکتا ہے کیونکہ سانپ کی رفتار اسکے مقابلے میں کم ہے اور اگر کر بھی لے تو اسکے پھیلے ہوئے خشک پر ہی اس کے منہ میں آئیں گے اور اسکی خشک ٹانگیں اور ان پر چڑھی ہوئی جلد پر سانپ کا منہ نہیں پڑ سکتا حالانکہ یہ پرندہ سانپ کے زہر سے مر سکتا ہے اور نیولے کی طرح زہر سے immune نہیں ہے ۔ اس کے پنجہ مارنے کی رفتار آپ کی پلک جھپکنے سے بھی تیز یعنی 10 سے 15 ملی سیکنڈ ہوتی ہے اور پنجے میں طاقت اسکے جسم سے بھی تین گنا زیادہ یعنی 20 کلو ہوتی ہے یعنی جیسے سانپ کے سر پہ 20 کلو کا پتھر مار دیا ہو۔ یہ اپنے شکار کو مارنے کے بعد سالم نگل جاتا ہے۔اسکا نام بھی دلچسپ ہے اور اسکے پیچھے کئی کہانیاں ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ اٹھارویں صدی کے شروع میں چونکہ کلرک اور سیکٹری پرندوں کے کھمب(Quills) سیاہی میں استعمال کرکے ان سے لکھا کرتے تھے اور اس پرندے کے سر کے کھنمب بھی پھیلے ہوئے اسی طرح لگتے ہیں تو اس وجہ سے اسکا نام پڑا۔ ایک اور کہانی یہ ہے کہ اسکا نام سو ڈان کی قومی زبان عربی سے لفظ سقر الطیر سے نکالا گیا ہے جسکا مطلب ہے صحرائی عقاب۔ بہرحال جیسا اس کا نام ہے اسی لحاظ سے یہ پرندہ Secret بھی ہے یعنی اسکے عمل تولید (sex life) کے بارے میں کچھ معلوم نہیں البتہ یہ ضرور جانکاری ملی ہے کہ یہ گھاس کے میدانوں میں موجود ببول کے درخت ( acacia) پر سوکھی ٹہنیاں ڈال کے اپنا گھونسلہ بناتے ہیں اور سال میں دو سے تین انڈے دیتے ہیں۔ مادہ یہ سبز و نیلے رنگ کے انڈے دو سے تین دن کے وقفے سے ایک ایک کرکے دیتی ہے۔ نر بھی انڈے سینکنے میں مدد کرتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر کام شکار کا ہوتا ہے۔ تقریباً 50 دن میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں جنہیں نر اور مادہ دونوں کھلاتے ہیں بعض اوقات خوراک کافی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ایک یا دو بچے مر جاتے ہیں اور زیادہ تر مرنے کے چانس سب سے چھوٹے بچے کے ہوتے ہیں۔ یہ پرندہ سو ڈان کی خاص پہچان ہے وہاں اسکی تصویروں کے ڈاک ٹکٹ بھی موجود ہیں اسکے علاوہ صدراتی جھنڈے اور صدارتی مہر پر بھی اس پرندے کا Logo درج ہے۔ یہ پرندہ زہریلے سانپوں سے مقابلہ کرتا ہے جو اس ملک کے لئیے دشمن سے مقابلہ کرنے کے مشابہہ ہے۔ یہ پرندے ایسی گھاس کے آس پاس رہنا پسند کرتے ہیں جو دو فٹ سے زیادہ اونچی نہ ہو کیونکہ وہاں یہ اپنا شکار آسانی سے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ زمین پر چل کر ہی گزارتے ہیں اور دن میں 35 کلومیٹر تک 120 قدم فی منٹ کی رفتار سے چلتے رہتے ہیں۔ یہ بہت اونچی اڑان بھر سکتے ہیں اور اکثر اپنے مسکن کے اوپر دن کے وقت کھلی فضا میں اڑتے رہتے ہیں تاکہ گرمی سے بچ کر ٹھنڈی ہوا کے مزے لیں۔ شکار کا وقت عموماً سہ پہر سے شام تک رہتا ہے اور شام کے بعد یہ اڑ کر اپنے گھونسلے میں چلے جاتے ہیں جہاں یہ رات گزارتے ہیں۔ حضرت انسان کا گھاس کے میدانوں کو جلا جلا کر گھریلو مویشیوں کی جگہ بنانے اور سڑکیں تعمیر کرنے کی وجہ سے ان پرندوں کو شکار ڈھونڈنے میں مشکل پیش آرہی ہے جسکی وجہ سے یہ اپنی نسل ٹھیک طرح سے بڑھا نہیں پارہے اور انکی نسل ڈرامائی انداز میں کم ہوئی ہے جس پر بین القوامی جانوروں کی تنظیموں نے اسے معدومیت کے خطرے میں شمار کر کے گورمنٹ کو آگاہ کیا ہے اور گورمنٹ ان کی نسل کی حفاظت کے لئیے حرکت میں آئی ہے۔ اسکے علاوہ کئی مقامی قبیلے اس کے جسم کی چربی کو ابال کر گھریلو مرغیوں کو کھلاتے ہیں اس کے انڈے استعمال کرتے ہیں اور اسکے پروں کو جلا کر بیماریوں سے بچائو کے لئیے دھونی لیتے ہیں اس کا بھی ان کی نسل کم ہونے پر اثر پڑا ہے۔ قدرتی ایکو سسٹم میں ایسے جانوروں کا بقائو بہت ضروری ہے جو زہریلے جانوروں کو کھا کر انکی آبادی میں تناسب رکھیں جس سے انسانی نسل محفوظ رہے۔سیکرٹری پرندوں پر کوئی بھی مائی کا لال جانور عام طور پر حملہ نہیں کرتا البتہ انکے بچے مقامی کووں ، الو اور عقاب کا شکار ضرور ہوجاتے ہیں۔
بہار اسمبلی تشدد کی راہل گاندھی نے مذمت اورتیجسوی یادو نے نتیش کمار سے معافی کا مطالبہ کیا – Urdu Tahzeeb بہار اسمبلی تشدد کی راہل گاندھی نے مذمت اورتیجسوی یادو نے نتیش کمار سے معافی کا مطالبہ کیا نئی دہی، پٹنہ:بہار اسپیشل آرمڈ پولیس بل2021 پر بحث کے دوران منگل کے روز بہار قانون ساز اسمبلی میں کافی ہنگامہ ہوا۔ اس دوران اپوزیشن کی مرکزی جماعت آر جے ڈی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی کے ساتھ ایوان کے اندر بھی پولیس کی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلی نتیش کمار پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس واقعے سے یہ بات واضح ہے کہ وزیر اعلی آر ایس ایس کے زیر اثر آچکے ہیں۔راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ، "بہار قانون ساز اسمبلی کے شرمناک واقعہ سے یہ بات واضح ہے کہ وزیر اعلی مکمل طور پر آر ایس ایس / بی جے پی کے زیر اثر آچکے ہیں.جمہوریت کو پامال کرنے والوں کو حکومت کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے.اپوزیشن اب بھی عوامی مفاد میں آواز اٹھائے رکھے گی ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے نتیش حکومت کو پانچ سال تک اسمبلی کا بائیکاٹ کرنے کی وارننگ دی ہے۔ بدھ کو بہار اسمبلی انتخابات میں ایوان کی کارروائی سے متوازی اراکین اسمبلی کے ساتھ بیٹھے تیجسوی یادو نے اسمبلی احاطے میں ہوئی مارپیٹ اور لاٹھی چارج کے حادثہ کی نہ صرف مذمت کی بلکہ کھلے طور پر نتیش کمار کو وارننگ دی۔ ساتھ ہی کہا کہ اسمبلی میں جو کچھ ہوا، اس کے لئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو معافی مانگنی چاہئے،اسمبلی میں اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ کالی پٹی باندھ کر پہنچے تیجسوی یادو نے کہا کہ نتیش کمار سی گریڈ پارٹی کے لیڈر ہیں۔ اسمبلی میں اخلاقیات کو تار تار کرتے ہوئے ہمارے اراکین اسمبلی کو گندی گندی گالیاں دی گئیں۔ تیجسوی نے کہا کہ ایوان میں ہمارے سوال پر نتیش کمار کچھ نہیں بولتے ہیں۔ نتیش جی کو کوئی خود سے علم نہیں ہے، لیکن وہ مجھے نصیحت دیتے ہیں۔
اہلِ کتاب اور نااہلِ کتاب !! 🌹 – QALAMDAN Home / اسلام / اہلِ کتاب اور نااہلِ کتاب !! 🌹 اہلِ کتاب اور نااہلِ کتاب !! 🌹 Babar 10/06/2020 اسلام Leave a comment 57 Views ((((( الماٸدہ ، اٰیت 77 ))))) 🌹 🌹 علم الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹 🌹 قل یٰاھل الکتٰب لا تغلوافی دینکم غیرالحق ولاتتبعوا اھوا ٕ قوم قد ضلوامن قبل واضلواکثیرا وضلواعن سوا ٕ السبیل 77 اے ھمارے سفیرِ جہان ! آپ اہلِ کتاب کے نام اپنا یہ فرمان جاری کردیں کہ وہ اللہ کے مُتوازن دین کو اپنی مُبالغہ آمیز تعبیرات کے ذریعے غیر مُتوازن دین بناکر خود کو اُن پہلے گُم راہ لوگوں کے ساتھ شامل نہ کریں جو دین کی ایسی ہی لایعنی تعبیرات کر کے پہلے خود گُم راہ ھوۓ اور پھر دُوسرے لوگوں کو بھی گُم راہ کرنے کا باعث بنے ، یہاں تک کہ گُم راہ کرنے والے سارے لوگ اور گُم راہ ھونے والے سارے لوگ بھی اجتماعی گُم راہی کا شکار ھو کر دین سے بُہت دُور چلے گۓ ! 🌹 دینِ بلُوغ اور دینِ مُبالغہ ! 🌹 اٰیتِ ھٰذا میں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کے اِس فرمانِ عام کے ذریعے اہلِ کتاب کو دینِ حق میں ناحق اضافوں سے اجتناب کا جو حکم دیا ھے اِس سے قبل سورةُالنسا ٕ کی اٰیت 171 میں بھی اللہ نے اپنے ایک براہِ راست خطاب میں اہلِ کتاب کو یہی حُکم دیا ھے جس کا اِس مقام پر اُس نے اپنے نبی اور اپنے رسول کی زبان سے اِعادہ و تکرار کیا ھے تاکہ سُننے والوں کو اِس دُوسرے دُھرے حکم کے بعد وہ پہلا حکم بھی یاد آجاۓ اور اُن پر اِس حُکمِ مکرر کی اَہمیت پہلے سے زیادہ بہتر طور پر واضح ھو جاۓ ، اللہ تعالٰی نے اہلِ کتاب کو پہلے بذاتِ خود اور بعد ازاں اپنے نبی کی زبان سے جس عمل سے احتراز کا حکم دیا ھے اُس عمل کا نام" غُلوّ " ھے اور جو شخص اِس غُلوّ کا اِرتکاب کرتا ھے وہ انسانی معاشرے میں اپنے نظریات کے حوالے سے ایک ایسا مُتشدد طبع اور غالی صفت انسان بن کر سامنے آتا ھے جو ہر وقت اور ہر مقام پر اپنی اِس عادتِ بَد کے تحت اپنی ذات کو ایک بے وُقعت ذات اور اپنی بات کو ایک بے حقیقت بات بنادیتا ھے اور اپنی اِس عادتِ بَد کے ساتھ وہ اور تو جو چاھے بن جاۓ لیکن وہ دین کے ایک داعی و مُبلغ کے طور دین کی کوٸ خدمت بجالانے کے قابل نہیں ھوتا کیونکہ دین کے اُس داعی کے حوالے سے دین کا جو تصور سامنے آتا ھے وہ انسانی فطرت کے لیۓ ناقابلِ قبُول ھوتا ھے اسی لیۓ اللہ تعالٰی نے غُلوّ کے اِس عمل کی سختی کے ساتھ مُمانعت کی ھے ، علمِ لُغت اور علماۓ لُغت کے نزدیک غُلوّ کا ایک لُغوی معنٰی تیر کو دَست و کمان کے زور سے دُور تک پُہنچانا ھوتا ھے اور اِس کا ایک معنٰی اپنی بات کو اپنی زبان اور اپنے بیان کے زور سے دُوسروں کے دل میں بٹھانا بھی ھوتا ھے ، اسی طرح غُلوّ کا ایک معنٰی اپنی قابلِ فروخت اَشیا ٕکی قیمت کو بڑھاچڑھا کر بتانا اور بیچنا ھوتا ھے اور اِسی غلُوّ کا ایک معنٰی اپنے قابلِ فروغ نظریات کی حقیقت کو اصل سے بڑھا چڑھا کر دُوسروں کو سُنانا اور پھر اپنے اِس دروغ کے ذریعے اُن کو اپنے اِن نظریات کے زیرِ اثر لانا ھوتا ھے ، اسی طرح غُلوّ کا ایک معنٰی درخت کا شاخ دار ھونا اور اِس کا ایک معنٰی گوشت کا چربی دار ھونا بھی ھوتا ھے اور اسی طرح غُلوّ کا ایک معنٰی ہانڈی کا وہ اُبال ھوتا ھے جو ہانڈی کے کناروں کو جَلا دیتا ھے اور اِس کا ایک معنٰی انسانی فکر و نظر کا وہ جَنجال ھوتا ھے جو انسان کے دین و ایمان کے لیۓ ایک وبال ھوتا ھے ، اِنسانی اَعمال کے اِس مآل کا نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ انسان جب اپنے تیر کو اُس کی مناسب حَد سے زیادہ دُور تک پُہنچانے کی کوشش کرتا ھے تو وہ تیرِ ھوا کے زور سے اپنے ہَدف کے بجاۓ کہیں اور جا پُہنچتا ھے اور جب انسان ایک سچی بات میں جُھوٹ کی ملاوٹ کرتا ھے تو اُس کا سچ بھی جُھوٹ میں شامل ھو کر ایک جُھوٹ بن جاتا ھے ، اسی طرح جب ایک درخت زیادہ شاخ دار ھو جاتا ھے تو اُس کا پَھل اُس کے پَتوں میں چُھپ کر ایک عام ضرورت مند کی انسان کی دَسترس سے دُور ھو جاتا ھے اور اسی طرح جو گوشت بہت زیادہ چربی دار ھوجاتا ھے تو وہ گوشت بھی انسانی جسم میں جا کر انسانی جسم کے لیۓ نفسانی و رُوحانی فساد کا باعث بن جاتا ھے اور اسی طرح جب ہانڈی کا اُبال ضرورت سے زیادہ ھو جا تا ھے وہ اپنے ہی کناروں کو جلا کر ہانڈی کو بیکار کر دیتا ھے اور بالکُل اسی طرح جب ایک انسان اپنے اَعمال کو ھوش و حواس کے بجاۓ وحشیانہ جوش و جذبات سے اَنجام دیتا ھے تو وہ توازن کے بجاۓ عدمِ توازن کا شکار ھو جاتا ھے ، قُرآنِ کریم نے غُلوّ کے اِس عملِ بَد سے اجتناب کے حق میں یہ تاریخی دلیل دی ھے کہ گزشتہ اَقوام اسی عملِ غُلوّ کے باعث عدم توازن کا شکار ھو کر ایک فکری و نظری موت کا شکار ھوتی رہی ہیں اور دُوسرے انسانوں کو بھی اسی فکری و نظری موت سے ہَمکنار بناتی رہی ہیں ، نتیجہِ کلام یہ ھوا کہ اگر انسان فطری اِرتقا کے تدریجی عمل سے گزرکر حَدِ کمال کو پُہنچتا ھے تو یہ اِس کا بلُوغ کہلاتا ھے اور انسان کا دین بھی ارتقاۓ وقت کے فطری عمل سے گزر کر حَدِ کمال تک پُہنچتا ھے تو کارِ اِبلاغ قرار پاتا ھے لیکن ہر وہ شٸ جو ارتقاۓ حیات و ارتقاۓ وقت کے فطری دورانیۓ سے گزرے بغیر اَنجام پزیر ھوتی ھے وہ اسی غُلوّ کے زُمرے میں آتی ھے جس سے اللہ نے منع کیا ھے ، مرضِ غُلوّ کا پہلا راستہ کسی بڑے انسان کی غیر ضروری تعظیم ھوتا ھے اور دُوسرا ذریعہ دین کی وہ غیر فکری اور غیر فطری تعلیم ھوتا ھے جس کی بُنیاد میں وہ غُلوّ یا مُبالغہ ھوتا ھے جو اپنے نتاٸج و عواقب کے اعتبار سے ایک ایسا خطرناک مرض ھوتا ھے جو غُلوّ کے مریض کو اُس وقت بھی محسوس نہیں ھوتا جب چشمِ بینا رکھنے والا ہر ایک شخص اُس کو فرقہ پرست اور غالی کہہ رہا ھوتا ھے ! 🌹 اہلِ کتاب اور نا اہلِ کتاب ! 🌹 انسان جب مرضِ غُلوّ کا شکار ھو کر غالی ھو جاتا ھے تو وہ اپنے عقاٸد و نظریات کو دُوسروں کے سامنے مُبالغے اور غُلوّ کے ساتھ پیش کرتا ھے جس کی وجہ سے پہلے تو ایک وقت تک اُس کے وہ عقاٸد و نظریات حقیقت اور اَفسانے کے ایک ملے جُلے قالب میں جمع ھو کر زندہ رہتے ہیں لیکن ایک وقت کے بعد انسان کے وہ عقاٸد و نظریات اُس اَفسانے کے تاریک سمُندر میں اُتر کر فنا ھوجاتے ہیں اور اُس اَفسانے کے اُس سمندر پر اُس کا وہ چمکتا ھوا جھاگ رہ جاتا ھے جس کی جُھوٹی چمک کو دیکھ کر ہی گُم راہ اہلِ عقاٸد کے یہ گُم راہ قافلے ہمیشہ خوش ھوتے رہتے ہیں کہ وہ مزعومہ نظریات کو پھیلا رھے ہیں حالانکہ وہ اپنی ذات اور اپنے نظریات کو مٹا رھے ھوتے ہیں ، ھم جن مُردہ اہلِ عقاٸد کے مُردہ عقاٸد و نظریات کی جو حقیقت بیان کر رھے ہیں اُس حقیقت کو سمجھنے کے لیۓ ہمیں کہیں دُور جانے کی ضرورت نہیں ھے کیونکہ یہ حقیقت اللہ تعالٰی نے اِس اٰیت کے متن میں خود ہی بیان کر دی ھے کیونکہ ھم یہ بات جانتے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ کٸ صدیوں سے ھم جن لوگوں کو اہلِ کتاب کہتے چلے آ رھے ہیں اُن سے ھماری مُراد یھُود یا نصارٰی ہیں لیکن کیا ھم نے اِس بات پر بھی کبھی کُچھ غور کیا ھے کہ یھُود و نصارٰی کے اپنے دین میں غُلوّ کرنے سے اللہ کو ایسی کیا خاص دِل چسپی ھے کہ اُس نے ایک بار بذاتِ خود اہلِ کتاب کو دین میں غُلوّ کرنے سے منع کیا ھے اور دُوسری بار اپنے رسول کے توسط سے اُن کو اِس کام سے اِجتناب کی تلقین کی ھے اور ہمیں نہ تو خود اللہ نے اِس بُرے کام سے رُکنے کا کوٸ حکم دیا ھے اور نہ ہی اپنے رسول کے توسط سے ہمیں اِس عمل سے اِجتناب کی کوٸ تعلیم دی ھے ، یھُود و نصارٰی سے اللہ کے اِس لگاٶ اور اہلِ اسلام کے ساتھ عدمِ لگاٶ کی کوٸ تو قابلِ فہم وجہ ھونی چاہیۓ جو موجود نہیں ھے اور اِس وجہ کے موجود نہ ھونے کا مطلب صرف اور صرف یہ ھے کہ اِس اٰیت کا وہ مفہوم بہر حال نہیں ھے جوصدیوں سے اِس اُمت کے اَحبار و رُہبان اِس اُمت کو سمجھاتے چلے آرھے ہیں بلکہ اُن کی اِس تفہیم اور تعلیم کے بر عکس زمینی حقیقت یہ ھے کہ جو لوگ ھمارے ہَم وطن ھوتے ہیں ھم اُن کو اہلِ وطن کہتے ہیں ، جو لوگ ھمارے گھر میں رہتے ہیں ھم اُن کو اہلِ خانہ کہتے ہیں ، جو لوگ کسی زبان میں ماہر ھوتے ہیں ھم اُن کو اہلِ زبان کہتے ہیں ، جو لوگ کسی کام کے ماہر ھوتے ہیں ھم اُن کو اہلِ حرفہ کہتے ہیں ، جو لوگ کسی زبان میں شاعری کرتے ہیں ھم اُن کو اہلِ سُخن کہتے ہیں لیکن ھم اللہ کی آخری کتاب کے آخری وارث ھونے کے باوصف بھی خود کو بھی اہلِ کتاب کہنے کے بجاۓ صرف اُن لوگوں کو اہلِ کتاب کہتے ہیں جن کے پاس سرے سے کوٸ کتاب ہی موجود نہیں ھے ، اِس اُمت کے ساتھ یہ سب کُچھ جو ھوا ھے وہ اِس سبب سے ھوا ھے کہ اِس اُمت کے اَحبار و رُہبان نے اسلام کی پہلی صدی کے نصف اَوّل میں ہی اُمتِ مُسلمہ کے اہلِ کتاب ھونے کے اِس اعزاز کو اِس سے چھین کر اِس کی ایک جماعت کو اہلِ تشیع اور ایک جماعت کو اہلِ تسنن بنا دیا تھا ، پھر اسلام کی پہلی صدی کے پہلے نصف کے اسی دُوسرے حصے میں اُمت کی ایک جماعت کو اہلِ فقہ اور ایک جماعت کو اہلِ حدیث بنادیا گیا تھا جس کے بعد اِس اُمت میں اہلِ تسنن بھی ہمیشہ موجود ر ھے ہیں ، اہلِ تشیع بھی ہمیشہ موجود رھے ہیں ، اہلِ فقہ بھی مُستقل طور پر موجود ر ھے ہیں ، اہلِ حدیث بھی مُستقل طور پر موجود رھے ہیں ، اہلِ تصوف بھی ہمہ وقت موجود رھے ہیں اور اہلِ سلُوک و اہلِ طریقت بھی ہمہ وقت موجود ر ھے ہیں لیکن اِس اُمت میں اہلِ کتاب کبھی بھی موجود نہیں ر ھے ہیں اور نہ ہی اُن کو موجود رہنے دیا گیا ھے ، حالانکہ اللہ نے اِس اٰیت میں غُلوّ سے مُمانعت کا جو خطاب فرمایا ھے اُس خطاب کی مخاطب یہی اُمت ھے جس کے پاس قُرآن کی صورت میں اللہ کی یہ کتاب موجود ھے اور اللہ کے رسول کے خطاب کی مخاطب بھی یہی عظیم اُمت ھے جس عظیم اُمت کو اُس عظیم نبی نے اپنے اُوپر نازل ھونے والی اِس عظیم کتاب کا وارث بنایا ھے لیکن گزشتہ کٸ صدیوں سے اِس اُمت کی کتاب بخاری و مُسلم ھے یا ترمذی و ابُو داٶد ھے اور یا پھر نَساٸ اور ابنِ ماجہ ھے لیکن قُرآن اِس اُمت کی کتاب نہیں ھے اور یہ سب کُچھ نتیجہ ھے اُس غُلوّ کا جس غُلوّ سے اللہ نے ہمیں اجتناب کا حکم دیا ھے لیکن ھمارے عجمی مَکتب کے عجمی مُعلم ہمیں مُسلسل یہی افسانہ سناتے چلے آ رھے ہیں کہ اللہ اور اُس کے رسول کے اِس خطاب کے مُخاطب یھُود و نصارٰی ہیں ، مُسلمان اِس خطاب کے مُخاطب نہیں ہیں کیونکہ مُسلمان اہلِ کتاب نہیں بلکہ نااہلِ کتاب ہیں !!
حامد ابراہیمی 2020/11/14 فائدہ مند تجارت وکر می فری ٹیر ہے ، جس میں ایک سے ایک کو خفیہ مواصلات یا ایک نجی گروپ کی اجازت ہے جس میں دس تک شرکاء شامل ہیں۔ آپ بھی ، خفیہ کردہ صوتی کالنگ کے لئے ویکر کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ویکر میں ایک فرہمی پیغامات کا آپشن شامل ہے ، جو آپ کو اپنے پیغامات کے فاریکس میں کتنا سرمایہ لگانا ہے لئے خود ساختہ ٹائمر مرتب کرنے دیتا ہے۔ (میسنجر کی دیگر خدمات بھی خود ساختہ پیغامات کی تائید کرتی ہیں۔) کوئی بھی فائلیں ، صوتی پیغامات ، تصاویر ، یا ویڈیوز جو آپ وکر کے ذریعہ بھیجتے ہیں وہی ایک ہی خفیہ کاری بھی رکھتے ہیں۔ یقینی بنائیں کہ آپ اندر ہیں SEPA کی منتقلی. جب آپ بلاک کرنے کا شیڈول کرتے ہیں تو ، اسی شیڈول کا استعمال سائٹس کو مسدود کرنے اور خدمات کو مسدود کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت کے بارے میں معلومات کے ل block کہ آپ کیبل موڈیم راؤٹر کو کس طرح روکنا چاہتے ہیں ، دیکھیں انٹرنیٹ سائٹس کو مسدود کرنے کیلئے کلیدی الفاظ استعمال کریں صفحہ 30 اور پر انٹرنیٹ سے خدمات بلاک کریں صفحہ 32 پر۔ پلازما جھلی اس طرح ایک ہے semipermeable جھلی : پانی ، (H2O) اور کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) جیسے چھوٹے ، نانچارج انو آسانی سے راستے میں بدل سکتے ہیں ، جبکہ دوسروں کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے یا وہ جھلی کو سیدھے عبور کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ بھی یہ کہے بغیر چلے جانا چاہئے کہ اگر ہمارے کسی ہوسٹنگ اکاؤنٹ میں اگر کوئی سکیورٹی کا کوئی بڑا مسئلہ پاپ اپ ہو جاتا ہے تو ، اگر بہت ہی کم وقت ہوتا ہے ، یا اگر ڈیٹا کی کوئی بڑی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ہم اپنے جائزوں میں اس کی اطلاع دیتے ہیں۔ شکر ہے ، یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ آپ کی کتاب کے لئے سامنے اور پیچھے کے معاملات کی تشکیل. کولیور کے مطابق ایسے پیچیدہ نیٹ ورکس کی تحقیقات میں سوشل میڈیا پر مختلف پیجز اور اکاؤنٹس کے مواد کی کارکردگی جانچنے والے پلیٹ فارمز اہم کردار ادا کرتے ہیں جیسا کہ کراؤڈ ٹینگل (CrowdTangle) گیپی ( Gephi) اورBellingcat's List of OSINT Tools آئی ایس ڈی کے محققین نے مشکوک "نیچرل نیوز" سے جڑے اداروں کے آن لائن ایڈریسز کو گوگل ارتھ ( Google Earth ) کے ذریعے ڈھونڈا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان ایڈریسز پر حقیقت میں دفاتر کی عمارتیں موجود ہیں کہ نہیں. یہ فلم اسی نام سے مائیکل اونڈاٹجی کے ناول کی موافقت ہے۔ ایک انتہائی جلائے ہوئے شخص ، الماسی کی دیکھ بھال اس کی نرس ، ہانا کی تھی ، جو دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر ایک اطالوی خانقاہ میں اس سے ملا تھا۔ اس فاریکس میں کتنا سرمایہ لگانا ہے کا ماضی ایک شادی شدہ انگریز خاتون اور افریقی زمین کی تزئین کی نقشہ سازی کے کام کی یادوں کے ذریعہ سامنے آیا ہے۔ حنا مرنے والے انسان کی مدد کرتے ہوئے اپنے زخموں کو ٹھیک کرنا سیکھتی ہے۔ پرچون دلالوں میں فیس کے ڈھانچے کی ایک وسیع رینج ہوتی ہے جو بہت مسابقتی ہوتی ہے۔ زیادہ تر فرمیں پلیٹ فارم کی فیس کے ساتھ فی ٹریڈ فی فلیٹ کمیشن وصول کرتی ہیں جب تک کہ جب کاروباری حجم یا اکاؤنٹ کے سائز کی بات نہ کریں تو وہ کچھ کم سے کم پورا نہ کریں۔ یہ اکاؤنٹ ذیلی فیس کے ساتھ بھی آسکتے ہیں جیسے غیر فعالیت کی فیس یا اکاؤنٹ کی منتقلی کی فیس۔ فیسوں اور کمیشنوں کے جمع ہونے کے بعد ، آپ کے کامیاب تجارت سے حاصل ہونے والا منافع آپ کے پاس ہے۔ ہمارے پاس ڈی اسکیلیشن ٹیم تھی ، جو واقعتا طاقتور تھی۔ ہم لوگوں سے بات کرتے تھے جب وہ بحث کرتے تھے۔ ہم کہہ رہے تھے ، ہمیں پولیس کی ضرورت نہیں ہے ، لڑکوں ، آپ کو بات چیت کرنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔ آپ کو ایک دوسرے کو سمجھنے یا ایک دوسرے کو پسند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آئیے ایک دوسرے کا احترام کریں۔ احترام سب سے نیچے کی لکیر ہے۔ جسمانی تشدد کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہے ، ایک دوسرے پر زبانی طور پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پاس اتنی جگہ ہے ، آئیے ہم اسے پھیلائیں ، ٹھنڈا کریں اور بات فاریکس میں کتنا سرمایہ لگانا ہے کرنے کا طریقہ سیکھیں۔ ہمارے گروپوں میں بہت سارے حلقے تھے جہاں ہم ایک دوسرے سے بات کرتے تھے یہاں تک کہ دوسرے منتظمین کے ساتھ بھی جو اس جگہ کو منظم کرنے کے ہمارے طریقہ کار سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ کامل اکاؤنٹنگ اسسٹنٹ ایپ کے ذریعہ آپ کے پاس دیکھنے کے لچکدار اختیارات ہیں۔ صرف آمدنی ، صرف اخراجات ، یا دونوں دیکھیں۔ ایک پائی یا بار چارٹ منتخب کریں اور مرکزی سکرین پر مہینے کے لئے تمام لین دین دیکھیں۔ آپ اسے کسی رنگ یا تھیم کی مدد سے بھی ذاتی نوعیت بنا سکتے ہیں اور اپنے اکاؤنٹس ، ممبروں اور زمرے کو آسانی سے منظم کرسکتے ہیں۔ پوزیشن‌ها می‌توانند به صورت داوطلبانه یا غیر داوطلبانه بسته شوند. . یقینا ، ذائقہ ایک ذاتی چیز ہے۔ آپ اپنی چائے کو اوسط شخص سے کہیں زیادہ مضبوط یا کمزور پسند کرسکتے ہیں۔ ذائقہ جڑی بوٹیوں کے معیار اور تازگی پر بھی منحصر ہے ، لہذا مزہ اور تجربہ کریں۔ صرف اس پرانے کہاوت کو یاد رکھیں ، آپ ہمیشہ مزید اضافہ کرسکتے ہیں ، لیکن آپ اس میں کم اضافہ نہیں کرسکتے ہیں۔ آراء یا چارج بیکس کی وجہ سے لاک آؤٹ. فری لانس کی ادائیگی مشکل ہوسکتی ہے کیونکہ کوئی مقررہ شرح نہیں ہے اور کام کی ضرورت کی بنیاد پر قیمتوں میں ڈرامائی طور پر اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ بہت سے پیشہ ور افراد اس وقت سے چارج لیں گے اور ان کی شرحوں پر معاہدہ کریں گے (عام طور پر $ 25- $ 85 / hr کے درمیان ہیں) انشورنس ایجنٹوں اور دلالوں کے ساتھ ساتھ انشورنس سے متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف پروڈیوسر اور ایڈجسٹرز کو این پی این تفویض کیا جاتا ہے۔ اس تعداد کے ساتھ ، ریگولیٹری باڈیز آسانی سے کسی شخص کی شناخت کرسکتی ہے چاہے اسے متعدد ریاستوں میں کاروبار کرنے کا لائسنس ملا ہو۔ مزید برآں ، یہ سوشل سیکیورٹی نمبروں کے استعمال کو روکنے کے ذریعے شناخت کی حفاظت کرتا ہے۔ MICRO: بیس کرنسی کے 1،000 یونٹ کے برابر 1 micro لاٹ ہے STANDARD: بیس کرنسی کے 100،000 یونٹ کے برابر 1 standard لاٹ ہے Ultra Low Micro: بیس کرنسی کے 1،000 یونٹ 1 micro لاٹ کے برابر ہے Ultra Low standard: بیس کرنسی کے 100،000 یونٹ کے برابر 1 standard لاٹ ہے. گراہم فاریکس میں کتنا سرمایہ لگانا ہے نے ایک ایسے سرمایہ کاری کے نقطہ نظر کی بھی وکالت کی جو انسانی غلطی کے ل safety سرمایہ کاری کے ل safety حفاظت یا کمرے کا ایک فرق فراہم کرے۔ اس کو پورا کرنے کے لئے کچھ راستے ہیں ، لیکن کم قیمت یا غیر منحصر اسٹاک خریدنا سب سے اہم ہے۔ سرمایہ کاروں کی غیر معقولیت ، مستقبل کی پیش گوئی کرنے سے قاصر ، اور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاو سرمایہ کاروں کو تحفظ کا ایک معمولی فرق فراہم کرسکتا ہے۔ سرمایہ کار اپنے محکموں کو متنوع بناتے ہوئے اور اعلی منافع بخش پیداوار اور کم قرض سے ایکویٹی تناسب والی کمپنیوں میں اسٹاک خرید کر بھی حفاظت کا ایک حاشیہ حاصل کرسکتے ہیں۔ حفاظت کے اس مارجن کا مقصد سرمایہ کاروں کے نقصانات کو کم کرنا ہے جب ایسی صورت میں جب کوئی کمپنی دیوالیہ ہوجائے۔ ٹی شرٹ فیکٹری ڈیلکس میں بھی سکین شدہ تصاویر یا اسکین ڈیزائنوں میں ترمیم کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو 30 ڈالر کی سستی قیمت کے ساتھ آتے ہوئے بھی کافی اچھی ہے۔ استراتژی معاملات فارکس روشی است که توسط معامله گر فارکس برای تعیین خرید یا فروش یک جفت ارز در هر زمان مشخص استفاده می شود. سودے بازی کی خریداری میں ان حصص کا انتخاب کرنا شامل ہے جو ان کی اصل قیمت سے کافی نیچے فروخت ہو رہے ہیں ، جیسا کہ معقول اعتبار سے قابل اعتماد تکنیک کے ذریعہ ماپا جاتا ہے۔ عام طور پر پیمائش کا تعین کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ آیا اسٹاک کو کم قیمت دی گئی ہے یا اس کی زیادہ قیمت کی جارہی ہے اس کی قیمت سے کمائی (P / E) تناسب ہے جو کمپنی کے حصص کی قیمت کو اس کے حصص کی فی حصص (EPS) کے ذریعہ تقسیم کرکے پایا جاسکتا ہے۔ ای پی ایس کمپنی کے منافع کو اس کے بقایا حصص کے ذریعہ تقسیم کرکے پایا جاتا ہے۔ کھلی حمایت یافتہ خانوں کو یہ فائدہ ہے کہ وہ ختم ہونے والی جگہ کے حجم کو باکس کے سائز تک محدود نہیں کرتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسے منظرنامے دیئے گئے ہیں جہاں ایک باکس فراہم کرتی ہے اس سے زیادہ حجم رکھنا ضروری ہے: دولت مشترکہ بمقابلہ ہنٹ میساچوسٹس سپریم کورٹ کا معاملہ تھا جس نے مزدور یونینوں پر اپنے فیصلے کی مثال قائم کی۔ اس معاملے کے فیصلے سے قبل ، واضح نہیں تھا کہ امریکہ میں لیبر یونینیں دراصل قانونی تھیں یا نہیں۔ تاہم ، عدالت نے مارچ ، 1842 میں فیصلہ دیا کہ اگر یونین کو قانونی طور پر تشکیل دیا گیا تھا اور اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے صرف قانونی ذرائع استعمال کیا گیا تھا ، تو یہ حقیقت میں قانونی تھا۔ 3ـ سومین انگیزه، اعمال مدیریت ARMS – LENGTH در شرکت های دولتی است که به آنها اجازه می‎دهد تا به تدریج با عوامل و نیروهای بازار مواجه شوند. امر، یک روش کلاسیک در افزایش بازده اقتصادی است که در بند قبل توضیح داده شد. همین انگیزه، دلیل اصلی تاسیس شرکت های هولدینگ در الجزایر (سال 1988) بود. تغییر ساختار شرکت های دولتی مصر (1991) و تبدیل آنها به شرکت های هولدینگ نیز به منظور افزایش تمرکز زدایی و بازده عملیاتی صورت گرفته است. . ایکسچینج لسٹنگ کا مطلب کمپنی کے حصص یافتگان کے حصص کے ل ready تیار لیکویڈیٹی ہے۔ یہ کمپنی کو مزید حصص جاری کرکے اضافی رقوم اکٹھا کرنے میں اہل بناتا ہے۔ عوامی تجارت میں حصص کی خریداری سے باصلاحیت ملازمین کو راغب کرنے کے لئے اسٹاک آپشنز کے منصوبے مرتب کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ فہرست کمپنیوں مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ مرئیت ہے۔ تجزیہ کار کی کوریج اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کا مطالبہ حصص کی قیمت کو بڑھا سکتا ہے۔ درج کمپنیوں کو حصول کے ل currency کرنسی کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جس کے حص orے میں یا سارے حص considerationے پر سود ادا کیا جاتا ہے۔ خطرے میں کم/درمیانی حد تک اضافہ اور معاشرے میں انفیکشن کا کم پھیلاؤ. خاص طور پر ، حصص یافتگان کے کارکنوں کے کام میں دلچسپی لیں (جو اپنے حصص کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے کمپنی فاریکس میں کتنا سرمایہ لگانا ہے کے رہنماؤں پر شیئر ویلیو بڑھانے کے ل make تبدیلیاں لیتے ہیں) ، اور قدر والے سرمایہ کاروں (جو کمپنیوں کے اسٹاک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں) یقین کریں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں۔ آئی بی ایم کے ذریعہ تیار کردہ اور فروخت کردہ ، یہ جامع ، لچکدار ہے اور تقریبا کسی بھی قسم کی ڈیٹا فائل کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ، بڑے پیمانے پر سروے کے اعداد و شمار کے تجزیہ کے ل it یہ خاص طور پر مفید ہے۔
ہنگو میں خود کش بم حملہ، پانچ افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 24.03.2011 پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک پولیس اسٹیشن پر ایک موٹر گاڑی کی مدد سے کیے گئے خود کش بم حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ پچیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ آج جمعرات کی صبح ضلع ہنگو کے علاقے دو آبہ میں پیش آیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس خود کش حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار جبکہ چار شہری ہلاک ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکے کی شدت سے پولیس اسٹیشن کے علاوہ اس کے ساتھ واقع دس گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ مقامی پولیس کے اعلیٰ اہلکار عبدالرشید نے بتایا،' بمبار دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی میں سوار تھا، اس نے پولیس اسٹیشن کے نزدیک پہنچ کر گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ پچیس زخمی ہو گئے'۔ انہوں نے بتایا کہ بظاہر بمبار کی کوشش تھی کہ وہ پولیس اسٹیشن کو براہ راست نشانہ بناتا تاہم وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ راستے میں رکاوٹیں کھڑی تھیں۔ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے حامی اس طرح کے حملے کرتے رہتے ہیں فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ ایک اور مقامی پولیس اہلکار محمد مسعود خان آفریدی نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے حامی اس طرح کے حملے کرتے رہتے ہیں۔ طالبان باغی اس طرح کے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ 2007ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے طالبان جنگجوؤں کے خلاف شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے بعد سے اب تک کم ازکم چار ہزار ایک سو افراد خود کش حملوں اور دیگر پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ موضوعات خیبر پختونخوا, عالمی ماحولیاتی کانفرنس ایک یا ایک سے زیادہ کلیدی الفاظ درج کریں ہنگو, دوآبہ, خیبر پختونخوا, شمالی مغربی علاقے, ستحڈ, بون, خود کش حملہ, کار خود کش حملہ, جرمنی ڈوئچے ویلے
پرچی میرے پاس آگئی ہے سندھ اسمبلی کا اجلاس 08/06/2021 08/06/2021 0 تبصرے 40 مناظر کراچی (نامہ نگار خصوصی )سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کواسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوا۔کارروائی کے آغاز میںبحریہ ٹاون میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی گئی اور اس واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے ساتھ ساتھ اربوں روپے نقصانات کے ازالے کی استدعا کی گئی ۔ارکان کا کہنا تھا کہ کئی افراد کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ دھرتی پر جس قسم کے واقعات ہورہے ہیں وہ تشویشناک ہیں ۔پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان نے کہا کہ امید ہے وزیراعلیٰ سندھ اس معاملے پر پالیسی بیان دینگے۔ایوان میںٹرین حادثے میں جاںق افراد کے ایصال ثواب کے لئے دعا مانگی گئی اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاکی گئی۔ ایوان نے کینڈا میں پاکستانی نژاد فیملی کے افراد کی ہلاکت پر اظہار افسوس اور ایصال ثواب کے لئے دعاکی ۔اجلاس میںکورونا وباءسے جاں بحق افراد کے لئے بھی دعاکی گئی ۔ اجلاس میںعلامہ سعد حسین رضوی کی جلد رہائی کے لئے دعاکی استدعا کی گئی ۔اجلاس کی تاخیر کے حوالے سے پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے اسپیکر آغا سراج درانی سے کہا کہ اسپیکر صاحب اپ وقت پر آجاتے ہیں مگر حکومتی ارکان وقت پر نہیں آتے ۔خرم شیرزمان نے حکومتی بینچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے کہیں یہ بھی وقت پر آجایا کریںکیونکہ ٹیکس کا پیسہ ضائع ہوتا ہے۔اس موقع پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ نے کہا کہ یہ تین روز سے احتجاج کرکے ٹیکس کا پیسہ ضیاع کررہے ہیں ان کو بھی احساس ہونا چاہیے۔ کراچی (نامہ نگار خصوصی )پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات یوسف بلوچنے کہا ہے کہ گڈاپ میں جتنی بھی غیر قانونی فیکٹریاں موجود ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔حکومت سندھ نے 200 غیر قانونی فیکٹریاں بند کی ہیں۔انہوں نے یہ بات منگل کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ماحولیات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے کہا کہ غیر قانونی فیکٹریاں حکومت سندھ کی نالائقی کی وجہ سے کھلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں شراب کی دکان پر گیا وہاں رش تھا،پورا شہر بند تھا لیکن کورنگی شراب کی دکانیں کھلی تھی جس پر وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ خرم شیرزمان کو زیب نہیں دیتاکہ وائن شاپ جائیں۔مکیش کمار چاﺅلہ کی اس بات پر ایوان میں قہقہے بلند ہوئے۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سیما ضیا نے کہا کہ پارلیمانی سیکریٹری کو ایوان میں جواب دیناچایئے ۔جس پر یوسف بلوچ نے کہا کہ پرچی میرے پاس آگئی ہے سوال کا جواب دے سکتاہوں ۔ ٹی ایل پی کے رکن اسمبلی مفتی قاسم فخری نے سوال کیا کہ غیرقانونی فیکٹری کب سے قائم ہیں اور کتنی غیرقانونی فیکٹریوں کے خلاف حکومت نے ایکشن لیا جس پر پارلیمانی سکریٹری یوسف بلوچ نے کہا کہ جہاں سے شکایات موصول ہوتی ہیں ہم ایکشن لیتے ہیں۔پارلیمانی سکریٹری ماحولیات نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سندھ بھر میں 38ہزار گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے کارروائی کی جاتی ہے ۔ان گاڑیوں کے چالان کیے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ای پی اے کے ریجنل دفاتر موجود ہیں۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے دریافت کیا کہ 50لاکھ گاڑیوں کی فٹنس کا نظام کیوں نہیں لایا جارہا۔جس پر وزیر ایکسائز مکیش کمار نے کہا کہ سندھ میں 40لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور فٹنس سرٹیفکیٹ لوڈنگ گاڑیوں کا ہوتا ہے۔ کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے کئی نجی بل منظور ی کے لئے پیش کئے گئے لیکن حکومت کی جانب سے ان بلوں کی مخالفت کے باعث کوئی ایک بل بھی منظور نہ ہوسکاجن میں ایم ایم اے کے رکن سید عبدالرشید کا اٹھارہ سال کی عمر والے بچوں کی لازمی شادی سے متعلق بل بھی شامل ہے۔اس بل کے ذریعے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے لازمی شادی کی تجویز پیش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ مجوزہ قانون کے تحت 18سال کے بچوں کی شادی نہ کرانے پر والدین کو جرمانہ عائد کیا جائے۔وزیر اپرلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ کی مخالفت کے باعث یہ بل منظور نہ ہوسکا اور اسپیکر نے اسے مسترد کردیا ۔سندھ اسمبلی کی خاتون رکن رابعہ اظفر کی جانب سے سندھ پروہیبیشن آف میتھامیٹافائن کا غیر سرکاری بل پیش کیاگیا تھا جو بعد میں انہوں نے واپس لے لیا گیا۔ایوان نے پی ٹی آئی کی رکن ادیبہ حسن کا ایک اور نجی بل بھی رد کردیا ۔ادیبہ حسن سندھ نے چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ترمیمی غیر سرکاری بل پیش کیا اسے بھی ایوان کی جانب سے رد کردیا گیا۔بل کے تحت اتھارٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس میں کس طرح کام ہورہا ہے۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ کی مخالفت کے بعد ایوان نے غیر سرکاری بل کو مسترد کردیا۔تحریک انصاف کے سعید آفریدی نے سود کے خلاف غیر سرکاری بل ایوان میں پیش کیا ، ان کا کہنا تھا کہ سود حرام ہے اس لئے یہ بل ایوان سے منظور کیا جائے۔مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ اس طرح کاسرکاری بل ہم ضرور لیکر آئیں گے فی الوقت اس کی منظوری نہیں دلاسکتے۔ایوان نے اس بل کو مسترد کردیا۔ پی ٹی آئی کے رکن فردوس شمیم نقوی نے سندھ بچوں کی شادی پر پابندی سے متعلق ترمیم کا غیر سرکاری بل پیش کیا۔ اور کہا کہ ہم نے این جی اوز کی درخواست پر بل لیکر آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے کم عمر بچوں کی شادی کرتا ہے۔ اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔وزیر اپرلیمانی امورمکیش کمار چاولہ نے کہا کہہم اس کو اس لیے مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ پہلے سے قانون میں موجود ہے۔اسپیکر نے بل کومسترد کردیا جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل پندرہ جون تک ملتوی کردیا گیا۔
مشرقی اور مغربی ممالک میں پہنے جانے والے روایتی عروسی ملبوسات- خبریں دنیا - تسنیم نیوز ایجنسی مشرقی اور مغربی ممالک میں پہنے جانے والے روایتی عروسی ملبوسات شادی کا دن زندگی کا اہم ترین ہوتا ہے اور اس دن کی مناسبت سے ہر جوڑا ہی سجتا سنورتا ہے لیکن مشرقی اور مغربی ممالک کی دلہنیں اپنے ملک کی ثقافتی اور روایتی عروسی لباس زیب تن کر سجتی سنورتی ہیں۔ 12 اپریل 2017 - 18:19 خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ہر ممالک میں دلہن کا لباس وہاں کی ثقافت کا اظہار ہوتا ہے اور اس کا رنگ اور دیگر تفصیلات اُس جگہ کے مذہب وغیرہ کی روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں دلہن "شرارا اور لمبی قمیض" پہنتی ہیں اور لمبا دوپٹہ اوڑھتی ہیں جو بھاری کام سے تیار کیا گیا ہوتا ہے، اسی طرح ترکی میں دلہن ایک سرخ 'دوشیزگی' کی بیلٹ خوش قسمتی کی علامت کے طور پر پہنتی ہے، اریٹیریا میں دلہن گہرے رنگ کے ریشمی تاج اور جامنی و گولڈ عبادہ زیب تن کرتی ہے۔ دنیا بھر میں جوڑے کس طرح کے عروسی ملبوسات پہنتے ہیں، آپ بھی جان کر یقینا لطف اندوز ہوں گے۔ پاکستان کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں اپنے ملک کی روایات کے بارے میں کافی کچھ علم ہے۔ سرخ یا گلابی عروسی ملبوسات بھارتی ثقافت میں دلہن کا روایتی انتخاب ہوتا ہے۔ چین کا روایتی عروسی لباس سرخ ہے، چین میں ویسے سفید رنگ کو ماتم کا رنگ مانا جاتا ہے، شادی کے بعد دلہا دلہن کے سر سے سرخ دوپٹے کو ہٹاتا ہے۔ جاپانی شادیوں میں دلہن اکثر دو یا اس سے زائد ملبوسات پوری تقریب میں استعمال کرتی ہے جو کہ سفید اور سرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔ انڈونیشیا میں ایک سے دوسرے جزیرے میں شادی کی روایات مختلف ہوتی ہیں، ویسے بھی تین سو نسلی گروپس اور چھ بڑے مذاہب کو ماننے والے افراد پر مشتمل اس ملک کی ثقافت متعدد رنگوں کی حامل ہے۔ یورپ اور ایشیا کی سرحد پر موجود اس خطے میں روایتی شادی کے موقع پر دلہا وہاں کا روایتی کوٹ پہنتا ہے جبکہ بیلٹ سے تلوار بندھی ہوتی ہے، دلہن اکثر سفید عروسی لباس میں ہوتی ہے جس پر خوبصورت سیاہ پٹیاں لگی ہوتی ہیں۔ ملائیشیا میں اکثر دلہن جامنی یا کریم رنگ کے عروسی لباس کا انتخاب کرتی ہے۔ جنوبی کوریا میں روایتی انداز سے شادی کرنے کا رواج حالیہ عرصے میں زور پکڑتا جا رہا ہے ہے، یہاں کی تاریخی روایات کے مطابق دلہا اپنی بیوی کو کمر پر اٹھا کر میز کے گرد گھومتا ہے، جو اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ دلہن اپنے شوہر پر انحصار کرسکتی ہے۔ نائیجریا میں دلہنیں روایتی عروسی ملبوسات کا انتخاب کرتی ہیں، جبکہ سر پر ایک مخصوص پگڑی ٹائپ کپڑا بندھا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو کسی سری لنکن روایتی شادی میں شرکت کا موقع ملے تو آپ کی نگاہیں دلہا سے نہیں ہٹ سکیں گی۔ آج کل اس ملک میں اکثر نوجوان شادی کے موقع پر جدت کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم روایتی تقریبات اب بھی اس کے دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں، اگرچہ یہ ملک زیادہ بڑا نہیں مگر اس کے ہر خطے کی شادی کے حوالے سے اپنی روایات ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں دلہا عام طور پر اسکرٹ پہنتا ہے، جبکہ شادی کی تقریب کے بعد دلہا ایک شال دلہن کے کندھے پر ڈالتا ہے جو اس کے خاندان کے رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اس طرح یہ دلہن کی نئے خاندان میں رکنیت کی علامت بن جاتا ہے۔
مینار پاکستان واقعہ ، 'ویڈیوز کے زریعے ملزمان کی شناخت نادرا سے کرائی جائے گی' مینارِ پاکستان واقعہ ، 'ویڈیوز کے زریعے ملزمان کی شناخت نادرا سے کرائی جائے گی' لاہور : معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ مینار پاکستان واقعے میں ملوث ملزمان کی ویڈیوز کے ذریعے نادرا سے شناخت کرائی جائے گی، قانون ہر صورت ملوث ملزمان کو سخت ترین سزائیں دے گا۔ تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مینار پاکستان واقعے کے حوالے سے بتایا کہ اعلی پولیس افسران لاہور واقعے کی ویڈیوز کا جائزہ لے چکےہیں ، ویڈیوز سے ملزمان کی شناخت نادرا سے کرائی جائے گی، عاشور کی وجہ سے نادرا کے دفاتر بند ہیں ، نادرا سے رابطہ کر کے اس پر فوری کام شروع کیا جائے گا، قانون ہر صورت ملوث ملزمان کو سخت ترین سزائیں دے گا۔ دوسری جانب سینیٹر فیصل جاوید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا مینارپاکستان پر پیش آنیوالےواقعےکےمجرموں کوسخت سزادی جائے گی ، وزیراعظم اسطرح کےوحشیانہ سلوک کوقطعا برداشت نہیں کریں گے۔ PM will not tolerate any type of violence and barbaric acts against humanity. Culprits of these crimes will be severely punished. Govt is committed to stand up for victims of violence and abuse. #MinarePakistan — Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) August 18, 2021 گورنرپنجاب چوہدری سرور نے گریٹراقبال واقعہ کو شرمناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا خاتون پرتشددمیں ملوث افرادانجام سے بچ نہیں سکیں گے، خواتین ملک وقوم کی عزت ہیں ان کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا ، خواتین کی مضبوطی سے پاکستان مضبوط ہوگا تاہم خواتین کیساتھ مظالم کو کسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا۔
'پہلےکے وزیر شریف تھےمیں اتنا شریف نہیں ہوں' 'پہلے کے وزیر شریف تھےمیں اتنا شریف نہیں ہوں' وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ جیل میں قیدی کیساتھ غیر انسانی سلوک اپنایا جائے تو مجھ سے رابطہ کریں پہلےکے وزیر شریف تھےمیں اتنا شریف نہیں ہوں، یہ برداشت نہیں کروں گا۔ ایک بیان میں فیاض چوہان نے کہا کہ جیل خانہ جات کی ذمہ داری دی گئی تو واویلہ مچایا گیا، م لیگ جتنا کھلےگی اتنا ش لیگ اورپی ڈی ایم کابیڑا غرق کرے گی، جیل میں قیدی کیساتھ غیر انسانی سلوک اپنایاجائےتو مجھ سے رابطہ کریں اگر اس قسم کی کوئی شکایت آئی تو برادشت نہیں کروں گا۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ حمزہ شہباز اورشہباز شریف جیل میں سرپکڑےبیٹھے ہیں کہ بیگم صفدر اعوان نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ حمزہ شہباز اورشہباز شریف کی آخری پیشی میں مریم نوازملنے گئیں، پورا آل خاندان تقسیم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیگم صفدر اعوان نےانٹرویودیا جوفرمایا عجیب و غریب تھا کل کہتی ہیں میں سب کےسامنےبات کروں گی،ڈیل ہوگی، بیگم صفدر صاحبہ اکیلے رہ گئی ہیں مریم نواز نےجتنا نقصان پاکستان کو پہنچایا کسی سیاستدان نے نہیں پہنچایا، مریم نوازکواللہ سےاپنےگناہوں کی معافی مانگنی چاہیے، جمہوریت کی واحد ضامن پاک فوج اورریاستی ادارے ہیں اب مریم نواز نے بھی کہہ دیا ہے فوج کو عزت دو، فوج اور عوام کی درمیان جو محبت ہےوہ کوئی ختم نہیں کرسکتا۔ پی پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول کی اپنی ڈفلی ہے اور مولانا اپنی بانسری بجارہے ہیں، پچلھے 6سال میں ووٹ کوعزت دونعرے نےکان پکادئے، آصف زرادری جیسےانٹرنیشنل ڈاکونے 5سال پورے کیے، سلطان مفرور ارتغرل کی پارٹی نے5سال کی مدت پوری کی، جب ایسی شکلیں اپنی مدت پوری کرسکتی ہیں تو عمران خان کیوں نہیں؟ عمران خان نےمعیشت کو مضبوط کیا۔
اداریہ جدوجہد: 18 اکتوبر کی شکست 2007ء میں آمریت اور جمہوریت کا ایک بے ہودہ ملغوبہ بکھرنے لگا تھا۔ معاشی شرح نمو کا تیز ابھار آٹھ سالوں میں سماج میں تضادات کو مٹانے کی بجائے ان کو بھڑکا گیا تھا۔ہر روز 10 ہزار انسان غربت کی لکیر سے نیچے گر رہے تھے۔زندگی مزید اجیرن ہو کر رہ گئی تھی۔ سماج میں اضطراب اور اور ہلچل تیز ہو رہی تھی۔ دہشت گردی کی سامراجی جنگ پورے معاشرے میں خلفشار کو بڑھا رہی تھی۔اس معاشی سماجی اور اقتصادی بحران میں شدت سے حکمرانوں کے ایوان لرزنا شروع ہو گئے تھے۔اس سرمائے کی استحصالی جمہوریت کی متوالی سول سوسائٹی حرکت میں آگئی تھی۔ جابر انہ ریاست کے ایک ہی مقصد اور کردار کے حامل اداروں کے باہمی تضادات جو سماج میں ابھرتے ہوئے لاوے سے پھٹ رہے تھے وہاں عدلیہ کی آزادی کے نام پر اسی نظام کو آسرا دینے کیلئے ہر نظریاتی تفریق اور طبقاتی کشمکش کو ہذف کرتے ہوئے درمیانے طبقے کے افراد و وکلاء کی تحریک کے نام پر ایک غیر سیاسی تحریک کو چلانے کی کوشش کر رہے تھے حکمرانوں کے چند سنجیدہ ماہرین نیچے سے ابھرنے والی غیر سول (Uncivil) سوسائٹی یعنی محنت کشوں اور محروم عوام کی تحریک کے خوف سے اس سول سوسائٹی کی تحریک کو طبقاتی کشمکش کو زائل کرنے کی کوشش میں سرگرم تھے۔لیکن سول سوسائٹی کی تحریک ایک محدود پیمانے پر چلتی رہی محنت کش عوام اس کو دیکھتے رہے۔ محظوظ ہوتے رہے۔لیکن اس تحریک کے مقاصداور مطالبات میں نہ تو ان کے مسائل کا حل تھا نہ ہی انکے دل کو لگتی تھی۔ ان کے اندر جلنے والے آگ ٹھنڈی نہیں ہورہی تھی۔ ان کے اندر کسی اور راستے اور مقصد و منزل کی جستجو بھڑک رہی تھی۔ اور پھر 18 اکتوبر2007ء کو بے نظیر بھٹو جب کراچی ایئرپورٹ پر اتریں تو عدلیہ کی تحریک کے ہزاروں کی جگہ یہاں لاکھوں اپنے دلوں میں اس ذلت کی نجات کی آرزو لئے کراچی میں ایک جم غفیر کی صورت میں تاریخ کے میدان میں داخل ہوئے۔اتنے بڑے اجتماع میں جہاں ہر کوئی اپنے انفرادی مسائل کے حل کے لئے آیا تھا وہاں پہنچ کر یہ ایک اجتماعی مقصد اور مطالبہ کی صورت اختیا ر کر گیا تھا۔اس کی خاموش سرسراہٹ نے جہاں مشرف اور بے نظیر کے درمیان دبئی میں ہونے والی ڈیل کے پرخچے اڑا دئیے تھے وہاں اس نے روائتی قیادت کواس کے اپنے ہی استقبال سے ششدر اور حیران کر کے رکھ دیا۔ ریاست گھبراہٹ کا شکار ہوگئی۔ اس بوکھلاہٹ میں دہشت گردی نے دو سو معصوم جانوں کو ان امیدوں سے بھرے محنت کشوں سے چھین لیا۔ لیکن تحریک اس خونی ضرب سے رکنے کی بجائے اور شدت اختیار کر گئی۔جوں جوں یہ شمال کی طرف بڑھنے لگی اس کی وسعت اور طاقت میں تیزی آتی گئی۔ ایک مرتبہ پھر یہاں کے عوام ایک نئی جدوجہد میں اجاگر ہورہے تھے۔ریاست کے قدامت پرست دھڑے اس کو ایک خطرے کا الارم سمجھ کر اس کو کچلنے کے لئے بے قرار ہو رہے تھے۔ اصلاح پسند دھڑے اس امید میں تھے کہ شاید یہ نعرہ بازی اور وعدوں میں کنٹرول اور زائل ہو جائے گی۔ لیکن راولپنڈی میں ہونے والے جلسے میں فوج کی تمام تر تعریفیں بھی ریاست کے رجعتی عناصر کو وار کرنے سے نہ روک سکیں۔امریکی سامراج اور مصالحت کروانے والے دھڑے دیکھتے ہی رہ گئے۔شاید وہ بھی اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اس تحریک کے روایتی محور کو ختم کیے بغیر یہ تحریک پورے نظام کے لئے ایک خطرہ بن سکتی ہے۔27 دسمبر کو بینظیر بھٹو کا وحشیانہ قتل کیا گیا۔ پورے ملک میں ایک حشر بپا تھا۔ لیکن ایک مارکسی لیننسٹ پارٹی کے فقدان میں عوام کا یہ لاوا بے سود بہہ کر بکھر گیاتھا۔پیپلز پارٹی کی نئی وراثتی قیادت نے ریاست اور سامراج سے مل کر اس خون کا انقلابی انتقام لینے کی بجائے اسی رائج سرمایہ دارانہ نظام کو ''جمہوریت'' کے نام پر تحفظ دینے کی پالیسی اختیا ر کی۔عوام کے غم کو ان کی مایوسی اور بدگمانی میں منتقل کرنے کا لائحہ عمل اختیار کیا۔ نئی جمہوری حکومت میں سرمایہ داری نے محنت کش عوام پر اقتصادی درندگی کی انتہا کر دی۔ مہنگائی ،بیروزگاری ،غربت اور ذلت کبھی نہ دیکھی گئی انتہاؤں تک پہنچ گئیں۔ دکھی عوام پر مزید زخموں کی بوچھاڑ کر دی۔ 18 اکتوبر کی تحریک شکست اور پسپائی کا شکار ہو گئی۔ جو سرمایہ داری نے تابڑتوڑ حملے عوام کی زندگیوں پر کئے ان سے مایوسی مزید گہری ہوئی۔سماج کے اس جمود اور تحریک کی پسپائی میں لوٹ مار ،بدعنوانی اور استحصال کی انتہا کر دی گئی۔آج عوام اس بربادیوں کے معاشرے میں سلگ رہے ہیں۔لیکن وقت آہستہ آہستہ ان کے زخم مندمل کر رہا ہے۔ذلت میں پھر وہ ابھرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔بہت سے اسباق حاصل ہوئے ہیں۔رائج سیاست اور حاوی پارٹیوں سے وہ اچاٹ دلبرداشتہ اور مایوس ہیں۔کریں بھی کیا؟فرق بھی کیا ہے؟ لیکن عوام کی سیاسی بے حسی کے نیچے پھر سے ایک لاوا پک رہا ہے۔ وہ آتش فشاں پھر پھٹنے والا ہے۔لیکن کسی جمہوریت یا آمریت کی لڑائی کے لئے نہیں، سیکولرازم اور قدامت پرستی کی معرکہ آرائی کے لئے نہیں بلکہ صدیوں سے نسل در نسل استحصال اور ظلم کے خلاف اس اذیت ناک زندگی سے نجات کے لئے ایک نئے سماج کے لئے۔ ایک سوشلسٹ انقلاب کے لئے۔ اس سماجی بغاوت میں شاید کچھ دیر ہے لیکن یہ اندھیرنہیں چل سکتا۔ اس انقلابی تحریک کے انتظار کی ضرورت نہیں۔ اس کے لئے بھر پور تیاری اور تربیت کی ضرورت ہے۔وقت شاید کم ہے اورفریضہ بہت بڑا۔ لیکن اس کے علاوہ نجات کا اور کوئی ذریعہ نہیں!
افغانستان اور پاکستان کی سرحد طورخم کے ذریعے 10 ہزار سے زائد پاکستانی روپوں کی ترسیل پر پابندی عائد ہونے سے دونوں ممالک کا تاجر طبقہ اور علاج کی غرض سے آنے والے افراد پریشانی سے دوچار ہیں۔ افغانستان کی حکومت نے چند روز قبل پاکستان کے سرحد سے ملحقہ جلال آباد شہر اور دیگر علاقوں میں پاکستانی کرنسی میں لین دین کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کے بعد چند سرکاری اہل کاروں نے لین دین میں استعمال ہونے والی پاکستانی کرنسی ضبط کر کے اسے جلا ڈالا تھا۔ اس واقعے کے بعد سرحدی حکام نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والوں کے لیے صرف 10 ہزار روپے رکھنے کی حد مقرر کر دی ہے۔ حکومت کے فیصلے کے بعد کابل، جلال آباد اور دیگر شہروں میں عرصہ دراز سے موجود پاکستانی تاجروں نے پاکستانی روپے طورخم کے ذریعے پاکستان منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہیں اجازت نہیں دی گئی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اُن کے کروڑوں روپے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ طورخم میں دونوں ممالک کے درمیان درآمدات اور برآمدات کے تاجر قاری نظیم گل شینواری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان سے افغانستان جانے والوں کو 10 ہزار روپے سے زائد روپوں کے علاوہ غیر ملکی کرنسی لیجانے پر بھی پابندی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ طورخم میں ایک کسٹم کلیرنگ ایجنٹ ابلان علی نے بھی تصدیق کی کہ 10 ہزار روپوں سے زیادہ لانے اور لیجانے پر پابندی سے عام لوگوں جو دونوں ممالک کے درمیان علاج معالجہ اور دوستوں اور عزیز و اقارب سے ملنے آتے ہیں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پشاور کے کرنسی مارکیٹ میں ایک تاجر کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور افغان حکومت پر زور دے کہ وہ پاکستانی تاجروں کو رقوم پاکستان منتقل کرنے کی اجازت دے۔ افغانستان سے پاکستان داخل ہونے والوں کے لیے غیر ملکی کرنسی لانے پر کوئی پابندی نہیں ہے مگر اس کے لیے معقول وجہ بتانا لازمی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کا سب سے زیادہ فائدہ خیبر پختونخوا ہی کو ہے۔ لہذٰا صوبائی حکومت اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے تاجروں سے رابطہ کرے گی۔ عرصہ دراز سے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے علاوہ پشاور، کوئٹہ، کابل اور جلال آباد میں دونوں ممالک کے کرنسی میں لین دین کا سلسلہ جاری ہے۔ حتیٰ کہ افغانستان میں جنگ اور داخلی محاذ آرائی کے دوران پشاور کے چوک یاد گار کے کرنسی مارکیٹ کو افغانستان کے لیے اسٹاک ایکس چینج کا درجہ حاصل تھا۔ دونوں ممالک کے ہزاروں تاجر اور دیگر کاروباری شعبوں سے وابستہ لوگوں کے دونوں ممالک میں تجارتی اور کاروباری مراکز اور دفاتر قائم ہیں۔ مگر دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کے باعث یہ طبقات پریشان ہیں۔
کشمیر کے معاملے پر صدر اردوان کا صائب مشورہ سندھ ہائیکورٹ،سابق وزیر قانون ضیا الحسن لنجارکی درخواست پر نیب کی مزید مہلت کی درخواست مسترد فواد چوہدری کے معذرت کے بعد بھی مونس الہیٰ وفاقی وزیر فواد چوہدری پر برس پڑے جسٹس آصف سعید کھوسہ کل حلف اٹھائیں گے پنجاب کے میدانی علاقوں میں دھند ہی دھند، اہم شاہراہوں پر حد نگاہ انتہائی کم Nov 19, 2016 12:15 AM, November 19, 2016 ترکی کے صدر رجب طیبّ اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر کے دُکھ کا احساس ہے مسئلے کا فوری بامعنی حل چاہتے ہیں، ترکی کو کشمیر میں بھارتی مظالم پر گہری تشویش ہے اور وہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا خواہاں ہے اور اِس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے گا، دونوں ممالک(پاکستان اور بھارت) کو مذاکرات کے ذریعے اِس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔ بین الاقوامی طاقتوں کو بھی اِس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ اور اچھے تعلقات خطے کے لئے ضروری ہیں۔ ترک صدر نے پارلیمینٹ سے اپنے خطاب میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے اتحاد و یگانگت پر زور دیا۔ ترک صدر رجب طیبّ اردوان عالمی سطح پر مسلم جہاندیدہ سیاست دان اور سٹیٹسمین ہیں پاکستان کے ساتھ اُن کے خصوصی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں ،اِس لئے وہ پاکستان کو وہی مشورہ دیں گے جو پاکستان کے حق میں مفید ہو گا،اِس لئے وہ اگر کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے پُرامن طور پر حل کرنے پر زور دیتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہیں جدید دور میں جنگ کی تباہ کاریوں کا ادراک ہے۔ مشرق وُسطیٰ کا جنگی تھیٹر ترکی کے بہت قریب ہے اور وہاں ہونے والی تباہ کاریوں کا وہ بنظرِ غائر مشاہدہ کر رہے ہیں، اِس لئے وہ جنگ کی حمایت تو نہیں کر سکتے، قبرص کے مسئلے پر انہوں نے ہمیشہ اصولی موقف اپنایا تاہم اس کی وجہ سے جنگ چھیڑنے سے گریز کیا،اِس لئے اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کا تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل کریں تو اس میں بڑی حکمت پوشیدہ ہے تاہم اِس ضمن میں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر کیسے لایا جائے،کیونکہ بھارت اِس سے گریز پا ہے اور حیلوں بہانوں سے راہِ فرار اختیار کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ برس بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا، جو اب تک شروع نہیں ہو سکے، اِس دوران پٹھان کوٹ ائر بیس اور مقبوضہ کشمیر میں اُڑی جیسے واقعات کی بنیاد پر نہ صرف مذاکرات سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی، بلکہ پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی دراز کیا گیا۔بعد کے واقعات میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ پٹھان کوٹ اور اُڑی کے واقعات میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، خود بھارتی اداروں نے بھی یہ بات تسلیم کی،لیکن بھارتی میڈیا یک طرفہ الزام تراشی کی روش پر اڑا رہا اور بھارتی حکومت کشمیر کی کنٹرول لائن پر کشیدگی پیدا کرتی رہی۔ ایک موقع پر تو ''سرجیکل سٹرائیک'' کا ڈرامہ بھی رچا دیا گیا،لیکن اِس سلسلے میں جو بھی سوالات اُٹھے بھارتی حکومت اور اس کے ذمہ دار اداروں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، جس فورم پر بھی سوال کئے گئے یہی جواب دیا گیا کہ سوال نہ ہی کریں گویا بھارتی حکومت اپنے ڈرامے کو سوالات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ چند روز قبل کنٹرول لائن کے بھمبھر سیکٹر میں بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاکستان کے سات فوجی شہید کر دیئے، پاکستان میں جہاں جہاں اِن شہدا کی تدفین ہوئی اُن کی تمام تر تفصیلات محفوظ ہیں، تصویریں موجود ہیں اور پاکستانی قوم اپنے اِن شہدا کے جنازوں میں شریک ہوتی ہے اور اس پر فخر کرتی ہے کہ وہ وطن کی حُرمت پر قربان ہو گئے۔ اِس واقعہ کے جواب میں پاکستانی فوج نے حملہ کر کے 11بھارتی فوجی ہلاک کر دیئے اور تین چیک پوسٹیں تباہ کر دیں،لیکن بھارتی سورماؤں کو سانپ سونگھ گیا اور انہوں نے اپنی افواج کے نقصانات کا کسی جگہ تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔کسی اخبار میں اپنے مرنے والوں کا ذکر تک نہیں کیا، کسی ٹی وی چینل پر اس کی خبر نہیں چلی، وجہ غالباً یہ ہے کہ بھارتی حکومت اور فوج نے اپنے مُلک میں یہ جعلی اور مصنوعی تاثر قائم کر رکھا ہے کہ اس کی فوج علاقے کی بالادست قوت ہے اور کوئی اس کا مدمقابل نہیں، اگر وہ اپنی اموات کو کھلے عام تسلیم کرتے ہیں تو اِن سارے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے،اِس لئے بھارتی فوج اور حکومت اپنے نقصانات کو چھپاتی پھرتی ہے اور اپنی خیالی ''سرجیکل سٹرائیک'' کے چرچے کرتی ہے، چند روز قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی اس کا تذکرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت جرأت کے ساتھ اپنے نقصانات کو تسلیم کرے۔ اس کے بعد بھارت نے اپنی افواج کی تردید کر دی۔ جنگ یا جنگی کارروائیاں ایسی چیز نہیں ہیں جن میں کسی ایک فریق کا تو نقصان ہوتا رہے اور دوسرا مزے سے چین کی بنسری بجاتا رہے،بھارت اگر اشتعال انگیزی کرے گا، پُرامن ماحول کو خراب کرے گا اور پاکستانی پوزیشنوں پر گولہ باری کرے گا تو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا جواب بھی اسی شدت سے آئے گا۔پاکستان نے ہمیشہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم جہاں جواب دینے کی ضرورت محسوس کی ہے وہاں پوری طاقت سے جواب بھی دیا ہے اور یہ پیغام بھی دیا ہے کہ کنٹرول لائن پر اگر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی تو پھر اسی زبان میں جواب بھی ملے گا، اِس لئے بہتر یہی ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے اور جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرے اس کی مخالفت سے بھارت کا بھی نقصان ہو گا اور خطے کا امن بھی غارت ہو گا۔ صدر رجب طیبّ اردوان نے مقبوضہ کشمیر کے حالات اور کشمیریوں کے دُکھوں پر جائز طور پر تشویش ظاہر کی ہے اور بڑی طاقتوں کو مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا ہے،جو اِس صورت میں ادا ہو سکتا ہے کہ بڑی طاقتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔پاکستان نے تو ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے اور کبھی اِس سے راہِ فرار اختیار نہیں کی۔ یہ بھارت ہے جو ہمیشہ مذاکرات سے بھاگتا ہے اور کبھی شروع بھی ہو جائیں تو جب بات کشمیر کی ہوتی ہے تو طرح دے جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اِس سلسلے میں اپنی خدمات کئی بار پیش کر چکے ہیں،لیکن بھارت نے ہمیشہ اِس کا جواب نفی میں دیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر باہمی مسئلہ ہے اِس پر بات چیت کے لئے کسی تیسری قوت کی ضرورت نہیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ تیسری قوت کے بغیر بھارت مذاکرات شروع کیوں نہیں کرتا؟ اب ترکی کے صدر نے مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے پر جو زور دیا ہے وہ خطے کے امن کے لئے بہت اہم ہے اور اِس پر لبیک کہتے ہوئے دونوں ممالک کو مسئلے کا پُرامن حل تلاش کر کے آگے بڑھنا چاہئے تاکہ خطہ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ البتہ بھارت کو اب سمجھ جانا چاہئے کہ وقت گزاری کا رویہ نہیں چلے گا اور مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو گا۔
علی اوجی 2018/02/4 فاریکس مارکیٹ کی بنیادی باتیں کچھ سی ای ایس سی ای فوریکس ِ بروکرز دوسروں سے بہتر ہیں ، لہذا یہ ہمیشہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ بہت سارے تعلیمی وسائل کے ساتھ ساتھ تکنیکی اشارے کے ڈھیر کے ساتھ بروکر تلاش کریں۔ دونوں FX مارکیٹوں میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ اگرچہ کچھ خوردہ سرمایہ کار ایک مربوط کارکن کی تحریک کا حصہ ہیں ، اور بہت سے لوگ آسانی سے مارکیٹ کی رفتار سے فائدہ اٹھانے کے لئے ڈھیر ہوگئے ہیں۔ 10 پرسنل فنانس کی کتابیں ہزار سالہ پڑھیں. ہم نے متعدد آلات کو نیٹ ورک سے منسلک کیا: ڈیسک ٹاپ پی سی ، لیپ ٹاپ ، ٹیبلٹ ، اسمارٹ فونز ، ایک ایکس بکس ون کنسول ، چند سمارٹ پلگ ، ایک سمارٹ بلب ، اور ایک وائرلیس پرنٹر۔ ہمارے پاس نیٹ ورک پر مواد بانٹنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا ، اور وائی فائی نیٹ ورک کی کوریج قابل اطمینان ہے۔ جب ہم نے اپنے وائرلیس نیٹ ورک کی منتقلی کی استحکام کی پیمائش کی تو ہمارے مناسب نتائج برآمد ہوئے۔ نیچے گراف میں ، آپ 5 گیگاہرٹج وائرلیس بینڈ پر نیٹ ورک کی منتقلی کا ارتقا دیکھ سکتے ہیں۔ اچانک کوئی قطرہ نہیں ہوا ، لیکن ہم نے منتقلی کی رفتار میں کچھ تغیر محسوس کیا۔ یہ اچھا نہیں تھا ، لیکن اوسط شرح ہماری توقع کے قریب تھی۔ آپ اپنے ایر پوڈس کو باہر لے جانے سے پہلے بہت لمبے وقت تک استعمال کر رہے ہیں. ریڈیوس بینک ایک آن لائن واحد بینک ہے جو 1987 میں قائم ہوا تھا اور اس کا صدر دفتر بوسٹن میں ہے۔ 2020 تک 1.4 بلین ڈالر سے زائد کے اثاثوں کے ساتھ ، یہ ذاتی اور تجارتی بینکاری خدمات کی مکمل تکمیل کی پیش کش کرتا ہے ، بشمول چیکنگ ، بچت ، قرضے ، اور بہت کچھ۔اس لامحدود اے ٹی ایم فیس معاوضے کی پالیسی سے صارفین کو سہولت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کریک کراسنگ ، واوبلی گراؤنڈ اور کھڑی خطوں کیلئے عمدہ چلنے کی امداد ہلکا پھلکا ایلومینیم سے بنا عام پیدل سفر کی لاٹھی سے 4 اونس کم وزن کارک ہینڈلز گرم اور سرد دونوں درجہ حرارت میں گرفت کے ل comfortable آرام دہ اور پرسکون ہیں ، نمی پیتے ہیں اور آپ کے ہاتھ کی شکل میں ڈھال دیتے ہیں. خریداری : ایک ماہ میں. 14.99 کے ل For ، آپ جتنے چاہیں تجارت کرسکتے ہیں ، یا ایک مہینہ 99 6.99 کے ل you ، آپ دو آزاد تجارت کرسکتے ہیں۔ ان قیمتوں پر ، دن کے دوران تجارت میں صف آراء ہوتے ہیں اور تین میں سے ایک تجارتی سیشن کے دوران انجام دیا جاتا ہے۔ سوال 2۔ اگر میں کریپٹوز کی خریداری کے لئے بینک آن لائن تجارت کیا ہے کارڈ استعمال کرتا ہوں تو ، ادائیگی کے معاون طریق کار کیا ہیں؟ خبروں کو ٹریک کرنے کے ل You آپ کو ایک بہت ہی اچھ Calendarا فاریکس کیلکولیٹر ، اقتصادی کیلنڈر اور آسان حساب کتاب کے ل calc کرنسی کنورٹر سے مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ، ایف بی ایس گھر گھر اندر ڈیزائن کردہ ڈیلی مارکیٹ تجزیہ فراہم کرتا ہے اور فاریکس ٹی وی چلاتا ہے ، جہاں آپ کی بہتر معلومات کے ل all تمام خبریں اور تازہ ترین سلسلہ تیار ہوتا ہے۔ - انہوں نے حقیقی دنیا کے مسائل کی پیچیدگی کو کم کردیا ہے۔ انہوں نے لوگوں کی زندگی بدل دی ہے۔ مبنای نقدی تعدیل شده، روش حسابداری است که به روش حسابداری نقدی کامل شباهت زیادی دارد. تفاوت مبنای نقدی کامل با مبنای نقدی تعدیل شده در نحوه شناسایی و ثبت هزینه هاست. درامدها هم در مبنای نقدی کامل و هم در مبنای نقدی تعدیل شده فقط در زمان وصول وجه شناسایی و در دفاتر ثبت می شوند، لذا این دو مبنا در مورد درامدها مشابه هم عمل می-کنند و تفاوتی با هم ندارند (باباجانی، 1385). مثال کے طور پر ، یہ کہتے چلیں کہ آپ کا اصل خوردہ اسٹور سیلاب میں پڑ گیا ہے۔ آپ کو صفائی کی لاگت کا تخمینہ لگانے ، عمارت کی مرمت ، پانی سے خراب اسٹاک آن لائن تجارت کیا ہے کی جگہ ، نئے ڈسپلے شیلف وغیرہ خریدنے کی ضرورت ہوگی۔ تیل اور گیس کی صنعت میں سرمایہ کاروں کو بیلنس شیٹ پر قرضوں کی سطح پر نظر رکھنی چاہئے۔ یہ ایسی سرمایہ دار صنعت ہے جس میں قرض کی اعلی سطح کمپنی کے کریڈٹ ریٹنگ پر ایک دباؤ ڈال سکتی ہے ، جس سے نئے سازوسامان خریدنے یا دوسرے دارالحکومت کے منصوبوں کی مالی اعانت کرنے کی صلاحیت کمزور ہوسکتی ہے۔ ناقص کریڈٹ ریٹنگ سے اس کے نئے کاروبار کو حاصل کرنے کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ (یہ بھی دیکھیں : قرض کا تناسب: ایک تعارف ۔) مثلاً، اگر آپ بازیابی کے ایک اختیار کے بطور کوئی فون نمبر شامل کرتے ہیں تو آپ کو اپنا پاس ورڈ بھول جانے کی صورت میں آپ کو اسے دوبارہ ترتیب دینے کا اہل بنانے کیلئے Google آپ کو کوڈ پر مشتمل ایک متنی پیغام بھیج سکتا ہے۔ مزید جانیں۔ کریپٹوکرنسی کان کنی کرنے والے افراد نے جی پی یو کی قیمت بڑھادی ہے۔ لہذا ، اگر آپ محفل ہیں اور آپ کے گیمنگ پی سی میں پہلے سے ہی ایک طاقتور جی پی یو ہے ، تو کیا آپ واقعی اپنے پی سی کے ساتھ کچھ اضافی نقد. اگر آپ پہلے سے نہیں جانتے ہیں تو ، Reddit ایک ملین سے زیادہ آن لائن برادریوں کا گھر ہے۔ ریئل اسٹیٹ بزنس سے متعلق چند فتاویٰ درکار ہیں۔ اگر آپ برادران کے لئے ممکن ہوکہ محدث فتویٰ فورم سے وابستہ علمائے کرام سے ترجیحی بنیادوں پر درج ذیل جوابات فراہم کرسکیں تو احقر ممنون ہوگا ۔پہلے چار سوال تو ریئل اسٹیٹ بزنس میں معمول کے ہیں جبکہ اسی سے متعلق پانچواں سوال اس وقت کراچی کے لاکھوں لوگوں سے متعلق ہے۔ عام روٹ سے ہٹ کر آپ منتظمین کی معرفت سوال کرنے کا مقصد یہی ہے کہ جواب فوری طور پر مل سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو یہ کام فوری طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔ سیکیورٹیز مارکیٹوں میں ، ان کے چہرے یا برابر قیمت سے نیچے کے بانڈز کی خریداری کو چھوٹ میں خریدنا سمجھا جاتا ہے ، جبکہ چہرے کی قیمت سے اوپر کی خریداری کو پریمیم پر خریدنا جانا جاتا ہے۔ فنانس میں ، ایکٹریشن قیمت کی بنیاد پر خریداری کی رقم (ڈسکاؤنٹ) سے پختگی پر متوقع چھٹکارے کی رقم کو ایڈجسٹ کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر چہرے کی کل رقم کی کل رقم کے لئے بانڈ خریدا جاتا ہے تو ، اس میں 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ بینچ مارک انڈیکس سے ملنا چاہئے. ، پس برای یقین به چیزهایی که فرا می گیریم چه باید کرد ؟ سیدھے سیدھے ہونے کے باوجود ، سر اور کندھوں کی تجارت کرتے وقت اسٹاپ نقصان کی جگہ کا تعین ایک متنازعہ موضوع ہے۔ کچھ تاجر دائیں کندھے سے اوپر کے اسٹاپ کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ دوسرے زیادہ جارحانہ مقام کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایکویٹی منڈیوں میں تجارت کے لئے اپ ٹرینڈ سب سے زیادہ سازگار ہے۔ یہ واضح بات ہے ، لیکن اس کے لئے بہت سی باریکیاں درکار ہیں تاکہ آپ کر سکیں منیٹائز بچت زیادہ سے زیادہ کارکردگی اور کامیابی کی ضمانتوں کے ساتھ۔ کیونکہ عملی طور پر ، یہ بہت ضروری ہوگا کہ آپریشن ایک کے ساتھ انجام دیئے جائیں estrategia اس سے نتیجہ مثبت نکلا جاسکتا ہے۔ اگر آپ ان کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو ، آپ کو اپنے آخری اہداف میں بہت زیادہ کامیابی حاصل ہوگی۔ وہ سطح جہاں آپ خریداری اور فروخت کرتے ہو اسے خاص اہمیت حاصل ہوگی۔ حیرت کی بات نہیں ، آپ کو ان حرکتوں کو زیادہ سے زیادہ سطح پر ایڈجسٹ کرنا چاہئے۔ آرام دہ اور پرسکون واقعات یا گھومنے پھرنے کے ل je ، جینز مناسب ہیں۔ شارٹس کو عوام میں نہیں پہنا جاتا ہے۔ اورلینڈو سینٹینیل کے مطابق ، روبیو نے ایک بیان میں کہا ، مطالعات میں سال بھر کے دن کی روشنی کی بچت کے بہت سے فوائد دکھائے گئے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ فلوریڈا کی مقننہ نے اس کو مستقل بنانے کے لئے گذشتہ سال بھاری اکثریت سے ووٹ دیا۔ ریاست فلوریڈا کی مرضی کی عکاسی کرتے ہوئے ، مجھے فخر ہے کہ ڈائی لائٹ سیونگ ٹائم کو قومی سطح پر مستقل کرنے کے لئے اس بل کو دوبارہ پیش کیا جائے۔ اس کے برعکس ، الیکٹرانک خوردہ فروش اور دیگر صوابدیدی کمپنیاں مصیبت کا شکار ہوسکتی ہیں کیونکہ صارفین اعلی خریداری بند کردیتے ہیں۔ فلیٹ ڈالر کیسے کام کرتے ہیں. اپنے ڈاکٹر یا آپٹومیٹرسٹ سے ملیں اگر آپ کے پاس دردناک داغ ہو جو بہتر نہیں ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ، اسٹائی کو ایک چھوٹی سوئی کا استعمال کرتے ہوئے نالی کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ آپ کو اپنی ویب سائٹ بنانے کے لئے کسی پروگرامنگ کے تجربے کی ضرورت نہیں ہے ، صرف ورڈپریس پر جاکر صرف 20 منٹ میں اپنی ویب سائٹ بنائیں۔ کام کیا ہے؟ مائیکرو سافٹ آفس اور گوگل دستاویزات پر ای ورک کا جواب ہے۔ یہ صفحات ورڈ پروسیسر پر مشتمل ہے۔ نمبر اسپریڈشیٹ ایڈیٹر؛ اور کلیدی پیشکش آن لائن تجارت کیا ہے ڈیزائنر۔ ایپل اپنے آپ کو ایک سادہ صارف انٹرفیس اور مصنوعا. غیر ملکی زرمبادلہ کی منڈی کو غیر ملکی کرنسی ، ایف ایکس ، یا کرنسی مارکیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں سے ایک تھا جو بڑھتی ہوئی عالمی آن لائن تجارت کیا ہے معیشت میں ڈھانچے کو لانے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے ، یہ ، اب تک ، دنیا کی سب سے بڑی مالیاتی منڈی ہے۔ کرنسیوں کی خرید ، فروخت ، تبادلے اور قیاس آرائی کے لئے ایک مقام فراہم کرنے کے علاوہ ، غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹ بھی بین الاقوامی تجارتی بستیوں اور سرمایہ کاری کے لئے کرنسی کے تبادلوں کا اہل بناتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی اعداد و شمار تیزی سے نکل جاتا ہے تو ، اس سے آپ کے نتائج کو نقصان پہنچے گا۔ یہ منافع بخش تجارت اور کھونے کے مابین ایک استرا پتلی لکیر ہے۔ 100 سے زیادہ تجارت ، 50 جیتنا ایک اچھی آمدنی کا مطلب ہے ، جبکہ صرف 40 جیتنے کا مطلب ہے کہ کمیشنوں کا حساب کتاب کرتے وقت آپ بھی توڑ جاتے ہیں یا رقم کھو دیتے ہیں۔ سلورمین کے مطابق زیسٹیڈز نامی کمپنی نے فیس بک پیج کی تصدیق شدہ ملکیت رجسٹر کروانے کی شرط کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈ لیا تھا ایسا کرکے یہ کمپنی بڑی تن دہی سے لوگوں کو گمراہ کر رہی تھی اور فیس بک کے قواعد سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی تھی اسی تسلسل میں سلورمین نے whois.net پر موجود تمام آن لائن سٹورز کی رجسٹریشن کا ماضی کا ریکارڈ چیک کرنے کے لئیے DomainBigData.com کے لنک پر سرچ شروع کی. حکمت عملی ہے کہ کمپنیوں کے ساتھ اپنی پوچھ گچھ کا آغاز کریں جس کے ساتھ آپ پہلے سے واقف ہیں۔ اگر آپ گھریلو سجاوٹ میں ہنرمند اور تجربہ کار ہیں تو ، ان کمپنیوں کے ساتھ شروعات کریں جو آپ کو معلوم ہے اور پسند ہے کہ گھر کے ڈیزائن کی مصنوعات تیار کرتی ہیں۔ ان مینوفیکچروں سے رابطہ کریں اور ان سے ہول سیل ریٹ اور طریقہ کار کے بارے میں پوچھیں۔ آپ ان کی تھوک کی قیمتوں کا ان کی قیمتوں سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں جو آپ خوردہ اسٹوروں میں ان کی مصنوعات کے ل see دیکھتے ہیں۔ ان مصنوعات کو لے جانے میں شپنگ اور آپ کے اوور ہیڈ اخراجات میں اضافہ کریں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ یہ کارخانہ دار آپ کی کمپنی کے لئے اچھا فروش ہے یا نہیں۔ نندارتون د 5 پیښو په جریان کې د څو پیړیو په اوږدو کې وړاندې کوي ، له 200 څخه ډیر نادر تهنګ (خزانې) چې د قیمتي معدني توکو څخه راوتل شوي ، پشمول د 96 های ټیکي (د انسان شکل ب )ه) ، د 20 میندو (کلبونو) مجموعه لنډ) ، او 4 "لمس ډبرې". ټول د خپل مالک د مینې ویکتورونه دي ، سپيڅلي ځواک له پلرونو او خدایانو څخه په میراث اخیستل شوي او د لوړ پوړو شخصیتونو لخوا مجسم شوي. اهو 18 بلين ڊالر کان وڌيڪ جي مارڪيٽ جي سيڙپڪاري سان گڏ ، قيمت جي لحاظ کان بهترين ڊائي فائي سکن مان پڻ آهي. جڏهن توهان UNI خريد ڪندا آهيو ، توهان يونيساپ پروٽوڪول تي انڪشاف ۽ رعايتون به حاصل ڪندا. مثال طور ، UNI جي انعقاد جي سائيز تي منحصر آهي - توهان Uniswap ماحولياتي نظام جي تجويز ڪيل مختلف پاليسين تي ووٽ ڏيڻ جي قابل هوندا. . "مجھے آپ سے کچھ پوچھنے دو۔ جب آپ پیر کے دن اندر آجاتے ہیں اور آپ کو اچھا محسوس نہیں ہوتا ہے تو کیا کبھی کوئی آپ کو یہ کہتے ہیں ، ایسا لگتا ہے جیسے کسی میں پیر کے دن کا معاملہ ہو؟ - پیٹر گبنس. دیکھیں کہ آپ کے درد کے نکات کو معلوم کرنے کے بارے میں میرا کیا مطلب ہے؟ ایک سوال جو پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کس طرح کی شرح سود سے وہ اپنے رہن کے قرض کو باقاعدہ بنانے کے لئے کم رقم ادا کرے گی۔ ٹھیک ہے ، ہر ایک چیز پر منحصر ہوگا کہ ہر لمحے سود کی شرحیں کس منظر نامے پر پیش ہوں گی۔ اس کے ل you ، آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ ماہانہ قسطوں کے ذریعہ چند یورو بچائیں۔ موجودہ میں ، سب سے زیادہ آن لائن تجارت کیا ہے فائدہ مند چیز متغیر شرح کی طرف جھکاؤ ہے۔ دوسری وجوہات میں ، کیوں کہ آپ موجودہ رہن کی پیش کش تلاش کرسکتے ہیں پھیلتا ہے یہاں تک کہ 1٪ سے بھی کم. مہنگائی کی شرح واضح طور بلند. چونکہ آن لائن تجارت کیا ہے سبسڈی اپنی جگہ پر موجود ہے ، اس نے یہ بھی یقینی بنایا کہ حکومت بڑھتے ہوئے اخراجات کا ایک فیصد اٹھا لے گی۔ یہ آلہ روٹ کٹ کی طرح کام کرتا ہے لہذا اس کے کچھ ناپسندیدہ ضمنی اثرات ہوسکتے ہیں ، جیسے ہارڈویئر کی تنصیب کو مسدود کرنا اور پروگرام چلتے ہوئے پردیوں کو چالو کرنا۔ یہ آپ کے کمپیوٹر کی یادداشت پر بھی نگرانی کرتا ہے ، لہذا اس کی کارکردگی پر اثر پڑے گا جب اس کھیل کو محفوظ کیا جارہا ہے جو بیک وقت مزید وسائل کو لوڈ کرتا ہے۔ روئ = خالص منافع / ایکویٹی (یا کمپنی کا ایکویٹی) اگر میں ایک سے زیادہ بینک کارڈ استعمال کرتا ہوں تو کیا میں واپس لے کر جمع کر سکتا ہوں؟ سخت بجٹ پر اپنے گھر کا سٹیریو بنائیں. خوردہ کاروبار میں ، فروخت کا نقطہ نظر گاہک کے کاروبار کا آخری تاثر ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ کاروبار سے کاروبار سے مختلف ہوتا ہے ، لیکن عام طور پر ایک خوردہ اسٹور میں فروخت کا مقام POS ٹرمینل والے آن لائن تجارت کیا ہے سیل کاؤنٹر پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ مشین ایک کیشیئر یا دوسرے کاروباری ملازم کے ذریعہ چلتی ہے۔ POS سسٹم کے آس پاس POS ڈسپلے کو کم قیمت والی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں ڈالنے کے لئے ایک اچھی جگہ ہے جو خریدار خریدنے کے لئے متاثر ہوسکتا ہے۔