text
stringlengths
0
1.82k
اورجب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا پھر اس کے بعد تم نے بچھڑا بنا لیا حالانکہ تم ظالم تھے
بجز تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے
اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے
اور ان میںکی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ
اس کے بعد وہ بچہ کو (گود میں) اٹھائے اپنی قوم کے پاس لائی انہوں نے کہا اے مریم تو نے بڑا برا کام کیا ہے
ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو البتہ الله کے ہاں کا اجر ان کے لیے بہتر تھا کاش وہ جانتے
نیچے
پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی
پھر شاید آپ اس میں سے کچھ چھوڑ بیٹھیں گے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور ان کے اس کہنے سے آپ کا دل تنگ ہوگا کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتر آیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا آپ تو محض ڈرانے والے ہیں اور الله ہر چیز کا ذمہ دار ہے
آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے
ہم نے کہا (اے موسیٰ) ڈرو نہیں بےشک تم ہی غالب رہوگے
تاکہ اس کے ذریعہ دانے اور گھاس برآمدکریں
اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کی سزا بھی ویسی ہی برائی ہے اور ان پر ذلت و خواری چھا جائے گی ان کو اللہ (کے قانون مکافاتِ عمل) سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا (ان کے چہرے سیاہ ہوں گے کہ) گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے یہی لوگ دوزخی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے
جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے
آپ کہہ دیجئے کہ میں کوئی نئے قسم کا رسول نہیں ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے گا میں تو صرف وحی الہٰی کا اتباع کرتا ہوں اور صرف واضح طور پر عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہوں
اور جس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھا کر کھڑا کریں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ان سے اللہ کو راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا (سلوک) کیا
اور ان سب کے لئے ہم نے مثالیں بیان کیں اور سب کو ہم نے نیست و نابود کردیا
انہوں نے کہا (ایسا نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے رہے ہیں
ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے
اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے
متکبرّ لوگ کمزوروں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی بلکہ تم خود ہی مُجرم تھے
(سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا اے دربار والو تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجائیں
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ہے اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ہیں لیکن جب ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہش کے خلاف حکم لے آیا تو انہوں نے ایک جماعت کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کردیتے ہیں
یوسف نے کہا کہ خدا کی پناہ کہ ہم جس کے پاس اپنا سامان پائیں اس کے علاوہ کسی دوسرے کو گرفت میں لے لیں اور اس طرح ظالم ہوجائیں
اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے
کہ ایک سچا بادشاہ اپنے مشیروں کی بات پہ غور کرتا ہے لیکن ہمیشہ اپنے دل کی آواز سنتا ہے
میں تم صبح میں نے کہا سوچا
تو جب آپ وہاں گئے تو اس وادی کے داہنے کنارے سے اس مبارک مقام پر درخت سے انہیں ندا دی گئی اے موسیٰ میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار
ذکر ہے اُس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی
اور جب تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو تم اس میں سے تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے نرمی سے بولو
اور ہمارا لشکر بہرحال غالب آنے والا ہے
ہم ایک (خاص) اونٹنی ان کی آزمائش کے لئے بھیج رہے ہیں پس تم (اے صالح(ع) انجامِ کار) انتظار کرو اور صبر کرو
(بتا‎ؤ) وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے اگر وہ (اللہ) اپنی روزی روک لے بلکہ یہ لوگ سرکشی اور (حق سے) نفرت پر اڑے ہوئے ہیں
(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے
کیا انسان یہ بات یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس سے پہلے (بھی) اسے پیدا کیا تھا جبکہ وہ کوئی چیز ہی نہ تھا
شیطان نے ان پر غلبہ پا لیا ہے اور اس نے انہیں خدا کی یاد بُھلا دی ہے یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں آگاہ ہو کہ شیطانی گروہ ہی گھاٹا اٹھانے والا ہے
انہوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
پس اے نبیؐ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے
اور اگر تمہیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو الله ان دونو ں میں موافقت کر دے گا بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے
اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں
اور اپنے کپڑے پاک رکھو
اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں پس وه نہ سن سکیں
کیا تم وکٹر ناورسکی نامی شخص کو جانتی ہو
اور اسکی قوم کے کافر سردار بولے کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور نقصان میں رہو گے
کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی تو نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے
(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہم ہی قصوروار تھے
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرےاور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوباره زنده نہ کرے گا)
آپ کی طرح جرائم پیشہ افراد موجود ہیں کیونکہ
جو الله کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا الله نے حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے
پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا
اے ایمان والو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ(ع) کو اذیت پہنچائی تھی تو اللہ نے انہیں ان کی ان باتوں (تہمتوں) سے بَری کر دیا اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے معزز تھے
اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے
پس وہ (دوزخی) اسی میں سے کھانے والے ہیں اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہیں
اور یہ کہئے کہ پروردگار مجھے اچھی طرح سے آبادی میں داخل کر اور بہترین انداز سے باہر نکال اور میرے لئے ایک طاقت قرار دے دے جو میری مددگار ثابت ہو
تو فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کرکے پھر آیا
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ آگ جو تم سلگاتے ہو
اور میں تم سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے
وہ تم پر موسلا دھار پانی برسائے گا
اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کہ کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کرکے بھیجا ہے
لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو
مجرمین کے بارے میں
یقیناً ان کی بازگشت ہماری طرف ہے
آگ
لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو
پھر انہوں نے اپنے رب سے رَعا کی کہ یہ قوم بڑی مجرم قوم ہے
اور جب وہ لوگ (مصر میں) اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا ان کا اس طرح داخل ہونا انہیں خدا (کی مشیت اور اس کی تقدیر) سے بچا تو نہیں سکتا تھا مگر یہ (احتیاطی تدبیر) یعقوب کے دل میں ایک تمنا تھی جسے انہوں نے پورا کر لیا بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
پس اے نبی تو صبر کر اللہ کا وعده بلاشک (وشبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناه کی معافی مانگتا ره اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا ره
اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر لاؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی
کہہ دیجیے ہر شخص اپنے طریقہ پر عمل پیرا ہے اب یہ تو تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ ٹھیک راہ پر کون ہے
یہ حق ہے کہ بدکرداروں کا نامۂ اعمال سجین (یعنی دیوان خانۂ جہنم) میں ہے
(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اُٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے
وہ کون وہ اللہ کا رسول کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے
احمق
بے شک ہم نے موسیٰ(ع) و ہارون(ع) پر (بھی) احسان کیا
کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو
تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا نجات والے کی طرح ہوجائے گا اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو
تو آپ مفِدوں کو اپنی آواز نہیں سناسکتے ہیں اور بہروں کو بھی نہیں سناسکتے ہیں جب وہ منہ پھیر کر چل دیں
اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
بلکہ منکر تو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں
اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی
اور وہ اپنے غار میں تین سو سے زائد نو برس رہے ہیں
اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو (جو وہاں سے نہ گزرے) یہ حتمی طے شدہ فیصلہ ہے جس کا پورا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمہ ہے
کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے
اور کھجور کے تنا کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا وہ تم پر تر و تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی
تو وہ من مانتے چین میں ہے
اُنہوں نے جواب دیا ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے
موسیٰؑ نے جواب دیا آسمان اور زمین کا رب اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں اگر تم یقین لانے والے ہو
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں
پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیئے اور قربانی کیجیئے
کیا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ پر جھوٹے بہتان باندھتا ہے جب کہ خدا چاہے تو تمہارے قلب پر بھی مہر لگا سکتا ہے اور خدا تو باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ ثابت اور پائیدار بنادیتا ہے یقینا وہ دلوں کے رازوں کا جاننے والا ہے
بیشک ایمان والے مراد پا گئے
میرے لئے